Al-Balad 90:12

Al-Balad · from ayah 12

90:12

وَمَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ ۟ؕوَمَاۤ اَدۡرٰٮكَ مَا الۡعَقَبَةُ

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And what can make you know what is [breaking through] the difficult pass?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:12

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کیا سمجھا کہ گھاٹی ہے کیا؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تمہیں کیا پتہ کہ وہ گھاٹی کیا ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور آپ کیا سمجھے ہیں کہ وہ (دینِ حق کے مجاہدہ کی) گھاٹی کیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور تجھے کس چیز نے معلوم کروایا کہ وہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور آپ کیا جانیں کہ وہ دشوارگزار گھاٹی کیا ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور تم سمجھے کہ کیا ہے وہ گھاٹی !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور آپ سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ گھاٹی کون سی ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم کیا سمجھے کہ گھاٹی کیا ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

And what do you know what that difficult steep is?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

__ And what may let you know what the steep course is?

— Muhammad Taqi Usmani

__ And what may let you know what the steep course is?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And what will make you know the path that is steep

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ah, what will convey unto thee what the Ascent is! -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And what can make you know what is [breaking through] the difficult pass?

— Saheeh International

Would that you knew what Aqaba is!

— Muhammad Sarwar

And what will make you comprehend what the uphill road is?

— Muhammad Habib Shakir

And what shall make thee understand that which the steep is?

— Abdul Majid Daryabadi

And what will explain to thee the path that is steep?-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 90:12

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–20

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–15

سورة الْبَلَد 11 اصل الفاظ ہیں " فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ " اقتحام کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقت طلب کام میں ڈالنا۔ اور عقبہ اس دشوار گزار راستے کو کہتے ہیں جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دو راستے جو ہم نے اسے دکھائے ان میں سے ایک بلندی کی طرف جاتا ہے مگر مشقت طلب اور دشوار گزار ہے۔ اس میں آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے اور شیطان کی ترغیبات سے لڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ اور دوسرا آسان راستہ ہے جو کھڑوں میں اترتا ہے، مگر اس سے پستی کی طرف جانے کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ بس اپنے نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دینا کافی ہے، پھر آدمی خود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–16

فلا اقتحم العقبة۔ وما ادرک مالعقبة۔ فل رقبة، عقبہ پہاڑ کی بڑی چٹان کو بھی کہتے ہیں اور دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو یعنی گھاٹی کو بھی اور دشمن سے نجات حاصل کرنے میں عقبہ انسان کی مدد کرتا ہے کہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر دشمن سے اپنے کو بچا لے یا پھر گھاٹی میں داخل ہو کر یہاں سے نکل جائے۔ اس جگہ طاعات و عبادات کو ایک عقبہ سے تعبیر فرمایا ہے کہ جس طرح دشمن سے نجات دلانیکا سبب ہوتا ہے اعمال صالحہ آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں پھر ان اعمال صحالہ میں پہلے فک رقبة فرمایا، یعنی کسی غلام کو آزاد کرنا بکہ بہت بڑی عبادت اور ایک انسان کی زندگی کو بنادینا ہے۔ دوسری چیز اواطعم بیان فرمائی کہ بھوکے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

خدا کے مقرب بننے کے لیے بازیاں کھیلنی پڑتی ہیں: ’وَمَآ اَدْرٰکَ مَا الْعَقَبَۃُ‘ میں جو اسلوب ہے اس کی وضاحت ہم جگہ جگہ کر چکے ہیں کہ یہ انداز سوال کسی چیز کی عظمت و شان یا اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ یہاں مقصود مخاطبوں کو یہ بتانا ہے کہ تم صرف چند رسوم ادا کر کے خدا کے مقرب اور چہیتے بننے کے خواب دیکھ رہے ہو حالانکہ اس منزل تک پہنچنے کے لیے گھاٹیاں پار کرنی اور بازیاں کھیلنی پڑتی ہیں۔ مال کے پجاری بن کر تم اس مقام کو حاصل نہیں کر سکتے۔ اگر یہ حاصل کرنا چاہتے ہو تو آؤ سنو کہ اس کے لیے تمہیں کیا کیا کام کرنے ہیں۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–15

