Al-Balad 90:18

Al-Balad · from ayah 18

90:18

اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَةِ ۟ؕاُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡمَيۡمَنَةِ

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the companions of the right.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:18

یہی لوگ صاحب سعادت ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے (خوش بختی والے)

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہی وہ لوگ ہیں جو بڑے نصیب والے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ دہنی طرف والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی لوگ دائیں طرف والے (یعنی اہلِ سعادت و مغفرت) ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہی لوگ دائیں ہاتھ والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے

— مولانا اسحاق مدنی

یہ ہوں گے داہنے والے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی لوگ دائیں طرف والے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

These are the People of the Right Hand.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Those are the People of the Right Hand. (i.e. their books of deeds will be given in their right hands)

— Muhammad Taqi Usmani

Those are the People of the Right Hand. (i.e. their books of deeds will be given in their right hands)

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They are those on the Right,

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Their place will be on the right hand.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the companions of the right.

— Saheeh International

These are the people of the right hand.

— Muhammad Sarwar

These are the people of the right hand.

— Muhammad Habib Shakir

These are the fellows of the righthand.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 90:18

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–20

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة الْبَلَد 13 یعنی ان اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن ہو، کیونکہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل صالح ہے اور نہ اللہ کے ہاتھ وہ مقبول ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کی تصریح کی گئی ہے کہ نیکی وہی قابل قدر اور ذریعہ نجات ہے جو ایمان کے ساتھ ہو۔ مثلاً سورة نساء میں فرمایا " جو نیک اعمال کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے " (آیت 124)۔ سورة نحل میں فرمایا " جو نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ایسے لوگوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے " (آ یت 97)۔ سورة مومن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–20

ثم کان من الذین امنو وتواصو بالصبر وتواصوا بالمرحمة۔ اس آیت میں ایمان کے بعد مومن کا یہ فرض بتلایا گیا کہ وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی صبر اور رحمت کی تلقین کرتا رہے۔ صبر سے مراد نفس کو برائیوں سے روکنا اور بھلائیوں پر عمل کرنا ہے اور رحمت سے مراد دوسروں کے حال پر رحم کھانا، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر ان کی ایذا اور ان پر ظلم سے بچنا، اس میں تقریباً دین کے سارے ہی احکام آگئے۔ تمت سورة البلد بحمد اللہ 32 شعبان 9131

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 18–19

نیکوں اور بدوں کے انجام کا فرق: یہ آخر میں ان لوگوں کا انجام بیان فرمایا جو نیکی کے مذکورہ کاموں کا حوصلہ کریں گے اور جو ان سے محروم رہیں گے۔ فرمایا کہ جو لوگ یہ کام کریں گے تو وہ خوش بخت اور بامراد ہیں اور جو اللہ کی باتوں کی تکذیب ہی پر اڑے رہیں گے وہ بدبخت و نامراد ہیں، وہ آگ کے اندر بند کر دیے جائیں گے۔ یہاں تقابل کے اصول پر پہلے ٹکڑے میں اتنی بات محذوف ہے کہ ’اصحٰب المیمنۃ‘ جنت کے بالا خانوں میں ہوں گے۔ لفظ ’مَیْمَنَۃ‘ ’یمین‘ (دہنے) سے بھی ہو سکتا ہے اور ’یمن‘ (مبارکی اور خوش بختی) سے بھی لیکن یہاں یہ ’مَشْئَمَۃ‘ کے مقابل میں آیا ہے جو لازماً ’شوم‘ (نحوست اور بدبختی) سے ہے۔ اس وجہ سے اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–19

17۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہونگے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہوگا۔ 17۔ 2 اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

8: یہ ”اصحب المیمنہ“ کا ترجمہ ہے، اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ دائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ لوگ جو اس مشکل گھاٹی کو عبور کرتے ہیں جیسا کہ قرآن کریم نے فرمایا۔ اولئک ........................ المیمنة (18:90) ” یہ لوگ دائیں بازو والے ہیں “۔ ان کو دوسری جگہ اصحاب الیمین کہا گیا ہے۔ یہ دائیں بازو والے اور سعادت مندی کی صفت والے ہیں۔ دونوں معانی ایمانی مفہوم سے پیوست ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی یہ لوگ بڑے خوش نصیب اور میمون و مبارک ہیں جن کو عرش عظیم کے دائیں جانب جگہ ملے گی اور ان کا اعمال نامہ داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 18{ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ۔ } ”یہ ہوں گے داہنے والے۔“ یعنی یہ وہ لوگ ہوں گے جن کے اعمال نامے ان کے دائیں ہاتھوں میں دیے جائیں گے۔ لفظ یمن کے معنی خوش بختی کے بھی ہیں۔ اس معنی میں آیت کا مفہوم یوں ہوگا کہ یہ وہ خوش قسمت لوگ ہوں گے جو رشد و ہدایت کے راستے پر چلتے ہوئے فوز و فلاح کی منازل تک پہنچ گئے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–19

