91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 91:1

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی

مجاہد نے کہا : وضحٰھا سے مراد اس کی روشنی اور اس کا چمکنا ہے یہ دوسری قسم ہے۔ ضحی کو شمس کی طرف مضاف کیا کیونکہ یہ سورج کے بلند ہونے کے ساتھ ہی واقع ہوتی ہے قتادہ نے کہا : اس کی رونق۔ سدی نے کہا، اس کی گرمی۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ وضحھا کا معنی ہے اس میں روشنی روک دی اسے گرم بنادیا۔ یزیدی نے کہا، اس سے مراد اس کا پھیلنا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے مخلوقات میں سے جو چیزیں ظاہر وعیاں ہوتی ہیں تو قسم سورج اور زمین کی تمام مخلوقات کی ہوگی یہ ماوردی نے کہا : ضحا مونث ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے ارتفع الضحی، ضحا، ضحوۃ سے اوپر ہوتا ہے کبھی اسے مذکر ذکر کیا جاتا ہے جس نے اسے مونث قرار دیا ہے وہ اسے ضحوۃ کی جمع قرار دیتا ہے جس نے اسے مذکر گردانا وہ اسے فعل کے وزن پر اسم قرار دیتا ہے جس طرح، صرد اور نغر ہے یہ ظرف ہے جس طرح سحر، تو کہاتا ہے۔ لقتیہ ضحا وضحا۔ جب تو اس کے ساتھ اپنے دن کی ضحا مراد لے گا تو تو اسے تنوین نہیں دے گا۔ فراء نے کہا، ضحا سے مراد دن ہے جس طرح قتادہ کا قول ہے عربوں کے ہاں جو چیز معروف ہے کہ ضحا اس وقت کو کہتے ہیں جب سورج طلوع ہو اورا اس سے تھوڑا بعد کا وقت۔ جب دن اس سے زیادہ بلند ہوجائے تو اسے ضحاء کہتے ہیں کہ جس نے الضحا کو پورا دن قرار دیا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ سورج کی روشنی سارادن رہتی ہے جس نے کہا : اس سے مراد سورج کی روشنی اور اس کی گرمی ہے تو سورج کانور، سورج کی گرمی کے ساتھ ہی ہوتا ہے جس نے ضحی سے مراد سورج کی گرمی لی ہے اس نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کیا ہے، ولاتضحیٰ ۔ طہ) یعنی گرمی تجھے تکلیف نہ دے۔ مبرد نے کہا، ضحا اصل میں ضح ہے اس سے مراد سورج کا نور ہے الف دوسری حاء سے بدلاہوا ہے تو کہتا ہے، ضحوۃ، ضحوات علماء نے کہا، ضحوۃ میں واؤ حاء سے بدلی ہوئی ہے ضحا میں الف واؤ سے بدلاہوا ہے۔ ابوہیثم نے کہا، جح سایہ کی نقیض ہے یہ روئے زمن میں پر سورج کا نور ہے اس کی اصل ضحا ہے عربوں نے حاء کے سکون کیساتھ یاء کو ثقیل جانا اور اسے الف سے بدل دیا۔
Ayah 91:2

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے

یعنی وہ سورج کے پیچھے آئے یہ اس وجہ سے ہوتا ہے کہ جب سورج غروب ہوتا ہے تو چاند دکھائی دیتا ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : تلوت فلانا جب تو اس کی پیروی کرے۔ قتادہ نے کہا : یہ ہلال کی رات منظر ہوتا ہے جب سورج غروب ہوتا ہے تو چاند دکھائی دیتا ہے ابن زید نے کہا : جب مہینے کے نصف میں سورج غروب ہوتا ہے تو چاند طلوع کرکے اس کا پیچھا کرتا ہے اور مہینے کی آخر میں اس کے غروب کے پیچھے ہوتا ہے۔ فراء نے کہا۔ تلٰھا کا معنی ہے اس سے حصہ لیتا ہے یہ رائے قائم کی گئی ہے کہ چاند سورج کی روشنی اخذ کرتا ہے ایک قوم نے کہا : والقمر اذاتلٰھا کا معنی ہے جب وہ پورا ہوجائے تو چاند روشنی اور نور میں سورج کی مثل ہوجاتا ہے : یہ زجاج کا قول ہے۔
Ayah 91:3

