Ayahs 91:1–3ان آیات میں اللہ تعالیٰ شانہ نے سورج کی اور اس کی روشنی کی قسم کھائی ہے اور چاند کی بھی قسم کھائی ہے اس میں اِذَا تَلٰىهَا کا بھی اضافہ فرمایا یعنی چاند کی قسم جب وہ سورج کے پیچھے سے آجائے یعنی سورج غروب ہونے کے بعد طلوع ہوجائے اس سے مہینوں کی درمیان یعنی تیرہ چودہ پندرہ تواریخ کی راتیں مراد ہیں ان راتوں میں جیسے ہی سورج غروب ہوتا ہے چاند نکل آتا ہے اور خوب زیادہ روشن رہتا ہے اور پوری رات اس کی روشنی کامل رہتی ہے جس طرح وضحھا فرما کر آفتاب کی کامل روشنی کی طرف اشارہ فرمایا اسی طرح چاند کے کمال نور کی طرف اِذَا تَلٰىهَا فرما کر اشارہ فرما دیا اس کے بعد دن کی قسم کھائی اور فرمایا ﴿ وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ003﴾ (قسم ہے دن کی جب وہ سورج کو روشن کر دے) یہ اسناد مجازی ہے چونکہ دن میں آفتاب کی روشنی ہوتی ہے اس لیے روشنی کو دن کی طرف منسوب فرما دیا۔
Ayahs 91:4–7پھر فرمایا ﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا۪ۙ004﴾ (اور قسم ہے رات کی جب وہ سورج کو چھپالے) یہ بھی اسناد مجازی ہے اور مطلب یہ ہے کہ قسم ہے رات کی جب خوب اچھی طرح تاریک ہوجائے اور دن کی روشنی پر چھا جائے۔ ﴿ وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ005﴾ (اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا) ﴿ وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ006﴾ (اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا) ۔ ﴿ وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ007﴾ (اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو اچھی طرح بنایا) ۔
ان تینوں آیتوں میں جو ما موصولہ ہے یہ مَنْ کے معنی میں ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی بھی قسم کھائی اور اپنی ذات کی بھی کیونکہ وہ ہی آسمان کو بنانے والا اور نفس کو بنانے والا ہے۔ نفس یعنی جان کی قسم کھاتے ہوئے ﴿وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ007﴾ بھی فرمایا مفسرین نے اس سے نفس انسانی مراد لیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نفس انسانی کو بنایا اور اسے جس قالب میں ڈھالا اس کے اعضا کو خوب ٹھیک طرح مناسب طریقہ پر بنا دیا اس کے اعضاء ظاہرہ بھی خوب اچھی طرح کام کرتے ہیں اور اعضاء باطنہ بھی عقل و فہم تدبر و تفکر ان سب نعمتوں سے نواز دیا۔
Ayahs 91:8–9﴿ فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ008﴾ (پھر نفس کو اس کے فجور اور تقویٰ کا الہام فرما دیا) جب اسے عقل و فہم سے اور اعضاء صحیحہ ظاہرہ و باطنہ سے نواز دیا تو اسے احکام کا مکلف بھی بنا دیا وہ اپنے خالق ومالک کو پہچاننے کا بھی اہل ہے اور اس کے اعضاء معبود حقیقی کی عبادت کرنے کی بھی قوت رکھتے ہیں، پھر چونکہ امتحان بھی مقصود تھا اس لیے انسان کے لیے دونوں راستے واضح فرما دیئے جسے ﴿ وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾ میں بیان فرمایا نفس انسانی میں فجور کے جذبات بھی ابھرتے ہیں یعنی معاصی کی طرف بھی ابھار ہوتا ہے اور خیر کے جذبات بھی امنڈتے ہیں خیر اور شر دونوں چیزیں نفس انسانی میں پیدا ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اس میں ڈالی ہیں اب انسان کی یہ سمجھداری ہے کہ وہ معاصی سے بچے اور خیر کے کاموں میں آگے بڑھے۔ ﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ009﴾ یہ جواب قسم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوقات میں چند چیزوں کی قسم کھائی جن کا وجود انسان کے سامنے ہے اور بہت واضح اور ظاہر ہے آسمان کو سب دیکھتے ہیں، زمین پر سب بستے ہیں اور سب پر رات دن گزرتے ہیں چاند سورج دونوں بڑی روشنی والی چیزیں ہیں۔ اور نفس انسانی تو سب کے ساتھ لگا ہی ہوا ہے ان سب چیزوں کی تخلیق اور ان کے تصرفات سب میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا مظاہرہ ہے انسان پر لازم ہے کہ اپنے خالق کو پہچانے اس کے احکام پر عمل کرے گناہوں سے بچے، طاعات میں لگے اگر ایمان قبول کیا۔ گناہوں سے بچا، نفس کو سنوارا اور سدھارا اور گناہوں کی آلائش اور گندگی سے بچایا تو وہ کامیاب ہوگیا اس کی دنیا بھی اچھی ہے اور آخرت بھی۔ سورة ٴ النور میں فرمایا ﴿ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ يَخْشَ اللّٰهَ وَ يَتَّقْهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠0052﴾ (اور جس نے اللہ کی اور اس کے رسول کی اطاعت کی اور اللہ سے ڈرا اور اس کے ڈر سے گناہوں سے بچا تو یہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں) ۔
Ayah 91:10﴿وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ0010﴾ (اور وہ شخص نامراد ہوا جس نے اسے میلا کیا) ۔
یہ سابقہ آیت پر معطوف ہے گزشتہ آیت میں یہ بتایا کہ جس نے اپنے نفس کو پاک اور صاف ستھرا کرلیا وہ کامیاب ہوگیا اور اس آیت میں یہ بتایا کہ جس نے اپنے نفس کو دبا دیا یعنی اس کو کفر و شرک و معاصی میں لگایا وہ ناکام رہا یہ لفظ تدسیس سے ماضی کا صیغہ ہے اصل میں دسسہا تھا مضاعف کے آخری حرف کو حرف علت سے بدل دیتے ہیں۔ یہاں پر بھی ایسا ہی ہوا ہے تدسیس لغت میں چھپانے کو کہتے ہیں یہاں چونکہ من زکھا کے مقابلہ میں وارد ہوا ہے اس لیے مفسرین نے یہ معنی لیے ہیں کہ جس نے اپنے نفس کو کفر و معصیت میں دبا کر چھپا دیا اسے انوار ایمان انوار طاعات سے چمکدار نہ بنایا وہ تزکیہ سے محروم رہا لہٰذا ہلاک ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ کی دعاؤں میں یہ بھی تھا : (اللھم اٰت نفسی تقواھا وزکھا انت خیر من زکھا انت ولیھا ومولاھا)
” اے اللہ ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما دے اور اس کو پاک کر دے تو سب سے بہتر پاک کرنے والا ہے تو اس کا ولی ہے اس کا مولیٰ ہے “۔
Ayahs 91:11–12﴿كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ0011﴾ (قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی وجہ سے جھٹلایا) یعنی ان کی سرکشی نے انہیں اس پر آمادہ کردیا کہ اللہ کے رسول کی تکذیب کردی اور اللہ کی توحید اللہ کی عبادت کی طرف جو انہوں نے بلایا اس میں انہوں نے ان کو جھوٹا بتادیا، وہ لوگ حضرت صالح (علیہ السلام) سے جھگڑتے رہے ان سے کہا کہ اگر تم نبی ہو تو پہاڑ سے اونٹنی نکال کر دکھاؤ۔ جب پہاڑ سے اونٹنی برآمد ہوگئی تو اب اس کے قتل کرنے کے لیے مشورے کرنے لگے۔ حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان کو بتادیا تھا کہ دیکھو ایک دن تمہارے کنویں کا پانی یہ اونٹنی پیے گی اور ایک دن تمہارے جانور پئیں گے اور یہ بھی بتادیا کہ اسے برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ عذاب میں گرفتار ہوجاؤ گے، لیکن وہ باز نہ آئے اور ایک شخص اس پر آمادہ ہوگیا کہ اس اونٹنی کو کاٹ ڈالے۔ اسی کو فرمایا ﴿ اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ0012﴾ (جبکہ قوم کا سب سے بڑا بدبخت آدمی اٹھ کھڑا ہوا) تاکہ اس اونٹنی کو قتل کر دے۔
Ayah 91:13﴿فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْيٰهَاؕ0013﴾ (تو اللہ کے رسول یعنی صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ اللہ کی اونٹنی سے اور اس کے پانی سے دور رہنا اس کے پانی پینے کو چھوڑے رکھو) ۔
Ayah 91:14یعنی اس اونٹنی کو کچھ نہ کہو اس کی باری کا جو دن ہے اس میں پانی پینے دو لیکن ان لوگوں نے نہ مانا ﴿ فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا 1۪ۙ۬ ﴾ (سو وہ برابر تکذیب پر جمے رہے اور اونٹنی کو کاٹ ڈالا) ان لوگوں نے نہ صرف یہ کہ اونٹنی کو کاٹ ڈالا بلکہ حضرت صالح (علیہ السلام) سے یوں بھی کہا ﴿يٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِيْنَ 0077﴾ (اے صالح لے آ وہ عذاب جس کی ہمیں تو دھمکی دیتا ہے اگر تو پیغمبروں میں ہے) لہٰذا ان لوگوں پر عذاب آ ہی گیا۔ ﴿ فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ0014﴾ (سو ان کے رب نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کو پوری طرح ہلاک کردیا اور ہلاکت کو ایسا عام کیا کہ کوئی شخص بھی نہیں بچا) ۔
ان لوگوں کی ہلاکت زلزلہ سے اور آسمان سے چیخ آنے کی وجہ سے ہوئی تھی ان کا واقعہ سورة ٴ اعراف، سورة ٴ ہود، سورة ٴ شعراء اور سورة ٴ نمل میں گزر چکا ہے۔
Ayah 91:15﴿وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا (رح) 0015﴾ اور وہ اس کے انجام سے نہیں ڈرتا یعنی اللہ تعالیٰ جس کسی کو ہلاک فرمائے کچھ بھی سزا دینا چاہے وہ اپنی مشیت و ارادہ کے مطابق سزا دے سکتا ہے وہ دنیا والے ملوک اور اصحاب اقتدار کی طرح نہیں جو مجرمین سے اور مجرمین کی اقوام سے بعض مرتبہ ڈر جاتے ہیں اور سزا نافذ کرنے میں تامل کرتے ہیں اور یہ سوچتے کہ اگر ہم سزا دینے کا اقدام کریں تو کہیں یہ اقوام بغاوت پر نہ اتر آئیں اور ہمارا اقتدار کھٹائی میں نہ پڑجائے۔
وھذا آخر تفسیر سورة الشمس وللہ الحمد
قولہ تعالیٰ ﴿وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا﴾ ای ضوء ھا کما اخرجہ الحاکم وصححہ عن ابن عباس والمراد اذا اشرقت وقام سلطانھا ﴿وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا﴾ ای تبعھا فقیل باعتبار طلوعہ وطلوعھا ای اذا تلا طلوعہ طلوعھا وذلک اول الشھر فان الشمس اذا طلعت من الافق الشرقی فی اول النھار یطلع بعدھا القمر لکن لا سلطان لہ فیری بعد غروبھا ھلالاً وقیل باعتبار طلوعہ وغروبھا ای اذا تلا طلوعہ غروبھا وذلک فی لیلة البدر رابع عشر الشھر وقال الحسن