Ayah 91:1قسم ہے سورج اور اس کی دھوپ کے رب کی
1 ؎ اس مضمون کو ذہن نشین کرانے کے لیے کہ فی نفسہٖ نیکی کیا ہے اور برائی کیا ہے اللہ تعالیٰ نے اس کو سات قسموں سے موکد کر کے بیان کیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اس بات کا عذر نہیں کرسکے گا کہ مجھے یہ بات معلوم ہی نہ ہوسکی کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے ؟ شہادات کے بیان کے لیے ہم پیچھے وضاحت کرچکے ہیں کہ مخاطب کو پوری توجہ دلانے کے لیے یہ پیرا یہ بیان اختیار کیا جاتا ہے اور قرآن کریم بھی چونکہ ہم انسانوں ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے اس لیے اس میں یہ پیرا یہ اختیار کیا ہے جو انسانوں کے درمیان متعارف ہے۔ اس آیت میں دو ہی لفظ بیان ہوئے ہیں کو آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور دونوں کو بطورشہادت مضمون کو موکد کرنے کے لیے قسم کے طور پر بیان کیا گیا ہے (الشمس) کو بطور شہادت بیان کرتے ہوئے پیش کیا تو ساتھ اس کی وجہ کو بیان بھی کردیا ( ضحھا) اس کے دن چڑھے ، اس کی دھوپ کا پھیلنا اور روشنی ہونا مراد ہے۔ ( ضحی) مضاف ہے۔ ( ھا) ضمیر واحد مؤنث غائب مضاف الیہ ۔ سورج کو اور اس کی دھوپ دونوں کو بطور شہادت پیش کیا ہے کہ سورج کا بنانے والا اللہ تعالیٰ ہے اور اسکے اندر اس قدر روشنی اور دھوپ یعنی حرارت کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور یہ شہادت کوئی معمولی شہادت نہیں ہے اس لیے کہ اتنا بڑا سورج اور پھر سورج میں اس قدر حرارت پیدا کرنے والا کسی معمولی طاقت کا مالک نہیں ہو سکتا اور ساری دنیا کے سارے طاقتور مل کر اس سے ہزاروں نہیں لاکھوں گنا کم حرارت کو پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے پھر انسان جو کچھ ایجاد کر رہا ہے اس میں اس کا کمال کیا ہے ؟ فقط یہی کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی اس عقل و فکر سے اللہ تعالیٰ کی مخلو کا جوڑ بند لگانے کی کوشش کی اور تجربات کرتے کرتے ایک حدتک کسی معاملہ میں اس کو پیش رفت ہوئی تو پشت در پشت تجربات کے بعد اس کو کچھ کامیابی ہوئی۔ کمال تو اس ذات کا ہے جس نے اپنی مخلوق میں اس طرح کی ساری صلاحیتیں رکھ دیں کہ اگر اس اس چیز کو ملایا جائے اور وہ بھی کسی خاص اندازے اور مقدار کے ساتھ تو ایک تیسری چیز بن سکتی ہے جس سے یہ نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ۔ بہر حال اس مضمون کو صرف دو لفظوں سے دوبارہ مؤکد کرنے کے بعد اس کو تیسری مؤکد کرنے کے لیے ارشاد فرمایا ہے کہ :
Ayah 91:2اور چاند کے رب کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے آتا ہے
2 ؎ تیسری شہادت کے لیے چاند کو پیش کیا جا رہا ہے جب وہ سورج کے غروب ہونے کے بعد طلوع ہوتا ہے یا روشنی دینے کے قابل ہوتا ہے اور یہ بات سب کو معلوم ہے کہ تقریباً پہلے پندرہ روز ایسا ہی ہوتا ہے کہ ادھر سورج غروب ہوا اور ادھر چاند نظر آیا لیکن آخری نصف ماہ میں چاند پہلے نظر آتا ہے یعنی رات کو اور سورج بعد میں طلوع ہوتا ہے ۔ یہ دوسری بات ہے کہ سورج جب روشن ہوجاتا ہے تو چاند کی روشنی ماند (Dim) پڑجاتی ہے اور وہ روشن دکھائی نہیں دیتا۔ ( تلھا) وہ اس کے پیچھے ہوا ( تلھا) تلو سے جس کے معنی پیچھے پیچھے چلنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ( ھا) ضمیر واحد مؤنث غائب اصل میں ( تلیٰ ) کا استعمال کسی چیز کی متابعت اور پیروی کرنے کے لیے ہوتا ہے ۔ پیروی کبھی جسم کے ذریعہ پیچھے پیچھے چل کر ہوتی ہے اور کبھی حکم کی اقتدار کرنے سے اس صورت میں اس کا مصدر تلو اور تلو آتے ہیں اور کبھی پیروی پڑھنے اور معنی میں غور کرنے سے حاصل ہوتی ہے اس کے لیے تلاوۃً کا مصدر استعمال ہوتا ہے ۔ زیر نظر آیت میں اتباع پر سبیل اقتداء اور مرتبہ میں پیچھے ہونا مراد ہے کیونکہ چاند کی روشنی سورج کی روشنی کے مقابلہ میں بہت ہی کم ہے اور یہ بھی کہ چاند کی روشنی میں حرارت نہیں ہوتی اگرچہ یہ نظریہ بھی صحیح اور درست نہیں ہے کہ چاند کی روشنی سورج سے مستعار ہے اگرچہ ایسی بات ہوتی تو وہ بھی یقینا گرم ہوتی اگرچہ سورج کی گرمی سے وہ بہت کم گرم ہوتی ، کیونکہ کل کی خاصیت جزء میں ہونا لازم و ضروری ہے اور جو جزو میں خاصیت ہوگی اس کا کل میں ہونا لازم و ضروری ہے۔
