Ayah 96:11 : اِقْرَاْ بِاسْمِ رَبِّکَ الَّذِیْ خَلَقَ (اے پیغمبر آپ قرآن اپنے رب کا نام لے کر پڑھا کیجئے)
قول ابن عباس ؓ و مجاہد (رح) :
یہ اترنے والی سب سے پہلی سورت ہے۔
قول جمہور رحمہم اللہ :
سب سے پہلی مکمل سورت فاتحہ اتری پھر سورة القلم۔
بِاسْمِ رَبِّکَ یہ حال ہونے کی وجہ سے محلاً منصوب ہے۔ ای اقرأ مفتحا باسم ربک پڑھ اس حال میں کہ تم اپنے رب کے نام سے شروع کرنے والے ہو۔ باسم اللہ کہو پھر پڑھو۔ الذی خلق۔ خَلَقَ کا مفعول ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ معنی یہ ہے : الذی حصل منہ الخلق۔ وہ ذات جس سے تخلیق حاصل ہوئی اور اس کو چنا اس کے سوا کوئی خالق نہیں۔ نمبر 2۔ اس کی تقدیر کلام یہ ہے : خلق کل شئی۔ وہ جس نے تمام اشیاء کو پیدا کیا اس صورت میں ہر مخلوق کو شامل ہوگا کیونکہ وہ مطلق ہے اور بعض مخلوقات اس کے اندازے میں دوسری سے اولیٰ نہیں۔
Ayah 96:2تخلیق انسانی :
2 : خَلَقَ الْاِنْسَانَ مِنْ عَلَقٍ (اور جس نے انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا) اس میں تخلیق کیلئے انسان کی تخصیص اس کے شرف کی وجہ سے ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ قرآن بھی انسان ہی کی طرف اتارا گیا ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ الذی خلق الانسان مراد لیں۔ البتہ یہ کہنا پڑے گا کہ اولاً تو مبہم طور پر ذکر کیا۔ پھر تفسیر کے ساتھ تذکرہ اس کی عظمت تخلیق کو ظاہر کرنے کیلئے اور عجائبات فطرت بتلانے کیلئے کیا مِنْ عَلَقٍ یہاں جمع لائے۔ اس طرح نہیں فرمایا۔ من علقۃٍ کیونکہ انسان معنی کے اعتبار سے جمع ہے۔
Ayah 96:33 : اِقْرَاْ وَرَبُّّکَ الْاَکْرَمُ (آپ قرآن پڑھا کیجئے اور آپ کا رب بڑا کریم ہے) ایسا کریم کہ ہر کریم سے بڑھ کر کرم میں اس کو کمال حاصل ہے۔ وہ اپنے بندوں پر انعامات برساتا ہے۔ ناشکری و انکار نعمت کے باوجود ان پر سزا اتارنے میں جلد بازی نہیں کرتا۔ گویا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سب سے بڑی کرم نوازی یہی ہے کہ وہ علمی فائدہ پہنچائے۔ اسی لئے فرمایا
Ayah 96:44 : الَّذِیْ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ (وہ جس نے قلم سے تعلیم دی) جس ذات نے لکھنا سکھایا۔
Ayah 96:55 : عَلَّمَ الْاِنْسَانَ مَالَمْ یَعْلَمْ (انسان کو ان چیزوں کی تعلیم دی جن کو وہ نہ جانتا تھا) اپنے کمال کرم سے یہ راہنمائی فرما دی کہ اس نے اپنے بندوں کو وہ کچھ سکھلا دیا۔ جو وہ نہ جانتے تھے۔
کتابت کے فائدے :
اور ان کو نور علم کی طرف جہالت کے اندھیروں سے نکال دیا۔ اس نے علم کتابت کی فضیلت پر خبردار فرمایا۔ اس لئے کہ اس میں بیشمار فوائد ہیں۔ کتابت سے پہلے علوم مدون ہوئے حکمتیں اور عبرتیں لکھی گئی۔ پہلے لوگوں کی خبریں حیطہ تحریر میں لائیں گئیں۔ کتب منزلہ بھی کتابت سے لوگوں کے ہاتھوں میں آئیں۔ اگر کتابت نہ ہوتی تو دنیا و دین کے کام ادھورے رہ جاتے۔ اللہ تعالیٰ کی دقیق حکمتوں پر اگر اور کوئی دلیل نہ بھی ہوتی تو یہی کافی تھی۔
