Al-Balad 90:11

Al-Balad · from ayah 11

90:11

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ۟ؗۖفَلَا اقۡتَحَمَ الۡعَقَبَةَ

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

— Fateh Muhammad Jalandhari

But he has not broken through the difficult pass.

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:11

مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

— مولانا فتح محمد جالندہری

سو اس سے نہ ہو سکا کہ گھاٹی میں داخل ہوتا

— مولانا محمد جوناگڑہی

پھر وہ اس گھاٹی میں داخل نہیں ہوسکا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ تو (دینِ حق اور عملِ خیر کی) دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہی نہیں ہوا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر (بھی) وہ مشکل گھاٹی میں نہ گھسا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پر اس نے گھاٹی نہیں پار کی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر اس نے ہمت نہ کی (حق و صداقت کی) اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی

— مولانا اسحاق مدنی

مگر وہ (شخص) گھاٹی میں سے ہو کر نہ نکلا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

لیکن وہ گھاٹی کو عبور نہ کرسکا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

مگر وہ گھاٹی پر سے ہو کر نہ گزرا

— محترمہ رفعت اعجاز

But he did not venture to scale the difficult steep.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Yet he did not make his way through the steep course,_ __

— Muhammad Taqi Usmani

Yet he did not make his way through the steep course,_ __

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But he has not attempted to pass on the path that is steep.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But he hath not attempted the Ascent -

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But he has not broken through the difficult pass.

— Saheeh International

Yet, he has not entered into Aqaba

— Muhammad Sarwar

But he would not attempt the uphill road,

— Muhammad Habib Shakir

Yet he attempteth not the steep,

— Abdul Majid Daryabadi

But he hath made no haste on the path that is steep.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 90:11

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 11–20

صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 11–15

سورة الْبَلَد 11 اصل الفاظ ہیں " فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ " اقتحام کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقت طلب کام میں ڈالنا۔ اور عقبہ اس دشوار گزار راستے کو کہتے ہیں جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دو راستے جو ہم نے اسے دکھائے ان میں سے ایک بلندی کی طرف جاتا ہے مگر مشقت طلب اور دشوار گزار ہے۔ اس میں آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے اور شیطان کی ترغیبات سے لڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ اور دوسرا آسان راستہ ہے جو کھڑوں میں اترتا ہے، مگر اس سے پستی کی طرف جانے کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ بس اپنے نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دینا کافی ہے، پھر آدمی خود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 11–16

فلا اقتحم العقبة۔ وما ادرک مالعقبة۔ فل رقبة، عقبہ پہاڑ کی بڑی چٹان کو بھی کہتے ہیں اور دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو یعنی گھاٹی کو بھی اور دشمن سے نجات حاصل کرنے میں عقبہ انسان کی مدد کرتا ہے کہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر دشمن سے اپنے کو بچا لے یا پھر گھاٹی میں داخل ہو کر یہاں سے نکل جائے۔ اس جگہ طاعات و عبادات کو ایک عقبہ سے تعبیر فرمایا ہے کہ جس طرح دشمن سے نجات دلانیکا سبب ہوتا ہے اعمال صالحہ آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں پھر ان اعمال صحالہ میں پہلے فک رقبة فرمایا، یعنی کسی غلام کو آزاد کرنا بکہ بہت بڑی عبادت اور ایک انسان کی زندگی کو بنادینا ہے۔ دوسری چیز اواطعم بیان فرمائی کہ بھوکے کو…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نعمتوں کی ناقدری پر اظہار افسوس: اب یہ مخاطبوں کی ناقدری و ناشکری کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شعور و ادراک، نطق و بیان اور ہدایت کی روشنی سے جو نوازا تو اس کا حق یہ تھا کہ یہ نیکی اور ہمدردئ خلق کی راہ کے عقبات عبور کرنے کی کوشش، اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں میں شامل ہونے کا شرف اور ’رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘ کی بادشاہی حاصل کرتے لیکن یہ اپنی زرپرستی اور پست ہمتی کے سبب سے یہ حوصلہ نہ کر سکے بلکہ ان کا مال ان کے لیے زنجیر پا بن گیا۔ نیکی اور بدی کے مزاج میں فرق: ’عَقَبَۃَ‘ کے معنی گھاٹی اور ’اِقْتِحَامٌ‘ کے معنی چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کے ہیں۔ یہاں اس لفظ سے نیکی کے ان کاموں کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 11–15

