92. Surah Al-Lail

الليلThe Night · 21 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 92:1

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىۙ Open ayah 92:1 in the Quran reader

رات کی قسم جب (دن کو) چھپالے

(واللیل اذایغشی) قسم ہے رات کی جب وہ چھاجائے۔ فعل کا مفعول ذکر نہیں کیا کیونکہ اس کا مفعول معلوم ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے اس کا مفعول بہ النھار (دن) ہے ایک قول یہ کیا گیا، اس کا مفعول بہ الارض (زمین) ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا مفعول بہ الخلائق ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اس کا معنی ہے اس نے ہر شی کو اپنی تاریکی سے ڈھانپ لیا۔ سعید نے قتادہ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے نور اور ظلمت کو پیدا کیا پھر ان دونوں کو ایک دوسرے سے ممتاز کیا، اس نے تاریکی کو سخت سیاہ اور نور کو انتہائی روشن بنادیا۔
Ayah 92:2

وَ النَّهَارِ اِذَا تَجَلّٰىۙ Open ayah 92:2 in the Quran reader

اور دن کی قسم جب چمک اٹھے

(والنھار اذا تجلی) قسم ہے دن کی جب وہ منکشف وظاہر ہوجائے اور اپنی روشنی کے ساتھ رات کی تاریکی سے جدا ہوجائے۔
Ayah 92:3

وَ مَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَ الْاُنْثٰۤىۙ Open ayah 92:3 in the Quran reader

اور اس (ذات) کی قسم جس نے نر اور مادہ پیدا کئے

(وماخلق الذکر والانثی) حضرت حسن بصری نے کہا، اس کا معنی ہے جس نے مذکر اور مونث کو پیدا کیا۔ اللہ تعالیٰ نے خود اپنی ذات کی قسم اٹھائی، ایک قول یہ کیا گیا، مذکر اور مونث پیدا کرنے کی قسم۔ یہاں مامصدریہ ہے جس طرح پہلے گزرچکا ہے۔ اہل مکہ رعد (کڑک) کے بارے میں کہتے ہیں، سبحان ماسبحت لہ توما، من کے معنی میں ہے، یہ ابوعبید اور دوسرے علماء کا قول ہے یہ بحث پہلے گزرچکی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے معنی ہے وماخلق من الذکر والانثی تو من مضمر ہوگا تو قسم اہل طاعت یعنی انبیاء واولیاء کی ہوگی تو یہ قسم ان کی تکریم اور تعظیم کے لیے ہوگی، ابوعبید نے کہا، ما، من کے معنی میں ہے اسی طرح ان آیات میں بھی ما، من کے معنی میں ہے، والسماء ومابنھا، والارض وماطحھا، ونفس وماسواھا (الشمس) ۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے، وہ یوں قراءت کرتے ہیں والنھار اذاتجلی والذکر والانثی۔ اور ماخلق کو گرادیتے ہیں۔ صحیح مسلم میں علقمہ سے مروی ہے، ہم شام آئے اور ہمارے پاس حضرت ابودرداء آئے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو مجھ پر حضرت عبداللہ کی قراءت پڑھے ؟ میں نے کہا : ہاں۔ انہوں نے پوچھا تو نے حضرت عبداللہ کو یہ آیت واللیل اذایغشی، کیسے پڑھتے ہوئے سنا ہے ؟ کہا میں نے انہیں واللیل اذا یغشی والذکر والانثی پڑھتے ہوئے سنا ہے، کہا، اللہ کی قسم میں نے رسول اللہ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے لیکن یہ لوگ ارادہ رکھتے ہیں کہ میں پڑھوں وماخلق میں ان کی موافقت نہیں کروں گا ابوبکر انباری نے کہا، محمد بن یحییٰ مروزی، محمد سے وہ ابواحمد زبیری سے وہ اسرائیل سے وہ ابواسحق سے وہ عبدالرحمن بن یزید سے وہ حضرت عبداللہ سے روایت نقل کرتے ہوئے کہا کہ رسول اللہ نے مجھے انی اناالرزاق ذوالقوۃ المتین۔ پڑھ کر سنایا ہے ابوبکر نے کہا، ان دونوں حدیثوں میں سے ہر ایک مردود ہے کیونکہ اجماع ان کے خلاف ہے حمزہ اور عاصم حضرت عبداللہ بن مسعود سے وہ روایت نقل کرتے ہیں جس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے ایسی دوسندوں پر انحصار کرنا جو اجماع کے موافق ہوں اس سے بہتر ہے کہ کسی ایک ایسی سند کو اپنایاجائے اجماع امت جس کی مخالفت کرے۔ جو حکم ایک روایت پر مبنی ہو جب وہ جماعت کی ایسی روایت کے مقابل آجائے جو اس کی مخالفت کررہی ہو تو جماعت کی روایت کو لیتا یہ زیادہ بہتر ہے کیونکہ ایک روایت میں نسیان اور غفلت کا امکان موجود ہے۔ اگر حضرت ابودرداء کی حدیث صحیح ہو اور اس کی سند مقبول ومعروف ہو پھر حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی، حضرت علی شیر خدا اور دوسرے صحابہ اس کی مخالفت کرتے ہوں تو اس پر عمل کرنا مناسب ہے جسے جماعت نے روایت کیا ہے جو ایک تنہاروایت کرتا ہے اس کو چھوڑنا مناسب ہے جسے جلدی نسیان ہوسکتا ہے جبکہ جماعت اور تمام ملت کے لیے ایسا نہیں ہوتا۔ مذکر اور مونث میں دو قول ہیں : (1) اس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حواء ہیں یہ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری اور کلبی کا قول ہے۔ (2) انسانوں اور مخلوقات میں سے جو مذکر اور مونث ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے سب کو مذکر ومونث کی صورت میں پیدا کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ مذکر ومونث انسانوں میں سے ہیں چوپاؤں میں سے نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طاعت وولدیت میں یہی خاص ہے۔
Ayah 92:4

اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ Open ayah 92:4 in the Quran reader

کہ تم لوگوں کی کوشش طرح طرح کی ہے

(ان سعیکم لشتی) ۔ یہ جواب قسم ہے معنی ہے تمہارا عمل مختلف ہے عکرمہ اور دوسرے مفسرین نے کہا، سعی کا معنی عمل ہے کوئی اپنے نفس کو بچانے میں لگا ہوا ہے اور کوئی اسے ہلاک کرنے میں مصروف ہے اس پر نبی کریم کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، الناس غادیان فمبتاع نفسہ فمعتقھا وبائع نفسہ فموبقھا۔ لوگ دو طرح کے ہو کر صبح کرتے ہیں اپنے نفس کو خریدنے والا اور اسے آزاد کرنے والا ہوتا ہے، اپنے نفس کو بیچنے والا اسے ہلاک کرنے والا ہوتا ہے، شتی، شتیت کی جمع ہے جس طرح مریض کی جمع مرض آتی ہے مختلف کو بھی شتی کہہ دیتے ہیں کیونکہ اس کا بعض بعض سے دور ہوتا ہے یعنی تیرا عمل ایک دوسرے سے دور ہے کیونکہ اس کا بعض گمراہی ہے اور بعض ہدایت ہے یعنی تم میں سے کچھ مومن ونیک ہیں کافر وفاجر ہیں مطیع وعاصی ہیں ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ لشتی سے مراد ہے جس کے اجزاء مختلف ہوں انمیں سے بعض کو جنت کا ثواب ملے گا اور کچھ کو جہنم کا عقاب ملے گا ایک قول یہ کیا گیا اخلاق مختلف ہیں تم میں سے کچھ رحم دل اور کچھ سخت دل ہیں کچھ برباد اور کچھ طیش والے ہیں، کچھ سخی اور کچھ بخیل ہیں اور اس کی مثل دوسرے ہیں۔
Ayah 92:5

فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَ اتَّقٰىۙ Open ayah 92:5 in the Quran reader

تو جس نے (خدا کے راستے میں مال) دیا اور پرہیزگاری کی

اس آیت کا مصداق اور عطا کی فضیلت۔ مسئلہ نمبر 1۔ فاما من اعطی واتقی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے کہا : اس آیت کا مصداق حضرت ابوبکر صدیق ہیں عام مفسرین نے بھی یہی کہا ہے، عامر بن عبداللہ بن زبیر سے مروی ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق مسلمان بوڑھے مرد اور عورتوں کو آزاد کیا کرتے تھے تو ان کے والد حضرت ابوقحافہ نے ان سے کہا، اے بیٹے کاش تم قوی وطاقتور غلام آزاد کرتے جو تیرا دفاع کرتے اور تیرے ساتھ کھڑے ہوتے ؟ حضرت ابوبکر صدیق نے کہا، اے میرے اباجان، میں ارادہ کرتا ہوں جو ارادہ کرتا ہوں۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ اعطی کا معنی ہے خرچ کیا اور اتقی کا معنی ہے اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں جن سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا سے بچا۔
Ayah 92:6

