Al-Balad 90:10

Al-Balad · from ayah 10

90:10

وَهَدَیْنٰهُ النَّجْدَیْنِ ۟ۚوَهَدَيۡنٰهُ النَّجۡدَيۡنِ‌ۚ

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر و شر کے) دونوں رستے بھی دکھا دیئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And have shown him the two ways?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:10

اور دونوں نمایاں راستے اُسے (نہیں) دکھا دیے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(یہ چیزیں بھی دیں) اور اس کو (خیر و شر کے) دونوں رستے بھی دکھا دیئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

ہم نے دکھا دیئے اس کو دونوں راستے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ہم نے اس کو دونوں راستے بتا دیئے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اسے دو ابھری چیزوں کی راہ بتائی

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے اسے (خیر و شر کے) دو نمایاں راستے (بھی) دکھا دیئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے اسے دو واضح راستے دکھا دیے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور اسے دونوں راہیں نہیں دکھا دیں ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس کو دونوں راہیں نہیں سمجھا دیں !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کیا ہم نے اس کو بتا نہیں دئیے (پوری صراحت و وضاحت سے خیر و شر) کے دونوں راستے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم ہی نے اسے دونوں راستے بتادیئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے اس کو راہ دکھلا دی دو گھاٹیوں کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور خیر و شر کے دو راستے بھی دکھا دئیے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And did We not show him the two highroads (of good and evil)?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and showed him the two ways?

— Muhammad Taqi Usmani

and showed him the two ways?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And shown him the two ways

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And guide him to the parting of the mountain ways?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And have shown him the two ways?

— Saheeh International

Have We not shown him the ways of good and evil?

— Muhammad Sarwar

And pointed out to him the two conspicuous ways?

— Muhammad Habib Shakir

And shown Unto him the two highways?

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 90:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

مکہ مکرمہ کی قسم : اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَلَد 10 یعنی ہم نے محض عقل و فکر کی طاقتیں عطا کر کے اسے چھوڑ نہیں دیا کہ اپنا راستہ خود تلاش کرے، بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی اور اس کے سامنے بھلائی اور برائی، نیکی اور بدی کے دونوں راستے نمایاں کر کے رکھ دیے تاکہ وہ خوب سوچ سمجھ کر ان میں سے جس کو چاہے اپنی ذمہ داری پر اختیار کرلے۔ یہ وہی بات ہے جو سورة دھر میں فرمائی گئی ہے کہ " ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم نے اسے سننے اور دیکھنے والا بنایا۔ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا "۔ (آیات 2۔ 3) تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد ششم، الدھر، حواشی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

آنکھ اور زبان کی تخلیق میں چند حکمتیں الم نجعل لہ عینین ولسانا وشفتین وھدینہ النجدین، نجدین نثنیہ نجد کا ہے جس کے لفظی معنے اس راستے کے ہیں جو اوپر بلندی کی طرف جاتا ہے مراد اس سے کھلا واضح راستہ ہے اور ان دو راستوں میں ایک خیر و فلاح کا دوسرا شرو ہلاکت کا راستہ ہے۔ سابقہ آیت میں انسان کی اس غفلت و جہالت پر تنبیہ تھی کہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے اوپر اللہ تعالیٰ کو بھی قدرت نہیں، اور یہ کہ اس کے اعمال و افعال کو کوئی دیکھنے والا نہیں۔ اس آیت میں چند ان نعمتوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے وجود میں ایسی عطا فرمائی ہیں کہ خود ان کی صنعت و حکمت ہی پر غور کرے تو حق تعالیٰ کی بےمثال حکمت وقدرت کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

نیکی اور بدی کا شعور انسان کی فطرت میں ہے: ’وَہَدَیْنٰہُ النَّجْدَیْنِ‘۔ یعنی مشاہدہ و شعور اور نطق و بیان کی صلاحیت دینے کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر یہ فضل بھی فرمایا کہ اس کو دونوں راستے بھی دکھا دیے۔ ’دونوں راستے‘ سے اشارہ انہی دونوں راستوں کی طرف ہے جن کا ذکر سورۂ دہر میں بدیں الفاظ گزر چکا ہے: إِنَّا ہَدَیْنٰہُ السَّبِیْلَ إِمَّا شَاکِرًا وَإِمَّا کَفُوۡرًا (الدہر ۷۶: ۳) ’’ہم نے اس کو راہ بھی دکھا دی۔ چاہے وہ شکر کرنے والا بنے یا ناشکرا بنے۔‘‘ اس سے زیادہ واضح لفظوں میں سورۂ شمس میں فرمایا ہے: وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاہَا ۵ فَأَلْہَمَہَا فُجُورَہَا وَتَقْوَاہَا (الشمس ۹۱: ۷-۸) ’’اور…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی خیر کی بھی شر کی بھی اور ایمان کی بھی، سعادت کی بھی اور بدبختی کی بھی، جیسے فرمایا، بعض نے یہ ترجمہ کیا ہے، ہم نے انسان کی (ماں کے) دو پستانوں کی طرف رہنمائی کردی یعنی وہ عالم شیر خوارگی میں ان سے خوراک حاصل کرے لیکن پہلا مفہوم زیادہ صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–10