11۔ 1 عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے یعنی (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ 11۝ڮ) 90۔ البلد :11) کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا ؟ مطلب ہے نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے اس محنت و مشقت کی وضاحت کے لئے جو نیکی کے کاموں کے لئے ایک انسان کو شیطان کے وسوسوں اور تقاضوں کے خلاف کرنی پڑتی ہے، جیسے گھاٹی پر چڑھنے کے لئے سخت جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7: گھاٹی دو پہاڑوں کے درمیانی راستے کو کہتے ہیں، عام طور پر جنگ کے دوران ایسے راستے کو دشمن سے بچنے کے لئے اختیار کیا جاتا ہے، اور یہاں گھاٹی میں داخل ہونے سے مراد ثواب کے کام کرنا ہے، ان کو گھاٹی میں داخل ہونا اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ انسان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

پھر اللہ نے انسان کو یہ ہدایت دی کہ وہ خیروشر کو سمجھے اور یہ سمجھے کہ جنت کا راستہ کون سا ہے اور جہنم کا راستہ ہے اور اللہ نے اگلی آیات میں اس مشکل گھاٹی کی توضیح فرمادی ہے : فلا اقتحم ................................ المیمنة یہ ہے وہ دشوار گزار کھائی جس کو عبور کرنے کی ہمت انسان نہیں کرتا ، الایہ کہ جو لوگ اپنے پختہ ایمان سے مدد لیں۔ یہ گھاٹی انسان اور جنت کے درمیان حائل ہے ، اگر انسان اسے عبور کرلے تو وہ سیدھا جنت میں داخل ہوجائے ۔ یہاں قرآن کریم اس کی تصویر کشی اس طرح کرتا ہے کہ انسان کے دل میں اسے عبور کرنے کا جوش پیدا ہو ، اور یہ تحریک ہو کہ وہ اسے عبور کرلے ، ایک جست لگائے اور اس پار…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی اس قدر انعامات کی بارش اور اسباب ہدایت کی موجودگی میں بھی اسے توفیق نہ ہوئی کہ دین کی گھاٹی پر آدھمکتا۔ اور مکارم اخلاق کے راستوں کو طے کرتا ہوا فوز و فلاح کے بلند مقامات پر پہنچ جاتا۔ (تنبیہ) دین کے کاموں کو گھاٹی اس لئے کہا کہ مخالفت ہوا کی وجہ سے ان کا انجام دینا نفس پر شاق اور گراں ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

آیت 10{ وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ۔ } ”اور ہم نے اس کو راہ دکھلا دی دو گھاٹیوں کی۔“ عام مفسرین کے نزدیک دو گھاٹیوں سے مراد نیکی اور بدی کے دو راستے ہیں۔ البتہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے ماں کی دو چھاتیاں مراد ہیں۔ نجد کے لغوی معنی ابھری ہوئی چیز کے ہیں۔ بلند سطح پر جو راستہ ہو اس کو بھی نجد کہتے ہیں۔ چناچہ ”النَّجْدین“ کے معنی ”دو بلند واضح راستے“ بھی ہوسکتے ہیں اور ”دواُبھار“ بھی۔ اور مجھے موخر الذکر رائے زیادہ پسند ہے۔ انسان کی زبان ‘ اس کے دو ہونٹوں اور پھر ماں کی چھاتیوں کے ذکر کے حوالے سے دراصل یہاں انسان کی اس جبلی اور پیدائشی ہدایت کا ذکر مقصود ہے جس کے بارے میں ہم سورة الاعلیٰ کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

