91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 91:1–10

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

قسم ہے آفتاب اور اس کی دھوپ کی

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور قسم ہے چاند کی جبکہ اس کے پیچھے چلے

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور قسم ہے دن کی جبکہ آفتاب کو نمایاں کرے

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور قسم ہے رات کی جبکہ آفتاب کو چھپا لے

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے والے کی

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور قسم ہے زمین کی اور اس کے بچھانے والے کی

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور قسم ہے انسان کی جان کی اور اس کی کہ جس نے اس کو درست بنایا

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر اس کو اس کی بدی اور نیکی سمجھائی۔

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

بیشک وہ کامیاب ہوا کہ جس نے اپنی روح کو پاک کرلیا

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور بیشک وہ غارت ہوا کہ جس نے اس کو آلودہ کرلیا۔

ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی من اقسم بالسماء وبمن بناھا وایثار ما علی من لارادۃ الوصیفۃ لقصد التفخیم والاول قول الفراء والزجاج والثانی قول ابی البقاء وقس علیہ قولہ تعالیٰ وما طحاھا والطحوالبسط من کل جانب کما فی قولہ دحاھا ومعناھما واحد وقیل معنی طحاھا قسمھا وخلقھا وقال ابو عمرو بن العلاء طحا الرجل اذاذھب فی الارض یقال ما ادری این طحا ویقال طحابہ قلبیہ اذا ذھب بہ ومنہ قول الشاعر ؎ طحابک قلب فی الحسان طروب بعید الشباب عصر حاں مشیب وکذاقولہ تعالیٰ وما سواھا فالھمھا عطف علی سواھا و جواب القسم عند الجمھور قولہ تعالیٰ قد افلح الخ قال النحاۃ ان الماضی المثبت المتصرف الذی لم یتقدم معمولہ اذا وقع جواباً للقسم تلزمہ اللام وقد ولا یجوز الاقتصار علی احداھما الاعند الضرورۃ واطول الکلام وھھنا لطول الکلام حذف اللام۔ ودساھا اصلہ دسسھا فابدلت السین الاخیرۃ الفا ومعنی التدسیس الاخفاء۔ تفسیر ¦ یہ سورة بھی مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ ابن عباس و ابن الزبیر ؓ کا یہی قول ہے۔ اس کی پندرہ آیات ہیں۔ احمد و ترمذی و نسائی نے بریدہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ عشاء کی نماز میں والشّمس وضحاھا اور ایسی ہی سورتیں پڑھا کرتے تھے۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ ان کو نبی ﷺ نے حکم دیا تھا کہ نماز صبح میں واللیل اذا یغشی والشمس وضحاھا پڑھا کریں عقبہ بن عامر سے بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا کہ ہم صلوٰۃ ضحی ماضی چاشت کی نماز کی دو رکعتوں میں والشّمس وضحاھا اور والضحیٰ پڑھا کریں اور حدیث جابر میں یہی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے معاذ ؓ کو فرمایا تھا کہ کیوں سبح اسم ربک الاعلیٰ والشمس وضحاھا واللیل اذا یغشیٰ نہیں پڑھا کرتا۔ مناسبت اس کی سورة بلد سے یہ ہے کہ سورة بلد میں خیر و شر کی رہنمائی کا ذکر تھا۔ قال وھدیناہ النجدین اسی طرح اس سورة میں بھی اشارہ ہوا فالھمھا فجورھا وتقوھا کہ ہر ایک کو ہم نے نیکو کاری و بدکاری سمجھا دی اور سب سے بڑھ کر مناسبت یہ ہے کہ خیر کی رہنمائی میں آفتاب نبوت کی روشنی درکار ہے کہ جس کے سبب نیک و بد میں تمیز کرسکے اس لیے سورة بلد کے بعد سورة والشمس نازل ہوئی تاکہ معلوم رہے کہ شمس یعنی آفتاب بغیر جس طرح حیات دنیاوی میں چارہ نہیں اسی طرح آفتاب نبوت بغیر ہدایت کی راہ نہیں ملتی اور اسی لیے اس سورة کا نام سورة شمس ہوا اور انسان کو جو کچھ آفتاب اور ماہتاب اور دن اور رات اور آسمان و زمین کے ساتھ حیات دنیاوی میں احتیاج ہے۔ اسی طرح اس کو جبکہ وہ دنیا کے کھیت میں آخرت کے لیے کچھ بونا چاہے آفتاب نبوت اور اس کے متعلقات کی طرف بھی حاجت ہے۔ اس لیے اس کا بیان کرنا بھی آفتاب کے ساتھ مناسب ہوا جس کی تشریح یہ ہے کہ دنیا میں کاشتکار کو ان چھ چیزوں کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور اکثر انہیں پر انسانی قوت کا مدار ہوتا ہے۔ (1) آفتاب کہ جس کی گرمی سے دانہ زمین میں پڑنے کے بعد پھوٹ کر باہر نکلتا ہے اور اس کی حرارت سے نشوونما پاتا ہے اور اسی سے پھل اور پھول آتے ہیں اسی کی گردش سے موسم بدلتے ہیں۔ (2) چاند جس کی رطوبت سے پھل پھولوں میں رس پڑتا ہے ٗ دریا میں مدو جزر پیدا ہوتا ہے اور اندھیرے میں وہ آفتاب کا خلیفہ بھی ہے۔ (3) دن کہ جس میں کام کاج کئے جاتے ہیں۔ (4) رات کہ جس میں آرام کرتے ہیں اور دن کی گرمی سے ٹھنڈک پاتے ہیں اور رات کی شبنم دن کی حرارت کا تدارک کرتی ہے۔ (5) آسمان کہ نزول بارش وہیں سے ہے اور اسی میں آفتاب و ماہتاب ہیں۔ (6) زمین کہ جس میں تخم ریزی ہوتی ہے بشرطیکہ قابل بھی ہو۔ اسی طرح انسان کو جو اس دنیا میں آخرت کی کھیتی کرنے آیا ہے ٗ ان چھ چیزوں کی ضرورت ہے : (1) آفتاب نبوت کی اسی کی روشنی اور اسی کی گرمی سے سب کام بنتے ہیں۔ (2) چاند یعنی آفتاب نبوت کے بعد اس کے جانشین اور نائب ضرور ہیں جو بمنزلہ چاند کے ہیں جس طرح چاند کی روشنی آفتاب کا پر توا ہے اسی طرح حضرات اولیاء و نائبان رسول اللہ ﷺ کی روشنی بھی انہیں کا پر توا ہے۔ (3) روز یعنی وہ عمر گرانمایہ کا حصہ کہ جس میں کچھ کام کرسکے۔ (4) رات یعنی اس کے دنیاوی کاروبار اور راحت کا وقت چونکہ اس میں اللہ سے غفلت ہے اس لیے اس کو رات سے تشبیہ دی جاتی ہے مگر نفس انسانی کو یہ قوت نہ ملے تو انوارِ دائمیہ اس کو سست و معطل کردیں اور اسی لیے نبی کریم ﷺ نے ایک بڑے عابد ‘ زاہد صحابی سے فرمایا تھا ثم وصل کہ سو بھی اور تہجد کی نماز بھی پڑھ اور یہ بھی فرما دیا تھا کہ ان لنفسک علیک حقا الخ کہ تیرے نفس کا بھی تجھ پر حق ہے اس کو بھی راحت دو پھر اس سے کام لو۔ (5) آسمان شریعت جو اس کو جمیع اطراف سے محیط ہے اس کے عقائد و اعمال و احوال وہیں سے بارش کی طرح برستے ہیں ‘ وہیں سے شوق کی ہوائیں چلا کرتی ہیں جو کوئی شریعت سے باہر ہو کر یہ کھیتی کرنا چاہے گویا آسمان سے باہر نکلنے کا ارادہ کرتا ہے جو محال اور خیال باطل ہے۔ (6) زمین وہ اس کی استعداد کی زمین ہے کہ جس قدر اس کی فراخی و صفائی ہے اسی قدر احوال و مقامات کا نشوونما ہوتا ہے۔ لیکن ان چھ چیزوں میں سب سے عمدہ آفتاب ہے۔ جس کو عربی میں شمس کہتے ہیں۔ اس لیے اس سے ابتداء کی اور اس لیے سورة کا نام شمس ہوا یا یوں کہو کہ یہ چھ چیزیں انقلاب دنیا کے لیے اصل الاصول ہیں اور یہ انقلاب انسان کو بتا رہا ہے کہ اس کو بھی جانا ہے اور نیز انسانی حالات کا بھی نمونہ ہیں۔ آفتاب نور نبوت اور اس کی روحانی روشنی پر دلالت کرتا ہے اور قمر اس کے دوسرے حال پر جو پہلے سے کمترہو اور دن اس کے علم معرفت اور روشنی پر کہ جس میں سیاہ وسفید کا امتیاز ہوتا ہے اور رات اس کی بہیمیت اور قوائے شہوانیہ پر اور آسمان اس کی بلندی پر جو قویٰ روحانیہ کے آفتاب چمکنے سے حاصل ہوتی ہے اور زمین اس کی پستی پر جو قوائے بہمیہ کی رات اور اندھیرا چھا جانے سے پیدا ہوتی ہے اور ان چھ چیزوں میں ان چھ چیزوں کی طرف اشارہ ہے اور نیز یہ بھی بتلایا جاتا ہے کہ جس طرح آفتاب اور اس کی روشنی اور پھر دن کسی کے روکے سے نہیں رکتے اسی طرح نور نبوت اور دین کی روشنی جو دن سے عبارت ہے وہ بھی کسی کے روکے سے نہیں رکے گی۔ پھر اے قریش ! تمہارا ہمارے نبی کے مقابلہ میں یہ جدوجہد محض بےفائدہ ہے اور رات اور اس میں آفتاب کا پوشیدہ ہونا ضلالت ہے جو اس وقت دنیا میں چھائی ہوئی تھی۔ اس کے بعد طلوع آفتاب مقتضائے حکمت ہے اور اگر اس آفتاب نے غروب بھی کیا تو مدتوں چاند کی روشنی رہے گی جس سے نائبان نبوت کے پر توے مراد ہیں اور آسمان و زمین ہر ایک کی تقدیری پستی و بلندی ہے۔ اس لیے ان چھ چیزوں کی قسم کھا کر جو اس کی قدرت کاملہ کا نمونہ ہیں انسان کی جان اور اس کے ٹھیک کرنے کی یعنی قوائے باطنیہ و ظاہریہ عطا کرنے کی اور پھر اس سے نیک و بد کی سوجھ بوجھ عطا کرنے کی قسم کھا کر انجام کار بتلاتا ہے کہ جس نے اپنی اس روح کو آلائش سے پاک و صاف کرلیا اس نے فلاح پائی۔ آسمان رفعت پر پہنچا اور جس نے اس کو آلودہ کرلیا شب ضلالت اس پر طاری ہوگئی وہ جہنم کی پستی کی طرف گیا خراب ہوگیا۔ اور اس کے بعد چند لوگوں کا تذکرہ کرتا ہے کہ جنہوں نے اپنے نفس کو آلائشِ دنیا میں آلودہ کیا تھا کہ وہ پستی کی طرف ڈالے گئے۔ دنیا میں بھی ہلاک ہوئے ‘ آخرت کا وبال بھی سر پر لے گئے۔ اس مضمون کو اس سورة میں کس دلکش انداز سے بیان فرماتا ہے۔ فقال والشمس کہ قسم ہے آفتاب کی جس کا نمونہ نور نبوت ہے وضحٰہا اور قسم ہے آفتاب کی روشنی کی جس کا نمونہ نور نبوت کا جہاں میں پھیلنا ہے جیسا کہ کتاب یسعیاہ (علیہ السلام) کے ساٹھویں باب میں بشارت ہے۔ اٹھ روشن ہو کہ تیری روشنی آئی اور خداوند کے جلال نے تجھ پر طلوع کیا ہے کہ دیکھ تاریکی زمین پر چھا جائے گی اور تیرگی قوموں پر لیکن خداوند تجھ پر طلوع کرے گا اور اس کا جلال تجھ پر نمودار ہوگا اور قومیں تیری روشنی میں اور شاہاں تیرے طلوع کی تجلی میں چلیں گے۔ (انتہیٰ ) شمس آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات اور آپ کی روشنی جو دنیا میں پھیلے وہ ضحی یا ضحو ہے والقمر۔ اور قسم ہے چاند کی اور وہ آنحضرت ﷺ کا جانشین ہے یکے بعد دیگرو نیز اولیائِ کرام اذا تلاھا جبکہ آفتاب کے بعد آوے یا پیروی کرے۔ آفتاب سے ماہتاب کو چند باتوں میں پیروی اور اتباع ہے۔ اول استفادہ نور میں۔ دوم غروب میں کہ آفتاب کے غروب ہوتے ہی ماہتاب نمودار ہوتا ہے۔ یہ اول چاند رات سے لے کر پندرہویں یا چودھویں تاریخ تک ہوتا ہے۔ سوم جسم میں باعتبار حسن ظاہر کے۔ کس لیے کہ اور ستارے گو جسامت میں ماہتاب سے بھی بڑے کیوں نہ ہوں اور بعد مسافت کی وجہ سے چھوٹے نظر آتے ہوں مگر حسن ظاہر میں آفتاب کے برابر بجز ماہتاب کے اور کوئی ستارہ نظر نہیں آتا۔ چہارم تاثیرات اور حساب سال و ماہ میں ہے جہاں اور ستاروں کو دخل نہیں۔ یہ قید اس لیے لگائی کہ آفتاب کے اتباع کرنے میں ہی ماہتاب کا کمال ہے جس سے اشارہ ہے کہ نائبان خیر الانام علیہ التحیتہ والسلام کا کمال اور منصب خلافت و امامتِ آنحضرت ﷺ کی پیروی میں ہے۔ والنہار اذا جلاھا اور قسم ہے دن کی جبکہ آفتاب کو روشن کرے جس سے دین محمدی (علیہ السلام) کے شیوع و ظہور کی طرف اشارہ ہے اور نیز سالک و مرشد کی اس حالت کی طرف بھی اشارہ ہے جو ریاضات و مراقبات کے بعد پیدا ہوتی ہے اور نورایت محمدیہ ان میں جلوہ گر ہوجاتی ہے جس میں ایماء ہے کہ خالی ریاضات و مجاہدات بغیر اس کے کہ نور محمدی کو نہ ان میں چمکایا جاوے کچھ بھی قابل عزت و حرمت نہیں ورنہ یوں تو بہتیرے جوگی سناسی عمر بھر فضول ریاضات کیا کرتے ہیں۔ ہرچند آفتاب دن کو روشن کرتا ہے نہ دن آفتاب کو مگر آفتاب جب دن دوپہر آتا ہے تو زیادہ روشن و تاباں معلوم ہوتا ہے۔ برخلاف وقت طلوع و غروب کے یہ ظرف ہے اور ظرف کی طرف اس فعل کو نسبت کرنا مجاز ہے جو محاورہ میں کثیر الاستعمال ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں ضمیر اذا جلاھا آفاق یا ارض کی طرف راجع ہے۔ گو مذکور نہ ہو مگر مراد ہے والیل اذا یغشاھا اور قسم ہے رات کی جبکہ آفتاب کو چھپا لے۔ رات میں آفتاب چھپ جاتا ہے اس لیے رات کی طرف مجازاً اسناد کیا گیا۔ اس رات اور اس کے آفتاب کے چھپا لینے سے اشارہ ہے۔ انسانی راحت اور اس کے حقوق زن و فرزند ‘ اعزہ و احباء کے ادا کرنے پر متوجہ ہونے کی طرف یعنی توجہ الی الخلق کی طرف یہ بھی ایک متبرک چیز ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو بہت سے حقوق اور معاملات دنیا درہم برہم ہوجاویں اور یہ منشاء بعثت انبیاء (علیہم السلام) کے برخلاف ہے اور اسی لیے یہ کیفیت توجہ الی اللہ کی ہر وقت نہیں ہوتی مگر اس غفلت کو صحابہ اپنی اولوالعزمی اور شوق الی اللہ سے نفاق سمجھا کرتے تھے۔ چناچہ ایک بار ایک صحابی نے جس کا نام حنظلہ ؓ ہے۔ اس بات کی حضرت صدیق اکبر ؓ سے شکایت کی اور کہا میں تو منافق ہوگیا وہ بات جو حضرت ﷺ کی صحبت میں نصیب ہوتی ہے۔ بال بچوں میں جا کر نہیں رہتی۔ صدیق اکبر ؓ نے کہا میرا بھی یہی حال ہے۔ دونوں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے فرمایا اے حنظلہ ! یہ کیفیت ہر وقت نہیں رہا کرتی۔ اگر ایسا ہو تو بشریت سے نکل کر فرشتوں سے مل جاؤ (مشکوٰۃ) اور نیز اس رات سے عارف و سالک کے قبض کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اس وقت آفتاب معرفت بالکل چھپ جاتا ہے جس سے پھر انکشاف تام ہوتا ہے جیسا کہ رات کے بعد پھر آفتاب جلوہ گر ہوتا ہے اور محبت میں یہی مزے ہیں ہجر نہ ہو تو وصال کا مزہ نہ آوے اور نیز اسلامی تنزل کی طرف بھی اشارہ ہے جس کی خبر آنحضرت ﷺ نے دی مگر وہ تنزل باردیگر ترقی کا سبب ہے کیونکہ اس رات کے بعد پھر دن ہونے والا ہے۔ اس لیے یہ بھی ایک محترم چیز ہے۔ والسماء ما بناھا اور قسم ہے آسمان کی اور اس کی بناوٹ کی۔ آسمان تو عجیب و غریب چیز ہے مگر اس کی بناوٹ بھی عجائب ہے۔ قدرت کاملہ کا نمونہ ہے۔ بعض علماء نے ما کو مصدریہ نہیں بلکہ من کے معنی میں پڑھا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم یعنی اس بنانے والے کے قربان جایئے جس کے مبارک ہاتھوں نے یہ رفع عمارت بنائی۔ آسمان کو شریعت سے تشبیہ ہے کہ جو آسمان کی طرح انسان کے جمیع افعال و احوال و مقامات و عقائد کو محیط ہے اور جس طرح آسمان میں بروج اور ستارے ہیں۔ اسی طرح شریعت میں ابواب و اقسام ہیں اور یہی مناسبات ہیں۔ والارض اور قسم ہے زمین کی وما طحاھا اور اس کی فراخی و کشائش کی یعنی کیا ہی اس میں وسعت رکھی ہے۔ یہاں بھی بعض علماء نے ما کو بمعنی من پڑھا ہے اور یہ استعداد نفس انسانی کی مثال ہے جس کی وسعت و فراخی کے بموجب اس میں تخم معرفت بویا جاتا ہے۔ اب خود نفس انسانی کی عالم میں کوئی نظیر باقی نہ تھی کیونکہ وہ آپ ہی اپنی نظیر ہے۔ اس لیے خاص اسی کی قسم کھاتا ہے۔ فقال و نفس وماسواھا کہ قسم ہے۔ انسان کی جان کی اور اس کی آراستگی کی یا اس کی کہ جس نے اس کو آراستہ کیا۔ انسان کے جسم کو دیکھو تو اس میں کیا کیا کاریگریاں کی ہیں جس کی پوری شرح کی جائے تو ایک دفتر میں بھی نہ سماوے اور اس کے قوائے باطنیہ و ادراکات و علوم کو غور کیا جاوے تو اس کی آراستگی حیرت خیز ہے اور وہ پہلی چھ چیزیں کہ جن کی قسم کھائی گئی اس نفس انسان ہی کے لیے بنائی گئی ہیں اور وہ سب مل کر ایک عالم ہیں تو نفس انسانی تنہا ایک دوسرا عالم ہے جس میں اول عالم کی سب باتیں موجود ہیں۔ بایں طور کہ اس کا آفتاب نور روحانی ہے اور ماہتاب دل کی روشنی ہے جو اس سے حاصل ہوتی ہے اور دن اس کے کمالات کا ظہور اور اس کی حیات کے ثمرات کا بروز ہے اور اس کی رات اور اس کی روح اور قلب کی تاریکی ہے یا اس کی قوائے بہیمیہ ملکیہ پر غلبہ ہے اور چونکہ قلب جو محل معرفت اور عرش رحمانی ہے وہ نور روح و ظلمت نفس کے ملنے بغیر نہیں ہوتا گویا کہ وہ ان دونوں کے اجتماع سے پیدا ہوا ہے اور اگر نفس کی ظلمت نہ ہو تو قلب پر معانی ظاہر نہ ہوں کیونکہ روح میں کمائی صفائی و نورانیت ہے۔ اس لیے یہ رات بھی ایک عمدہ چیز ہے اور اس کا آسمان روح حیوانیہ ہے اور زمین اس کا بدن ہے کہ جس کے خالق نے اس کو فراخ و وسیع کیا ہے اس طور پر کہ روح حیوانیہ ہر جگہ اثر کر رہی ہے اور یہاں تک نفس انسانی کی درستگی کی کہ فالہمھا فجورھا وتقوھا کہ اس کی بدی اور نیکی کی پہچان اس کو عطا کردی اور نفوس حیوانیہ کی طرح نامکمل نہیں رکھا کہ اپنی شقاوت وسعادت اخرویہ کو نہ جانتا ہو صرف معاش ہی کے رستے جانتا ہو۔ فائدہ : علماء فرماتے ہیں کہ الہام فجور وتقویٰ سے جبر لازم نہیں آتا کس لیے کہ یہ جب لازم آتا کہ اس میں بندہ کے ارادہ و اختیار کو دخل نہ ہوتا پھر جبکہ جو کچھ کراتے ہیں بندہ ہی اختیار و ارادہ سے کراتے ہیں تب کسی طرح جبر لازم نہیں آتا۔ تحقیق المقام ¦ الہام در دل افگندن و انچہ در دل افگند خدائے تعالیٰ یقال الہمہ اللہ واستلہمت اللہ (صراح) یہ الہام ہے جس کے معنی القاء کے ہیں۔ اس سے کوئی فرد بشر بھی خالی نہیں۔ ہر ایک کے دل پر اس طرف کا تار برقی لگا ہوا ہے۔ ادھر سے نیک و بد بات دل میں پڑتی ہے۔ یہ اہل سنت والجماعت کے عقائد کے موافق ہے اور اس میں کوئی جبر بھی لازم نہیں آتاکس لیے کہ القا ہونے کے بعد کرنا نہ کرنا اس کے اختیار و ارادہ کے ساتھ ہے اور اسی پر عذاب وثواب کا دار و مدار ہے اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ انسان کو خدائے پاک نے عقل و ادراک ‘ سمجھ بوجھ عطا کی ہے جس سے وہ نیک و بد جانتا ہے۔ یہ ہیں فجور اور تقویٰ کے الہام کے معنی اور مجاہد اور فراء اسی کے قائل ہیں اور مذہب معتزلہ بھی یہی ہے۔ اس الہام عام کے بعد ایک اور مرتبہ خاص الہام کا ہے جو حضرات اولیائِ کرام و انبیاء (علیہم السلام) کا حصہ ہے اس میں اور کو شرکت نہیں۔ واضح ہو کہ ان آیات میں خدا تعالیٰ اپنی ذات و صفاتِ غائب پر مشاہد سے استدلال کرتا ہے اور مشاہد بجز عالم جسمانی کے اور نہیں اور عالم جسمانی کی دو قسم ہیں۔ بسیط اور مرکب۔ پھر بسیط کی دو قسم ہیں۔ علوی جس کی طرف والسماء وما بناھا میں اشارہ ہے۔ دوم سفلی جس کی طرف والارض وماطحاھا میں اشارہ ہے اور نیز والشمس والقمر بھی علویات میں داخل ہیں اور رات دن ان سے پیدا ہوتے ہیں۔ اب رہے تھے مرکبات سو ان میں سب سے افضل انسان ہے جس کی طرف ونفس وماسواھا میں اشارہ ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ خدائے پاک مدبر اجسام ہے خواہ علویہ ہوں خواہ سفلیہ خواہ مرکبہ خواہ بسیط پس عالم محسوسات میں ایسی کوئی شے نہیں جو اس کے پیدا کرنے اور ایجاد کرنے سے نہ ہوئی ہو مگر یہاں ایک شبہ پیدا ہوتا تھا کہ حیوان و انسان کے افعال اس کی ایجاد و تخلیق میں داخل نہیں۔ اس کا دفع اس قول میں کردیا۔ فالہمہا فجورھا وتقوھا کہ یہ بھی اسی کے پیدا کرنے سے ہیں۔ اسی کی قضاء و قدر سے سرزد ہوتے ہیں۔ پس ثابت ہوا کہ ماسوی اللہ جو کچھ ہے سب اسی کی قضاء و قدر سے پیدا ہوا ہے۔ اسی کے احاطہ قدرت و تصرف میں ہے۔ پس الہام فجور خذلان ہے اور الہام تقویٰ توفیق ہے اور وہ حدیث جس کو امام احمد و مسلم و ابن جریر وغیرہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا ہے اس کی مؤید ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ یا حضرت یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں پہلے ان کے حق میں مقدر ہوچکا تھا یا ایک آیندہ فعل ہے کہ اپنے نبی کے فرمانے سے کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا پہلے ہی مقدر ہوچکا ہے، اس کے موافق کرتے ہیں۔ اس نے عرض کیا پھر اب لوگ کس لیے عمل کرتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ جس کو اللہ نے ان دونوں مرتبوں (خیر و شر) میں سے جس کے لیے پیدا کیا ہے اس کو اس کے موافق عمل کرنا آسان کردیتا ہے اور تصدیق اس کی کتاب اللہ میں ہے۔ فالہمہا فجورھا وتقوھا۔ مگر اس کے ساتھ بھی انسان کو اختیار باقی رہتا ہے۔ جیسا کہ حدیث مذکور سے پایا جاتا ہے اور اسی لیے اس کے بعد جواب قسم میں اس بات کو واضح کردیا۔ قد افلح من زکاھا وقد خاب من دساھا کہ فلاح پائی جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا گناہوں اور غفلات کے میل کچیل سے 1 ؎۔ انسان جب کوئی گناہ کرتا ہے یا عقائدِ فاسدہ کو دل میں جگہ دیتا ہے یا حب لذات و شہوات میں خدا سے غافل ہوجاتا ہے تو اس کے نفس یعنی روح پر ایک میل یا دھبہ لگ جاتا ہے۔ مرنے کے بعد یہی دھبہ جس مرتبہ کا ہے اسی کے موافق ایک خاص صورت میں باعث عذاب ہوتا ہے۔ جیسا کہ فرمایا وقد خاب من دساھا کہ خراب ہوا جس نے روح کو آلودہ کرلیا۔ اس نورانی جوہر کو گندی چیزوں میں چھپا دیا۔ تزکیہ و تطہیر نفوس کے لیے صرف یہی ایک جملہ قد افلح الخ کافی ہے جس کو چند مہتم بالشان چیزوں کو قسم کھا کر ارشاد فرمایا ہے اور وہ چند چیزیں جن کی قسم کھائی ہے اس کی قدرت کاملہ کا نمونہ اور عالم حسی کی بنیاد ہیں۔ 1 ؎ معلوم ہوا کہ تزکیہ نفس اور اس کی آلودگی کا انسان کو اختیار دیا ہے جو ان افعال کو اس کی طرف منسوب کیا ہے۔
Ayahs 91:11–15