11۔ 1 عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے یعنی (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ 11۝ڮ) 90۔ البلد :11) کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا ؟ مطلب ہے نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے اس محنت و مشقت کی وضاحت کے لئے جو نیکی کے کاموں کے لئے ایک انسان کو شیطان کے وسوسوں اور تقاضوں کے خلاف کرنی پڑتی ہے، جیسے گھاٹی پر چڑھنے کے لئے سخت جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 12–18

8: یہ ”اصحب المیمنہ“ کا ترجمہ ہے، اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ دائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 12–15

پھر اس گھاٹی کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے لئے سوال وما ادرک ما العقبة (12:90) ” تم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے “۔ یہ سوال اس لئے نہیں ہے کہ وہ گھاٹی کوئی بہت ضخیم ہے اور ناقابل عبور ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کو عبور کرنا ضروری ہے تاکہ انسان جرات کرکے گھس جائے اور جست لگادے۔ اگرچہ اس کی راہ میں مشکلات حائل ہوں ، کیونکہ محنت اور مشقت کے بغیر تو کوئی کام بھی نہیں ہوتا اور اگر کوئی یہ مشقت برداشت کرے گا تو اسے ضرور اس کا ثمرہ مل جائے گا اور اس کی تکالیف کا صلہ اس کے سامنے ہوگا ، اور اس کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا اور یہ کام ہر حال میں ہونے والا ہے۔ یہ دشوارگزار…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

آیت 10{ وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ۔ } ”اور ہم نے اس کو راہ دکھلا دی دو گھاٹیوں کی۔“ عام مفسرین کے نزدیک دو گھاٹیوں سے مراد نیکی اور بدی کے دو راستے ہیں۔ البتہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے ماں کی دو چھاتیاں مراد ہیں۔ نجد کے لغوی معنی ابھری ہوئی چیز کے ہیں۔ بلند سطح پر جو راستہ ہو اس کو بھی نجد کہتے ہیں۔ چناچہ ”النَّجْدین“ کے معنی ”دو بلند واضح راستے“ بھی ہوسکتے ہیں اور ”دواُبھار“ بھی۔ اور مجھے موخر الذکر رائے زیادہ پسند ہے۔ انسان کی زبان ‘ اس کے دو ہونٹوں اور پھر ماں کی چھاتیوں کے ذکر کے حوالے سے دراصل یہاں انسان کی اس جبلی اور پیدائشی ہدایت کا ذکر مقصود ہے جس کے بارے میں ہم سورة الاعلیٰ کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 12–15

10 یہ گھاٹی دراصل اخلاقی بلندیاں ہیں اور ان پر چڑھنے کا راستہ دشوار گزار اس لحاظ سے ہے کہ ایسے راستے عموماً انسان کی خواہش کے خلاف اور طبیعت کے لئے ناگوار اور گرانبار ہوتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 12–16

9۔ قرآن مجید نے اپنے لائے ہوئے لفظ (آیت) ” العقبۃ “۔ کی یہ خود تفسیر کردی یعنی دین کے کاموں سے مراد اس قسم کے کام ہیں، :۔ غلاموں کو آزاد کرنا، قحط وگرانی کے زمانہ میں بھوکوں کو کھانا کھلانا، یتیموں کی خدمت کرنا، محتاجوں کی خبر لینا، مکی سورتیں اس قسم کے اخلاق احکام کی تاکید و تفصیل سے بھری پڑی ہے۔ (آیت) ” مسغبۃ “۔ سغب کے معنی میں، اور مقربۃ قرابت کے معنی میں اور (آیت) ” متربۃ “۔ فقر کے معنی میں، تینوں، مصدر میمی ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما ادراک ما العقبۃ . اور تم کو کیا معلوم کہ عقبہ کیا ہے ؟ تم کو نہ اس کی صعوبت کا علم ہے ‘ نہ اس کی کثرت ثواب کا۔ ابن عیینہ کا قول ہے کہ جس چیز کے متعلق اللہ نے مَا اَدْرَاک فرمایا اس کی اطلاع (بعد کو) دے دی اور جس چیز کے متعلق مَا یُدْرِیْکَ فرمایا ‘ اس کی اطلاع (کسی کو) نہیں دی۔ اگر عقبہ سے مراد طاعت ہو تو عبارت میں کسی لفظ کو محذوف ماننے کی ضرورت نہیں اور اگر گناہ کا بار مراد ہو تو مضاف محذوف ہوگا۔ کلام اس طرح ہوگا : تم کیا جانو کہ گناہ کے راستہ میں داخلہ اور اس سے خروج کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–16

