91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 91:1–2

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور قسم ہے چاند کی جب کہ وہ اس کے پیچھے آتا ہے

(1) وجود اضداد میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اضداد کے وجود اور اس میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت موجود ہیں، چناچہ ارشاد فرمایا گیا قسم ہے سورج اور اس کی دھوپ کی، اور قسم ہے چاند کی جبکہ وہ سورج کے پیچھے آتا ہے، جیسا کہ ایام بیض میں ہوتا ہے یعنی چاند کی تیرہویں، چودھویں، پندرہویں اور سولہویں کی رات میں جس میں چاند پورا ہو کر ماہ مال بن جاتا ہے، اور شامل ہوتے ہی آسمان پر چمکتا ہوا ظاہر ہوتا ہے، اور اپنے کمال وجود سے اپنے خالق ومالک کی عظمت وقدرت اور اس کی حکمت بالغہ کی گواہی دیتا ہے، نیز اس اعتبار سے بھی کہ چاند ہمیشہ سورج کے پیچھے آتا ہے کہ اس کی روشنی سورج کی روشنی سے ہی مستفاچ ہوتی ہے، جس کی بنا پر وہ ہمیشہ سورج کے تابع اور اس کے پیچھے ہی آنے والا ہوتا ہے۔ ( المراغی وغیرہ) سو سورج و چاند کا اس پر حکمت طریقے سے طلوع و غروب ایک عظیم الشان نشان ہے، حضرت حق جل مجدہ کی قدرت مطلقہ حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا سبحانہ وتعالی۔ بہرکیف سورج و چاند اور دن رات میں سے ہر چیز کی کیفیت اور اس کی شکل وصورت اس کے ظہور و بروز کے طور طریقے، اس کے مزاج اور اس کائنات پر پڑنے والے ان کے اثرات میں بڑا اختلاف اور تضاد پایا جاتا ہے، مگر اس کے باوجود ان کے اندر ایسی کمال درجے کی سازگاری اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے کہ ان میں سے ہر ایک نہایت پابندی اور پوری مستعدی کے ساتھ انسان کی خدمت میں مصروف ہے، ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے دائرے میں اس طرح مصروف کار اور رواں دواں ہے کہ کوئی کسی دوسرے کی حدود میں داخل نہیں دے سکتا نہ سورج چاند کی حدود میں مداخلت کراتا ہے اور نہ چاند اپنے وقت سے پہلے ظہور پذیر ہوتا ہے، سو ان تمام چیزوں کی یہ سازگاری اور ہم آہنگی جس پر اس کائنات کی بقاء کا انحصار ہے، قدرت کا ایک عظیم الشان اور ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے، اور یہ اس بات کا ایک قطعی اور واضح ثبوت ہے کہ اس کائنات پر ایک ہی ارادہ اور ایک ہی قدرت و مشیت کار فرما ہے، سو یہ توحید خداوندی کی ایک اٹل دلیل ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اسی سے یہ عظیم الشان درس عبرت و بصیرت بھی ملتا ہے کہ حکمتوں بھری اس کائنات کی تخلیق اور اس کا وجود اور اضداد کے اندر پائی جانے والی یہ پر حکمت ساز گاری عبث اور بیکار نہیں ہوسکتی، نیز زمین و آسمان اور سورج وچاند کے یہ عظیم الشان کرے جس اہتمام کے ساتھ اپنے خالق ومالک کی مقررہ فرمودہ حدود کی پابندی کرتے ہیں سرموان سے تجاوز یا انحراف نہیں کرتے۔ اپنی زبان حال سے دنیا کو یہ درس دیتے ہیں کہ وہ بھی اپنے دائرہ اختیار میں اپنے خالق ومالک کی مقرر فرمودہ حدود کی دل و جان سے پابندی کریں، کہ یہ اس خالق ومالک کا ان پر حق بھی ہے، اور ان کی شان عبدیت کا تقاضا بھی، اور اسی میں ان کا بھلا بھی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، اور اگر یہ لوگ اس کی مقرر فرمودہ حدود کی خلاف ورزی کریں گے تو یہ فساد ہوگا اور کائنات کا خالق اپنی کائنات میں فساد کو پسند اور برداشت نہیں کرتا۔ واللہ لا یحب الفساد، اس لیے ایسے سرکشوں کو اپنے طغیان و سرکشی کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال و سوء و انحراف من کل نوع من انواع العذاب، من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔
Ayahs 91:3–4

