Al-Balad 90:16

Al-Balad · from ayah 16

90:16

اَوْ مِسْكِیْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ ۟ؕاَوۡ مِسۡكِيۡنًا ذَا مَتۡرَبَةٍ

یا فقیر خاکسار کو

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or a needy person in misery

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:16

یا خاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا فقیر خاکسار کو

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا خاکسار مسکین کو

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا کسی مسکین کو جو مٹی میں رل رہا ہو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا خاک نشین مسکین کو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا شدید غربت کے مارے ہوئے محتاج کو جو محض خاک نشین (اور بے گھر) ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا مٹی میں ملے ہوئے کسی مسکین کو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا کسی خاک آلود مسکین کو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یا کسی خاک نشین محتاج کو

— مولانا اسحاق مدنی

یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا فقیر خاکسار کو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

or to a destitute lying in dust;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

or to a needy person lying in dust_ ___

— Muhammad Taqi Usmani

or to a needy person lying in dust_ ___

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or to a Miskin cleaving to dust.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or a needy person in misery

— Saheeh International

and downtrodden destitute person, (so that he would be of)

— Muhammad Sarwar

Or to the poor man lying in the dust.

— Muhammad Habib Shakir

Or a poor man cleaving to the dust.

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 90:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–20

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَلَد 12 اوپر چونکہ اس کی فضول خرچیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو وہ اپنی بڑائی کی نمائش اور لوگوں پر اپنا فخر جتانے کے لیے کرتا ہے، اس لیے اب اس کے مقابلے میں بتایا گیا ہے کہ وہ کونسا خرچ اور مال کا کونسا مصرف ہے جو اخلاق کی پستیوں میں گرانے کے بجائے آدمی کو بلندیوں کی طرف لے جاتا ہے، مگر اس میں نفس کی کوئی لذت نہیں ہے بلکہ آدمی کو اس کے لیے اپنے نفس پر جبر کر کے ایثار اور قربانی سے کام لینا پڑتا ہے۔ وہ خرچ یہ ہے کہ آدمی کسی غلام کو خود آزاد کرے، یا اس کی مالی مدد کرے تاکہ وہ اپنا فدیہ ادا کر کے رہائی حاصل کرلے، یا کسی غریب کی گردن قرض کے جال سے نکالے، یا کوئی بےوسیلہ آدمی اگر کسی تاوان کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–16

فلا اقتحم العقبة۔ وما ادرک مالعقبة۔ فل رقبة، عقبہ پہاڑ کی بڑی چٹان کو بھی کہتے ہیں اور دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو یعنی گھاٹی کو بھی اور دشمن سے نجات حاصل کرنے میں عقبہ انسان کی مدد کرتا ہے کہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر دشمن سے اپنے کو بچا لے یا پھر گھاٹی میں داخل ہو کر یہاں سے نکل جائے۔ اس جگہ طاعات و عبادات کو ایک عقبہ سے تعبیر فرمایا ہے کہ جس طرح دشمن سے نجات دلانیکا سبب ہوتا ہے اعمال صالحہ آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں پھر ان اعمال صحالہ میں پہلے فک رقبة فرمایا، یعنی کسی غلام کو آزاد کرنا بکہ بہت بڑی عبادت اور ایک انسان کی زندگی کو بنادینا ہے۔ دوسری چیز اواطعم بیان فرمائی کہ بھوکے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–16

اس کے بعد یتیموں اور مسکینوں کو کھلانے کا ذکر فرمایا۔ ’کھلانا‘ ظاہر ہے کہ اپنے محدود مفہوم میں نہیں بلکہ وسیع معنوں یعنی ما یحتاج پوری کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اس کے ساتھ ’فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ‘ (بھوک اور قحط کے زمانے میں) کی قید اپیل کو مؤثر بنانے کے لیے ہے۔ یہ کام ہے تو ہمیشہ نیکی کا لیکن قحط کے زمانے میں اس کی قدر و قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

