Explained with ayahs 11–20
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں :
حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…
Read the full tafseer →سورة الْبَلَد 15
دائیں بازو اور بائیں بازو کی تشریح ہم سورة واقعہ کی تفسیر میں کرچکے ہیں۔ ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد پنجم، الواقعہ، حواشی 5۔ 6۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ثم کان من الذین امنو وتواصو بالصبر وتواصوا بالمرحمة۔ اس آیت میں ایمان کے بعد مومن کا یہ فرض بتلایا گیا کہ وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی صبر اور رحمت کی تلقین کرتا رہے۔ صبر سے مراد نفس کو برائیوں سے روکنا اور بھلائیوں پر عمل کرنا ہے اور رحمت سے مراد دوسروں کے حال پر رحم کھانا، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر ان کی ایذا اور ان پر ظلم سے بچنا، اس میں تقریباً دین کے سارے ہی احکام آگئے۔
تمت سورة البلد بحمد اللہ 32 شعبان 9131
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
نیکوں اور بدوں کے انجام کا فرق:
یہ آخر میں ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو نیکی کے مذکورہ کاموں کا حوصلہ کریں گے اور جو ان سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ یہ کام کریں گے تو وہ خوش بخت اور بامراد ہیں اور جو اللہ کی باتوں کی تکذیب ہی پر اڑے رہیں گے وہ بدبخت و نامراد ہیں، وہ آگ کے اندر بند کر دیے جائیں گے۔ یہاں تقابل کے اصول پر پہلے ٹکڑے میں اتنی بات محذوف ہے کہ ’اصحٰب المیمنۃ‘ جنت کے بالا خانوں میں ہوں گے۔
لفظ ’مَیْمَنَۃ‘ ’یمین‘ (دہنے) سے بھی ہو سکتا ہے اور ’یمن‘ (مبارکی اور خوش بختی) سے بھی لیکن یہاں یہ ’مَشْئَمَۃ‘ کے مقابل میں آیا ہے جو لازماً ’شوم‘ (نحوست اور بدبختی) سے ہے۔ اس وجہ سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
17۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہونگے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہوگا۔
17۔ 2 اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →9: یہ ”اصحب المشئمہ“ کا ترجمہ ہے اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ بائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ بدکار ہیں جن کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
والذین ........................ موصدة
” بائیں بازو والے فریق کے بیان میں دوسری صفات کو ترک کردیا گیا ہے۔
والذین ................ بایتنا (19:90) ” اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا “۔ کیونکہ جب کافر ہوگئے تو بات ختم ہوگئی۔ کفر کے ساتھ کوئی نیکی جمع ہی نہیں ہوسکتی اور نہ کسی برائی کا علیحدہ اعتبار ہوتا ہے اس لئے کہ ہر برائی کفر کے اندر ہی ہوتی ہے اور یہ کفر اسے ڈھانپ لیتا ہے ، لہٰذا اب اس بات کی ضرورت ہی نہیں ہے کہ یہ لوگ غلاموں کو آزاد نہیں کرتے ، اور کھانا نہیں کھلاتے ، پھر ان لوگوں نے اللہ کی آیات کا انکار کردیا اور کافر ہوگئے تو پھر کوئی نیکی ان کے لئے مفید ہی نہیں ہے۔
یہ…
Read the full tafseer →11 یعنی بدنصیب منحوس، شامت زدہ جن کا اعمالنامہ بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا اور عرش کے بائیں طرف کھڑے کئے جائیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 19{ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا } ”اور جنہوں نے انکار کیا ہماری آیات کا“
{ ہُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ۔ } ”وہ ہوں گے بائیں والے۔“
یعنی ان کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھوں میں پکڑائے جائیں گے۔ لغوی اعتبار سے جس طرح یمن کے معنی خوش بختی کے ہیں اسی طرح الْمَشْئَمَۃ کے مادے میں بدبختی کے معنی پائے جاتے ہیں شومئی قسمت کی ترکیب اردو میں بھی مستعمل ہے۔ لہٰذا اس آیت کا دوسرا ترجمہ یہ ہوگا کہ ”یہ بدبختی والے لوگ ہوں گے“۔ قرآن مجید میں آخرت کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے دائیں والے اصحاب المیمنہ یا اصحاب الیمین اور بائیں والے اصحاب المشئمہ یا اصحاب الشمال کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
13 یعنی جن ایمان داروں میں مندرجہ بالا صفات پائی جائیں تو ایسے ہی لوگ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں عرش عظیم کے دائیں طرف جگہ ملے گی۔ اور اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
