Ayah 91:1(91:1) والشمس وضحھا۔ واؤ قسمیہ، الشمس مقسم بہ۔ قم ہے آفتاب کی۔ واؤ قسمیہ ضحھا مضاف مضاف الیہ مل کر مقسم بہٖ ۔
ضحی کے معنی میں متعدد اقوال ہیں۔
(1) طلوع کے وقت آفتاب کی روشنی۔ (مجاہد، کلبی)
(2) ضحی سے مراد پورا دن ہے۔ (قتادہ)
(3) ضحی سے سورج کی گرمی مراد ہے۔ (مقاتل)
(4) قاموس میں ہے ضحیۃ بروزن عشیۃ دن چڑھ جانا۔ ضحی بغیر مدہ کے اور ضحا مدہ کے ساتھ قریب دوپہر۔
ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الشمس کی طرف راجع ہے۔ قسم ہے آفتاب کی اور اس کی روشنی کی۔
Ayah 91:2(91:2) والقمر اذا تلہا۔ واؤ قسمیہ اذا ظرف زمان۔ جب۔
تلی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تلو (باب نصر) مصدر سے۔ ت ل و مادہ) بمعنی پیچھے پیچھے چلنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الشمس ہے۔
ترجمہ :۔ اور قسم ہے چاند کی جب وہ اس کے (یعنی سورج کے) پیچھے پیچھے چلے۔ (ایسی صورت ہر مہینے کے نصف اول میں ہوتی ہے) (تفسیر مظہری)
اصلی میں تلی کا استعمال کسی چیز کی متابعت اور پیروی کرنے کے لئے آتا ہے۔ اور پیروی کبھی جسم کے ذریعے پیچھے پیچھے چل کر ہوتی ہے اور کسی حکم کی اقتداء کرنے سے۔ اس صورت میں اس کے مصدر تلو اور تلو آتے ہیں اور کبھی پیروی پڑھنے اور معنی میں غور کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لئے تلاوۃ کا مصدر استعمال ہوتا ہے۔ آیت شریفہ زیر مطالعہ میں اتباع برسبیل اقتداء و مرتبہ میں پیچھے ہونا مراد ہے کیونکہ چاند کی روشنی آفتاب سے لی ہوئی ہے اور وہ آفتاب کا بمنزلہ خلیفہ ہے۔ (لغات القرآن)
Ayah 91:3(91:3) والنھار اذا جلہا۔ واؤ قسمیہ ہے اذا ظرف زمان ہے۔ جلی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ ضمیر فاعل النھار کی طرف راجع ہے۔ جلی تجلیۃ (باب تفعیل) مصدر سے ہے۔ جس کے معنی ہیں روشن کرنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب الشمس کے لئے ہے قسم ہے دن کی جب کہ وہ (آفتاب کو) روشن (یعنی نمایاں) کرے۔
Ayah 91:4(91:4) والیل اذا یغشھا۔ واؤ قسمیہ اذا ظرف زمان۔ یغشی مضارع واحد مذکر غائب غشی (باب سمع) مصدر سے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجعالشمس ہے۔ قسم ہے رات کی جب وہ آفتاب کو چھپالے۔ اس پر پردہ ڈال دے۔ ڈھانک دے اس کو۔
Ayah 91:5(91:5) والسماء وما بنھا۔ واؤ قسمیہ ہے۔ واؤ دوم میں اختلاف ہے کہ قسمیہ ہے یا عاطفہ ہے۔ ما کی دو صورتیں ہیں۔
(1) ما مصدریہ ہے۔
(2) ما موصولہ بمعنی من ہے۔
بنی ماضی واحد مذکر غائب ہے بناء (باب ضرب) مصدر سے ہے۔ اس نے بنایا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع السماء ہے اس نے آسمان کو بنایا۔
ترجمہ : (بصورت ما مصدریہ) اور قسم ہے آسمان کی اور (اس آسمان) کی بناوٹ کی (آسمان کی بناوٹ جو قدرت کاملہ کا نمونہ ہے
ترجمہ :۔ (بصورت موصولہ) اور قسم ہے آسمان کی اور (قسم ہے) اس (آسمان) کے بنانے والے کی۔
