Ayah 95:11 : وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ (اور قسم ہے انجیر کی اور زیتون کی) ان کی قسم اس لئے اٹھائی کیونکہ پھل دار درختوں میں دونوں عجیب درخت ہیں۔
جنت کا پھل :
روایت میں ہے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں ایک تھال انجیرکا لایا گیا۔ آپ نے اس میں سے کچھ تناول فرمایا اور اپنے صحابہ سے فرمایا تم کھائو ! اگر میں کہوں ! کہ کوئی پھل جنت سے آیا ہے۔ تو میں کہونگا کہ یہ ہے کیونکہ جنت کے پھل بغیر گٹھلی ہیں۔ اس کو کھایا کرو۔ بلاشبہ یہ بواسیر کو ختم کرتا ہے اور نقرس کیلئے فائدہ مند ہے۔ (رواہ ابو نعیم بسند مجہول فی الطب ص : 82) اور دوسرے ارشاد میں فرمایا بہترین مسواک زیتون ہے۔ یہ مبارک درخت سے ہے۔ منہ کو صاف ستھرا کرتی ہے۔ اور ہمک کو دور کرتی ہے (رواہ الطبرانی فی الاوسط۔ مجمع الزوائد 2/100) ایک ارشاد ہے کہ یہ میرا مسواک ہے۔ یعنی میں اسے پسند کرتا ہوں اور مجھ سے پہلے انبیاء (علیہم السلام) کا مسواک ہے۔ ( یہ سابقہ روایت مجمع کا حصہ ہے)
قول ابن عباس ؓ :
اس سے مراد تمہارا یہی انجیر اور تمہار ازیتون ہے۔ ایک اور قول یہ ہے : کہ شام کے دو پہاڑ ہیں جن پر یہ درخت اگتے ہیں۔
Ayah 95:22 : وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ (اور طور سینین کی) طور کی اضافت سینین کی طرف کی۔ طورپہاڑ اور سینین وادی ہے۔ یہ سینون، یبرون کی طرح وائو اور یاء کے ساتھ اعراب پاتا ہے یاء کو برقرار رکھتے ہوئے نون کو تینوں حرکات دیتے ہیں۔
Ayah 95:33 : وَھٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِ ( اور اس امن والے شہر کی) البلدؔ سے مکہ مکرمہ مراد ہے۔ الامینؔ یہ لیا گیا ہے امن الرجل امانۃ فھو امین۔ امن والا۔ اس کی امانت یہ ہے کہ داخل ہونے والے کی حفاظت کرتا ہے۔ جیسا امین امانت کی حفاظت کرتا ہے۔
فائدئہ قسم :
ان اشیاء کی قسم اس لئے کھائی تاکہ مبارک مقامات کے شرف کو ظاہر کیا جائے اور جو خیرو برکت اس میں انبیاء (علیہم السلام) اور اولیاء کے وجود سے ہوتی ہے۔
انجیر و زیتون کے اگنے کا مقام ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن ہجرت ہے۔ اور مسیح (علیہ السلام) کامولد و مسکن اور مقام پرورش ہے۔ الطور وہ مقام جہاں موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی اتری۔ مکہ وہ مقام جہاں اللہ تعالیٰ کا وہ گھر ہے جو ہدی للعالمین ہے اور ہمارے پیغمبر ﷺ کا مولدو منشا ٔ و مبعث ہے۔ نمبر 2۔ پہلی دو قسمیں اس لئے اٹھائی گئیں کہ پہلے دو مقام تو عیسیٰ (علیہ السلام) پر وحی اترنے کے مقام ہیں۔ اور تیسرا موسیٰ کلیم اللہ پر وحی نازل ہونے کی جگہ۔ اور چوتھا محمد ﷺ پر وحی نازل ہونے کی جگہ ہے۔
Ayah 95:4خوبصورت سانچہ :
4 : لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ (ہم نے انسان کو بہت خوبصورت سانچہ میں ڈھالا ہے)
نحو : یہ جواب قسم ہے۔ الانسان سے جنس انسان مراد ہے۔ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ اس کی شکل و صورت کو انتہائی معتدل بنایا اور اس کے اعضاء نہایت مناسب بنائے۔
