91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 91:1

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی

والشمس وضحھا . آفتاب اور اس کی روشنی کی قسم ‘ مجاہد ؓ اور کلبی ؓ نے کہا : یعنی طلوع کے وقت آفتاب کی روشنی کی قسم کیونکہ اس وقت کی روشنی صاف ہوتی ہے۔ قتادہ ؓ نے کہا : ضحی سے مراد پورا دن ہے۔ مقاتل نے کہا : سورج کی گرمی مراد ہے۔ قاموس میں ہے : ضحیۃ : بروزن عشیۃٌ دن چڑھ جانا۔ ضحی بغیر مدہ کے اور ضحاءٌ مد کے ساتھ قریب دوپہر۔
Ayah 91:2

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے

والقمر اذا تلھا . یعنی چاند کی قسم جب آفتاب کے طلوع کے پیچھے اس کا طلوع ہو۔ ایسی صورت میں ہر مہینہ کے نصف اوّل میں ہوتی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ چاند کی قسم جب آفتاب کے غروب کے پیچھے اس کا طلوع ہو یا چاند کی قسم جب وہ پوری گولائی اور کامل روشنی میں سورج کا تابع ہو (یعنی پورا چاند) زجاج نے بھی یہی مطلب بیان کیا ہے۔ یہ دونوں صورتیں 13‘ 14 اور 15 کی راتوں میں ہوتی ہیں۔
Ayah 91:3

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور دن کی جب اُسے چمکا دے

والنھار ازا اجلھا . اور دن کی قسم جب وہ سورج کو یا تاریکی کو یا زمین کو روشن کر دے۔ روشن کرنے کی طرف ان کی نسبت مجازی ہے جیسے صام نھارہٗ : اس کے دن نے روزہ رکھا۔ ضمیر آفتاب کی طرف راجع ہے ‘ دن پھیلنے سے سورج نمایاں ہوجاتا ہے یا ضمیر کا مرجع مذکور نہیں ہے یعنی تاریکی یا زمین یا دنیا۔
Ayah 91:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور رات کی جب اُسے چھپا لے

واللیل اذا یغشھا . اور رات کی قسم جب رات سورج کو یا آفاق کو یا زمین کو ڈھانک لے۔ تینوں آیات میں اِذَا (ظرف زمان) کا تعلق جمہور کے نزدیک فعل قسم سے ہے لیکن بحر مواج کے مؤلف نے لکھا ہے کہ ایسا کرنا درست نہیں کیونکہ قسموں کا وقوع ان اوقات میں مراد نہیں ‘ نہ اس کو قمر اور نہار اور لیل کی صفت قرار دیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ ظرف زمان فعل کی صفت ہوتا ہے۔ یعنی وقوع فعل زمانہ میں ہوتا ہے ‘ کسی امر حسی کی صفت نہیں ہوتا۔ اس لیے (بر مسلک جمہور) تاویل کی ضرورت ہے اور مضاف کو محذوف مانا جائے گا۔ مطلب اس طرح ہوگا۔ چاند کے اس انجلاء کی قسم جو سورج کے پیچھے چلنے کے وقت اس کو حاصل ہوتا ہے اور دن کے اس نمود کی قسم جو سورج کو نمایاں کرتے وقت ہوتا ہے اور رات کے نمودار ہونے کی قسم جو آفاق پر چھا جانے کے وقت ہوتا ہے اور اس تاویل پر ظرف زمان مضاف محذوف کی صفت ہوگا یا اس سے متعلق ہوگا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ تینوں آیات میں اذا ظرفیہ نہ ہو بلکہ اذا کا معنی ہی وقت ہو جیسے : اذا یقوم زید اذا یقعد عمرو۔ یعنی عمرو کے بیٹھنے کے وقت زید کا قیام ہوتا ہے۔ اس وقت اذا اپنے مابعد سے مل کر مقسم بہ ہوگا یعنی مقسم بہ سے بدل۔
Ayah 91:5

