Al-Balad 90:15

Al-Balad · from ayah 15

90:15

یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَةٍ ۟ۙيَّتِيۡمًا ذَا مَقۡرَبَةٍ

یتیم رشتہ دار کو

— Fateh Muhammad Jalandhari

An orphan of near relationship

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:15

یتیم رشتہ دار کو

— مولانا فتح محمد جالندہری

کسی رشتہ دار یتیم کو

— مولانا محمد جوناگڑہی

کسی قرابت والے یتیم کو۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

کسی قریبی یتیم کو

— مولانا اسحاق مدنی

اس یتیم کو جو قرابت دار بھی ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یتیم رشتہ دار کو

— محترمہ رفعت اعجاز

to an orphan near of kin,

— Muhammad Taqi Usmani

to an orphan near of kin,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

To an orphan near of kin.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

An orphan of near relationship

— Saheeh International

an orphaned relative

— Muhammad Sarwar

To an orphan, having relationship,

— Muhammad Habib Shakir

An orphan, of kin,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 90:15

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–20

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–15

سورة الْبَلَد 11 اصل الفاظ ہیں " فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ " اقتحام کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقت طلب کام میں ڈالنا۔ اور عقبہ اس دشوار گزار راستے کو کہتے ہیں جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دو راستے جو ہم نے اسے دکھائے ان میں سے ایک بلندی کی طرف جاتا ہے مگر مشقت طلب اور دشوار گزار ہے۔ اس میں آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے اور شیطان کی ترغیبات سے لڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ اور دوسرا آسان راستہ ہے جو کھڑوں میں اترتا ہے، مگر اس سے پستی کی طرف جانے کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ بس اپنے نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دینا کافی ہے، پھر آدمی خود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–16

فلا اقتحم العقبة۔ وما ادرک مالعقبة۔ فل رقبة، عقبہ پہاڑ کی بڑی چٹان کو بھی کہتے ہیں اور دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو یعنی گھاٹی کو بھی اور دشمن سے نجات حاصل کرنے میں عقبہ انسان کی مدد کرتا ہے کہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر دشمن سے اپنے کو بچا لے یا پھر گھاٹی میں داخل ہو کر یہاں سے نکل جائے۔ اس جگہ طاعات و عبادات کو ایک عقبہ سے تعبیر فرمایا ہے کہ جس طرح دشمن سے نجات دلانیکا سبب ہوتا ہے اعمال صالحہ آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں پھر ان اعمال صحالہ میں پہلے فک رقبة فرمایا، یعنی کسی غلام کو آزاد کرنا بکہ بہت بڑی عبادت اور ایک انسان کی زندگی کو بنادینا ہے۔ دوسری چیز اواطعم بیان فرمائی کہ بھوکے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 14–16

اس کے بعد یتیموں اور مسکینوں کو کھلانے کا ذکر فرمایا۔ ’کھلانا‘ ظاہر ہے کہ اپنے محدود مفہوم میں نہیں بلکہ وسیع معنوں یعنی ما یحتاج پوری کرنے کے مفہوم میں ہے۔ اس کے ساتھ ’فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ‘ (بھوک اور قحط کے زمانے میں) کی قید اپیل کو مؤثر بنانے کے لیے ہے۔ یہ کام ہے تو ہمیشہ نیکی کا لیکن قحط کے زمانے میں اس کی قدر و قیمت بہت بڑھ جاتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–15

11۔ 1 عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے یعنی (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ 11۝ڮ) 90۔ البلد :11) کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا ؟ مطلب ہے نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے اس محنت و مشقت کی وضاحت کے لئے جو نیکی کے کاموں کے لئے ایک انسان کو شیطان کے وسوسوں اور تقاضوں کے خلاف کرنی پڑتی ہے، جیسے گھاٹی پر چڑھنے کے لئے سخت جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

8: یہ ”اصحب المیمنہ“ کا ترجمہ ہے، اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ دائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–15

