Ayah 92:11 : وَالَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی (قسم ہے رات کی جبکہ وہ چھپالے) نمبر 1۔ جس کو چھپایا گیا وہ یا تو سورج ہے جیسا اس ارشاد میں : والیل اذا یغشٰھا ] الشمس : 4[ نمبر 2۔ دن جیسا اس آیت میں فرمایا یُغْشِی الَّیْلَ النَّھَار ] الاعراف : 54[ نمبر 3۔ ہر چیز جس کو رات اپنے اندھیرے سے چھپالے جیسا اس ارشاد میں ہے۔ اذا وقب ] الفلق : 3 [۔
Ayah 92:22 : وَالنَّھَارِ اِذَا تَجَلّٰی (قسم ہے دن کی جبکہ وہ روشن ہوجائے) ظلمت لیل کے زائل ہونے سے ظاہر ہوجائے۔
Ayah 92:33 : وَمَا خَلَقَ الذَّکَرَ وَالْاُنْثٰٓی (اور اس کی جس نے نر و مادہ کو پیدا کیا) وہ عظیم قدرت والا جس نے مرد و عورت کو ایک پانی سے پیدا فرمایا۔
Ayah 92:44 : اِنَّ سَعْیَکُمْ لَشَتّٰی (بیشک تمہاری کوششیں مختلف ہیں)
نحو : یہ جواب قسم ہے۔
بلا شبہ تمہاری کوششیں مختلف ہیں۔ اس اختلاف کی وضاحت اگلی آیات میں آرہی ہے۔
Ayah 92:55 : فَاَمَّامَنْ اَعْطٰی وَاتَّقٰی (پس جس نے دیا اور اللہ سے ڈرا) اعطیٰ : مال کے حقوق ادا کیے۔ اتقی : اپنے رب سے ڈرا اور اس کے محرمات سے پرہیز کیا۔
Ayah 92:6الحسنیٰ اسلام ہے :
6 : وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰی (اور اچھی بات کو اچھا سمجھا) ملت حسنی یعنی ملت اسلام کو اختیار کیا۔ نمبر 2۔ اچھے ثواب کو مانا۔ وہ اچھا ثواب جنت یا کلمہ لا الٰہ الا اللہ ہے۔
Ayah 92:77 : فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْیُسْرٰی (تو ہم اس کو راحت کی چیز کیلئے سامان دے دیں گے) پس ہم اس کو آسانی کی خصلت کیلئے سہولت دیں گے اور وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ عمل اختیار کرنا ہے۔
Ayah 92:88 : وَاَمَّا مَنْم بَخِلَ (اور جس نے بخل کیا) اپنے مال کے سلسلہ میں وَاسْتَغْنٰی (اور بےپرواہی اختیار کی) اپنے رب سے اور تقویٰ اختیار نہ کیا۔ نمبر 2۔ آخرت کی نعمتوں سے دنیا کی شہوات کے ذریعہ بےنیازی اختیار کی۔
Ayah 92:99 : وَکَذَّبَ بِالْحُسْنٰی (اور اچھی بات کو جھٹلا دیا) الحسنی سے اسلام یا جنت مراد ہے۔
Ayah 92:10طاعت گزار :
10 : فَسَنُیَسِّرُہٗ لِلْعُسْرٰی (ہم اس کو تکلیف کی چیز کیلئے سامان دے دیں گے) ایسی خصلت کیلئے جو بالآخر آگ میں پہنچانے والی ہے۔ پس اس کے لئے طاعت سب سے زیادہ مشکل اور گراں بار ہوگی نمبر 2۔ طریقہ خیر کو یُسرٰی فرمایا کیونکہ اس کا انجام سہولت ہے۔ اور طریقہ شر کو تنگی فرمایا اس لئے کہ اس کا انجام تنگی ہے یا ان دونوں کو بول کر جنت و دوزخ کے راستے مراد لیے گئے ہیں۔
Ayah 92:1111 : وَمَا یُغْنِیْ عَنْہُ مَالُہٗ اِذَا تَرَدّٰی (اور اس کا مال اس کے کام نہ آئے گا۔ جب وہ برباد ہونے لگے گا) جب وہ ہلاک ہوگا تو مال اس کو فائدہ نہ دے گا۔ تَردّی۔ یہ تفعل کا وزن ہے اور الردٰی سے نکلا ہے جس کا معنی ہلاکت ہے۔ تردی فی القبرہ : وہ قبر میں گرے گا یا قعر جہنم میں گرے گا۔
Ayah 92:1212 : اِنَّ عَلَیْنَالَلْھُدٰی (واقعی ہمارے ذمہ راستہ کا بتلا دینا ہے) حق کی طرف راہنمائی ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کے لئے دلائل قائم کردیتے اور دیے ہیں۔ اور شرائع کے ذریعہ وضاحت کردی ہے۔
Ayah 92:1313 : وَاِنَّ لَنَالَلْاٰخِرَۃَ وَالْاُوْلٰی (اور ہمارے ہی قبضہ میں آخرت اور دنیا ہے) پس گمراہ ہونے والے کی گمراہی ہمیں نقصان نہ دے گی اور ہدایت پانے والے کی ہدایت سے ہمیں فائدہ نہ ہوگا۔ یا دنیا و آخرت دونوں ہماری ہیں۔ جس نے دونوں کو ہمارے
سوا اور سے طلب کیا اس نے غلط راستہ اپنا لیا۔
Ayah 92:1414 : فَاَنْذَرْتُکُمْ نَارًا تَلَظّٰی (تو میں تم کو ایک بھڑکتی آگ سے ڈرا چکا ہوں) انذرت۔ ڈرانے کے معنی میں اور تلظٰی شعلہ زن۔