6: وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ : انسان کو اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے دونوں راستے دکھادئے ہیں اور اختیار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہو اختیار کرسکتے ہو، لیکن بدی کا راستہ اختیار کروگے تو سزا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وھدینہ النجدین (10:90) ” اور دونوں راستے اسے دکھائے “۔ کہ نیکی وبدی میں سے وہ جس راستے کو چاہے اختیار کرے۔ اس کو ایسی طاقت دی کہ وہ نیکی اور بدی میں سے جس کو چاہے ، اپنائے اور انسان کی تخلیق میں یہ دوہری قوت رکھی گئی اور یہی اللہ کی حکمت تخلیق تھی۔ پھر اللہ نے ہر چیز کو خلقت بخشی اور اس کائنات میں اس کے لئے اس کا فریضہ منصبی آسان کردیا۔ یہ آیت اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ انسان کی فطرت کیا ہے اور سورة شمس میں اس کی مزید وضاحت کی گئی ہے۔ ونفس وما سواھا ................................ دسھا (7:90 تا 10) ” قسم ہے نفس انسانی کی اور اس کی ساخت کی۔ اور پھر اسے بتایا کہ فجور کیا ہے اور تقویٰ کیا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی خیر اور شر دونوں کی راہیں بتلادیں۔ تاکہ برے راستہ سے بچے اور اچھے راستہ پر چلے۔ اور یہ بتلانا اجمالی طور پر عقل و فطرت سے ہوا اور تفصیلی طور پر انبیاء ورسل کی زبان سے۔ (تنبیہ) بعض نے " نجدین " سے مراد عورت کی پستان لئے ہیں یعنی بچے کو دودھ پینے اور غذا حاصل کرنے کا راستہ بتلا دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–12

آیت 10{ وَہَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ۔ } ”اور ہم نے اس کو راہ دکھلا دی دو گھاٹیوں کی۔“ عام مفسرین کے نزدیک دو گھاٹیوں سے مراد نیکی اور بدی کے دو راستے ہیں۔ البتہ ایک رائے یہ بھی ہے کہ اس سے ماں کی دو چھاتیاں مراد ہیں۔ نجد کے لغوی معنی ابھری ہوئی چیز کے ہیں۔ بلند سطح پر جو راستہ ہو اس کو بھی نجد کہتے ہیں۔ چناچہ ”النَّجْدین“ کے معنی ”دو بلند واضح راستے“ بھی ہوسکتے ہیں اور ”دواُبھار“ بھی۔ اور مجھے موخر الذکر رائے زیادہ پسند ہے۔ انسان کی زبان ‘ اس کے دو ہونٹوں اور پھر ماں کی چھاتیوں کے ذکر کے حوالے سے دراصل یہاں انسان کی اس جبلی اور پیدائشی ہدایت کا ذکر مقصود ہے جس کے بارے میں ہم سورة الاعلیٰ کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 اس آیت کے دو مطلب ہیں۔ ایک یہ کہ ہم نے انسان کے پیدا ہوتے ہی اس کی ماں کی چھاتیوں کی طرف رہنمائی کردی تاکہ وہ نشوونما پاسکے۔ اعضائے انسانی کے ذکر کے لحاظ سے یہ مطلب بھی درست ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اسے بھلائی اور برائی کے دونوں راستے بتا دیے۔ اسی کا نام قوت تمیز اور عقل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انبیاء بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر ان راہوں کی پوری وضاحت بھی کردی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و ھدینہ النجدین . اور ہم نے اس کو دو راستے بتا دیئے یعنی دودھ پینے کے لیے (ماں کی) چھاتیاں۔ بروایت محمد بن کب ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے یہی فرمایا۔ سعید بن مسیب اور ضحاک کا بھی یہی قول ہے لیکن اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ النجدین سے مراد ہیں خیر و شر۔ حق و باطل اور ہدایت و گمراہی کے راستے۔ مطلب یہ ہے کہ عقل دے کر اور پیغمبروں کو بھیج کر ہم نے اچھائی ‘ برائی واضح کردی۔ اب جو شر کا راستہ اختیار کرے گا اور گمراہ ہوگا اس کا کوئی عذر (قیامت کے دن) قبول نہ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(108) کیا ہم نے اس کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور بولنے کے لیے زبان نہیں دی اور پھر ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں راستے بتلا دیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–10

