91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے سات چیزوں کی قسم کھا کر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان دن رات ان چیزوں کو دیکھتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور یکساں نہیں ہیں تو پھر وہ اس حقیقت سے اپنی آنکھیں کیوں بند کرلیتا ہے کہ برائی اور نیکی کا انجام بھی ایک جیسا نہیں ہوسکتا ہے۔ جو لوگ اللہ کی نافرمانی کرتی ہیں اس کے رسول کی تعلیم کو جھٹلاتے اور اس کا کہنا نہیں مانتے ان کا انجام ان جیسا کیسے ہوسکتا ہے جو اللہ و رسول کے فرماں بردار اور نیکیوں کو اختیار کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قوم ثمود کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر وہ لوگ اپنے نبی حضرت صالح (علیہ السلام) کی بات مان کر ان کی اطاعت کرلیتے اور وہ اونٹنی جو انکی فرمائش پر ایک معجزہ کے طور پر دی گئی تھی اس کو قتل نہ کرتے تو ان کو دین و دینا کی ساری سربلندیاں عطا کردی جاتیں مگر انہوں نے تو نافرمانیاں کرکے اپنی تباہی کا سامان کیا اور بری طرح ہلاک کر دئیے گئے۔ ان تمام باتوں کو اللہ تعالیٰ نے سورة الشمس میں یبان فرمایا ہے۔ خلاصہ یہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سات ایسی چیزوں کی قسمیں کھائی ہیں جو ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ فرمایا کہ جس طرح یہ ناممکن ہے کہ سورج ہو اور دھوپ اور چمک نہ ہو۔ چاند ہو اور وہ سورج کے چھپ جانے کے بعد چمکتا نہ ہو۔ دن ہو اور روشنی نہ ہو، رات ہو اور تاریک نہ ہو، آسمان ہو اور بلند نہ ہو، زمین ہو اور پست نہ ہو، نفس انسانی ہو اور خیر و شرک کا مجموعہ نہ ہو اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ جس آدمی نے اپنے آپکو روحانی اعتبار سے پاک کرلیا ہو وہ کامیاب نہ ہو اور جس نے اپنے نفس کو اپنی خواہشات کے نیچے دبا لیا ہو وہ ناکام نہ ہو۔ قوم ثمود کی مثال دیتے ہوئے اسی حقیقت کو بیان فرمایا ہے کہ قومثمود نے اپنے نبی حضرت صالح (علیہ السلام) کے احکامات سے سرکشی کی یعنی ان کی کسی بات کو نہ مانا اور ہمیشہ ان کو جھٹلایا۔ جب ان کی قوم کا ایک ظالم شخص اس اونٹنی کو ذبح کرنے پر آمادہ ہوگیا جو اس قوم کو ان ہی کے مطالبہ پر معجزاتی طور پر عطا کی گی تھی جب کہ حضرت صالح نے صاف الفاظ کے ساتھ فرمایا کہ دیکھو اس اونٹنی کو بری نیت سے ہاتھ مت لگانا اور جب وہ اپنی باری پر تمہارے کنویں سے پانی پیئے تو اس میں رکاوٹ مت ڈالنا مگر اس قوم کی مرضی سے ایک شخص اٹھا اور اس نے اس اونٹنی کو مار ڈالا۔ اس وقت اسے یا قوم کو ذرا بھی اللہ کا خوف نہ تھا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ کا عذاب آیا جس نے ان کو تبارہ و برباد کر کے رکھ دیا اور آج ان کی بلڈنگیں کھنڈر بن کر نشان عبرت بنی ہوئی ہیں۔

Ayahs 91:1–15

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کے بعد آئے

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور قسم ہے دن کی جب وہ خوب روشن ہو جائے

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور قسم ہے رات کی جب وہ (سورج کو چھپالے) چھا جائے

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور قسم ہے آسمان کی اور اس کی جس نے اس کو (بلند) کیا

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور قسم ہے زمین کی اور جس نے اس کو بچھایا

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور قسم ہے نفس انسانی کی اور اس کی جس نے اس کا ٹھیک بنایا

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر اس کو گناہوں اور پرہیز گاری کا لہام کیا

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

بیشک وہ کامیاب ہوا جس نے اس کو پارک کیا (تزکیہ نفس کیا)

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور وہ شخص ناکام ہوا جس نے اس کو (یعنی نفس کو) اپنی خواہشوں کے نیچے دبا دیا