9 اس آیت میں دو الفاظ قابل وضاحت ہیں ایک اقتحام دوسرا عقبہ۔ قحم (فی الامر) بمعنی بلا سوچے کسی معاملہ میں داخل ہوجانا اور اِقْتَحَمَ (الامر) بمعنی اپنے آپ کو مشقت کے ساتھ کسی معاملہ میں پھنسا دینا یا کسی مشکل کام میں جاگھسنا۔ اور عقبہ بمعنی کسی پہاڑ یا گھاٹی پر چڑھنے کا دشوار گزار راستہ جو پہاڑوں کے درمیان سے گزرتا ہو اور اس لفظ سے صرف اوپر چڑھنے کا راستہ ہی مراد لیا جاتا ہے، نیچے اترنے کا نہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8۔ (باوجود اس سارے مقتضیات کے) (آیت) ” العقبۃ “۔ لفظی معنی پہاڑ کی گھاٹی کے ہیں۔ العقبۃ طریق وعرفی الجبل (راغب) یہاں مراد دین کی گھاٹی ہے اور دین کے کاموں کو گھاٹی اس لئے کہا گیا کہ وہ بھی نفس پر شاق گزرتے ہیں۔ ضمیر فاعلی برابر کافر انسان کی طرف چل رہی ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دین کو گھاٹی سے تشبیہ دینے سے ترغیب مجاہدہ کی نکلتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فلا اقتتحم العقبۃ . فَلا میں بعض کے نزدیک لا اپنے اصل معنی (نفی) میں نہیں بلکہ ھلاّ کے معنی میں ہے کیونکہ جب تک تکرار نہ ہو لا ماضی پر نہیں آتا اس وقت مطلب اس طرح ہوگا کہ اللہ کی طاعت میں مال اس نے کیوں خرچ نہیں کیا کہ اس کے ذریعہ سے گھاٹی کو عبور کرلیتا (زندگی کی یا جنت کی یا طاعت کی گھاٹی) اور رسول اللہ ﷺ کی عداوت میں صرف کرنے سے طاعت رسول میں صرف کرنا اس کے لیے بہتر ہوجاتا۔ بعض علماء نے کہا اس جگہ لا اپنے معنی پر ہے لا کا مدخول اگرچہ لفظاً مکرر نہیں ہے مگر معنوی تعدد ضرور ہے کیونکہ عقبہ کے (مرادی) معنی میں متعدد ہے (عقبہ سے مراد ہے : 1) فک رقبۃ اور 2) اطعام مسکین ‘ 3) اور مؤمن ہونا) ۔ اصل…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 11–16

(11۔ 16) کیا اس قوت کے دعویدار نے پل صراط کی گھاٹی کو عبور کیا ہے اور یہ گھاٹی جنت و دوزخ کے درمیان ہے اور اس گھاٹی کو کوئی عبور نہیں کرسکتا مگر وہ شخص جو کہ گردن کو غلامی سے چھڑا دے، یا فاقہ کے دن میں کسی رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلا دے، یا کسی خاک نشین محتاج کو جس کے پاس کچھ نہ ہو کھانا کھلا دے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

فلا اقتحم العقبۃ : اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو مال کی نعمت عطا فرمائی ہے اس کا تقاضا یہ نہ تھا کہ اسے ناحق اڑاتا، بلکہ یہ تھا کہ وہ بلندیاں جو سخت جدوجہد سے حاصل ہوتیہیں انہیں سر کرنے کے لئے مشکل گھاٹی میں بےدریغ گھس جاتا، مگر اس نے اس مشکل گھاٹی میں گھسنے کی جرأت ہی نہیں کی۔ مشکل گھاٹی اس لئے فرمایا کہ نفس کو ان کاموں کا سرانجام دینا دشوار ہوتا ہے۔”العقبۃ“ کے معنی ہیں گھاٹی، پہاڑ پر چڑھنے کا مشکل راستہ۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

فلا اقتحم العقبہ۔ وہ مال جس کے بارے میں وہ گمان رکھتا ہے کہ اس نے حضور کی عداوت میں خرچ کیا ہے اس نے وہ مال اقتحام عقبہ میں کیوں خرچ نہیں کیا، وہ امن پاتا، اقتحام کا معنی اپنے کو بغیر سوچے سمجھے کسی چیز میں پھینک دینا اس سے یہ جملہ بولا جاتا ہے، قحم فی الامر قحوما، یعنی اس نے بغیر سوچے سمجھے اپنے آپ کو اس میں پھینک دیا قحم الفرس فارسہ تقحیما علی وجھہ۔ یعنی گھوڑے نے اسے منہ کے بل گرادیا، تقحیم النفس فی الشئی کا معنی ہے اس کا بغیر سوچے سمجھے اپنے آپ کو کسی چیز میں داخل کرنا، القحمہ سے مراد ہلاکت اوسخت سال ہے اصابت الاعراب القحمہ، جب انہیں قحط نے آلیاتو وہ اس میں داخل ہوگئے قحم سے مراد مشکل…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 11–13