Ayah 91:6(91:6) والارض وما طحھا : واؤ قسمیہ، واؤ ثانی قسمیہ یا عاطفہ۔ ما مصدریہ یا موصولہ۔
طحی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ طحی وطحو (باب نصر) مصدر۔ بمعنی پھیلانا۔
امام رازی نے تفسیر کبیر میں لکھا ہے :۔ اللیث نے کہا ہے کہ طحو۔ دحو کے ہم معنی ہے جس کے معنی بسط یعنی پھیلانے کے ہیں۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع الارض ہے۔
ترجمہ :۔ (بصورت ما مصدریہ) اور قسم ہے زمین کی اور اس کی فراخی اور کشائش کی۔ (یعنی کیا ہی اس میں وسعت اور کشائس رکھی ہے) ۔ ترجمہ :۔ (بصورت ما موصولہ) اور قسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے اس کو وسعت بخشی فراخ و کشادہ بنایا۔
Ayah 91:7(91:7) ونفس وما سوھا۔ واؤ قسمیہ۔ نفس۔ نفس انسانی، انسانی جان واؤ ثانی عاطفہ یا قسمیہ ہے۔ ما مصدریہ یا موصولہ ہے۔ سوی ماضی واحد مذکر غائب تسویۃ (تفعیل) مصدر سے۔ بمعنی کسی چیز کو بلندی یا پستی میں برابر بنانا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔
ترجمہ :۔ (بصورت ما مصدریہ کے) اور قسم ہے انسان کی جان کی اور اس کی آراستگی کی۔
ترجمہ :۔ (بصورت ما موصولہ کے) اور قسم ہے انسانی جان کی اور اس کی کہ جس نے اس کو آراستہ کیا۔
فائدہ : علامہ پانی پتی تحریر فرماتے ہیں :۔
(آیات 5-6-7 میں) اول دوسرا۔ تیسرا واؤ باتفاق علماء واؤ قسمیہ ہے اور اس کے بعد والے واؤ میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بھی قسم کے لئے ہے بہرحال پہلے تینوں واؤ عطف کے لئے نہیں ہیں۔
Ayah 91:8(91:8) فالھمھا فجورھا وتقوھا :عاطفہ بمعنی پھر۔ الہم کا عطف سوی پر ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ فجورھا مضاف مضاف الیہ مل کر الہم کا مفعول۔ اسی طرح تقوھا مضاف مضاف الیہ مل کر مفعول ہے الہم کا۔
الہم ماضی واحد مذکر غائب الہام (افعال) مصدر سے جس کے معنی کسی چیز کو دل میں ڈال دینے کے ہیں۔
الہم لہم سے ماخوذ ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں چونکہ الہام میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بات ڈال دی جاتی ہے اس لئے اس کا نام الہام ہوا۔ الہم کا فاعل محذوف ہے یعنی اللہ تعالیٰ ۔
فجور۔ مصدر ہے فجر یفجر (باب نصر) سے۔ فجور کا لغوی معنی ہے سوار کا زمین سے ایک طرف کو جھک جانا۔ جھوٹ بولنا۔ کسی کو جھوٹا قرار دینا۔ نافرمانی کرنا۔ مراد ی معنی ہیں دین کا پردہ پھاڑنا۔ علی الاعلان گناہ کرنا۔ فجر عن الحق۔ حق سے روگردانی کرنا۔ آیت ہذا میں بدکاری اور شریعت کی نافرمانی مراد ہے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔
تقوھا مضاف مضاف الیہ۔ تقوی۔ اتقاء (افتعال) مصدر سے اسم ہے۔ بمعنی پرہیزگاری۔ بچنا۔ لغت میں تقویٰ کے معنی ہیں نفس کا اس چیز سے بچانا اور حفاظت میں رکھنا جس کا خوف ہو۔ لیکن کبھی کبھی خوف کو تقویٰ سے اور تقویٰ کو خوف سے موسوم کرتے ہیں۔
