Al-Balad 90:17

Al-Balad · from ayah 17

90:17

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ۟ؕثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَتَوَاصَوۡا بِالصَّبۡرِ وَتَوَاصَوۡا بِالۡمَرۡحَمَةِ

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہو جو ایمان لائے اور صبر کی نصیحت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And then being among those who believed and advised one another to patience and advised one another to compassion.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:17

پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (خلق خدا پر) رحم کی تلقین کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

پھر ان لوگوں میں بھی (داخل) ہو جو ایمان لائے اور صبر کی نصیحت اور (لوگوں پر) شفقت کرنے کی وصیت کرتے رہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ان لوگوں میں سے ہو جاتا جو ایمان ﻻتے اور ایک دوسرے کو صبر کی اور رحم کرنے کی وصیت کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر وہ ان لوگوں میں بھی شامل ہوا جو ایمان لائے ہیں، اور جنہوں نے ایک دوسرے کو ثابت قدمی کی تاکید کی ہے، اور ایک دوسرے کو رحم کھانے کی تاکید کی ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر ہو ان سے جو ایمان لائے اور انہوں نے آپس میں صبر کی وصیتیں کیں اور آپس میں مہربانی کی وصیتیں کیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر (شرط یہ ہے کہ ایسی جدّ و جہد کرنے والا) وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ہیں اور ایک دوسرے کو صبر و تحمل کی نصیحت کرتے ہیں اور باہم رحمت و شفقت کی تاکید کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر (یہ کہ) ہو وہ ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے اور جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی اور ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) وہ ان لوگوں سے ہوا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر کرنے کی اور ایک دوسرے پر رحم کرنے کی وصیت کی۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر وہ بنے ان میں سے جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور ہمدردی کی نصیحت کی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر وہ ہو بھی ان لوگوں میں سے جو ایمان رکھتے ہیں (تمام غیبی حقائق پر) اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو (فہمائش و) تلقین کرتے ہیں صبر (و استقامت) کی اور وہ (فہمائش و) تلقین کرتے ہیں رحم (و کرم) کی

— مولانا اسحاق مدنی

اور تو اور یہ ان لوگوں میں سے نہ ہوا جو ایمان لائے اور (جنہوں نے) ایک دوسرے کو ثبات کی فہمائش کی اور ایک دوسرے کو ترحم کی فہمائش کی تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر وہ شامل ہو ان لوگوں میں جو ایمان لائے اور جنہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور باہم ایک دوسرے کو ہمدردی کی نصیحت کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر ان لوگوں میں بھی داخل ہوا جو ایمان لائے اور لوگوں کو صبر اور رحم کی نصیحت کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

and, then besides this, he be one of those who believed, and enjoined upon one another steadfastness and enjoined upon one another compassion.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

___ then he did not join those who believe and advise each other to be patient and advise each other to be merciful.

— Muhammad Taqi Usmani

___ then he did not join those who believe and advise each other to be patient and advise each other to be merciful.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then he became one of those who believed and recommended one another to patience, and recommended one another to compassion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And to be of those who believe and exhort one another to perseverance and exhort one another to pity.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And then being among those who believed and advised one another to patience and advised one another to compassion.

— Saheeh International

the believers who cooperate with others in patience (steadfastness) and kindness.

— Muhammad Sarwar

Then he is of those who believe and charge one another to show patience, and charge one another to show compassion.

— Muhammad Habib Shakir

Then he became of those who believed and enjoined on each other steadfastness and enjoined on each other compassion.

— Abdul Majid Daryabadi

Then will he be of those who believe, and enjoin patience, (constancy, and self-restraint), and enjoin deeds of kindness and compassion.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 90:17

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–20

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 17–18

سورة الْبَلَد 13 یعنی ان اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن ہو، کیونکہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل صالح ہے اور نہ اللہ کے ہاتھ وہ مقبول ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کی تصریح کی گئی ہے کہ نیکی وہی قابل قدر اور ذریعہ نجات ہے جو ایمان کے ساتھ ہو۔ مثلاً سورة نساء میں فرمایا " جو نیک اعمال کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے " (آیت 124)۔ سورة نحل میں فرمایا " جو نیک عمل کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، اور ہو وہ مومن، تو ہم اسے پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور ایسے لوگوں کو ان کا اجر ان کے بہترین اعمال کے مطابق عطا کریں گے " (آ یت 97)۔ سورة مومن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–20

