Ayah 91:11 : وَالشَّمْسِ وَضُحٰہَا (قسم ہے سورج کی اور اس کی روشنی کی)
ضحی : جب سورج خوب چمک اٹھے اور اس کی سلطنت ہر طرف قائم ہوجائے۔
Ayah 91:22 : وَالْقَمَرِ اِذَا تَلٰھَا (اور چاند کی جب سورج سے پیچھے آوے) روشنی اور ضیاء میں اس کا پیچھا کرے یہ مہینے کے پہلے پندرہ روز میں ہوتا ہے۔ روشنی میں چاند سورج کے پیچھے آتا ہے اور اس کا نائب ہوتا ہے۔
Ayah 91:33 : وَالنَّھَارِ اِذَا جَلّٰھَا (اور دن کی جب وہ اس کو خوب روشن کر دے) جلی الشمس، سورج روشن ہوا اس کو دیکھنے والوں کے سامنے ظاہر کردیا۔ اور یہ اس وقت ہوتا ہے۔ جب دن کھل جائے اور پھیل جائے کیونکہ سورج اس وقت مکمل طور پر روشن ہوتا ہے۔
ایک قول یہ ہے :
ضمیر اندھیرے کی طرف راجع ہے نمبر 2۔ دنیا کی طرف۔ نمبر 3۔ زمین کی طرف راجع ہے اگرچہ اس کا تذکرہ نہیں ہوا۔ پھر یہ آیت اس ارشاد کی طرح ہوگی۔ وَمَا تَرَکَ عَلٰی ظَھْرِھَا مِنْ دَابَّۃ ] فاطر : 45[ یہاں بھی ھاؔ کی ضمیر ارض کی طرف ہے اگرچہ پہلے مذکور نہیں۔
Ayah 91:44 : وَالَّـیْلِ اِذَا یَغْشٰھَا (اور رات کی جب وہ اس کو چھپالے) جب رات سورج کو چھپالے اور آفاق سماء کو اندھیر کر دے۔
ایک تحقیق :
اس قسم کے مواقع میں جہاں بار بار وائو لائی گئی ہے۔ اول وائو بالاتفاق قسمیہ ہے۔ دوسری وائوبعض کے ہاں قسمیہ ہے۔ خلیل نحوی (رح) کے نزدیک وائو دوم عاطفہ ہے دلیل یہ ہے کہ قسم کا قسم پر داخل کرنا تکمیل قسم سے پہلے جائز نہیں۔ غور تو فرمائو۔ اگر تم اس کی بجائے فاء کا کلمہ لاتے یا ثمؔ لاتے تو معنی اپنی حالت پر رہتا کیونکہ یہ دونوں حروف عطف میں سے ہیں۔ اسی طرح وائو کا حکم ہے۔
جنہوں نے قسم کیلئے قرار دیا :
تو ان کی دلیل یہ ہے کہ اگر وائو عطف کی ہوتی تو دو عاملوں پر عطف ہوتا کیونکہ والیلؔ تو وائو قسم سے مجرور ہے۔ اور اذا یغشیٰ فعل مقدر کی وجہ سے منصوب ہے جو کہ اقسم ہے۔ پس اگر تم وائو کو والنھار ؔ اذا تجلی میں عطف کیلئے تسلیم کرو گے تو النھارؔ کا عطف لیل پر جر کی صورت میں ہوگا۔ اور اذا تجلّٰی کا عطف اذا یغشٰی پر نصب کی حالت کے ساتھ ہوگا۔ پس یہ تمہارے اس قول کی طرح ہوجائے گا۔ اِنَّ فی الدار زیدًا والحجرۃ عمروًا۔
جواب : اس کا جواب یہ ہے وائو قسم باء اور فعل کے قائم مقام ہے اور یہ قائم مقام ہونا اس حد تک ہے کہ اس کے ساتھ فعل کا ظاہر کرنا، جائز نہیں۔ پس گویا یہ نصب و جر کا عمل دے رہی ہے۔ اور یہ وائو اس ایک عامل کی طرح بن گئی جس کے دو عمل ہوں۔ اور قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ عامل جس کے دو عمل ہوں۔ تو جائز ہے کہ اس کے دونوں معمولوں کا عطف ایک عاطف سے کردیا جائے۔ اس پر تمام اہل نحات کا اتفاق ہے۔
مثلاً ضرب زیدٌ عمرًواوبکرٌ خالدًا پس وائو کے ساتھ آپ نصب و رفع دونوں دے رہے ہیں۔ کیونکہ وائو ضرب کے قائم مقام ہے۔ جو کہ وائو کا عامل ہے پس اس مقام پر بھی یہی حکم ہے۔
Ayah 91:55 : وَالسَّمَآئِ وَمَا بَنٰھَا (قسم ہے آسمان کی اور اس کی جس نے اس کو بنایا)
Ayah 91:66 : وَالْاَرْضِ وَمَا طَحٰہَا (اور زمین کی اور جس نے اس کو بچھایا )