Ayah 91:3اور ان کے رب کی جب وہ اس آفتاب کو ظاہر کردیتا ہے
3 ؎ اس جگہ چوتھی شہادت ان کی پیش کی جا رہی ہے کہ جب وہ سورج کو روشن کردیتا ہے یعنی دن جب چڑھتا جاتا ہے ، سورج کی روشنی بھی زیادہ تیز ہوتی جاتی ہے ۔ ( جلھا) اس کو روشن کیا ، اس کو ظاہر کیا ( جلی) تجیلۃ سے جس کے معنی ہیں ظاہر کرنا۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب (ھا) ضمیر واحد مؤنث غائب ۔ ضمیر منصوب کا مرجمع سورج بھی ہو سکتا ہے جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے اور اس کا مرجمع امور غیر مذکورہ بھی ہو سکتے ہیں جیسے زمین ، دنیا اور اس وقت معنی ہوں گے کہ دن کے رب کی قسم جب وہ ساری زمین کو روشن کر دے اور دوسرا اسکا پر تو اور سایہ ہے اور جو کچھ اصل ہے وہی اس کا سایہ بھی ہو سکتا ہے ۔
Ayah 91:4اور رات کے رب کی قسم جب وہ آفتاب کو چھپا لے
4 ؎ پانچویں شہادت رات کے آنے کی ہے جس کا نتیجہ وہی ذکر کیا گیا ہے جو ہر ایک انسان مشاہدہ کر رہا ہے کہ جب رات آتی ہے تو جس علاقہ میں رات ہوتی ہے اس علاقہ میں سورج کو اپنے اندھیروں میں لپیٹ لیتی ہے اب چاہے یوں کہہ لو کہ رات سورج کو لپیٹ لیتی ہے اور چاہے اس طرح کہو کہ سورج رات کو آنے کی دعوت دے دیتا ہے کہ میں جا رہا ہوں تم مرری جگہ اپنا اندھیرا میرے آنے تک ڈال دو اور اتنے حصہ کو سیاہ کر دو یعنی میرے پہلے جانے کی تصدیق کر دو اور ہم روز مرہ زندگی میں دیکھ رہے ہیں کہ رات دن کی کمی بیشی ہوتی ہے تو اس کے لیے بھی ایک نظام قائم ہے بغیر نظام کے وہ نہیں آتی اور نہ ہی بغیر نظم و نسق کے سورج کا طلوع اور غروب ہوتا ہے ۔ کیونکہ اگر اس کے لیے باقاعدگی نہ ہوتی تو عین ممکن تھا کہ کل رات دس گھنٹے کی تھی تو آج چودہ گھنٹے کی ہوتی یا کل دن اگر گیارہ گھنٹے کا تھا تو آج تیرہ گھنٹے کا ہوتا حالانکہ ایسا ممکن ہوا اور نہ آئندہ کبھی ہوگا پھر باقاعدگی خود اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا آنا جانا کسی صاحب اختیار اور صاحب اقتدار کے ہاتھ میں ہے جس نے اس کو باقاعدہ آنے جانے کا پابند کردیا ہے اور آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اس رات کے آنے جانے میں بےقاعدگی ہوئی ہو اور نہ ہی ایسا ممکن ہے جب تک یہ نظام قائم ہے۔
Ayah 91:5اور آسمان اور اس کے بنانے والے رب کی قسم
5 ؎ یہ چھٹی شہادت آسمان کی شہادت ہے کہ آسمان پر نظر غائر ڈالر کہ اس کو بنانے والے نے اس کو کس طرح بنا دیا ہے کہ سورج جو اس زمین سے بھی سینکڑوں گنا بڑا ہے وہ اس خلا میں اس طرح تیرتا نظر آتا ہے جیسے تیرے اس بہت بڑے صحن میں ایک جگنو چمک رہا ہو اور وہ اس سے زیادہ اس کی اس خلا میں کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ تیری یہ زمین بھی تو اس خلا میں ایک سیارہ ہے جیسے کہ دوسرے سیارے اور ستارے نظر آ رہے ہیں پھر یہ کہ جن جن چیزوں کا نام لیا جا رہا ہے ان سب کا پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہے اور صرف پیدا ہی کرنے والا نہیں بلکہ ان سب کو ایک نظام میں منسلک کرنے والا بھی ہے اور ایک نظام میں منسلک کر کے چلانے والا بھی ہے اور جب تک ان کا قیام ہے اس کے قیام کرنے سے ہے اور جب تک یہ نظام قائم ہے اس نظام کے قائم کرنے والے ہی سے قائم ہے کسی دوسرے کے اختیار میں ان میں سے کسی کا یا سب کا پیدا کرنا نہیں اس طرح ان میں کسی ایک یا سب کا چلانا بھی نہیں ہے۔
Ayah 91:6اور زمین اور اس کو بچھانے والے رب کی قسم