ثم کان من الذین امنو وتواصو بالصبر وتواصوا بالمرحمة۔ اس آیت میں ایمان کے بعد مومن کا یہ فرض بتلایا گیا کہ وہ دوسرے مسلمان بھائیوں کو بھی صبر اور رحمت کی تلقین کرتا رہے۔ صبر سے مراد نفس کو برائیوں سے روکنا اور بھلائیوں پر عمل کرنا ہے اور رحمت سے مراد دوسروں کے حال پر رحم کھانا، ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھ کر ان کی ایذا اور ان پر ظلم سے بچنا، اس میں تقریباً دین کے سارے ہی احکام آگئے۔ تمت سورة البلد بحمد اللہ 32 شعبان 9131

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ آگے کا قدم ہے جو ان لوگوں کو اٹھانا چاہیے۔ نیکی کرنے والوں کو نیکی کا داعی بھی بننا چاہیے: جن کی آنکھوں میں عبرت نگاہی اور دلوں میں اثرپذیری ہوتی ہے ان سے اوپر بیان کی ہوئی نیکیوں کی بھی توقع کی جاتی ہے اور یہ توقع بھی ان سے کی جانی چاہیے کہ وہ ایمان لانے والوں اور صبر اور ہمدردئ خلق کی دعوت دینے والوں میں سے بنیں گے۔ اگر وہ نہ بنیں تو یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ان کے روحانی و اخلاقی ارتقاء کی راہ میں کوئی غیر فطری رکاوٹ ہے جس کو وہ عبور نہ کر سکے۔ نیکی کے کاموں کا خاص مزاج اور ان کے لیے صبر کی ضرورت: یہاں ’مَرْحَمَۃ‘ (ہمدردی) کے ساتھ ’صبر‘ کا ذکر اسی طرح آیا ہے جس طرح سورۂ عصر میں ’حق‘ اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 17–19

17۔ 1 اس سے معلوم ہوا کہ مذکورہ اعمال خیر، اسی وقت نافع اور اخروی سعادت کا باعث ہونگے جب ان کا کرنے والا صاحب ایمان ہوگا۔ 17۔ 2 اہل ایمان کی صفت ہے کہ وہ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

8: یہ ”اصحب المیمنہ“ کا ترجمہ ہے، اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ دائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ثم کان ............................ بالمرحمة (17:90) ؟ ؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کی “۔ لفظ تم یہاں ” پھر “ کے معنی میں نہیں ہے ، کہ پہلے یہ دوکام ہیں اور بعد میں اسلام ہے ، بلکہ معنی یہ ہے کہ یہ دوجزوی کام بھی ضروری ہیں لیکن ان سے پہلے ایمان لانا ضروری ہے ، اور یہ ضروری اور عام اصول ہے۔ اور اعلیٰ مقام و مرتبہ ہے ، اگر ایمان نہیں ہے تو پھر غلاموں کو آزاد کرنا ، اور لوگوں کو کھانا کھلانا مفید ہی نہیں ہے۔ ہر اچھے عمل سے قبل ایمان لانا ضروری ہے۔ اللہ کے ہاں کسی بھی عمل صالح میں وزن صرف ایمان کی وجہ سے پیدا ہوتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی پھر ان سب اعمال کے مقبول ہونے کب سب سے بڑی شرط ایمان ہے۔ اگر یہ چیز نہیں تو سب کیا کرایا اکارت ہے۔ 9 یعنی ایک ددسرے کو تاکید کرتے رہتے ہیں کہ حقوق و فرائض کے ادا کرنے میں ہر قسم کی سختیوں کا تحمل کرو اور خدا کی مخلوق پر رحم کھاؤ تاکہ آسمان والاتم پر رحم کھائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 17{ ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا } ”پھر وہ شامل ہو ان لوگوں میں جو ایمان لائے“ یہاں پر لفظ ثُمَّ بہت اہم اور معنی خیز ہے۔ یعنی پہلے انسان اس مشکل گھاٹی کو عبور کرے ‘ اپنے دل کی زمین میں انفاق فی سبیل اللہ کا ہل چلائے ‘ اس کے ذریعے سے دل کی زمین سے حب مال کا جھاڑ جھنکاڑ صاف کرے ‘ اور پھر ثُمَّ اس میں ایمان کا بیج ڈالے۔ اگر وہ اس ترتیب اور اس انداز سے محنت کرے گا تو تبھی ایمان کا پودا اس کے دل کی زمین میں اپنی جڑیں پھیلائے گا اور برگ و بار لائے گا۔ { وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ۔ } ”اور جنہوں نے باہم ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کی اور باہم ایک دوسرے کو ہمدردی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