عرف شرع میں ” تقوی “ نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کا نام ہے جو گناہ کی طرف لے جائے یہ بات ممنوعات کے اجتناب سے حاصل ہوتی ہے مگر اس کی تکیمل اس وقت ہوتی ہے کہ جب بعض مباحات کو بھی ترک کیا جائے۔
چناچہ مردی ہے :۔ الحلال بین والحرام بین ومن وقع حول الحمی فحقیق ان یقع فیہ۔ (حلال کھلا ہوا ہے اور حرام کھلا ہوا ہے اور جو چراگاہ کے اردگرد چرائے گا تو (اس کے حال کو دیکھتے ہوئے یہ خطرہ ہے) درست معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس میں داخل ہوجائے) ۔ ھا ضمیر نفس کی طرف راجع ہے۔
ترجمہ ہوگا :۔ پھر اس کی نافرمانی کو اور اس کی پارسائی کو اس کے دل میں ڈال دیا۔
مطلب یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کے سامنے خیر و شر اور اطاعت و معصیت کا راستہ کھول دیا تاکہ خیر و طاعت کو اخٹیار کرے اور شر و معصیت سے پرہیز کرے۔
Ayah 91:9(91:9) قد افلح من زکہا۔ جمہور کے نزدیک یہ اور اگلا جملہ جواب قسم ہے۔ اور جواب قسم کا لام مقدرہ ہے۔
تقدیرکلام یوں ہے :۔ لقد افلح ۔۔ الخ۔ یا زجاج کے مطابق طول کلام لام کا عوض ہوا۔ (تفسیر مدارک التنزیل)
بعض علماء کا قول ہے کہ :۔ فالھمھا فجورھا وتقوھا کے بعد یہ اور اس کے بعد آنے والا جملہ معترضہ ہے اور دونوں فریق (کافرو مومن) کے فرق کو واضح کرنے کے لئے اس کو ذکر کیا گیا ۔ اور قسم کا جواب محذوف ہے۔ جس پر آیت کذبت ثمود بطغوھا دلالت کر رہی ہے۔ کیونکہ قوم ثمود نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی تکذیب کی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو تباہ کردیا۔ پس تکذیب ثمود کی طرح جب کفار مکہ بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کو بھی خدا تعالیٰ تباہ کر دے گا۔ (تفسیر مظہری)
قد ماضی پر داخل ہو کر تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ قد افلح : تحقیق وہ فلاح پا گیا۔ بیشک وہ کامیاب ہوگیا۔ یقینا وہ کامیاب ہوا۔
زکھا۔ زکی ماضی واحد مذکر غائب تزکیۃ (تفعیل) مصدر۔ اس نے سنوارا۔ اس نے پاک کیا۔
زکی کا فاعل کون ہے ؟ اس کی دو صورتیں ہیں۔
(1) اس کا فاعل من ہے۔ اس صورت میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نفس ہے۔ ترجمہ ہوگا :۔ بیشک وہ شخص کامیاب ہوا۔ جس نے (اپنے) نفس کو (گناہوں سے) پاک کرلیا۔ (یہ ترجمہ تفسیر حقانی، تفسیر ضیاء القرآن، مولنا فتح محمد جالندھری۔ ایسر التفاسیر نے اختیار کیا ہے) ۔
(2) زکی کا فاعل اللہ ہے اور علامہ پانی پتی نے یہی اختیار کیا ہے۔ لکھتے ہیں :۔ کامیاب ہوا وہ شخص جس کے نفس کو اللہ نے پاک کردیا۔ زکی کا فاعل اللہ ہے اور ھا ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے (مگر من مذکر ہے اور ھا ضمیر مؤنث ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ من سے واقع میں نفس ہی مراد ہے اور نفس مؤنث ہے) ۔
