Ayah 91:11۔ الحاکم وصححہ نے مجاہد کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والشمس وضحہا قسم ہے سورج کی اور اس کی دھوپ کی۔ یعنی اس کی روشنی کی آیت والقمر اذا تلہا۔ اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے۔ یعنی ورج کی جب وہ پیچھے آئے۔ آیت والنہار اذا جلٰہا اور قسم ہے دن کی جب وہ اس کو روشن کردے۔ یعنی جب وہ سورج کو روشن کردے۔ آیت والسماء وما بنٰہا اور قسم ہے آسمان کی اور اس کی جس نے اس کو بنایا۔ یعنی وہ اللہ تعالیٰ ہے جس نے آسمان کو بنایا آیت والارض وما طحاہا اور قسم ہے زمین کی جس نے اس کو بچھایا یعنی اس کو پھیلایا آیت فالہمہا فجورہا وتقوٰہا پھر اس کو بدی اور نیکی کی سمجھائی یعنی اس کو پہچان کرادی اس کی بدبختی کی اور اس کی نیک بختی کی آیت وقد خاب من دسہا اور بیشک وہ غارت ہوا جس نے اس کو آلودہ کرلیا اور یقینی طور پر وہ نامراد ہوا جس نے اس کو گمراہ کردیا۔
Ayahs 91:2–52۔ ابن جریری نے عرفی کی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلہا اور چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے آئے یعنی دن کے پیچھے آئے آیت والارض وما طحہا اور قسم ہے زمین کی اور اس کی جس نے اس کو بچھایا یعنی جو اللہ تعالیٰ نے اس میں پیدا فرمایا آیت فالہمہا فجورہا یعنی اس کو فرمانبرداری اور نافرمانی پر مطلع کردیا۔
3۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلا ہا میں تلا ہا سے مراد ہے پیچھے آنا۔
4۔ ابن ابی حاتم نے یزید بن ذی حمامہ (رح) سے روایت کیا کہ جب رات آتی ہے تو رب تعالیٰ فرماتے ہیں چھا جا میرے بندوں پر میری عظیم مخلوق میں اور رات کا خوف اور ڈر ہے حالانکہ جس ذات نے اس کو پیدا کیا زیادہ حقدار ہے کہ اس سے ڈرا جائے۔
Ayahs 91:6–75۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الارض وما طحٰہا میں اللہ تعالیٰ نے زمین کی تقسیم کھائی ہے آیت فالہمہا فجورہا وتقوٰہا یعنی پھر خیر اور شر کو بیان فرمادیا۔
Ayah 91:816۔ الحاکم نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فالہمہا یعنی اس کو آگاہ کردیا، فجورہا وتقوٰہا اس کی برائی اور اس کی نیکی۔
تقدیر کے متعلق سوال و جواب
7۔ احمد ومسلم وابن جریر وابن المنذر آپ بتائیے جو لوگ آج عمل کرتے ہیں۔ اور اس میں کچھ مشقت اٹھاتے ہیں یہ وہ شے ہے جس کا فیصلہ کیا جاچکا ہے ان کے بارے میں اور وہ ان پر اتنی مقدار میں ہی پورا ہوتا ہے۔ جتنا پہلے ہوچکا ہے یا دونوں میں وہ اس عمل کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ جو ان کے پاس ان کے نبی لے کر آئے ہیں۔ اور اس کو ان پر حجت بنایا گیا ہے ؟ آپ نے فرمایا بلکہ یہ وہ چیز ہے کہ جن کا ان پر فیصلہ کیا گیا ہے اس آدمی نے پھر وہ عمل کیوں کرتے ہیں۔ فرمایا جس کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا دو منزلوں میں سے ایک کے لیے تو اس کے عمل کے لیے بھی تیار فرمایا اور اس کی تصدیق اللہ کی کتاب میں یعنی آیت ونفس وما سوہا فالہمہا فجورہا وتقوہا اور جان کی قسم اور اس کی جس نے س کو درست کیا پھر اس کو اس کی بدی اور نیکی سمجھائی۔
8۔ طبرانی وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جب یہ آیت پڑھتے تھے آیت ونفس وما سوہا فالہمہا فجورہا وتقوہا تو ٹھہر جاتے اور یہ دعا فرماتے۔
اللہم اٰت نفسی تقواہا انت ولیہا ومولا ہا وخیر من زکاہا
ترجمہ : اے اللہ تو میرے نفس، کو اس کے مقدور کا تقویٰ نصیب فرماتو اس کا کارساز ہے اور تو ہی اس کا مولی ہے تو بہتر وہ جس نے اس کا تزکیہ کیا۔
9۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو آیت فالہمہا فجورہا وتقوہا پڑھتے ہوئے سنا اور پھر یہ کہا :
اللہم اٰت نفسی تقواہا انت ولیہا ومولاہا وخیر من زکاہا
ترجمہ : اے اللہ ! تو میرے نفس کو اس کے مقدور کا تقویٰ نصیب فرمایا اور تو بہتر ہے جس نے اس کا تزکیہ کیا تو ہی اس کا کارساز ہے اور و ہی اس کا مولی ہے۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا کہ آپ ﷺ نماز میں تھے۔
10۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم النسائی نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے :
اللہم اٰت نفسی تقوہا انت ولیہا ومولاہا وخیر من زکاہا
11۔ الطبرانی نے الاوسط میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو سورج ڈھلنے کے فوراً بعد نماز پڑھائی۔ اور بلند آواز سے قراءت کی والشمس وضحہا اور واللیل اذا یغشی پڑھی۔ ابی بن کعب ؓ نے آپ سے کہا یارسول اللہ ! اس نماز میں کیا آپ کو کسی اور چیز کا حکم دیا گیا فرمایا نہیں۔ لیکن میں نے ارادہ کیا کہ میں تم کو قت سے آگاہ کردوں۔
Ayahs 91:9–1012۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشمس وضحہا۔ یعنی قسم ہے آفتاب کی اور اس کی روشنی کی آیت والقمر اذا تلٰہا اور چاند کی جب وہ اس کے پیچھے آئے آیت والنہار اذا جلٰہا اور دن کی جب وہ اسے روشن کردے آیت والنہار اذا جلٰہا یعنی اور رات کی قسم جب وہ چھاجائے اور آیت والسماء اما بناہا یعنی قسم ہے آسمان کی اور اسے بنانے والے کی فرمایا اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو بنایا آیت والارض وما طحہا اور قسم ہے زمین کی اور اسے پھیلانے کی آیت فالہمہا فجورہا وتقوہا اور اس کو اس کی شقاوت کی پہچان کرائی آیت قد افلح من زکہا یعنی یقیناً وہ فلاح پا گیا جس نے اپنے نفس کو شریف بنایا آیت وقد خاب من دسہا اور یقیناً وہ نامراد ہوا جس نے اسے گمراہ کیا آیت کذبت ثمود بطغوہا قوم ثمود نے جھٹلایا اپنے نبی کو اپنی نافرمانی کے سبب آیت ولا یخاف عقبٰہا یعنی اللہ تعالیٰ کو کوئی خوف نہیں ان کے انجام سے۔
13۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشمس وضحاہا قسم ہے سورج کی اور اس کے روشن کرنے کی آیت والقمر اذا تلا ہا یعنی چاند کی جب اس کے پیچھے آئے آیت والنہار اذا جلاہا اور قسم ہے دن کی جب وہ روشن ہوجاتا ہے آیت ونفس وما سوہا یعنی اس کی پیدائش کو ٹھیک کردیا اور اس میں کسی قسم کا نقص نہیں چھوڑا۔
14۔ عبد بن حمیدوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشمس وضحہا سے مراد دن ہے یعنی قسم ہے سورج کی اور اس کے دن کی آیت والقمر اذا تلہا یعنی چاند کا ظہور سورج کے غروب ہونے کے بعد ہوتا ہے اور اس کے غروب کے بعد ہی چاند دکھائی دیتا ہے یعنی قسم ہے چاند کی جب وہ غروب آفتاب کے بعد آئے۔ آیت والنہار اذا جلاہا قسم ہے دن کی جب وہ سورج پر چھا جائے آیت واللیل اذا یغشاہا اور قسم ہے زمین کی اور جس نے اس کو بچھایا آیت فالہمہا فجورہا وتقواہا یعنی اس کے لیے بیان کی فجور کو تقوی سے آیت قد افلح یعنی یہاں قسم واقع ہوئی آیت من زکہا یقیناً فلاح پا گیا وہ جس نے نیکی کا عمل کیا اور اپنے نفس کو پاک کرلیا اللہ کی اطاعت کے ساتھ وقد خاب من دسہاوہ یقیناً نامراد ہوا جس نے اسے گمراہ کردیا آیت کذبت ثمود بطغواہا جھٹلایا قوم ثمود نے اپنے نبی کو اپنی سرکشی کے سبب آیت اذانبعث اشقہا جب کھڑا ہوا جو ان کا سب سے بڑا بدبخت تھا۔ یعنی ثمود کا احیمر جو بڑا بدبخت تھا۔ فقال لہم رسول اللہ ناقۃ اللہ وسقیہا پس ان سے اللہ کے رسول نے کہا کہ اللہ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی باری سے بچو۔ یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس کے درمیان اور اللہ کی تقسیم کے درمیان راستہ چھوڑ دو جس نے اس کے لیے اس پانی میں سے تقسیم مقرر فرمادی آیت فدمدم علیہم ربہم بذنبہم پھر ان پر ان کے رب نے ان گناہوں کے بدلے ہلاکت نازل فرمائی یعنی ہم کو ذکر کیا گیا کہ اس نے اس کے ذبح کرنے سے انکار کردیا۔ یہاں تک کہ ان کے چھوٹوں اور ان کے بڑوں اور ان کے مردوں اور ان کی عورتوں سب نے اس کا پیچھا کیا پس جب قوم اس کے ذبح کرنے میں شریک ہوگئی۔ آیت فدمدم علیہم ربہم بذنبہم فسوہا ولایخاف عقبٰہا تو ان کے اس گناہ عظیم کے باعث ان کے رب نے ان کو ہلاک کردیا اور سب کو خاک میں ملادیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے انجام کو کوئی خوف نہیں کیا۔
15۔ عبدبن حمید نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والقمر اذا تلیہا سے مراد ہے قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے آئے۔
16۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے آیت والقمر اذا تلہا کے بارے میں روایت کیا قسم ہے چاند کی جب وہ سورج کے پیچھے آئے۔
16۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے والقمر اذا تلہا کے بارے میں روایت کی قسم ہے چاند غروب آفتاب کے بعد آئے۔
17۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا آیت والارض وما طحاہا سے مراد یعنی قسم ہے زمین کی اور اس کے بچھانے والے کی۔
18۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے اس طرح روایت کیا۔
19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے رویت کیا آیت ونفس وما سوہا اور جان کی قسم اور اس کی جس نے اس کو درست کیا یعنی اس کی پیدائش کو ٹھیک بنایا۔
20۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا فالہمہا یعنی اس نے اس کے لیے لازم کردیا فجورہا وتقوہا اس کی نافرمانی اور اطاعت کو۔
21۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا آیت فالہمہا فجورہا وتقوہا یعنی اس کی نافرمانی اور اس کی اطاعت کو سمجھادیا۔
22۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے روایت کیا آیت فالہمہا فجورہا وتقوہا یعنی نافرمان کے دل میں نافرمانی کو ڈال دیا اور متقی کے دل میں تقوی کو ڈال دیا۔
23۔ ابن مردویہ (رح) نے روایت کیا کہ فالہمہا فجورہا وتقوہا سے مراد ہے کہ بندوں کے لیے گمراہی سے ہدایت کو بیان فرمادیا اور ہر نفس کے دل میں وہ ڈال دیا ہے جس کے لیے اسے پیدا فرمایا اور اس کے بارے میں جو لکھ دیا۔
24۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا آیت قد افلح من زکہا بیشک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنی روح کو پاک کرلیا۔ یعنی وہ کامیاب ہوگیا جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا اور وہ نامراد ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے خاک میں دبا دیا۔
25۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا بیشک وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے آپ کو نیک عمل کے ساتھ پاک کرلیا اور اس کی اصلاح کرلی۔ اور وہ نامراد ہوا جس نے اس کو ہلاک کردیا اور اس کو گمراہ کردیا۔
26۔ عبد بن حمید نے ربیع (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کے بارے میں روایت کیا کہ وہ کامیاب ہوا جس نے اپنے آپ کو نیک عمل کے ساتھ پاک کرلیا اور وہ نامراد ہوا جس نے اپنے آپ کو برے عمل کے ساتھ خاک میں دبادیا۔
27۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ من دسہا جس نے یعنی جس نے اس کو خسارے میں ڈال دیا۔
28۔ حسین فی الاستقامہ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قد افلح من زکہا یقیناً وہ کامیاب ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے جس کی ذات کو پاک کردیا آیت وقد خاب من دسہا یعنی وہ نامراد ہوا جس کی ذات کو اللہ تعالیٰ نے خاک میں دبا دیا اور اس کو گمراہ کردیا ولا یخاف عقبہا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو کوئی خوف نہیں کسی کے پیچھے آنے والے انجام کا۔
29۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت وقد خاب من دسہا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ نامراد ہوا جس نے اپنے نفس کے ساتھ مکر کیا۔
30۔ ابن ابی حاتم وابو الشیخ وابن مردویہ والدیلمی جویبر کے طریق سے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا آیت قد افلح من زکہا یعنی وہ نفس کامیاب ہوگیا جس کو اللہ تعالیٰ نے پاک کردیا اور وہ نفس نامراد ہوا جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر خیر سے محروم کردیا۔
Ayahs 91:11–1431۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت کذبت ثمود بطغوہا اور ثمود نے اپنی سرکشی سے صالح (علیہ السلام) کو جھٹلایا کے بارے میں روایت کیا کہ و عذاب جو قوم ثمود پر آیا اس کا نام طغویٰ تھا۔ پھر فرمایا کہ قوم ثمود نے اپنے عذاب کو جھٹلایا۔
32۔ سعید بن منصور واحمد وعبد بن حمید و بخاری ومسلم والترمذی والنسائی وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ نے عبداللہ بن زمعہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے اونٹنی کا ذکر فرمایا اور اس کا بھی ذکر فرمایا جس نے اس کو ذبح کیا۔ اور فرمایا آیت اذانبعث اشقہا جبکہ ان کا بڑا بدبخت اٹھا۔ یعنی اس کے لیے ایک بدخلق آدمی اٹھا جو اپنی جماعت میں ابو زمعہ کی مثل قوی اور طاقتور تھا۔
دوبدبختوں کا تذکرہ
33۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ والبغوی وابو نعیم نے دلائل میں عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تجھ کو لوگوں میں سب سے زیادہ بدبخت کے بارے میں بتاؤ ؟ عرض کیا کیوں نہیں ضروربتائیے فرمایا وہ دو آدمی ہیں۔ ایک ثمود کا وہ دو آدمی ہیں۔ ایک ثمود کا وہ آدمی جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹیں اور دوسرا وہ جو تجھ کو اس پر مارے گا یعنی ہنسلی پر یہاں تک کہ اس سے یہ یعنی اس کی داڑھی جدا ہوجائے گی۔
34۔ طبرانی نے ابن مردویہ اور ابو نعیم نے اسی طرح روایت کیا صہیب اور جابر بن سمرہ ؓ کی حدیث سے۔
Ayah 91:1535۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولایخاف عقبہا سے مراد ہے کہ وہ ہمارا رب ہے جسے ان کے انجام کا کوئی خوف نہیں جو کچھ اس نے ان کے ساتھ کیا۔
36۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے آیت ولا یخاف عقبہا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی اس کے انجام سے خوفزدہ نہیں ہوا جو کچھ اس نے کیا اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔
37۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے آیت ولا یخاف عقبہا کے بارے میں روایت کیا کہ وہ آدمی اپنے انجام سے نہیں ڈر جس نے اس اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں۔