(الم نجعل لہ عینین…:”نجد“ کا لغوی معنی ”بلند جگہ“ ہے۔ ”النجدین“ وہ بلند جگہوں سے مراد ماں کی چھاتیاں ہیں۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت کے مطابق ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے، انہیں منہ میں ڈال کر دودھ چوستا ہے جس پر اس کی زندگی کا دار و مدار ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس کی یہ رہنمائی نہ کرے تو کوئی بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ آنکھوں، زبان اور ہونٹوں کے الفاظ کے ساتھ ماں کی چھاتیوں کی مناسبت واضح ہے۔ اکثر مفسرین نے ”النجدین“ سے مراد خیر و شر کے دو واضح راستے لئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ کی بغاوت کرتے ہوئے اور بےتحاشا مال لٹاتے ہوئے یہ گمان کیسے کرلیا کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وھدینہ النجدین۔ النجدین سے مراد دوراستے ہیں بھلائی اور برائی کا راستہ یعنی ہم نے ان دونوں نے اس کو اس لیے بیان کیا جو ہم نے اس کی طرف رسول بھیجے ہیں نجد اس راستہ کو کہتے ہیں جو بلندی کی طرف جاتا ہے یہ حضرت ابن عباس، حضرت ابن مسعود اور دوسرے علماء کی رائے ہے، قتادہ نے کہا، ہمارے لیے یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ نبی کریم کہا کرتے تھے، یا ایھا الناس ھما النجدان، نجدالخیر، ونجد الشر، فلم نجعل نجدالشر احب الیک من نجدالخیر۔ اے لوگو ! وہ دونوں راستے ہیں بھلائی کا راستہ اور برائی کا راستہ ہم نے شر کے راستہ کو خیر کے راستہ سے تیرے لیے زیادہ محبوب نہیں بنایا، عکرمہ یہ مروی ہے کہ نجدان سے مراد پستان ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

45۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہدینہ النجدین۔ اور ہم نے اسے دونوں دکھائے۔ یعنی خیر اور شر کا راستہ۔ 46۔ فریابی وعبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے رایت کیا کہ آیت وہدینہ النجدین کہ ہم نے اس کو خیر اور شر کے راستے کی پہچان کرادی۔ 47۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وہدینہ النجدین یعنی ہدایت اور گمراہی کا راستہ۔ 48۔ سعید بن منصور نے محمد بن کعب ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 49۔ فریابی وعبد بن حمید نے حضرت علی ؓ سے روایت ہے کہ ان سے کہا گیا کہ لوگ کہتے ہیں کہ نجدین سے مراد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ : اور ہم نے سمجھا دیئے اس کو دونوں راستے ] ن ج د [نُجُوْد : (ن) نُجُوْدً ظاہر ہونا واضح ہونا۔][ نَجْد :ٌ اسم ذات ہے۔ بلند راستہ۔ واضح راستہ۔ زیر مطالعہ ] پھر آیت۔ 10 ۔ میں فرمایا کہ ہم نے محض عقل وفکر کی طاقتیں عطا کر کے انسان کو چھوڑ نہیں دیا کہ وہ اپنا راستہ خود تلاش کرے۔ بلکہ اس کی رہنمائی بھی کی۔ اس کے سامنے بھلائی اور برائی، نیکی اور بدی، دونوں کے راستے نمایاں کر کے رکھ دئیے تاکہ وہ سوچ سمجھ کر ان میں سے جس کو چاہے اختیار کرلے۔ یہ وہی بات ہے جو سورة دھر میں فرمائی گئی ہے کہ ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا تاکہ اس کا امتحان لیں اور اس غرض کے لیے ہم…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–12

اس کے بعد فرمایا ﴿ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِۙ008﴾ (الآیتین) (کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں اور زبان اور ہونٹ نہیں بنائے) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو آنکھیں بھی دیں، زبان بھی دی، ہونٹ بھی دیئے، انسان کے یہ اعضاء اس کے لیے بہت بڑے مددگار ہیں، آنکھوں سے دیکھتا ہے، زبان سے بولتا ہے، ہونٹوں سے حروف بھی ادا ہوتے ہیں اور بہت بڑی خوبصورتی کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ان اعضاء کے ذریعے انسان اپنی دنیاوی زندگی بھی اچھی گزار سکتا ہے اور ان کو اپنے خالق ومالک کی رضا مندی میں استعمال کر کے آخرت کی کامیابی حاصل کرسکتا ہے اسی لیے آخر میں ﴿وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