(11۔ 16) کیا اس قوت کے دعویدار نے پل صراط کی گھاٹی کو عبور کیا ہے اور یہ گھاٹی جنت و دوزخ کے درمیان ہے اور اس گھاٹی کو کوئی عبور نہیں کرسکتا مگر وہ شخص جو کہ گردن کو غلامی سے چھڑا دے، یا فاقہ کے دن میں کسی رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلا دے، یا کسی خاک نشین محتاج کو جس کے پاس کچھ نہ ہو کھانا کھلا دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 12–13

وما ادریک ما العقبۃ…: مال دار کے لئے بلندیوں پر لے جانے والا مشکل راستہ کیا ہے ؟ وہ گردن چھڑانا ہے، کیونکہ غلامی سے بڑی ذلت کوئی نہیں اور آزادی دلانے سے بڑھ کر کسی کے ساتھ کو ئح سن سلوک نہیں۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (لا یجزی ولد والدا الا ان یجدہ مملوکا فیشتریہ فیعتقہ) (مسلم ، العتق، باب فضل عتق الوالد : 1510)”کوئی اولاد اپنے والد کا بدلا نہیں دے سکتی سوائے اس کے کہ اسے غلامی کی حالت میں پائے اور خرید کر اسے آزاد کر دے۔“ گردن چھڑانے کی ایک اور فضیلت بھی ہے۔ ابوہیرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من اعتق رقبہ مومنۃ اعتق اللہ بکل عضو منہ عضوا من النار حتی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وما ادراک مالعقبہ۔ اس کلام میں حذف ہے تقدیر کلام یہ ہوگی، وما ادراک ماقتحام العقبہ۔ یہ دین کے امر کو لازم پکڑنے کی عظمت بیان کرنا ہے، خطاب نبی کریم کو ہے تاکہ آپ عقبہ سے آگاہ ہوجائیں قشیری نے کہا، عقبہ کو عقبہ جہنم پر محمول کرنا بہت ہی بعید ہے کیونکہ دنیا میں کوئی آدمی عقبہ جہنم میں داخل نہیں ہوا مگر اس صورت میں کہ اسے اس امر پر محمول کیا جائے مراد یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو کیوں تیار نہیں کیا، اس کے لیے قیامت کے روز عقبہ جہنم میں داخل ہوناممکن ہوتا، امام بخاری نے مجاہد کا قول ہے پسند کیا ہے کہ وہ دنیا میں عقبہ میں داخل نہیں ہوا۔ ابن عربی نے کہا، یہ قول اس لیے اختیار کیا کیونکہ دوسری آیت یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–13

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلاقتحم العقبۃ۔ پس وہ دین کی گھاٹی میں سے نہ ہو کر نکلا سے جہنم میں ایک پہاڑ مراد ہے۔ 2۔ ابن جریر نے حسن ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عقبہ سے آگ مراد ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کے لیے جنت کے قریب ایک گھاٹی ہے اور اس میں داخل ہونا غلامی سے گردن کو چھڑانا ہے۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو رجاء رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ گھاٹی جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا کہ اس کی چڑھائی سات ہزار سال کی ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–12

اس کے بعد فرمایا ﴿ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِۙ008﴾ (الآیتین) (کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں اور زبان اور ہونٹ نہیں بنائے) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو آنکھیں بھی دیں، زبان بھی دی، ہونٹ بھی دیئے، انسان کے یہ اعضاء اس کے لیے بہت بڑے مددگار ہیں، آنکھوں سے دیکھتا ہے، زبان سے بولتا ہے، ہونٹوں سے حروف بھی ادا ہوتے ہیں اور بہت بڑی خوبصورتی کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ان اعضاء کے ذریعے انسان اپنی دنیاوی زندگی بھی اچھی گزار سکتا ہے اور ان کو اپنے خالق ومالک کی رضا مندی میں استعمال کر کے آخرت کی کامیابی حاصل کرسکتا ہے اسی لیے آخر میں ﴿وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–12