13 یعنی جن ایمان داروں میں مندرجہ بالا صفات پائی جائیں تو ایسے ہی لوگ وہ خوش نصیب ہیں جنہیں عرش عظیم کے دائیں طرف جگہ ملے گی۔ اور اعمال نامہ ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

11۔ یعنی نیک بخت، خوش نصیب، اہل ایمان اور نجات پاجانے والے، یہ وہی لوگ ہیں جن کا ذکر ابھی متصل آیت میں آچکا۔ (آیت) ” اصحب الیمین “۔ پر حاشیے پ 29 میں گزر چکے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولئک اصحب المیمنۃ . مندرجہ بالا صفات کے حامل بابرکت ہیں اور دائیں جانب والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–18

اور پھر بھی ان لوگوں میں سے نہیں جو کہ ایمان لائے اور ایک دوسرے کو فرض ادا کرنے کی رغبت دلائی اور ایک نے دوسرے کو فقراء و مساکین پر رحم کی فہمایش کی۔ ان ہی خوبیوں کے مالک جنتی ہیں جن کو ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 18–20

(اولئک اصحب المیمنۃ…: دائیں ہاتھ والے سے مراد یہ ہے کہ انہیں ان کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں ملے گا، اسی طرح بائیں ہاتھ والوں کو ان کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں ملے گا۔ ”اصحب المیمنۃ“ کا دوسرا معنی ہے برکت والے ، خوش نصیب اور ”اصحب المشمۃ“ کا معنی نحوستو الے، بدنصیب بھی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–20

ثم کان من الذین۔۔۔ تا۔۔۔ موصدہ۔ یعنی جس نے غلام کو آزاد کیا یابھوک والے دن کھانا کھلایا تو وہ عقبہ میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہوں نے تصدیق کی، کیونکہ طاعت کے قبول ہونے کی شرط اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے، انفاق کے بعد ایمان کچھ نفع نہ دے گا بلکہ ضروری ہے کہ طاعت ایمان کے ساتھ ملی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں فرمایا، وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفرو بااللہ وبرسولہ۔ التوبہ 54) اور نہیں منع کیا ہے انہیں کہ قبول کیے جائیں ان سے کے اخراجات سوائے اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ۔ حضرت عائشہ نے عرض کی یارسول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–20

35۔ ابن ابی حاتم نے ہشام بن حسان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالصبر اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی، یعنی وہ اس کام پر ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔ 36۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالمرحمۃ۔ اور انہوں نے ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی، سے مراد ہے کہ وہ ایک دوسرے کو رحمت کی نصیحت کرتے ہیں اس طرح وہ سارے لوگوں کے لیے زحمت بن جاتے ہیں۔ 37۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مؤصدۃ سے مراد ہے دروازوں کا بند کردینا یعنی ان کو آگ میں ڈال کر دروازے بند کردئیے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِؕ0018﴾ جن مومن بندوں کا ذکر ہوا یہ اصحاب المیمنہ یعنی داہنے ہاتھ والے ہیں جن کے داہنے ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے اور جن سے جنت میں داخل ہونے کا وعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 18–20

9:۔ ” اولئک “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ یہ سعداء ہیں جن کو اعمالنامے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے۔ اور ان کا مقام جنت ہے۔ ” والذین کفروا “ یہ تخویف اخروی ہے جن لوگوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ اشقیاء ہیں ان کے اعمالنامے بائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور ان پر آگ کو بند کردیا جائیگا۔ لوہے کے ستونوں کے درمیان آگ ہوگی اس میں ان لوگوں کو ڈالا جائیگا اور اوپر سے اس کو بند کردیا جائیگا۔ مطلب یہ ہے کہ دوزخ کے دروازے اور منافذ بند کردئیے جائیں گے تاکہ آگ کی گرمی میں کمی نہ ہو۔ والمراد مغلقۃ ابوابہا وانما اغلقت لتشدید العذاب والعیاذ باللہ تعالیٰ علیہم (روح ج 30 ص 140) ۔ سورة البلد ختم ہوئی

