Ayah 93:11 : وَالضُّحٰی (اور قسم ہے دن کی روشنی کی) اس سے مراد چاشت کا وقت ہے اور وہ دن کا ابتدائی حصہ ہے۔ جبکہ سورج خوب بلندہو۔
وجہ تخصیص :
چاشت کے وقت کو قسم کیلئے خاص اس لئے فرمایا کیونکہ یہ وہ گھڑی ہے جس میں موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام فرمایا اور اسی میں جادو گر سجدہ ریز کئے گئے۔ نمبر 2۔ چاشت بول کر تمام دن مراد ہے۔ کیونکہ مقابلہ میں وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی ہے۔
Ayah 93:22 : وَالَّیْلِ اِذَا سَجٰی (اور رات کی جبکہ وہ قرار پکڑنے) سجیؔ سکن : ٹھہرنا، قرار پکڑنا، مرادلوگوں اور آوازوں کا سکون پکڑنا ہے۔
Ayah 93:3نہ چھوڑا نہ ناراض ہوا :
3 : مَا وَدَّعَکَ رَبُّکَ وَمَا قَلٰی (اور آپ کے پروردگار نے نہ آپ کو چھوڑا اور نہ دشمنی کی) قلٰیؔ یعنی آپ کو جب سے چنا آپ کو چھوڑا نہیں اور جب سے محبوب بنایا آپ سے ناراض نہیں ہوا۔ التودیعؔ الودع کا مبالغہ ہے۔ کیونکہ جو آدمی جدائی اختیار کر کے چھوڑتا ہے وہ چھوڑ نے میں انتہاء کرنے والا ہوتا ہے۔
روایت میں ہے کچھ دنوں تک وحی آپ ﷺ پر نہ اتری۔ تو مشرکین کہنے لگے۔ محمد ﷺ کو اس کے رب نے چھوڑ دیا۔ اور اس سے ناراض ہوگیا پس یہ آیت اتری۔ (ابن مردویہ بحوالہ کشاف 4/766)
قلٰی کے ساتھ ضمیر کو حذف کردیا۔ جیسا کہ الذاکرات سے ضمیر کو اس آیت میں حذف کردیا۔ والذاکرین اللہ کثیرًا والذاکرات ] الاحزاب : 35[ مراد الذاکراتہٗ اور اسکی مثل فٰاوی فھدی اور فاغنٰی ہیں۔ یہ اختصار لفظی ہے تاکہ محذوف ظاہرہو۔
Ayah 93:44 : وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی (اور آخرت آپ کے لئے دنیا سے بدرجہا بہتر ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے آخرت میں جو مقام محمود تیار کر رکھا ہے اور حوض کوثر اور وہ بھلائی جس کا اللہ تعالیٰ نے وعدہ کر رکھا ہے وہ اس سے بہت بہتر ہے جو آپ کو دنیا میں پسند ہے۔
ایک قول یہ ہے :
ماقبل سے اس کا ربط یہ ہے کہ چھوڑنے اور ناراض ہونے کی نفی کے ضمن میں وحی کے ذریعہ آپ سے تعلق جوڑنے والا ہے۔ اور آپ حبیب اللہ ہیں۔ اور آپ خیال فرماتے ہیں کہ یہ سب سے بڑی عظمت ہے۔ اس آیت میں خبردی کہ آپ کا حال آخرت میں اس سے بڑھ کر ہے۔ آپ ﷺ کو انبیاء (علیہم السلام) سے آگے بڑھایا جائے گا۔ اور آپ کی امت کو تمام امتوں پر شہادت اور پھر اپنی امت پر آپ کو شہید بنایا جائے گا وغیر ذلک۔
Ayah 93:55 : وَلَسَوْفَ یُعْطِیْکَ رَبُّکَ (اور عنقریب اللہ تعالیٰ آپ کو دے گا) آخرت کا ثواب اور مقام شفاعت وغیرہ ذلک فَتَرْضٰی (پس آپ خوش ہوجائیں گے) جب یہ آیت نازل ہوئی۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا میں اس وقت بالکل راضی نہ ہونگا۔ جب تک کہ میری امت کا ایک آدمی بھی نار میں ہوگا۔ ] رواہ الخطیب فی تلخیص المتشابہ [
نحو : سوف پر داخل ہونے والا لام لام ابتدائیہ ہے جو مضمون جملہ کی تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔ مبتدأ محذوف ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے : ولانت سوف یعطیک اور لا اقسم کو جنہوں نے لأقسم پڑھا ہے۔ اس کے لام کو بھی ابتدائیہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ اس کا معنی لأنا اقسم اور اس طرح ماننے کی ضرورت اس لئے ہوئی کہ جب لام قسمیہ ہو تو اس کا لام مضارع پر نون تاکید کے ساتھ داخل ہوتا ہے۔ پس نتیجتاً یہ بات متعین ہوگئی کہ یہ لام ابتدائیہ ہے۔ اور یہ لام ابتدائیہ مبتدأ اور خبر پر بھی داخل ہوتا ہے۔ پس مبتدأ و خبر کو مقدر ماننا ضروری ہے۔ جیسا ہم ذکر کرچکے۔ صاحب کشاف نے اسی طرح بیان کیا ہے۔