16۔ 1 یعنی جو فقر و غربت کی وجہ سے مٹی پر پڑا ہو، اس کا گھر بار بھی نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی گردن کو آزاد کرنا، کسی بھوکے رشتے دار کو کھانا کھلا دینا، یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعے سے انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے ہی بڑے اجر کا کام ہے، لیکن اگر وہ رشتے دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقے کا، دوسرا صلہ رحمی کا، اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی بڑی فضیلت احادیث میں آئی ہے، آج کل اس کی ایک صورت کسی مقروض کو قرض کے بوجھ سے نجات دلا دینا ہوسکتی ہے، یہ بھی ایک گونہ فک رقبہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

8: یہ ”اصحب المیمنہ“ کا ترجمہ ہے، اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ دائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اواطعم ............................ ذا متربة (14:90 تا 16) ” یا فاقے کے دن کسی قریبی یتیم یاخاک نشین مسکین کو کھانا کھلانا “۔ مسفبہ کے معنی ہیں بھوک کے۔ قحط کے دنوں میں چونکہ کھانا مہنگا ہوتا ہے ، اس لئے ان دنوں غریبوں کو کھانا کھلانا ، ایمان کے لئے معیار بن جاتا ہے۔ اس وقت کی جاہلی سوسائٹی میں یتیموں کی حالت تو یہ تھی کہ ان کے حقوق ہر طرف پامال ہوتے تھے ، ان کے مال کو غبن کیا جاتا تھا اور اس رطح سے اڑالیا جاتا تھا کہ گویا زمین اسے کھاگئی۔ اگرچہ یتیم قریبی رشتہ دار ہوتا۔ اس لئے کہ اس جاہلی سوسائٹی میں لوگ دولت کے پیچھے کتوں کی طرح ہلکان ہورہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کو یتیم کے مال کی حفاظت کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 یعنی فقرو فاقہ اور تنگدستی سے خاک میں مل رہا ہو، یہ مواقع ہیں مال خرچ کرنے کے نہ یہ کہ شادی غمی کی فضول رسموں اور خدا کی نافرمانیوں میں روپیہ برباد کر کے دنیا کی رسوائی اور آخرت کا وبال سر لیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16{ اَوْ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ۔ } ”یا اس محتاج کو جو مٹی میں رُل رہا ہے۔“ یہ وہ فلسفہ ہے جس پر سورة الحدید کے مطالعہ کے دوران تفصیل سے گفتگو ہوچکی ہے۔ یہ مشکل گھاٹی دراصل ُ حب ِمال کی وہ چٹان ہے جو متعلقہ انسان کے لیے بھلائی کے راستے کو مسدود کیے کھڑی ہے۔ سورة الحدید کی آیت 18 کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے اسے گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی تھی۔ چناچہ مذکورہ گھاٹی کو عبور کرنے یا گاڑی کی بریک کو کھولنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ انسان اپنے مال کو اللہ کی رضا کے لیے محتاجوں اور ناداروں کی مدد کرنے اور بھلائی کے دوسروں کاموں پر دل کھول کر خرچ کرے۔ یعنی مال کی محبت کی آلودگی کو دل سے صاف کرنے کا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

11 دشوار گزار گھاٹی پر چڑھنے کے اوصاف :۔ اس گھاٹی پر چڑھنے کے چار کام یہاں بیان کیے گئے ہیں اور ان چاروں کا تعلق اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے سے ہے۔ جو انسان کو طبعاً ناگوار ہے۔ اوپر ایسے شخص کا ذکر آیا ہے جو اپنے نام و نمود اور شہرت اور شیخی بگھارنے کے لیے مال خرچ کرتا پھر لوگوں میں بڑ ہانکتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے اتنا اور اتنا مال فلاں فلاں کاموں میں خرچ کردیا ہے۔ اب یہ بتایا جارہا ہے کہ اگر مال خرچ کرنا ہے تو اس کے بہترین مصرف یہ ہیں کہ مال خرچ کرکے کسی غلام کو آزادی دلادی جائے۔ اس کی مکاتبت میں اس کی مدد کی جائے۔ قحط کے دنوں میں لوگوں کو غلہ مہیا کیا جائے یا انہیں کھانا کھلایا جائے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–16

