Al-Balad 90:9

Al-Balad · from ayah 9

90:9

وَلِسَانًا وَّشَفَتَیْنِ ۟ۙوَلِسَانًا وَّشَفَتَيۡنِۙ

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دیئے)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And a tongue and two lips?

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Balad

All translations of 90:9

اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور زبان اور دو ہونٹ (نہیں دیئے)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور زبان اور ہونٹ (نہیں بنائے)

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور زبان اور دو ہونٹ

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اسے) ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دئیے)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ایک زبان اور دو ہونٹ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور ایک زبان اور دو ہونٹ بھی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کیا ہم نے اس کو ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں عطا کئے ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور ایک زبان اور دو ہونٹ ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ایک زبان اور دو ہونٹ (نہیں دیے) ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور زبان و دو ہونٹ نہیں دئیے

— محترمہ رفعت اعجاز

and one tongue and two lips,

— Muhammad Taqi Usmani

and one tongue and two lips,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And a tongue and two lips

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And a tongue and two lips?

— Saheeh International

a tongue, and two lips?

— Muhammad Sarwar

And a tongue and two lips,

— Muhammad Habib Shakir

And a tongue and two lips,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 90:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–10

مکہ مکرمہ کی قسم : اللہ تبارک وتعالیٰ مکہ مکرمہ کی قسم کھاتا ہے درآں حالیکہ وہ آباد ہے اس میں لوگ بستے ہیں اور وہ بھی امن چین میں ہیں لا سے ان پر رد کیا پھر قسم کھائی اور فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! تیرے لیے یہاں ایک مرتبہ لڑائی حلال ہونے والی ہے، جس میں کوئی گناہ اور حرج نہ ہوگا اور اس میں جو ملے وہ حلال ہوگا صرف اسی وقت کے لیے یہ حکم ہے صحیح حدیث میں بھی ہے کہ اس بابرکت شہر مکہ کو پروردگار عالم نے اول دن سے ہی حرمت والا بنایا ہے اور قیامت تک اس کی یہ حرمت و عزت باقی رہنے والی ہے اس کا درخت نہکاٹا جائے اس کے کانٹے نہ اکھیڑے جائیں میرے لیے بھی صرف ایک دن ہی کی ایک ساعت کے لیے حلال کیا گیا تھا آج پھر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَلَد 9 مطلب یہ ہے کہ کیا ہم نے اسے علم اور عقل کے ذرائع نہیں دیے ؟ دو آنکھوں سے مراد گائے بھینس کی آنکھیں نہیں بلکہ وہ انسانی آنکھیں ہیں جنہیں کھول کر آدمی دیکھے تو اسے ہر طرف وہ نشانات نظر آئیں جو حقیقت کا پتہ دیتے ہیں اور صحیح و غلط کا فرق سمجھاتے ہیں۔ زبان اور ہونٹوں سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں ہیں بلکہ نفس ناطقہ ہے جو ان آلات کی پشت پر سوچنے سمجھنے کا کام کرتا ہے اور پھر ان سے اظہار مافی الضمیر کا کام لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–10