1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلاقتحم العقبۃ۔ پس وہ دین کی گھاٹی میں سے نہ ہو کر نکلا سے جہنم میں ایک پہاڑ مراد ہے۔ 2۔ ابن جریر نے حسن ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عقبہ سے آگ مراد ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کے لیے جنت کے قریب ایک گھاٹی ہے اور اس میں داخل ہونا غلامی سے گردن کو چھڑانا ہے۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو رجاء رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ گھاٹی جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا کہ اس کی چڑھائی سات ہزار سال کی ہے اور اس…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ : پس وہ نہیں گھسا اس گھاٹی میں ] نوٹ۔ 5: آیت۔ 11 ۔ میں اَلْعَقَبَۃَ آیا ہے۔ عقبہ پہاڑ کی بڑی چٹان کو بھی کہتے ہیں اور دو پہاڑوں کے درمیانی راستے یعنی گھاٹی کو بھی۔ دشمن سے نجات حاصل کرنے میں یہ عقبہ انسان کی مدد کرتا ہے کہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر دشمن سے اپنے آپ کو بچا لے یا پھر گھاٹی میں داخل ہو کر کہیں نکل جائے۔ اس جگہ طاعات و عبادات کو عقبہ سے تعبیر فرمایا ہے۔ جس طرح عقبہ دشمن سے نجات دلانے کا سبب ہوتا ہے اسی طرح اعمالِ صالحہ آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں۔ پھر ان اعمال صالحہ میں پہلے فرمایا کسی غلام (یا مقروض) کو آزاد کرنا۔ یہ بہت بڑی عبادت ہے اور ایک…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–12

اس کے بعد فرمایا ﴿ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِۙ008﴾ (الآیتین) (کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں اور زبان اور ہونٹ نہیں بنائے) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو آنکھیں بھی دیں، زبان بھی دی، ہونٹ بھی دیئے، انسان کے یہ اعضاء اس کے لیے بہت بڑے مددگار ہیں، آنکھوں سے دیکھتا ہے، زبان سے بولتا ہے، ہونٹوں سے حروف بھی ادا ہوتے ہیں اور بہت بڑی خوبصورتی کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ان اعضاء کے ذریعے انسان اپنی دنیاوی زندگی بھی اچھی گزار سکتا ہے اور ان کو اپنے خالق ومالک کی رضا مندی میں استعمال کر کے آخرت کی کامیابی حاصل کرسکتا ہے اسی لیے آخر میں ﴿وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 11–12

6:۔ ” فلا اقتحم “ لا بمعنی ھلا ہے، کیونکہ ” لا “ تکرار ماضی پر نہیں آسکتا (کبیر، مظہری) ” العقبۃ “ پہاڑی راستہ جو نہایت دشوار گذار ہو۔ اقتحام العقبۃ۔ دین حق کی خاطر تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کرنے سے کنایہ ہے۔ جب ہم نے اس کو ہر نعمت عطاء کی ہے تو اس نے دین کی خاطر تکلیفیں اور مشقتیں کیوں برداشت نہیں کیں ؟ وہ مشکل اور دشوار گذار گھاٹیوں پر کیوں نہیں چڑھاتا کہ اسے ہلاکت سے نجات مل جاتی کیونکہ پستی کی طرف پانی جاتا ہے وہ ہلاکت کی جگہ ہے اور نجات بلندی میں ہے۔ حاصل یہ کہ اس نے مال بےجا خرچ کیا ہے جائز مصاف میں خرچ نہیں کیا۔ ” وما ادراک ما العقبۃ “ رضی نے کہا ہے اس قسم کی عبارتوں کے دو معنی ہوتے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 11–20

گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ۝ 11 ۡۖ لا «لَا» يستعمل للعدم المحض . نحو : زيد لا عالم، وذلک يدلّ علی كونه جاهلا، وذلک يكون للنّفي، ويستعمل في الأزمنة الثّلاثة، ومع الاسم والفعل غير أنه إذا نفي به الماضي، فإمّا أن لا يؤتی بعده بالفعل، نحو أن يقال لك : هل خرجت ؟ فتقول : لَا، وتقدیره : لا خرجت . ويكون قلّما يذكر بعده الفعل الماضي إلا إذا فصل بينهما بشیء . نحو : لا رجلا ضربت ولا امرأة، أو يكون عطفا . نحو : لا خرجت ولَا رکبت، أو عند تكريره . نحو : فَلا صَدَّقَ وَلا صَلَّى [ القیامة/ 31] أو عند الدّعاء . نحو قولهم : لا کان، ولا أفلح، ونحو ذلك . فممّا نفي به المستقبل قوله : لا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقالُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–20

ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 11–12

فَلاَ اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ ۔ وَمَآ اَدْرٰ کَ مَا الْعَقَبَۃُ ۔ (البلد : 11، 12) (پس وہ داخل ہی نہیں ہوا عمل خیر کی دشوار گھاٹی میں۔ اور آپ کیا سمجھے کہ وہ گھاٹی کیا ہے۔ ) اِقْتَحَمَ ، اس کا مصدر ہے اِقْتَحَامَ ۔ اس کا معنی ہے اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقت طلب کام میں ڈالنا۔ چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کو بھی اِقْتِحَامَ کہتے ہیں۔ الْعَقَبَۃَ کے معنی گھاٹی کے بھی ہیں اور اس دشوارگزار راستے کے بھی جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ نعمتوں کی ناقدری پر افسوس کا اظہار آیت کا مدعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو شعور و ادراک نطق وبیان اور ہدایت کی روشنی سے نوازا۔ تو اس کا حق یہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے نہیں دیکھتا اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے اس وقت سے دیکھ رہا ہے کہ جب اس کے رحم مادر میں نقش ونگار بنائے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کیا انسان اس پر پر غور نہیں کر تاکہ ہم نے اسے دو آنکھیں، ایک زبان اور دوہونٹ عطا کیے ہیں اور ہم نے اسے دوراستے دکھائے ہیں مگر اس نے مشکل گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کیا سمجھیں کہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی کی گردن کو غلامی سے چھڑایا جائے، کسی قرابت دار فاقہ مست اور خاک نشین، یتیم یا مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

11 ۔” فلا اقتحم العقبۃ “ فرماتے ہیں۔ پس کیوں نہیں اس نے اپنا مال ان کاموں میں خرچ کیا جو اس کے لئے جائز تھے ۔ گردنیں چھڑانے اور مسکینوں کو کھانا کھلانے سے۔ پس یہ اس کے لئے محمد ﷺ کی دشمنی پر خرچ کرنے سے بہتر ہوتا ہے۔ یہ ابن زید اور ایک جماعت کا قول ہے اور کہا گیا ہے ” فلا اقتحم العقبۃ “ یعنی نہ اس میں داخل ہوا اور نہ اس کو پار کیا۔ اقتحام سخت امر میں داخل ہونا اور عقبہ کا ذکر یہاں مثال ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے نفس کے مجاہدہ اور خواہش نفس اور شیطان سے مجاہدہ کرنے کے لئے نیکی کے اعمال میں بیان کیا ہے۔ پس اس کو بنایا اس شخص کی طرح جو گھاٹی پر چڑھنے میں مشقت برداشت کرتا ہے۔ فرماتے ہیں اس نے اپنے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 11–20

11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ) یعنی وہ گھاٹی میں داخل ہوا نہ اس کو عبور کیا۔ کیونکہ وہ اپنی خواہشات نفس کی پیروی کرنے والا ہے اور یہ گھاٹی اس کے لیے بہت سخت ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 11–15

(12) انسان کی دون ہمتی کی شکایت کا ذکر وبیان : سو انسان کی دون ہمتی کی شکایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ہمت نہ کی اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی، جو سدا بہار بلندیوں اور حقیقی عظمتوں سے ہم کنار کرنے والی ایک عظیم الشان گھاٹی ہے اور ایسی عظیم الشان گھاٹی جو اس مشت خاک یعنی انسان ضعیف کو رشک ملائک بنا دینے والے گھاٹی ہے۔ " عقبہ " کے معنی گھاٹی کے ہیں اور " اقتحام " کے معنی چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کے ہیں، یہاں پر اس ارشاد سے نیکی کے ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو ہمدردی خلق اور بندگی رب کے اعلی کام ہیں، اور جن کی مثالیں آگے مذکور ہیں، ان کاموں کے انجام دینے میں چونکہ انسان کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 11–12

