Ash-Shams 91:1

91. Ash-Shamsالشمس

The Sun · Meccan · 15 ayahs · 1 ruku

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

91:1

وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا ۟وَالشَّمۡسِ وَضُحٰٮهَا

سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی

— Fateh Muhammad Jalandhari

By the sun and its brightness

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz

Read the whole surah · Surah Ash-Shams

All translations of 91:1

سورج اور اُس کی دھوپ کی قسم

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی

— مولانا فتح محمد جالندہری

قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی

— مولانا محمد جوناگڑہی

قسم ہے سورج کی اور اس کی پھیلی ہوئی دھوپ کی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

سورج اور اس کی روشنی کی قسم،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

سورج کی قَسم اور اس کی روشنی کی قَسم،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

قسم ہے سورج کی ! اور اس کی دھوپ کی !

— مولانا عبد السلام بھٹوی

سورج کی اور اس کی دھوپ کی قسم

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

شاہد ہے آفتاب اور اس کا چڑھنا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی

— مولانا اسحاق مدنی

قسم ہے آفتاب اور اس کی روشنی کی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی

— محترمہ رفعت اعجاز

By the sun and its heat and brightness,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I swear by the sun and his broad light,

— Muhammad Taqi Usmani

I swear by the sun and his broad light,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

By the sun and Duhaha.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

By the sun and its brightness

— Saheeh International

By the sun and its noon-time brightness,

— Muhammad Sarwar

I swear by the sun and its brilliance,

— Muhammad Habib Shakir

By the sun and his morning bright-ness,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 91:1

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 1–3

سورة الشَّمْس 1 اصل میں لفظ ضحی استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی اور اس کی حرارت، دونوں پر دلالت کرتا ہے۔ اگرچہ عربی زبان میں اس کے معروف معنی چاشت کے وقت کے ہیں جبکہ سورج طلوع ہونے کے بعد خاصا بلند ہوجاتا ہے۔ لیکن جب سورج چڑھتا ہے تو صرف روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ گرمی بھی دیتا ہے، اس لیے ضحی کا لفظ جب سورج کی طرف منسوب ہو تو اس کا پورا مفہوم اس کی روشنی، یا اس کی بدولت نکلنے والے دن کے بجائے اس کی دھوپ ہی سے زیادہ صحیح طور پر ادا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب سورج (کے غروب) سے پیچھے آوے (یعنی طلوع ہو مراد اس سے وسط ماہ کی بعض شبوں کا چاند ہے کہ سورج کے چھپنے کے بعد طلوع ہوتا ہے اور یہ قید شاید اس لئے ہو کہ وہ وقت کمال نور کا ہوتا ہے جیسا کہ ضحاہا کا اشارہ ہے کہ کمال نور آفتاب کی طرف اور یا اس وقت دو آیة قدرت علی سبیل التعاقب والاتصال ظاہر ہوتی ہیں غروب شمس وطلوع قمر) اور (قسم ہے) دن کی جب وہ اس (سورج) کی خوب روشن کردے اور (قسم ہے) رات کی جب وہ اس (سورج) کو (اور اس کے آثار وانوار کو بالکیہ) چھپالے (یعنی خوب رات ہوجاوے کہ دن کی روشنی کا کچھ اثر نہ رہے اور چاروں چیزیں جن کی قسم کھائی گئی ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 1–4

اضداد اور ان کی باہمی سازگاری کا درس: یہ آفاق کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اشیاء کے جوڑے جوڑے ہونے سے قرآن نے توحید، معاد اور جزا و سزا پر جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔ یہاں جس خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ہر چند سورج اور چاند، دن اور رات میں سے ہر چیز کی شکل و صورت، ان کے ظہور کے طریقے، ان کے مزاج اور اس کائنات پر ان کے اثرات میں بڑا فرق ہے جس کے سبب سے یہ دنیا اضداد کی ایک رزم گاہ معلوم ہوتی ہے لیکن مدبر کائنات نے ان اضداد کو اس طرح اس عالم کی مشین میں فٹ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–8

1: سورج کو عربی میں ”شمس“ کہتے ہیں، اور اسی کے نام پر اس سورت کا نام سورة الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور برائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شائد اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح انسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے اور بدی کے کاموں کی بھی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