آنکھ اور زبان کی تخلیق میں چند حکمتیں الم نجعل لہ عینین ولسانا وشفتین وھدینہ النجدین، نجدین نثنیہ نجد کا ہے جس کے لفظی معنے اس راستے کے ہیں جو اوپر بلندی کی طرف جاتا ہے مراد اس سے کھلا واضح راستہ ہے اور ان دو راستوں میں ایک خیر و فلاح کا دوسرا شرو ہلاکت کا راستہ ہے۔ سابقہ آیت میں انسان کی اس غفلت و جہالت پر تنبیہ تھی کہ وہ سمجھتا ہے کہ میرے اوپر اللہ تعالیٰ کو بھی قدرت نہیں، اور یہ کہ اس کے اعمال و افعال کو کوئی دیکھنے والا نہیں۔ اس آیت میں چند ان نعمتوں کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے وجود میں ایسی عطا فرمائی ہیں کہ خود ان کی صنعت و حکمت ہی پر غور کرے تو حق تعالیٰ کی بےمثال حکمت وقدرت کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’وَلِسَانًا وَشَفَتَیْْنِ‘۔ یعنی آنکھوں کے ساتھ اس نے انسان کو ایک زبان اور دو ہونٹ بھی عنایت فرمائے تاکہ وہ جو کچھ دیکھے اور محسوس کرے اس پر خود بھی عمل پیرا ہو اور اپنی زبان سے دوسروں کو بھی اس پر ابھارے تاکہ اس شوق و ترغیب سے دوسروں کے اندر بھی وہ نیکی پھیلے۔ سابق سورہ میں اسی چیز کی طرف ’وَلَا تَحَاضُّوۡنَ عَلَی طَعَامِ الْمِسْکِیْنِ‘ (الفجر ۸۹: ۱۸) (اور تم مسکینوں کو کھلانے پر لوگوں کو نہیں ابھارتے) کے الفاظ سے توجہ دلائی ہے۔ اور اس سورہ میں آگے اسی مضمون کی تکمیل ان الفاظ میں کی ہے: ’ثُمَّ کَانَ مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوۡا وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَۃِ‘ (۱۷) (پھر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 زبان سے وہ بولتا ہے اور مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے ہونٹوں سے وہ بولنے اور کھانے کے لیے مدد حاصل کرتا ہے علاوہ ازیں وہ اس کے چہرے اور منہ کے لیے خوب صورتی کا بھی باعث ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 8–10

6: وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ : انسان کو اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کے دونوں راستے دکھادئے ہیں اور اختیار دیا ہے کہ اپنی مرضی سے جو راستہ چاہو اختیار کرسکتے ہو، لیکن بدی کا راستہ اختیار کروگے تو سزا ہوگی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ولسانا وشفتین (9:90 ) ” ایک زبان اور دو ہونٹ “۔ اس کے بعد اللہ نے انسان کو خیروشر میں تمیز کرنے کا ملکہ دیا۔ ہدایت وضلالت میں اور حق و باطل میں فرق کرنے کے لئے قوت استدلال دی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 7–9

آیت 7{ اَیَحْسَبُ اَنْ لَّـمْ یَرَہٗٓ اَحَدٌ۔ } ”کیا اس کا گمان ہے کہ اسے کسی نے دیکھا نہیں ؟“ کیا وہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ہر شخص کے ایک ایک عمل سے واقف ہے اس کی اس نیکی سے وہ بیخبر ہے۔ یعنی اگر تو اس نے وہ نیکی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کی تھی تو پھر وہ اس کا ڈھنڈھورا کیوں پیٹ رہا ہے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 قرآن میں اکثر مقامات پر انسان کو متنبہ کرنے کے لیے اس کی آنکھوں اور اس کے کانوں یا بصارت اور سماعت کا ذکر آیا ہے۔ جبکہ یہاں آنکھوں کے ساتھ کانوں کے بجائے انسان کے اعضائے قوت گویائی کا ذکر کیا گیا ہے جن سے وہ اپنے مافی الضمیر کا اظہار کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کو جو آنکھیں، کان، کان یا زبان دی گئی ہے تو یہ گائے بھینسوں کی آنکھ، کان یا زبان جیسی نہیں ہے کہ وہ انہیں صرف اپنے دنیوی مفادات کے لیے استعمال میں لائے۔ بلکہ اسے جانوروں سے زائد قوت تمیز، عقل وشعور بھی دی گئی ہے تاکہ وہ انہیں اعضاء کو کام میں لاکر اپنے مالک حقیقی کو پہچانے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 8–9

