فَكُّ رَقَبَةٍ ۟ۙفَكُّ رَقَبَةٍ
کسی (کی) گردن کا چھڑانا
— Fateh Muhammad Jalandhari
It is the freeing of a slave
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
فَكُّ رَقَبَةٍ ۟ۙفَكُّ رَقَبَةٍ
کسی (کی) گردن کا چھڑانا
— Fateh Muhammad Jalandhari
It is the freeing of a slave
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 15 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Balad
کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا
کسی (کی) گردن کا چھڑانا
کسی گردن (غلام لونڈی) کو آزاد کرنا
کسی کی گردن (غلامی سے) چھڑا دینا ہے۔
کسی بندے کی گردن چھڑانا
وہ (غلامی و محکومی کی زندگی سے) کسی گردن کا آزاد کرانا ہے،
(وہ) گردن چھڑانا ہے۔
وہ ہے کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا
گردن کو چھڑانا
وہ چھڑا دینا ہے کسی گردن کو (غلامی کے بندھن سے)
وہ گردن کا چھڑانا ہے
کسی گردن کا چھڑا دینا۔
کسی کی گردن کا چھڑانا۔
It is freeing someone's neck from slavery;
(It is) freeing of the neck of a slave,
(It is) freeing of the neck of a slave,
Freeing a neck
(It is) to free a slave,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
It is the freeing of a slave
It is the setting free of a slave
(It is) the setting free of a slave,
It is freeing the neck,
(It is:) freeing the bondman;
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 11–20
صدقات اور اعمال صالحہ جہنم سے نجات کے ضامن ہیں : حضرت ابن عمر فرماتے ہیں عقبہ جہنم کے ایک پھسلنے پہاڑ کا نام ہے حضرت کعب احبار فرماتے ہیں اس کے جہنم میں ستر درجے ہیں قتادہ فرماتے ہیں کہ یہ داخلے کی سخت گھاٹی ہے اس میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے داخل ہوجاؤ پھر اسکا داخلہ بتایا یہ کہہ کر کہ تمہیں کس نے بتایا کہ یہ گھاٹی کیا ہے ؟ تو فرمایا غلام آزاد کرنا اور اللہ کے نام کھانا دینا ابن زید فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ یہ نجات اور خیر کی راہوں میں کیوں نہ چلا ؟ پھر ہمیں تنبیہ کی اور فرمایا تم کیا جانو عقبہ کیا ہے ؟ آزادگی گردن یا صدقہ طعام فک رقبتہ جو اضافت کے ساتھ ہے اسے فک رقبتہ بھی پڑھا گیا یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
سورة الْبَلَد 11 اصل الفاظ ہیں " فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ " اقتحام کے معنی ہیں اپنے آپ کو کسی سخت اور مشقت طلب کام میں ڈالنا۔ اور عقبہ اس دشوار گزار راستے کو کہتے ہیں جو بلندی پر جانے کے لیے پہاڑوں میں سے گزرتا ہے۔ پس آیت کا مطلب یہ ہے کہ دو راستے جو ہم نے اسے دکھائے ان میں سے ایک بلندی کی طرف جاتا ہے مگر مشقت طلب اور دشوار گزار ہے۔ اس میں آدمی کو اپنے نفس اور اس کی خواہشوں سے اور شیطان کی ترغیبات سے لڑ کر چلنا پڑتا ہے۔ اور دوسرا آسان راستہ ہے جو کھڑوں میں اترتا ہے، مگر اس سے پستی کی طرف جانے کے لیے کسی محنت کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ بس اپنے نفس کی باگیں ڈھیلی چھوڑ دینا کافی ہے، پھر آدمی خود…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فلا اقتحم العقبة۔ وما ادرک مالعقبة۔ فل رقبة، عقبہ پہاڑ کی بڑی چٹان کو بھی کہتے ہیں اور دو پہاڑوں کے درمیانی راستہ کو یعنی گھاٹی کو بھی اور دشمن سے نجات حاصل کرنے میں عقبہ انسان کی مدد کرتا ہے کہ پہاڑ کے اوپر چڑھ کر دشمن سے اپنے کو بچا لے یا پھر گھاٹی میں داخل ہو کر یہاں سے نکل جائے۔ اس جگہ طاعات و عبادات کو ایک عقبہ سے تعبیر فرمایا ہے کہ جس طرح دشمن سے نجات دلانیکا سبب ہوتا ہے اعمال صالحہ آخرت کے عذاب سے نجات کا ذریعہ بنتے ہیں پھر ان اعمال صحالہ میں پہلے فک رقبة فرمایا، یعنی کسی غلام کو آزاد کرنا بکہ بہت بڑی عبادت اور ایک انسان کی زندگی کو بنادینا ہے۔ دوسری چیز اواطعم بیان فرمائی کہ بھوکے کو…
Read the full tafseer →غلاموں کی آزادی اسلام کی سرفہرست نیکیوں میں ہے: اس سلسلہ میں سب سے پہلے ’فَکُّ رَقَبَۃٍ‘ (گردن آزاد کرنے) یعنی غلام آزاد کرنے کا ذکر فرمایا۔ یہاں وہ بات پیش نظر رکھیے جس کی طرف ہم تمہیدی بحث میں اشارہ کر چکے ہیں کہ یہ سورتیں بالکل ابتدائی دور کی ہیں اس وجہ سے ان میں اہل عرب سے خطاب بھی بیشتر لفظ ’انسان‘ سے ہوا ہے اور جن باتوں کے ان سے مطالبے کیے گئے ہیں وہ بھی تمام تر انسانیت اور فطرت کے بدیہی تقاضوں پر مبنی ہیں۔ غلاموں کو آزاد کرنا اور کرانا بھی ان نیکیوں میں سے ہے جن کے نیکی ہونے میں کسی معقول آدمی کو شک نہیں ہو سکتا۔ اہل عرب بھی اس کو ایک نہایت اعلیٰ نیکی کا کام سمجھتے رہے ہیں قرآن نے اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
11۔ 1 عقبہ گھاٹی کو کہتے ہیں یعنی وہ راستہ جو پہاڑ میں ہو یہ عام طور پر نہایت دشوار گزار ہوتا ہے۔ یہ جملہ یہاں استفہام بمعنی انکار کے مفہوم میں ہے یعنی (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ 11ڮ) 90۔ البلد :11) کیا وہ گھاٹی میں داخل نہیں ہوا ؟ مطلب ہے نہیں ہوا۔ یہ ایک مثال ہے اس محنت و مشقت کی وضاحت کے لئے جو نیکی کے کاموں کے لئے ایک انسان کو شیطان کے وسوسوں اور تقاضوں کے خلاف کرنی پڑتی ہے، جیسے گھاٹی پر چڑھنے کے لئے سخت جدو جہد کی ضرورت ہوتی ہے (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–18
8: یہ ”اصحب المیمنہ“ کا ترجمہ ہے، اور اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ دائیں ہاتھ والے ہیں“ اور ان سے مراد وہ نیک لوگ ہیں جن کا اعمال نامہ دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
پھر اس گھاٹی کی عظمت اور بڑائی بیان کرنے کے لئے سوال وما ادرک ما العقبة (12:90) ” تم کیا جانو کہ وہ دشوار گزار گھاٹی کیا ہے “۔ یہ سوال اس لئے نہیں ہے کہ وہ گھاٹی کوئی بہت ضخیم ہے اور ناقابل عبور ہے ، مطلب یہ ہے کہ یہ بہت اہم ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کو عبور کرنا ضروری ہے تاکہ انسان جرات کرکے گھس جائے اور جست لگادے۔ اگرچہ اس کی راہ میں مشکلات حائل ہوں ، کیونکہ محنت اور مشقت کے بغیر تو کوئی کام بھی نہیں ہوتا اور اگر کوئی یہ مشقت برداشت کرے گا تو اسے ضرور اس کا ثمرہ مل جائے گا اور اس کی تکالیف کا صلہ اس کے سامنے ہوگا ، اور اس کا کوئی عمل ضائع نہ ہوگا اور یہ کام ہر حال میں ہونے والا ہے۔ یہ دشوارگزار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
