وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا ۟وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰٮهَا
اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the moon when it follows it
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا ۟وَالۡقَمَرِ اِذَا تَلٰٮهَا
اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے
— Fateh Muhammad Jalandhari
And [by] the moon when it follows it
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 16 of juz
Read the whole surah · Surah Ash-Shams
اور چاند کی قسم جبکہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہے
اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے
قسم ہے چاند کی جب اس کے پیچھے آئے
اور چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے پیچھے آئے۔
اور چاند کی جب اس کے پیچھے آئے
اور چاند کی قَسم جب وہ سورج کی پیروی کرے (یعنی اس کی روشنی سے چمکے)،
اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے !
اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے
اور چاند جب اس کے پیچھے لگے
اور قسم ہے چاند کی جب کہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے
اور چاند کی جب وہ آفتاب کے پیچھے آئے۔
اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے۔
اور چاند کی جو اس کے بعد نکلے
and by the moon as it follows it;
and by the moon when she follows him,
and by the moon when she follows him,
By the moon as it Talaha.
And the moon when she followeth him,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
And [by] the moon when it follows it
by the moon when it follows the sun,
And the moon when it follows the sun,
By the moon, when she followeth him,
By the Moon as she follows him;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–10
کامیابی کے لیے کیا ضروری ہے ؟ : حضرت مجاہد فرماتے ہیں " ضحا سے مراد روشنی ہے " قتادہ فرماتے ہیں " پورا دن مراد ہے " امام جریر فرماتے ہیں کہ ٹھیک بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی قسم کھائی ہے اور چاند جبکہ اس کے پیچھے آئے یعنی سورج چھپ جائے اور چاند چمکنے لگے، ابن زید فرماتے ہیں کہ مہینہ کے پہلے پندرہ دن میں تو چاند سورج کے پیچھے رہتا ہے اور پچھلے پندرہ دنوں میں آگے ہوتا ہے، زید بن اسلم فرماتے ہیں مراد اس سے لیلۃ القدر ہے۔ پھر دن کی قسم کھائی جبکہ وہ منور ہوجائے یعنی سورج دن کو گھیر لے، بعض عربی دانوں نے یہ بھی کہا ہے کہ دن جبکہ اندھیرے کو روشن کر دے لیکن اگر یوں کہا جاتا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة الشَّمْس 1 اصل میں لفظ ضحی استعمال کیا گیا ہے جو سورج کی روشنی اور اس کی حرارت، دونوں پر دلالت کرتا ہے۔ اگرچہ عربی زبان میں اس کے معروف معنی چاشت کے وقت کے ہیں جبکہ سورج طلوع ہونے کے بعد خاصا بلند ہوجاتا ہے۔ لیکن جب سورج چڑھتا ہے تو صرف روشنی ہی نہیں دیتا بلکہ گرمی بھی دیتا ہے، اس لیے ضحی کا لفظ جب سورج کی طرف منسوب ہو تو اس کا پورا مفہوم اس کی روشنی، یا اس کی بدولت نکلنے والے دن کے بجائے اس کی دھوپ ہی سے زیادہ صحیح طور پر ادا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →دوسری قسم والقمر اذاتلھا، یعنی چاند کی قسم جبکہ وہ آفتاب کے پیچھے آئے، اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب چاند غروب آفتاب کے بعد طلوع ہو اور یہ مہینہ کے وسط میں ہوتا ہے جبکہ چاند تقریباً مکمل ہوتا ہے اور پیچھے آنے کا یہ مفہوم بھی ہوسکتا ہے کہ جس طرح کہ ضحیٰ کے وقت میں آفتاب بکمال نظر آتا ہے اسی طرح جبکہ چاند اس کے پیچھے آئے یعی کامل ہونے میں آفتاب کے تابع ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