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا

والسماء وما بنھا . آسمان کی قسم اور اس کی جس نے اس کو بنایا یعنی اللہ کی ما ‘ من کے معنی میں ہے۔ عطاء اور کلبی کا یہی قول ہے۔ سوال اس وقت سوء ادب لازم آئے گا۔ قسم کے وقت غیر اللہ کی ‘ اللہ پر تقدیم سوء ادب ہے کیونکہ اللہ کی عظمت کے مقابلہ میں دوسری ہر چیز بےمقدار ہے۔ جواب اس وقت ادنیٰ سے اعلیٰ کی طرف ترقی ہوگی یہی کمال ادب ہے (یعنی چھوٹی چھوٹی چیزوں کی قسمیں پہلے کھائیں اور آخر میں عظیم الشان ہستی کی قسم کھائی) ۔ زجاج اور فراء نے کہا : مَا مصدری ہے یعنی آسمان اور اس کے بنانے (یا بناوٹ) کی قسم۔
Ayah 91:6

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور زمین کی اور اس کی جس نے اسے پھیلایا

والارض وما طحھا . اس آیت میں مَا بمعنی مَن ہے یا مصدری ہے یعنی زمین کی اور اس کو بچھانے والے کی یا بچھانے کی قسم۔ یہی مراد آئندہ آیت
Ayah 91:7

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضا) کو برابر کیا

ونفس وما سواھا . میں ہے۔ یعنی نفس کی اور اس ذات کی قسم جس نے اس کی تخلیق متوازن کی اور تقاضاءِ حکمت کے موافق اس کی تخلیق کا فیصلہ کیا۔
Ayah 91:8