6 ؎ یہ ساتویں شہادت ہے کہ غور کرو اس زمین پر جس زمین پر تم بس رہے ہو اس زمین کو بچھانے والے نے اس کو کس طرح بچھا دیا ہے اور پھر صرف بچھا ہی نہیں دیا بلکہ اس میں اتنی صلاحیتیں ودیعت کردی ہیں کہ ہر ایک چیز کو اس زمین سے نکالا جا رہا ہے اور اس میں واپس لوٹایا جا رہا ہے اور چیزیں اتنی ہیں کہ اگر ان کو شمار کیا جائے تو ان کا شمار کرنا اتنا آسان نہیں بلکہ ان کو جاننا اور سب کا علم رکھنا بھی آسان کام نہیں ہے اپنے ارد گرد اگر تم نظر دوڑائو گے تو معلوم ہوگا کہ واقعی ان کا علم حاصل کرنا اور جاننا کوئی آسان کام نہیں ہے لیکن ان کا تعلق مکمل طور پر اس زمین کے ساتھ ہے ۔ سینکڑوں قسم کی اجناس ، سبزیاں ، ترکاریاں اور چارے ہیں اور دوسری جڑی بوٹیاں ہیں جو خود رو ہیں وہ ان کے علاوہ ہیں لیکن ان سب کا پیدا ہونا اس سے ہے اور ختم ہو کر اس کے اندر رہ جانا ہے ۔ اس سارے نظام کی وضاحت کی جائے تو اس کے لیے بیسیویں اوراق سیاہ کرنے پڑیں ۔ ہم نے صرف آپ کے لیے اشارہ کیا ہے تم ایک ایک پر خود غور و فکر کرتے جائو تو حقیقت تم پر واضح ہوتی جائے گی ( طحھا ) اس کو پھیلایا ۔ اس کو بچھایا طحی طحو سے جس کے معنی کسی چیز کو بچھانے اور پھیلانے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ امام فخر الدین رازی نے لکھا ہے کہ : طحو اور دحو کے ایک ہی معنی ہیں اور ان دونوں میں بسط ہے یعنی پھیلانے کا مفہوم پایا جاتا ہے اور طاء کا دال سے بدلنا جائز ہے اس جگہ پانچویں اور چھٹی آیت میں جو ( ما) کا حرف آیا ہے اس پر بھی بہت بحث کی گئی ہے اور ( ما) کی بحث ویسے بھی بہت لمبی ہے ہم نے ترجمہ میں ( ما) کو من کے مترادف سمجھ کر ترجمہ کیا ہے اس لیے کہ مترجمین کا اسی طرف رجحان ہے لیکن ہم نے بتا دیا ہے کہ جن لوگوں نے اس کا ترجمہ (ما) موصولہ سمجھ کر کیا ہے یعنی جو یا جیسا کہ اس طرح معنی کرنے سے مفہوم واضح ہوجاتا ہے ۔ آسمان کے رب کی قسم اور جیسا کہ اس نے اس کو بنایا ہے ۔ زمین کے رب کی قسم اور جیسا کہ اس نے اس کو بچھایا ہے یا پھیلایا ہے دونوں طرح ترجمہ بھی صحیح ہے اور اس کے مفہوم میں بھی کوئی فرق نہیں پڑتا بلکہ دونوں طرح ترجمہ ایک جساب ہی ہے بلکہ پہلے سے دوسرا زیادہ واضح ہے اور زیادہ وسعت کا حامل ہے ۔ اور سچی بات یہ ہے کہ یہ سب کے سب استعارات و اشارات ہیں جن کے مفہوم میں بہت بڑی وسعت ہے اور پہلے سے اب زیادہ وسعت ہے اور آج سے آئندہ اس کی وسعت زیادہ ہوگی اس لیے کہ استعارات و اشارات کے بیان کا فائدہ ہی یہ ہے کہ اس میں آنے والے زمانہ کے لیے مفہوم مخفی رکھا جاتا ہے اور جوں جوں زمانہ آگے بڑھتا جاتا ہے اس کے مضمون میں وسعت آتی جاتی ہے اور یہی معاملہ ان استعارات میں ہو رہا ہے۔
Ayah 91:7قسم ہے انسان اور اس کے درست کرنے والے رب کی
7 ؎ (نفس) اسم مفرد و نکرہ مجرور جان مراد شخص نفسا ً اسم مفرد نکرہ منصوب ، خان ، مراد شخص سب سے زیادہ استعمال قرآن کریم میں مجرور کا ہوا ہے اور اس کے بعد منصوب کا اور معنی میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ زیر نظر آیت میں مجرور استعمال ہوا ہے اور یہ ایک ترجمہ تو وہ ہے جو ہم نے متن کے تحت درج کردیا ہے اور دوسرے معنی ہیں قسم ہے انسان کے رب کی اور جیسا کہ اس نے اس کو درست کیا ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ، اس کو ظاہری ساخت اور اس کے ظاہری اور باطنی حواس میں غور و فکر اور فہم و ادراک کی صلاحیتیں جس علیم و حکیم نے رکھی ہیں اس نے نہایت ہی خوبصورتی کے ساتھ اور سلیقہ شعاری کے ساتھ رکھی ہیں اور نہ صرف یہ کہ اس کو تخلیق کردیا ہے بلکہ اس کی حفاظت و نگہبانی بھی کر رہا ہے ۔ اس کی ہدایت کا سامان بھی کیا ہے اور اس کی خوراک کا سارا بندوبست بھی اسی کا بنایا اور چلایا ہوا ہے اور وہی اس کی حفاظت و نگہبانی کر رہا ہے ۔ اسی طرح آٹھویں شہادت جو انسان کی اپنی شخصیت کی ہے اور اس کے بعد وہ مضمون بیان کیا گیا ہے جس کو آٹھ شہادتوں سے مؤکد کرنے کے بعد بیان کیا گیا ہے۔
Ayah 91:8پس اللہ نے نفس انسان پر برائی اور تقویٰ اچھی طرح کھول دیا ہے
