91. Surah Ash-Shams

الشمسThe Sun · 15 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayahs 91:1–2

وَ الشَّمْسِ وَ ضُحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:1 in the Quran reader

قسم سورج کی اور اس کے دھوپ چڑھنے کی،

وَ الْقَمَرِ اِذَا تَلٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:2 in the Quran reader

اور چاند کی جب آئے سورج کے پیچھے13

13 یعنی سورج غروب ہونے کے بعد جب اس کی چاندنی پھیلے۔
Ayah 91:3

وَ النَّهَارِ اِذَا جَلّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:3 in the Quran reader

اور دن کی جب اس کو روشن کرلے14

14 یعنی جب دن میں سورج پوری روشنی اور صفائی کے ساتھ جلوہ گر ہو۔
Ayah 91:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَغْشٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:4 in the Quran reader

اور رات کی جب اس کو ڈھانک لیوے15

15 یعنی جب رات کی تاریکی خوب چھا جائے اور سورج کی روشنی کا کچھ نشان دکھائی نہ دے۔
Ayah 91:5

وَ السَّمَآءِ وَ مَا بَنٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:5 in the Quran reader

اور آسمان کی اور جیسا کہ اس کو بنایا16

16 یعنی جس شان و عظمت کا اس کو بنایا۔ اور بعض کے نزدیک " مابناھا " سے مراد اس کا بنانے والا ہے۔
Ayah 91:6

وَ الْاَرْضِ وَ مَا طَحٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:6 in the Quran reader

اور زمین کی اور جیسا کہ اس کو پھیلایا17

17 یعنی جس حکمت سے اس کو پھیلا کر مخلوق کی بودوباش کے قابل کیا۔ یہاں بھی بعض نے " وماطحٰھا " سے اس کا پھیلانے والا مراد لیا ہے۔
Ayah 91:7

وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:7 in the Quran reader

اور جی کی اور جیسا کہ اس کو ٹھیک بنایا18

18 کہ اعتدال مزاج کا اور حواس ظاہری و باطنی اور قوائے طبیعیہ حیوانیہ و نفسانیہ سب اس کو دیے اور نیکی بدی کے راستوں پر چلنے کی استعداد رکھی۔
Ayah 91:8

فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:8 in the Quran reader

پھر سمجھ دی اس کو ڈھٹائی کی اور بچ کر چلنے کی1

1 یعنی اول تو اجمالی طور پر عقل سلیم اور فطرت صحیحہ کے ذریعہ سے بھلائی میں فرق کرنے کی سمجھ دی۔ پھر تفصیلی طور پر انبیاء و رسل کی زبانی کھول کھول کر بتلادیا کہ یہ راستہ بدی کا اور یہ پرہیزگاری کا ہے۔ اس کے بعد قلب میں جو نیکی کا رجحان یا بدی کی طرف میلان ہو، ان دونوں کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہے۔ گو القاء اول میں فرشتہ واسطہ ہوتا ہے۔ اور ثانی میں شیطان۔ پھر وہ رجحان و میلان کبھی مندہ کے قصد و اختیار سے مرتبہ عزم تک پہنچ کر صدور فعل کا ذریعہ بن جاتا ہے جس کا خالق اللہ اور کاسب بندہ ہے۔ اسی کسب خیرو شر پر مجازات کا سلسلہ بطریق تسبیب قائم ہے۔ وھذٰا لمسئلہ من معضلات المسائل و تفصیلھا یطلب من مظانھا۔ ونریدان نفردلھا جزأا ان ساعدنا التوفیق واللہ الموفق والمعین۔
Ayah 91:9

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:9 in the Quran reader

تحقیق مراد کو پہنچا جس نے اس کو سنوار لیا2

2 نفس کا سنوارنا اور پاک کرنا یہ ہے کہ قوت شہویہ اور قوت غضبیہ کو عقل کے تابع کرے اور عقل کو شریعت الہٰیہ کا تابعدار بنائے۔ تاکہ روح اور قلب دونوں تجلی الہٰی کی روشنی سے منور ہوجائیں۔
Ayah 91:10

وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ Open ayah 91:10 in the Quran reader