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور دن کی جب کہ وہ اسے خوب روشن کردیتا ہے

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور رات کی جب کہ وہ اسے ڈھانک لیتی ہے

(2) رات کی قسم اور اس میں درسہائے عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ اس کو ڈھانک لیتی ہے، کیونکہ رات کی اصل حقیقت یہی ہے کہ سورج غروب ہوجاتا ہے اور رات کی تاریکی کے ظہور اور اس کے آمد سے دن کا اجالا ختم ہوجاتا ہے، اور سورج کی روشنی چھپ جاتی ہے اور بعینہ یہی منظر سامنے ہوتا ہے کہ رات کی سیاہ چادر نے دن کے وجود اور اس کی روشنی کو ڈھانک لیا، سو روزانہ اس قدر باقاعدگی اور پابندی سے اس عمل کا وجود میں آنا کس قدر کھلا ثبوت اور واضح دلیل ہے حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کی سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ کہ شب و روز کا یہ ادلنا بدلنا اور اس قدر پر حکمت طریقے اور باریک نظام کے ساتھ برابر چلتے رہنا، ایک قطعی دلیل اور واضح برہان ہے اس امر کی کہ اس کائنات میں حکم و تصرف اس کے خالق ومالک وحدہ لا شریک ہی کا چلتا ہے، اس میں دوسری کوئی بھی ہستی کسی بھی طرح اور کسی بھی درجے میں اس کی شریک وسہیم نہیں، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور ان امور کے اندر پائی جانے والی سازگاری اور ہم آہنگی اس کائنات کے خالق ومالک کی وحدانیت کی دلیل ہے اور یہ کہ اس کائنات میں ایک ہی ارادہ مشیت کارفرما ہے، اور وہ ہے اس کائنات کے خالق ومالک کا ارادہ اور اسی کی مشیت، سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز اس میں یہ درس بھی کہ زمین و آسمان کا وجود اور اس کا یہ پر حکمت نظام کبھی عبث اور بیکار نہیں ہوسکتا، نیز ہر وقت اور ہر حال میں ادلتا بدلتا یہ نظام نہ اٹل ہے نہ دائمی، یہ اسی وقت تک ہے جب تک کہ اس کے خالق ومالک کی مشیت ومرضی اس کے حق میں ہے، اور جب اس کا ارادہ ہوا یہ سب درہم برہم ہوجائے گا، اور وہی ہے یوم حشر اور روز قیامت جس میں کائنات کی بےحدو حساب نعمتوں سے فائدہ اٹھانے والے اس انسان سے حساب کتاب ہوگا کہ اس نے ان نعمتوں کا کیا حق ادا کیا، جن سے حضرت خالق حکیم جل مجدہ نے اس کو نوازا اور سرفراز فرمایا تھا، اور اسی کے مطابق آخری فیصلہ ہوگا جس کے نتیجے میں سعادت مند لوگ جنت کی سدا بہار نعمتوں اور وہاں کی ابدی بادشاہی سے سرفراز ہوں گے۔ جلعنا اللہ منھم اور بدبختوں کے دوزخ میں جھونک دیا جائے گا، والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال۔
Ayah 91:5