پھر اس گھاٹی کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے لئے سوال وما ادرک ما العقبة (12:90) ” تم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے “۔ یہ سوال اس لئے نہیں ہے کہ وہ گھاٹی کوئی بہت ضخیم ہے اور ناقابل عبور ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کو عبور کرنا ضروری ہے تاکہ انسان جرات کرکے گھس جائے اور جست لگادے۔ اگرچہ اس کی راہ میں مشکلات حائل ہوں ، کیونکہ محنت اور مشقت کے بغیر تو کوئی کام بھی نہیں ہوتا اور اگر کوئی یہ مشقت برداشت کرے گا تو اسے ضرور اس کا ثمرہ مل جائے گا اور اس کی تکالیف کا صلہ اس کے سامنے ہوگا ، اور اس کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا اور یہ کام ہر حال میں ہونے والا ہے۔ یہ دشوارگزار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یتیم کی خدمت کرنا ثواب اور قرابتداروں کے ساتھ سلوک کرنا بھی ثواب، جہاں دونوں جمع ہوجائیں تو دوہرا ثواب ہوگا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 14–15

آیت 14{ اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ۔ } ”یا کھانا کھلا دینا بھوک کے دن میں۔“ یعنی کسی شخص کا قحط سالی کے دوران بھوکوں کو کھانا کھلانا۔ خصوصی طور پر ایسی صورت حال میں جب اسے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت کا خیال بھی پریشان کیے دے رہا ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–15

10 یہ گھاٹی دراصل اخلاقی بلندیاں ہیں اور ان پر چڑھنے کا راستہ دشوار گزار اس لحاظ سے ہے کہ ایسے راستے عموماً انسان کی خواہش کے خلاف اور طبیعت کے لئے ناگوار اور گرانبار ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–16

9۔ قرآن مجید نے اپنے لائے ہوئے لفظ (آیت) ” العقبۃ “۔ کی یہ خود تفسیر کردی یعنی دین کے کاموں سے مراد اس قسم کے کام ہیں، :۔ غلاموں کو آزاد کرنا، قحط وگرانی کے زمانہ میں بھوکوں کو کھانا کھلانا، یتیموں کی خدمت کرنا، محتاجوں کی خبر لینا، مکی سورتیں اس قسم کے اخلاق احکام کی تاکید و تفصیل سے بھری پڑی ہے۔ (آیت) ” مسغبۃ “۔ سغب کے معنی میں، اور مقربۃ قرابت کے معنی میں اور (آیت) ” متربۃ “۔ فقر کے معنی میں، تینوں، مصدر میمی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

Explained with ayahs 14–16

مسغبۃ مقربۃ اور متربۃ تینوں بروزن مَفْعَلَۃٌ ہیں۔ سَغَبَ : بھوکا ہوا۔ قَرُبَ فِی النَّسَبِ : نسب میں قریب ہوا۔ تَرِبَ : فقیر ہوگیا۔ انتہائی محتاجی کی وجہ سے خاک پر پڑگیا۔ بھوکے ہونے کی نسبت یوم کی طرف حقیقی نہیں (دن بھوکا نہیں ہوتا) مجازی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–16

(11۔ 16) کیا اس قوت کے دعویدار نے پل صراط کی گھاٹی کو عبور کیا ہے اور یہ گھاٹی جنت و دوزخ کے درمیان ہے اور اس گھاٹی کو کوئی عبور نہیں کرسکتا مگر وہ شخص جو کہ گردن کو غلامی سے چھڑا دے، یا فاقہ کے دن میں کسی رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلا دے، یا کسی خاک نشین محتاج کو جس کے پاس کچھ نہ ہو کھانا کھلا دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 14–16