5:۔ ” الم نجعل “ انعامات اور قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ استفہام تقریر ہے۔ ہم نے انسان کو دیکھنے کے لیے دو آنکھیں دیں تاکہ وہ دلائل قدرت کا مشاہدہ کرے۔ بولنے کے لیے زبان دی اور دو ہونٹ دئیے جو بولنے میں معاون ہیں تاکہ وہ زبان سے حق بات پوچھے، حق کا اقرار کرے اور اس کی تبلیغ کرے اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں راستے دکھا دئیے اور دلائل سے دونوں کو واضح کردیا۔ اب انسان کو چاہئے کہ وہ خدادا قوتوں سے فائدہ اٹھائے اور حق کو قبول کرے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

شہر مکہ ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَہَدَيْنٰہُ النَّجْدَيْنِ۝ 10 ۚ هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا [ الأنبیاء/ 73] . الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی، وهو المعنيّ بقوله تعالی: وَالَّذِينَ اهْتَدَوْا زادَهُمْ هُدىً […

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–20

ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّـہٗ عَیْنَیْنِ ۔ وَلِسَانًا وَّشَفَتَیْنِ ۔ وَھَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ (البلد : 8 تا 10) (کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں۔ اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے۔ اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھا دیئے۔ ) نعمتوں کا صحیح مصرف یہ کم ظرف لوگ جو مال و دولت پا کر اسی کے ہو کر رہ گئے حالانکہ ہم نے انھیں اس سے بھی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں۔ اگر یہ ان کے قدردان ہوتے تو مال و دولت کی ہوس میں پڑ کر اپنی راہ کھوٹی نہ کرلیتے۔ اگر انھیں ذرا بھی احساس ہوتا تو وہ اسی مال و دولت کے ذریعے سے اپنی آخرت سنوار سکتے تھے۔ فرمایا کہ کیا ہم نے ان کو دو آنکھیں عطا نہیں کیں تاکہ وہ اپنے گردوپیش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے نہیں دیکھتا اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے اس وقت سے دیکھ رہا ہے کہ جب اس کے رحم مادر میں نقش ونگار بنائے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کیا انسان اس پر پر غور نہیں کر تاکہ ہم نے اسے دو آنکھیں، ایک زبان اور دوہونٹ عطا کیے ہیں اور ہم نے اسے دوراستے دکھائے ہیں مگر اس نے مشکل گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کیا سمجھیں کہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی کی گردن کو غلامی سے چھڑایا جائے، کسی قرابت دار فاقہ مست اور خاک نشین، یتیم یا مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَھَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ (اور ہم نے اس کو دونوں راستے بتلا دیے) خیرو شر کے راستے جو جنت و نار تک پہنچنے والے ہیں یا ماں کے پستان۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

10 ۔” وھدیناہ النجدین “ اکثر مفسرین رحمہما اللہ فرماتے ہیں خیر اور شر کا راستہ اور حق و باطل اور ہدایت و گمراہی کا راستہ۔ جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ” انا ھدیناہ السبیل اما شاکرا واما کفورا “ ہے اور محمد بن کعب نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ” وھدیناہ النجدین “ فرمایا دوپستان اور یہی سعید بن مسیب اور ضحاک رحمہما اللہ کا قول ہے اور نجد بلند راستہ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–10

پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِ ۔ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيْنِ ) کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے ؟ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں یہ تو دنیا کی نعمتیں پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا (وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ ) یعنی ہم نے اسے خیر وشر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا پس یہ بےپایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے مگر اس انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