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَۃِ۝ 18 ۭ صحب الصَّاحِبُ : الملازم إنسانا کان أو حيوانا، أو مکانا، أو زمانا . ولا فرق بين أن تکون مُصَاحَبَتُهُ بالبدن۔ وهو الأصل والأكثر۔ ، أو بالعناية والهمّة، ويقال للمالک للشیء : هو صاحبه، وکذلک لمن يملک التّصرّف فيه . قال تعالی: إِذْ يَقُولُ لِصاحِبِهِ لا تَحْزَنْ [ التوبة/ 40] قالَ لَهُ صاحِبُهُ وَهُوَ يُحاوِرُهُ [ الكهف/ 34] ، أَمْ حَسِبْتَ أَنَّ أَصْحابَ الْكَهْفِ وَالرَّقِيمِ [ الكهف/ 9] ، وَأَصْحابِ مَدْيَنَ [ الحج/ 44] ، أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، أَصْحابُ النَّارِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 217] ، مِنْ أَصْحابِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–20

ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 18–20

اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ ۔ وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰ یٰـتِنَا ھُمْ اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ ۔ عَلَیْھِمْ نَارٌ مُّؤْصَدَۃٌ۔ (البلد : 18 تا 20) (یہی خوش بخت لوگ ہیں۔ اور جنھوں نے ہماری آیتوں کا انکار کیا وہ کم بختی والے ہیں۔ ان پر آگ چھائی ہوئی ہوگی۔ ) اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ اور اَصْحٰبُ الْمَشْئَمَۃِ میں فرق گزشتہ آیت میں بیان فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے نفس کی ترغیبات، شیطان کے بہلاو وں اور خواہشات کی پیروی سے منہ موڑ کر عَقَبَۃُ پر چڑھنے کا فیصلہ کرلیا یعنی خیر اور نیکی کے اس راستے پر چل پڑے جو ایثار اور قربانی کا راستہ ہے اور انھوں نے اپنے د لوں کو ایمان کے نور سے منور بھی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–20

فہم القرآن ربط کلام : مشکل ترین کاموں میں مزید مشکل ترین کام۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسکین کو کھانا کھلانا، رشتہ دار یتیم کی پرورش کرنا، اخلاقی لحاظ اور مالی اعتبار سے مشکل ترین کام ہیں لیکن ان کاموں سے مشکل ترین کام یہ ہے کہ انسان اپنے باطل نظریات بالخصوص کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید و رسالت کا عقیدہ اپنائے اور اس راستے میں جو بھی مشکلات آئیں ان کا پورے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے حوصلوں کو بھی بلند رکھنے کی کوشش کرے اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا رویہ اختیار کرے۔ دین اختیار کرنے پر مشکلات کا آنا یقینی امر ہے مشکلات پر قابو پانے کے لیے یہی دو طریقے ہیں جن پر چل کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

18 : اُولٰئِکَ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ (یہی لوگ داہنے والے ہیں) ان صفات والے اصحاب یمین سے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–20

11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْمَيْمَنَةِ ) یہی لوگ صاحب سعادت ہیں۔ کیونکہ انہوں نے حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ادا کردیا اور جن کو ادا کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا اور ان امور کو چھوڑ دیا جن سے اللہ تعالیٰ نے ان کو روکا تھا اور یہ سعادت کا عنوان اور اس کی علامت ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–20

قول باری ہے (ثم کان من الذین امنوا۔ پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے) مفہوم یہ ہے وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ۔ اس طرح حرف ثم یہاں حرف وائو کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(16) دائیں بازو والوں کی تعیین و تشخیص کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور دائیں بازوں والے خوش نصیبوں کی تشخیص اور نشاندہی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر وقصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں دائیں بازو والے، یعنی جن کی صفات اوپر بیان ہوئیں، سو یہی لوگ ہیں سعادت و نیک بختی والے جو کہ یوم ازل میں حضرت آدم کی داہنی طرف تھ، اور یہی وہ خوش نصیب ہوں گے جن کو حشر کے دن ان کے نامہ ہائے اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں ملیں گے، جو کہ آخری حقیقی اور دائمی کامیابی کا ثبوت و نشان ہوگا، اور جو سعادتوں کی سعادت اور کامیابیوں کی کامیابی ہوگی، اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے فضل وکرم سے انہی اہل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یہ دو ترجمے اس لحاظ سے ہیں کہ میمنہ کے معنی دائیں جانب کے بھی ہیں اور خوش بختی کے بھی۔ دائیں جانب والوں سے مراد وہ ہیں جنہیں عرش کی دائیں جانب جگہ ملے گیا ی جنہیں ان کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں دیا جائے وہ جو دنیا میں سیدھی راہ پر چلتے رہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:18) اولئک اصحب المیمنۃ : اولئک اسم اشارہ جمع مذکر۔ وہ لوگ ، وہی لوگ، یعنی اوپر مذکور صفات والے۔ مبتداء اصحب المینۃ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتداء کی خبر المیمنۃ سیدھا ہاتھ۔ دائیں سمت۔ یعنی دائیں سمت والے۔ بابرکت ، باسعادت ترجمہ :۔ وہی لوگ باسعادت اور خوش نصیب ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–18