Ayah 95:55 : ثُمَّ رَدَدْنٰہٗ اَسْفَلَ سَافِلِیْنَ (پھر ہم اس کو پستی کی حالت والوں سے بھی بہت نیچے کردیتے ہیں) یعنی پھر اس کے معاملے کا انجام جبکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت عظیمہ کا شکریہ ادا نہیں کیا جو نعمت اللہ تعالیٰ نے شاندارخلقت اور درست اعضاء کی صورت میں دی تھی تو ہم نے اس کو سب نیچوں سے نیچے کردیا۔ وہ پست جو خلقت و ترکیب میں اس سے نیچے ہیں وہ جہنمی لوگ ہیں۔ نمبر 2۔ اہل جہنم میں جو سب سے نیچے درجات والے ہیں ان میں شامل کردیا۔
نمبر 3۔ اس درست قامت اور حسن صورت کے بعد اس کو حسن صورت و شکل میں سب سے کم کی طرف لوٹا دیا۔ یہاں تک کہ کمرکو جھکا کر کبڑا کردیا۔ بالوں کی سیاہی کو سفیدی سے بدل ڈالا۔ جلد کو تروتازگی کے بعد خشک کردیا۔ آنکھوں اور کانوں کو بوجھل بنادیا۔ ہر چیز بدل دی۔ اب اس کی چال چھوٹے چھوٹے قدموں سے ہے اس کی آواز میں طنطنے کی بجائے ہلکا پن ہے۔ اور دبدبہ کی بجائے سٹھیانہ ہے۔
Ayah 95:66 : اِلَّا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ (لیکن جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے ان کے لئے اس قدر ثواب ہے۔ جو کبھی منقطع نہ ہوگا) یہاں فلھمؔ میں فاء کو داخل فرمایا۔ سورة انشقاق میں فاؔ کے بغیر لائے۔ تاکہ دونوں لغتوں کو جمع کردیا جائے۔ پہلی صورت میں استثناء متصل ہے اور دوسری صورت میں منقطع ہے یعنی لیکن وہ لوگ جو صالح ایمان والے بوڑھے ہیں ان کا ثواب منقطع ہونے والا نہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے جوانی میں طاعات کی ہیں۔ اور بڑھا پے میں وہ بڑھا پے کے ابتداء پر صابر و شاکر ہیں۔ اور مشقتیں اٹھا رہے ہیں اور فریضہ عبودیت پر قائم و دائم ہیں۔
Ayah 95:77 : فَمَا یُکَذِّبُکَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ (پھر کون سی چیز تم کو قیامت کے بارے میں منکر بنا رہی ہے) اس میں خطاب انسان کو بطریق التفات فرمایا گیا ہے۔
تکذیب قیامت کی کیا وجہ ؟
یعنی اس قطعی بیان کے بعد تمہاری تکذیب قیامت کا سبب کیا ہے۔ اور جزاء پر روشن دلیل آچکی پھر یہ تکذیب کیوں ؟ معنی یہ ہے۔ بلاشبہ انسان کی خلقت نطفہ سے کی گئی پھر درست کر کے انسان بنادیا گیا اور تدریجی طور پر اس کو بڑھاتے رہے۔ یہاں تک کہ مکمل و درست حدتک پہنچ گیا۔ پھر اس کو گھٹایا یہاں تک کہ ارذل عمر میں داخل ہوا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اس سے واضح دلیل اور کیا ہوگی جو ان تمام مراحل سے تخلیق انسانی کو گزار کر تکمیل تک پہنچا سکتا ہے۔ اس پر اعادہ کیا مشکل۔ پھر اے انسان تو جزاء کی کیونکرتکذیب کرتا ہے یا ہمارے رسول ﷺ کی تکذیب کیوں کرتا ہے کون تمہیں ایسی واضح دلیل کے بعد جھوٹ بولنے پر آمادہ کرتا ہے۔
نحو : مایہاں مَنْ کے معنی میں ہے۔
Ayah 95:88 : اَلَیْسَ اللّٰہُ بِاَحْکَمِ الْحٰکِمِیْنَ (کیا اللہ تعالیٰ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ہیں) اس میں کفار کو وعید سنائی گئی۔ وہ ان کے متعلق فیصلہ فرمائے گا جس کے یہ حقدار ہیں۔ الحاکمینیہ الحکم سے لیا گیا جس کا معنی فیصلہ کرنا ہے۔