12 اصحاب الیمین کے لئے کونسی صفات ضروری ہیں :۔ اس آیت سے بہت سی باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ انسان کتنے ہی اچھے اعمال بجا لائے جب تک ایماندار نہ ہو، اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہ رکھتا ہو، اس کے اعمال آخرت میں کسی کام نہیں آئیں گے بلکہ برباد ہوجائیں گے۔ دوسری یہ کہ صرف ایمان لانا ہی کافی نہیں بلکہ باقی ایمانداروں کا ساتھ دینا بھی ضروری ہے تاکہ اسلام کو غالب کرنے اور غالب رکھنے کے راستہ میں جو مشکلات پیش آتی ہیں۔ ان کی اجتماعی طور پر مدافعت کی جائے۔ تیسری یہ کہ اسلام کی نظر میں اجتماعی زندگی ہی پسندیدہ ہے۔ تاکہ اسلامی معاشرے کے سب افراد ایک دوسرے کے دکھ درد اور رنج و راحت میں شریک ہو سکیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

10۔ ثم یہاں تفخیم مرتبہ کے لئے ہے (تھانوی (رح)) یعنی وہ پہلی فضلتیں تو یہ بدبخت کافر کیا حاصل کرتا، اس سے اتنا بھی نہ ہوا کہ یہ ایمان تو لے آتا اوراقل مرتبہ صبر و رحمت ہی کی تلقین وتبلیغ کرتا، فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ آیت سے فضیلت تین چیزوں کی نکلی، ایک ایمان لانے کی دوسرے اس پر ثابت رہنے کی، تیسرے ترک ظلم کی۔ پوری آیت کا عطف فقرۂ منفی یعنی فلا اقتحم العقبۃ پر ہے۔ عطف علی المنفی اعنی اقتحم فکانہ قیل فلا اقتحم ولاامن (روح) (آیت) ” وتواصوبالصبر “۔ تمام حقوق اللہ کی ادائی کا جامع ہے، جس طرح تو اصوابالمرحمۃ “۔ تمام حقوق العباد کی ادائی کا جامع۔ وذکر امرا تو اصوابالصبر اشارۃ الی تعظیم امر اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثم کان من الذین امنوا . اقتحم پر یا فک پر عطف ہے (بہرحال نفی کے ماتحت ہے) ثُمَّ (تراخی زمانی کے لیے آتا ہے یعنی ثم کے مابعد کا زمانہ ماقبل کے زمانہ سے مؤخر ہوتا ہے لیکن یہاں ایسا ہونا ناممکن ہے کیونکہ ہر عمل صالح کی بناء ایمان پر ہے اگر عمل صالح مع ایمان نہ ہو تو ایسا عمل آخرت میں مفید اجر نہیں۔ اس لیے اس جگہ ثم کا استعمال مجازی ہے یعنی مرتبہ کا بلند اور بعید ہونا) عتق اور اطعام سے ایمان کے بعید المرتبہ ہونے کو ظاہر کر رہا ہے۔ ایمان بجائے خود مستقل (افادی حیثیت رکھتا) ہے اور تمام طاعتیں ایمان کے ساتھ مشروط ہیں۔ و تو اصوا بالصبر وتلوا صوا بالمرحمۃ . پھر سب سے بڑی بات یہ کہ وہ شخص ان لوگوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 17–18