Ayah 92:1515 : لَایَصْلٰھَآ اِلَّا الْاَشْقَی (اس میں وہی بدبخت داخل ہوگا) لایصلٰی سے یہاں ہمیشہ رہنے کیلئے داخل ہونا مراد ہے۔
Ayah 92:1616 : الَّذِیْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی (جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی) اس سے مراد کافر ہے جس نے رسول کی تکذیب کی اور ایمان سے اعراض کیا۔
Ayah 92:1717 : وَسَیُجَنَّبُھَاالْاَتْقَی (اور اس سے ایسا شخص دور رکھا جائے گا) جو بڑا پرہیز گار ہے یجنب اس سے دور رکھا جائے گا۔ الاتقٰی مؤمن۔
Ayah 92:1818 : الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی (جو اپنامال اس غرض سے دیتا ہے کہ پاک ہوجائے) مال فقراء پر خرچ کرتا ہے۔ یتزکیّٰ یہ الزکاۃ سے ہے وہ اس بات کا طالب ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے لئے پاکیزگی کا ذریعہ بن جائے وہ مال کو خرچ کرنے سے ریاء و شہرت جیسی چیزوں کا خواہاں نہیں۔ نمبر 2۔ وہ زکوٰۃ ادا کرتا ہے۔
نحو : اگر یوتٰی سے بدل بنائیں تو یتزکٰی کا کوئی محل اعراب نہیں کیونکہ یہ اس صورت میں صلہ کے تحت داخل ہوگا اور صلات کا کوئی محل واعراب نہیں ہوتا۔ نمبر 2۔ اگر یوتیؔ کی ضمیر سے حال بنایا جائے تو پھر یہ محلاً منصوب ہے۔
قولِ ابو عبیدہ :
الاشقی یہ شقی کے معنی میں ہے۔ اور وہ کافر ہے۔ اور الاتقٰی بمعنی التقی ہے اور وہ مومن ہے۔ کیونکہ جہنم میں داخلے کے ساتھ مخصوص ہے اشقی الاشقیاء۔ نجات کیلئے اتقی الاتقیاء خاص نہیں۔ اگر تمہارے خیال میں نارؔ کو نکرہ لا کر مخصوص نار کا ارادہ کیا گیا۔ جو الاشقی کے ساتھ مخصوص ہے۔ تو پھر اس ارشاد کا کیا مطلب ہوگا۔ وسیجنبھا الاتقی کیونکہ متقی بھی اس مخصوص آگ سے بچالیا جائے گا الاتقی کا بچنا خاص نہیں۔ پس اتقی سے متقی مراد ہوگا۔ فافہم۔
ایک قول یہ ہے :
کہ آیت مشرکین میں سے بڑے مشرکوں اور مؤمنوں میں سے بڑے مؤمنوں کے درمیان موازنہ کررہی ہے۔ اس لئے دونوں کی صفات میں مبالغہ کے صیغے لائے گئے اس لئے اشقی فرما کر اس کو آگ میں داخلے کے ساتھ مختص کردیا۔ گویا خالص آگ اسی کیلئے بنی ہے۔ اور دوسری طرف الاتقیؔ فرمایا اور نجات کو اس کے ساتھ مختص کردیا۔ گویا جنت اسی کیلئے بنی ہے۔
ایک اور قول :
الا شقی ابو جہل اور الاتقی ابو بکرؓ۔
ایک استدلال :
اس آیت سے مرجئہ کے اس خیال کی تردید ہو رہی ہے کہ آگ میں صرف کافر داخل ہونگے۔
Ayah 92:1919 : وَمَا لِاَحَدٍ عِنْدَہٗ مِنْ نِّعْمَۃٍ تُجْزٰٓی (اور اس کے ذمہ کسی کا احسان نہ تھا۔ کہ اس کا بدلہ اتارتا ہو)
Ayah 92:2020 : اِلَّا ابْتِغَآ ئَ وَجْہِ رَبِّہِ الْاَعْلٰی (مگر سوائے اپنے عالی شان پروردگار کی رضاجوئی کے) ای مالاحدٍ عند اللہ نعمۃ یجازیہ بھا الا ان یفعل فعلاً یبتغی بہٖ وجہ ربہٖ فیجازی علیہ۔ یعنی کسی کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کوئی احسان نہیں کہ جس کا وہ بدلہ دیتا ہو مگر وہ چاہتا ہے کہ یہ بندہ ایسا فعل کرے جس سے وہ رب کی رضا مندی پالے۔ الْاَعْلٰی : بلند۔ وہ اپنی سلطنت کے اعتبار سے بلند وبالا ہے۔ اپنی برھان و شان میں منزہ ہے۔ اس سے مکان کی بلندی مراد نہیں کیونکہ وہ تو حدوث کی علامت ہے۔ اور اس کی ذات قدیم ہے۔
Ayah 92:2121 : وَلَسَوْفَ یَرْضٰی (یہ شخص عنقریب خوش ہوجائے گا) اس میں اس ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے جو اس کو راضی اور اس کی آنکھوں کو ٹھنڈک بخشے گا اور یہ اس ارشاد الٰہی کی طرح ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو فرمایا۔ وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ فَتَرْضٰی ] الضحٰی : 5[