4 یعنی غلام آزاد کرنا یا قرضدار کی گردن قرض سے چھڑوانا۔
Read the full tafseer →آیت 13{ فَکُّ رَقَـبَۃٍ۔ } ”کسی گردن کا چھڑا دینا۔“ یعنی مال خرچ کر کے کسی غلام کو آزاد کرا دینا ‘ یا کسی مقروض کا قرض ادا کردینا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–15
10 یہ گھاٹی دراصل اخلاقی بلندیاں ہیں اور ان پر چڑھنے کا راستہ دشوار گزار اس لحاظ سے ہے کہ ایسے راستے عموماً انسان کی خواہش کے خلاف اور طبیعت کے لئے ناگوار اور گرانبار ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–16
9۔ قرآن مجید نے اپنے لائے ہوئے لفظ (آیت) ” العقبۃ “۔ کی یہ خود تفسیر کردی یعنی دین کے کاموں سے مراد اس قسم کے کام ہیں، :۔ غلاموں کو آزاد کرنا، قحط وگرانی کے زمانہ میں بھوکوں کو کھانا کھلانا، یتیموں کی خدمت کرنا، محتاجوں کی خبر لینا، مکی سورتیں اس قسم کے اخلاق احکام کی تاکید و تفصیل سے بھری پڑی ہے۔ (آیت) ” مسغبۃ “۔ سغب کے معنی میں، اور مقربۃ قرابت کے معنی میں اور (آیت) ” متربۃ “۔ فقر کے معنی میں، تینوں، مصدر میمی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–20
لقد خلقنا الانسان فی کبد یعنی انسان کی زندگی محنت و مشقت اور شوائد سے معمور ہے، یہ جواب قسم ہے۔ او اطعام فی یوم ذی مسغبۃ مسغبۃ بھوک اور ذی مسغبۃ بھوک والے دن اور دامتربۃ (مٹی والا) یعنی وہ شخص جو فقر و غربت کی وجہ سے زمین پر پڑا رہتا ہو، اس کا گھر بار کچھ نہ ہو، مطلب یہ ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنا کسی بھوکے کو رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلانا یہ دشوار گزار گھاٹی میں داخل ہونا ہے جس کے ذریعہ انسان جہنم سے بچ کر جنت میں جا پہنچے گا یتیم کی کفالت ویسے بھی بڑے اجر کا کام ہے اور اگر وہ رشتہ دار بھی ہو تو اس کی کفالت کا اجر بھی دگنا ہے ایک صدقہ کا اور دوسرا صلہ رحمی کا اسی طرح غلام آزاد کرنے کی بھی…
Read the full tafseer →فک رقبۃ . فَکُّ رَقَبَۃٍ : گلو خلاصی۔ عام ہے۔ پورا غلام آزاد کرنا ‘ یا قیمت دے کر آزاد کروانا ‘ یا مکاتب کی مدد کرنا یا کسی غلام کی اگر کچھ آزادی باقی ہو تو بقدر آزادی روپیہ سے اس کی مدد کرنا ‘ سب کو یہ لفظ شامل ہے۔ حضرت براء بن عازب کی روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا : مجھے کوئی ایسا عمل بتا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ ارشاد فرمایا : تو نے اگرچہ لفظ چھوٹا بولا مگر درخواست لمبی چوڑی کی۔ بردہ آزاد کر اور گلو خلاصی کر۔ اعرابی نے عرض کیا ‘ کیا یہ دونوں چیزیں ایک ہی نہیں ہیں ؟ فرمایا : نہیں ‘ بردہ آزاد کرنا یہ ہے کہ تم تنہا پورا بردہ آزاد کرو اور گلو خلاصی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
(11۔ 16) کیا اس قوت کے دعویدار نے پل صراط کی گھاٹی کو عبور کیا ہے اور یہ گھاٹی جنت و دوزخ کے درمیان ہے اور اس گھاٹی کو کوئی عبور نہیں کرسکتا مگر وہ شخص جو کہ گردن کو غلامی سے چھڑا دے، یا فاقہ کے دن میں کسی رشتہ دار یتیم کو کھانا کھلا دے، یا کسی خاک نشین محتاج کو جس کے پاس کچھ نہ ہو کھانا کھلا دے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