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا

(3) آسمان اور اس کے بنانے والے کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بنایا، یعنی جس نے اس کو بنایا اور اس استوار کیا، اس قدر پر حکمت نظام کے تحت اور اتنے بےحدو حساب فوائد و منافع کے ساتھ اور اس قدر عمدگی و خوبصورتی اور مضبوطی کے ساتھ کہ اتنے طویل زمانے گزرنے کے باوجود کہ جن کا صحیح علم اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کسی کو نہیں، نہ اس میں کوئی فتور پیدا ہوتا ہے اور نہ کسی قسم کا کوئی قصور، سو ان تمام امور میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ہر عقل مند انسان کے لیئے کہ حضرت خالق جل جلالہ نے کس طرح اس قدر مضبوط و محخم نظام کے تحت اور عظیم الشان فوائد و منافع سے بھری اس کائنات کو پیدا فرما کر طرح طرح سے اس کو اپنے بندوں کے کام میں لگا دیا، سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس قدر رحیم و کریم عزیز و حکیم اور کتنا مہربان اور کیسا قادر مطلق ہے، وہ رب سبحانہ و تعالیٰ ، جس نے یہ سب کچھ اس پر حکمت طریقے سے اس انسان کے لیے پیدا فرمایا ہے، اور کتنا ظالم و بےانصاف اور بہکا بھٹکا ہے وہ انسان جو اپنے اسی رب کریم سے منہ موڑے اور اس کا ناشکرا اور نافرمان بن جائے، سو کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ روز جزا نہ آئے اور ایسے لوگوں سے ان کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا سوال نہ ہو ؟ پس اس کا لازمی نتیجہ اور عقل ونقل کا بدیہی تقاضا ہے کہ ایک ایسا دن آئے جب یہ حساب و کتاب قائم ہو اور ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ پائے، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور بدرجہ تمام و کمال پورے ہوسکیں، سو وہی ہوگا آخری فیصلے کا وقت اور اسی کو کہا جاتا ہے " یوم الدین " یعنی بدلے اور جزا و سزا کا دن، بعض حضرات نے ان آیات کریمات میں ما کو مصدری معنی میں لیا ہے، یعنی قسم ہے آسمان کی اور اس کے بنائے جانے کی اور زمین کی اور اس کے پھیلائے جانے کی، اور بعض نے اس کو موصولہ قرار دے کر اس کو ’ ’ من " یا " الذی " کے معنی میں (رح) یا ہے، عربی زبان و محاورہ کے اعتبار سے ان دونوں ہی کی گنجائش بہرحال موجود ہے، اس لیے کسی نے ایک راجح قرار دیا، اور کسی نے دوسرے کو۔ " ولکل وجھۃ ھو مولیھا " مگر ہمارے نزدیک راجح احتمال دوسرا ہے یعنی یہ کہ " ما " یہاں " من " یا " الذی " کے معنی میں ہے، جیسا کہ ہمارے ترجمے سے بھی واضح ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ان تینوں آیات کریمہ کے بعد جو ارشاد فرمایا گیا ’ ’ فالھمھا فجورھا وتقوھا " تو یہ اسی صورت میں درست ہوسکتا ہے جب کہ اس سے پہلے " ما " کو " من " کے معنی میں لیا جائے، اس کو مصدری معنی میں لینے کی صورت میں یہ ٹھیک نہیں ہوسکتا بلکہ اس صورت میں اس کی مناسب تاویل کرنی پڑے گی، اور قرآن حکیم میں " ما " کا استعمال " من " کے معنی میں بکثرت ہوا ہے۔ مثلا ( آیت، النساء 3 پ 4) اور ( آیت، النسائ 22 پ 4) میں اور ( آیت، کفرون 3 پ 30) وغیرہ میں۔ صاحب مدارک وغیرہ نے بھی اسی قول کو اختیار کیا ہے، جس کو ہم نے اختیار کیا ہے، والحمدللہ، بہرکیف اس سے آسمان اور زمین کی ساخت، ان کی عظمت اور کی فیض بخشی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ یہ بھی اپنے بنانے والے کی عظیم قدرت، بےنہایت حکمت اور غیر محدود ربوبیت کی شہادت دیتے ہیں، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 91:6