[10] یعنی ان اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن ہو کیونکہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل عمل صالح ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–20

ف 1: غرض یہ ہے کہ انسان تو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ یہ حق وصداقت کی راہ میں جس قدر مشکلات پیش آئیں ، ان کو صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کرے ۔ مگر اس کی سرکشی اور بغاوت کا یہ عالم ہے کہ خدا سے بھی نہیں ڈرتا اور سمجھتا ہے ۔ کہ اس پر کسی کا بس نہیں چل سکے گا ۔ عیش و عشرت میں ، شادی غمی کی رسموں میں اور نام ونمود کے موقع پر بےدریغ خرچ کرتا ہے ، دعوتوں میں اور حکام وقت کی خوشنودی اور ان کی استرضا میں ہزاروں روپے پانی کی طرح بہادیتا ہے اور جب قومی اور ملی کاموں کے لئے خدا کے نام پر اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ صاحب ! میں نے بڑی دولت لٹائی ہے اور بڑا سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ اب میں کچھ بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(18) یہی لوگ صاحب نصیب اور دائیں جانب والے ہیں - یعنی بڑے خوش نصیب وہ ہیں جن کے نامہ اعمال ان کے داہنے ہاتھوں میں دیئے گئے اور بیٹھنے کو دائیں جانب جگہ ملی۔ تفصیل سورة واقعہ میں گزر چکی ہے یہاں عام مومنین مراد ہیں عوام ہوں یا خواص یعنی جن لوگوں نے اوامرالٰہی کی تعظیم کی اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے ساتھ شفقت کا برتائو کیا آگے منکرین کا بیان ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 18–20

ف 8۔ یعنی دوزخیوں کو دوزخ میں بھر کر آگے سے دروازہ بند کردیں گے کیونکہ خلود کی وجہ سے نکلنا تو ملے گا ہی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یتیموں ، مسکینوں اور غریبوں کا خیال رکھنے والے ہی ( اصحب الیمین) ہیں 18 ؎ ایمان و اسلام کی دولت کو قبول کرنے کے بعد جو لوگ ان خوبیوں کے متحمل ہوتے ہیں یعنی غلاموں کو آزاد کرتے ہیں ، غریبوں ، مسکینوں ، یتیموں اور بیوائوں کا خیال رکھتے ہیں اور ان کی تربیت اور ان کی ضروریات کے کفیل بنتے ہیں اور آپس میں شفقت و رحمت سے کام لیتے ہوئے اسلامی معاشرہ کو چار چاند لگا دیتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے ( اصحب الیمین) ہونے کا فتویٰ جاری کیا ہے اور جن کے متعلق اعلان کیا ہے کہ ان کو قیامت کے روز دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جائیں گے اور یہ دائیں ہاتھ میں اعمال نامے دیئے جانے کے باعث بہت خوش…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–20

Obligations of a Believer ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْ‌حَمَةِ ‌ (then he did not join those who believe and advise each other to be patient and advise each other to be merciful...90:17). The verse points out that the doing only of good actions mentioned in the foregoing verse is not enough for raising the all round stature of the Muslim community. Good ideals and right principles, combined with continuous and sustained adherence to the path of moral rectitude and teaching of virtues to others, are equally essential for the attainment of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

13 That is, "In addition to these qualities it is essential that one should be a believer, for without faith no act is an act of virtue, nor acceptable in the sight of Allah. At numerous places in the Qur'an it has been stated that only such an act of virtue is appreciable and becomes a means of salvation as is accompanied by faith. In .Surah An-Nisa', for example, it has been said: "The one who dces good deeds, whether man or woman, provided that the one is a believer, will enter Paradise (v. 1245.) " In Surah An-Nahl: "Whosoever does righteous deeds, whether male or female, provided that he…

Read the full tafseer →