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی

فالھمھا فجورھا و تقواھا . صاحب کشاف کی تقلید میں بیضاوی نے بھی لکھا ہے کہ آیت مذکورہ میں مَا کو مصدری قرار دینے سے عبارت میں اختلال پیدا ہوجائے گا کیونکہ سوّٰی فعل کو فاعل سے مجرد کرنا ضروری ہوگا اور اَلْھَمَ فعل ہے اس کا عطف مَا سوّٰی پر ہوگا تو مصدر پر فعل کا عطف ہوجائے گا اس لیے مَا مصدری نہیں (بلکہ مَن کے معنی میں ہے اور) سوّٰی کا فاعل اللہ ہے اسی طرح الھَمَ کا فاعل بھی وہی ہے لیکن بحر مواج کے مؤلف نے لکھا ہے کہ الھم کا عطف سوّٰی پر ہے (اس لیے جس طرح مَا کی وجہ سے سوّٰی بمعنی مصدری ہے اسی طرح الھم بھی بمعنی مصدری ہے) اس طرح مصدر پر فعل کا عطف لازم نہیں آئے گا۔ نفسٍ کی تنوین اظہار کثرت و عموم کے لیے ہے جیسے آیت : عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ میں ہے ‘ یا اظہار عظمت کے لیے ہے اور ایک فرد مراد ہے یعنی حضرت آدم ( علیہ السلام) کا نفس۔ عطاء نے کہا : تمام جن و انس مراد ہیں۔ الہام فجور وتقویٰ کا معنی یہ ہے کہ اللہ نے ہر شخص کے سامنے خیر و شر اور اطاعت و معصیت کا راستہ کھول دیا تاکہ خیر اور اطاعت کو اختیار کرے اور شر و معصیت سے پرہیز کرے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہی مطلب مروی ہے۔ لیکن سعید بن جبیر اور ابن زید نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے انسان کے لیے بدکاری یا تقویٰ کو لازم کردیا ہے ‘ اس کے دل میں وہی میلان پیدا کردیتا ہے جو انسان چاہتا ہے یا نفس کو تقویٰ کی توفیق دیتا ہے اور دل میں تقویٰ پیدا کردیتا ہے یا نفس کو بدکاری کے لیے بےمدد چھوڑ دیتا ہے اور دل میں بدکاری کی تخلیق کردیتا ہے۔ زجاج نے اسی مطلب کو پسند کیا ہے۔ حضرت عمران بن حصین کی روایت ہے کہ قبیلۂ مزینہ کے دو آدمیوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو فرمائیے کہ آج کل لوگ جو کچھ عمل اور مشقت کرتے ہیں ‘ کیا یہ کوئی پہلے سے فیصل شدہ امر اور گزشتہ تقدیر کے موافق ہے یا آئندہ ہونے والے (اختیاری) امور ہیں جو نبی لے کر آتا ہے اور (بصورت نافرمانی) لوگوں پر حجت قائم ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں ! بلکہ یہ فیصل شدہ امر اور سابقہ تقدیر ہے اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں موجود ہے : وما نفس وما سواھا فالھمھا فجورھا و تقواھا۔ (رواہ مسلم) حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تمام آدمیوں کے دل ایک دل کی طرح رحمن کی چٹکی میں ہیں۔ جدھر چاہتا ہے ان کو موڑ دیتا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا : اے دلوں کو پھیر دینے والے ہمارے دلوں کو اپنی طاعت کی طرف موڑ دے۔ (مسلم) فجور کو تقویٰ سے پہلے ذکر کرنے کی وجہ علاوہ رعایت سجع کے یہ بھی ہے کہ نفس کو امارہ بالسوء ہونا اصل ہے (اور پرہیزگار بن جانا بعد کی چیز ہے) ۔ اوّل ‘ دوسرا اور تیسرا واؤ باتفاق علماء قسمیہ ہے اور اس کے بعد والے واؤ میں اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک وہ بھی قسم کے لیے ہے۔ بہرحال تینوں پہلے واؤ عطف کے لیے نہیں ہیں ورنہ واللیل اذا یغشاھا جیسی آیات میں دو مختلف عاملوں کے معمول پر عطف لازم آئے گا ‘ کیونکہ اللّیل واو قسم کی وجہ سے مجرور ہے اور اذا یغشی محذوف فعل قسم کی وجہ سے منصوب۔ اب والنھار اذا جلاھا میں واؤ کو عطف کے لیے قرار دیا جائے گا تو یہ واو فعل کا بھی قائم مقام ہوگا اور حرف جر کا بھی۔ صحیح بات یہ ہے کہ صرف پہلا واؤ قسمیہ اور باقی عاطفہ کیونکہ پہلی قسم کی تکمیل کے بغیر اس کے اندر دوسری قسم کو داخل کردینا جائز نہیں اور واو عطف صرف واو قسم کے قائم مقام ہے ‘ لیکن واو قسم باء قسم اور فعل قسم کے مجموعہ کے قائم مقام ہوتا ہے ‘ اسی لیے واو قسم کے ساتھ فعل قسم کو ذکر کرنا جائز نہیں گویا واو قسم کا عمل نصب بھی ہے اور جر بھی ‘ یہ ایسا ہی ہے جیسے ایک عامل کے دو عمل ہوتے ہیں (ضرب زید عمروًا۔ ضرب عامل ہے زید کو فاعل ہونے کی بناء پر رفع اور عمروًا کو مفعول ہونے کی وجہ سے نصب۔ ایک ہی وقت میں دیتا ہے) پس دو معمولوں پر دو چیزوں کا عطف ہوجائے گا اور یہ بالاتفاق جائز ہے جیسے : ضرب زید عمروًا و بکرٌ خالدًا۔ اس تاویل کی اس وقت ضرورت پڑے گی جب ظروف کا تعلق فعل قسم سے قرار دیا جائے لیکن مؤلف بحر الامواج کی تفسیر پر تو اس توجیہ کی کوئی ضرورت ہی نہیں ہے۔
Ayah 91:9