6:۔ ” فلا اقتحم “ لا بمعنی ھلا ہے، کیونکہ ” لا “ تکرار ماضی پر نہیں آسکتا (کبیر، مظہری) ” العقبۃ “ پہاڑی راستہ جو نہایت دشوار گذار ہو۔ اقتحام العقبۃ۔ دین حق کی خاطر تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرنے سے کنایہ ہے۔ جب ہم نے اس کو ہر نعمت عطاء کی ہے تو اس نے دین کی خاطر تکلیفیں اور مشقتیں کیوں برداشت نہیں کیں ؟ وہ مشکل اور دشوار گذار گھاٹیوں پر کیوں نہیں چڑھاتا کہ اسے ہلاکت سے نجات مل جاتی کیونکہ پستی کی طرف پانی جاتا ہے وہ ہلاکت کی جگہ ہے اور نجات بلندی میں ہے۔ حاصل یہ کہ اس نے مال بےجا خرچ کیا ہے جائز مصاف میں خرچ نہیں کیا۔ ” وما ادراک ما العقبۃ “ رضی نے کہا ہے اس قسم کی عبارتوں کے دو معنی ہوتے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَۃُ۝ 12 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما يَأْمُرُكُمْ بِهِ إِيمانُكُمْ [ البقرة/ 93] . الثاني : نكرة . نحو : نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–20

ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–12

فَلاَ اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۔ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا الْعَقَبَۃُ ۔ (البلد : 11، 12) (پس وہ داخل ہی نہیں ہوا عمل خیر کی دشوار گھاٹی میں۔ اور آپ کیا سمجھے کہ وہ گھاٹی کیا ہے۔ ) اِقْتَحَمَ ، اس کا مصدر ہے اِقْتَحَامَ ۔ اس کا معنی ہے اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقت طلب کام میں ڈالنا۔ چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کو بھی اِقْتِحَامَ کہتے ہیں۔ الْعَقَبَۃَ کے معنی گھاٹی کے بھی ہیں اور اس دشوارگزار راستے کے بھی جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ نعمتوں کی ناقدری پر افسوس کا اظہار آیت کا مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شعور و ادراک نطق وبیان اور ہدایت کی روشنی سے نوازا۔ تو اس کا حق یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے نہیں دیکھتا اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے اس وقت سے دیکھ رہا ہے کہ جب اس کے رحم مادر میں نقش ونگار بنائے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کیا انسان اس پر پر غور نہیں کر تاکہ ہم نے اسے دو آنکھیں، ایک زبان اور دوہونٹ عطا کیے ہیں اور ہم نے اسے دوراستے دکھائے ہیں مگر اس نے مشکل گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کیا سمجھیں کہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی کی گردن کو غلامی سے چھڑایا جائے، کسی قرابت دار فاقہ مست اور خاک نشین، یتیم یا مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

12 ۔” وما ادراک ماالعقبۃ “ …” مااقتحم العقبۃ “ سفیان بن عینیہ (رح) فرماتے ہیں ہر چیز جس کے بارے میں ” وما ادراک “ فرمایا ہے تو اس کی خبر دی ہے اور جس کے بارے میں ” ومایدریک “ کہا ہے تو اس کی خبر نہیں دی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–20

11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 12–13

پھر گھاتی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ( وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ ۔ فَكُّ رَقَبَةٍ 13۝ۙ ) اور آپ کو کیا معلوم، گھاٹی کیا ہے ؟ کسی گردن کا چھڑانا۔ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا۔ اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–15

(12) انسان کی دون ہمتی کی شکایت کا ذکر وبیان : سو انسان کی دون ہمتی کی شکایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ہمت نہ کی اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی، جو سدا بہار بلندیوں اور حقیقی عظمتوں سے ہم کنار کرنے والی ایک عظیم الشان گھاٹی ہے اور ایسی عظیم الشان گھاٹی جو اس مشت خاک یعنی انسان ضعیف کو رشک ملائک بنا دینے والے گھاٹی ہے۔ " عقبہ " کے معنی گھاٹی کے ہیں اور " اقتحام " کے معنی چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کے ہیں، یہاں پر اس ارشاد سے نیکی کے ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو ہمدردی خلق اور بندگی رب کے اعلی کام ہیں، اور جن کی مثالیں آگے مذکور ہیں، ان کاموں کے انجام دینے میں چونکہ انسان کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 11–12