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

) قومِ ) ثمود نے اپنی سرکشی سے (صالح پیغمبر کو) جھٹلایا

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جبکہ ان میں سے سب سے بڑا بدبخت اٹھا

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

پھر ان سے اللہ کے رسول نے کہہ دیا تھا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی سے تعرض نہ کرنا۔

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

سو انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں پھر تو ان کے رب نے بھی ان کے گناہ سے انہیں مار کر پٹراہی کردیا

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور اس نے اس کے انجام کی پروا ہی نہ کی۔

ترکیب ¦ بطغوھا الباء للسببیۃ الطغویٰ فعلی من الطغیان والوا ومبدلۃ من یاء مثل التقویٰ ومن قال طغوت کانت الواو اصلا۔ ثمود فاعل کذبت والجار فی بطغوھا یتعلق بکذبت اذا ظرف لکذبت او للطغویٰ انبعث مطاوع بعث یقال بعثت فلانا علی الامر فانبعث لہ ومعناہ انتدب لذلک وقام بہ ناقۃ اللہ منصوب بفعل محذوف ای ذرواناقۃ اللہ او احذروا وسقیاھا معطوف علیہ والاضافۃ فی ناقۃ اللہ للتشریف کبیت اللہ فدمدم فی الصحاح ومدمت الشیء اذا الزقعۃ بالتراب والدمدمۃ تضعیف العذاب یقال دمدمت علی الشیء ای اطبقت علیہ دمدم علیہ القبر ای اطبقہ فسوھا والضمیریعودالی الدمدمۃ ای فسؤی الدمدمۃ علیھم وعمھم بھا فا شتملت علی صغیرھم وکبیرھم وقیل یعود الی الارض الی فسوی الارض علیھم فجعلھم تحت التراب وقیل یعود والی الامۃ ای ثمود۔ ولا یخاف الخ الجملۃ حال ای فعل ذلک وھو لا یخاف والضمیر فی عقباھا یعود الی الفعلۃ او الی الدمدمۃ۔ والضمیر فی لایخاف یرجع الی اللہ سبحانہ وقیل الی صالح (علیہ السلام) ای لایخاف الرسول وھو صالح (علیہ السلام) عقبیٰ ھذا لعذاب کانہ وعد لنصرتہ وقیل یرجع الی الاشقی ای ذلک الاشقٰی الذی عقر الناقۃ لایخاف عقبیٰ ھذہ الفعلۃ۔ تفسیر ¦ پہلے فرمایا تھا قد افلح من زکاھا وقد خاب من دساھا۔ جس سے تزکیہ فلاح کا سبب اور تلویث خسارہ کا سبب سمجھا گیا۔ تلویث میں قوائے بہیمیہ عقل و شرع پر غالب آجاتی ہیں اور تزکیہ میں ان پر عقل و شرع غالب رہتی ہے۔ اب تلویث کے مضمون پر ایک واقعہ کا ذکر کرنا مناسب ہوا تاکہ واضح ہوجائے کہ قوائے بہیمیہ کے غلبہ دینے سے دنیا اور آخرت میں کیا کیا برے نتائج پیدا ہوجاتے ہیں اور قوت درا کہ بھی فاسد ہوجاتی ہے۔ حق باتوں کا انکار کردینا اور انکار پر اصرار کرنا اور ناصح مشفق کا مقابلہ کرنا ان کے نزدیک ایک ادنیٰ سی بات ہوجاتی ہے۔ اس لیے اب اس واقعہ کا ذکر ہوتا ہے۔ فقال کذبت ثمود قوم ثمود نے اپنے پیغمبر صالح (علیہ السلام) کو بطغوھا اپنی سرکشی سے جھٹلا دیا تھا یعنی قوائے بہیمیہ کے جوش و غلبہ کے سبب جس کے وہ عادی ہو رہے تھے اور یہ ہوتا ہے کہ جس قوت کو ترقی دی جاتی ہے اس کے بعد ایک ملکہ راسخہ ہوجاتا ہے جس سے اس کے موافق بےتکلف سرزد ہونے لگتے ہیں۔ عبادات و ریاضات والے سے عبادت وریاضات ‘ بدکار شہوت پرست غدار سے ویسے کام۔ فائدہ : جمہور کے نزدیک طغویٰ بفتح الطاء مصدر ہے بمعنی الطغیان فراء کہتے ہیں۔ طغویٰ و طغیان دونوں مصدر ہیں مگر اس جگہ اخیر آیات کے لحاظ سے طغوٰی کا استعمال ہوا۔ بعض کہتے ہیں واؤ کو اسم و صفت میں فرق کرنے کے لیے یاء سے بدل لیا کرتے ہیں جیسا کہ تقویٰ و سرویٰ اور جس نے طغویٰ کو بضم الطاء پڑھا ہے اس کے نزدیک یہی مصدر ہے جیسا کہ رجعٰی اور حسنیٰ ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں طغویٰ سے مراد اس قوم کا وہ عذاب ہے کہ جس سے وہ ہلاک ہوئے تھے۔ صالح (علیہ السلام) نے اس کی خبر دی تھی۔ انہوں نے اس کو جھٹلا دیا تھا اور چونکہ طغویٰ کے لغوی معنی حد سے گزرنے کے ہیں اور وہ عذاب جس سے وہ ہلاک ہوئے وہ بھی حد سے گزر گیا تھا۔ اس لیے اس پر طغویٰ کا اطلاق ہونا بہت ٹھیک ہوجاتا ہے۔ ثمود اس قوم کے بزرگ کا نام تھا جو کئی واسطہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا پوتا ہوتا تھا۔ قوم عاد جو عرب کے جنوبی حصہ یعنی یمن میں تھی ٗ اس کے ہلاک و برباد ہونے کے بعد شمال عرب میں یہ قوم زور آور ہوئی تھی۔ یہ قوم شام اور حجاز کے بیچ میں آباد تھی۔ ان کے اس شہر کا نام جو شام کی طرف تھا حجر تھا اور جو حجاز کی طرف تھا۔ اس کا نام وادی القریٰ تھا۔ ان دونوں شہروں کے درمیان اور بھی بہت سے قریات اور شہر اس قوم کے تھے جن کی تعداد بعض مؤرخین نے ایک ہزار سات سو بتلائی ہے۔ اس قوم میں مال و دولت بہت تھا۔ بڑے بڑے عالیشان مکان بنائے تھے اور سنگتراشی کا ہنر خوب جانتے تھے۔ اس لیے پہاڑ کھود کھود کر بڑے بڑے عجیب و غریب مکان بنائے تھے اور عمیق کنویں اور بائولیاں بھی کھودی تھیں مگر اس کے ساتھ بت پرستی اور بدکاری بھی غضب کی تھی۔ درندہ پن اور سفاکی اور بےرحمی کا بھی کچھ ٹھکانا نہ تھا۔ الغرض قوت شہوانیہ و غضبیہ وغیرہا کا دریا جوش زن تھا۔ خدا پرستی ‘ رحمدلی ‘ پرہیزگاری کا نام و نشان بھی نہ تھا۔ ایسی حالت میں رحمت الٰہی نے انہیں میں سے ایک شخص صالح بن عبید کو منتخب کیا اور نور نبوت سے منور فرمایا۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے اس بدبخت قوم کی اصلاح اور وعظ و پند میں کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا تھا مگر ان کی تقدیر میں شقاوت ازلیہ تھی۔ کب ماننے والے تھے۔ پھر جو جو مصائب اور ایذائیں ایسی قوم کے واعظ و ناصح مشفق کو پہنچیں کم ہیں۔ ایک بار قوم نے صالح (علیہ السلام) کو لاجواب کرنے کے لیے ایک معجزہ طلب کیا اور وہ کہ فلاں پہاڑ میں سے ایک اونٹنی نکلے جو ایسی اور ایسی ہو اور پھر نکل کر وہ اسی وقت بچہ بھی دے۔ چناچہ حضرت صالح (علیہ السلام) نے دعا کی۔ ویسی ہی اونٹنی پہاڑ پھٹ کر برآمد ہوئی اور اس نے باہر آکر بچہ بھی دیا۔ قوم نے یہ معجزہ آنکھ سے دیکھا مگر بجز جندع بن عمر رئیس قوم اور اس کے اتباع کے اور کوئی ایمان نہ لایا۔ صرف یہی ایک جماعت ایمانداروں ٗ نیکوکاروں کی تھی اور قوم ویسی کی ویسی رہی اور اب اور بھی ایذا و ظلم کا دروازہ کھول دیا۔ ادھر اونٹنی کی سنئے چونکہ وہ قوی ہیکل تھی اور جانور۔ اس کو دیکھ کر بدکتے تھے۔ یہ ٹھہرا کہ ایک روز گھاٹ پر یہ پانی پینے آوے تو دوسرے روز اور لوگوں کے جانور چندے اس پر قوم نے صبر کیا مگر ایک فاحشہ عورت نے جس کی ایک شخص شریر سرکش قیدار نامی سے آشنائی تھی یہ فرمائش کی تو اس اونٹنی کا کام تمام کر دے کیونکہ میرے جانوروں کو تکلیف پہنچتی ہے۔ وہ بدبخت اپنے یاروں کو لے کر اس کی تاک میں نکلا اور اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں اور پھر سب نے تلواروں سے مار مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور قوم میں اس کا گوشت بٹا سب نے خوشی سے پکا کر کھایا اور حضرت صالح (علیہ السلام) پر بڑے ٹھٹھے لگائے مگر حضرت صالح (علیہ السلام) نے پہلے بھی اس کام سے منع کردیا تھا اور کہہ دیا تھا کہ اگر اس کو ہاتھ لگایا تو جان لینا کہ غضب الٰہی آگیا مگر اب تو صاف صاف کہہ دیا کہ تین روز کی مہلت ہے۔ اگر ایمان لایا جاوے اور توبہ کی جاوے تو کرلو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور علامت ہلاکی کی یہ ہوگی کہ اول روز تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے۔ دوسرے روز سرخ تیسرے روز سیاہ۔ چناچہ صبح جب اٹھے تو سب کے چہرے زرد تھے۔ یہ دیکھ کر قیدار اور اس کے شریر دوستوں کو حضرت صالح (علیہ السلام) پر بڑا غصہ آیا۔ چاہا کہ عذاب آنے سے پہلے اونٹنی کی طرح ان کا بھی کام تمام کردیا جاوے۔ یہ قصد کرکے نو بدمعاش شب خون کی نیت سے حضرت صالح (علیہ السلام) کے گھر پر رات کو آئے۔ حمایتِ الٰہی نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو بچا لیا۔ وہ بدمعاش صبح کو وہیں مردہ پڑے پائے۔ یہ دیکھ کر قوم کو اور بھی جوش آیا اور ان کا بدلہ لینے کے لیے حضرت صالح ( علیہ السلام) پر حملہ آور ہوئے۔ ادھر حضرت صالح (علیہ السلام) کی جماعت بھی آمادہ جنگ ہوگئی۔ آخر یہ فیصلہ ٹھہرا کہ صالح ( علیہ السلام) اور ان کے اتباع شہر سے باہر نکل جاویں۔ چناچہ یہ سب لوگ نکل گئے اور اس بات کو غنیمت جانا۔ یہ روز ان کے چہرے سرخ ہونے کا تھا۔ سب کے منہ لال ہو رہے تھے۔ اگلا روز آیا سب کے منہ سیاہ ہوگئے اور یہ دیکھ کر ان کو یقین ہوگیا کہ اب ضرور کوئی بلا آنے والی ہے۔ اس لیے وہ اپنے ان پہاڑوں کے تراشے ہوئے مکانوں میں چلے گئے جن کی نسبت ان کو گمان تھا کہ یہاں نہ بجلی کا اثر پہنچے گا نہ زلزلہ کا نہ بارش کا۔ اتنے میں سیاہ آندھی آئی اور اس کے بعد زلزلہ آیا اور کڑک شروع ہوئی۔ متواتر دو تین بار ایسی ہیبت ناک آوازیں آئیں کہ سب کی روح پرواز کرگئی۔ کوئی بھی زندہ باقی نہ بچا۔ عذاب دفع ہونے کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) اس بدبخت قوم کے پاس آئے۔ ان کی لاشیں اور ان کو اوندھے پڑے دیکھ کر حسرت بھرے الفاظ میں فرماتے تھے کہ ہائے تم نے میرے کہنے کو نہ مانا اے بدبخت قوم میں نے تم کو بہت سمجھایا مگر تم نہ سمجھے۔ یہ ہے اس قوم کی مختصر سرگز شت جو عرب میں متواتر منقول تھی اور اس واقعے کو کہہ و مہ جانتا تھا۔ یہ شہر کہ جہاں عذاب آیا حجر ہے۔ جب آنحضرت ﷺ غزوہ تبوک میں صحابہ کے ساتھ حجر سے گزرے تو صحابہ کو اس بدبخت قوم کی جگہ پر ٹھہرنے اور ان کے کنوئوں سے پانی لینے سے بھی منع فرما دیا تھا۔ عرب میں اب تک سیاحوں کو قوم ثمود کے آثار باقیہ شام جاتے آتے دکھائی دیا کرتے ہیں جو اس بدبخت قوم کے حال زار پر عبرت کے آنسوئوں سے رویا کرتے ہیں۔ اسی پر موقوف نہیں۔ اب بھی اس کے قریب قریب حادثات بدبخت قوموں پر گزرتے ہیں مگر وہ اس کو کبھی زلزلہ اور کبھی سمندر کی طغیانی اور کبھی ژالہ باری ‘ بجلی کا صدمہ بتایا کرتے ہیں۔ تھوڑے دنوں پہلے یورپ میں آتش فشاں مادے سے بستیاں غارت ہوئیں اور اٹلی وغیرہ بلاد میں زلزلہ سے ہزاروں شخص ہلاک ہوئے ٗ شہر اجاڑ ہوگئے۔ آسمانی پتھر برسنے سے ہندوستان میں گائوں کے گائوں برباد ہوگئے۔ ہوا نے گائوں اجاڑ دیے۔ سینکڑوں آدمی ہلاک ہوئے۔ دریائوں کی طغیانی سے گائوں کے گائوں برباد ہوگئے مگر اب ان واقعات سے عبرت بھی نہیں کیونکہ حال کا علم ان کو اسباب کا فعل کہتا ہے۔ مسبب الاسباب کا قائل نہیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ اب ہم آیات کی تفسیر کرتے ہیں جن میں یہ واقعہ مختصر مذکور ہے۔ اذا انبعث اشقاھا جبکہ اپنی شرارت اور نشاط سے اس قوم میں سے بڑا بدبخت کھڑا ہوا اور وہ قیدار بن سالف تھا۔ یہ پاجی پست قد چتکبرا ‘ نیلی آنکھوں والا سرخ رنگ ‘ بڑا موٹا تازہ شریر اور متکبر شہوت پرست شخص تھا۔ اسی لیے عرب میں یہ مثل مشہور ہوگئی وہوا شام من قدار کہ فلاں توقدار سے زیادہ منحوس و بدبخت ہے۔ ہر قوم میں چند ایسے نالائق اور لچے ہوا کرتے ہیں جو کام لوگوں کے نزدیک بہت ہی برا اور قابل نفرین اولین وآخرین ہو وہ اس کے نزدیک کچھ بھی نہیں ہوتا۔ وہ اس کے لیے تیار ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرمایا کہ میں بتائوں تجھ کو سب سے بڑا شقی۔ علی ؓ نے عرض کیا ٗ فرمایئے آپ نے فرمایا ایک تو وہ کہ جس نے صالح (علیہ السلام) کے ناقہ کی کوچیں کاٹیں اور دوسرا وہ کہ جو تیرے سر پر تلوار مارے گا جس سے تیری ڈاڑھی پر خوں بہے گا۔ یہ دونوں سرخ رنگ والے سب سے شقی ہیں (رواہ احمد و ابن ابی حاتم والطبرانی و ابن مردویہ والحاکم و ابو نعیم فی الحلیۃ) یہ شخص بھی درحقیقت بڑا ہی بدبخت تھا۔ کس لیے کہ جناب مرتضوی آنحضرت ﷺ کا پورا نمونہ اور شوکت اسلام کا سرچشمہ تھے۔ گویا اس بدبخت نے ایک خسیس شہوت کے لیے سلسلہ خلافت کو درہم برہم کردیا۔ یہ شخص ابن ملجم خارجی تھا۔ ایک خارجیہ عورت نے کہ جس پر یہ عاشق تھا۔ حضرت مرتضوی کے شہید کر ڈالنے کی ترغیب دلائی تھی۔ اسی طرح شمر اور یزید بھی اس شقی سے کم نہیں کہ جنہوں نے دنیائے دنیہ کے لیے جگر گوشہ رسول کریم ﷺ کو کس بےرحمی سے شہید کیا۔ جب اس مردود قیدار نے ناقہ کی کوچیں کاٹنے کا بیڑا اٹھایا تھا تو حضرت صالح (علیہ السلام) کو اس بدبخت قوم کا ارادہ معلوم ہوگیا تھا۔ اس لیے آپ نے بتاکید فرما دیا تھا فقال لہم رسول اللہ۔ ان سے رسول اللہ یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہہ دیا تھا ناقتہ اللہ وسقیہا خبردار رہنا اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے سے کبھی اس کو برائی سے نہ چھونا نہ پانی پینے سے منع کرنا۔ فائدہ : اللہ کی اونٹنی اس لیے کہا گیا کہ وہ خاص معجزہ سے اللہ نے پیدا کی تھی۔ یہ اضافت تشریفی ہے یعنی عزت دینے کے لیے جیسا کہ بیت اللہ ورنہ خدا پاک کا کوئی خاص گھر نہیں کہ جس میں وہ رہا کرتا ہو اور نہ اس کے چڑھنے کی کوئی اونٹنی ہے اور یوں تو دنیا بھر کی اونٹنیاں بلکہ کل چیزیں اللہ ہی کی ہیں مگر اس اونٹنی میں یہ خصوصیت تھی کہ وہ اللہ کی طرف سے آیۃ یعنی نشانی تھی۔ اس کی قدرت کاملہ کا ایک خاص طرز سے پیدا ہونے کا سبب نمونہ تھی۔ مگر وہ بدبخت کب ماننے والے تھے فکذبوہ حضرت صالح (علیہ السلام) کو جو کچھ انہوں نے اونٹنی کی بابت فرمایا تھا کہ اگر اس کو بری نگاہ سے دیکھو گے تو ہلاک ہوجاؤ گے ٗ جھٹلادیا اور کہہ دیا کہ یہ بھی ایک ڈھکوسلا ہے۔ کس لیے کہ گناہ کرتے کرتے وہ دلیر ہوگئے۔ دلوں پر سیاہی چھا گئی تھی۔ اس لیے فعقروہا اس بدبخت قوم نے اس کی کوچیں کاٹ ڈالیں۔ کوچیں تو قیدار 1 ؎ نے کاٹی تھیں مگر اور بھی شریک تھے اور اس فعلِ بد سے راضی تھے۔ 1 ؎ اور اس لیے سورة قمر میں خاص اس بدبخت کی طرف اس فعل کو نسبت کیا کیا قال فتعاطٰی فعقر اس لیے دونوں آیتوں میں کوئی تعارض نہیں۔ 12 منہ اس لیے یہ فعل ان سب کی طرف نسبت کیا گیا فدمدم علیہم ربہم پھر تو ان کو ان کے رب نے غارت کردیا بذنبہم یوں ہی نہیں بلکہ ان کے گناہ کے سبب جو کفر و تکذیب اور کوچیں کاٹنا تھا اور ایسا ہلاک کیا کہ فسواھا اس ہلاکت کو سب کے لیے برابر کردیا کوئی بھی ان میں سے نہ بچا۔ چھوٹے بڑے سب ہلاک ہوئے بجز ان لوگوں کے کہ جو حضرت صالح (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اور کوئی نہ بچا۔ ولایخاف عقبہا۔ اور خدائے تعالیٰ اس ہلاکت کے انجام سے نہیں ڈرتا تھا۔ کس لیے انجام سے ڈرنے کی کئی صورتیں ہوا کرتی ہیں۔ اول یہ کہ بےسوچے سمجھے کوئی کام کر بیٹھے۔ اس کو انجامِ بد کا خوف ہوا کرتا ہے۔ سو وہاں یہ بھی نہیں۔ کس لیے کہ وہ ہر بات کا انجام اور ابتداء جانتا ہے۔ دوم یہ کہ اس ہلاک شدہ چیز سے کسی منفعت فوت ہوجانے کا خوف ہو جیسا کہ کوئی غصہ سے گھر میں آگ دے کر بعد میں پشیمان ہوا کرتا ہے، سو وہاں یہ بھی نہیں۔ کس لیے کہ اس نابکار قوم میں کوئی صلاحیت اور قابلیت ہی نہیں رہی تھی جو ان سے کوئی مصلحت یا منفعت متصور ہوسکتی ہو بلکہ یہ ناپاک قوم ایسی تھی کہ جیسے باغ میں خاردار درخت اگ آویں ان کے اکھاڑے بغیر چارہ نہیں ہوتا چہ جائیکہ ان کے وجود میں کوئی منفعت یا مصلحت ہو سوم یہ کہ ہلاک شدہ قوم کا کوئی اور قوم یا شخص انتقام لینے والا ہو۔ اس وقت خوف انتقام ہوا کرتا ہے۔ سو خدا پاک کو ان کی طرف سے کسی کے انتقام کا بھی خوف نہیں تھا وہ جس قوم یا جس شخص کو برباد کرتا ہے بےدھڑک کرتا ہے۔ اس میں مشرکین کے خیال باطل کا بھی رد ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں بت یا فلاں روح جس کی ہم پرستش کرتے ہیں ہم کو ہر وقت کی مصیبت سے نجات دے گی اور جو کوئی ہمیں ہلاک کر دے گا تو وہ ضرور بدلہ لے گا۔ بتلایا جاتا ہے کہ خدا سے کوئی بدلہ لینے والا نہیں۔ بعض علماء نے لایخاف کا فاعل عاقر یعنی کوچیں کاٹنے والے کو قرار دیا ہے۔ یہ سدی اور ضحاک اور کلبی کا قول ہے۔ اس تقدیر پر یہ معنی ہوں گے کہ اس بدبخت نے ایسا نڈر ہو کر اس اونٹنی کی کوچیں کاٹیں کہ اس فعلِ بد کے انجام سے بھی نہیں ڈرا۔ جو صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا اس کو جھوٹ جانتا تھا اور حقیقت میں ایسا بڑا فعل جو کوئی بدبخت کرتا ہے وہ انجام کار سے نہیں ڈرتا۔ اگر ڈرے تو کرے کیوں۔ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ ضمیر لایخاف کی رسول اللہ یعنی صالح (علیہ السلام) کی طرف پھرتی ہے کہ جب صالح (علیہ السلام) ان سے کہتے تھے کہ خبردار ناقۃ اللہ اور اس کے پانی پینے سے تعرض نہ کرو تو اس وقت نہایت بلند حوصلگی سے یہ فرماتے تھے۔ ان کو اس قوم کی ہلاکت میں اپنی اور اپنے متبعین کی ہلاکت کا کچھ بھی خوف نہ تھا۔ گویا ان کو وعدہ دیا گیا تھا کہ ان کے ساتھ تم ہلاک نہ ہو گے۔ اول معنی زیادہ تر چسپاں ہیں اور یہی جمہور کا قول ہے۔ اس مختصر سی سورت میں کس انداز اور خوبی سے انسان کی سعادت و شقاوت کا نقشہ کھینچ کر دکھایا ہے کہ ایسا نقشہ کھینچنا بشر کی طاقت سے باہر ہے اور ہر آیت کے ہر ایک پہلو میں بیشمار معانی ودیعت رکھے ہیں جو انسان کو اگر ان پر غور کرے شقاوت کے عمیق گڑھے سے نکال کر سعادت کے محل پر بٹھا سکتے ہیں اور لطف یہ کہ کلام میں شان شاہانہ بھی ہے جو کہے دیتی ہے کہ یہ بشر کا کلام نہیں۔ فسبحان من انزل القرآن۔