Ayah 96:66 : کَلَّآ اِنَّ الْاِنْسَانَ لَیَطْغٰٓی (سچ مچ بیشک آدمی حد سے نکل جاتا ہے) اس میں ان کو ڈانٹ پلائی گئی۔ جو سرکشی کے باعث اس کی نعمتوں کی ناشکری اختیار کرے۔ اگرچہ تذکرہ نہیں کیونکہ کلام کی دلالت اس پر واضح ہے۔ ان الانسان سے آخر سورت تک ابوجہل کے متعلق اتری۔
Ayah 96:77 : اَنْ رَّاٰہُ اسْتَغْنٰی (اس وجہ سے کہ اپنے کو مستغنی دیکھتا ہے) اے ان رای نفسہ : یہ کہ وہ اپنے نفس کو دیکھتا ہے۔
ایک قاعدہ :
افعال قلوب میں کہتے ہیں۔ رأیتنی وعلمتنی۔ یہاں معنی رؤیت کا علم ہی ہوتا ہے اگر یہ ابصارؔ کے معنی میں ہو تو پھر اس
کے فعل میں دو ضمیروں کا اجتماع ممنوع ہوتا ہے۔ (حالانکہ یہاں دو ضمیریں موجود ہیں۔ پس یہ بصر کے معنی میں نہ ہوا)
اسْتَغْنٰی۔ نحو : یہ مفعول ثانی ہے۔
Ayah 96:88 : اِنَّ اِلٰی رَبِّکَ الرُّجْعٰی (اے مخاطب تیرے رب ہی کی طرف سب کا لوٹنا ہوگا) بطور التفات انسان کو سرکشی کے انجام سے ڈرایا گیا ہے۔ الرُّجْعٰی یہ مصدر بمعنی الرجوع ہے یعنی تم نے اپنے رب کی طرف لوٹنا ہے پس وہ تمہاری سرکشی پر تمہیں بدلہ دے گا۔
Ayah 96:99 : اَرَ ئَ یْتَ الَّذِیْ یَنْھٰی (اے مخاطب بھلا اس شخص کا حال تو بتلا جو منع کرتا ہے )
Ayah 96:1010 : عَبْدًا اِذَا صَلّٰی (ایک بندہ کو جب وہ نماز پڑھتا ہے) یعنی کیا تم نے ابو جہل کو دیکھا کہ وہ محمد ﷺ کو نماز سے منع کرتا ہے۔
Ayah 96:1111 : اَرَ ئَ یْتَ اِنْ کَانَ عَلَی الْھُدٰٓی (اے مخاطب بھلا یہ تو بتلا اگر وہ بندہ ہدایت پر ہو) یعنی اگر وہ روکنے والا سیدھے راستہ پر ہو اس بات میں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے روکتا ہے۔
Ayah 96:1212 : اَوْاَمَرَ بِالتَّقْوٰی (یا وہ تقویٰ کی تعلیم دیتا ہو) یا وہ امر بالمعروف و التقویٰ کرنے والا ہے۔ ان باتوں میں جن میں وہ بتوں کی عبادت کا حکم دیتا ہے۔ جیسا کہ اس کا اعتقاد ہے۔
Ayah 96:1313 : اَرَ ئَ یْتَ اِنْ کَذَّبَ وَتَوَلّٰی (اے مخاطب بھلا یہ تو بتلا اگر وہ شخص جھٹلاتا ہو۔ اور روگردانی کرتا ہو) یہ تو بتلا اگر وہ منع کرنے والا حق کی تکذیب کرنے والا اور اس سے منہ موڑنے والا ہو۔ جیسا کہ ہم کہہ رہے ہیں۔
Ayah 96:1414 : اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی (کیا اس شخص کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کو دیکھ رہے ہیں) اور ہدایت و ضلالت کے سلسلہ میں اس کے حالات سے باخبر ہیں۔ پس وہ اس کے حالات کے مطابق اس کو بدلہ دیں گے۔ یہ درحقیقت وعید ہے۔
نحو : الذی ینھی جملہ شرطیہ سمیت اور ایت کا مفعول ہے۔ اور جواب شرط محذوف ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : ان کان علی الھدٰی اوامر بالتقوٰی۔ الم یعلم بان اللہ یری۔ کو حذف کردیا۔ شرط ثانی کے جواب میں اس کے ذکر کی دلالت موجود ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسا تم کہو : ان اکر متک اتکرمنی ؟