والشمس وضحہا .................................... من دسھا یہاں اللہ تعالیٰ جس طرح بعض کائناتی مخلوق اور بعض مظاہر کی قسم اٹھاتا ہے ، اسی طرح نفس انسانی کی تخلیق اور متناسب بنانے اور اسے اچھی طرح ہموار کرنے اور نیک وبد کے الہام کی قسم اٹھاتا ہے۔ اور اس قسم اٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ یہ مخلوقات خدا اہم بن جائیں ، لوگ ان کو اہمیت دیں اور ان چیزوں پر غور وفکر کرکے معلوم کرلیں کہ ان کی اہمیت اور قدر و قیمت کیا ہے اور ان چیزوں کے اشارات کیا ہیں ، ان میں نشانات قدرت کیا ہیں تاکہ وہ یہ بات سمجھ لیں کہ کن وجوہات سے اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ انسان کے دل اور ان مناظر فطرت کے درمیان…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

آیت 2{ وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے۔“ تلا ‘ یتلو کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آنا۔ تلاوت کا لفظ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے لفظ ”تلاوت“ کے مفہوم میں قرآن مجید کے متن کا پڑھنا زبان اور نظر سے عبارت کی پیروی کرنا ‘ اس کے احکام پر عمل کرنا اور اس کا اتباع کرنا شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

1 ضُحٰی کے معنی چاشت کا وقت بھی ہے جب سورج خاصا بلند ہوجاتا ہے اور اس وقت کی دھوپ بھی جبکہ روشنی کے علاوہ سورج کی گرمی بھی اہل زمین کو متاثر کرنا شروع کردیتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–2

1۔ یعنی غروب آفتاب کے بعد طلوع ہو۔ (آیت) ” ضحھا “۔ اس میں اشارہ ہے سورج کے کمال نور کی طرف، (آیت) ” والقمراذا تلھا “۔ اس فقرہ میں اشارہ ہے چاند کے کمال نور کی جانب۔ جن راتوں میں چاند سورج ڈوبتے ہی طلو ہوجاتا ہے، وہی راتیں اس کے کمال عروج کی ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ترجمہ :۔ شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربانی نہایت رحم والا ہے، سورج اور اس کی روشنی کی قسم اور چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے، یعنی اس کے غروب ہونے کے بعد طلوع ہوتا ہے اور دن کی قسم جب وہ اپنے ارتفاع کے ساتھ سورج کو نمایاں کردیتا ہے اور قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو اپنی تاریکی کے ذریعہ چھپا لیتی ہے اور ان تینوں جگہ محض ظرفیت کے لئے ہے اور عامل (اذا) میں فعل قسم ہے اور آسمان اور اس ذات کی قسم جس نے اسے قائم کیا اور زمین کی اور اس ذات کی قسم جس نے اسے بچھایا اور قسم ہے نفس کی اور اس ذات کی جس نے اس کی تخلیق کو درست کیا اور نفس بمعنی نفوس ہے اور ماتینوں جگہ مصدر یہ ہے یا بمعنی من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

والشمس وضحھا . آفتاب اور اس کی روشنی کی قسم ‘ مجاہد ؓ اور کلبی ؓ نے کہا : یعنی طلوع کے وقت آفتاب کی روشنی کی قسم کیونکہ اس وقت کی روشنی صاف ہوتی ہے۔ قتادہ ؓ نے کہا : ضحی سے مراد پورا دن ہے۔ مقاتل نے کہا : سورج کی گرمی مراد ہے۔ قاموس میں ہے : ضحیۃ : بروزن عشیۃٌ دن چڑھ جانا۔ ضحی بغیر مدہ کے اور ضحاءٌ مد کے ساتھ قریب دوپہر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 1–6

(1۔ 6) قسم ہے سورج کی روشنی اور پہلی رات کے چاند کی جب سورج کے غروب ہونے کے بعد آئے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے، اور رات کی جب وہ دن کی روشنی کو ختم کردے اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پیدا کیا، اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پانی پر بچھایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