ف 2 یہاں نیکی اور ثواب کے کام کو جس کا ذکر آگے آرہا ہے، گھاٹی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ اس لحاظ سے کہ اسے انجام دینا نفس پر دشوار گزرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:12) وما ادرک مالعقبہ : ما استفہامیہ ۔ کیا چیز ۔ کون۔ ادرک : ادری ماضی واحد مذکر غائب ادراء (افعال) مصدر سے بمعنی خبردار کرنا۔ بتانا۔ واقف کرنا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر، کون تجھے بتائے۔ کیا چیز تمہیں خبردار کرے۔ ، طلب یہ کہ تجھے کیا خبر، تجھے کیا معلوم۔ ما العقبۃ ۔ ما استفہامیہ : کیا۔ (العقبۃ) کیا ہے۔ تم کیا جانو کہ گھاٹی کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–14

[8] یعنی اس قدر انعامات کی بارش اور اسباب ہدایت کی موجودگی میں اسے توفیق نہ ہوئی کہ دین کی گھاٹی پر آ دھمکتا۔ دین کو گھاٹی اس لئے کہا کہ اس کے راستے پر چلنا نفس پر شاق گزرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–14

حیات انسانی 2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(12) اور اے پیغمبر آپ کو کچھ معلوم ہے کہ گھاٹی کیا ہے - عقبہ اس پہاڑ کی گھاٹی کو کہتے ہیں جس کو عبور کرنا اور جس سے گزرنا دشوار ہوتا ہے۔ اقتحام کے معنی داخل ہوجانے اور ہمک کر اس دشوار راستے میں داخل ہوجانے کے ہیں۔ یہاں مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنا مال ایسی راہ میں کیوں خرچ نہیں کیا جس سے وہ گھاٹی اس پر سہل اور آسان ہوجاتی ۔ یعنی انفاق فی سبیل اللہ اور دین کا اور نجات کا راستہ کیوں اختیار نہیں کیا۔ حضرت حسن اور مقاتل نے فرمایا کہ نفس کی مخالفت اور شیطانی وساوس کا مقابلہ اور اس راہ میں مشقت اٹھانے کو اللہ تعالیٰ نے گھاٹی سے تعبیر کیا ہے دین کے کاموں کو اس لئے گھاٹی فرمایا کہ یہ امورنفس پر شاق ہوتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 12–17

ف 7۔ ایمان تو سب سے مقدم ہے پھر امر بالثبات علی الایمان اوروں سے افضل ہے، پھر ترک اضرار بقیہ سے اہم ہے، پھر ان اعمال کا رتبہ ہے جو فک رقبہ سے ذا متربة تک مذکور ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ کیا سمجھے کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے ؟ 12 ؎ ( وما ادراک) کا لفظ جس جگہ بھی آیا ہے ہم واضح کرتے چلے آ رہے ہیں کہ یہ انداز مذکورہ چیز کی عظمت و شان یا اس کی ہولناکی کے اظہار کے لیے اختیار کیا گیا ہے اور ہر جگہ مخاطبین و مخالفین کو یہ باور کرانے کے لیے لایا گیا ہے کہ تم لہو لگا کر جس طرح شہیدوں میں داخل ہونا چاہتے ہو اس طرح کبھی بھی کوئی شہیدوں میں داخل نہیں ہوا ۔ یہ محض ایک دھوکا ہے جو انسان اپنے آپ کو دے دیتا ہے حالانکہ حقیقت یہ نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ راستہ کی مشکلات سے نہیں گھبراتے بلکہ ان کے راستے میں جو رکاوٹیں بھی آتی ہیں ان کو حل کرنے کے لیے جن گھاٹیوں سے بھی ان کو گزرتا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–16

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿11﴾ وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿12﴾ (Yet he did not make his way through the steep course. And what may let you know what the steep course is? ...90:11-12] ' The word 'aqabah means 'hill, high place or a steep road'. It also refers to a 'low area of land between two hills or mountains, that is, a valley'. 'Aqabah helps a man in saving himself when pursued by an enemy by ascending the summit of the mountain, or in escaping by descending into the valley. Here the word 'aqabah refers to obedience and devotion. Just as it saves man from an enemy, righteous…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–15

11 The words in the original are: fa-lagtaham-al- aqabah. Iqtiham means to apply oneself to a hard and toilsome task, and 'aqabah is the steep path that passes through mountains for ascending heights. Thus, the verse means: "One of the two paths that We have shown him, leads to heights but is toilsome and steep; man has to tread it against the desires of his self and the temptations of Satan. The other path is easy which descends into chasms, but does not require any toil from man; one only needs to give free reins to oneself, then one automatically goes on rolling down the abyss. Now, the…

Read the full tafseer →