اضداد اور ان کی باہمی سازگاری کا درس: یہ آفاق کی بعض نمایاں نشانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے جو باہم دگر جوڑے جوڑے ہونے یا دوسرے الفاظ میں زوجین کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اشیاء کے جوڑے جوڑے ہونے سے قرآن نے توحید، معاد اور جزا و سزا پر جو دلیلیں قائم کی ہیں ان کی وضاحت پچھلی سورتوں میں ہو چکی ہے۔ یہاں جس خاص پہلو کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے وہ یہ ہے کہ ہر چند سورج اور چاند، دن اور رات میں سے ہر چیز کی شکل و صورت، ان کے ظہور کے طریقے، ان کے مزاج اور اس کائنات پر ان کے اثرات میں بڑا فرق ہے جس کے سبب سے یہ دنیا اضداد کی ایک رزم گاہ معلوم ہوتی ہے لیکن مدبر کائنات نے ان اضداد کو اس طرح اس عالم کی مشین میں فٹ…
Read the full tafseer →2۔ 1۔ یعنی جب سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو، جیسا کہ پہلے نصف مہینہ میں ایسا ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
1: سورج کو عربی میں ”شمس“ کہتے ہیں، اور اسی کے نام پر اس سورت کا نام سورة الشمس ہے۔ سورت میں اصل مضمون یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے دل میں نیکی اور بدی دونوں قسم کے تقاضے پیدا فرمائے ہیں، اب انسان کا کام یہ ہے کہ وہ نیکی کے تقاضوں پر عمل کرے، اور برائی سے اپنے آپ کو روکے۔ یہ بات کہنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے سورج، چاند اور دن اور رات کی قسمیں کھائی ہیں۔ اس میں شائد اشارہ یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے سورج کی اور دن کی روشنی بھی پیدا کی ہے اور رات کا اندھیرا بھی، اسی طرح انسان کو نیکی کے کاموں کی بھی صلاحیت دی ہے اور بدی کے کاموں کی بھی۔
Read the full tafseer →والقمر اذا تلھا (2:91) ” اور چاند کی قسم جب کہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے “۔ یعنی یہ سورج کے بعد آتا ہے ، جب سورج غروب ہو تو پھر اس کا لطیف ، شفاف ، خوبصورت اور صاف نور نمودار ہوتا ہے ۔ انسانی قلب اور چان کے درمیان قدیم رشتہ محبت ہے ، اور یہ رشتہ انسانیات میں دور تک گہرائیوں میں چلا گیا ہے ، انسانی نفسیات وضمیر میں ، انسانی قلب و شعور میں یہ زندہ اور چمک دار نظر آتا ہے ، پھر چاند انسانی قلب کے ساتھ خوشگوار اور محبت آمیز مکالمہ بھی کرتا ہے ، اور محبت بھرے اشارات بھی دیتا ہے ، اور اس میں خالق کی حمدوثنا بھی ہے۔ قریب ہے کہ ایک سننے والا انسان ، روشن چاند کی حمدوثنا کو سنے ، بعض اوقات جب ایک حساس دل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
13 یعنی سورج غروب ہونے کے بعد جب اس کی چاندنی پھیلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
آیت 2{ وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰٹہَا۔ } ”اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے۔“ تلا ‘ یتلو کے معنی ہیں کسی کے پیچھے آنا۔ تلاوت کا لفظ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ لغوی معنی کے اعتبار سے لفظ ”تلاوت“ کے مفہوم میں قرآن مجید کے متن کا پڑھنا زبان اور نظر سے عبارت کی پیروی کرنا ‘ اس کے احکام پر عمل کرنا اور اس کا اتباع کرنا شامل ہے۔