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا

(4) زمین اور اس کے بچھانے والے کی قسم : سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو بچھایا، اس قدر پر حکمت طریقے اور ان تمام فوائد و منافع کے ساتھ جو اس کے اندر موجود ہیں، اور جن سے اس کی بیشمار مخلوق طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتی رہی اور آج تک لگاتار ہورہی ہیں، اور ہر لحظہ اور ہر لمحہ مستفید ہوتی ہے، اور اس قدر کہ اس کا احاطہ و شمار بھی اس وحدہ لا شریک کے سوا کسی کے لیے ممکن نہیں، سو زمین کے اس عظیم الشان کرے کو اس قدر پر حکمت اور حیرت انگیز طریقے سے بچھا دینا اس خالق ومالک کی عظیم الشان قدرت اور بےحدو حساب رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر اور زندہ جاوید ثبوت ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کی اس قدرت، حکمت اور ربوبیت کا لازمی تقاضا ہے کہ وہ خالق حکیم ان لوگوں کو اس میں شتر بےمہار بنا کر نہ چھوڑے، بلکہ یہ دیکھے کہ جن کے لیے اس نے یہ سب کچھ بنایا، وہ اس میں کیا کر رہے ہیں، پھر اسی کے مطابق وہ ان کو اس سزا و جزا سے نوازے جس کے یہ اپنے عمل و کردار کے اعتبار سے مستحق ہیں، کیونکہ وہ اگر ایسے نہ کرے تو یہ سب کچھ عبث اور بیکار قرار پاتا ہے، جو اس کی شان عدل و حکمت کے خلاف ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس لازما وہ ایک ایسا یوم حساب بپا کرے گا جس میں ۃ ر کسی سے اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب لیا جائے گا تاکہ اس طرح ہر کوئی اپنی زندگی بھر کی کمائی کا صلہ و بدلہ پا سکے۔ نیک کا نیک اور بد کا بد۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو وہی یوم یوم قیامت اور روز جزا ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکرو فریب سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayah 91:7

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور قسم ہے نفس انسانی کی اور اس ذات کی جس نے اس کو درست کیا

(5) نفس انسانی اور اس کو درست کرنے والے کی قسم اور اس سے مقصود ؟ سو آفاقی شہادتوں کے ذکرو بیان کے بعد نفسی شہادتوں کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے نفس انسانی کی اور اس ذات کی جس نے اس کو برابر کیا، اور اس کو عظیم الشان قوتوں اور ظاہری و باطنی خوبیوں سے نوازا، اس کو احسن تقیم ( بہترین ساخت) پر پیدا فرمایا، قامت راس و مستقیم سے سرفراز فرمایا، جو ہر عقل سے بہرہ ور فرمایا، اور اس کو فطرت سلیمہ پر پیدا کیا اور خلعت و جود سے نوازا جیسا کہ ارشاد ہوتا ہے ( آیت، الروم 30 پ 21) اور اس کو اس قابل بنایا کہ یہ وحی و ہدایت کے نور سے مستفید و فیضیاب ہو کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکے، سو اس طرح اس کو کرم بالائے کرم اور رحمتوں پر رحمتوں کا اہل بنایا۔ فللہ الحمد رب العالمین۔ تو ایسے میں یہ کیسے اور کیونکر ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ انسان جو کہ اس قادر مطلق سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت و عنایت اور قدرت و حکمت کے ایک شاہکار کی حیثیت رکھتا ہے، کس طرح ہوسکتا ہے کہ اس کی یہ تخلیق و پیدائش یونہی عبث و بیکار اور مہمل و بےمقصد ہو ؟ فتعالی اللہ الملک الحق عما یقولون علوا کبیرا۔ سو انسان اگر خود اپنے اندر صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لے تو اس کے لیے حق و ہدایت کی راہ پوری طرح واضح نہیں ہوسکتی، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا۔ ( آیت، الذریات 21 پ 26) یعنی خود تمہاری اپنی جانوں کے اندر بھی عظیم الشان دلائل اور نشانیاں ہیں۔ کیا تم لوگ آنکھیں نہیں کھولتے ؟ سو دلائل حق و ہدایت کی کمی نہیں ا، ان سے تو یہ کائنات بھری پڑٰ ہے، مگر مشکل اور مشکلوں کی مشکل یہ ہے کہ انسان آنکھ کھولتا ہی نہیں، اور وہ مادہ اور معدہ کے تقاضوں کے سوا اور کچھ دیکھتا ہی نہیں، تو پھر ایسوں کو نور معرفت نصیب ہو تو کیسے اور کیونکر ؟ پس اصل ضرورت غور و فکر اور نگاہ عبرت سے کام لینے کی ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 91:8

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر اس نے الہام کردیا اس کو اس کی بدی اور پرہیزگاری کا