9۔ قرآن مجید نے اپنے لائے ہوئے لفظ (آیت) ” العقبۃ “۔ کی یہ خود تفسیر کردی یعنی دین کے کاموں سے مراد اس قسم کے کام ہیں، :۔ غلاموں کو آزاد کرنا، قحط وگرانی کے زمانہ میں بھوکوں کو کھانا کھلانا، یتیموں کی خدمت کرنا، محتاجوں کی خبر لینا، مکی سورتیں اس قسم کے اخلاق احکام کی تاکید و تفصیل سے بھری پڑی ہے۔ (آیت) ” مسغبۃ “۔ سغب کے معنی میں، اور مقربۃ قرابت کے معنی میں اور (آیت) ” متربۃ “۔ فقر کے معنی میں، تینوں، مصدر میمی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

Explained with ayahs 14–16

مسغبۃ مقربۃ اور متربۃ تینوں بروزن مَفْعَلَۃٌ ہیں۔ سَغَبَ : بھوکا ہوا۔ قَرُبَ فِی النَّسَبِ : نسب میں قریب ہوا۔ تَرِبَ : فقیر ہوگیا۔ انتہائی محتاجی کی وجہ سے خاک پر پڑگیا۔ بھوکے ہونے کی نسبت یوم کی طرف حقیقی نہیں (دن بھوکا نہیں ہوتا) مجازی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–16

(11۔ 16) کیا اس قوت کے دعویدار نے پل صراط کی گھاٹی کو عبور کیا ہے اور یہ گھاٹی جنت و دوزخ کے درمیان ہے اور اس گھاٹی کو کوئی عبور نہیں کرسکتا مگر وہ شخص جو کہ گردن کو غلامی سے چھڑا دے، یا فاقہ کے دن میں کسی رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلا دے، یا کسی خاک نشین محتاج کو جس کے پاس کچھ نہ ہو کھانا کھلا دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–16

(او اطعم فی یوم ذی مسغبۃ…: یوں تو قحط اور بھوک کے وقت کسی بھی یتیم کو کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے، لیکن جو یتیم رشتہ دار بیھ ہو اس کی خبر گیری کرنا مزید اجر کا باعث ہے۔ اسی معنی میں سلیمان بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (الصدقۃ علی المسکین صدقۃ، وانھا علی ذی الرحم اثنان ، صدقۃ وصلۃ) (مسند احمد : 3/213، ح : 18891 ترمذی : 658 ابن ماجہ : 1833، وصححہ الالبانی)”مسکین پر صدقہ کرنا (صرف) صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

او اطعم فی یوم ذی مسغبہ۔۔۔ تا۔۔۔ متربہ۔ مسغبہ کا معنی ہے بھوک، سغب کا معنی بھوک ہے اور ساغب بھوکے کو کہتے ہیں، حضرت حسن بصری نے یوں قرات کی فی یوم ذامسغبہ، ابوعبید نے یہ شعر پڑھا ہے۔ فلوکنت جاریابن قیس بن عاصم، لما بت شبعانا وجارک ساغبا۔ اے ابن قیس بن عاصم، اگر تو جوار کا حق ادا کرتا توسیر ہو کر اور تیرا پڑوسی بھوکارات نہ گزارتا۔ کھانا کھلانافضیلت ہے جب بھوک ہوتویہ بہت ہی افضل ہے، امام نخعی نے اس ارشاد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ایسے دن میں کھانا کھلانا جس میں کھانا درونایاب ہو، نبی کریم سے مروی ہے، من موجبات الرحمۃ اطعام المسلم السغبان۔ رحمت کے موجبات میں سے یہ بھی ہے کہ بھوکے مسلمان کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