اور پھر بھی ان لوگوں میں سے نہیں جو کہ ایمان لائے اور ایک دوسرے کو فرض ادا کرنے کی رغبت دلائی اور ایک نے دوسرے کو فقراء و مساکین پر رحم کی فہمایش کی۔ ان ہی خوبیوں کے مالک جنتی ہیں جن کو ان کا نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(ثم کان من الذین امنوا…: جنت کی بلندیوں پر پہنچنے کے لئے یہی کافی نہیں کہ گردنیں آزاد رکے یا یتیم اور مسکین کو کھانا کھلائے، بلکہا ن کے ساتھ ساتھ ایمان بھی ضروری ہے، اگر ایمان نہیں تو کوئی عمل قبول نہیں۔ (دیکھیے نسائ : 144 نحل : 97۔ بنی اسرائیل : 19) پھر ایمان اور عمل صالح کے ساتھ ایک دوسرے کو صبر اور رحم کرنے کی وصیت اور تاکید بھی ضروری ہے۔ سورة عصر میں بھی یہی مضمون بیان ہوا ہے۔ ”ثم کان من الذین امنوا“ کے الفاظ کا تقاضا یہ ہے کہ مشکل گھاٹی کی چڑھئای کے لئے جو امور ضروری ہیں ان میں پہلے گردن چھڑانا اور یتیم یا مسکین کو کھانا کھلانا ہے پھر اس کے بعد ایمان لانا اور حق و مرحمت کی وصیت کرنا ہے ،…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 17–20

ثم کان من الذین۔۔۔ تا۔۔۔ موصدہ۔ یعنی جس نے غلام کو آزاد کیا یابھوک والے دن کھانا کھلایا تو وہ عقبہ میں داخل نہیں ہوگا یہاں تک کہ وہ ان لوگوں میں سے ہوجائے گا جنہوں نے تصدیق کی، کیونکہ طاعت کے قبول ہونے کی شرط اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا ہے، انفاق کے بعد ایمان کچھ نفع نہ دے گا بلکہ ضروری ہے کہ طاعت ایمان کے ساتھ ملی ہوئی ہو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں فرمایا، وما منعھم ان تقبل منھم نفقتھم الا انھم کفرو بااللہ وبرسولہ۔ التوبہ 54) اور نہیں منع کیا ہے انہیں کہ قبول کیے جائیں ان سے کے اخراجات سوائے اس کے کہ انہوں نے کفر کیا اللہ کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ۔ حضرت عائشہ نے عرض کی یارسول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 17–20

35۔ ابن ابی حاتم نے ہشام بن حسان (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالصبر اور انہوں نے ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی، یعنی وہ اس کام پر ایک دوسرے کو صبر کی تلقین کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے۔ 36۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وتواصو بالمرحمۃ۔ اور انہوں نے ایک دوسرے کو رحم کرنے کی وصیت کی، سے مراد ہے کہ وہ ایک دوسرے کو رحمت کی نصیحت کرتے ہیں اس طرح وہ سارے لوگوں کے لیے زحمت بن جاتے ہیں۔ 37۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مؤصدۃ سے مراد ہے دروازوں کا بند کردینا یعنی ان کو آگ میں ڈال کر دروازے بند کردئیے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ثُمَّ كَان : پھر وہ ہو (بھی)][ مِنَ الَّذِينَ اٰمَنُوْا : ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے ][ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْر : اور باہم تاکید کی ثابت قدم رہنے کی ][ِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ : اور باہم تاکید کی رحم دل ہونے کی ] نوٹ۔ 6: آیت۔ 17 ۔ کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن بھی ہو۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل نہ تو عمل صالح ہے اور نہ وہ اللہ کے ہاں مقبول ہوسکتا ہے۔ قرآن مجید میں بکثرت مقامات پر اس کی تصریح کی گئی ہے کہ نیکی وہی قابل قدر اور ذریعہ نجات ہے جو ایمان کے ساتھ ہو۔ مثلاً سورة نساء کی آیت۔ 124 ۔ میں فرمایا کہ جو نیک اعمال کرے، خواہ وہ مرد ہو یا عورت،…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے بعد فرمایا : ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَوَاصَوْا بالصَّبْرِ وَ تَوَاصَوْا بالْمَرْحَمَةِؕ0017 کہ مذکورہ افعال خیر ایمان کے ساتھ ہونے چاہئیں کیونکہ ایمان کے بغیر آخرت میں کوئی عمل نافع نہیں ہے اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ صفت ایمان اور دوسری صفات کے ساتھ آپس میں ایک دوسرے کو صبر کی تلقین بھی کرتے رہنا چاہیے نیکیوں پر جما رہنا اور گناہوں سے رکا رہنا اور مشکلات و مصائب پر جزع و شکوہ و شکایت نہ کرنا یہ سب کچھ صبر میں آجاتا ہے اور یہ بھی فرمایا کہ آپس میں ایک دوسرے کو مرحمت یعنی مخلوق پر رحمت کرنے کی وصیت بھی کرتے رہنا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