Read the full tafseer →2 تلیٰ بمعنی کسی چیز کا کسی دوسری چیز کے پیچھے آنا اور بار بار آتے رہنا۔ یعنی مہینہ کے اکثر ایام ایسے ہوتے ہیں کہ سورج ڈوبنے کے بعد چاند نکل آتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
1۔ یعنی غروب آفتاب کے بعد طلوع ہو۔ (آیت) ” ضحھا “۔ اس میں اشارہ ہے سورج کے کمال نور کی طرف، (آیت) ” والقمراذا تلھا “۔ اس فقرہ میں اشارہ ہے چاند کے کمال نور کی جانب۔ جن راتوں میں چاند سورج ڈوبتے ہی طلو ہوجاتا ہے، وہی راتیں اس کے کمال عروج کی ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–4
والقمر اذا تلھا یعنی سورج غروب ہونے کے بعد وہ طلوع ہو جیسا کہ مہینے کے نصف اول میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →والقمر اذا تلھا . یعنی چاند کی قسم جب آفتاب کے طلوع کے پیچھے اس کا طلوع ہو۔ ایسی صورت میں ہر مہینہ کے نصف اوّل میں ہوتی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ چاند کی قسم جب آفتاب کے غروب کے پیچھے اس کا طلوع ہو یا چاند کی قسم جب وہ پوری گولائی اور کامل روشنی میں سورج کا تابع ہو (یعنی پورا چاند) زجاج نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ یہ دونوں صورتیں 13‘ 14 اور 15 کی راتوں میں ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–6
(1۔ 6) قسم ہے سورج کی روشنی اور پہلی رات کے چاند کی جب سورج کے غروب ہونے کے بعد آئے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے، اور رات کی جب وہ دن کی روشنی کو ختم کردے اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پیدا کیا، اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پانی پر بچھایا۔
Read the full tafseer →والقمر اذا تلھا :”تلایتلو“ (ن) پیچھے آنا اور چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے ! یعنی سورج غروب ہونے کے بعد جب چاند کی روشنی پھیلتی ہے۔
Read the full tafseer →یعنی وہ سورج کے پیچھے آئے یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو چاند دکھائی دیتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : تلوت فلانا جب تو اس کی پیروی کرے۔ قتادہ نے کہا : یہ ہلال کی رات منظر ہوتا ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو چاند دکھائی دیتا ہے ابن زید نے کہا : جب مہینے کے نصف میں سورج غروب ہوتا ہے تو چاند طلوع کرکے اس کا پیچھا کرتا ہے اور مہینے کی آخر میں اس کے غروب کے پیچھے ہوتا ہے۔ فراء نے کہا۔ تلٰھا کا معنی ہے اس سے حصہ لیتا ہے یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ چاند سورج کی روشنی اخذ کرتا ہے ایک قوم نے کہا : والقمر اذاتلٰھا کا معنی ہے جب وہ پورا ہوجائے تو چاند روشنی اور نور میں سورج کی مثل ہوجاتا ہے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
2۔ ابن جریری نے عرفی کی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلہا اور چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے آئے یعنی دن کے پیچھے آئے آیت والارض وما طحہا اور قسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے اس کو بچھایا یعنی جو اللہ تعالیٰ نے اس میں پیدا فرمایا آیت فالہمہا فجورہا یعنی اس کو فرمانبرداری اور نافرمانی پر مطلع کردیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلا ہا میں تلا ہا سے مراد ہے پیچھے آنا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن ذی حمامہ (رح) سے روایت کیا کہ جب رات آتی ہے تو رب تعالیٰ فرماتے ہیں چھا جا میرے بندوں پر میری عظیم مخلوق میں اور رات کا خوف اور ڈر ہے…