6۔ (اور ان ساری نعمتوں کا مقتضا کیا یہ نہ تھا کہ وہ طاعت وشکرگزاری میں لگ جاتا ؟ ) آنکھیں انسان کیلئے خارج کے محسوسات ومدرکات کے باب میں سب سے بڑی نعمت ہیں، اور زبان اور ہونٹ مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہیں، شاید اسی لئے یہی تین نعمتیں نام کی صراحت کے ساتھ یہاں بیان ہوئیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 4–20

لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ولسانا . اور کیا اس کی زبان نہیں بنائی جس سے وہ بات کرتا ہے۔ و شفتین . اور دو لب نہیں بنائے جن سے منہ پر پردہ پڑا ہوا ہے اور بولنے ‘ کھانے پینے اور پھونکنے میں ان سے (بڑی) مدد ملتی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حدیث میں آیا ہے ‘ اللہ فرماتا ہے کہ اے ابن آدم ! اگر تیری زبان ناجائز چیزوں کے لیے تجھ سے کشاکش کرے تو میں نے اس کے خلاف تیری مدد کے لیے دو ڈھکن تجھے دیئے ہیں تو اس کو ڈھکن میں بند کر دے (اور ناجائز بات زبان سے نہ نکال) اور اگر تیری نگاہ ناجائز چیزوں کے لیے تجھ سے کشاکش کرے تو تیری مدد کے لیے میں نے دوغلاف دے دیئے ہیں ‘ تو ان غلافوں میں اس کو بند رکھا اور اگر تیری شرمگاہ ناجائز امور کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 8–10

(108) کیا ہم نے اس کو دیکھنے کے لیے آنکھیں اور بولنے کے لیے زبان نہیں دی اور پھر ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں راستے بتلا دیے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 8–10

(الم نجعل لہ عینین…:”نجد“ کا لغوی معنی ”بلند جگہ“ ہے۔ ”النجدین“ وہ بلند جگہوں سے مراد ماں کی چھاتیاں ہیں۔ بچہ پیدا ہوتے ہی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت کے مطابق ماں کی چھاتیوں کی طرف لپکتا ہے، انہیں منہ میں ڈال کر دودھ چوستا ہے جس پر اس کی زندگی کا دار و مدار ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس کی یہ رہنمائی نہ کرے تو کوئی بچہ زندہ نہیں رہ سکتا۔ آنکھوں، زبان اور ہونٹوں کے الفاظ کے ساتھ ماں کی چھاتیوں کی مناسبت واضح ہے۔ اکثر مفسرین نے ”النجدین“ سے مراد خیر و شر کے دو واضح راستے لئے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس نے اللہ کی بغاوت کرتے ہوئے اور بےتحاشا مال لٹاتے ہوئے یہ گمان کیسے کرلیا کہ اسے کسی نے نہیں دیکھا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 5–9

ایحسب الن یقدر۔۔۔ تا۔۔۔ شفتین۔ کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے سزا نہیں دے گا وہ کہتا ہے میں نے کثیر مال خرچ کردیا، کیا وہ یہ گمان کرتا ہے کہ اسے کوئی نہیں دیکھ رہا بلکہ اللہ تعالیٰ اس کے سب اعمال کو جانتا ہے وہ اس بات میں جھوٹا ہے کہ وہ کہتا ہے میں نے مال خرچ کیا ہے جب کہ اس نے مال خرچ نہیں کیا جاتا، حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ بندے کو کھڑا کیا جائے گا اسے کہا جائے گا، میں تجھے جو رزق دیا تھا اس کا تونے کیا کیا، وہ کہے گا میں نے اس کو خرچ کیا اور اس کی زکوۃ ادا کی، اسے کہا جائے گا، گویا تو نے یہ کیا تاکہ کہا جائے کہ وہ بڑا سخی ہے تو وہ تو کہا جاچکا ہے پھر اسے آگ میں ڈالنے کا حکم دے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 6–9

40۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت مالا لبدا سے مراد ہے کثیر مال۔ 41۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اہلکت مالا لبدا سے مراد ہے کہ وہ کہے گا میں نے اللہ کے راستے سے روکنے پر بہت مال خرچ کیا آیت ایحسب ان لم یرہ احد میں الاحد سے مراد ہیں اللہ تعالیٰ یعنی کیا وہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے نہیں دیکھا۔ 42۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے یقول الکت مالا لبدا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اس نے ہم پر احسان فرمایا۔ لیکن ہم نے اس کو زیادہ فضیلت والا قرار نہیں دیا آیت الم نجعل لہ عینین۔ کیا ہم اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائی۔ اس طرح اور اس طرح۔ 43۔ عبد بن حمید…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَلِسَانا وَّشَفَتَيْنِ : اور ایک زبان اور دو ہونٹ ] شھـ [شَفْھًا : (ف) شَفْھًا ہونٹ پر مارنا۔][ شَفَۃٌ: اسم ذات ہے۔ ہونٹ۔ تثنیہ شَفَتَانِ ۔ شَفَتَیْنِ ۔ جمع شِفَاہٌ اور شَفَھَاتٌ۔ (یہ دراصل شَفَھَۃٌ ہے۔ اہل زبان اس کی ھا گرا کر شَفَۃٌ بولتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جمع میں اس کی ھا واپس آجاتی ہے) ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 9 ۔]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–12

اس کے بعد فرمایا ﴿ اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِۙ008﴾ (الآیتین) (کیا ہم نے اس کے لیے دو آنکھیں نہیں بنائیں اور زبان اور ہونٹ نہیں بنائے) یہ استفہام تقریری ہے مطلب یہ ہے کہ ہم نے انسان کو آنکھیں بھی دیں، زبان بھی دی، ہونٹ بھی دیئے، انسان کے یہ اعضاء اس کے لیے بہت بڑے مددگار ہیں، آنکھوں سے دیکھتا ہے، زبان سے بولتا ہے، ہونٹوں سے حروف بھی ادا ہوتے ہیں اور بہت بڑی خوبصورتی کا مظاہرہ بھی ہوتا ہے۔ ان اعضاء کے ذریعے انسان اپنی دنیاوی زندگی بھی اچھی گزار سکتا ہے اور ان کو اپنے خالق ومالک کی رضا مندی میں استعمال کر کے آخرت کی کامیابی حاصل کرسکتا ہے اسی لیے آخر میں ﴿وَ هَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِۚ0010﴾…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–20

انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 8–10

5:۔ ” الم نجعل “ انعامات اور قدرت کاملہ کا بیان ہے۔ استفہام تقریر ہے۔ ہم نے انسان کو دیکھنے کے لیے دو آنکھیں دیں تاکہ وہ دلائل قدرت کا مشاہدہ کرے۔ بولنے کے لیے زبان دی اور دو ہونٹ دئیے جو بولنے میں معاون ہیں تاکہ وہ زبان سے حق بات پوچھے، حق کا اقرار کرے اور اس کی تبلیغ کرے اور ہم نے اس کو خیر و شر کے دونوں راستے دکھا دئیے اور دلائل سے دونوں کو واضح کردیا۔ اب انسان کو چاہئے کہ وہ خدادا قوتوں سے فائدہ اٹھائے اور حق کو قبول کرے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–10

