91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 91:1–6

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

سورج کی قسم اور اس کی روشنی کی

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور چاند کی جب اس کے پیچھے نکلے

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور دن کی جب اسے چمکا دے

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور رات کی جب اسے چھپالے

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اسے بنایا

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور زمین کی اور اسکی جس نے اسے پھیلایا

(1۔ 6) قسم ہے سورج کی روشنی اور پہلی رات کے چاند کی جب سورج کے غروب ہونے کے بعد آئے، اور قسم ہے دن کی جب وہ رات کی تاریکی کو روشن کردے، اور رات کی جب وہ دن کی روشنی کو ختم کردے اور قسم ہے آسمان کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پیدا کیا، اور قسم ہے زمین کی اور اس ذات کی جس نے اس کو پانی پر بچھایا۔
Ayahs 91:7–10

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور انسان کی اور اس کی جس نے اس (کے اعضاء) کو برابر کیا

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر اس کو بدکاری (سے بچنے) اور پرہیزگاری کرنے کی سمجھ دی

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

کہ جس نے (اپنے) نفس (یعنی روح) کو پاک رکھا وہ مراد کو پہنچا

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور جس نے اسے خاک میں ملایا وہ خسارے میں رہا

(7۔ 10) اور قسم ہے جان کی اور اس ذات کی جس نے اس کے تمام اعضاء کو درست بنایا اور پھر اس کو ان باتوں کا القاء کیا ہے جو کرنے کی ہیں اور ان باتوں کا جن سے بچنا چاہیے، وہ کامیاب ہوا جس کو حق نے ہدایت و توفیق اور معرفت عطا فرمائی اور وہ نامراد ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت کی توفیق دی۔
Ayahs 91:11–13

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

(قوم ثمود) نے اپنی سرکشی کے سبب (پیغمبر) کو جھٹلایا

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جب ان میں سے ایک نہایت بدبخت اٹھا

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

تو خدا کے پیغمبر (صالح) نے ان سے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اسکے پانی پینے کی باری سے حذر کرو

(11۔ 13) قوم ثمود نے اپنی شرارتوں کی وجہ سے حضرت صالح کو جھٹلایا جب کہ اس قوم کے سب سے بڑے بدبخت یعنی قدار بن سالف اور مسدع بن مصر نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں۔ کونچیں کاٹنے سے پہلے حضرت صالح نے فرمایا کہ اللہ کی اس اونٹنی کو اسی طرح رہنے دو اور اس کے پانی پینے میں خلل اندازی مت کرو چناچہ انہوں نے حضرت صالح ؑ کو جھٹلایا اور پھر اس اونٹنی کو مار ڈالا۔
Ayahs 91:14–15

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو خدا نے ان کے گناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو (ہلاک کر کے) برابر کردیا

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور اس کو ان کے بدلا لینے کا کچھ بھی ڈر نہیں

(14۔ 15) سو اللہ تعالیٰ نے اونٹنی کو قتل کرنے اور حضرت صالح ؑ کو جھٹلانے کی وجہ سے ان سب کو ہلاک کر ڈالا اور پھر عذاب کو چھوٹے بڑے سب کے لیے عام کردیا اور اللہ کو اس ہلاک کرنے میں کسی سے اندیشہ نہیں ہوا، یا یہ کہ ان لوگوں نے اونٹنی کو قتل کر ڈالا اور ان کو اس کے انجام کا اندیشہ نہیں ہوا۔