تفسیر الخازن میں ہے :۔
ای فاذت وسعدت نفس زکاھا اللہ ای اصلحھا اللہ وطھرھا من الذنوب ووفقھا للطاعۃ۔ کامیاب رہی اور نیک بخت ہوئی وہ جان جس کو اللہ نے پاک کردیا۔ یعنی اللہ نے اس کی اصلاح کی اس کو گناہوں سے پاک رکھا اور طاعت کی توفیق بخشی۔
اور تفسیر مدارک التنزیل میں ہے :۔ ای طھرھا اللہ واصلحھا اللہ نے اس کو پاک کر رکھا اور اس کی اصلاح کی ۔
Ayah 91:10(91:10) وقد خاب من دسھا۔ خاب ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب خیبۃ (باب ضرب) مصدر سے۔ وہ نامراد ہوا۔ وہ خراب ہوا۔ اس کا مطلب فوت ہوا۔
دسھا ۔ دسی ۔ تدسیۃ (تفعیل) مصدر سے۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ اس نے خاک میں ملا دیا۔ اس نے چھپا دیا۔
دسھا : دس اصل میں دسس تھا۔ آخری س کو الف سے بدل دیا۔ اور تد سیس کے معنی ہیں اخفاء بمعنی چھپانا۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے۔ ام یدسہ فی التراب (16:59) یا اس کو مٹی میں چھپا دے۔ آیت میں ہلاک کرنا مراد ہے کیونکہ ہلاک کرنا چھپانے کو مستلزم ہے۔ نیز ملاحظہ ہو آیت 9 مذکوہ بالا۔
Ayah 91:11(91:11) کذبت ثمود بطغوھا : ثمود سے مراد قوم ثمود ہے۔ اسی بناء پر کذبت صیغہ واحد مؤنث لایا گیا ہے۔ ب سببیہ ہے طغوھا مضاف مضاف الیہ۔ ان کی سرکشی ھا ضمیر واحد مؤنث غائب قوم ثمود کے لئے ہے۔
طغوی : طغیان (باب نصر) مصدر سے اسم ہے جیسے دعاء سے دعوی ہے۔ ثمود نے اپنی سرکشی سے جھٹلایا۔ کذبت کا مفعول محذوف ہے۔ (یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت اور ہدایت)
یعنی قوم ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب حضرت صالح اور ان کی نبوت و ہدایت کی تکذیب کی۔
Ayah 91:12(91:12) اذا نبعث اشقھا : اذ ظرف زمان ہے کذبت کا یا طغوی کا۔
انبعث بعث کی انفعالی حالت کو ظاہر کرنے کے لئے باب انفعال سے لایا گیا ہے۔ کسی فعل کو رضا مندی اور فرمانبرداری سے کرنا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ انبعاث (افعال) مصدر سے۔ وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
اشقھا : اشقی افعل التفضیل کا صیغہ۔ بڑا بدبخت۔ شقادۃ سے جس کے معنی بدبختی کے ہیں۔ مضاف۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ کا مرجع قوم ثمود ہے۔ اس قوم کا سب سے بڑا بدبخت۔
Ayah 91:13(91:13) ناقۃ اللہ وسقیھا۔ منصوب بوجہ مفعول ہونے کے ہیں۔ فعل محذوف ہے ای فقال لہم رسول اللہ ذروا او احذ رواناقۃ اللہ وسقیھا خدا کے رسول نے ان سے (قوم ثمود سے) کہا۔ خدا کی اونٹنی کو اور اس کے پانی پینے کو نہ چھڑو۔ یعنی نہ تو اس کو کسی قسم کی جسمانی گزند پہنچاؤ اور نہ اس کی پانی پینے کی باری کو چھیڑو۔
سقیا : سقی سے اسم ہے۔ مضاف۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب۔ مضاف الیہ اس کا پانی پینا۔ اس کو پانی پلانا۔ اس کے پانی پینے کا انتظام یا طریقہ کار۔