ف 2 یہاں نیکی اور ثواب کے کام کو جس کا ذکر آگے آرہا ہے، گھاٹی کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اور وہ اس لحاظ سے کہ اسے انجام دینا نفس پر دشوار گزرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:11) فلا اقتحم القعبۃ : اقتحم ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اقتحام (افتعال) مصدر۔ بمعنی گھس پڑنا ۔ بغیر دیکھے بھالے اپنے آپ کو کسی شے میں جھونک دینا۔ عقبۃ پہاڑ میں چڑھائی کا جو دشوار گزار راستہ ہوتا ہے اس کو عقبۃ کہتے ہیں اس کی جمع عقب و عقاب ہے۔ العقبۃ مفعول ہے اقتحم کا۔ تفسیر مظہری میں اس آیت کی مندرجہ ذیل تشریح کی گئی ہے :۔ فلا میں لا بعض کے نزدیک اپنے اصل معنی (نفی) میں نہیں بلکہ ہلا کے معنی میں آیا ہے کیونکہ جب تک تکرار نہ ہو لا ماضی پر نہیں آتا۔ اس وقت مطلب اس طرح ہوگا :۔ کہ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں اس نے مال خرچ کیوں نہیں کیا۔ کہ اس کے ذریعہ سے گھاٹی کو عبور کرلیتا۔ (زندگی کی یا جنت کی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 11–14

[8] یعنی اس قدر انعامات کی بارش اور اسباب ہدایت کی موجودگی میں اسے توفیق نہ ہوئی کہ دین کی گھاٹی پر آ دھمکتا۔ دین کو گھاٹی اس لئے کہا کہ اس کے راستے پر چلنا نفس پر شاق گزرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–14

حیات انسانی 2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر ابھی اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی 11 ؎ ( افتحم) وہ آ چڑھا ۔ وہ گھس پڑا افتحام سے جس کے معنی بےدیکھے بھالے اپنے آپ کو کسی شے میں جھونکنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ( العقبۃ) عقبۃ گھاٹی ، پہاڑ پر چڑھائی کا جو دشوار گزار راستہ ہوتا ہے اس کو عقبہ کہتے ہیں ۔ اس کی جمع عقب اور عقاب ہے ۔ پیچھے انسان کو باورا کرایا گیا ہے کہ اے انسان ! اللہ نے تجھ پر کتنے احسان کیے ہیں کہ تجھ کو بغیر مانگے بہت کچھ عطا کیا ہے اور جو کچھ عطا کیا ہے وہ ایک دوسرے سے بڑھ کر تیرے لیے مفید ہے اور جو کچھ اس نے تجھے دیا ہے اس میں تجھے برائی اور بھلائی میں تمیز بھی دی ہے اور پھر انبیاء کرام…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–16

فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿11﴾ وَمَا أَدْرَ‌اكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿12﴾ (Yet he did not make his way through the steep course. And what may let you know what the steep course is? ...90:11-12] ' The word 'aqabah means 'hill, high place or a steep road'. It also refers to a 'low area of land between two hills or mountains, that is, a valley'. 'Aqabah helps a man in saving himself when pursued by an enemy by ascending the summit of the mountain, or in escaping by descending into the valley. Here the word 'aqabah refers to obedience and devotion. Just as it saves man from an enemy, righteous…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 11–15

11 The words in the original are: fa-lagtaham-al- aqabah. Iqtiham means to apply oneself to a hard and toilsome task, and 'aqabah is the steep path that passes through mountains for ascending heights. Thus, the verse means: "One of the two paths that We have shown him, leads to heights but is toilsome and steep; man has to tread it against the desires of his self and the temptations of Satan. The other path is easy which descends into chasms, but does not require any toil from man; one only needs to give free reins to oneself, then one automatically goes on rolling down the abyss. Now, the…

Read the full tafseer →