شہر مکہ ابتدائے سورة میں دو چیزوں کی قسم کھا کر بات سمجھائی گئی ہے پہلی قسم بلد یعنی شہر مکہ کی ہے اور دوسری والدوما ولد یعنی والد اور مولود کی چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لا اقسم بھذا البلد یہاں لفظ لاتاکید کے لئے ہے۔ یعنی میں قسم کھاتا ہوں اس شہر کی وانت حل بھذا البلد اور آپ اترے ہوئے ہیں اس شہر میں حل ، حلول سے ہے۔ اور اس کا معنی اترنا ہے۔ مراد شہر مکہ مکرمہ ہے۔ جو کہ بلدہ طیبہ ، بلد الحرام اور عزت والا شہر ہے۔ قرآن پاک میں بلدہ طیبہ کا ذکر کئی مقامات پر آیا ہے۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ کیونکہ اس میں بیت اللہ شریف واقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس شہر کو مرکز ہدایت اور حرمت والا شہر قرار دیا ہے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلِسَانًا وَّشَفَتَيْنِ۝ 9 ۙ لسن اللِّسَانُ : الجارحة وقوّتها، وقوله : وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسانِي [ طه/ 27] يعني به من قوّة لسانه، فإنّ العقدة لم تکن في الجارحة، وإنما کانت في قوّته التي هي النّطق به، ويقال : لكلّ قوم لِسَانٌ ولِسِنٌ بکسر اللام، أي : لغة . قال تعالی: فَإِنَّما يَسَّرْناهُ بِلِسانِكَ [ الدخان/ 58] ، وقال : بِلِسانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ [ الشعراء/ 195] ، وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فاختلاف الْأَلْسِنَةِ إشارة إلى اختلاف اللّغات، وإلى اختلاف النّغمات، فإنّ لكلّ إنسان نغمة مخصوصة يميّزها السّمع، كما أنّ له صورة مخصوصة يميّزها البصر . ( ل س ن )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 8–20

ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 8–10

اَلَمْ نَجْعَلْ لَّـہٗ عَیْنَیْنِ ۔ وَلِسَانًا وَّشَفَتَیْنِ ۔ وَھَدَیْنٰـہُ النَّجْدَیْنِ ۔ (البلد : 8 تا 10) (کیا ہم نے اس کو دو آنکھیں نہیں دیں۔ اور ایک زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے۔ اور دونوں نمایاں راستے اسے نہیں دکھا دیئے۔ ) نعمتوں کا صحیح مصرف یہ کم ظرف لوگ جو مال و دولت پا کر اسی کے ہو کر رہ گئے حالانکہ ہم نے انھیں اس سے بھی بڑی نعمتیں عطا فرمائیں۔ اگر یہ ان کے قدردان ہوتے تو مال و دولت کی ہوس میں پڑ کر اپنی راہ کھوٹی نہ کرلیتے۔ اگر انھیں ذرا بھی احساس ہوتا تو وہ اسی مال و دولت کے ذریعے سے اپنی آخرت سنوار سکتے تھے۔ فرمایا کہ کیا ہم نے ان کو دو آنکھیں عطا نہیں کیں تاکہ وہ اپنے گردوپیش…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 8–16

فہم القرآن ربط کلام : جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے نہیں دیکھتا اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے اس وقت سے دیکھ رہا ہے کہ جب اس کے رحم مادر میں نقش ونگار بنائے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کیا انسان اس پر پر غور نہیں کر تاکہ ہم نے اسے دو آنکھیں، ایک زبان اور دوہونٹ عطا کیے ہیں اور ہم نے اسے دوراستے دکھائے ہیں مگر اس نے مشکل گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کیا سمجھیں کہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی کی گردن کو غلامی سے چھڑایا جائے، کسی قرابت دار فاقہ مست اور خاک نشین، یتیم یا مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : وَلِسَانًا وَّشَفَتَیْنِ (اور زبان اور دو ہونٹ دیئے) وہ زبان جس سے وہ اپنے مافی الضمیر کی تعبیر کرتا ہے۔ اور وہ ہونٹ جن سے وہ اپنے دانتوں کو ڈھانپتا ہے۔ اور گفتگو میں ان سے معاونت پاتا اور کھانے اور پینے اور سانس میں ان سے مدد لیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