وَ صَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:6 in the Quran reader

اور نیک بات کو سچ جانا

وصدق بالحسنی۔ حسنی سے مراد ہے کہ بندہ جو عطا کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر بدلہ عطا کرتا ہے اس کی تصدیق کی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ سے مروی ہے، مامن یوم یصبح العباد فیہ الا وملکان ینزلان فیقول احدھما، اللھم اعط منفقا خلفا ویقول الاخر اللھم اعط ممسکا تلفا۔ کوئی دن نہیں ہوتا جس میں لوگ صبح کرتے ہیں مگر دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک کہتا ہے، اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدل عطا فرمادوسرا کہتا ہے اے اللہ روکنے والے کو بربادی دے۔ حضرت ابودرداء سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، کسی دن کا سورج غروب نہیں ہوتا مگر اس کے پہلو دو فرشتے اعلان کرتے ہیں جس اعلان کو اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق سنتی ہے مگر جن وانس، اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا فرما اور روکنے والے کو بربادی دے، اسی کے متعلق اللہ تعالیٰ نے قرآن میں حکم نازل فرمایا۔ علماء تفسیر نے فرمایا، من اعطی، سے مراد ہے تنگ دستوں کو مال عطا کیا۔ قتادہ نے کہا، اس بندے پر اللہ تعالیٰ کا جو حق تھا وہ عطا کیا، حضرت حسن بصری نے کہا، دل سے سچی بات کہی، ایک قول یہ کیا گیا کہ وصدق بالحسنی سے مراد ہے اس نے لا الہ الا اللہ کی تصدیق کی، یہ ضحاک، سلمی اور حضرت ابن عباس نے کہا، مجاہد نے کہا، حسنی سے مراد جنت ہے اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے، للذین احسنوالحسنی وزیادۃ (یونس 26) قتادہ نے کہا، حسنی سے مراد اللہ تعالیٰ کا وعدہ جو اس نے بندے سے بدلہ دینے کا کیا ہے، زید بن اسلم نے کہا، اس سے مراد نماز، زکوۃ اور روزہ ہے، حضرت حسن بصری نے کہا، اس سے مراد عطا کا بدلہ ہے یہی طبری کا پسندیدہ مسلک ہے حضرت ابن عباس سے یہ قول پہلے گزرچکا ہے سب کے معانی قریب قریب ہیں کیونکہ سب معانی اسی ثواب کی طرف لوٹتے ہیں جو جنت ہے۔
Ayahs 92:7–10

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ Open ayah 92:7 in the Quran reader

اس کو ہم آسان طریقے کی توفیق دیں گے

وَ اَمَّا مَنْۢ بَخِلَ وَ اسْتَغْنٰىۙ Open ayah 92:8 in the Quran reader

اور جس نے بخل کیا اور بےپروا رہا

وَ كَذَّبَ بِالْحُسْنٰىۙ Open ayah 92:9 in the Quran reader

اور نیک بات کو جھوٹ سمجھا

فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْعُسْرٰىؕ Open ayah 92:10 in the Quran reader