(او اطعم فی یوم ذی مسغبۃ…: یوں تو قحط اور بھوک کے وقت کسی بھی یتیم کو کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے، لیکن جو یتیم رشتہ دار بیھ ہو اس کی خبر گیری کرنا مزید اجر کا باعث ہے۔ اسی معنی میں سلیمان بن عامر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (الصدقۃ علی المسکین صدقۃ، وانھا علی ذی الرحم اثنان ، صدقۃ وصلۃ) (مسند احمد : 3/213، ح : 18891 ترمذی : 658 ابن ماجہ : 1833، وصححہ الالبانی)”مسکین پر صدقہ کرنا (صرف) صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 14–16

او اطعم فی یوم ذی مسغبہ۔۔۔ تا۔۔۔ متربہ۔ مسغبہ کا معنی ہے بھوک، سغب کا معنی بھوک ہے اور ساغب بھوکے کو کہتے ہیں، حضرت حسن بصری نے یوں قرات کی فی یوم ذامسغبہ، ابوعبید نے یہ شعر پڑھا ہے۔ فلوکنت جاریابن قیس بن عاصم، لما بت شبعانا وجارک ساغبا۔ اے ابن قیس بن عاصم، اگر تو جوار کا حق ادا کرتا توسیر ہو کر اور تیرا پڑوسی بھوکارات نہ گزارتا۔ کھانا کھلانافضیلت ہے جب بھوک ہوتویہ بہت ہی افضل ہے، امام نخعی نے اس ارشاد کی وضاحت کرتے ہوئے کہا، ایسے دن میں کھانا کھلانا جس میں کھانا درونایاب ہو، نبی کریم سے مروی ہے، من موجبات الرحمۃ اطعام المسلم السغبان۔ رحمت کے موجبات میں سے یہ بھی ہے کہ بھوکے مسلمان کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

26۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت ذا مقربۃ یعنی رشتہ دار اور آیت ذا متربۃ سے مراد ہے بعید التربۃ یعنی دوری جو اپنے وطن سے دور ہو۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 13–16

ایمان قبول کرنے کے بعد بہت سے تقاضے پورے کرنا لازم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر بھی نفس کو آمادہ کرنا پڑتا ہے اور مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے ہوتے ہیں ان میں حقوق واجبہ بھی ہوتے ہیں اور مستحب چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ اس بارے میں فرمایا کہ انسان اس گھاٹی سے کیوں نہ گزرا جس میں نفس پر قابو پایا جاتا ہے پھر تفخیم شان کے لیے فرمایا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا گھاٹی ہے ؟ پھر بطور مثال تین چیزیں ذکر فرمائیں : 1 ﴿ فَكُّ رَقَبَةٍۙ0013﴾ (گردن کا چھڑانا) یعنی اللہ کی رضا کے لیے غلام اور باندی کا آزاد کرنا یہ آزاد کرنا کفارات واجبہ میں بھی ہوتا ہے اور مستحب بھی ہوتا ہے جس میں ایک صورت مکاتب بنانے کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 13–16

7:۔ ” فک رقبۃ “ یہ العبقۃ کا بیان ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان صحیح مصرفوں میں مال خرچ کرنے کی مشقت اٹھاؤ نجات پاؤ گے اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ ہے وہ گھاٹی جس پر چڑھنے سے ان کو نجات ملے گی اور یہ ہیں خرچ کرنے کے صحیح مصارف جن پر خرچ کرنے سے ان کو ثواب ملے گا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يَّـتِيْمًـا ذَا مَقْرَبَۃٍ۝ 15 ۙ يتم اليُتْمُ : انقطاع الصَّبيِّ عن أبيه قبل بلوغه، وفي سائر الحیوانات من قِبَلِ أمّه . قال تعالی: أَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيماً فَآوی[ الضحی/ 6] ، وَيَتِيماً وَأَسِيراً [ الإنسان/ 8] وجمعه : يَتَامَى. قال تعالی: وَآتُوا الْيَتامی أَمْوالَهُمْ [ النساء/ 2] ، إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوالَ الْيَتامی [ النساء/ 10] ، وَيَسْئَلُونَكَ عَنِ الْيَتامی [ البقرة/ 220] وكلُّ منفردٍ يَتِيمٌ ، يقال : دُرَّةٌ يَتِيمَةٌ ، تنبيها علی أنّه انقطع مادّتها التي خرجت منها، وقیل : بَيْتٌ يَتِيمٌ تشبيها بالدّرّة اليَتِيمَةِ. ( ی ت م ) الیتم کے معنی نا بالغ بچہ کے تحت شفقت پدری سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–20

ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 13–16

فَکُّ رَقَـبَۃٍ ۔ اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۔ یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ ۔ اَوْمِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ۔ (البلد : 13 تا 16) (غلامی سے گردن چھڑانا۔ یا کھانا کھلانا بھوک کے دن میں۔ کسی قریبی یتیم کو۔ یا خاک نشین مسکین کو۔ ) چند مشکل الفاظ : مَسْغَبَۃٍ مصدر میمی ہے سَغَبَ سے۔ یہ لفظ عام بھوک پر بھی بولا جاتا ہے لیکن امام راغب نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے ہُوَالْجُوْعُ مِنَ التَّعَبِ بھوک اور تھکن دونوں کے مجموعے کو مَسْغَبَۃٍ کہتے ہیں۔ یعنی ایسے دنوں میں کھانا کھلانا جب ہر طرف قحط کا دور دورہ ہو۔ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ … مَتْرَبَۃٍ بھی مصدر میمی ہے۔ یعنی جب وہ اتنا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے نہیں دیکھتا اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے اس وقت سے دیکھ رہا ہے کہ جب اس کے رحم مادر میں نقش ونگار بنائے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کیا انسان اس پر پر غور نہیں کر تاکہ ہم نے اسے دو آنکھیں، ایک زبان اور دوہونٹ عطا کیے ہیں اور ہم نے اسے دوراستے دکھائے ہیں مگر اس نے مشکل گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کیا سمجھیں کہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی کی گردن کو غلامی سے چھڑایا جائے، کسی قرابت دار فاقہ مست اور خاک نشین، یتیم یا مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

15 ۔” یتیما ذا مقربۃ “ یعنی قرابت والا۔ مرادیہ ہے کہ ایسا یتیم کہ تیرے اور اس کے درمیان قریبی رشتہ ہو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–20

11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 14–15

(اَوْ اِطْعٰمٌ فِيْ يَوْمٍ ذِيْ مَسْغَبَةٍ ) یا سخت بھوک کے دن، سخت حاجت کے وقت ان لوگوں کو کھانا کھلانا جو سب سے زیادہ ضرورت مند ہیں۔ (يَّـتِيْمًـا ذَا مَقْرَبَةٍ ) یتیم رشتے دارکو۔ اس کا یتیم ہونا، محتاج اور رشتے دار ہونا۔ یہ سب امور اس میں یکجا ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–15

(12) انسان کی دون ہمتی کی شکایت کا ذکر وبیان : سو انسان کی دون ہمتی کی شکایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ہمت نہ کی اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی، جو سدا بہار بلندیوں اور حقیقی عظمتوں سے ہم کنار کرنے والی ایک عظیم الشان گھاٹی ہے اور ایسی عظیم الشان گھاٹی جو اس مشت خاک یعنی انسان ضعیف کو رشک ملائک بنا دینے والے گھاٹی ہے۔ " عقبہ " کے معنی گھاٹی کے ہیں اور " اقتحام " کے معنی چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کے ہیں، یہاں پر اس ارشاد سے نیکی کے ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو ہمدردی خلق اور بندگی رب کے اعلی کام ہیں، اور جن کی مثالیں آگے مذکور ہیں، ان کاموں کے انجام دینے میں چونکہ انسان کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 یعنی یوں تو قحط اور بھوک کے وقت ہر یتیم کو کھانا کھلانا ثواب کا کام ہے، لیکن جو یتیم رشتہ دار بھی ہو، اس کی خبر گیری کرنا مزید اس کا باعث ہے۔ اسی معنی میں حضرت سلمان بن عامر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :” مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ ہے اور رشتہ دار مسکین پر صدقہ کرنا صدقہ بھی ہے اور صلہ رحمی بھی “ (ابن کثیر بحوالہ ترمذی نسائی وغیرہ)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:15) یتیما : مفعول اطعم کا۔ موصوف۔ ذامقربۃ مضاف مضاف الیہ مل کر صفت یتیما کی۔ مقربۃ (مصدر میمی) قرابت داری۔ قرابت۔ یتیما ذا مقربۃ قرابت دار یتیم کو۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–20