9 ۔” ولسانا وشفتین “ قتادہ (رح) فرماتے ہیں اللہ کی نعمتیں ظاہر ہیں وہ تجھے ان پر قرار دے گا جتنا تو شکر ادا کرے گا اور حدیث میں آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اے ابن آدمی اگر تجھ سے تیری زبان جھگڑا کرے، اس میں جو میں نے تجھ پر حرام کیا تو میں نے تیری اس پر دوجبڑوں کے ساتھ مدد کی ہے ، پس تو ان کو بند کردے اور تجھ سے تیری آنکھ جھگڑا کرے، اس چیز کی طرف جو میں نے تجھ پر حرام کی ہے تو میں نے تیری اس پر دوپلکوں کے ساتھ مدد کی ہے۔ پس تو ان کو بند کردے اور اگر تجھ سے تیری شرمگاہ جھگڑا کرے اس چیز کی طرف جو میں نے تجھ پر حرام کی ہے تو میں نے تیری اس پر دورانوں کے ساتھ مدد کی ہے۔ پس تو اس کو روک لے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–10

1۔ 10۔ شروع سورة میں جس بات پر اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے وہ یہی بات ہے جو ان آیتوں میں آگے فرمائی۔ تجھ کو قید نہ رہے گی کا مطلب یہ ہے کہ مکہ میں جو قید ہے کہ وہاں لڑائی منع ہے ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اے نبی اللہ کے تم کو تھوڑی دیر کے لئے وہاں لڑائی حلال ہوجائے گی ہجرت سے پہلے اس مکی سورة میں اللہ کا یہ ایک وعدہ تھا جس کو فتح مکہ کے وقت اللہ تعالیٰ نے پورا کیا۔ چناچہ صحیح 3 ؎ بخاری و مسلم وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ فتح مکہ کے بعد آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تھوڑی دیر کے لئے کو مجھ کو مکہ میں لڑنا حلال کردیا تھا اس کے بعد مکہ میں بدستور لڑائی کی ممانعت ہے اب جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–10

پھر اس سے اپنی نعمتوں کا اقرار کراتے ہوئے فرمایا (اَلَمْ نَجْعَلْ لَّهٗ عَيْنَيْنِ ۔ وَلِسَانًا وَّشَفَتَيْنِ ) کیا ہم نے اسے دو آنکھیں، زبان اور دو ہونٹ نہیں دیے ؟ یعنی یہ چیزیں حسن و جمال، دیکھنے، بولنے اور دیگر ضروری فوائد کے لیے عطا کیں یہ تو دنیا کی نعمتیں پھر دین کی نعمتوں کے بارے میں فرمایا (وَهَدَيْنٰهُ النَّجْدَيْنِ ) یعنی ہم نے اسے خیر وشر کے راستے دکھائے اور اس کے سامنے ہدایت اور گمراہی کو واضح کردیا پس یہ بےپایاں احسانات ہیں جو بندے سے تقاضا کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حقوق کو قائم کرے اس کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرے اور ان نعمتوں سے اس کی نافرمانیوں میں مدد نہ لے مگر اس انسان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 9–10

(10) زبان اور ہونٹوں کی نعمت اور اس کے تقاضوں کی تزکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا ہم نے اس کو زبان اور دو ہونٹ نہیں عطا کیے ؟ جو کہ قدرت کی عظیم الشان نعمتوں میں سے ہیں، تاکہ ان کے ذریعے انسان بول سکے، اظھار ما فی الضمیر کرسکے، اور ان کے ذریعے یہ اپنے خالق ومالک کو یاد کرے اور اسی واہب مطلق جل وعلا شانہ کے گن گائے اور زمزمہ حق و صداقت کی نغمہ سرائی کرے، تاکہ یہ اپنی آنکھوں سے جو کچھ دیکھے اور محسوس کرے، اس کے تقاضوں پر خود بھی عمل کرے اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم و تلقین کرے، تاکہ اس کی تشویش و ترغیب سے دوسروں کے اندر بھی وہ نیکی پھیلے، اور سب کا بھلا ہو، اور خیر و برکت کا دور…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–20

مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–20

سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 7–9

ف 17 مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے تمام کرتوت دیکھ رہا ہے۔ اس کی سزا سے بچ کر وہ کہیں نہیں جاسکتا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 8–9

