Ayah 94:1علوم و حکم کے لئے سینے کی وسعت :
1 : اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ (کیا ہم نے آپ کی خاطر آپ کا سینہ کشادہ نہیں کردیا) یہ استفہام انکاری ہے۔ انکار نفی ثبوت کو ظاہر کرتا ہے۔ گویا اس طرح فرمایا۔ شرحنا لک صدرک ہم نے آپ کا سینہ کھول دیا۔ اسی وجہ سے وضعناؔ کو معنی کا لحاظ کرتے ہوئے اسپر عطف کیا۔ یعنی ہم نے سینے کو علوم وحکم کیلئے وسیع کردیا۔ یہاں تک اس میں نبوت کی فکر اور ثقلین کی دعوت کی گنجائش پیدا ہوگئی ہم نے اس تنگی اور حرج کو زائل کردیا۔ جو عمیٰ وجہل کے ساتھ ہوتا ہے۔
قول حسن (رح) :
حکمت و علم سے بھردیا۔
Ayah 94:22 : وَوَضَعْنَا عَنْکَ وِزْرَکَ (اور ہم نے آپ پر سے آپ کا وہ بوجھ اتار دیا) نبوت کی ذمہ داری میں تخفیف کردی اور بجا آوری میں سہولت دے دی۔ ایک قول یہ ہے کہ بوجھ وہ لغزش ہے جس کو ہم معین طور پر نہیں جانتے۔ وہ افضل کو ترک کر کے فاضل کو انجام دینا ہے۔ اور انبیاء (علیہم السلام) کو اس قسم کی باتوں پر عتاب کیا جاتا ہے۔ اور وضعہؔ سے مراد اس کا معاف و درگزر کرنا۔ الوزرؔ بھاری بوجھ۔
Ayah 94:33 : الَّذِیْ اَنقَضَ ظَھْرَکَ (جس نے آپ کی کمر توڑ رکھی تھی) اس کو بوجھل کردیا یہاں تک کہ اس کے بوجھ سے تمہاری پشت میں آواز پیدا ہوگئی۔ انتقاضؔ پالان کی چرچراہٹ کی آواز۔
Ayah 94:44 : وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَکَ (اور ہم نے آپ کی خاطر آپ کا آوازہ بلند کیا) آپ کے ذکر کو اس قدر بلند کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ذکر کے ساتھ شہادت میں آپ کے ذکرکو ملا دیا۔ اسی طرح اذان، اقامت، خطبات اور تشہد اور قرآن کے بہت سے مقامات میں جیسے : اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ] المائدہ : 92[ ومن یطع اللہ ورسولہ ] النساء : 13 [ واللہ ورسولہ احق ان یرضوہٗ ] التوبہ : 62[ اور اسی طرح نام کی نسبت اپنی طرف فرمائی رسول اللہ، نبی اللہ، اور آپ کا تذکرہ پچھلی کتابوں میں کردیا۔ وغیرہ ذلک۔
لکؔ کا فائدہ :
وہ ہے جو طریقہ ابہام اور ایضاح میں جانا گیا ہے۔ کیونکہ الم نشرح لک سے یہ واضح سمجھا جاتا ہے۔ پھر صدرک کہہ کر اس کی وضاحت کی جو کہ پہلے مبہم طور پر معلوم ہوا اور اسی طرح لک ذکرک و عنک وزرک بھی۔ گویا کہیں ابہام اور کہیں ایضاح فرمائی۔
Ayah 94:55: فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (پس بیشک موجود مشکلات کے ساتھ آسانی ہے۔
Ayah 94:66: اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا (بیشک موجودہ مشکلات کے ساتھ آسانی ہے) یعنی اس سختی کے باوجود جو مشرکین کی طرف سے آپ برداشت کر رہے ہیں۔ یُسْرًا آسانی ہے میری اس پشت پناہی کی وجہ سے جو آپ ہی کو میسر ہے یہاں تک کہ آپ ان پر غالب آجائیں گے۔