والشمس وضحھا : پہلی آیت سے لے کر آٹھویں آیت سے لے کر آٹھویں آیت تک تمام قسموں کا جواب قسم یہ ہے کہ ”جس شخص نے اپنے نفس کو پاک کر لیاوہ کامیاب ہوا اور جس نے اسے مٹی میں دبا دیا وہ ناکام ہوا۔“ ان قسموں اور جواب قسم کی مناسبت یہ ہے (واللہ اعلم) کو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ نے انسان کے فائدے کے لئے پیدا فرمایا، جیسا کہ فرمایا :(ھو الذی خلق لکم ما فی الارض جمیعاً (البقرۃ : 29)”وہ ذات کہ زمین میں جو کچھ ہے اس نے سب تمہارے لئے پیدا فرمایا۔“ حتیٰ کہ آسمان کی چھت ، زمین کا فرش، سورج اور اس کی دھوپ ، اس کے بعد چاند اور اس کی چاندنی اور دن کو آفتاب کا اجالا، پھر رات کا اس کو ڈھانپ لینا اسی کے فائدے کے لئے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

مجاہد نے کہا : وضحٰھا سے مراد اس کی روشنی اور اس کا چمکنا ہے یہ دوسری قسم ہے۔ ضحی کو شمس کی طرف مضاف کیا کیونکہ یہ سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ہی واقع ہوتی ہے قتادہ نے کہا : اس کی رونق۔ سدی نے کہا، اس کی گرمی۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ وضحھا کا معنی ہے اس میں روشنی روک دی اسے گرم بنادیا۔ یزیدی نے کہا، اس سے مراد اس کا پھیلنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مخلوقات میں سے جو چیزیں ظاہر وعیاں ہوتی ہیں تو قسم سورج اور زمین کی تمام مخلوقات کی ہوگی یہ ماوردی نے کہا : ضحا مونث ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے ارتفع الضحی، ضحا، ضحوۃ سے اوپر ہوتا ہے کبھی اسے مذکر ذکر کیا جاتا ہے جس نے اسے مونث قرار…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ الحاکم وصححہ نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والشمس وضحہا قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔ یعنی اس کی روشنی کی آیت والقمر اذا تلہا۔ اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔ یعنی ورج کی جب وہ پیچھے آئے۔ آیت والنہار اذا جلٰہا اور قسم ہے دن کی جب وہ اس کو روشن کردے۔ یعنی جب وہ سورج کو روشن کردے۔ آیت والسماء وما بنٰہا اور قسم ہے آسمان کی اور اس کی جس نے اس کو بنایا۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے آسمان کو بنایا آیت والارض وما طحاہا اور قسم ہے زمین کی جس نے اس کو بچھایا یعنی اس کو پھیلایا آیت فالہمہا فجورہا وتقوٰہا پھر اس کو بدی اور نیکی کی سمجھائی یعنی اس کو پہچان کرادی اس کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا : قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی ] نوٹ۔ 1: مضمون کے لحاظ سے یہ سورة دو حصوں میں مشتمل ہے۔ پہلا حصہ سورة کے آغاز سے آیت۔ 10 ۔ پر ختم ہوتا ہے۔ اور دوسرا حصہ آیت۔ 11 ۔ سے آخر تک چلتا ہے۔ پہلے حصے میں تین باتیں سمجھائی گئی ہیں۔ ایک یہ جس طرح چاند، سورج، رات ، دن اور زمین و آسمان ایک دوسرے سے مختلف اور نتائج میں متضاد ہیں اسی طرح سے نیکی اور بدی بھی ایک دوسرے سے مختلف اور نتائج میں متضاد ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو جسم، حواس اور ذہن کی قوتیں دے کر ایک فطری الہام کے ذریعے اس کے لاشعور میں نیکی اور بدی کا فرق، ان کے مابین امتیاز اور ایک کے خیر اور دوسرے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–3

ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے سورج کی اور اس کی روشنی کی قسم کھائی ہے اور چاند کی بھی قسم کھائی ہے اس میں اِذَا تَلٰىهَا کا بھی اضافہ فرمایا یعنی چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے سے آجائے یعنی سورج غروب ہونے کے بعد طلوع ہوجائے اس سے مہینوں کی درمیان یعنی تیرہ چودہ پندرہ تواریخ کی راتیں مراد ہیں ان راتوں میں جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے چاند نکل آتا ہے اور خوب زیادہ روشن رہتا ہے اور پوری رات اس کی روشنی کامل رہتی ہے جس طرح وضحھا فرما کر آفتاب کی کامل روشنی کی طرف اشارہ فرمایا اسی طرح چاند کے کمال نور کی طرف اِذَا تَلٰىهَا فرما کر اشارہ فرما دیا اس کے بعد دن کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” والشمس “ ” ضحیٰ “ سے مراد ضوء اور روشنی ہے وضحاھا ای ضوئھا، ” والقمر اذا تلاھا “ ای تبعہا ولحقہا۔ چاند کے سورج کے پیچھے آنے سے مراد یہ ہے کہ سورج کے غروب کے فورا بعد طلوع ہوا یہ چودھویں رات کا چاند ہے۔ یا مراد ہے کہ سورج کے طلوع کے بعد اس کا طلوع ہو یہ مہینے کی ابتدا میں ہوتا ہے۔ ان دنوں میں چاند کا جو حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے وہ بےنور ہوتا ہے اس لیے نظر نہیں آتا یا بہت تھوڑا سا حصہ نظر آتا ہے جو سورج کے بالمقابل ہوتا ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے بقرینہ تقابل لیل ونہار ارض و سماء دوسرے مفہوم کو ترجیح دی ہے اسی طرح نفس کی دونوں حالتوں فجور وتقوی کا ذکر بھی قرینہ مرجحہ ہے۔ سورج کی روشنی اور…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالشَّمْسِ وَضُحٰىہَا۝ 1 شمس الشَّمْسُ يقال للقرصة، وللضّوء المنتشر عنها، وتجمع علی شُمُوسٍ. قال تعالی: وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] ، وقال : الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] ، وشَمَسَ يومَنا، وأَشْمَسَ : صار ذا شَمْسٍ ، وشَمَسَ فلان شِمَاساً : إذا ندّ ولم يستقرّ تشبيها بالشمس في عدم استقرارها . ( ش م س ) الشمس کے معنی سورج کی نکیر یا وہوپ کے ہیں ج شموس قرآن میں ہے ۔ وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَها [يس/ 38] اور سورج اپنے مقرر راستے پر چلتا رہتا ہے ۔ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبانٍ [ الرحمن/ 5] سورج اور چاند ایک حساب مقرر سے چل رہے ہیں ۔ شمس یومنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–10

ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالشَّمْسِ وَضُحٰھَا۔ (الشمس : 1) (قسم ہے آفتاب کی اور اس کی دھوپ کی۔ ) قسموں کی وضاحت ضُحٰی … امام مبرد کے نزدیک اس کی اصل الضِّحُّ ہے۔ اس کا معنی ہے آفتاب کی روشنی۔ دوسری ” حا “ کو ” الف “ سے بدل دیا گیا ہے۔ (قرطبی) ضحاک نے حضرت ابن عباس ( رض) سے اس کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ اس سے سورج کی روشنی اور حرارت دونوں مراد ہیں۔ اور روشنی کے ساتھ ساتھ حرارت اس وقت پیدا ہوتی ہے جب سورج بلند ہوجاتا ہے۔ اسی لیے اس کا ترجمہ چاشت کا وقت بھی کیا جاتا ہے۔ اور مزید یہ بات کہ چاشت کے وقت میں روشنی کے ساتھ حرارت اس وقت وجود میں آتی ہے جب دھوپ تیز ہوتی ہے۔ اس لیے بعض اہل علم کے نزدیک اس کا ترجمہ دھوپ سے اگر…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–10

فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

1 : وَالشَّمْسِ وَضُحٰہَا (قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی) ضحی : جب سورج خوب چمک اٹھے اور اس کی سلطنت ہر طرف قائم ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

1 ۔” والشمس وضحاھا “ مجاہد اور کلبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں اس کی روشنی اور ضحی جب سورج طلوع ہوتا ہے تو پھر اس کی روشنی صاف ہوجاتی ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں وہ سارا دن ہے اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں اس کی گرمی جیسے اللہ تعالیٰ کا قول سورة طہ میں ” ولا تضحیٰ “ یعنی آپ ﷺ کو اس کی گرمی تکلیف نہ دے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تبارک وتعالی نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق وفاجر نفوس پر قسم کھائی ہے چناچہ فرمایا (وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا) یعنی سورج اور اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 1–2

(1) وجود اضداد میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اضداد کے وجود اور اس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت موجود ہیں، چناچہ ارشاد فرمایا گیا قسم ہے سورج اور اس کی دھوپ کی، اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ سورج کے پیچھے آتا ہے، جیسا کہ ایام بیض میں ہوتا ہے یعنی چاند کی تیرہویں، چودھویں، پندرہویں اور سولہویں کی رات میں جس میں چاند پورا ہو کر ماہ مال بن جاتا ہے، اور شامل ہوتے ہی آسمان پر چمکتا ہوا ظاہر ہوتا ہے، اور اپنے کمال وجود سے اپنے خالق ومالک کی عظمت وقدرت اور اس کی حکمت بالغہ کی گواہی دیتا ہے، نیز اس اعتبار سے بھی کہ چاند ہمیشہ سورج کے پیچھے آتا ہے کہ اس کی روشنی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–15

کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–15

سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 11 یعنی جب وہ سورج کے غروب ہونے کے بعد نکلے۔ ایسا مہینے کے نصف اول میں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(91:1) والشمس وضحھا۔ واؤ قسمیہ، الشمس مقسم بہ۔ قم ہے آفتاب کی۔ واؤ قسمیہ ضحھا مضاف مضاف الیہ مل کر مقسم بہٖ ۔ ضحی کے معنی میں متعدد اقوال ہیں۔ (1) طلوع کے وقت آفتاب کی روشنی۔ (مجاہد، کلبی) (2) ضحی سے مراد پورا دن ہے۔ (قتادہ) (3) ضحی سے سورج کی گرمی مراد ہے۔ (مقاتل) (4) قاموس میں ہے ضحیۃ بروزن عشیۃ دن چڑھ جانا۔ ضحی بغیر مدہ کے اور ضحا مدہ کے ساتھ قریب دوپہر۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الشمس کی طرف راجع ہے۔ قسم ہے آفتاب کی اور اس کی روشنی کی۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–15

لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–8

(ف 1) سورة والشمس میں چون کلمے اور دو سوسنتالیس حروف ہیں اس سورت میں حق تعالیٰ نے پہلے اپنی عجائبات مخلوقات کی قسم کھائی ہے جن میں اولاد آدم کے منافع بیشمار ہیں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری فائدے رسانی ک لیے ہم نے اپنی کتنی عظیم الشان مخلوق کو کام میں لگایا ہوا ہے اس کے بعد انسان کی برائی اور بھلائی بتلائی کہ یہ کرے اور یہ نہ کرے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–2

ف 9۔ یعنی طلوع ہو، مراد اس سے وسط ماہ کی بعض راتوں کا چاند ہے کہ سورج کے چھپنے کے بعد طلوع ہوتا ہے اور یہ قید شاید اس لئے ہو کہ وہ وقت کمال نور کا ہوتا ہے۔ جیسا ضحھا کا اشارہ ہے کمال نور آفتاب کی طرف اور یا اس وقت دو آیة قدرت علی سبیل التعاقب والاتصال ظاہر ہوتی ہیں، غروب شمس و طلوع قمر۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قسم ہے سورج اور اس کی دھوپ کے رب کی 1 ؎ اس مضمون کو ذہن نشین کرانے کے لیے کہ فی نفسہٖ نیکی کیا ہے اور برائی کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو سات قسموں سے موکد کر کے بیان کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اس بات کا عذر نہیں کرسکے گا کہ مجھے یہ بات معلوم ہی نہ ہوسکی کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے ؟ شہادات کے بیان کے لیے ہم پیچھے وضاحت کرچکے ہیں کہ مخاطب کو پوری توجہ دلانے کے لیے یہ پیرا یہ بیان اختیار کیا جاتا ہے اور قرآن کریم بھی چونکہ ہم انسانوں ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے اس لیے اس میں یہ پیرا یہ اختیار کیا ہے جو انسانوں کے درمیان متعارف ہے۔ اس آیت میں دو ہی لفظ بیان ہوئے ہیں کو آپس میں لازم و ملزوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Commentary Allah swears by the objects and phenomena mentioned in verses [ 1-7], which gives these creations an added significance and draws man's attention to them. Man ought to reflect on these phenomena and try to appreciate their value and the purpose of their creation. The first oath is taken by: وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا (I swear by the sun and his broad light,...91:1). The phrase and his broad light' is, though conjoined to 'by the sun' by means of the conjunctive particle 'and', the context indicates that 'broad light' is in adjectival position qualifying shams 'the sun', that is to…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 1–3

1 The word duha as used in the original applies both to the light of the sun and to its heat. Although in Arabic its well known meaning is the time between sunrise and meridian when the sun has risen high, at that height it does not only give light but heat too. Therefore, when the word duha is attributed to the sun, its full meaning can be expressed more appropriately by its radiant brightness than by its light, or by the time of the day that it indicates.

Read the full tafseer →