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا

قد افلح من زکھا . کامیاب ہوا وہ شخص جس کے نفس کو اللہ نے پاک کردیا۔ زکّٰی کا فاعل اللہ ہے اور ھَا ضمیر مَنْ کی طرف راجع ہے (مگر مَنْ مذکر ہے اور ھَا ضمیر مؤنث) اس کی وجہ یہ ہے کہ مَن سے واقع میں نفس ہی مراد ہے (اور نفس مؤنث ہے) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : میں نے خود سنا ‘ حضور ﷺ آیت : قد افلح من زکّٰھا (کی تشریح) میں فرما رہے تھے : وہ نفس کامیاب ہوگیا جس کو اللہ نے پاک کردیا۔ (رواہ ابن جریر من طریق جویبر) مسلم ‘ ترمذی ‘ نسائی اور ابن ابی شیبہ ؓ نے حضرت زید ؓ بن ارقم کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : الٰہی میں تیری پناہ چاہتا ہوں ‘ بےبسی سے ‘ سستی سے ‘ بزدلی سے ‘ زیادہ بڑھاپے سے اور عذاب قبر سے ‘ الٰہی میرے نفس کو تقویٰ و طہارت عطا فرما تو سب سے بڑھ کر نفس کو پاک کرنے والا ہے ‘ تو نفس کا کارساز اور مولیٰ ہے۔ الٰہی میں تیری پناہ چاہتا ہوں ‘ اس علم سے جو فائدہ بخش نہ ہو ‘ اس دل سے جو خشوع والا نہ ہو ‘ اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ ہو۔ آیت کا مطلب اس تفسیر پر یہ ہوگا کہ جس نفس کو اللہ نے اپنی صفاتی جلوہ پاشیوں کے ذریعہ سے رذائل سے پاک کردیا یہاں تک کہ وہ اللہ سے اور اللہ کے احکام سے رضامند ہوگیا۔ اس کی یاد اور اطاعت سے اطمینان اندوز ہوگیا اس کے ممنوعات سے اور ان تمام امور سے جو اللہ سے روکنے والے ہیں مجتنب ہوگیا ‘ وہی کامیاب ہوگیا۔ حسن بصری (رح) نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا کہ جس شخص نے اپنے نفس کو پاک کرلیا اس کو صالح بنا لیا اور اللہ کی اطاعت پر آمادہ کرلیا وہ کامیاب ہوگیا۔ گویا حسن بصری (رح) کے نزدیک زکّٰی کی ضمیر مَنْ کی طرف راجع ہے۔ اوّل الذکر تفسیر پر یہ ان لوگوں کی حالت کا بیان ہوگا جو مراد خداوندی بن گئے ہیں (ان کا اپنا ارادہ کچھ بھی نہیں رہتا) اور مؤخر الذکر تفسیر پر یہ ان لوگوں کی حالت کا بیان ہوگا جو مشیت الٰہی کا ارادہ کرتے ہیں۔ اللہ جس کو چاہتا ہے ‘ برگزیدہ بنا دیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے ‘ اس کو اپنا راستہ بتادیتا ہے۔ یہ آیت قسم کا جواب ہے (یعنی اسی بات کو ظاہر کرنے کے لیے مذکورۂ بالا قسمیں کھائی گئی ہیں۔ لیکن جواب قسم ہونے کی بناء پر قَدْ سے پہلے لام آنا ضروری ہے ‘ اس کے جواب میں) زجاج نے کہا کہ کلام سابق کا طول خود لام کا بدل ہوگیا گویا جب اللہ نے لوگوں کی کوشش اور سعی بلیغ کے ساتھ نفوس کو پاک کرنے پر برانگیختہ کرنا چاہا تو ایسی قسمیں کھائیں جن سے خالق کا وجود اور اس کا ازلی ‘ ابدی ہونا اور اس کی صفات کاملہ کا ثبوت دلائل کی روشنی میں واضح ہوگیا اور اس طرح قوت نظریہ (فکر و عقیدہ کی طاقت) اپنی اعلیٰ چوٹی پر پہنچ گئی اور قسموں کے ذیل میں ہی اللہ نے اپنی پر عظمت آیات رحمت کا ذکر فرمایا تاکہ انسان ادائے شکر میں پوری توجہ کے ساتھ منہمک ہوجائے اور یہی درجہ قوت عملیہ کے کمال کا ہے۔ علم و عمل کی تکمیل پر ہی اللہ کی طرف سے جذب اور بندہ کی طرف سے تقویٰ مرتب ہوتا ہے اور اسی طرح نفس کا تزکیہ ہوجاتا ہے 1 ؂۔ بعض علماء کا قول ہے کہ فالھمھا فجورھا و تقوٰھا کے بعد یہ (اور اس کے بعد آنے والا) جملہ معترضہ ہے اور دونوں فریق (کافر و مؤمن) کے فرق کو واضح کرنے کے لیے اس کو ذکر کیا گیا ہے اور قسم کا جواب محذوف ہے۔ جس پر آیت : کذبت ثمود بطغواھا دلالت کر رہی ہے۔ کیونکہ قوم ثمود نے حضرت صالح کی تکذیب کی تو اللہ نے اس کو تباہ کردیا۔ پس تکذیب ثمود کی طرح جب کفار مکہ بھی رسول اللہ ﷺ کی تکذیب کر رہے ہیں تو ان کو بھی خدا تباہ کر دے گا۔
Ayah 91:10