اسے سختی میں پہنچائیں گے

تنگی کو آسانی میں بدلنے کی وضاحت۔ مسئلہ نمبر 2۔ فسنیسرہ للعسری۔ ہم اسے خیر اور اصلاح کے اسباب کی طرف ہدایت دیتے ہیں یہاں تک کہ اس کے لیے ان اسباب کو بجالانا آسان ہوجاتا ہے زید بن اسلم نے کہا، یسری سیمراد جنت ہے۔ صحیحین اور ترمذی میں حضرت علی شیر خدا سے مروی ہے، ہم بقیع میں جنازہ میں تھے نبی کریم تشریف لائے آپ بیٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ بیٹھ گئے آپ کے پاس ایک لکڑی تھی جس کے ساتھ آپ زمین کو کرید رہے تھے رسول اللہ نے اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا، فرمایا، ہر نفس کے داخل ہونے کی جگہ کو لکھ دیا گیا ہے لوگوں نے عرض کی، یارسول اللہ کیا ہم اپنے کیے پر بھروسہ نہ کریں ؟ جو سعادت مند ہوگا تو وہ سعادت کا کام کرے گا اور جو بدبخت ہوگا تو وہ بدبختوں کا کام کرے گا فرمایا بلکہ تم عمل کرو ہر ایک کو توفیق دی گئی جو سعادت مند ہوتا ہے تو اسے سعادت کے عمل کی توفیق دی جاتی ہے اور جو بدبخت ہوتا ہے تو اسے بدبختی کے عمل کا موقع دیا جاتا ہے پھر پڑھا، جس نے مال عطا کیا تقوی اختیار کیا اور حسنی کی تصدیق کی تو ہم اسے آسان عمل کی توفیق دیں گے اور جس نے بخل کیا غنی بنا اور حسنی کی تکذیب کی تو ہم اسے عسری کا موقع دیں گے۔ الفاظ ترمذی کے ہیں، اس حدیث کے بارے میں ارشاد فرمایا یہ حدیث حسن صحیح ہے دونوجوانوں نے رسول اللہ سے پوچھا کیا عمل ایسی چیز ہے جس کے بارے میں ارشاد فرمایا، یہ حدیث حسن صحیح ہے دونوجوانوں نے رسول اللہ سے پوچھا کیا عمل ایسی چیز ہے جس کے بارے میں قلم خشک ہوگئے ہیں اور تقدیر جاری ہوچکی ہے یا عمل ایسی چیز ہے جس کا فیصلہ بعد میں ہوتا ہے رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، بلکہ یہ ایسا عمل ہے جس کے بارے میں قلم خشک ہوچکے ہیں اور تقدیر جاری ہوچکی ہے دونوں نے عرض کیا پھر عمل کس لیے فرمایا، فرمایا عمل کرو ہر ایک کو ایسے عمل کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لیے اسے پیدا کیا گیا ہے دونوں نے کہا، اب ہم کوشش کریں گے اور ہم عمل کریں گے۔ عسری کو آسان کرنے کا مفہوم اور صورتیں۔ مسئلہ نمبر 3۔ واما من بخل واستغنی۔ وکذب بالحسنیٰ ۔ فسنیسرہ للعسری۔ یعنی جس نے اپنے پاس موجود مال میں بخل کیا اور مال خرچ نہ کیا، اس کی وضاحت اور دنیا میں اس کے پھل کے بارے میں گفتگو سورة آل عمران میں گزرچکی ہے اور آخرت میں اس کاٹھکانہ آگ ہوگا جس طرح اس آیت میں ہے، ضحاک نے کہا، حضرت ابن عباس سے مروی ہے میں اس کے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کے درمیان حائل ہوجاؤں گا۔ حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ امیہ بن خلف کے حق میں نازل ہوئی، عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ اس کا معنی ہے جس نے مال میں بخل کیا اور سب سے غنی بنا اور بدلہ کو جھٹلایا۔ ابن ابی نجیح نے مجاہد سے یہ قول نقل کیا ہے کہ حسنی سے مراد جنت ہے۔ ایک دوسری سند سے یہ قول بھی مروی ہے کہ حسنی سے مراد لا الہ الا اللہ ہے ہم اس کا راستہ شر کے لیے آسان کردیتے ہیں۔ حضرت ابن مسعود سے مروی ہے کہ عسری سے مراد جہنم ہے۔ ایک قول یہ نقل کیا گیا ہے کہ ہم اس پر خیر اور صلاح کے اسباب مشکل کردیتے ہیں یہاں تک کہ ان کو بجالانا اس کے لی مشکل ہوجاتا ہے یہ پہلے گزرچکا ہے کہ فرشتہ صبح وشام ندا کرتا ہے اے اللہ خرچ کرنے والے کو بدلہ عطا کرنا اور روکنے والے کو بربادی دینا، اسے حضرت ابودرداء نے روایت کیا ہے۔ مسئلہ : علماء نے کہا، اس آیت نیز اس ارشاد، وممارزقنھم ینفقون۔ (البقرہ) اور اس ارشاد، الذین ینفقون اموالھم باللیل والنھار سراوعلانیۃ (البقرہ 274) سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ سخاوت مکارم اخلاق میں سے ہے اور بخل رذیل اخلاق میں سے ہے سخی وہ نہیں جو ایسی جگہ مال دے جو مال دینے کا محل نہ ہو اور بخیل وہ نہیں جو روکنے کی جگہ سے مال روک لے بلکہ سخی وہ ہے جو عطا کی جگہ مال عطا کرے اور بخیل وہ ہے جو عطیہ کی جگہ روک لے ہر وہ آدمی جو عطا کرنے کے ساتھ اجر اور حمد کا مستحق بنتا ہے وہ جواد ہے اور ہر وہ آدمی جو مال روکھنے کے ساتھ مذمت اور عتاب کا مستحق بنتا ہے تو وہ بخیل ہے اور جو عطا کے ساتھ اجر اور حمد کا مستحق نہیں بنتا بلکہ وہ مذمت کا مستحق بنتا ہے تو وہ سخی نہیں بلکہ اسرارف کرنے والا اور مذموم ہے یہ ان اسراف کرنے والوں میں سے ہے جن کو اللہ تعالیٰ نے شیاطین کے بھائی قرار دیا ہے اور ان پر محرومی کو لازم کیا ہے۔ جو آدمی مال روکنے کی وجہ سے عقاب اور مذمت کا مستحق نہیں بنتا وہ حمد کا مستحق ہوتا ہے تو وہ ہدایت یافتہ ہے یہ وہی لوگ ہیں جو حسن تدبیر اور اچھی رائے کے ساتھ دوسروں کے اموال برقرار رہنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ مسئلہ نمبر 4۔ فراء نے کہا : ایک معترض کہتا ہے یہ کیسے ارشاد فرمایا، فسنیسرہ للعسری۔ کیا تنگی میں کوئی آسانی ہے ؟ تو جواب میں کہا جاتا ہے یہ ارشاد باری تعالیٰ کے اس فرمان کے قائم مقام ہے، فبشرھم بعذاب الیم۔ بشارت اصل میں خوشی عطا کرنے والے امر پر ہوتی ہے جب ان دو کلاموں میں یہ جمع کردیا گیا کہ یہ خیر ہے اور یہ شر ہے تو دونوں میں آسانی آگئی فراء نے کہا، اللہ تعالیٰ کے فرمان فسنیسرہ کا معنی ہے ہم اسے تیار کریں گے عرب کہتے ہیں، قد سیرت الغنم۔ یہ جملہ اس وقت بولتے ہیں جب وہ بچہ جن دے یا جننے کے لیے تیار ہوجائے۔ شاعر نے کہا : ھما سیدان یزعمان وانما یسواداتنا ان یسرت غناھا۔ وہ دونوں سردار وہ گمان کرتے ہیں کہ ان کے ریوڑ بچے جننے کے لیے تیار ہیں جبکہ وہ دونوں ہماری سرداری کرتے ہیں۔
Ayah 92:11