8 ؎ ( فالھمھا) الھمہ اللہ الرشد ۔ مکنہ فی قلبہ او ھداہ الیہ ۔ زیر نظر آیت کا ترجمہ اور مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ای القی فیھا احساسا ً تفرق بہ بین الضلال والھدیٰ ولعل ھذا الا احساس ھو الذی یسمی فی عصر نا الحاضر بالضمیر (معجم الفاظ القرآن الکریم) ( الھمھا) اس کو سمجھ دی ، اس کو القا کیا الھم الھام سے جس کے معنی کسی چیز کے دل میں ڈال دینے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ( ھا) ضمیر واحد مؤنث غائب ( الھام) لھم سے مآخوذ ہے جس کے معنی نگلنے کے ہیں چونکہ الہام میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو بات ڈالی جاتی ہے وہ دل کی تہوں میں اتر جاتی ہے اس لیے اس کا نام الہام ہے ۔ آٹھ قسموں یا شہادتوں کے ساتھ جس بات کو مؤکد کیا گیا ہے اس کی اہمیت کو مزید بیان کرنے کی ضرورت نہیں یہ فقط ان شہادتوں یا قسموں پر نظردوڑا لینا کفایت کرتا ہے اور اس کے بعد جو مضمون بیان کیا ہے اس پر نظر ڈالنے کی ضرورت ہے اور یہ نظر بھی سرسری نظر نہیں ہونی چاہیے بلکہ خوب غور و فکر اور سمجھ سوچ کر نظر ہونی چاہیے کہ جو کلام الٰہی اور اس کو اتنی شہادتوں اور گواہیوں کے بعد پیش کیا گیا ہے جس کے لیے الفاظ تو مختصر اختیار کیے گئے ہیں لیکن مضمون ان الفاظ میں بہت سما گیا ہے ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر شخص کو نیک و بد ، حق و باطل اور صحیح اور غلط میں تمیز کرنے کا شعور دیا ہے اس لیے وہ فی نفسہٖ اچھی اور بری چیزوں میں پوری طرح امتیاز کرسکتا ہے اگر وہ شعور سے کام بھی لے صرف اندھی تقلید اور اللہ بخشے دادی جان نے یہ فرمایا اور بسم اللہ کا ثواب ہو ہمارے دادا جان یہ فرمایا کرتے تھے انہی باتوں پر اکتفا نہ کر بیٹھے ۔ معلوم ہوا کہ ہر انسان کو اللہ تعالیٰ نے جتنا شعورعطا فرمایا ہے اس سے کام لینا بھی اس پر فرض قرار دیا ہے اگر کوئی شخص جتنا کہ اس کو شعور عطا کیا گیا ہے اتنا بھی اس سے کام نہیں لیتا بلکہ اندھی تقلید پر اکتفا کرتا ہے تو یہ اس کی گمراہی ہے جس کا وبال یقینا اس کے سر پر ہے اور جو بات کسی کے شعور سے زیادہ ہے اس کے لیے وہ یقینا جوابدہ بھی نہیں ۔ اب غور کرو کہ کیا شعور میں سارے انسان برابر برابر ہیں ؟ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر ان سے استفسار بھی تو ان کے شعور ہی کے مطابق لیا جانا ہے اس لیے جب کسی انسان کے شعور سے زیادہ کا مطالبہ ہی نہیں ہے تو انسان کو ان فرضی آسروں اور سہاروں کی ضرورت کیا ہے ؟ ہر انسان سے مطالبہ تو اس بات کا ہے کہ جب وہ شعوربیدار ہونے کے بعد دوسروں کی تقلد کا پابند نہیں تھا تو اس نے اس کی پابندی کو کیوں لازم قرار دے لیا اور آبائو اجداد کی رسومات اور باپ دادا کے مذہب کا پابند کیوں ہوا۔ اس نے براہ راست سوچنے اور سمجھنے والی بات کو دوسروں کے سہارے کیوں چھوڑ دیا ۔ باقی ساری چیزیں جو فطری تھیں ان کو اس نے بغیر کسی کے سکھانے کے سیکھ لیا تو اس کے لیے دوسروں کی سمجھ سے کام لینا اس نے کیوں ضروری سمجھا اور جو اس کی ذمہ داری تھی اس نے اس کو کیوں پورا نہ کیا اس نے اپنی ذمہ داری کو پیروں بزرگوں ، مولویوں اور مذہبی رہنمائوں کے سپرد کیوں کردیا اور کیوں ان نے ان کی باتوں کو سن کر ، سمجھ کر اس میں اپنی عقل و فکر سے کام لینا حرام قرار دے دیا ۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے ودیعت کردہ دین اسلام کو سمجھنے کی براہ راست کوشش کیوں نہ کی ۔ اس نے اپنی ذمہ داری کو دوسروں کے سپرد کیوں کردیا ؟ اللہ تعالیٰ کی الہام کردہ ہدایت اور گمراہی کی تیزم سے فائدہ حاصل کیوں نہ کیا اور اگر اس نے اس معاملہ میں کوتاہی کی تو وہ عند اللہ مجرم ٹھہرا۔ اس نے اپنی بدی اور نیکی کی تمیز کو دوسرے کے حوالے کیوں کردیا جب کہ اس سے کام لینا اس کا ذاتی فرض تھا۔ اس آیت کے پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے رسول محمد رسول اللہ ﷺ نے اس سورت کے درمیان اس آیت کے پڑھنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ کر امت کو واضح طور پر سبق سکھا دیا کہ اس آیت کا مطالبہ کیا ہے اور اس کو کیسے پورا کیا جاسکتا ہے ؟ آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی اور اس کے بعد فرمایا : (اللھم ات نفس تقوھا وزکھا انت خیر من زکھا انت ولیھا و مولھا) ” اے اللہ ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور تو ہی اس کو پاک فرماتو بہترین پاک کرنے والا ہے تو ہی اس کا مالک اور مدد گار ہے “۔ ( قرطبی)