صاحب کشف کا قول :
یہ لام قسم ہے اور یہاں نون تاکید کی چنداں حاجت نہیں۔ کیونکہ نون تاکید تو اس لئے لاتے ہیں۔ تاکہ یہ ظاہر کیا جائے کہ یہ لام لام قسم ہے لام ابتداء نہیں۔ اور یہ بات جانی پہچانی ہے کہ یہ ابتداء کیلئے نہیں کیونکہ سوف پر داخل ہو رہا ہے۔ اور لام ابتدائیہ سوف پر نہیں آسکتا۔ انہوں نے یہ بھی ذکر کیا کہ یہاں تاکید و تاخیر کے دونوں حروف جمع کر کے ظاہر کردیا۔ کہ عطاء ہر صورت میں ہوگی یہ ناممکن ہے۔ کہ عطاء نہ ہو خواہ تاخیر سے ہو۔
Ayah 93:6یتیمی میں سہارا :
6 : پھر آپ پر کیے جانے والے احسانات کو اولین حالت سے شمار کیا۔ تاکہ آئندہ کو گزشتہ پر قیاس کرلیا جائے اور زیادت خیر اور حسنیٰ کے سوا اور کسی بات کی توقع نہ ہو۔ اور دل بھی تنگ نہ ہو۔ اور صبر میں کمی نہ آئے۔ پس فرمایا : اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی (کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو یتیم نہیں پایا پھر ٹھکانہ دیا) یجدک اس وجود سے بنا ہے جو العلم کے معنی میں آتا ہے۔ اور دونوں منصوب مفعول ہیں۔ معنی یہ ہے کیا آپ اس وقت یتیم نہ تھے جب آپ کے والدین فوت ہوگئے۔ فَاٰوٰی ( پھر ٹھکانہ دیا) پس اس نے ( پہلے دادا) پھر آپ کے چچا ابو طالب کے ہاں ٹھکانہ دیا) اس کے ساتھ ملا دیا یہاں تک اس نے آپ کی کفالت کی اور پالا۔
Ayah 93:77 : وَوَجَدَکَ ضَآلًّا فَھَدٰی (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو بیخبر پایا پس رستہ بتلایا) آپ کو معالم نبوت کی خبر نہ تھی۔ اور احکام شریعت نہ جانتے تھے۔ اور یہ کہ فرمانبرداری کا کیا طریقہ ہے۔
طریقہ فرمانبرداری سکھایا :
فھدیؔ : پس اس نے احکامات سکھا دیئے اور قرآن کا علم دے دیا۔
ایک قول :
جب ابو طالب کے ساتھ شام کا سفر کیا تو راستہ میں آپ راستہ بھول گئے آپ کو قافلہ کی طرف واپس کردیا۔
تنبیہ :
اس سے عدول عن الحق کا مفہوم لینا جائز نہیں اور گمراہی میں پڑنا مراد لینا درست نہیں۔ آپ ﷺ ابتدائی حالت سے نزول وحی تک عبادت اوثان سے معصوم تھے۔ اسی طرح اہل فسق و گناہ کی گندگیوں سے محفوظ ومامون تھے۔
Ayah 93:88 : وَوَجَدَکَ عَآ ئِلًا فَاَغْنٰی (اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نادار پایا پس مالدار بنادیا) عائل : نادار فَاَغْنٰی خدیجہ ؓ کے مال سے غنی کردیا۔ نمبر 2۔ غنائم کے مال سے غنی کردیا۔
Ayah 93:99 : فَاَمَّا الْیَتِیْمَ فَلاَ تَقْھَرْ (تو آپ یتیم پر سختی نہ کیجئے) اس کی کمزوری کی وجہ سے اس کے حق اور مال پر غالب مت آئو۔
Ayah 93:1010 : وَاَمَّا السَّآ ئِلَ فَـلَا تَنْھَرْ (اور سائل کو مت جھڑکیے) نہ ڈانٹیں پس تھوڑا خرچ کردیں یا اچھے انداز سے واپس لوٹا دیں۔
بقول سدی :
مراد اس سے طالب علم ہے کہ جب وہ آپ کے پاس آجائے تو مت جھڑکیں۔
Ayah 93:1111 : وَاَمَّا بِنِعْمَۃِ رَبِّکَ فَحَدِّثْ (اور اپنے رب کے انعامات کا تذکرہ کرتے رہا کریں) اس نبوت والے انعام کو بیان کریں جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو دے دیا اور یہ نعمتوں میں عظیم ترین نعمت ہے۔ صحیح بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تمام نعمتوں کو شامل ہے اس کے ماتحت قرآن مجید کی تعلیم اور احکامات کی تعلیم بھی شامل ہے۔