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور دن کی جب اسے چمکا دے

اور قسم ہے دن کی جب وہ آفتاب کو روشن کردے یعنی اس سے پردہ ہٹا دے۔ ایک قوم کی یہ رائے ہے جب وہ تاریکی کو دور کردے اگرچہ ظلمت کا پہلے ذکر نہیں ہوا جس طرح تو کہتا ہے کہ، اضحت غداتنا باردۃ اس سے تو یہ ارادہ کرتا ہے کہ ہمارا کھانا ٹھنڈا ہوگیا : یہ فراء، کلبی اور دوسرے علماء کا قول ہے ایک قوم کا یہ نقطہ نظر ہے کہ جلٰھا میں ضمیر سورج کے لیے ہے معنی اس کا یہ ہوگا اس کی روشنی سے اس کا جسم عیاں ہوجاتا ہے اس معنی میں قیس بن خطیم کا قول ہے : تجلت لنا کا لشمس تحت غمامۃ بداحاجب منھا وضنت بحاجب۔ وہ ہمارے لیے یوں ظاہر ہوئی جس طرح سورج بادل سے ظاہر ہوتا ہے اس کا ایک آبرو ظاہر ہوا اور ایک چھپا ہوا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : زمین میں جتنے بھی حیوانات تھے سب کو ظاہر کردیا یہاں تک کہ وہ ظاہر ہوگئے کیونکہ رات کے وقت وہ چیزیں چھپ جاتی ہیں اور دن کے وقت وہ ظاہر ہوجاتی ہیں ایک قول یہ کیا گیا : وہ دنیا کو روشن کردیتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے زمین کو روشن کردے اگرچہ ان کا پہلے ذکر نہیں ہوا اس کی مثل اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : حتی توارت بالحجاب۔ ص) ۔
Ayah 91:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور رات کی جب اسے چھپالے

یعنی سورج کی ڈھانپ لے یعنی سورج غروب ہوتا ہے تو اس کی روشنی کو رات ختم کردیتی ہے یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ تاریکیوں کے ساتھ دنیا کو ڈھانپ لیتی ہے تو آفاق تاریک ہوجاتے ہیں ضمیر ایسے اسم کی طرف لوٹ رہی ہے جو پہلے مذکور نہیں۔
Ayah 91:5

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا

قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنانے والے کی جس طرح فرمایا : بماغفرلی ربی (یاسین 27) میرے رب کے بخشنے کے ساتھ، یہ قتادہ کا قول ہے۔ مبرد نے اسی کو اختیار کیا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے قسم ہے اس کی جس نے اس کو بنایا : یہ حضرت حسن بصری اور مجاہد کا قول ہے یہی طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے یعنی جس نے اسے پیدا کیا اور اسے بلند کیا وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اہل حجاز سے یہ منقول ہے کہ سبحان ماسبحتک کا معنی ہے پاک ہے وہ ذات جس کی تسبیح بیان کرتی ہے ہر چیز۔
Ayah 91:6

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور زمین کی اور اسکی جس نے اسے پھیلایا