27۔ فریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت او مسکینا ذا متربۃ یا کسی خاک نشین مسکین کو ایسا حقیر اور چھوڑا ہو انسان جس کا کوئی گھر نہ ہو اور حاکم کے الفاظ میں ہے کہ ایسا خاک نشین جسے مٹی سے کوئی چیز نہ بچا سکتی ہو اور ایک روایت کے الفاظ ہیں کہ جو شدت فقر کے سبب مٹی سے چپک جائے۔ 28۔ فریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 29۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت او مسکینا ذا متربۃ سے مراد ہے شدید حاجت مند آدمی۔ 30۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت او مسکینا ذا متربۃ کے بارے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ : یا کسی ایسے مسکین کو جو محتاجی والا ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–16

ایمان قبول کرنے کے بعد بہت سے تقاضے پورے کرنا لازم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر بھی نفس کو آمادہ کرنا پڑتا ہے اور مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے ہوتے ہیں ان میں حقوق واجبہ بھی ہوتے ہیں اور مستحب چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ اس بارے میں فرمایا کہ انسان اس گھاٹی سے کیوں نہ گزرا جس میں نفس پر قابو پایا جاتا ہے پھر تفخیم شان کے لیے فرمایا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا گھاٹی ہے ؟ پھر بطور مثال تین چیزیں ذکر فرمائیں : 1 ﴿ فَكُّ رَقَبَةٍۙ0013﴾ (گردن کا چھڑانا) یعنی اللہ کی رضا کے لیے غلام اور باندی کا آزاد کرنا یہ آزاد کرنا کفارات واجبہ میں بھی ہوتا ہے اور مستحب بھی ہوتا ہے جس میں ایک صورت مکاتب بنانے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–16

7:۔ ” فک رقبۃ “ یہ العبقۃ کا بیان ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان صحیح مصرفوں میں مال خرچ کرنے کی مشقت اٹھاؤ نجات پاؤ گے اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ ہے وہ گھاٹی جس پر چڑھنے سے ان کو نجات ملے گی اور یہ ہیں خرچ کرنے کے صحیح مصارف جن پر خرچ کرنے سے ان کو ثواب ملے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ۝ 16 ۭ مِسْكِينُ قيل : هو الذي لا شيء له، وهو أبلغ من الفقیر، وقوله تعالی: أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] ، فإنه جعلهم مساکين بعد ذهاب السّفينة، أو لأنّ سفینتهم غير معتدّ بها في جنب ما کان لهم من المسکنة، وقوله : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، فالمیم في ذلک زائدة في أصحّ القولین . المسکین المسکین بعض نے اس کی تفسیر ( یعنی جس کے پاس کچھ بھی نہ ہو ) کے ساتھ کی ہے اور یہ فقر سے ابلغ ہے ( یعنی بنسبت فقر کے زیادہ تا دار ہوتا ہے ) لیکن آیت : أَمَّا السَّفِينَةُ فَكانَتْ لِمَساكِينَ [ الكهف/ 79] اور کشتی غریب لوگوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–20

ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–16

فَکُّ رَقَـبَۃٍ ۔ اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۔ یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ ۔ اَوْمِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ۔ (البلد : 13 تا 16) (غلامی سے گردن چھڑانا۔ یا کھانا کھلانا بھوک کے دن میں۔ کسی قریبی یتیم کو۔ یا خاک نشین مسکین کو۔ ) چند مشکل الفاظ : مَسْغَبَۃٍ مصدر میمی ہے سَغَبَ سے۔ یہ لفظ عام بھوک پر بھی بولا جاتا ہے لیکن امام راغب نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے ہُوَالْجُوْعُ مِنَ التَّعَبِ بھوک اور تھکن دونوں کے مجموعے کو مَسْغَبَۃٍ کہتے ہیں۔ یعنی ایسے دنوں میں کھانا کھلانا جب ہر طرف قحط کا دور دورہ ہو۔ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ … مَتْرَبَۃٍ بھی مصدر میمی ہے۔ یعنی جب وہ اتنا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے نہیں دیکھتا اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے اس وقت سے دیکھ رہا ہے کہ جب اس کے رحم مادر میں نقش ونگار بنائے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کیا انسان اس پر پر غور نہیں کر تاکہ ہم نے اسے دو آنکھیں، ایک زبان اور دوہونٹ عطا کیے ہیں اور ہم نے اسے دوراستے دکھائے ہیں مگر اس نے مشکل گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کیا سمجھیں کہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی کی گردن کو غلامی سے چھڑایا جائے، کسی قرابت دار فاقہ مست اور خاک نشین، یتیم یا مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