(6) نیکی اور بدی کے الہام کی عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر اس نے اس کو الہام کردیا اس کی ابدی اور پرہیزگاری کا " یعنی اس کی طبیعت و فطرت میں یہ تمیز و معرفت رکھ دی کہ فلاں بات بری ہے تاکہ وہ اس سے بچ سکے، اور فلاں بات اچھی ہے، تاکہ اس کو وہ اپنا سکے، اور اس طرح وہ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کرسکے، نیز اس الہام میں یہ بات بھی داخل ہے و شامل ہے کہ اس میں خیر و شر کی اہلیت و استعداد رکھ دی، کیونکہ اسی میں اس کی ابتلاء و آزمائش کا سامان ہے کہ یہ شر کے جذبات کو دبا کر خیر کے جذبات کو اس پر غالب کرے اور اس طرح ابتلا و آزمائش میں سرفراز وفائز المرام ہو کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور ہوسکے، اور اس کے برعکس رویہ اپنانے پر اس کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان عذاب کی صورت میں بھگتنا پڑے، والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ھو، سو آفاقی شہادتوں کے بعد اس سے نفسیاتی شہادتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، کہ اس میں بڑے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید۔
Ayah 91:9

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

یقینا فلاح پا گیا وہ جس نے پاک کرلیا اپنی جان کو

(7) فائز المرام لوگوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور فائز المرام لوگوں کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا کامیاب ہوگیا وہ شخص جس نے پاک کرلیا اپنی جان کو " یعنی اس نے پاک کردیا اس کو کفر و شرک کی غلاظتوں اور فسق و فجور اور معاصی وذنوب کی نجاستوں اور آلائشوں سے اور اس نے اپنے رب کی رضا و خوشنودی کے لیے طہارت و پاکیزگی کی زندگی گزاری ہوگی۔ وباللہ التوفیق وھو المسیر لکل عسیر۔ بہرکیف اس سے الہام خیر و شر کے لازمی نتیجے اور بدیہی تقاضے کو واضح فرما دیا گیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کو خیر و شر کے درمیان فرق وتمیز بخشی تو اس کا فرض ہے کہ یہ خیر کو اپنائے اور شر سے اجتناب کرے اور یہی طریقہ ہے اس کے لیے فوز و فلاح سے سرفرازی اور بہرہ مندی کا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، سو اس اصولی ارشاد سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ فوز و فلاح سے سرفرازی کا مدارو انحصار انسان کے اپنے ایمان و عقیدے اور عمل و کردار پر ہے اور بس۔ اس میں حسب و نسب یا قوم قبیلہ وغیرہ کسی شے کا کوئی عمل دخل نہیں، جیسا کہ بہت سے بہکے بھٹکے اور گمراہ لوگوں نے سمجھا، اور اس غلط فہمی میں بہت سی قومیں اور افراد پہلے بھی مبتلا رہے اور آج بھی ہیں، اسی بنا پر یہود نے کہا " کہ ہمیں دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں سوائے گنتی کے کچھ دنوں کے "۔ " لن تمسنا النار الا ایاما معدودۃ " اور بہت سے جاہل مسلمان بھجی اسی طرح کی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں کہ ہم فلاں کی اولاد، فلاں قوم قبیلے سے تعلق رکھنے والے، صاحبزادے، سید زادے، اور آل فلاں ہیں، اس لیے ہمیں کسی عمل اور محنت و مشقت کی کوئی ضرورت نہیں، یہ کہ ہم نے فلاں سرکار کا لڑ پکڑ رکھا ہے وہی ہمیں کافی ہیں، ہمیں اور اس کسی کی ضرورت نہیں وغیرہ وغیرہ۔ سو اس ارشاد سے ایسی تمام غلط فہمیوں کی جڑ نکال دی گئی اور واضح فرما دیا گیا کہ مدار نجات انسان کا اپنا ایمان و عمل ہے، اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 91:10

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور یقینا ناکام (و نامراد) ہوگیا وہ جس نے دھنسا (و دبا) دیا اس کو