Read the full tafseer →[وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا : اور قسم ہے چاند کی جب وہ پیچھے پیچھے آتا ہے اس (سورج) کے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے سورج کی اور اس کی روشنی کی قسم کھائی ہے اور چاند کی بھی قسم کھائی ہے اس میں اِذَا تَلٰىهَا کا بھی اضافہ فرمایا یعنی چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے سے آجائے یعنی سورج غروب ہونے کے بعد طلوع ہوجائے اس سے مہینوں کی درمیان یعنی تیرہ چودہ پندرہ تواریخ کی راتیں مراد ہیں ان راتوں میں جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے چاند نکل آتا ہے اور خوب زیادہ روشن رہتا ہے اور پوری رات اس کی روشنی کامل رہتی ہے جس طرح وضحھا فرما کر آفتاب کی کامل روشنی کی طرف اشارہ فرمایا اسی طرح چاند کے کمال نور کی طرف اِذَا تَلٰىهَا فرما کر اشارہ فرما دیا اس کے بعد دن کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” والشمس “ ” ضحیٰ “ سے مراد ضوء اور روشنی ہے وضحاھا ای ضوئھا، ” والقمر اذا تلاھا “ ای تبعہا ولحقہا۔ چاند کے سورج کے پیچھے آنے سے مراد یہ ہے کہ سورج کے غروب کے فورا بعد طلوع ہوا یہ چودھویں رات کا چاند ہے۔ یا مراد ہے کہ سورج کے طلوع کے بعد اس کا طلوع ہو یہ مہینے کی ابتدا میں ہوتا ہے۔ ان دنوں میں چاند کا جو حصہ زمین کی طرف ہوتا ہے وہ بےنور ہوتا ہے اس لیے نظر نہیں آتا یا بہت تھوڑا سا حصہ نظر آتا ہے جو سورج کے بالمقابل ہوتا ہے۔ حضرت شیخ قدس سرہ نے بقرینہ تقابل لیل ونہار ارض و سماء دوسرے مفہوم کو ترجیح دی ہے اسی طرح نفس کی دونوں حالتوں فجور وتقوی کا ذکر بھی قرینہ مرجحہ ہے۔ سورج کی روشنی اور…
Read the full tafseer →وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىہَا 2 ۠ قمر القَمَرُ : قَمَرُ السّماء . يقال عند الامتلاء وذلک بعد الثالثة، قيل : وسمّي بذلک لأنه يَقْمُرُ ضوء الکواکب ويفوز به . قال : هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] ( ق م ر ) القمر ۔ چاند جب پورا ہورہا ہو تو اسے قمر کہا جاتا ہے اور یہ حالت تیسری رات کے بعد ہوتی ہے ۔ بعض نے کہا ہے کہ چاندکو قمر اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ستاروں کی روشنی کو خیاہ کردیتا ہے اور ان پر غالب آجا تا ہے ۔ قرآن میں ہے : ۔ هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِياءً وَالْقَمَرَ نُوراً [يونس/ 5] وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن اور چاند کو منور بنایا ۔ إذا إذا يعبّر به عن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
ترکیب ¦ والشّمس الوا وللقسم جارۃ وضحٰھا وما بعد ھا عطف علی الشمس اذا تلہا وکذا اذا یغشہا الظرف معمول۔ للقسم ای اقسم اذا تلٰھا واقسم اذا یغشاھا۔ والضمیر فی تلاھا راجع الیٰ الشّمس ومعناہ اذا اتبعھا وذلک بان یطلع القمر بعد غروب الشّمس یقال تلایتلوا اذا تبع وذلک فی النصف الاول من الشہر اذا غربت الشّمس تلاھا القمر فی الاضاءۃ وکذا الضمیر فی اذا جلاھا ویغشاھا راجع الی الشّمس لان الشّمس عند انبساط النھار تتجلی تمام الانجلاء وکذا عند فجی اللیل تغشی الشّمس ویذھب ضوء ہا فالا سنادفی جلاویغشٰی مجازی ومابناھا ما مصدریۃ ای اقسم بالسماء وبنائھا اذا ابناء السماء بالرفعۃ والاستدارۃ امر عجیب وقیل موصولۃ بمعنی…