غور کرو کہ زیر نظر آیت نے کس طرح تقلید کی جڑیں کاٹ دیں اور کس طرح ہر انسان کو اس کی اپنی ذمہ داری سے آگاہ کردیا اور کس طرح واضح کردیا کہ دین کی باتوں کی تفہیم انسان کی اپنی ذمہ داری ہے اس کے لیے دوسروں پر انحصار کرنا سراسر جہالت اور کور چشمی ہے لیکن ہمارے ہاں مذہبی رہنمائوں اور ٹھیکہ داروں نے دین پر کس طرح قبضہ جما کر اس کی باگیں اپنے ہاتھ میں لے لی ہیں اور جس طرف چاہتے ہیں گھوڑے کو دوڑاتے پھرتے ہیں اور اس فطری ذمہ داری کو کیوں باور نہیں کراتے کہ یہ سارے انسانوں کی اپنی اپنی ذمہ داری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کا اطلاق بلوغت کے بعد کیا ہے۔ بلوغت سے پہلے کی زندگی کو بےسنوری زندگی قرار دے کر مرفوع القلم کردیا ہے۔ والدین اور معاشرہ کی ذمہ داری فقط شعور آنے کے بعد لازم ٹھہرائی ہے اور بلوغت کے بعد فقط اس کی آزمائش کرلینے پر اکتفا کیا ہے۔ ہاں ! اگر کسی وجہ سے اس کا شعور بیدار نہیں ہوا تو اس کی بیداری تک انتظار کرلینے کی تلقین کی ہے لیکن جب شعور آجائے اور اس میں بیداری پیدا ہوجائے تو اس کے سارے معاملات اس کے سپرد کردیئے ہیں اور اس کو نفع و نقصان کا مالک ٹھہرایا ہے اور اس کے کیے ہوئے اعمال کی ان پر گرفت کی ہے اور اس کو ذمہ دار قرار دیا ہے اور اس طرح ہر معاملہ میں سوچ سے کام لیتا اس کے ذمہ لازم قرار دیا ہے تو دین اور مذہب کے معاملہ میں بھی وہ بذاتہٖ پابند ہے کہ اس معاملہ میں غور و فکر کر کے اپنے شعور کے مطابق اس کو سمجھنے کی سعی و کوشش کرے۔ اگر وہ اس میں کوتاہی کرتا ہے تو اس کو اس کی کوتاہی کی سزا ملنا فطرۃ ً ضروری ہے پھر جس طرح اس کو سیدھی راہ پر چلنے کا اجر ملنا ضروری ہے اس طرح کج روی اختیار کرنے کی سزا ملنا بھی لازم ہے اور اس بات کا زیر نظر آیت میں اعلان کیا گیا ہے اور آنے والی آیت اس کی مزید وضاحت کررہی ہے۔
Ayah 91:9جس نے نفس کو پاک کیا وہ اپنے مقصود کو پا گیا
9 ؎ گزشتہ آیت کے مضمون کی اس آیت نے مزید وضاحت کردی ۔ ایک تو یہ کہ ہر فرد و بشر اپنے تزکیہ نفس کا خود ذمہ داری ہے کسی ایک نفس کے متعلق بھی کسی دوسرے نفس سے باز پرس نہیں ہوگی خواہ وہ کون ہو ، کہاں ہو اور کیا ہو ؟ اس لیے واضح الفاظ میں ہر انسان کو ذمہ دار قرار دے کر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس نے اپنے نفس کو پاک کیا وہ دونوں جہانوں میں کامیاب و کامران ہوا اور جس نے اسے گناہوں کی خاک میں دبا دیا وہ خائب وخاسرہوا ۔ غور کریں کہ اس سے زیادہ وضاحت اور کس طرح کی جاسکتی ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو گناہوں سے پاک رکھتا ہے ، اپنے آپ کو اخلاق حسنہ سے آراستہ کرتا ہے اس کی فطرت سلیمہ نشو ونما پاتی ہے ، اس کی قوت و توانائی میں اضافہ ہوجاتا ہے ، ایسا شخص اپنے اندر ایسا عزم اور ہمت محسوس کرتا ہے کہ وہ مشکل سے مشکل کام کرنے کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے اور راہ میں حائل ہونے والی رکاوٹوں کو پرکاہ کی وقعت نہیں دیتا ۔ نہایت ثابت قدمی سے نیکی کی راہ میں گامزن رہتا ہے۔ اس کی زندگی کا دامن اعمال حسنہ اور روشن کارناموں سے لبریز ہوجاتا ہے ، اس کی روحانی قوتیں بیدار ہوجاتی ہیں اور آخر کار وہ اس منزل پر فائز ہوجاتا ہے کہ اس کو نفس کے پاک کرنے کا سرٹیفکیٹ دے دیا جائے۔ معلوم ہوگا کہ شعور آنے کے بعد یہ ذمہ داری ہر ذی نفس پر لازم آتی ہے اور یہی بات اس جگہ ارشاد فرمائی جا رہی ہے۔
Ayah 91:10اور جس نے اسے مٹی میں گاڑ دیا وہ نامراد ہو گیا