ف 1: غرض یہ ہے کہ انسان تو اس لئے پیدا کیا گیا تھا کہ یہ حق وصداقت کی راہ میں جس قدر مشکلات پیش آئیں ، ان کو صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کرے ۔ مگر اس کی سرکشی اور بغاوت کا یہ عالم ہے کہ خدا سے بھی نہیں ڈرتا اور سمجھتا ہے ۔ کہ اس پر کسی کا بس نہیں چل سکے گا ۔ عیش و عشرت میں ، شادی غمی کی رسموں میں اور نام ونمود کے موقع پر بےدریغ خرچ کرتا ہے ، دعوتوں میں اور حکام وقت کی خوشنودی اور ان کی استرضا میں ہزاروں روپے پانی کی طرح بہادیتا ہے اور جب قومی اور ملی کاموں کے لئے خدا کے نام پر اس سے کچھ مانگا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ صاحب ! میں نے بڑی دولت لٹائی ہے اور بڑا سرمایہ خرچ کیا ہے ۔ اب میں کچھ بھی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 7۔ ایمان تو سب سے مقدم ہے پھر امر بالثبات علی الایمان اوروں سے افضل ہے، پھر ترک اضرار بقیہ سے اہم ہے، پھر ان اعمال کا رتبہ ہے جو فک رقبہ سے ذا متربة تک مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

خصوصاً یتیموں کو جو قرابت دار بھی ہوں 15 ؎ ( مقربۃ) مصدر میمی قرابت و رشتہ داری ۔ مطلب یہ ہے کہ یتیم بھی ہو اور صاحب مال و دولت کا رشتہ دار بھی ہو تو اس کی ضروریات زندگی کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنا ایک اہم کام ہے۔ تف ہے ایسے مالدار پر جس کے اپنے خاندان میں یتیم اور مسکین روٹی کے ٹکڑوں کے محتاج ہوں اور وہ ڈراموں ڈانگریوں پر اور ناچنے گانے والوں پر ، خانقاہوں اور درباروں پر ، میلاد کے جشنوں پر بےدریغ دولت خرچ کر رہا ہو اور سمجھے کہ میں بہت سخاوت کر رہا ہوں اور نیکیوں کے کمانے میں لگا ہوا ہوں گویا جہاں جہاں مال و دولت کے خرچ کرنے سے منع کیا گیا ہے وہاں تو تجوریوں کا منہ کھول دے اور جہاں خرچ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–16

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿11﴾ وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿12﴾ (Yet he did not make his way through the steep course. And what may let you know what the steep course is? ...90:11-12] ' The word 'aqabah means 'hill, high place or a steep road'. It also refers to a 'low area of land between two hills or mountains, that is, a valley'. 'Aqabah helps a man in saving himself when pursued by an enemy by ascending the summit of the mountain, or in escaping by descending into the valley. Here the word 'aqabah refers to obedience and devotion. Just as it saves man from an enemy, righteous…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–15

11 The words in the original are: fa-lagtaham-al- aqabah. Iqtiham means to apply oneself to a hard and toilsome task, and 'aqabah is the steep path that passes through mountains for ascending heights. Thus, the verse means: "One of the two paths that We have shown him, leads to heights but is toilsome and steep; man has to tread it against the desires of his self and the temptations of Satan. The other path is easy which descends into chasms, but does not require any toil from man; one only needs to give free reins to oneself, then one automatically goes on rolling down the abyss. Now, the…

Read the full tafseer →