(8) ناکام و نامراد لوگوں کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا اور فائز المرام لوگوں کے بالمقابل ناکام و نامراد لوگوں کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ ’ ’ یقینا ناکام و نامراد ہوگیا وہ جس نے اس کو دھنسا دیا "، یعنی اس نے اس کو دھنسا اور دبا دیا۔ فسق و فجور اور معاصی وذنوب کی دلدل میں، والعیاذ باللہ العظیم۔ دس اصل میں دسس تھا، تخفیف کے لیے دوسری سین کو ی سے بدل دیا گیا، اور ایسا عربی زبان و محاورہ میں عام ہے، جیسے تظن سے تظنی اور ظنیت وغیرہ، سو خواہشات نفس کی پیروی میں لگ کر معاصی وذنوب میں مبتلا ہوجانا ایک ہلاکت و تباہی کی راہ ہے، والعیاذ باللہ۔ اور کامیابی صرف اتباع حق و ہدایت میں ہے اور دس کے اصل معنی ڈھانک دینے اور مٹی میں ملا دینے کے ہیں، اور لفظ میں تبدیلی سے اس کے اندر مبالغے کا مفہوم پیدا ہوگیا، یعنی اس نے اپنے نفس کو بالکل خاک میں ملا دیا، سو ا سے یہ اہم اور بنیادی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ جو لوگ خواہشات کی پیروی میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے لیے انہوں نے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں اور اس کے لیے نت نئے طریقے اختیار کرتے ہیں تو وہ اگرچہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے اور جانتے ہوں لیکن حقیقت میں وہ اپنی ہلاکت اور تباہی کا سامان کرتے ہیں اور وہ لوگ اس کی دلدل میں مستغرق ہیں، مگر ان کو اس کا شعور ہی نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayahs 91:11–12

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی بناء پر

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جب کہ بپھر کر اٹھ کھڑا ہوا ان کا سب سے بڑا بدبخت شخص

(9) تاریخی شہادت کا حوالہ و ذکر : سو اوپر آفاقی اور نفسی دلائل کے ذکر کے بعد اب اس کی تائید کے لیے تاریخ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس کی شہادت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جھٹلایا قوم ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر یعنی انہوں نے جھٹلایا اپنے رسول اور اس پیغام حق و ہدایت کو جس کے نتیجے میں بالآخر وہ اپنے آخری اور انتہائی ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، والعیاذ باللہ۔ سو یہ برائی کے برے انجام کی ایک تاریخی نظیر ہے کہ بدبخت قوم کو اس کی اپنی سرکشی اور بدچلنی کی بنا پر ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا اور اس طرح کہ اب اس کا کوئی نام و نشان تک باقی نہیں رہا، اب ان کو صرف قصوں کہانیوں اور وعظوں میں بیان کیا جاتا ہے، اور بس تاکہ دوسروں کے لیے سامان عبرت ہو، ورنہ خارج میں ان کا کہیں کوئی وجود باقی نہیں رہا، سو آفاقی و انفسی دلائل و شاہد کے بعد اب اس تاریخی شہادت سے بھی واضح فرما دیا گیا کہ جو قوم تمردو سرکشی میں مبتلا ہوتی ہے اور اپنے تکبر و طغیان کی بنا پر حق کا انکار کرتی ہے اس کو ایک عرصے تک ڈھیل تو اگرچہ ملتی ہے لیکن بالاخر وہ ہولناک اور دائمی تباہی کے گڑھے میں گر کر رہتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیغ و ضلال، وسوء اوانحراف من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 91:13–14

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

سو کہہ دیا تھا ان سے اللہ کے رسول نے کہ (خیال رکھنا اور) بچ کر رہنا اللہ کی اونٹی اور اس کے پانی پینے کی باری سے

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

مگر انہوں نے جھٹلا دیا اپنے پیغمبر کو اور ہلاک کر ڈالا اس اونٹنی کو سو تباہی نازل فرما دی ان پر ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں اور پیوند خاک کردیا اس نے ان کو (ہمیشہ ہمیشہ کے لئے)