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا

و قد خاب من دسھا . یعنی جس کے اندر اللہ نے گمراہی پیدا کردی ‘ اور تخلیق ضلال کی وجہ سے اس کو ہلاک کردیا ‘ وہ نامراد رہا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جس نے خود گمراہی کو اختیار کر کے اپنے نفس کو ہلاک کرلیا وہ نامراد رہا۔ دسَّا اصل میں دسس تھا۔ آخری سین کو حرف علت (الف) سے بدل دیا جیسے تقضّٰی اصل میں تقضض تھا۔ تدسُّسٌ کا معنی ہے ‘ چھپانا۔ اللہ نے فرمایا ہے : اَمْ یدسہٗ ............ 1 ؂ زجاج کے قول کی تشریح یہ ہے کہ فطری طور پر نفس انسانی کو دو قوتیں دی گئی ہیں۔ نظریہ اور عملیہ۔ نظریہ کو علمیہ اور فکریہ اور اعتقادیہ بھی کہا جاسکتا ہے اس کا کام خالص فکری ‘ علمی امور کو جاننا ‘ غور کرنا ‘ کائنات اور خالق کائنات کے احوال کو پہچاننا اور سمجھنا ہے۔ علوم سفلی ‘ طبعی ہوں یا فلکی اور علوی یا الٰہی اور فوق الطبیعیاتی سب کا حصول قوت نظریہ سے ہی ہوتا ہے مگر عملی علوم کی تحصیل اس قوت سے نہیں ہوتی۔ سچ اچھا ہے ‘ جھوٹ برا ہے ‘ شکر واجب ہے ‘ کفران نعمت حرام ہے۔ غرض سارے اخلاقی ‘ سماجی ‘ تمدنی اور سیاسی علوم و معاف کا تعلق قوت نظریہ سے نہیں بلکہ قوت علمیہ سے ہے۔ ان دونوں قوتوں کے استکمال کے بعد نفس انسانی پاکیزہ اور جہالت و خباثت کے میل کچیل سے صاف ستھرا ہوجاتا ہے اور اگر ان قوتوں کی تکمیل نہ ہوسکتی تو جتنی کثافت ان میں باقی ہوگی اتنی ہی آلودگی اور آغستگی نفس میں ہوگی۔ اگر مبدء کائنات ‘ تخلیق کائنات ‘ ترتیب کائنات ‘ نظم کائنات اور مآل کائنات کا علم صحیح حاصل ہوجائے اور خالق کائنات کی ہستی اور صفات ہستی کے متعلق علم میں غلطی نہ ہو تو بس قوت نظریہ کی یہی معراج ہے اور اس مرتبہ پر پہنچنے کے بعد نفس کا فکری رخ روشن ہوجاتا ہے۔ اس کے عقائد و افکار کے آئینہ پر کوئی داغ دھبّہ نہیں ہوتا۔ اس کی عقلی نظر پاک ہوجاتی ہے۔ اس کے بعد اگر اخلاقی ‘ سماجی اور معاشرتی و انتظامی امور سے تعلق رکھنے والے معلومات میں بھی غلطی نہ ہو اور انسان اعمال حسنہ کو حسنہ اور قبیحہ کو قبیحہ جاننے لگے اور صحیح علم کی روشنی میں اس کے اعمال بھی صحیح ہوجائیں اور اللہ کے قائم کردہ ضوابط خیر و شرکو جاننے کے بعد ان کا پابند بھی بن جائے تو قوت عملیہ بھی سب سے اونچی چوٹی پر پہنچ جاتی ہے اور نفس کا عملی رخ بھی پاک ‘ صاف اور شستہ ہوجاتا ہے۔ ایسے نفس کو نفس مزکّٰی کہتے ہیں لیکن اس سرخ پر اگر بےعملی یا بدعملی کی کوئی کثافت آگئی تو ایسا نفس نفس خبیثہ کثیفہ کہلانے کا مستحق ہوتا ہے۔ حال و قال کے اعتبار سے نفس مزکّٰی ہی کامیاب ‘ فلاح یاب اور نجات یاب ہوگا اور نفس کثیف ‘ ناکام ‘ بد انجام اور خاسر المرام۔ اللہ نے نفس کو مزکّٰی بنانے کی ترغیب کے لیے اور کثافت و خباثت سے روکنے کے لیے فائز المرام اور ناکام نفوس کے نتائج اواضح کردیئے اور توضیح نتائج کو قسموں سے پختہ کر کے بیان کیا۔ چاند ‘ سورج ‘ رات ‘ دن ‘ آسمان و زمین ‘ تخلیق نفس اور تقدیر فجور وتقویٰ کی قسمیں کھا کر فلاح و خسران کی اطلاع دی لیکن قسمیں کھانے میں ہی ایک لطیف طرز ایسا اختیار کیا کہ فلاح و خسران کی خبر تک پہنچنے سے پہلے ہی اہل علم سمجھ جاتے ہیں کہ نفس کے دونوں رخ روشن کرنے کی تعلیم قسموں کے ذیل میں ہی خدا نے دے دی۔ مثلاً پتہ چل جاتا ہے کہ آسمان کو کوئی بنانے والا ہے ‘ زمین کو کوئی بچھانے والا ہے ‘ نفس کا کوئی خالق ہے ‘ پھر انہی قسموں سے اس کی صفات کاملہ بھی معلوم ہوجاتی ہیں کہ یہ ساری تخلیق ‘ تعمیر ‘ تنظیم اور تقدیر الہامی پر حکمت ہے۔ قادر کے زیر قدرت ہے۔ اضطراری نہیں ‘ غیر اختیاری نہیں۔ غیر متوازن نہیں۔ انمل ‘ بےجوڑ نہیں۔ خالق کا ارادہ اور علم اور حکمت اور قدرت ان پر محیط ہے اور خالق ان سب سے وراء الوراء ہے۔ اس طرح قوت نظریہ کا استکمال ہوجاتا ہے پھر انہی قسموں میں یہ بھی ذیلی طور پر بیان کیا ہے کہ سورج سارے جہان کو روشن کرتا ہے ‘ گرمی پہنچاتا ہے۔ ضحی کا لفظ اس مضمون کو بتارہا ہے کہ چاند ‘ سورج کا تابع ہے۔ تَلٰھَا سے یہ مضمون سمجھ میں آتا ہے۔ آسمان ایک عظیم الشان عمارت ہے اور زمین بچھایا ہوا فرش اور تخلیق انسانی معتدل ‘ متوازن اور خطرات قلبی اور امواج تصوری۔ تقدیر کے ہاتھوں میں مسخر اور یہ سارا نظام ربّانی ہے ‘ رحاونی ہے ‘ باہم تصادم نہیں ‘ ٹکراؤ نہیں۔ توافق ہے شر واقعی نہیں ‘ خیر مجسم ہے سورج کی روشنی اور گرمی ‘ چاند کی تابانی اور خنکی ‘ آسمانوں کی علوی فیاضی اور زمین کی راحت بخش سطحیت اور انسان کا جسمانی اور عقلی توازن و اعتدال اور فجور و اطاعت کا اختیار موجب شکر ہے اتنی وجود اور بقائی نعمتوں کا کفران حرام ہے۔ اس مرتبہ پر پہنچ کر قوت عملیہ کا تزکیۂ کامل ہوجاتا ہے۔ پس فلاح یاب ہے وہ شخص جس نے نفس کو پاک کرلیا اور خسران مآب ہے وہ بدنصیب جس نے نفس کو گندہ کرلیا۔ 12 فی التُّرابِ ۔ یا اس کو مٹی میں چھپا دے۔ آیت میں ہلاک کرنا مراد ہے کیونکہ ہلاک کرنا اخفاء کو مستلزم ہے۔
Ayah 91:11