Ayah 91:77 : وَنَفْسٍ وَّمَا سَوّٰھَا (اور جان کی اور جس نے اس کو درست بنایا) ان تمام میں ماؔ مصدریہ ہے ای بناء ھا وطحوھا وتسویۃ خلقھا فی احسن صورۃ۔ آسمان اور اس کے بنانے اور زمین اور اس کے بچھانے اور نفس کی تخلیق بہترین صورت میں کرنے میں) بعض کے ہاں یہ ما مصدر یہ والی صورت فالھمھاؔ میں نہیں چلتی کیونکہ عبارت میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ اس لئے صحیح وجہ اس میں یہ ہے کہ ما ؔ موصولہ ہو۔ رہا یہ سوال کہ منؔ کی بجائے ماؔ کو لایا گیا۔ تو وجہ ترجیح یہ ہے کہ اس میں وصفیت کا معنی پایا جاتا ہے۔ مَنْ میں ایسا نہیں گویا اس طرح فرمایا۔ والسماء والقادر العظیم الذی بناھا و نفس و الحکیم الباھر الحکمۃ الذی سواھا۔ قسم ہے آسمان کی اور اس عظیم قدرت والے کی جس نے اس کو بنایا اور نفس کی قسم اور اس ظاہر حکمت والی ذات کی قسم جس نے اس کو درست کیا۔
وجہ ‘ تنکیر :
نفس کو نکرہ لائے۔ کیونکہ اس سے مراد نفوس میں سے خاص نفس یعنی آدم (علیہ السلام) ہیں۔ گویا اس طرح کہا : وواحدۃ من النفوس اور نفوس میں ایک نفس کی قسم۔ نمبر 2۔ نفس سے ہر نفس مراد ہے۔ اور تنکیر کثرت کو ظاہر کرنے کیلئے لائے۔ جیسا اس آیت میں علمت نفس ] التکویر : 14[
Ayah 91:88 : فَاَلْھَمَھَا فُجُوْرَھَا وَتَقْوٰھَا (پھر اس کو بدکرداری اور پرہیزگاری کا القاء کیا) اس کو طاعت و معصیت بتلا دی۔ یعنی سمجھا دی کہ ان میں سے ایک حسن اور دوسری قبیح ہے۔
Ayah 91:99 : قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (یقینا وہ مراد کو پہنچا جس نے اس کو پاک کرلیا) یہ جواب قسم ہے تقدیر کلام یہ ہے : لقد افلح۔
قول الزجاج :
کلام کی طوالت لام کا عوض بن گئی۔
ایک قول یہ ہے :
جواب قسم محذوف ہے۔ یہی قول اظہر ہے۔ اس کی تقدیر اس طرح ہے لیُدَمْدِمَنّ اللہ علیہم اہل مکہ پر اللہ تعالیٰ تکذیب رسول کی وجہ سے تباہ کن عذاب نازل فرمائیں گے۔ جیسا کہ ثمود پر تکذیب ِصالح (علیہ السلام) کی وجہ سے اترا۔
حل کلام :
قدافلح یہ کلام فالہمہا کے تابع ہے۔ اور بطور استطراد لایا گیا ہے جواب قسم سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ من ؔ زکّٰھا جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا اور اس کی درستی کردی اور پاکیزگی والا بنادیا۔
Ayah 91:1010 : وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰہَا (نامراد ہوا جس نے اس کو دبادیا) اللہ تعالیٰ نے اس کو گمراہ کردیا۔
قولِ عکرمہ :
وہ نفس کامیاب ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا۔ اور وہ نفس رسوا ہوا جس کو اس نے گمراہ کردیا۔ یہ جائز ہے کہ نفس کو ملوث کرنے اور پاک کرنے کی نسبت بندے کی طرف کی جائے اور فعل عبد قرار دیا جائے۔ التدسیۃؔ کمی، کو تاہی، مخفی گناہ کرنا۔ دَسَّ اصل میں دسس ہے۔ یا توسین مکررہ کے بدلے میں لائے گئی ہے۔ پس دَسّٰی بن گیا۔
Ayah 91:11قوم ثمود کی سرکشی :