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

قوم ثمود نے اپنی سرکشی (ضد، ہٹ دھرمی) کی وجہ سے جھٹلایا

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جب ان میں سے سب سے بدبخت (آدمی اونٹنی کو مار ڈالنے کے لئے) اٹھ کھڑا ہوا

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

پھر (جب کہ) رسول قوم کے لوگوں سے کہہ چکے تھے کہ (دیکھو) یہ اونٹنی اور اس کا پانی پینا ایک نشان ہے

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

لیکن پھر بھی ان لوگوں نے ان کو جھٹلایا۔ انہوں نے اونٹنی کو ذبح کر ڈالا۔ پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ان پر عذاب نازل ہو اور سب پر یکساں (نازل) ہوا

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور وہ قوم اپنے انجام پر ذرا پریشان ( اور شرمندہ) نہ ہوئی۔

لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر کرکے سچائی تک پہنچ سکے۔ اس سورت میں سات مختلف اور ایک دسرے کے مقابل چیزوں کی قسمکھا کر بتایا گیا ہے کہ جب دو چیزیں جو ایک دوسرے کی ضد میں ایک جیسی نہیں ہیں تو نیکی اور برائی کا انجام ایک جیسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ دھوپ اور چھاؤں، روشنی اور اندھیرا، رات اور دن، آسمان اور زمین، خیر اور شر جب دونوں ایک جیسے نہیں ہیں تو کامیاب اور ناکام، اطاعت گزار اور نافرمان، جنتی اور جہنمی ایک جیسے کیسے ہوسکتے ہیں اور دونوں کا انجام ایک جیسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ سورۃ التمش میں سات چیزوں کی قسم کھا کر اس بات کو ایک نئے اور اچھوتے انداز میں بیان کیا گیا ہے کہ جس کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہے۔ جیسے یہ ناممکن ہے کہ سورج ہو اور اس کی دھوپ نہ ہو، چاند ہو اور وہ سورج کے بعد نہ آئے، دن ہو اور روشن نہ ہو، رات ہو اور تاریک نہ ہو، زمین ہو اور پست نہ ہو، نفس ہو اور خیر و شر کا مجموعہ نہ ہو۔ اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ جس نے اپنا تزکیہ کرلیا (صفائی و پاکی حاصل کرلی ہو) وہ کامیاب نہ ہوا اور جس نے اپنے نفس کو (خواہشوں اور بےجا تمناؤں کے نیچے) دبا لیا ہو وہ ناکام نہ ہو۔ قوم ثمود جو نافرمانیوں میں حد سے باہر نکل گئی تھی۔ ایک ظالم شخص نے قوم کی رضا مندی کے مطابق جب اس اونٹنی کو ذبح کردیا جو ان کے مطالبے پر معجزہ کے طور پر عطا کی گئی تھی جب کہ حضرت صالح (علیہ السلام) کہتے رہے گئے کہ دیکھو یہ اونٹنی اللہ کی طرف سے تمہیں دی گئی ہے اس کو اپنی باری پر پانی پینے سے مت روکو ورنہ اللہ کا عذاب نازل ہوجائے گا۔ مگر پوری قوم نے حضرت صالح کی بات ماننے سے انکار کردیا اور انہوں نے اونٹنی کو ذبح کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دنیا کی اتنی ترقی یافتہ، خوش حال اور پہاڑوں کی تراش کو عظیم الشان اور بےمثال بلڈنگیں بنانے والی قوم جس نے اپنے پیغمبر حضرت صالح (علیہ السلام) کی بات نہ مان کر اپنے تزکیہ نفس سے غفلت برتی اس طرح دنیا سے مٹ گئی کہ آج نہ ان کی دولت رہی نہ تہذیب و تمدن اور ان کے چھوڑے ہوئے کھنڈرات عبرت کا نشان بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر وہ قوم اپنے پیغمبر کی بات مان کر اپنے دلوں کو پاک صاف کرلیتی یعنی تزکیہ نفس کرلیتی تو اللہ اس سے زیادہ ان کو دنیا کی دولت عطا کردیتا اور قیامت کے دن ان کو سرخ رو کرتا مگر اس قوم نے اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے دنیا اور آخرت دونوں کو تباہ کرلیا۔ یہ سورت اگر چہ بہت مختصر ہے مگر توحید اور آخرت کی پوری دعوت اور اس کو نہ ماننے کے نتائج کو اس میں پوری طرح سمیٹ دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا تزکیہ نفس کرنے اور دین پرچلنے کو آسان فرما دے اور ہمارا انجام بخیر فرمائے۔ آمین۔