16 ۔” اومسکینا ذا متربۃ “ تحقیق وہ اپنے اور تنگ دستی کی وجہ سے مٹی میں مل گیا ہو۔ مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ وہ مٹی میں پھینکا ہوا جس کو کوئی چیز نہ بچائے اور ” المتربۃ “ مصدر ہے ” ترب، یترب، تربا ومتربۃ “ جب وہ محتاج ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–20

11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(اَوْ مِسْكِيْنًا ذَا مَتْرَبَةٍ ) یا مسکین خاکسار کو۔ یعنی جو سخت حاجت اور ضرورت کی بنا پر مٹی سے چمٹ کر رہ گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

قول باری ہے (اومسکینا ذا متریۃ یا خاک نشین مسکین کو (کھانا کھلایا) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ متربہ مٹی کی جگہ کو کہتے ہیں۔ یعنی وہ شخص مٹی میں پڑا ہوا ہو اور کوئی چیز زمین کی مٹی سے اسے محفوظ نہ کررہی ہو۔ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ بھی منقول ہے کہ متربہ حاجتمندی کی شدت کو بھی کہتے ہیں۔ جب کوئی شخص حاجت مند ہوجاتا ہے تو کہا جاتا ہے۔ ” ترب الرجل “۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(13) قریبی رشتہ دار اور مسکین کو کھانا کھلانا ایک اہم مطلب : چناچہ اقتحام عقبہ کی تشریح و تفسیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھوک کے دن کھانا کھلادینا ہے کسی قریبی یتیم یا خاک نشیں مسکین کو، اور یہ اس لیے کہ کسی قریبی یتیم کو کھنا کھلانے میں دوہرا اجر وثواب ہے، ایک صدقہ و خیرات کا اور دوسرا قرابت داری کا اور صلہ رحمی کا، مگر شرط یہ ہے کہ ان میں سے کسی کام میں بھی کوئی ریا و نمود وغیرہ نہ ہو، بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کا حصول ہی اس کا اصل مقصد و محرک ہو۔ " فایک نسال اللھم التوفیق 1 لزالک والسداد والثبات علیہ " اور یتیم کو کھانا کھلانا محض اس کے محدود ومعنی کے اعتبار سے نہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یعنی جو محتاجی کی وجہ سے خاک میں رل رہا ہو جس کا نہ کوئی گھر ہوا اور نہ اس کے پاس پہننے کے لبے لباس رہا ہو۔ قرضوں کا بوجھ سر پر الگ لدا ہوا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:16) او مسکنا ذا متربۃ۔ او۔ حرف عطف۔ (اس کا عطف یتیما پر ہے) مفلس، نادار۔ موصوف۔ ذا متربۃ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت مسکینا کی ۔ متربۃ۔ اسم ، سخت ناداری۔ ایسی مفلسی جو زمین سے چمٹا دے۔ اٹھنے کی سکت نہ چھوڑے۔ آیات 12 تا 16 کا ترجمہ یوں ہوگا :۔ اور آپ کو کیا معلوم کہ عقبہ کیا ہے ۔ وہ کسی غلام کو آزاد کرانا ہے یا بھوک کے (قحط سالی) میں کسی قرابت دار یتیم کو یا سخت نادار (خاک نشین) مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–20