وَ مَا یُغْنِیْ عَنْهُ مَالُهٗۤ اِذَا تَرَدّٰىؕ Open ayah 92:11 in the Quran reader

اور جب وہ (دوزخ کے گڑھے میں) گرے گا تو اس کا مال اس کے کچھ کام نہیں آسکے گا

ومایغنی عنہ مالہ اذا تردی۔ تردی کا معنی ہے ہلاک ہونا یہ جملہ بولا جاتا ہے، ردی الرجل یردی ردی۔ جب وہ ہلاک ہوجاتا ہے۔ شاعر نے کہا : صرفت الھوی عنھن من خشیۃ الردی۔ میں نے ہلاکت کے خوف سے ان سے محبت کو پھیرلیا۔ ابوصالح اور زید بن اسلم نے کہا، اذا تردی کا معنی ہے جب جہنم میں گرے، اس معنی میں متردیہ ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے، ردی فی البر وتردی۔ جب وہ کنویں میں گرگیا یا وہ پہاڑ سے نیچے گرگیا ۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے، ما ادری این ردی ؟ میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں گیا۔ ما کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ نافیہ ہے یعنی مال اسے کچھ نفع نہ دے گا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ وہ استفہامیہ ہو اس کا معنی توبیخ ہے یعنی جب وہ ہلاک ہوگا اور جہنم میں گرجائے گا تو اسے کون سی چیز نفع دے گی ؟۔
Ayahs 92:12–13

اِنَّ عَلَیْنَا لَلْهُدٰى٘ۖ Open ayah 92:12 in the Quran reader

ہمیں تو راہ دکھا دینا ہے

وَ اِنَّ لَنَا لَلْاٰخِرَةَ وَ الْاُوْلٰى Open ayah 92:13 in the Quran reader

اور آخرت اور دنیا ہماری ہی چیزیں ہیں

ان علینا للھدی۔ یعنی ہمارے ذمہ کرم پر ہے کہ ہم گمراہی کے راستہ سے ہدایت کے راستہ کو جدا کردیں پس ہدایت سے مراد و احکام کا بیان ہوگا یہ زجاج کا نقطہ نظر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے حلال و حرام اور اطاعت ومعصیت کا بیان۔ یہ قتادہ کا قول ہے فراء نے کہا، جو ہدایت کی راہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے ذمہ پر ہے اس کا راستہ دکھانا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے وعلی اللہ قصدالسبیل۔ (النحل 9) وہ کہتا ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کا ارادہ کیا وہ سیدھے راستے پر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا اس کا معنی ہے ہمارے قبضہ قدرت میں ہے ہدایت دینا اور گمراہ کرنا۔ اور اضلال کو ترک کردیا گیا ذکر نہیں کیا گیا جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں صرف خیر کا ذکر کیا گیا، بیدک الخیر (آل عمران 26) بیدہ ملکوت شئی (یاسین 83) جس طرح فرمایا، سرابیلھم تقیکم الحر (النحل 81) جب کہ وہ سردی سے بھی بچاتا ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے ہمارے ذمہ کرم پر ہے اسے ہدایت کا بدلہ دینا جسے ہم نے ہدایت سے نوازا۔ آخرہ۔ سے مراد جنت ہے اور اولی سے مراد دنیا ہے۔ عطا نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے یعنی دنیا وآخرت اللہ تعالیٰ کے لیے ہے ابوصالح نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے۔ اس سے مراد دنیاوآخرت کا ثواب ہے۔ یہ اسی طرح جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، من کان یرید ثواب الدنیا فعنداللہ ثواب الدنیا والاخرہ۔ النساء 134) جس نے ان دونوں چیزوں کو ان کے مالکوں کے علاوہ غیر سے طلب کیا تو اس نے غلط راستہ کا انتخاب کیا۔
Ayahs 92:14–16

فَاَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظّٰىۚ Open ayah 92:14 in the Quran reader

سو میں نے تم کو بھڑکتی آگ سے متنبہ کردیا

لَا یَصْلٰىهَاۤ اِلَّا الْاَشْقَىۙ Open ayah 92:15 in the Quran reader

اس میں وہی داخل ہوگا جو بڑا بدبخت ہے

الَّذِیْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ Open ayah 92:16 in the Quran reader