اور زمین کی اور اس کو بچانے والے کی۔ قسم ہے زمین کی اور اس کے ہموار کرنے کی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ ما، من کے معنی میں ہے جس کا ہم نے ابھی ابھی ذکر کیا ہے یعنی جس نے اس کو پھیلایا عام مفسرین کی یہی رائے ہے کہ اس کا معنی وہی ہے جو دحاھا کا ہے۔ حضرت حسن بصری مجاہد اور دوسرے علماء کی رائے یہ ہے : طحھا اور دحاھا کا معنی ایک ہی ہے یعنی ہر جانب اسے پھیلادیا۔ طحو کا معنی پھیلانا ہے، طحا، طحوا اور طحی، یطحی، طحیا، دونوں کا معنی ایک ہی ہے۔ طحیت میں پہلو کے بل لیتا۔ یہ ابوعمرو سے مروی ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ طحاھا کا معنی ہے اسے تقسیم کردیا ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ اس کا معنی ہے اسے پیدا کیا : شاعر نے کہا : وماتدری جذیمۃ من طحاھا ولا من ساکن العرش الرفیع۔ جذیمہ نہیں جانتی کہ اسے کس نے پیدا کیا اور نہ اسے یہ پتہ ہے کہ عرش رفیع کا رہنے والا کون ہے۔ ماوری نے کہا : اس بارے میں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ اس سے مراد نباتات، چشمے اور خزانے ہوں کیونکہ جو زمین پر پیدا کیا گئے ہیں یہ ان کی حیات کا سبب ہیں۔ بعض عربوں کی قسموں میں یوں کہا جاتا ہے، لاوالقمر الطاحی یعنی وہ چاند جو جھانکنے والا روشن اور بلند ہے۔ ابوعمرو نے کہا، طحا الرجل جب وہ زمین میں دور چلاجائے یہ جملہ بولا جاتا ہے، ما ادری این طحا ؟ میں نہیں جانتاوہ کہاں چلا گیا ؟ یہ جملہ بولا جاتا ہے : طحابہ قلبہ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب ہر چیز اسے بہالے جائے۔ علقمہ نے کہا : طحابک قلب فی الحسان طروب بعید الشباب عصر حان مشیب شعر میں یہ لفظ اسی معنی میں ہے۔
Ayah 91:7

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا

اس میں مامصدریہ ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ، ما، من کے معنی میں ہے وہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہے نفس کے بارے میں دو قول ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ذات ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ ہر نفس مراد ہے سوی کا معنی تیار کرنا ہے۔ مجاہد نے کہا، سواھا، کا معنی ہے اس کی خلقت کو درست کیا ہے اور اسے متعدل بنایا۔ یہ تمام اسماء قسم کے طور پر مجرور ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات کی قسم اٹھائی کیونکہ اسمیں اس کی صنعت کے عجائب ہیں جو اس پر دلالت کرتے ہیں۔
Ayah 91:8

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی

یعنی اسے پہچان کروادی، ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہی روایت کیا ہے یعنی اسے فجور اور تقوی کے راستہ کی پہچان کرادی یہ حضرت ابن عباس کا قول ہے مجاہد نے یہ بھی کہا اے اطاعت اور معصیت کی پہچان کرادی۔ محمد بن کعب سے مروی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے میں سے کسی کے ساتھ بھلائی کی امید کرتا ہے تو اس کے دل میں بھلائی کا الہام کرتا ہے تو وہ اس پر عمل کرتا ہے اور جب اس کے بارے میں برائی کا ارادہ کرتا ہے تو اس کو برائی کا الہام کرتا ہے تو وہ اس پر عمل کرتا ہے فراء نے کہا، فالھمھا کا معنی ہے اسے خیر اور شر کے راستہ کی پہچان کرادی جس طرح فرمایا، وھدینہ النجدین۔ البلد) ہم نے اسے دونوں راستوں کی پہچان کرادی ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے مومن متقی کو تقوی کا الہام کیا اور فاجر کو فجور کا الہام کیا۔ سعید نے قتادہ سے روایت نقل کیا ہے کہ اسکے لیے فجور اور تقوی کو واضح کردیا۔ تمام معانی قریب قریب ہیں۔ حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے اس آیت کی تلاوت کی تو یوں دعا کی، اللھم آت نفس تقواھا وزکھا انت خیر من زکاھا انت ولیھا ومولاھا۔ اے اللہ، میرے نفس کو اس کا تقوی عطا فرما اسے پاک کردے تو بہترین پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا ولی اور آقا ہے۔ جویر نے ضحاک سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے کہا کہ نبی کریم جب اس آیت کی تلاوت کرتے تو اپنی آواز کو بلند کرتے پھر دعا کرتے، اللھم آت نفسی تقواھا ولیھا ومولاھا وانت خیر من زکاھا۔ اے اللہ مرے نفس کو تقوی عطا فرما اور تو اس کا ولی اور اس کا آقا ہے اور تو اسے بہترین پاک کرنے والا ہے۔ صحیح مسلم میں ابوالاسود ولی سے مروی ہے کہ مجھے عمران بن حصین نے کہا، مجھے بتائیے کہ جو لوگ اج عمل کررہے ہیں اور تگ ودو کررہے ہیں کیا یہ ایسی شے ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور اس پر تقدیر کا فیصلہ ہوچکا ہے یا جو ان کا نبی ان کے پاس لایا ہے اور ان پر حجت قائم ہوئی ہے اس پر زمانہ آئندہ میں عمل کرنے والے ہیں ؟ میں نے کہا بلکہ یہ ایسی شی ہے جس کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے اس نے کہا کیا یہ ظلم نہیں ہے۔ کہا میں اس بات سے خوف زدہ ہوں اور میں نے کہا، ہر شی اللہ تعالیٰ کی مخلوق ومملوک ہے وہ جو کچھ کرتا ہے اس سے باز پرس نہیں کی جاسکتی بلکہ لوگوں سے باز پرس کی جائے گی انہوں نے کہا، اللہ تعالیٰ تجھ پر رحم کرے جو میں نے تجھ سے سوال کیا ہے اس سے میں نے کسی چیز کا سوال نہیں کیا تھا مگر اس چیز کا کہ تیرا امتحان لوں۔ مزنیہ کے دو آدمی رسول اللہ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی یارسول اللہ بتائیے جو لوگ آج عمل کرتے ہیں اور جس کے بارے میں تگ ودو کرتے ہیں کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے تقدیر ان پر سبقت لے جاچکی ہے یا ان کا نبی جوان کے پاس لایا ہے اور ان پر حجت قائم ہوچکی ہے اس بارے میں وہ زمانہ آئندہ میں جمع کرنے والے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں بلکہ یہ ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ ہوچکا ہے اور ان میں نافذ ہوچکا ہے اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں ہے، ونفس وماسواھا، فالھمھا فجورھا وتقواھا۔ فجور اور تقوی دونوں مصدر ہیں مفعول بہ کے قائم مقام ہیں۔
Ayahs 91:9–10