8:۔ ” ثم کان “ ثم تعقیب ذکری کے لیے ہے یعنی ان مصارف میں خرچ کرے لیکن اس کے ساتھ ایمان شرط ہے۔ مومن بھی ہوں اور دوسرے گناہوں سے بچنے اور مصائب پر صبر کرنے کی وصیت بھی کریں اور لوگوں پر مہربانی کرنے اور ان کا ترس کھانے کی تلقین کریں یا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کو ایسے کاموں کی ترغیب دیں جو اللہ کی رحمت کا باعث اور موجب ہوں۔ ” وتواصوابالمرحمۃ عباد اللہ او بموجبات رحمۃ اللہ “ (مظہری) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ۝ 17 ۭ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–20

ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ ۔ (البلد : 17) (پھر وہ ایمان والوں میں سے ہو جنھوں نے ایک دوسرے کو صبر کی نصیحت کی اور ایک دوسرے کو رحم کی تلقین کی۔ ) عَقَبَہ سر کرنے والوں کے مزید اوصاف اللہ تعالیٰ جن کی نگاہوں میں عبرت نگاہی اور دلوں میں اثر پذیری پیدا کردیتا ہے ان میں وہ اوصاف پیدا ہوجاتے ہیں جن کا اوپر کی آیات میں ذکر کیا گیا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ان اوصاف کا اعتبار اللہ تعالیٰ کے یہاں اس وقت ہوتا ہے جب ان کے ساتھ آدمی مومن بھی ہو۔ کیونکہ ایمان کے بغیر کوئی عمل، عمل صالح نہیں بنتا، اور نہ اللہ تعالیٰ کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–20

فہم القرآن ربط کلام : مشکل ترین کاموں میں مزید مشکل ترین کام۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسکین کو کھانا کھلانا، رشتہ دار یتیم کی پرورش کرنا، اخلاقی لحاظ اور مالی اعتبار سے مشکل ترین کام ہیں لیکن ان کاموں سے مشکل ترین کام یہ ہے کہ انسان اپنے باطل نظریات بالخصوص کفر و شرک کو چھوڑ کر توحید و رسالت کا عقیدہ اپنائے اور اس راستے میں جو بھی مشکلات آئیں ان کا پورے حوصلے کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے اپنے ساتھیوں کے حوصلوں کو بھی بلند رکھنے کی کوشش کرے اور ایک دوسرے کے ساتھ نرمی اور مہربانی کا رویہ اختیار کرے۔ دین اختیار کرنے پر مشکلات کا آنا یقینی امر ہے مشکلات پر قابو پانے کے لیے یہی دو طریقے ہیں جن پر چل کر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ناشکری نعمت : 17 : ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا (پھر ان لوگوں میں سے نہ ہوا جو ایمان لائے) یعنی اس نے ان انعامات کا شکریہ اعمال صالحہ میں سے آزادیٔ گردن، یتامیٰ اور مساکین کو کھانا کھلانے کی صورت میں اداء نہ کیا۔ پھر سب سے بڑھ کر جو ان اعمال صالحہ کی بنیاد ایمان ہے۔ اس کو اختیار نہ کیا۔ بلکہ اس کی بجائے نعمتوں کی ناقدری کی، منعم کریم کی ناشکری کی، مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مال کو اس انداز اور طرز سے خرچ کرنا فائدہ مند اور نفع بخش ہے ریاء و فخر کی خاطر مال کا دے دینا چنداں فائدہ مند نہیں ہے۔ نحو : لا ماضی کے ساتھ استعمال ہو تو مکرر لایا جاتا ہے۔ مگر فصیح ترین کلام میں مکرر نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