Read the full tafseer →وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰـھَا۔ (الشمس : 2) (اور چاند کی قسم جبکہ اس کے پیچھے آتا ہے۔ ) تیسری قسم چاند کی کھائی جارہی ہے جب وہ سورج کے غروب ہونے کے بعد طلوع ہوتا ہے۔ قمری مہینہ کے ابتدائی پندرہ دنوں میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ادھر سورج غروب ہوتا ہے ادھر چاند نمودار ہوجاتا ہے۔ اور آخری نصف میں چاند پہلے طلوع ہوتا ہے اور سورج اس کے بعد نمودار ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
فہم القرآن ربط سورت : سورة البلد کے آخر میں یہ بتلایا کہ کفار کو دھکتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا۔ الشمس میں گیارہ قسمیں اٹھانے کے بعد یہ ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کے دل میں نیکی اور بدی کا شعور پیدا کیا ہے۔ اب اس کی مرضی ہے کہ یہ اپنے لیے کون سا کردار اور انجام پسند کرتا ہے۔ سورۃ الشمس کا آغاز بھی بڑی بڑی چیزوں کی قسموں سے کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس سورت کے آغاز میں گیارہ قسمیں اٹھائی ہیں۔ قرآن مجید میں یہی وہ مقام اور سورت ہے کہ جہاں ایک ہی مقام پر گیارہ قسمیں اٹھائیں گئی ہیں۔ جس بات کے لیے قسمیں اٹھائی گئی ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ٹھیک ٹھاک بنا کر اس کے دل میں نیکی…
Read the full tafseer →2 : وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰھَا (اور چاند کی جب سورج سے پیچھے آوے) روشنی اور ضیاء میں اس کا پیچھا کرے یہ مہینے کے پہلے پندرہ روز میں ہوتا ہے۔ روشنی میں چاند سورج کے پیچھے آتا ہے اور اس کا نائب ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →2 ۔” والقمر اذا تلاھا “ اس کے پیچھے آئے اور یہ مہینہ کے پہلے نصف میں سورج کے غروب ہونے کے بعد ہوتا ہے۔ اس کے پیچھے چاند چمک میں آتا ہے اور روشنی میں اس کا خلیفہ ہوتا ہے اور زجاج (رح) فرماتے ہیں یہ اس وقت جب وہ گھومے یعنی اس کی روشنی مکمل ہوجائے تو وہ روشنی میں سورج کے تابع ہوتا ہے اور یہ بیض کی راتوں میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–10
1۔ 10۔ اس سورة میں قسم کھا کر جو بات اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ علم الٰہی کے موافق جو لوگ دنیا میں نیک اور عقبیٰ میں جنت کے قابل ٹھہر چکے ہیں انکا دل اکثر نیک کام کی طرف دوڑتا ہے اور اللہ کی طرف سے بھی ان کو نیک کام کی توفیق ہوتی ہے اسی طرح جو لوگ علم ازلی میں بد قرار پا چکے ہیں ان کا دل ہمیشہ بد کام کی طرف دوڑتا ہے اور اسی طرح کے اسباب بھی ان کے لئے دنیا میں پیدا ہو کر پھر حکم الٰہی کی کسی نصیحت کا اثر ان کے دل پر نہیں ہوتا۔ غرض جس طرف انسان کا دل دوڑتا ہے دنیا عالم اسباب میں ویسا ہی سبب خدا کی طرف سے موجود ہوتا ہے اسی کو اس آیت میں جی میں ڈالنا فرمایا ہے اگرچہ بعض مفسروں…
Read the full tafseer →) وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا) اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے۔ یعنی جب چاند منازل اور روشی میں سورج کے پیچھے چلے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
(1) وجود اضداد میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اضداد کے وجود اور اس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت موجود ہیں، چناچہ ارشاد فرمایا گیا قسم ہے سورج اور اس کی دھوپ کی، اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ سورج کے پیچھے آتا ہے، جیسا کہ ایام بیض میں ہوتا ہے یعنی چاند کی تیرہویں، چودھویں، پندرہویں اور سولہویں کی رات میں جس میں چاند پورا ہو کر ماہ مال بن جاتا ہے، اور شامل ہوتے ہی آسمان پر چمکتا ہوا ظاہر ہوتا ہے، اور اپنے کمال وجود سے اپنے خالق ومالک کی عظمت وقدرت اور اس کی حکمت بالغہ کی گواہی دیتا ہے، نیز اس اعتبار سے بھی کہ چاند ہمیشہ سورج کے پیچھے آتا ہے کہ اس کی روشنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