1 1 : کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰھَآ (قوم ثمود نے اپنی شرارت کی وجہ سے تکذیب کی) طغویٰ بمعنی طغیان کیونکہ ان کو ان کی سرکشی نے تکذیب پر آمادہ کیا تھا۔
Ayah 91:1212 : اِذِا نْچبَعَثَ اَشْقٰھَا (جب کہ اس قوم میں جو سب سے بڑا بدبخت تھا اٹھ کھڑا ہوا) انبعثؔ اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کیلئے کھڑا ہوا۔ اشقیٰ ثمود کے بدبخت کا نام قدار بن سالف تھا۔ اس کا رنگ زرد، نیلا، قد چھوٹا۔
نحو : اذا یہ کذّبَتْ کی وجہ سے منصوب ہے۔ نمبر 2۔ بطغوٰی کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 91:1313 : فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ (تو ان لوگوں سے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر نے فرمایا) رسول اللہ سے صالح (علیہ السلام) مراد ہیں۔ نَاقَۃَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی اونٹنی سے خبر دار رہنا)
نحو : یہ تحذیر کی وجہ سے منصوب ہے اے احذروا عقرھا۔ اس کی کونچیں کاٹنے سے خبردار رہو۔
وَسُقْیٰھَا (اور اس کے پانی پینے سے) یہ اسی طرح ہے جیسے کہتے ہیں الاسد الاسد۔
نحو : سابقہ فعل پر عطف کی وجہ سے منصوب ہے۔
Ayah 91:1414 : فَکَذَّبُوْہُ (پس انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا) اس بات میں جس میں ان کو ڈرایا گیا۔ کہ اگر تم یہ کر ڈالوگے۔ تو عذاب اتر پڑے گا۔ فَعَقَرُوْھَا (پھر اس اونٹنی کو مارڈالا)
نحو : ھاؔ کی ضمیر اونٹنی کی طرف راجع ہے۔ اور فعل کی نسبت تمام قوم کی طرف کی گئی حالانکہ قاتل تو ایک تھا۔ اس کی نظیر دوسری آیت میں ہے۔ فنا دوا صاحبھم فتعاطی فعقر ] القمر : 29[ تو اس آیت نے بتلا دیا کہ اس میں ان تمام کی رضا مندی شامل تھی اس لئے نسبت فعل تمام کی طرف درست ہے۔ فَدَمْدَمَ عَلَیْھِمْ رَبُّھُمْ (تو ان کے رب نے ان پر ہلاکت نازل فرمائی) ان کو بالکل ملیا میٹ کردیا۔ بِذَنْچبِہِمْ (ان کے گناہ کے سبب) ان کے اپنے گناہ کے سبب وہ گناہ تکذیب پیغمبر اور اونٹنی کا ہلاک کرنا وغیرہ تھے۔
ہلاکت ِثمود :
فَسَوّٰھَا (پھر اس کو عام کردیا) ان پر ہلاکت کو عام کردیا کہ ان میں سے ایک بھی چھوٹا بڑا بچ نہ سکا۔
Ayah 91:15اسے انجام کا خطرہ نہ ہوا :
15 : وَلَا یَخَافُ عُقْبٰھَا ( اور اللہ تعالیٰ کو اس ہلاکت کے اخیر میں کسی خرابی کا اندیشہ نہیں ہوا) اللہ تعالیٰ کو اس ہلاکت والے کام کے انجام کا کوئی اندیشہ نہ تھا۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اس اندیشہ کے بغیر کہ کسی کی طرف سے کوئی خرابی اس کو پہنچ جائے گی۔ جیسا کہ کوئی بادشاہ کسی کو سزا دے تو اس کی طرف سے ہر وقت اس کو خطرہ لگا رہتا ہے۔ کہ کہیں بدلے کیلئے نہ اٹھ کھڑا ہو اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ اپنی ملک اور ملک میں کیا لا یُسْئَلُ عَمَّا یَفْعَلُ وَھُمْ یُسْئَلوْنَ ] الانبیاء : 23[ اس سے کون پوچھ سکتا ہے۔ کہ یہ کیوں کیا۔ وہ تمام سے پوچھ سکتا ہے کہ یہ کیوں کیا۔
قراءت : مدنی و شامی نے ولا یخاف کی بجائے فلا یخاف پڑھا ہے۔