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

(قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر کو) جھٹلایا

کذبت ثمود بطغوٰھا . یہاں سے سورت کے ختم تک خاب کی تاکید معنوی ہے۔ کذبت کا مفعول محذوف ہے (یعنی حضرت صالح کی نبوت اور ہدایت) بطغواھا میں بَا سببی ہے یعنی ثمود کی قوم چونکہ کفر کی آخری حد سے آگے بڑھ چکی تھی ‘ اس لیے اس نے حضرت صالح کے پیام توحید و نبوت کی تکذیب کی۔ حضرت صالح نے قوم سے فرمایا تھا : اِنِّیْ لَکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ فَاتَّقُوا اللہ وَاَطِیْعُوْنِ ۔ مگر قوم والوں نے جواب دیا : مَا اَنْتَ الاَّ بَشَرٌ مَّثْلُنَا فَاْتِ بِاٰیَۃٍ اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ قوم والوں نے نشان صداقت کے طور پر ایک معین پتھر سے دس ماہہ گابھن اونٹنی کو برآمد کرنے کی بھی خواہش کی تھی اور حضرت صالح کی دعا سے اونٹنی پتھر کے اندر سے برآمد بھی ہوگئی تھی اور فوراً اس کے پیٹ سے اسی جیسا بچہ بھی پیدا ہوگیا تھا اور چونکہ (غیبی) اونٹنی سب (جانوروں کا) پانی پی جاتی تھی۔ اس لیے حضرت صالح نے اس کے لیے پانی کا ایک حصہ مقرر کردیا تھا (تاکہ دوسرے جانور پیاسے نہ مریں) اور فرمایا تھا : ایک دن کا پانی اس اونٹنی کا حصہ ہے اور دوسرے دن کا پانی تمہارے جانوروں کے لیے ہے۔ کافروں (کو یہ تقسیم ناگوار ہوئی اور انہوں) نے اونٹنی کو قتل کر ڈالنے کا ارادہ کرلیا تاکہ پورا پانی انہی کے جانوروں کو مل جائے۔
Ayah 91:12

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا

اذا نبعث اشقھا . یعنی ثمود نے (عملی) تکذیب اس وقت کی جب ان میں سے سب سے بڑا بدبخت اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔ انبعاث کا معنی ہے تعمیل امر کے لیے جلد تیار ہوجانا۔ قتل کا مشورہ قوم والوں نے دیا تھا ‘ اللہ نے خود فرمایا ہے : فتادوا اصاحبھم ......۔ اس شخص کا نام قذار بن سالف تھا۔ اس کا رنگ سرخ ‘ آنکھیں نیلی اور قد چھوٹا تھا اور چونکہ دوسروں نے صرف مشورہ دیا تھا اور یہ قتل کا ذمہ دار بن گیا اس لیے اس کی بدبختی دوسروں سے بڑھ گئی۔ بخاری (رح) نے حضرت عبداللہ ؓ بن زمعہ کی خود شنید روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دوران خطبہ میں ناقہ کا اور اس کو قتل کرنے والے کا تذکرہ کیا اور فرمایا : اذا نبعث اشقٰھا۔ اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے ایک صاحب عزم جو اپنے لوگوں میں باعزت تھا ‘ اٹھا جیسے ابو زمعہ۔ حضرت ابن عمر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لوگوں میں سب سے بڑا بدبخت ناقۂ ثمود کی کونچیں کاٹنے والا اور آدم کا وہ بیٹا تھا جس نے اپنے بھائی کو قتل کیا تھا۔ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ نکالا ‘ اس لیے روئے زمین پر جو خون بہایا جائے گا اس (کے عذاب) کا ایک حصہ اس کو پہنچے گا۔ (رواہ الطبرانی والحاکم و ابو نعیم فی الحلیۃ بسند صحیح)
Ayah 91:13