17 ۔” ثم کان من الذین امنوا “ پھر بیان کیا یہ عبادتیں ایمان کے ساتھ نفع دیں گی اور کہا گیا ہے ” ثم “ وائو کے معنی میں ہے۔ ” وتواصوا “ ایک دوسرے کی طرف وصیت کریں۔ ” بالصبر “ اللہ کے فرائص اور اس کے احکامات پر۔” وتواصوا بالمرحمۃ “ لوگوں کی رحمت کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–20

11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا) پھر ان لوگوں کو (داخل) ہوا جو ایمان لائے۔ یعنی وہ ان چیزوں پر اپنے دل سے ایمان لائے جن پر ایمان لانا واجب ہے اور نیک عمل کیے اس میں ہر واجب یا مستحب قول وفعل داخل ہے۔ (وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ) اور وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے، اس کی نافرمانی سے رک جانے اور تکلیف دہ تقدیر پر صبر کرنے کی ایک دوسرے کو تلقین کرتے رہے یعنی وہ ایک دوسرے کو ترغیب دیتے تھے کہ ان احکامات کی اطاعت کی جائے اور ان پر کامل طور پر انشراح صدر اور اطمینان نفس کے ساتھ عمل کیا جائے۔ (وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ ) اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی وصیت کرتے رہے۔ یعنی محتاجوں کو عطا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 17–20

قول باری ہے (ثم کان من الذین امنوا۔ پھر (اس کے ساتھ یہ کہ) آدمی ان لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے) مفہوم یہ ہے وہ شخص ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے ۔ اس طرح حرف ثم یہاں حرف وائو کے معنی میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(14) اجتماعی عمل کی ضرورت و اہمیت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اجتماعی عمل کی ضرورت و اہمیت کا اجاگر کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ ہو بھی ان لوگوں میں سے جو ایمان لائے ہوں، کہ ایمان قبولیت عمل کے لیے اولین بنیاد اور لازمی شرط ہے، اس کے بغیر کسی عمل کا اللہ تعالیٰ کے ہاں نہ کوئی وزن ہے اور نہ ہی کوئی اجر وثواب، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور ایمان کے بگیر نہ کوئی عمل صالح قرار پاسکتا ہے اور نہ وہ مدار نجات بن سکتا ہے، اور قرآن حکیم میں اس امر کی جگہ جگہ اور طرح طرح سے تصریح فرمائی گئی، مثلا سورة نساء کی آیت نمبر 124 میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی نیک عمل کرے گا، خواہ وہ کوئی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی اللہ تعالیٰ کے احکام بجا لانے پر صبر و استقلال کی اور مخلوق پر رحم کھانے کی تلقین کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:17) ثم کان من الذین امنوا وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمۃ۔ صاحب تفسیر حقانی تحریر کرتے ہیں :۔ ثم اس مقام پر تراخی ذکر کے لئے ۔ یعنی ان سب باتوں کا ذکر کرنے کے بعد میں یہ بھی کہتا ہوں کہ اسے ایمان دار بھی ہونا چاہیے۔ بعض علماء کے نزدیک ثم اس جگہ تاخیر وقوع کے لئے ہے۔ یعنی کفار کے اعمال خیر توقف میں رہتے ہیں۔ اگر اخیر میں ایمان لے آیا تو یہ اعمال مقبول ہوجاتے ہیں ورنہ مردود۔ چناچہ حکیم بن حزام نے اسلام لانے کے بعد آنحضرت ﷺ سے سوال کیا کہ میں نے حالف کفر میں بہت سے نیک کام کئے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ تیرے ایمان نے ان سب کو نیک اور مقبول بنادیا۔ اولی یہی ہے کہ ثم تراخی ذکر کے لئے ہے۔ ثم کان من…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 17–18

[10] یعنی ان اوصاف کے ساتھ یہ ضروری ہے کہ آدمی مومن ہو کیونکہ ایمان کے بغیر نہ کوئی عمل عمل صالح ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے ہاں مقبول۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–20