ارایتؔ جو دوسری مرتبہ لایا گیا۔ وہ زائدہ ہے تاکید کیلئے لایا گیا ہے۔
Ayah 96:1515 : کَلَّا ( ہرگز نہیں) اس میں ابو جہل کو عبادت الٰہی سے روکنے پر ڈانٹ پلائی گئی ہے۔ اور اس بات پر بھی کہ وہ دوسروں کو بتوں کی عبادت کا حکم دیتا ہے۔ لَپنْ لَّمْ یَنْتَہِ (اگر یہ شخص باز نہ آوے گا) اس حرکت سے جو وہ کر رہا ہے۔ لَنَسْفَعًام بِالنَّاصِیَۃِ (تو ہم پیشانی کے بال پکڑ کر اس کو گھسیٹیں گے) ہم اس کی پیشانی کے بالوں سے پکڑیں گے اور ضرور اس کو گھسیٹیں گے آگ کی طرف۔ السفعؔ کسی چیز کو ہاتھ سے پکڑنا اور زور سے کھینچنا۔
قراءت : اور اس کی کتابت قرآن مجید میں الف کے ساتھ حکم وقف کی بناء پر ہے۔
نحو : الناصیۃ کی الف لام عہد خارجی کی ہے جو لاکر اضافت سے مستغنی کردیا۔ اس لئے کہ یہ معلوم ہے کہ اس سے مراد مذکورہ ناصیہ ہی ہے۔
Ayah 96:1616 : نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ (جھوٹی خطأ میں آلودہ پیشانی) یہ الناصیہ سے بدل ہے کیونکہ اس کی صفت کا ذبہ آرہی ہے اور دوسری صفت خاطئہ ہے اس میں کذب و خطأ کی نسبت مجازی ہے۔ یہ دونوں صاحب ناصیہ کی صفتیں ہیں۔ اور اس میں جو حسن و عمدگی ہے حقیقت میں وہ اس طرح کہنے میں کہاں ہے۔ ناصیۃ کاذب خاطی۔
Ayah 96:1717 : فَلْیَدْعُ نَادِیَہٗ (پس وہ اپنے ہم مجلسوں کو بلالے)
Ayah 96:1818 : سَنَدْعُ الزَّبَانِیَۃَ (ہم بھی دوزخ کے پیادوں کو بلا لیں گے) النادی ؔ وہ مجلس جہاں لوگ اکٹھے ہوں مراد اہل مجلس ہوتے ہیں۔
ابوجہل کا نماز سے روکنا اور اس کا جواب :
روایت میں وارد ہے کہ ابو جہل کا گزر نبی اکرم ﷺ کے پاس سے ہوا جبکہ آپ نماز ادا فرما رہے تھے۔ تو کہنے لگا کیا میں نے تمہیں نہیں روکا ؟ آپ ﷺ نے سختی سے اس کا جواب دیا۔ تو کہنے لگا کیا تم مجھے دھمکی دیتے ہو۔ میں تو اس وادی میں سب سے بڑے گروپ والا ہوں۔ پس یہ آیت نازل ہوئی۔ ] الترمذی : 3349[ الزبانیہؔ لغت میں سپاہیوں کو کہتے ہیں۔ اس کا واحد زبنیۃ ہے یہ الزبن سے نکلا ہے جس کا معنی دفع کرنا۔ دھکیلنا۔ مراد یہاں ملائکہ عذاب ہیں۔ اگر ابو جہل اپنی پارٹی کو بلاتا تو اس کو کھلے طور پر زبانیہ پکڑ لیتے۔ ] رواہ احمد : 2/370/مسلم : 2797[
Ayah 96:1919 : کَلَّا لَاتُطِعْہُ وَاسْجُدْ وَاقْتَرِبْ ( ہرگز نہیں۔ آپ اس کی بات مت مانیے اور نماز پڑھتے رہیے اور قرب حاصل کرتے رہیے) کلاؔ سے ابو جہل کو ردع کی گئی۔ لا تطعہ آپ اس کی نافرمانی پر ثابت قدم رہیں۔ جیسا دوسرے مقام پر فرمایا : فلا تطع المکذبین ] القلم : 8[۔ واسجد اور سجدے پر ہمیشگی اختیار کروسجدہ سے نماز مراد ہے۔ واقتربؔ سجود سے اپنے رب کا قرب حاصل کرو۔ بندہ سجدہ میں اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ ] رواہ مسلم : 482[ روایت اسی طرح ہے۔