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا

یہ جواب قسم ہے اور لقد افلح کے معنی میں ہے زجاج نے کہا، لام اس لیے حذف ہوا کیونکہ کلام طویل ہوچکی تھی پس اس کا طویل ہوناہی اس کا عوض بن گیا، ایک قول یہ کیا گیا جواب محذوف ہے سورج کی قسم، اس کی قسم اور اس کی قسم تمہیں ضرور اٹھایاجائے گا۔ زمخشری نے کہا، اللہ تعالیٰ اہل مکہ پر ایسا عذاب مسلط کرے گا کیونکہ انہوں نے رسول اللہ کو جھٹلایا جس طرح اس نے قوم ثمود پر عذاب کو مسلط کردیا کیونکہ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا۔ قدافلح من زکاھا۔ ایسی کلام ہے جو پہلی کلام کے تابع ہے کیونکہ، فالھمھا فجورھا وتقواھا۔ بطور استطر اومذکور ہے، یہ جواب قسم نہیں ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے بغیر حذف کے کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اس کا معنی یہ ہے تحقیق جس نے نفس کا تذکیہ کرلیا وہ کامیاب ہوگیا جس نے اس کو دبادیا وہ خائب و خاسر ہوگیا قسم ہے سورج اور اس کی روشنی کی۔ افلح۔ کا معنی کامیاب ہونا، من زکاھا، اللہ تعالیٰ نے طاعت کے ساتھ جس کے نفس کو پاک کیا۔ وقد خاب من دسھا۔ یعنی وہ نفس خسارہ میں ہوگیا جسے اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کی وجہ سے دبادیا حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ نفس خائب خاسر ہواجس کو اس نے گمراہ کردیا ایک قول یہ ہے جس نے اپنے نفس کو اللہ تعالیٰ کی طاعت اور اچھے اعمال کے ساتھ پاکیزہ کیا وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو معاصی میں دبادیا وہ خائب وخاسرہوگیا، یہ قتادہ اور دوسرے علماء کی رائے ہے زکاۃ کا اصل معنی بڑھنا اور زیادتی ہے اس معنی میں، زکاع الزرع ہے جس سے اس کی پیداوار بڑھ جائے اس معنی میں قاضی کا گواہ کا تزکیہ کرنا ہے کیونکہ قاضی اسے عادل قرار دے کر اور اچھے ذکر کے ساتھ اس کا مرتبہ بلند کردیتا ہے۔ سورة بقرہ کے آغاز میں یہ معنی مکمل گزرچکا ہے نیکی کرنے والا اور نیکی کے اعمال کی طرف جلدی کرنے والا اپنے نفس کو بلند کیا کرتا تھا عربوں میں سے سخی لوگ ٹیلوں اور بلند مقامات پر فروکش ہوتے تھے تاکہ ضرورت مندوں کے لیے ان کا مکان مشتہر ہو اور وہ مسافروں کے لیے آگ روشن کیا کرتے تھے اور کمینے لوگ غاروں، اطراف اور زیریں علاقوں میں پڑاؤ ڈالتے تاکہ ضرورت مندوں سے ان کا مکان مخفی رہے کم مروت رکھنے والا شخصیت کو چھپانے والا، معاصی کے زیادہ ہونے کی وجہ سے سر جھکائے ہوئے ہوتا ہے ایک قول یہ ہے کہ دسھا، کا معنی ہے اس کو گمراہ کرنا۔ شاعر نے کہا : وانت الذی دسیت عمرا فاصبحت حلائلہ من ارامل ضیعا۔ تو وہ ہے جس نے عمر قبیلہ کو برباد کیا تو اس کی عورتیں بیوہ اور ضائع ہوگئیں۔ اہل لغت نے کہا : اصل دسس ہے جو تدسیس سے مشتق ہے اس کا معنی کسی شی کو دوسری شے میں چھپانا ہے اس کی سین یاء میں تبدیل ہوگئی جس طرح یہ جملہ کہا جاتا ہے، قصیت اظفاری، اصل میں قصصت اظفاری تھا اس کی مثل تقضض ہے اب تقضی پڑھتے ہیں ابن اعرابی نے کہا، وقد خاب من دسھا۔ کا معنی ہے اس نے اپنے نفس کو صالحین کی جماعت میں چھپایا جب کہ وہ ان میں سے نہ تھا تو وہ خائب و خاسر ہوگیا۔
Ayahs 91:11–14

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

(قوم ثمود) نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر) کو جھٹلایا

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اسکے پانی پینے کی باری سے حذر کرو

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کے گناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کردیا