اور نامراد ہوا جس نے اس کو خاک میں ملا چھوڑا3

3 خاک میں ملا چھوڑنے سے یہ مراد ہے کہ نفس کی باگ یکسر شہوت و غضب کے ہاتھ میں دے دے۔ عقل و شرع سے کچھ سروکار نہ رکھے۔ گویا خواہش اور ہویٰ کا بندہ بن جائے۔ ایسا آدمی جانوروں سے بدتر اور ذلیل ہے۔ (تنبیہ) " قد افلح من زکھا وقد خاب من دسھا " جواب قسم ہے اور اس کو مناسبت قسموں سے یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت سے سورج کی دھوپ اور چاند کی چاندنی دن کا اجالا، اور رات کا اندھیرا، آسمان کی بلندی اور زمین کی پستی کو ایک دوسرے کے مقابل پیدا کیا اور نفس انسانی میں خیر و شر کی متقابل قوتیں رکھیں اور دونوں کو سمجھنے اور ان پر چلنے کی قدرت دی۔ اسی طرح متضاد و مختلف اعمال پر مختلف ثمرات و نتائج مرتب کرنا بھی اسی حکیم مطلق کا کام ہے خیر و شر اور ان دونوں کے مختلف آثار و نتائج کا عالم میں پایا جانا بھی حکمت تخلیق کے اعتبار سے ایسا ہی موزوں و مناسب ہے، جیسے اندھیرے اور اجالے کا وجود۔
Ayah 91:11

كَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِطَغْوٰىهَا۪ۤۙ Open ayah 91:11 in the Quran reader

جھٹلایا ثمود نے اپنی شرارت سے4

4 یعنی حضرت صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا۔ یہ " وقد خاب من دسھا " کی ایک مثال عبرت کے لئے بیان فرما دی۔ سورة اعراف وغیرہ میں یہ قصہ مفصل گزر چکا ہے۔
Ayah 91:12

اِذِ انْۢبَعَثَ اَشْقٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:12 in the Quran reader

جب اٹھ کھڑا ہوا ان میں کا بڑا بدبخت5

5 یہ بدبخت قذاربن سالف تھا۔
Ayah 91:13

فَقَالَ لَهُمْ رَسُوْلُ اللّٰهِ نَاقَةَ اللّٰهِ وَ سُقْیٰهَاؕ Open ayah 91:13 in the Quran reader

پھر کہا ان کو اللہ کے رسول نے خبردار رہو اللہ کی اونٹنی سے اور اس کی پانی پینے کی باری سے6

6 یعنی خبردار اس کو قتل نہ کرنا اور نہ اس کا پانی بند کرنا۔ پانی کا ذکر اس لئے فرمایا کہ بظاہر اسی سبب سے وہ اس کے قتل پر آمادہ ہوئے تھے۔ اور " اللہ کی اونٹنی " اس اعتبار سے کہا کہ اللہ نے اس کو حضرت صالح (علیہ السلام) کی نبوت کا ایک نشان بنایا تھا۔ اور اس کا احترام واجب کیا تھا۔ یہ قصہ پہلے " اعراف " وغیرہ میں گزر چکا۔
Ayah 91:14

فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا١۪ۙ۬ فَدَمْدَمَ عَلَیْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰىهَا۪ۙ Open ayah 91:14 in the Quran reader

پھر انہوں نے جھٹلایا اس کو پھر پاؤں کاٹ ڈالے اس کے پھر الٹ مار ان پر ان کے رب نے بسبب ان کے گناہوں کے پھر برابر کردیا سب کو7

7 حضرت صالح (علیہ السلام) نے فرمایا تھا۔ " ولاتمسوھا بسوء فیاخذکم عذاب الیم " (اس اونٹنی کو برائی سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ سخت دردناک عذاب میں پھنس جاؤ گے) ان لوگوں نے اس بات کو جھوٹ سمجھا۔ پیغمبر کی تکذیب کی اور اونٹنی کو ہلاک کر ڈالا۔ آخر وہی ہوا جو حضرت صالح (علیہ السلام) نے کہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو مٹا کر برابر کردیا۔
Ayah 91:15

وَ لَا یَخَافُ عُقْبٰهَا۠ Open ayah 91:15 in the Quran reader

اور وہ نہیں ڈرتا پیچھا کرنے سے8

8 یعنی جیسے بادشاہان دنیا کو کسی بڑی قوم یا جماعت کی سزا دہی کے بعد احتمال ہوتا ہے کہ کہیں ملک میں شورش برپا نہ ہوجائے، یا انتظام ملکی میں خلل نہ پڑے اللہ تعالیٰ کو ان چیزوں کا کوئی اندیشہ نہیں ہوسکتا۔ ایسی کون سی طاقت ہے جو سزا یافتہ مجرموں کا انتقام لینے کے لئے اس کا پیچھا کرے گی ؟ العیاذباللہ۔