(11) قوم ثمود کے ہولناک انجام کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جھٹلا دیا اپنے رسول کو اور ہلاک کردیا اس اونٹنی کو، تو اس کے نتیجے میں ان کے رب نے ان پر تباہی نازل فرما دی اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے لیے پیوند خاک کردیا، سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ جرم سے رضا مندی اس میں شرکت کے مترادف ہوتی ہے، والعیاذ باللہ۔ کیونکہ اس اونٹنی کو ہلاک کرنے کے اس جرم کا ارتکاب اگرچہ ان میں سے ایک ہی شخص نے کیا تھا جس کا نام قدار بن سالف تھا، لیکن چونکہ اس نے یہ کام ان سب کی رضا ورغبت کے مطابق کیا تھا، اس لیے اس کی نسبت ان سب کی طرف فرمائی گئی ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ کہ جرم سے رضا کی بنا پر انسان جرم میں شریک بن جاتا ہے، سو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان لوگوں سے فرمایا تھا کہ خبردار اس اونٹنی کو چھیڑنا نہیں ورنہ تم پر اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑے گا، مگر انہوں نے اس کے باوجود اس اونٹنی کے ہلاک کرنے کے اس ہولناک جرم کا ارتکاب کیا اور ان کے لیڈر نے اس کا بیڑا اٹھایا، جس کو یہاں پر " اشقی " سب سے بڑا بدبخت شخص فرمایا گیا ہے، کیونکہ اس کے اس جرم سے پوری قوم کا بیڑا غرق ہوگیا اور وہ ہمیشہ ہمیش کے لیے " فی النار والسقر " ہوگئے، تو اس سے بڑھ کر بدبختی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے، آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار پیودن خاک کردیا گیا ان سب کو ان کے رب نے ان کے گناہ کی پاداش میں والعیاذ باللہ۔ اور اس موقع پر ان کی وہ قومی ترقی اور مادی قوت وغیرہ ان کے کچھ کام نہ آسکی جس پر ان کو بڑا گھمنڈ اور ناز تھا، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس بدبخت قوم کو ملنے والی مہلت جب پوری ہوگئی تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کو آپکڑا، سورة اعراف میں ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے اونٹنی کو ہلاک کرنے کے بعد حضرت صالح (علیہ السلام) کو چیلنج کرتے ہوئے کہا " لے آ ہم پر وہ عذاب جس کی دھمکی تم دے رہے ہو " ( الاعراف 77) اور یہی حال ہوتا ہے ایسے بدبختوں کا جن کا آخری وقت آچکا ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور سورة ہود میں ان کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب انہوں نے اس اونٹنی کو ہلاک کردیا تو حضرت صالح (علیہ السلام) نے ان سے فرمایا کہ " اب تم لوگ تین دن تک اپنے گھروں میں رہ بس لو، یعنی تین دن اور مزے کرلو، اس کے بعد تم اپنے انجام کو پہنچ کر رہوگے، اور یہ ایسی تنبیہ ہے جس میں جھوٹ کا کوئی شائبہ نہیں "۔ ( ھود 64) سو اس کے نتیجے میں اپنے دور کی یہ بڑی ترقی یافتہ قوم جس کو اپنی تعمیر و ترقی پر بڑا ناز تھا، قصہ پارینہ بن کر رہ گئی، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 91:15

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور وہ ڈرتا نہیں اپنے کئے کے انجام سے

(12) اللہ پاک کے فیصلے کی عظمت شان کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ڈرتا نہیں اپنے کیے کے انجام سے " جیسا کہ دنیا کے بادشاہوں وغیرہ کو ہوتا ہے، اسی لیے وہ کوئی فیصلہ کرنے اور ایکشن لینے سے قبل اس کے انجام و نتائج کے بارے میں سوچتے ہیں اور ایکشن کرنے کے بعد بھی وہ ڈرتے ہیں کہ پتہ نہیں کب اس کے خلاف آواز اٹھے گی، اور اس کا ری ایکشن اور رد عمل کیا ہوگا، وغیرہ وغیرہ۔ مگر حضرت حق جل مجدہ ایسے تمام اندیشوں اور مخاوف و مخاطر اور اس طرح کے تمام خیالات و تصورات سے پاک وبالا تر اور وراء الوراء ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، کیونکہ نہ اس کے فیصلے اور حکم میں کسی غلطی کا کوئی امکان ہوسکتا ہے اور نہ اس بات کا کوئی ڈر اور اندیشہ کہ کوئی اس کو چیلنج کرسکتا ہے، نہ وہ کسی کے آگے مسول و جوابدہ ہے اور نہ ہی اس پر کسی کا کوئی زور ہوسکتا ہے اور نہ اس کے کسی فیصلے کے خلاف کوئی اپیل ہوسکتی ہے، وہ اس طرح کے ہر تصور اور اس کے جملہ شوائب سے پاک اور اعلی وبالا ہے، اور یہ شان صرف اسی وحدہ لا شریک کی ہے اس کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