12۔ داہنے ہاتھ والوں کے مقابلہ میں یہ بائیں ہاتھ والے بدبخت ومنحوس کافر اور اہل جہنم ہوں گے۔ اصحاب الشمال پر حاشیہ پ 29 میں گزر چکا۔ (آیت) ” والذین کفروا بایتنا “۔ یہ لوگ ایمان تک نہ لائے کفر ہی میں مبتلا رہے (آیت) ” نار مؤصدۃ “۔ کافروں کو جہنم سے نکلنا تو نصیب ہوگا نہیں، اس لئے دوزخ کے دروازے بھی ان پر ہر طرف سے بند کردیئے جائیں گے، آیت کے ان الفاظ سے صاف اشارہ خلود عذاب جہنم کی طرف نکل رہا ہے۔ قال مقاتل یعنی ابوابھا مطبقۃ فلا یفتح لھم باب ولا یخرج منھا ولا یدخل فیھا روح ابدالاباد (کبیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–20
لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔
او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…
Read the full tafseer →والذین کفروا بایتنا . اور جن لوگوں نے ہماری آیت یعنی قرآن کو یا ہمارے قائم کردہ دلائل صداقت
یعنی کتاب اللہ اور حجت عقلیہ کو نہ مانا۔
ھم اصحاب المشئمۃ . وہی لوگ منحوس یا بائیں طرف والے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(19۔ 20) اور جنہوں نے حضور ﷺ اور قرآن کو جھٹلایا مثلاً کلدہ وغیرہ وہ لوگ جہنمی ہیں ان کو بائیں ہاتھ میں نامہ اعمال دیا جائے گا اور ان پر آگ محیط ہوگی جس کو بند کردیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(اولئک اصحب المیمنۃ…: دائیں ہاتھ والے سے مراد یہ ہے کہ انہیں ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا، اسی طرح بائیں ہاتھ والوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ ”اصحب المیمنۃ“ کا دوسرا معنی ہے برکت والے ، خوش نصیب اور ”اصحب المشمۃ“ کا معنی نحوستو الے، بدنصیب بھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
ثم کان من الذین۔۔۔ تا۔۔۔ موصدہ۔
یعنی جس نے غلام کو آزاد کیا یابھوک والے دن کھانا کھلایا تو وہ عقبہ میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہوں نے تصدیق کی، کیونکہ طاعت کے قبول ہونے کی شرط اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے، انفاق کے بعد ایمان کچھ نفع نہ دے گا بلکہ ضروری ہے کہ طاعت ایمان کے ساتھ ملی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں فرمایا، وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفرو بااللہ وبرسولہ۔ التوبہ 54) اور نہیں منع کیا ہے انہیں کہ قبول کیے جائیں ان سے کے اخراجات سوائے اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ۔ حضرت عائشہ نے عرض کی یارسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
35۔ ابن ابی حاتم نے ہشام بن حسان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالصبر اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی، یعنی وہ اس کام پر ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔
36۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالمرحمۃ۔ اور انہوں نے ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی، سے مراد ہے کہ وہ ایک دوسرے کو رحمت کی نصیحت کرتے ہیں اس طرح وہ سارے لوگوں کے لیے زحمت بن جاتے ہیں۔
37۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مؤصدۃ سے مراد ہے دروازوں کا بند کردینا یعنی ان کو آگ میں ڈال کر دروازے بند کردئیے…
Read the full tafseer →[وَالَّذِينَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا : اور وہ لوگ جنھوں نے انکار کیا ہماری آیتوں کا ][ هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ : وہ بائیں طرف والے ہیں ]
Read the full tafseer →﴿وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْـَٔمَةِؕ0019﴾ (اور جن لوگوں نے ہماری آیات کا انکار کیا یہ بائیں ہاتھ والے ہیں) ان کے بائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے اور انہیں دوزخ میں جانا ہوگا جس میں ہمیشہ رہیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔
(ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
9:۔ ” اولئک “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ یہ سعداء ہیں جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے۔ اور ان کا مقام جنت ہے۔ ” والذین کفروا “ یہ تخویف اخروی ہے جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ اشقیاء ہیں ان کے اعمالنامے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور ان پر آگ کو بند کردیا جائیگا۔ لوہے کے ستونوں کے درمیان آگ ہوگی اس میں ان لوگوں کو ڈالا جائیگا اور اوپر سے اس کو بند کردیا جائیگا۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے دروازے اور منافذ بند کردئیے جائیں گے تاکہ آگ کی گرمی میں کمی نہ ہو۔ والمراد مغلقۃ ابوابہا وانما اغلقت لتشدید العذاب والعیاذ باللہ تعالیٰ علیہم (روح ج 30 ص 140) ۔
سورة البلد ختم ہوئی
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
گزشتہ سے پیوستہ
ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…