کامیابی اور ناکامی اختیاری ہے تشریح : اب زمانہ بہت ترقی کرچکا ہے۔ جاہلیت کے زمانے میں لوگ علم و عرفان سے بہت پیچھے تھے۔ اسی لیے وہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کا مطلب نہ سمجھتے تھے اور نہ ہی سمجھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ان کی عقل و علم کے مطابق ان کو برائی اور اچھائی سمجھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کے سامنے کی چیزوں کی قسم کھا کر اور انہی کی مثال دیکر نیکی و بدی کا فرق بتانے کی کوشش کی ہے۔ وہ لوگ روز دیکھتے تھے کہ سورج نکلتا ہے دن روشن ہوجاتا ہے۔ چاند اس کے بالکل مخالف ہے کیونکہ رات کو اندھیرا ہوتا ہے تو پھر چاند کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ دن رات ' آسمان و زمین سب علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے کام میں لگے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
سورة الشمس۔ آیات 151 اسرار ومعارف۔ قسم ہے سورج کی ، اور اس کی روشنی کی اور چاند کی جب اس کے بعد آنا ہے اور دن کی جو ہر شے کو روشن کردیتا ہے یا رات جو ہر شے کو اپنے دامن میں چھپالیتی ہے اور آسمان کی کہ جیسے اسے بنادیا ہے اور زمین کی کہ جس طرح اسے پھیلادیا ہے اور خود انسانی جان کی کہ جس طرح اسے جسم عطا کرکے بیشمار اوصاف عطا کردیے ہیں اور نیک وبد کی تمیز اور بھلائی اور برائی کی استعداد عطا کردی ہے یعنی پورا نظام شمسی طلوع و غروب اور شب وروز ان کی خصوصیات ، آسمانی دنیا اور زمینی عجائبات ، نفس انسانی اور ذات انسان اس کی تخلیق پھر اس میں سوچ فکر ، سمع بصر اور عجیب و غریب کمالات اور بھلائی اور برائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 11 یعنی جب وہ سورج کے غروب ہونے کے بعد نکلے۔ ایسا مہینے کے نصف اول میں ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →(91:2) والقمر اذا تلہا۔ واؤ قسمیہ اذا ظرف زمان۔ جب۔ تلی ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب۔ تلو (باب نصر) مصدر سے۔ ت ل و مادہ) بمعنی پیچھے پیچھے چلنا۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع الشمس ہے۔ ترجمہ :۔ اور قسم ہے چاند کی جب وہ اس کے (یعنی سورج کے) پیچھے پیچھے چلے۔ (ایسی صورت ہر مہینے کے نصف اول میں ہوتی ہے) (تفسیر مظہری) اصلی میں تلی کا استعمال کسی چیز کی متابعت اور پیروی کرنے کے لئے آتا ہے۔ اور پیروی کبھی جسم کے ذریعے پیچھے پیچھے چل کر ہوتی ہے اور کسی حکم کی اقتداء کرنے سے۔ اس صورت میں اس کے مصدر تلو اور تلو آتے ہیں اور کبھی پیروی پڑھنے اور معنی میں غور کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اس کے لئے تلاوۃ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–15
لغات القرآن۔ ضحی۔ چڑھتی دھوپ۔ تلی۔ پیچھے آیا۔ جلی۔ روشن ہوگیا۔ یغشی۔ وہ چھا گیا۔ طحی۔ پھیلا دیا۔ الھم۔ اس نے الہام کیا۔ اندر ڈالا۔ دسی۔ جس نے (خواہشات کے نیچے) دبا دیا۔ طغوی۔ نافرمانی کی۔ انبعت۔ اٹھ کھڑا۔ اشقی۔ سب سے زیادہ بدنصیب۔ ناقۃ اللہ۔ اللہ کی اونٹنی۔ عقروا۔ انہوں نے ٹانگیں کاٹ دیں۔ دمدم۔ تباہی پھیلا دی۔ عقبی۔ انجام ۔ نتیجہ۔ تشریح : قرآن کریم میں عام طور پر تمام وہ چیزیں جنہیں آدمی دن رات کھلی آنکھوں سے دیکھتا ہے جیسے چاند، سورج، ستارے، ہوائیں، فضائیں، نباتات، پرندے اور انسان کا اپنا نفس جس پر وہ خود گواہ ہے ذہن نشین کرانے کے لئے قسمیں کھا کر بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص ان پر غوروفکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