ف 1: غرض یہ ہے کہ انسان تو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ یہ حق وصداقت کی راہ میں جس قدر مشکلات پیش آئیں ، ان کو صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کرے ۔ مگر اس کی سرکشی اور بغاوت کا یہ عالم ہے کہ خدا سے بھی نہیں ڈرتا اور سمجھتا ہے ۔ کہ اس پر کسی کا بس نہیں چل سکے گا ۔ عیش و عشرت میں ، شادی غمی کی رسموں میں اور نام ونمود کے موقع پر بےدریغ خرچ کرتا ہے ، دعوتوں میں اور حکام وقت کی خوشنودی اور ان کی استرضا میں ہزاروں روپے پانی کی طرح بہادیتا ہے اور جب قومی اور ملی کاموں کے لئے خدا کے نام پر اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ صاحب ! میں نے بڑی دولت لٹائی ہے اور بڑا سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ اب میں کچھ بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(17) پھر وہ ان لوگوں میں سے بھی ہوا جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو ثابت قدم رہنے کی تاکید اور ایک دوسرے کو مخلوق پر رحم کرنے کی فہمائش کرتے رہے - یعنی اگر یہ مذکورہ بھلائیاں کرنے والا ان لوگوں میں سے ہو جو ایمان لائے اور ایک دوسرے کو صبر علی الطاعات اور مخلوق پر شفقت و رحم کی تاکید اور تقید کرتے رہے تو یہ نیکیاں ان کو نفع دیں گی۔ اور گھاٹی کا گزر جانا اور عبور کو لینا آسان ہوگا۔ ورنہ یہ تمام مذکورہ بھلائیاں بیکار اور اکارت ہوجائیں گی اور ان کے لئے نفع بخش نہ ہوں گی اور یہ گھاٹی عبور نہ کرسکیں گے۔ وتواصوا بالصبر کا مطلب یہ ہے کہ ادائے فرض اور تمام اوامرالٰہی اور نواہی پر ثابت قدم اور صبر کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 7۔ ایمان تو سب سے مقدم ہے پھر امر بالثبات علی الایمان اوروں سے افضل ہے، پھر ترک اضرار بقیہ سے اہم ہے، پھر ان اعمال کا رتبہ ہے جو فک رقبہ سے ذا متربة تک مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر وہ اہل ایمان سے ہوں اور ایک دوسرے کی صبر کی نصیحت کرتے ہوں 17 ؎ گزشتہ آیات میں تین چیزوں کی طرف خصوصاً توجہ دلائی : (1) غذائی اجناس کی نایاب کے وقت کھانا کھلانا۔ (2) اپنے قریبی رشتہ داروں کو جب کہ وہ یتیم بھی ہوں کھاناکھلانا۔ (3) ایسے مسکینوں کو کھانا کھلانا جو خاک نشین ہوں ۔ اس فعل کو قرآن کریم نے ( عقبہ) کہا ہے اس لیے کہ اپنی ضروریات کو پیچھے ڈال کر دوسروں کی ضروریات کو اہمیت دینا ایک بہت بڑی مشکل بات ہے جس سے مشکل شاید کوئی دوسرا کام نہ ہو ۔ اس میں جو بار بار کھانا کھلانے کا ذکر آیا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان کی دوسری حوائج و ضروریات کا خیال رکھنا ضروری نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–20

Obligations of a Believer ثُمَّ كَانَ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْ‌حَمَةِ ‌ (then he did not join those who believe and advise each other to be patient and advise each other to be merciful...90:17). The verse points out that the doing only of good actions mentioned in the foregoing verse is not enough for raising the all round stature of the Muslim community. Good ideals and right principles, combined with continuous and sustained adherence to the path of moral rectitude and teaching of virtues to others, are equally essential for the attainment of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 17–18

13 That is, "In addition to these qualities it is essential that one should be a believer, for without faith no act is an act of virtue, nor acceptable in the sight of Allah. At numerous places in the Qur'an it has been stated that only such an act of virtue is appreciable and becomes a means of salvation as is accompanied by faith. In .Surah An-Nisa', for example, it has been said: "The one who dces good deeds, whether man or woman, provided that the one is a believer, will enter Paradise (v. 1245.) " In Surah An-Nahl: "Whosoever does righteous deeds, whether male or female, provided that he…

Read the full tafseer →