طغوی سے مراد طغیانی ہے، اس کا معنی نافرمانی میں حد سے نکل جاتا ہے، یہ مجاہد، قتادہ اور دوسرے علماء کا قول ہے حضرت ابن عباس سیمروی ہے، طغوی سیمراد وہ عذاب ہے جس کی انہیں دھمکی دی گئی ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ جو عذاب ان پر آیا تھا اس کا نام طغوی تھا، کیونکہ عذاب ان پر سرکش ہوگیا تھا، محمد بن کعب نے کہا، طغواھا کا معنی ہے سب کے سب۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ مصدر ہے اس طریقہ پر اسے اس لیے لایا گیا کیونکہ آیات کے سروں کے اعتبار سے یہ زیادہ موافق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کی اصل طغیاھا ہے مگر جب فعلی اسمی ہو تو اس کی یاء کو واؤ سے بدل دیتے ہیں تاکہ اسم اور وصف کے درمیان فرق کیا جائے، عام قراءت طاء کے فتحہ کے ساتھ ہے۔ حضرت حسن بصری، جحدری اور حماد بن سلمہ نے اسے طاء کے ضمہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ یہ مصدر ہے جس طرح رجئی، حسنی، یہ مصادر میں ان دونوں کے مشابہ ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، یہ دونوں لغتیں ہیں۔ جب اونٹنی کی کونچیں کاٹنے کے لیے ان میں سے بدبخت ترین اٹھا اس کا نام قدر بن سالف تھا اس کے بارے میں گفتگو سورة الاعراف میں گزرچکی ہے کیا وہ ایک فرد تھا یا جماعت تھی ؟ بخاری شریف میں حضرت عبداللہ بن زمعہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا اور اونٹنی اور اس کی کونچیں کاٹنے کا ذکر کیا، رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، جب اس کی کونچیں کاٹنے کے لیے ایک ایسا آدمی اٹھا جوعزیز، جابر اپنے خاندان میں طاقتور تھا جسطرح ابو زمعہ ہے۔ (1) اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ ضحاک نے حضرت علی شیر خدا سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : کیا تو جانتا ہے کہ پہلے لوگوں میں سے سب سے بدبخت کون تھا ؟ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ فرمایا، اونٹنی کی کونچیں کاٹنے والا، پوچھا، کیا تو جانتا ہے کہ بعد والوں میں کون بخت ترین ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں فرمایا، تجھے شہید کرنے والا۔ رسول اللہ سے مراد حضرت صالح (علیہ السلام) ہیں لفظ ناقہ۔ تحذیر کے قاعدہ کے مطابق منصوب ہے جس طرح تو کہتا ہے۔ الاسدالاسد، الصبی، الصبی، الحذرا الحذار۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اونٹنی کی کونچیں کاتنے سے بچو۔ ایک قول یہ کیا گیا : اللہ تعالیٰ کی اونٹنی سے بچو جس طرح اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا۔ ھذہ ناقۃ اللہ لکم ایۃ فذروھا تاکل فی ارض اللہ ولاتمسوھا بسوء فیاخذکم عذاب الیم۔ الاعراف) یہ اللہ تعالیٰ کی اونٹنی ہے جس میں تمہارے لیے نشانی ہے اسے چھوڑے رکھو اللہ تعالیٰ کی زمین میں چرتی پھرے اسے کوئی نقصان نہ پہنچاؤ کہ تمہیں عذاب الیم اپنی گرفت میں لے لے۔ اس کی باری سے بھی بچو۔ سورة الشعراء میں اس کی وضاحت گزرچکی ہے الحمدللہ۔ سورة اقتربت الساعۃ میں یہ بحث گزرچکی ہے جب انہوں نے اونٹنی کا مطالبہ کیا اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے چٹان سے نکالا اور ان کے کنویں سے ایک دن کی باری ان کے لیے مختص فرمادی اور ایک دن کی باری اس اونٹنی کے لیے معین کردی۔ یہ انداز ان کے لیے بڑا شاق گزرا۔ انہوں نے حضرت صالح (علیہ السلام) کی اس بات کی تکذیب کی اگر تم نے اس کو زخمی کیا تو تمہیں عذاب دیا جائے گا۔ بدبخت ترین انسان نے اس کی کونچیں کاٹ دیں اس عمل کو ان سب کی طرف منسوب کیا کیونکہ تمام اس کے عمل سے راضی تھے۔ قتادہ نے کہا، ہمارے سامنے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ اس نے اس کی کونچیں نہ کاٹیں یہاں تک کہ ان کے چھوٹے، بڑے، مذکر اور مونث نے اس کی موافقت نہ کی۔ فراء نے کہا، دو آدمیوں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹی تھیں۔ عرب کہتے ہیں : ھذان افضل الناس، ھذان خیرالناس، ھذہ المراۃ اشقرالناس یعنی اسم تفضیل مذکر کا صیغہ ہی استعمال ہوتا ہے اسی وجہ سے تثنیہ کا ذکر نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا اور ان کے گناہ یعنی کفر، تکذیب اور کونچیں کاٹنے کے باعث ان پر عذاب کو برابر کردیا۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ فدمدم علیھم کا معنی ہے ان کے رب نے ان کے گناہ کے باعث انہیں تباہ برباد کردیا۔ فراء نے کہا، دمدم کا معنی ہے زلزلہ برپا کرنا۔ دمدمہ۔ کی حقیقت یہ ہے عذاب کو کئی گنا کرنا اور اس کو باربار لانا۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے۔ دممت علی الشئی، میں نے اس پر بند کردیا۔ دمدمت الشئی جب تو اسے زمین کے ساتھ لٹکادے۔ دمداللہ علیھم اللہ تعالیٰ نے انہیں ہلاک کردیا، یہ قشیری کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا، دمدمت علی المیت التراب میں نے میت پر مٹی ڈال دی۔ دمدم علیہم انہیں ہلاک کردیا اور انہیں مٹی کے نیچے کردیا۔ ان پر زمین کو برابر کردیا پہلی تعبیر کی صورت میں معنی ہوگا : ان پر دمدمہ اور ہلاکت کو برابر کردیا۔ اس کی وجہ تھی کہ صحیہ نے انہیں ہلاک کردیا تھا وہ انمیں سے چھوٹے اور بڑے تک جاپہنچی ابن انباری نے کہا، دمدم کا معنی ہے غضبناک ہوا۔ دمدہ ایسی گفتگو کو کہتے ہیں کہ جو انسان کو پریشانی کرتی ہے ایک لغوی نے کہا، دمدمہ کا معنی ادامہ ہے عرب کہتے ہیں، ناقۃ مدمومۃ یعنی موٹی اونٹنی ایک قول یہ کیا گیا ہے فسواھا میں ھاضمیر سے مراد عذاب کے نازل کرنے میں امت کو برابر کردیا، ان کے چھوٹے، بڑے پست، معزز، مذکر اور مونث سب اس کی لپیٹ میں آگئے۔ حضرت ابن زبیر نے اسے فدمدم پڑھا ہے یہ دونوں لغتیں ہیں جس طرح ان دونوں لفظوں کا معنی ایک ہی ہے۔ امتتقع لونہ، انتقع لونہ۔
Ayah 91:15