Read the full tafseer →وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا ہُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَۃِ 19 ۭ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا ہے ۔ اس لئے اسے بھی کافر کہا جاتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰ یٰـتِنَا ھُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ عَلَیْھِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ۔ (البلد : 18 تا 20)
(یہی خوش بخت لوگ ہیں۔ اور جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ کم بختی والے ہیں۔ ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی۔ )
اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ اور اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ میں فرق
گزشتہ آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے نفس کی ترغیبات، شیطان کے بہلاو وں اور خواہشات کی پیروی سے منہ موڑ کر عَقَبَۃُ پر چڑھنے کا فیصلہ کرلیا یعنی خیر اور نیکی کے اس راستے پر چل پڑے جو ایثار اور قربانی کا راستہ ہے اور انھوں نے اپنے د لوں کو ایمان کے نور سے منور بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
فہم القرآن
ربط کلام : مشکل ترین کاموں میں مزید مشکل ترین کام۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مسکین کو کھانا کھلانا، رشتہ دار یتیم کی پرورش کرنا، اخلاقی لحاظ اور مالی اعتبار سے مشکل ترین کام ہیں لیکن ان کاموں سے مشکل ترین کام یہ ہے کہ انسان اپنے باطل نظریات بالخصوص کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید و رسالت کا عقیدہ اپنائے اور اس راستے میں جو بھی مشکلات آئیں ان کا پورے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے حوصلوں کو بھی بلند رکھنے کی کوشش کرے اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا رویہ اختیار کرے۔ دین اختیار کرنے پر مشکلات کا آنا یقینی امر ہے مشکلات پر قابو پانے کے لیے یہی دو طریقے ہیں جن پر چل کر…
Read the full tafseer →19 : وَالَّذِیْنَ کََفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا ھُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ (اور جو لوگ ہماری آیتوں کے منکر ہیں۔ وہ لوگ بائیں والے ہیں) والذین کفروا بٰایتنا جنہوں نے قرآن کا انکار کیا یا ہمارے دلائل کا انکار کیا۔ وہ اصحاب شمال ہیں۔ المیمنہ اور المشئمہ الیمین و الشمال۔ یا الیمن والشئوم یعنی اپنے نفس کو بابرکت کرنے والے اور اپنے نفوس پر نحوست مسلط کرنے والے۔
Read the full tafseer →19 ۔” والذین کفروا بآیاتنا ھم اصحاب المشئمۃ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
(وَالَّذِيْنَ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا) جنہوں نے ان مذکورہ امور کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک کر ہماری آیتوں سے کفر کیا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی تصدیق کی نہ وہ اس پر ایمان لائے، نہ نیک عمل کیے اور نہ اللہ کے بندوں پر رحم ہی کیا۔ ( هُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْــَٔــمَةِ ۔ عَلَيْهِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَةٌ) وہ بدبخت ہیں۔ یہ لوگ آگ میں بند کردیے جائیں گے یعنی وہ آگ بڑے بڑے ستونوں میں بند کی گئی ہوگی اور جو اس آگ کے پیچھے کھڑے کیے گئے ہوں گے تاکہ جہنم کے دروازے کھل نہ سکیں۔ اور (یہ مجرمین) تنگی اور سختی میں مبتلا رہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
قول باری ہے (ثم کان من الذین امنوا۔ پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے) مفہوم یہ ہے وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ۔ اس طرح حرف ثم یہاں حرف وائو کے معنی میں ہے۔
Read the full tafseer →( 17) کفر و انکار باعث ہلاکت و محرومی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنہوں نے کفر کیا ہماری آیتوں کا، والعیاذ باللہ۔ وہی ہیں بائیں بازو والے محروم و بدبخت، والعیاذ باللہ۔ یعنی جنہوں نے انکار کیا ہماری ان آیتوں کا جو کہ راہ حق و ہدایت کو واضھ کرتی اور ہماری عظمت و وحدانیت کا پتہ دیتی ہیں، خواہ وہ آیات کونیہ ہوں جو اس پوری کائنات میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں، اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر دعوت غور وفکر دے رہی ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الذاریات 20 پ 24) یعنی زمین میں بڑی بڑی نشانیاں ہیں یقین والوں کے لیے۔ نیز ارشاد فرمایا گیا ( آیت، یوسف 105 پ 13) یعنی کتنی ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں
تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔
قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة البلد۔
آیات 1 تا 20۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 8 یہ دو ترجمے بھی اس لحاظ سے ہیں کہ مشمہ کے معنی بائیں جانب کے بھی ہیں اور نحوست و بدنصیبی کے بھی بائیں جانب والوں سے مراد وہ ہیں جو عرش کی بائیں جانب کھڑے کئے جائیں گے یا جنہیں ان کا نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔9 یعنی انہیں دوزخ میں پھینک کر اس کے تمام دروازے بند کردیئے جائیں گے تاکہ انہیں کسی طرف سے ہوا نہ لگنے پائے اور نہ وہ بھاگ کر کہیں جاسکیں۔
Read the full tafseer →(90:19) والذین کفروا بایتنا ہم اصحب المشئمۃ۔ واؤ عاطفہ، الذین اسم موصول جمع مذکر۔ کفروا جمع مذکر غائب۔ کفر (باب نصر) مصدر۔ صلہ۔ بایتنا متعلق کفروا۔ اسم موصول بمعہ اپنے صلہ کے مبتدائ۔
اصحب المشئمۃ۔ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب تخصیص کے لئے لائی گئی ہے۔
اور جب لوگوں نے ہماری آیات سے انکار کیا۔ وہی منحوس (بدبخت) ہیں۔
مشئمۃ : (ش ء م۔ حروف مادہ) بائیں طرف (جلالین) ۔
اصحب المشئمۃ۔ بائیں طرف والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
لغات القرآن۔
ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔
تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔
اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔
(ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
[11] دائیں اور بائیں بازو والوں کا بیان سورة واقعہ میں گزر چکا ہے۔ (ملاحظہ ہو آیت نمبر 72 تا 84 صفحہ 1310، 1312)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–20
ف 1: غرض یہ ہے کہ انسان تو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ یہ حق وصداقت کی راہ میں جس قدر مشکلات پیش آئیں ، ان کو صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کرے ۔ مگر اس کی سرکشی اور بغاوت کا یہ عالم ہے کہ خدا سے بھی نہیں ڈرتا اور سمجھتا ہے ۔ کہ اس پر کسی کا بس نہیں چل سکے گا ۔ عیش و عشرت میں ، شادی غمی کی رسموں میں اور نام ونمود کے موقع پر بےدریغ خرچ کرتا ہے ، دعوتوں میں اور حکام وقت کی خوشنودی اور ان کی استرضا میں ہزاروں روپے پانی کی طرح بہادیتا ہے اور جب قومی اور ملی کاموں کے لئے خدا کے نام پر اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ صاحب ! میں نے بڑی دولت لٹائی ہے اور بڑا سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ اب میں کچھ بھی…
Read the full tafseer →(19) اور جو لوگ ہماری آیتوں کے منکر ہوئے وہ بدبخت اور بائیں جانب والے ہیں - یعنی وہ کفر کی وجہ سے بدبخت اور اصحاب الشمال ہیں قیامت میں ان کو بائیں جانب جگہ دی جائے گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
ف 8۔ یعنی دوزخیوں کو دوزخ میں بھر کر آگے سے دروازہ بند کردیں گے کیونکہ خلود کی وجہ سے نکلنا تو ملے گا ہی نہیں۔
Read the full tafseer →جن لوگوں نے کفر کیا وہ بائیں ہاتھ والے ہوں گے
19 ؎ رہے وہ لوگ جن کے اعمالنامے قیامت کے روز بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جو اس بات کی علامت ہے کہ یہ لوگ وہ ہیں جو دنیا کی زندگی میں اپنی غفلتوں کے باعث اللہ والوں کی مخالفت میں لگے رہے اور اللہ کے رسولوں اور خصوصاً محمد رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے لائے ہوئے قرآن کریم اور آپ ﷺ کے نظریہ ٔ قیامت کے منکر تھے اور ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کو عام انسان قرار دے کر آپ ﷺ کی رسالت کا انکار کردیا اور قرآن کریم کو ایک من گھڑت نظریات کی کتاب قرار دے دیا اور قیامت کو ایک ڈھکوسلا قرار دے دیا اور ان تینوں کا مذا اڑاتے رہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ قیامت کے روز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
Obligations of a Believer
ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (then he did not join those who believe and advise each other to be patient and advise each other to be merciful...90:17). The verse points out that the doing only of good actions mentioned in the foregoing verse is not enough for raising the all round stature of the Muslim community. Good ideals and right principles, combined with continuous and sustained adherence to the path of moral rectitude and teaching of virtues to others, are equally essential for the attainment of…
Read the full tafseer →15 For an explanation of "the people of the right hand and of the left hand", see E.N.'s 5, 6 of Surah Al-Waqi'ah.
Read the full tafseer →