والفراء کما فی البحر ای تبعھا فی کل وقت لانہ یستضییٔ منھا فھو یتلوھا لذلک وقال الزجاج وغیرہ تلاھا معناہ واستدار فکان تابعاً لھا فی الاستدارة و کمال النور ﴿وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا﴾ ای جلی النھار الشمس ای اظھر ھا فانھا تنجلی وتظھر اذا انبسط النھار فالا ستناد مجازی کالا سناد فی نحو صام نھارہ وقیل الضمیر المنصوب یعود علی الارض وقیل علی الدنیا والمراد بھا وجہ الارض وما علیہ وقیل یعود علٰی الظلمة ووجلاھا بمعنٰی ازالھا وعدم ذکر المر جع علی ھذہ الاقوال للعلم بہ والاول اولٰی لذکر المرجع واتساق الضمائر ﴿وَ الَّيْلِ اِذَا يَغْشٰىهَا﴾ ای الشمس فیغطی ضوء ھا وقیل ای الارض وقیل ای الدنیا وجیئی بالمضارع ھنادون الماضی کما فی السابق قال ابو حیان رعایة للفاصلة ولم یقل غشاھا لانہ یحتاج الٰی حذف احد المفعولین الیھا۔
﴿وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا﴾
﴿وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا﴾ ای ومن بنھا ولقادر العظیم الشان الذی بناھا ودل علٰی وجودہ و کمال قدرتہ بناء ھما۔
﴿وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا﴾ ای بسطھا من کل جانب ووطئھا کدحاھا ﴿وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا﴾ ای انشاھا وابدعھا مستعدة لکما لھا وذلک بتعدیل اعضائھا وقواھا الظاھرة والباطنة والتنکیر للتکثیر وقیل للتفخیم علی ان المراد بالنفس آدم (علیہ السلام) والاول انسب بجواب القسم الاٰتی وذھب الفراء والزجاج والمبرد وقتادة وغیرھم الٰی ان ما فی المواضع الثلاث مصدریة ای وبناء ھا وطحوھا وتسوی تھا وجوز ان تکون ما عبارة عن الامر الذی لہ بنیت السماء وطحیت الارض وسویت النفس من الحکم والمصالح التی لا تحصٰی ویکون اسناد الافعال الیھا مجازًا۔
﴿فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا﴾ الفجور والتقویٰ علی ما اخرج عبد بن حمید وغیرہ عن الضحاک المعصیة والطاعة مطلقا قلبین کانا او قالبیین والھا مھما النفس علی ما اخرج ھو وابن جریر وجماعة عن مجاھد تعر یفھما ایاھا بحیث تمیز رشدھا من ضلالھا وروی ذلک عن ابن عباس کما فی البحر و قریب منہ قول ابن زید فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا بینھما لھما والایة نظیر قولہ تعالیٰ ﴿وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾
﴿ قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ009 وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ0010﴾ ھذا جواب القسم وحذف الکلام کثیر لا سیما عند طول الکلام المقتضی للتخفیف والتزکیة التنمیة والتدسیس الاخفاء واصل دسی دس فابدل من ثالث التما ثلات یاء ثم ابدلت الفًا لتحرکھا وانفتاح ما قبلھا ای لقد فاز بکل مطلوب ونجامن کل مکروہ من انمٰی نفسہ واعلاھا بالتقوی علما وعملا ولقد خسر من نقصھا واخفاھا بالفجور جھلا وفسوقًا۔ (من روح المعانی)
” فدمدم “ قال الراغب فی مفرداتہ ای اھلکھم وازعجھم وقال المحلی اطبق علیھم ﴿وَ لَا يَخَافُ عُقْبٰهَا﴾ ای عاقب تھا قال الحسن معناہ لا یخاف اللہ احدا تبعة فی اھلاکھم وھی روایة عن ابن عباس ؓ كما فی معالم التنزیل۔