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور اس کو ان کے بدلا لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں

اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا جب کہ اسے یہ کوئی خوف نہیں تھا کہ کس کی جانب سے عذاب کا رد عمل پہنچے گا۔ حضرت ابن عباس، قتادہ، حضرت حسن بصری اور مجاہد کا قول ہے : عقباھا میں جو ضمیر ہے فعلۃ (عمل) کی طرف لوٹ رہی ہے جس طرح اس جملہ میں ہے۔ من اغتسل یوم الجمعۃ فبھاونعمت۔ جس نے جمعہ کے روز غسل کیا اس نے بہت اچھا عمل کیا یہاں بھی ھاء ضمیر سے مراد فعلۃ اور خصلۃ ہے ضحاک، سدی اور کلبی نے کہا، یہ ضمیر عاقر کی طرف لوٹ رہی ہے یعنی وہ آدمی جس نے کونچیں کاٹ دی تھیں وہ اپنے کیے کے انجام سے نہ ڈرا۔ حضرت ابن عباس کا بھی قول ہے کہ کلام میں تقدیم وتاخیر ہے اس کی تقدیر یہ بنے گی، اذانبعث اشقاھا ولایخاف عقباھا۔ ایک قول یہ کیا گیا اللہ کے رسول حضرت صالح (علیہ السلام) کو اپنی قوم کی ہلاکت کا کوئی خوف نہ تھا اور نہ ہی یہ ڈر تھا کہ ان کے عذاب کا ضرر ان کی طرف عود کر آئے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں خبردار کیا تھا اور جب اللہ تعالیٰ نے ان کی قوم کو ہلاک کیا تھا اللہ نے انہیں نجات عطا فرمائی تھی۔ نافع اور ابن عامرنے فلاپڑھا ہے یہی زیادہ مناسب ہے کیونکہ اس صورت میں کلام پہلے معنی کی طرف لوٹتی ہے یعنی اللہ تعالیٰ پر ان کی ہلاکت سے نہیں ڈرتا جب کہ باقی قراء نے اسے واؤ کے ساتھ پڑھا ہے یہ دوسرے معنی سے زیادہ مناسب ہے یعنی کافر اپنے کیے کے انجام سے نہیں ڈرتا۔ ابن وہب اور ابن قاسم نے امام مالک سے روایت نقل کی ہے دونوں نے کہا : امام مالک نے اپنے دادا کا مصحف نکالا ان کا خیال تھا یہ حضرت عثمان غنی کے دور میں انہوں نے لکھا تھا جب مصاحف لکھے گئے تھے ان میں ولایخاف تھا اہل مکہ اور عراقیوں کے مصاحف میں بھی واؤ کے ساتھ ولایخاف ہے۔ ابوعبید اور ابوحاتم نے ان کے مصاحف کی بنا پر اس کو اختیار کیا۔