جس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا

میں نے تمہیں ڈرایا ایک ایسی آگ سے جو شعلہ زن ہے اور روشن ہے، تلظی اصل میں تتلظی تھا، یہ عبید بن عمیر، یحییٰ بن یعمر اور طلحہ بن مصرف کی قرات ہے اس کی گرمی کو نہیں پائے گا مگر ایسا بدبخت جس نے نبی کریم ﷺ کو جھٹلایا اور ایمان سے اعراض کیا، مکحول نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ ہر کوئی جنت میں داخل ہوگا مگر جس نے اس کا انکار کیا، مکحول نے پوچھا، اے ابوہریرہ کون ہے جو جنت میں داخل ہونے سے انکار کرتا ہے ؟ فرمایا، جس نے جھٹلایا اور روگردانی کی۔ امام مالک نے کہا، ہمیں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مغرب کی نماز پڑھائی تو والیل اذا یغشٰی۔ کی قرات کی جب وہ فانذرتکم نارا تلظی۔ تک پہنچے تورونے لگے تورونے کی وجہ سے اسے آگے نہ پڑھ سکے اسے چھوڑ دیا اور دوسری سورت پڑھی۔ فراء نے کہا، الا الاشقٰی، سے مراد ہے مگر وہ آدمی جو اللہ کے علم میں شقی ہے۔ ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ لایصلاھا الا الاشقی۔ سے مراد امیہ بن خلف اور اس جیسے دوسرے لوگ ہیں جنہوں نے حضرت محمد ﷺ کو جھٹلایا۔ قتادہ نے کہا، جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب کو جھٹلایا اور اللہ تعالیٰ کی طاعت سے روگردانی کی۔ فراء نے کہا، اس سے مراد جس نے ظاہری رو سے نہیں جھٹلایا تھا بلکہ جو انہیں حکم دیا گیا تھا اس کو بجا لانے میں کوتاہی کی اسے تکذیب قرار دیا گیا جس طرح تو کہتا ہے، لقی فلان العدو فکذب۔ جب وہ انکار کرے اور اس کی اتباع سے پھر جائے۔ کہا، میں نے ابوثروان کو یہ کہتے ہوئے سنا، ان بنی نمیر لیس لجدھم مکذوبۃ۔ مراد ہے جب وہ دشمنوں سے ملتے ہیں توقتال کو سچ کردکھاتے ہیں اور رجوع نہیں کرتے، اسی طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لیس لوقعتھا کاذبۃ۔ (الواقعہ) یعنی وہ حق ہے میں نے سلم بن حسن کو کہتے ہوئے سنا کہا میں نے ابواسحق زجاج کو کہتے ہوئے سنا یہ آیت مرجئہ کی بڑی دلیل ہے ان کا گمان ہے کہ جہنم میں کافر کے سوا کوئی داخل نہیں ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے لایصلھا الا الاشقی الذی کذب وتولی۔ معاملہ اس طرح نہیں جس طرح انہوں نے گمان کیا یہ آگ ہے جس کی یہ صفت ذکر کی گئی ہے کہ اس میں کوئی داخل نہیں ہوگا مگر وہ جو جھٹلائے اور اعراض کرے جہنمیوں کی کئی منازل ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ منافقین آگ کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوتے تھے اللہ تعالیٰ نے جس کو عذاب کی جنس کی دھمکی دی ہے تو اسکے بارے میں جائز ہے کہ اسے عذاب دیا جائے اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذالک لمن یشائ۔ (النساء 48) اگر ایسے فرد کو عذاب نہ دیاجانا ہوتا جس نے شرک نہ کیا ہوتا تو اس کلام، ویغفر مادون ذالک لمن یشائ۔ کا کوئی فائدہ نہ ہوتا یہ ایسی کلام ہوتی جس کا کوئی معنی نہ ہوتا۔ زمخشری نے کہا، آیت مشرکوں میں سے عظیم اور مومنوں سے عظیم کی حالتوں میں موازنہ کے لیے وارد ہوئی ہے اور یہ ارادہ کیا گیا ہے کہ ان دونوں کی متناقض صفات میں مبالغہ سے کام لیاجائے تو یہ فرمایا گیا، الاشقی۔ اسے صلی کے ساتھ مختص کیا گیا گویا جہنم پیدا اس کے لیے کی گئی ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے، اتقی کو جنت کے ساتھ خاص کیا گیا گویا جنت اس کے لیے پیدا کی گئی ہے ایک قول یہ کیا گیا کہ اشقی سے مراد ابوجہل اور امیہ بن خلف ہے، اور اتقی سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں۔
Ayahs 92:17–18

وَ سَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ Open ayah 92:17 in the Quran reader

اور جو بڑا پرہیزگار ہے وہ (اس سے) بچا لیا جائے گا

الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ Open ayah 92:18 in the Quran reader

جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ پاک ہو

تفسیر 17، 18۔ یعنی اس جہنم سے وہ آدمی دور ہوگا جو متقی اور ڈرنے والا ہے حضرت ابن عباس نے فرمایا، الاتقی سے مراد حضرت ابوبکر ہیں جنہیں جہنم میں داخل ہونے سے دور رکھاجائے گا، پھر الاتقی کی صفت ذکر کی جو مال اس لیے دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پاکیزہ ہوجائے وہ اس سے ریاکاری اور شہرت کا طالب نہیں بلکہ وہ صدقہ کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب ہو۔ بعض علماء معانی نے کہا کہ الاتقی اور الاشقی سے مراد متقی اور شقی ہے جس طرح طرفہ کا قول ہے۔ تمنی رجال ان اموت وان امت فتلک سبیل لست فیھا باوحد۔ کچھ لوگوں نے تمنا کی کہ میں مرجاؤں اگر میں مرگیا تو وہ ایسا راستہ ہے جس میں میں اکیلا نہیں ہوں۔ یہاں اوحد، واحد اور وحید کے معنی میں ہے افعل کا صیغہ فعیل کی جگہ رکھا جاتا ہے جس طرح ان کے قول، اللہ اکبر میں اکبر، کبیر کے معنی میں ہے اسی طرح وھو اھون علیہ۔ (الروم 27) میں اھون، ھین کے معنی میں ہے۔
Ayahs 92:19–21

وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ Open ayah 92:19 in the Quran reader

اور (اس لئے) نہیں (دیتا کہ) اس پر کسی کا احسان (ہے) جس کا وہ بدلا اتارتا ہے

اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ Open ayah 92:20 in the Quran reader

بلکہ اپنے خداوند اعلی کی رضامندی حاصل کرنے کے لئے دیتا ہے

وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠ Open ayah 92:21 in the Quran reader

اور وہ عنقریب خوش ہوجائے گا

تفسیر 19 تا 21 وہ اس لیے صدقہ نہیں کرتا کہ وہ کسی احسان کا بدلہ اسے دینا ہو بجز اس کے کہ وہ اپنے برتر پروردگار کی خوشنودگی کا طلب گار ہے اور وہ ضرور (اس سے) خوش ہوگا۔ اور وہ اسلیے بھی صدقہ نہیں کرتا کہ وہ کسی احسان کا بدلہ چکائے وہ تو اپنے عظیم رب کی رضا چاہتا ہے وہ جزا پر ضرور راضی ہوگا عطا اور ضحاک نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ مشرکوں نے حضرت بلال کو اذیتیں دیں اور حضرت بلال احد، احد، کہتے نبی کریم ان کے پاس سے گزرے تو ارشاد فرمایا، احد تجھے نجات دے گا۔ پھر حضرت ابوبکر سے فرمایا، اے ابابکر، حضرت بلال کو اللہ کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے حضرت ابوبکر صدیق رسول اللہ ﷺ کا ارادہ بھانپ گئے اور اپنے گھر چلے گئے سونے کا ایک رطل لیا اور اسے امیہ بن خلف کے پاس لے گئے اس سے پوچھا کیا توبلال کو میرے ہاتھ بیچتا ہے ؟ اس نے کہا، ہاں۔ حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو خرید لیا اور اسے آزاد کردیا مشرکوں نے کہا، حضرت ابوبکر نے بلال کو آزاد نہیں کیا مگر اس لیے کہ حضرت بلال کا حضرت ابوبکر صدیق پر کوئی احسان ہوگا۔ تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی یعنی کسی کا حضرت ابوبکر پر کوئی احسان نہیں کہ اس کا بدلہ دیاجتا بلکہ انہوں نے جو کچھ کیا ہے وہ اپنے بزرگ و برتر کی رضا کے لیے کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا کہ حضرت ابوبکر صدیق نے امیہ بن خلف اور ابی بن خلف سے حضرت بلال کو ایک غلام اور دس اوقیہ میں خریدا اور اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے آزاد کردیا تو یہ آیت نازل ہوئی، ان سعیکم لشتی (اللیل) تمہاری کاوشیں مختلف ہیں۔ سعید بن مسیب نے کہا، مجھے یہ خبر پہنچی ہے جب حضرت ابوبکر نے امیہ بن خلف سے کہا، کیا توبلال کو میرے ہاتھ بیچتا ہے اس نے کہا ہاں میں اسے نسطاس کے بدلے بیچتا ہوں نسطاس حضرت ابوبکر کا غلام تھا جس کے پاس دس ہزار دینار، غلام، لونڈیاں اور مویشی تھے وہ مشرک تھا حضرت ابوبکر نے اسے مسلمان ہونے پر برانگیختہ کیا کہ وہ اسلام قبول کرے توجتنا مال اس کے قبضہ میں ہے سب اسی کا ہوگا حضرت ابوبکر نے نسطاس حضرت بلال کے بدلے میں بیچ دیا۔ مشرکوں نے کہا، حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کے ساتھ یہ معاملہ کسی احسان کی وجہ سے کیا ہے جو حضرت بلال نے ان پر کیا ہوگا تو اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں۔ ، الابتغاء۔ یہ مستثنی منقطع ہے اس وجہ سے اسے نصب دی گئی جس طرح تیرا یہ قول ہے، مافی الدار احد الاحمارا۔ رفع بھی جائز ہے یحییٰ بن وثاب نے اسے رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ الابتغاء وجہ ربہ الاعلی۔ یہ اس کی لغت کے مطابق ہے جو مستثنی میں رفع جائز سمجھتا ہے جس طرح شاعر ایک شعر میں کہتا ہے : وبلدۃ لیس بھا انیس الا الیعافیر والا العیس۔ یہ ایسا شہر ہے جہاں کوئی انس کرنے والا نہیں مگر ہرن کے بچے اور اونٹ۔ قرآن حکیم میں ہے : مافعلوہ الاقلیل منھم (النساء 66) یہاں بھی مستثنی مرفوع ہے۔ الاعلی، اس رب کی صفات میں جو علو کی صفات کا مستحق ہے یہ بھی جائز ہے کہ ابتغاء وجہ ربہ۔ معنی کے اعتبار سے مفعول لہ ہو، کیونکہ کلام کا معنی یہ ہے وہ اپنا مال نہیں دیتا مگر اپنے رب کی رضا چاہنے کے لیے نہ کہ کسی انعام کا بدلہ چکانے کے لیے۔ اللہ تعالیٰ اسے جنت میں وہ بدلہ عطا کرے گا جو اسے راضی کردے گا یعنی اللہ تعالیٰ اسے خرچ سے کئی گنا عطا کرے گا۔ ابوحیان تیمی اپنے باپ سے وہ حضرت علی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے ارشاد فرمایا، رحم اللہ ابابکر زوجنی ابنتہ، وحملنی الی دارالھجرۃ واعتق بلالا من مالہ۔ اللہ تعالیٰ حضرت ابوبکر پر رحم کرے اس نے اپنی بیٹی میرے عقد نکاح میں دی، مجھے دار ہجرت کی طرف لے گئے اور اپنے مال سے حضرت بلال کو آزاد کیا۔ جب حضرت ابوبکر نے حضرت بلال کو خریدا تو حضرت بلال نے آپ سے کہا، کیا آپ مجھے اپنے کام کے لیے خریدا ہے یا اللہ تعالیٰ کے لیے خریدا ہے ؟ حضرت ابوبکر نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے لیے۔ حضرت بلال نے کہا مجھے اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑ دو تو حضرت ابوبکر نے اسے آزاد کردیا۔ حضرت عمر بن خطاب کہا کرتے تھے حضرت ابوبکر صدیق ہمارے سردار ہیں انہوں نے ہمارے سردار حضرت بلال کو آزاد کیا۔ عطاء نے کہا : حضرت ابن عباس سے یہ بھی مروی ہے کہ یہ سورت حضرت ابودحداح کے حق میں نازل ہوئی وجہ کھجور بنی جو انہوں نے اپنے باغ کے بدلے میں خریدی تھی ثعلبی نے عطا سے یہ ذکر کیا ہے۔ قشیری نے حضرت ابن عباس سے روایت نقل کی ہے کہ وہ ایک کھجوردس کھجوروں کے بدلے میں خریدی گئی تھی اور اس آدمی کا ذکر نہ کیا عطانے کہا، ایک انصاری کا کھجور کا ایک درخت تھا اس کی کچی کھجوریں اس کے پڑوس کے گھر میں گرتی تھیں اس کے بچے انہیں کھالیتے تھے کھجور کے مالک نے نبی کریم کی بارگاہ میں شکایت کی تو نبی کریم نے ارشاد فرمایا تو اس درخت کو جنت کے ایک درخت کے بدلے میں بیچتا ہے ؟ مالک نے انکار کردیا وہ آدمی باہر نکلا تو اسے حضرت ابودحدح نے کہا، کیا تیری یہ رائے ہے کہ تو وہ کھجور حسنی کے بدلے بیچ یہ آپ کا ایک باغ تھا اس آدمی نے کہا وہ کھجور آپ کی ہے حضرت ابودحدح نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے عرض کی یارسول اللہ وہ کھجور مجھ سے جنت کی کھجور کے عوض خرید لیجئے۔ ہاں۔ اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، فرمایا، یارسول اللہ وہ آپ کے لیے ہے۔ نبی کریم نے انصاری کے پڑوسی کو بلایا اور فرمایا، وہ کھجور کا درخت لے لو۔ تو یہ سورت حضرت ابودحداح کے باغ اور اس کھجور والے کے حق میں نازل ہوئی۔ یعنی من اعطی واتقی۔ سے مراد حضرت ابودحداح، الحسنی سے مراد ثواب، یسری سے مراد جنت ہے۔ من بخل وستغنی سے مراد انصاری، حسنی سے مراد ثواب اور عسر سے مراد جہنم ہے۔ تردی سے مراد ہلاک ہونا ہے، الاشقی سے مراد وہ خزرجی ہے وہ منافق تھا اور وہ نفاق پر ہی مرا، الاتقی سے مراد ابودحدح ہے مالہ سے مراد اس کے کھجور کے ثمن میں جو مال خرچ کیا، کسی کا حضرت ابودحدح پر کوئی احسان نہیں تھا جس کا وہ بدلہ چکانا چاہتے جب اللہ تعالیٰ انہیں جنت میں داخل کرے گا تو ضرور راضی ہوگا۔ اکثر علماء کی یہ رائے ہے کہ یہ سورت حضرت ابوبکر صدیق کے حق میں نازل ہوئی، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن زبیر اور دوسرے علماء کی یہی رائے ہے ہم نے حضرت ابودحدح کا واقعہ سورة بقرہ میں، من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا (البقرہ 245) کے ضمن میں ذکر کردیا ہے۔