(10) زبان اور ہونٹوں کی نعمت اور اس کے تقاضوں کی تزکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے اس کو زبان اور دو ہونٹ نہیں عطا کیے ؟ جو کہ قدرت کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ہیں، تاکہ ان کے ذریعے انسان بول سکے، اظھار ما فی الضمیر کرسکے، اور ان کے ذریعے یہ اپنے خالق ومالک کو یاد کرے اور اسی واہب مطلق جل وعلا شانہ کے گن گائے اور زمزمہ حق و صداقت کی نغمہ سرائی کرے، تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھے اور محسوس کرے، اس کے تقاضوں پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم و تلقین کرے، تاکہ اس کی تشویش و ترغیب سے دوسروں کے اندر بھی وہ نیکی پھیلے، اور سب کا بھلا ہو، اور خیر و برکت کا دور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 1 اچھا راستہ ایمان کا اور برا راستہ کفر و شرک کا اچھا راستہ اس لئے بتایا گیا کہ اسے اختیار کرے اور برا راستہ اس لئے کہ اس سے بچے یہ بتلانا اجمالی وطر پر فطرت و عقل سے ہوا اور تفصیلی طور پر انبیاء (علیہم السلام) ہی زبان سے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(90:10) وھدینہ النجدین۔ واؤ عاطفہ۔ ھدینا ماضی جمع متکلم ھدایۃ (باب ضرب) مصدر۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب۔ النجدین مفعول ثانی ھدینا کا۔ اور ہم نے اسے (حق و باطل کے) دونوں راستے دکھا دئیے۔ النجدین۔ اسم تثنیہ منصوب۔ دو روشن راستے۔ یعنی نیکی اور بدی کے راستے النجد۔ کے لغوی معنی بلند اور سخت جگہ کے ہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[7] دو آنکھوں سے مراد جانوروں کی آنکھیں نہیں ہیں بلکہ انسانی آنکھیں ہیں جنہیں آدمی کھول کر دیکھے تو اسے وہ نشانات نظر آئیں گے جو صحیح و غلط کا فرق سمجھاتے ہیں۔ زبان اور ہونٹوں سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں ہیں بلکہ وہ مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ زبان کے ساتھ ہونٹوں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر ہونٹ نہ ہوں تو زبان اپنا کام انجام نہ دے سکے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–14

حیات انسانی 2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(10) اور ہم نے اس کو دونوں راستے اور دونوں راہیں دکھادیں اور بتلا دیں - یعنی دیکھنے کو دو آنکھیں اور بولنے اور مانی الضمیر کو ظاہر کرنے کے لئے ایک زبان اور منہ کی خوبصورتی اور منہ کو بند رکھنے اور خارجی اثرات سے بچانے کے لئے دو ہونٹ نہیں بنائے۔ یہ تو ظاہری آراستگی اور برے بھلے کی تمیز کا سامان ہوا۔ پھر دونوں راہیں بتادیں یعنی خیر وشر، حق و باطل ہدایت و ضلالت کے دونوں راستے یا ماں کی دونوں چھاتیاں دودھ حاصل کرنے اور دودھد پینے کو نہیں بنائیں، کما قالہ ابن عباس ؓ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی کفر اور ایمان یا دودھ کے دو پستان۔ خلاصہ : یہ کہ ان تمام باتوں کا تقاضا یہ تھا کہ انسان مضر چیزوں…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور ہم نے اس کو دونوں راستے بتا دیئے 10 ؎ اس سے مراد دو مفہوم لیے گئے ہیں اور دونوں کی وضاحت اس طرح کی کہ ہم نے انسان کو صرف انسان کو حواس خمسہ یعنی حواس ظاہری ہی نہیں عطا کیے اپنے پیغمبروں اور رسولوں کے ذریعے اس کے سامنے نیکی اور برائی کے راستوں کو واضح کردیا ہے۔ اسے ارادہ اور اختیار کی آزادی دی ہے اور اس کو نیکی اور برائی کی تفہیم کرا دی گئی ہے اور اب اس کی مرضی کی بات ہے کہ چاہے وہ نیکی اور بھلائی کا راستہ اختیار کرے اور چاہے برائی اور شر کا راستہ اختیار کرے لیکن اتنی بات تو وہ بتا دے کہ کیا اس نے سیدھی راہ کی طلب کی تھی تب ہم نے اس کو راہ دکھائی یا بن مانگے اس کے لیے سارے انتظامات کیے اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ ﴿8﴾ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ﴿9﴾ وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ﴿10﴾ (Did We not make for him two eyes, and a tongue and two lips, and showed him the two ways?...90:8-10) The word najdain is the dual form of najd which means an elevated or conspicuous road. The word najdain signifies the two high and conspicuous ways of good and evil, or of success and destruction. The preceding verse pointed out the ignorance and heedlessness of man. He thinks that Allah has no power over him, and that there is no one watching over his actions. The current verse mentions a few of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

10 That is, "We have not left him alone after granting him the faculties of thinking and reasoning so that he may have to search out his own way, but We have also guided him and opened up before him both the highways of good and evil, virtue and vice, so that he may consider them seriously and choose and adopt one or the other way on his own responsibility. This same subject has been expressed in Surah Ad-Dahr: 2-3, thus: "Indeed We created man from a mixed sperm-drop, to try him, and so We made him capable of hearing and seeing. We showed him the way, whether to be grateful or disbelieving.…

Read the full tafseer →