Ayah 91:14(91:14) فکذبوہ فعقروھا :تعقیب کا ہے۔ پس۔ سو، ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ جس کا مرجع حضرت صالح (علیہ السلام) ہیں۔ عقروا ماضی جمع مذکر غائب عقر (باب ضرب) مصدر سے۔ عقر بمعنی کونچیں کاٹنا۔ کونچیں کہتے ہیں پاؤں کے پٹھوں کو جو پیچھے کی طرف ایڑی کے پاس ہوتے ہیں۔
عرب کا دستور تھا کہ اونٹ کو حلال کرنا ہوتا تو پہلے اس کی کونچیں کاٹتے تاکہ بھاگ نہ جائے۔ پھر اس کو نحر کرتے۔ (یعنی حلال کرتے) ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب کا مرجع ناقۃ (اونٹنی) ہے۔
فدمدم علیہم ربھم بذنبھم :تعقیب کا ہے دمدم ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب دمدمۃ (فعللۃ) مصدر سے۔ جس کے معنی ہیں ہلاک کرنا۔ غلبہ ہونا۔ اس نے الٹ مارا۔ اس نے تباہی لاڈالی۔ اس نے ہلاکت لاڈالی ۔
علیہم میں ضمیر مفعول ہم جمع مذکر غائب کا مرجع ثمود کے لوگ ہیں۔ بذنبھم : ب سببیہ ہے۔ زنبھم مضاف مضاف کا مرجع ثمود کے لوگ ہیں۔
ترجمہ :۔ پھر تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالا۔
فسوھا :تعقیب کا۔ سوی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تسویۃ (تفعیل) سے مصدر۔ اس نے برابر کردیا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب (مفعول) کا مرجع قوم ثمود ہے۔
مطلب یہ کہ ” پھر اس نے سب کی تباہی ایک سی کردی۔ ہلاکت عام کردی چھوٹا بڑا کوئی نہ بچا۔ (سوائے حضرت صالح (علیہ السلام) اور ان کے وہ پیروکار جو ان پر ایمان لے آئے تھے۔
Ayah 91:15(91:15) ولا یخاف عقبھا : عقبی۔ انجام، بدلہ، عاقبت۔ مضاف ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع کفار کو سزا دینے کا فعل ہے۔ مضاف الیہ ۔ جملہ حالیہ ہے۔ ای فعل ذلک وھولا یخاف عقبھا۔ اس نے یہ کیا درآں حالیکہ اسے اس کے انجام کو کوئی ڈر نہ تھا۔
لایخاف میں فاعل کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے اس کے متعلق مندرجہ ذیل صورتیں ہوسکتی ہیں :۔
(1) لا یخاف کی ضمیر فاعل اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی طرف راجع ہے یعنی اللہ کو اس تباہی یا قوم ثمود کی بربادی کے انجام کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔
(2) ضحاک، سدی، کلبی نے کہا کہ لا یخاف کی ضمیر فاعل اشقی کی طرف راجع ہے۔ اور کلام میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا۔ اذا نبعث اشقھا ولا یخاف عقبھا۔ یعنی سب سے بڑا بدبخت اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے فوری تیار ہوگیا اور اس کے نتیجہ کی طرف سے اس کو کچھ بھی خوف نہ آیا۔
(3) لا یضاف کی ضمیر حضرت صالح (علیہ السلام) کی طرف راجع ہے۔ کیونکہ ان کو وعدہ دیا گیا تھا کہ کافروں کے ساتھ تم ہلاک نہیں ہوگے۔ لیکن اول معنی زیادہ بہتر اور مناسب ہیں کہ ضمیر اللہ سبحانہ کی طرف راجع ہے۔