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے عذر کرو

فقال لھم رسول اللہ . پس ان سے اللہ تعالیٰ کے رسول یعنی حضرت صالح نے فرمایا۔ ناقۃ اللہ . اللہ کی (غیبی) اونٹنی کو چھوڑ دو اور اس کو قتل کرنے سے ڈرو۔ اللہ کی طرف ناقہ کی اضافت سے اونٹنی کی عظمت کو ظاہر کرنا اور سخت ڈرانا مقصود ہے۔ و سقیھا . اور اونٹنی کے پانی پینے سے بھی تعرض نہ کرو۔ پانی پر سے اس کو واپس نہ کرو اور دکھ پہنچانے کے لیے اس کو ہاتھ بھی نہ لگاؤ ورنہ عذاب عظیم میں گرفتار ہوجاؤ گے۔
Ayah 91:14

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کےگناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کر دیا

فکذبوہ . لیکن حضرت صالح کی طرف سے عذاب کی دھمکی کو انہوں نے سچا نہ مانا۔ فعقروھا . اور سب نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں (قتل کردیا) قتل کرنے والا اگرچہ ایک ہی تھا لیکن مشورۂ قتل میں سب شریک تھے۔ اس لیے قتل کرنے کی نسبت سب کی طرف کردی۔ مقاتل نے کہا کہ قتل کرنے والے نو آدمی تھے کیونکہ اشقٰی اگرچہ اسم تفضیل واحد ہے مگر اسم تفضیل اگر مضاف ہو تو واحد بھی مراد ہوسکتی ہے اور جمع بھی۔ حضرت صالح نے فرمایا : تین روز تک تو تم زندگی سے بہرہ اندوز ہو ‘ پہلے دن صبح کو تمہارے چہرے زرد ہوجائیں گے اور دوسرے دن سرخ اور تیسرے دن سیاہ اور تین روز کے بعد تم سب ہلاک کردیئے جاؤ گے۔ فدمدم علیھم ربھم . تین روز کے بعد اللہ نے بیخ و بن سے ان کو غارت کردیا۔ مؤلف مواج نے لکھا ہے کہ دمدمۃ کا معنی ہے ‘ بیخ و بن سے اکھاڑ کر ہلاک کردینا۔ عطاء اور مقاتل نے ترجمہ کیا ہے کہ اللہ نے ان کو تباہ یعنی ہلاک کردیا۔ قاموس میں ہے۔ دمدمۃ : غصہ کرنا اور دمدم علیہ : اس سے غصہ سے کلام کیا۔ و دمدم علیھمْ کا معنی گھیر لینا اور ہر طرف سے ڈھانک لینا بھی کیا گیا ہے۔ بذنبھم . ان کے گناہ یعنی پیغمبر کی تکذیب اور اونٹنی کو قتل کرنے کی وجہ سے۔ فسھوھا . پس سب کی تباہی ایک سی کردی ‘ ہلاکت عام کردی۔ چھوٹا ‘ بڑا کوئی زندہ نہ بچا۔
Ayah 91:15

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور اس کو ان کے بدلہ لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں

ولا یخاف عقبھا . لا یخاف کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے۔ یعنی اللہ کو اس تباہی یا ثمود کی بربادی کے انجام کا کوئی اندیشہ نہ تھا کہ وہ کسی قدر رحم فرماتا (اور کسی کو زندہ چھوڑ دیتا) ۔ ضحاک ‘ کلبی اور سدی نے کہا : لا یخاف کی ضمیر اشقٰی کی طرف راجع ہے اور کلام میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے۔ اصل کلام اس طرح تھا : اذا نبعث اشقاھا ولا یخاف عقبٰھا۔ یعنی سب سے بڑا بدبخت اونٹنی کو قتل کرنے کے لیے فوری تیار ہوگیا اور اس کے نتیجہ کی طرف سے اس کو کچھ خوف نہ ہوا۔ دمدم یا انبعث کے فاعل سے یہ جملہ حال ہے اور واؤ حالیہ ہے۔ سورۃ الشمس ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