10 ؎ ( دسھا) اس کو خاک میں ملایا اس کو گاڑ دیا ۔ ( دسی) تدسیۃ سے جس کے معنی چھپانے اور گم نام کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مزکر غائب ( ھا) ضمیر واحد مؤنث غائب جس طرح تزکیہ اس کا ذاتی فعل قرار دیا بالکل اسی طرح گناہوں کی طرف مائل ہونے اور زمین کی طرف جھک جانے کو بھی اس کا ذاتی فعل قرار دیا گیا ہے۔ فرمایا جس نے اپنے نفس کی صلاحیتوں کا گلا گھونٹ اور گناہوں کے ڈھیر کے نیچے اس گوہر یکتا کو دبا دیا اور اپنی قوتوں کا غلط استعمال کر کے نا شکری کی انتہاء کردی اور وہ شخص اپنی بد نصیبی اور محرومی کا جیتا بھی ماتم کرے کم ہے۔ پھر اگر اس نے اس زندگی کے اندر کسی بھی موڑ پر پچھتاوا شروع کیا تو اس کی اصلاح ممکن ہے اس لے اس کی یہ بد بختی اور بد نصیبی کو خوش نصیبی اور نیک بختی حاصل ہو سکتی ہے لیکن اگر ساری زندگی اس نے اسی طرح اپنے آپ کو تقلید کے پھندوں میں گاڑے رکھا اور اصلاح کی طرف اس کا دھیان ہی نہ گیا تو گویا اس نے اپنے آپ کو تباہ و برباد کرلیا اور اس طرح وہ خائب و خاسر ہو کر رہ گیا ۔ مختصر یہ کہ آپ اس بحث کا دائرہ جتنا کھولتے چلے جائیں گے یہ بات آپ پر پرورش سے روشن تر ہوتی چلی جائے گی کہ سیدھی راہ پانا یا گم کردینا ہر انسان کی اپنی ذمہ داری ہے اور کوئی شخص بھی اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ وہ اپنی جگہ کسی دوسرے کو ذمہ دار بنا دے خواہ وہ کوئی ہو ، کون ہو اور کہاں ہو ؟ اور اس سے تقلید ، پیری مریدی اور اسی قبیل کی ساری دوسری بد اعتدالیوں کا ان آیات نے خاتمہ کردیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے بار بار اعلان کیا ہے کہ قیامت کے روز کوئی رشتہ داری ، کوئی تعلق اور کوئی سبب بھی کسی کے کام نہیں آئے گی ۔ باپ بیٹے کی جگہ ، ماں بیٹی کی جگہ ، بیٹا باپ کی جگہ اور بیٹی ماں کی جگہ ، بھائی بھائی کی جگہ ، میاں بیوی کی جگہ اور بیوی میاں کی جگہ کوئی دوست یار کسی دوست اور یار کی جگہ پکڑا نہیں جائے گا بلکہ ہر ایک شخص خواہ وہ کون ہے ، کہاں ہے اور کیسا ہے خود اپنے عمل کا ذمہ دار ہے اور اسی کے بارے میں اس سے پوچھا جائے گا ۔ ایک دوسرے کے عوض ہرگز ہر گزدھر نہیں لیا جائے گا ۔ نہ کوئی قوم کسی قوم کے بدلے پکڑی جائے گی اور نہ کوئی فرد کسی دوسرے فرد کے بدلے میں پکڑا جائے گا ۔ اب اس سلسلہ میں مثال دے کر بات کو مزید واضح کیا جا رہا ہے جیسا کہ آنے والی آیت نے وضاحت کردی ہے۔
Ayah 91:11ثمود قوم نے اپنی سر کشی کے باعث صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا
11 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ غور کرو کہ صالح اور قوم ثمود ایک ہی قوم اور جماعت سے تعلق رکھتے تھے لیکن صالح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے ان ہی کی قوم کی طرف رسول بنا کر مبعوث فرما دیا ۔ قوم ثمود کی اکثریت نے صالح (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ کے رسول ہونے کے ناطہ سے اپنی سر کشی کے باعث صالح (علیہ السلام) کو جھٹلا دیا اور پھر جھٹلاتے ہی چلے گئے ۔ اس طرح گویا اقلیت اور اکثریت کا مقابلہ ہوگیا ۔ باوجود اس کے کہ اقلیت کے پاس حق تھا اور اکثریت باطل پر ڈٹی ہوئی تھی اس دنیا کی زندگی میں قانون الٰہی کے مطابق اس کا مظاہرہ اس صورت میں نظر آیا کہ اکثریت نے اقلیت کر دبا لیا اور اقلیت کو اس قدر تنگ کیا کہ اقلیت بھاگ جانے پر مجبور کردی گئی لیکن اکثریت کے مقابلہ میں اقلیت نے انجام کار قانون الٰہی کے مطابق فتح حاصل کی ۔ قوم ثمود کا ذکر پیچھے بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے تفصیل کے لیے عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم میں سورة الاعراف کی آیت 73 تا 78 ، جلد چہارم میں سورة ہود کی آیت 61 تا 68 ، جلد پنجم سورة الحجر کی آیت 80 سے 86 ، جلد ششم سورة النحل کی آیت 45 تا 50 ، جلد ہشتم سورة فصلت کی آیت 17 ، 18 سورة النجم آیت 53 ، 54 سورة القمر کی آیت 32 ، 31 جلد نہم سورة الحاقہ کی آیت 4 ، 5 میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 91:12جب ان میں سے ایک بد بخت اٹھ کر کھڑا ہو گیا