(ف 1) سورة والشمس میں چون کلمے اور دو سوسنتالیس حروف ہیں اس سورت میں حق تعالیٰ نے پہلے اپنی عجائبات مخلوقات کی قسم کھائی ہے جن میں اولاد آدم کے منافع بیشمار ہیں گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہماری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری ان مخلوقات میں غور کرو کہ تمہاری فائدے رسانی ک لیے ہم نے اپنی کتنی عظیم الشان مخلوق کو کام میں لگایا ہوا ہے اس کے بعد انسان کی برائی اور بھلائی بتلائی کہ یہ کرے اور یہ نہ کرے۔
Read the full tafseer →(2) اور قسم ہے چاند کی جب وہ آفتاب کے پیچھے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 9۔ یعنی طلوع ہو، مراد اس سے وسط ماہ کی بعض راتوں کا چاند ہے کہ سورج کے چھپنے کے بعد طلوع ہوتا ہے اور یہ قید شاید اس لئے ہو کہ وہ وقت کمال نور کا ہوتا ہے۔ جیسا ضحھا کا اشارہ ہے کمال نور آفتاب کی طرف اور یا اس وقت دو آیة قدرت علی سبیل التعاقب والاتصال ظاہر ہوتی ہیں، غروب شمس و طلوع قمر۔
Read the full tafseer →اور چاند کے رب کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے 2 ؎ تیسری شہادت کے لیے چاند کو پیش کیا جا رہا ہے جب وہ سورج کے غروب ہونے کے بعد طلوع ہوتا ہے یا روشنی دینے کے قابل ہوتا ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ تقریباً پہلے پندرہ روز ایسا ہی ہوتا ہے کہ ادھر سورج غروب ہوا اور ادھر چاند نظر آیا لیکن آخری نصف ماہ میں چاند پہلے نظر آتا ہے یعنی رات کو اور سورج بعد میں طلوع ہوتا ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ سورج جب روشن ہوجاتا ہے تو چاند کی روشنی ماند (Dim) پڑجاتی ہے اور وہ روشن دکھائی نہیں دیتا۔ ( تلھا) وہ اس کے پیچھے ہوا ( تلھا) تلو سے جس کے معنی پیچھے پیچھے چلنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ( ھا) ضمیر…
Read the full tafseer →The second oath is taken by: وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا (and by the moon when she follows him,...91:2). This signifies one of two things: [ 1] The moon following the sun is seen clearly during the middle of the lunar months when the full moon rises to dominate the sky with its radiance after sunset. [ 2] The phrase 'when she follows him' could signify just as the sun is seen in full in broad light, so does the moon, following the sun, becomes full. The third oath is taken by:
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1 The word duha as used in the original applies both to the light of the sun and to its heat. Although in Arabic its well known meaning is the time between sunrise and meridian when the sun has risen high, at that height it does not only give light but heat too. Therefore, when the word duha is attributed to the sun, its full meaning can be expressed more appropriately by its radiant brightness than by its light, or by the time of the day that it indicates.
Read the full tafseer →