(90:8-9) الم نجعل لہ عینین ولسانا وشفتین۔ (کیا ہم نے نہیں بنائیں اس کے لئے دو آنکھیں اور ایک زبان دو ہونٹ) ۔ لہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب ۔ یرہ کی طرح یا عام انسان کی طرف راجع ہے یا ابوالاشد کی طرف۔ الم نجعل استفہام تقریری ہے۔ یعنی ہم نے بنائی ہیں (اس کے لئے) عینین مفعول لہ متعلق نجعل۔ لسانا وشفتین دونوں کا عطف عینین پر ہے۔ آنکھیں انسان کے لئے خارج کے محسوسات و مدرکات کے باب میں سب سے بڑی نعمت ہیں۔ اور زبان اور ہونٹ مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہیں شاید اسی لئے یہی تین نعمتیں نام کی صراحت کے ساتھ یہاں بیان ہوئیں۔ (تفسیر ماجدی) ان نعمتوں کے فائدے یوں بیان کئے گئے ہیں :۔ بغوی نے لکھا ہے کہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–20

لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 5–20

غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 9–10

[7] دو آنکھوں سے مراد جانوروں کی آنکھیں نہیں ہیں بلکہ انسانی آنکھیں ہیں جنہیں آدمی کھول کر دیکھے تو اسے وہ نشانات نظر آئیں گے جو صحیح و غلط کا فرق سمجھاتے ہیں۔ زبان اور ہونٹوں سے مراد محض بولنے کے آلات نہیں ہیں بلکہ وہ مافی الضمیر کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ زبان کے ساتھ ہونٹوں کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ اگر ہونٹ نہ ہوں تو زبان اپنا کام انجام نہ دے سکے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–14

حیات انسانی 2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا اس کو زبان اور دو ہونٹ نہیں دیئے 9 ؎ فرمایا فقط آنکھوں ہی پر اکتفا نہیں بلکہ اس کو دو ہونٹ اور ایک زبان بھی عطا کی تاکہ وہ اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکتے اگر اس کو یہ ہونٹ اور زبان عطا نہ کیے جاتے تو وہ غور کرلے کہ وہ کیا ہوتا اور اس کی زندگی کا کیا لطف ہوتا ؟ لیکن ذرا یہ تو بتا دے کہ یہ جو اس کو زبان دی گئی اور دو ہونٹ عطا کیے گئے کیا اس نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام سے ان کی طلب کی تھی کہ اے اللہ مجھے ایک زبان اور دو ہونٹ عطا فرما دے تاکہ میں اپنی بات دوسروں تک پہنچا سکوں پھر اگر اس کو بغیر مانگے اور بغیر طلب کے یہ سب کچھ دیا گیا ہے تو وہ کتنا غبی اور کتنا ناسمجھ ہے اور بیوقوف ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–10

أَلَمْ نَجْعَل لَّهُ عَيْنَيْنِ ﴿8﴾ وَلِسَانًا وَشَفَتَيْنِ ﴿9﴾ وَهَدَيْنَاهُ النَّجْدَيْنِ ﴿10﴾ (Did We not make for him two eyes, and a tongue and two lips, and showed him the two ways?...90:8-10) The word najdain is the dual form of najd which means an elevated or conspicuous road. The word najdain signifies the two high and conspicuous ways of good and evil, or of success and destruction. The preceding verse pointed out the ignorance and heedlessness of man. He thinks that Allah has no power over him, and that there is no one watching over his actions. The current verse mentions a few of…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

9 That is, ""Have We not given him the means of obtaining knowledge and wisdom '?" "Two eyes" dces not imply the eyes of the cow and buffalo, but human eyes, which if used intelligently can help man see aII around himself those signs which lead to the reality and distinguish the right from the wrongs. "The tongue and lips" do not merely imply the instruments of speech but the rational wind behind these instruments which performs the functions of thinking and understanding and then uses them for expressing its ideas, motives and designs.

Read the full tafseer →