12 ؎ قوم نے صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور پھر جھٹلاتی ہی چلی گئی اور انجام کار قانون الٰہی حرکت میں آیا اور وہ مہلت جو صالح (علیہ السلام) کی قوم کو دی گئی تھی اس کے خاتمہ کا وقت قریب آگیا تو اس نے یعنی صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے قوم کو اطلاع کردی کہ میری یہ اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے پھر میں تبلغ کا کام کرتا ہوں کہ اگر تم نے اس کو چنگے چرنے کی اجازت دی اور اس کو کوئی گزند نہ پہنچائی تو تم اپنی جگہ کام کرتے رہو گے لیکن اگر تم نے اس اونٹنی کو قتل کیا تو گویا تم نے عذاب الٰہی کو دعوت دے دی اور جس نے عذاب الٰہی کو دعوت دی کیا اس کے باقی رہنے کی کوئی صورت رہی ؟ قوم کے لوگوں نے جب صالح (علیہ السلام) کی یہ بات سنی تو انہوں نے اونٹنی کو گزند پہنچانے کا مشورہ مکمل کرلیا اور بد بخت جو اس کام کے لیے تیار ہوگیا ، اس کا نام قدار بن سالت بتایاجا رہا ہے جو سارے ثمودیوں میں پرلے درجے کا شریر اور مفسد انسان تھا لیکن اس خبیث النفس کو ساری قوم کی تائد حاصل تھی اس لیے ساری قوم کو سزا ملی۔ ادھر اونٹنی کو انہوں نے قتل کیا ادھر عذاب الٰہی نے ان کو آ لیا اور اس پوری قوم کے چہرے اس قدر زرد پڑگئے جیسا کہ خوف کی ابتدائی حالت میں ہوا کرتا ہے اور پھر دوسرے روز سب کے چہرے سرخ ہوگئے ۔ جس سے معلوم ہوتا تھا کہ خوف و دہشت کا یہ دوسرا درجہ تھا اور تیسرے روز ان کے چہرے سیاہ پڑ نے شروع ہوگئے اور ان پر تاریکی چھا گئی اور یہ خوف و دہشت کا تیسرا درجہ ہے جس کے بعد موت ہی کا درجہ باقی رہ جاتا ہے ۔ اب جب کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف جرم کرچکے ہیں اور اس کی پاداش میں صالح (علیہ السلام) کی ہولناک خبر سنی تو ان پر خوف و دہشت کے وہ فطری رنگ اور نقوش نمایاں ہوئے جو موت کے یقین کے وقت خوف و دہشت سے مجرموں کے اندر پیدا ہوا کرتے ہیں ۔ بہرحال ان تین دنوں کے بعد وقت موعدآ پہنچا اور رات کے وقت ایک ہیبت ناک آواز نے ہر شخص کو اسی حالت میں ہلاک کردیا جس حالت میں وہ تھا ۔ قرآن کریم نے اس ہلاکت آفرین آواز کو کسی جگہ ( صاعقہ) اور کسی جگہ ( رجفہ) اور کسی جگہ ( طاغیہ) اور کسی جگہ ( صیحہ) سے تعبیر کیا ہے اور یہ تمام تعبیرات ایک ہی حقیقت کے مختلف اوصاف کے اعتبار سے کی گئی ہیں تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کے اس عذاب کی ہولناکیاں کیسی گونا گوں تھیں تم ایک ایسی کوندنے والی بجلی کا تصور کرو جو بار بار اضطراب کے ساتھ چمکتی ، کڑکتی اور گرجتی ہو اور اس طرح کوند رہی ہو کہ کبھی مشرق میں ہو تو کبھی مغرب اور جب ان تمام اوصاف کے ساتھ چمکتی ، کوندتی ، گرجتی ، لرزتی لرزاتی ہوئی کسی مقام پر ایک ہولناک چیخ کے ساتھ گرے تو اس مقام اور اس کے نواح کا کیا حال ہوگا ؟ یہ ایک معمولی اندازہ ہے اس عذاب کا جو ثمود کی قوم پر نازل ہوا اور ان کو اور ان کی بستیوں کو تباہ و برباد کر کے سر کشوں کی سر کشی اور مغروروں کے غرور کا انجام کرنے کے لیے آنے والی نسلوں کے سامنے عبرت پیش کر گیا ۔
Ayah 91:13ان کے رسول صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری کا خیال کرو
13 ؎ صالح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس اونٹنی کو جس پر وہ تبلیغ کا کام کرتے تھے قوم کے لیے ایک نشان قرار دے دیا اور یہ بات آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ارشاد فرمائی تھی اور اس اونٹنی کو اللہ کی اونٹنی قرار دیا اور یہ ایسا ہی ہے جیسے ہم مسجد کو اللہ کا گھر ، اوقاف کو وقف اللہ ، غربا و مساکین کے لیے خرچ کرنے کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اسی طرح اس اونٹنی کو جس کو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ایک نشانی بتایا گیا ، اللہ کی اونٹنی قرار دیا ہے اور اس کی اونٹنی کے پانی پینے کا ذکر خصوصاً کیا گیا ہے اس لیے قوم کے لوگ اپنے چشمہ سے اس کو پانی پینے سے روکا کرتے تھے اس لیے ان کو کہا گیا کہ آئندہ ایسی حرکت نہ کریں اور صالح (علیہ السلام) کا روکنا ان کے لیے باعث ہلاکت ہوا کہ اب وہ اس کا ایک گھونٹ بھی وہاں بھرنے نہ دیں گے کیونکہ انہوں نے صالح (علیہ السلام) کی مخالفت کا بڑقا اٹھایا تھا۔
Ayah 91:14انہوں نے صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں
14 ؎ جیسا کہ اوپر ذکر کیا جاچکا ہے کہ جس چیز سے ان کو صالح (علیہ السلام) نے منع کیا اس کو انہوں نے بڑے شوق و ذوق سے کیا اور آپ کی مخالفت میں وہ وہی کام کرنے پر تل گئے جس سے صالح (علیہ السلام) نے ان کو منع کیا تھا۔ (فعقروھا) عفر کے معنی ہیں اس نے کونچیں کاٹ دیں عفر سے جس کے معنی کونچیں کاٹنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکرغائب۔ کونچیں کہتے ہیں پائوں کے پٹھوں کو جو پیچھے کی طرف ایڑی کے پاس ہوتے ہیں ۔ عربوں میں دستور تھا کہ جب وہ اونٹ کو ذبح کرتے تھے پہلے اس کی کونچیں کاٹ دیتے تاکہ وہ بھاگ نہ پائے پھر اس کو نحر کرتے تھے اور پھر یہی طریقہ اونٹ کو ذبح کرنے کے لیے خاص ہوگیا اس لیے اس کے لیے عقر کا لفظ بولا جاتا ہے اور اس پر نحر کرنے کا لفظ بھی اطلاق کرتا ہے۔ ( فد مدم) دمدم کے لفظی معنی ہیں اس نے الٹ مارا ، اس نے دے مارا ، اس نے تباہی لا ڈالی ۔ اس نے ہلاکت ڈال دی ۔ دمدمۃ سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب جس کے معنی ہلاک کرنے اور غصہ کرنے کے آئے ہیں ۔ اس کا اصل مادہ دم دم ہے اور اس مادہ کا یہ صرف ایک ہی لفظ قرآن کریم میں آیا علاوہ اس کے اور کوئی لفظ استعمال نہیں ہوا ۔ ( فسوھا) کا لفظ پیچھے آیت میں بھی گزر چکا ہے اس کا مادہ س و ی ہے اور اس مادہ کے بہت سے الفاظ قرآن کریم میں استعمال کیے گئے ہیں ۔ اس کے معنی میں ” اس کو برابر کیا “۔ اور ” اس کو پورا بنایا “ اس میں ( ھا) ضمیر واحد مؤنث غائب ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اگرچہ ان کی کثریت تھی اس باعث کہ انہوں نے اللہ کے رسول کو جھٹلایا اور اس کی نشان مقرر کردہ اور اونٹنی کو قتل کردیا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو ہلاک کردیا اور ان کے گناہوں کے باعث پیوند خاک کردیا اور ان میں سے کسی ایک انسان کو بھی اللہ تعالیٰ نے باقی نہ چھوڑا ۔
Ayah 91:15اور ان کے انجام کی بھی پرواہ نہ کی
15 ؎ یہ شروع سے سنت چلی آرہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام اور رسل عظام (علیہ السلام) کو بھیجا اور جس قوم کی طرف بھی اللہ تعالیٰ کا کوئی نبی و رسول آیا اور قوم نے رسول کی بات کو ماننے سے انکار کردیا تو انجام کار قوم کو غرق کیا گیا ۔ آپ نوح (علیہ السلام) سے شروع ہو کر عیسیٰ (علیہ السلام) تک کے سارے نبیوں اور رسولوں کے تذکار پڑھ کر پڑھ لیں کہ نہ ماننے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے کیا کیا کہ اس دنیا میں ان کو عذاب الٰہی میں غرق کردیا گیا اور یہی حال قوم ثمود کے ساتھ بھی ہوا ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب ان پر آیا تو ان کے متعلق اللہ تعالیٰ کو کوئی خوف نہ تھا کہ اگر ان کو اس طرح تباہ و برباد کردیا گیا تو پھر اس کا انجام ہوگا ؟ کیونکہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے اس کو کسی کی احتیاج نہیں اور کسی کی پرواہ نہیں بلا شبہ قوم ثمود اپنے عہد عروج میں بڑی نامور قوم تھی دیگر قبائل و اقوام کے ساتھ ان کے دوستانہ مراسم بھی تھے اور انہوں نے ایک دو سے معاہدے بھی کر رکھے تھے کہ جب کوئی تخت و تاج کرے تو سب مل کر حملہ آوروں کا مقابلہ کریں گے ۔ فرمایا ثمود جیسی قوم کو تباہ و برباد کردینے کے نتائج کا مجھے کوئی خوف نہیں ان کے کسی حلیف قبیلہ یا دوست قوم کو یہ مجال نہیں کہ وہ ہم سے ان کی بربادی کا انتقام لے سکے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ان تمام خدشات سے ماوراء ہے۔ اس کی قوت کے سامنے کسی کو دم مارنے کی مجال نہیں ، وہ اپنے قانون کے تحت جس کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے اس کو تباہ و برباد کر کے رہتا ہے اور کوئی اس کو اس سے روک نہیں سکتا ۔ اس لیے یہ نظریہ بالکل جھوٹ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی کو پکڑ لے تو اس کی پکڑ سے بھی کوئی آدمی اس کو بچا سکے ، ہرگز نہیں نہ کبھی ایسا ہوا اور نہ ہی کبھی ایسا ہوگا ۔ اس مضمون پر ہم اس سورة الشمس کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں ۔ الحمد للہ اولہ واخرہ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