ف 1: غرض یہ ہے کہ انسان تو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ یہ حق وصداقت کی راہ میں جس قدر مشکلات پیش آئیں ، ان کو صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کرے ۔ مگر اس کی سرکشی اور بغاوت کا یہ عالم ہے کہ خدا سے بھی نہیں ڈرتا اور سمجھتا ہے ۔ کہ اس پر کسی کا بس نہیں چل سکے گا ۔ عیش و عشرت میں ، شادی غمی کی رسموں میں اور نام ونمود کے موقع پر بےدریغ خرچ کرتا ہے ، دعوتوں میں اور حکام وقت کی خوشنودی اور ان کی استرضا میں ہزاروں روپے پانی کی طرح بہادیتا ہے اور جب قومی اور ملی کاموں کے لئے خدا کے نام پر اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ صاحب ! میں نے بڑی دولت لٹائی ہے اور بڑا سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ اب میں کچھ بھی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(16) یا کسی خاک افتادہ و مسکین کو فک رقبۃ اپنے کسی غلام یا لونڈی کو خود آزاد کردینا یا کسی دوسرے سے آزاد کرادینا کسی مکاتب کا روپیہ ادا کرکے اس کو آزاد کرادینا یا کسی کا خوں بہا ادا کرکے قصاص اور قتل سے آزاد کرادینا یا کسی قیدی کا جرمانہ ادا کرکے اس کو قید سے آزاد کرادینا۔ یا کسی مقروض کا قرضہ ادا کرکے اس کو سبکدوش کردینا یوم ذی مسغبۃ بھوک اور فاقے کے دن زمانہ قحط میں یتیم کے ساتھ ذامقربہ کی قید لگائی چونکہ قرابت دار کا حق مقدم ہے مسکین کو ذامتربہ فرمایا تاکہ معلوم ہو کہ اس کا فقرانتہاکو پہچا ہوا ہو اور خاک پر پڑا ہو کوئی اس کا اٹھانے والا اور کھانا کھلانے والا نہیں۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 7۔ ایمان تو سب سے مقدم ہے پھر امر بالثبات علی الایمان اوروں سے افضل ہے، پھر ترک اضرار بقیہ سے اہم ہے، پھر ان اعمال کا رتبہ ہے جو فک رقبہ سے ذا متربة تک مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

یا مسکین کو جو بالکل خاک نشین ہے 16 ؎ ایسے مسکینوں کی طرف دست تعاون دراز کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے جن کو فقر و فاقہ اور تنگ دستی نے خاک نشین بنا دیا ہے ۔ بلا شبہ ان امور میں مال خرچ کرنے سے ان کی شہرت کا ڈنکا نہ بجتا ہو اور اس طرح اگرچہ ان کی دولت کی نمائش لوگوں کی آنکھیں خیر نہ کرتی ہوں لیکن ضرورت مندوں کی امداد کر کے ایک انسان کو غلامی کی زنجیروں سے آزاد کر کے وہ ایسا کام کرتے جس کی کی اللہ تعالیٰ کے نزدیک بڑی قدر و قیمت ہے ، چناچہ ایک حدیث میں ہے کہ : ( قال قال رسول اللہ ﷺ من اوی یتیما الی طعامہ و شرابہ واجب اللہ لہ الجنۃ البتۃ الا ان یعمل ذنبا لا یغفر ومن عال ثلث او مثلھن من الاخوات…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–16

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿11﴾ وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿12﴾ (Yet he did not make his way through the steep course. And what may let you know what the steep course is? ...90:11-12] ' The word 'aqabah means 'hill, high place or a steep road'. It also refers to a 'low area of land between two hills or mountains, that is, a valley'. 'Aqabah helps a man in saving himself when pursued by an enemy by ascending the summit of the mountain, or in escaping by descending into the valley. Here the word 'aqabah refers to obedience and devotion. Just as it saves man from an enemy, righteous…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

12 Since in the foregoing verses the extravagances of man which he indulges in for ostentation and expression of superiority to others, have been mentioned, now here it is being stated as to what expenditure of wealth it is which leads tnan up to moral heights instead of causing him to sink into moral depravity and perversion. But in this there is no enjoyment for the self; on the contrary, man has to exercise self-restraints and make sacrifices. The expenditure is that one should set a slave free, or should render a slave monetary help so as to enable him to win his freedom by paying the…

Read the full tafseer →