Ayah 91:1اللہ تبارک وتعالی نے ان عظیم آیات کے ذریعے سے فلاح یاب نفس اور اس کے علاوہ فاسق وفاجر نفوس پر قسم کھائی ہے چناچہ فرمایا (وَالشَّمْسِ وَضُحٰىهَا) یعنی سورج اور اس کی روشنی اور اس سے صادر ہونے والے فوائد کی قسم۔
Ayah 91:2) وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا) اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔ یعنی جب چاند منازل اور روشی میں سورج کے پیچھے چلے۔
Ayah 91:3(وَالنَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا) اور دن کی جب اسے چمکا دے۔ یعنی جب وہ روئے زمین پر تمام چیزوں کو روشن اور واضح کردے۔
Ayah 91:4(وَاللَّيْلِ اِذَا يَغْشٰـىهَا) اور رات کی جب اسے چھپالے۔ یعنی جب وہ تمام سطح زمین کو ڈھانپ لے اور زمین پر موجود ہر چیز تاریک ہوجائے۔ اس عالم میں اندھیرے اور اجالے۔ سورج اور چاند کا ایک نظم اور مہارت کے ساتھ، بندوں کے مصالح کے قیام کے لیے ایک دوسرے کا تعاقب کرنا اس حقیقت کی سب سے بڑی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے وہ اکیلا معبود ہے جس کے سوا ہر معبود باطل ہے۔
Ayahs 91:5–6(وَالسَّمَاۗءِ وَمَا بَنٰىهَا) اور آسمان کی اور جس نے اسے بنایا۔ اس میں احتمال ہے کہ ماموصولہ ہو تب یہ قسم آسمان اور اس کے بنانے والے، یعنی اللہ تعالیٰ کی ہے۔ یہ بھی احتمال ہے کہ مامصدریہ یہ ہو تب قسم آسمان اور اس کے بنانے کی ہے جو مضبوطی اور مہارت اور خوبصورتی کے ساتھ بنانے پر قادر ہونے کی غایت وانتہا ہے اسی کے مانند اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے (وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰىهَا) اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا۔ یعنی زمین کو پھیلایا اور اس کو وسعت عطا کی، تب اس وقت مخلوق اس سے ہر قسم کا فائدہ اٹھانے پر قادر ہوئی۔
Ayahs 91:7–8(وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰىهَا) اور نفس کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا۔ اس میں ایک احتمال یہ ہے کہ اس میں تمام حیوانی مخلوق کا نفس مراد ہو جیسا کہ لفظ کا عموم اس کی تائید کرتا ہے دوسرا احتمال یہ ہے کہ صرف مکلف انسان کے نفس کی قسم ہو جس پر اس کے بعد آنے والی آیات دلالت کرتی ہیں دونوں معنوں کے مطابق نفس ایک بہت بڑی نشانی ہے جو اس کی قسم کو حق ثابت کرتی ہے کیونکہ نفس انتہائی لطیف اور خفیف ہے منتقل ہونے، حرکت، تغیر وتبدل تاثر اور انفعالات نفسیہ مثلا، ہم وغم، ارادہ، قصد، محبت اور نفرت میں بہت تیز ہے۔ اگر نفس نہ ہو تو بدن مجرد بت ہے جس کا کوئی فائدہ نہیں اور اس ہیبت میں اس کو درست کرنا جو اس وقت ہے اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
Ayah 91:9(قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا) یعنی جس نے اپنے نفس کو گناہوں سے پاک کیا عیوب سے صاف کیا، اللہ تعالیٰ کیا اطاعت کے ذریعے سے اس کو ترقی دی اور علم نافع اور عمل صالح کے ذریعے سے اس کو بلند کیا وہ کامیاب ہوا۔
Ayah 91:10(وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰـىهَا) اور وہ ناکام ہوا جس نے اسے چھپایا۔ یعنی جس نے اپنے نفس کریمہ کو رذائل کے میل کچیلے کے ذریعے سے عیوب اور گناہوں کے قریب ہو کر ان امور کو ترک کرکے جو اس کی تکمیل اور نشونما کرتے ہیں اور ان امور کو استعمال میں لا کر جو اس کو بدصورت بناتے اور بگاڑتے ہیں چھپایا وہ ناکام رہا۔
Ayah 91:11(كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَآ) ثمود نے اپنی سرکشی حق کے مقابلے میں تکبر اور اللہ کے رسولوں کی نافرمانی کرکے تکذیب کی۔
Ayah 91:12(اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا) یعنی قبیلے کا بدبخت ترین شخص، قدار بن سالف، اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اس وقت اٹھا، جب سب نے اس جرم پر اتفاق کیا اور اسے ایسا کرنے کا حکم دیا تو اس نے ان کی اطاعت کی۔
Ayah 91:13(فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ ) تو اللہ کے رسول، یعنی صالح نے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا، ( وَسُقْيٰهَا) یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاٹنے سے باز رہو جس کو اللہ نے تمہارے لیے عظیم نشانی بنایا اور اس کا دودھ پلا کر اللہ تعالیٰ نے تم کو جس نعمت سے نوازا ہے اس کے جواب میں اونٹنی کو ہلاک نہ کرو۔
Ayah 91:14پس انہوں نے اپنے نبی حضرت صالح کو جھٹلایا (فَعَقَرُوْهَا 1 فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ ) پس انہوں نے اس کی کونچیں کاٹ دیں، تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث ان پر عذاب نازل کیا۔ یعنی ان کو برباد کردیا اور سب کو عذاب کی لپٹ میں لے لیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے اوپر سے ایک چنگھار اور نیچے سے زلزلہ بھیجا تو وہ اپنے گھٹنوں کے بل اوندھے پڑے رہ گئے تو ان میں کوئی پکارنے والا پائے گانہ جواب دینے والا۔ ( فَسَوّٰىهَا) ان پر اس بستی کو برابر کردیا۔ یعنی اس عذاب میں سب کو برابر کردیا۔
Ayah 91:15(وَلَا يَخَافُ عُقْبٰهَا) اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں۔ یعنی اس کے تاوان سے وہ ڈر بھی کیسے سکتا ہے جب کہ وہ قہر والا اس کے قہر اور تصرف سے کوئی مخلوق باہر نہیں اس نے جو فیصلہ کیا اور جو کام مشروع کیا وہ اس میں حکمت والا ہے۔