ایک قول یہ ہے :
مشرکین رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو فقر کا طعنہ دیتے یہاں تک کہ آپ کے وہم میں یہ بات سبقت کرگئی کہ ان کو اہل اسلام کے فقر کی وجہ سے اسلام سے نفرت ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے آپ پر کیے جانے والے عظیم انعامات کو یاد دلایا۔ پھر فرمایا : ان مع العسر یسرًا گویا فرمایا ہم نے آپ پر جو انعامات کیے سو کیے پس فضل الٰہی سے آپ ہرگز مایوس نہ ہوں۔ اس لئے کہ وہ تنگی جس میں تم اس وقت ہو اسکے ساتھ آسانی ہے۔ اور معؔ کا لفظ استعمال فرمایا۔ تاکہ اسکے قریب ترہونے کو بتلایا دیا جائے اور مزید تسلی کا باعث ہو اور دلوں میں پختگی پیدا ہو۔ آپ ﷺ نے اس کے نزول کے موقعہ پر فرمایا : لن یغلب عسر یسرین [ رواہ الحاکم : 2/528] ( ایک تنگی دو آسانیوں پر ہرگز غالب نہیں آئے گی) کیونکہ آیت میں العسرؔ کو معرفہ لایا گیا پس یہ ایک ہی چیز ہوئی۔ قاعدہ یہ ہے کہ جب معرفہ کو دوبارہ لوٹا دیا جائے تو دوسرا معرفہ اول معرفہ کا عین ہوتا ہے یعنی دونوں ایک ہی چیز ہوتے ہیں۔ اور اسکے بر خلاف الیسرؔ کو نکرہ لا کر لوٹایا گیا۔ اور قانو ناً نکرہ کا اعادہ ہو تو دوسر انکرہ اول سے الگ اور غیر ہوتا ہے۔ حاصل معنی یہ ہوا بیشک ایک تنگی کے ساتھ دو آسانیاں ہیں۔
قول ابو معاذ :
عرب کہتے ہیں نمبر 1۔ ان مع الامیر غلامًا ان مع الامیر غلامًا پس امیر تو ایک ہی ہوتا ہے اور غلام دو مراد ہوتے ہیں۔ اور جب یہ کہیں ان مع الا میر الغلام۔ ان مع الا میر الغلام تو امیر ایک اور غلام بھی ایک مراد ہوتا ہے۔ نمبر 3۔ اور جب کہتے ہیں : ان مع امیر غلامًا ان مع امیر غلامًا تو امیر بھی دو اور غلام بھی دو سمجھے جاتے ہیں۔
( کذا فی شرح التاویلات)
Ayah 94:77: فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ (تو آپ جب فارغ ہوجایا کریں تو محنت کیا کیجئے) یعنی جب تم مخلوق کو دعوت الی اللہ دے کر فارغ ہوجائو۔ تو اپنے رب کی عبادت میں خوب کوشش کرو۔
قول ابن عباس ؓ :
جب تم اپنی نماز سے فارغ ہوجائو۔ تو دعا میں خوب کوشش کرو۔ اور اس میں اختلاف ہے کہ یہ سلام سے قبل یا سلام کے بعد دعا کا حکم ہے۔
ربط ماقبل :
ماقبل سے اس کا تعلق اس طرح ہے۔ جبکہ آپ پر گزشتہ انعامات کا شمار کیا۔ اور آئندہ کا وعدہ فرمایا تو شکر پر آمادہ کیا اور عبادت میں خوب محنت کی طرف متوجہ کیا۔ النصب محنت کرنا اس طرح ہے۔ کہ ایک دوسرے کے ساتھ ملاکر کی جائے۔ اور اپنے اوقات میں سے کوئی وقت بھی اس سے خالی نہ چھوڑا جائے۔ پس جب ایک عبادت سے فارغ ہو تو اس کے ساتھ دوسری کو ملائے۔
Ayah 94:88 : وَ اِلٰی رَبِّکَ فَارْغَبْ (اور اپنے رب ہی کی طرف تو جہ رکھیے) خصوصاً اپنی رغبت و میلان کو اسی ہی کی طرف لگا لو۔ اور اسی ہی کا فضل مانگو اور اسی ہی پر توکل کرو۔