وما ادریک ما العقبۃ…: مال دار کے لئے بلندیوں پر لے جانے والا مشکل راستہ کیا ہے ؟ وہ گردن چھڑانا ہے، کیونکہ غلامی سے بڑی ذلت کوئی نہیں اور آزادی دلانے سے بڑھ کر کسی کے ساتھ کو ئح سن سلوک نہیں۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، (لا یجزی ولد والدا الا ان یجدہ مملوکا فیشتریہ فیعتقہ) (مسلم ، العتق، باب فضل عتق الوالد : 1510)”کوئی اولاد اپنے والد کا بدلا نہیں دے سکتی سوائے اس کے کہ اسے غلامی کی حالت میں پائے اور خرید کر اسے آزاد کر دے۔“ گردن چھڑانے کی ایک اور فضیلت بھی ہے۔ ابوہیرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(من اعتق رقبہ مومنۃ اعتق اللہ بکل عضو منہ عضوا من النار حتی…
Read the full tafseer →فک رقبہ۔ اس میں تین مسائل ہیں۔ فک رقبہ کی تشریح۔ مسئلہ نمبر 1۔ فک رقبۃ۔ کا معنی ہے اسے قید سے آزاد کرنا ایک قول ہے اسے غلامی سے آزاد کرنا حدیث میں ہے فک رقبۃ کا معنی ہے تو اس کی قیمت میں اس کی مدد کرے پھر حضرت براء کی حدیث ہے سورة براء میں پہلے گزرچکا ہے، فک سے مراد قید کو کھول دینا ہے اور غلامی بھی ایک قید ہے غلام کو رقبہ کہتے ہیں کیونکہ وہ غلامی کے ساتھ اس قیدی کی طرح ہے جس کی گردن میں رسی بندھی ہوئی ہو اس کی آزادی کو فک کا نام دیاجس طرح توقیدی کو قید سے آزاد کرے تو اسے فک سے تعبیر کرتے ہیں، حضرت حسان نے کہا، کم من اسیر فککناہ بلاثمن۔ کتنے ہی قیدی ہیں جن کو ہم نے قیمت کے بغیر آزاد کیا۔ عقبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
1۔ ابن ابی شیبہ وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلاقتحم العقبۃ۔ پس وہ دین کی گھاٹی میں سے نہ ہو کر نکلا سے جہنم میں ایک پہاڑ مراد ہے۔ 2۔ ابن جریر نے حسن ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عقبہ سے آگ مراد ہے۔ 4۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کے لیے جنت کے قریب ایک گھاٹی ہے اور اس میں داخل ہونا غلامی سے گردن کو چھڑانا ہے۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابو رجاء رحمۃ اللہ سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ وہ گھاٹی جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ذکر فرمایا کہ اس کی چڑھائی سات ہزار سال کی ہے اور اس…
Read the full tafseer →[فَكُّ رَقَبَةٍ : (وہ) کسی گردن کا چھڑانا ہے ] (آیت۔ 13) فَکُّ رَقَبَۃٍ مرکب اضافی ہے اور خبر ہے۔ اس کا مبتدا ھِیَ محذوف ہے (آیات۔ 14 تا 16) اِطْعَامٌ مصدر ہے۔ اس نے فعل کا کام کیا ہے اور یَتِیْمًا اور مِسْکیْنًا کو نصب دی ہے۔ (دیکھیں آیت۔ 3/ 54، نوٹ۔ 1) ۔ (آیت۔ 20) نَارٌ نکرہ مخصوصہ ہے اور مُؤْصَدَہٌ اس کی خصوصیت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
ایمان قبول کرنے کے بعد بہت سے تقاضے پورے کرنا لازم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر بھی نفس کو آمادہ کرنا پڑتا ہے اور مخلوق کے بھی حقوق ادا کرنے ہوتے ہیں ان میں حقوق واجبہ بھی ہوتے ہیں اور مستحب چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ اس بارے میں فرمایا کہ انسان اس گھاٹی سے کیوں نہ گزرا جس میں نفس پر قابو پایا جاتا ہے پھر تفخیم شان کے لیے فرمایا کیا آپ جانتے ہیں کہ وہ کیا گھاٹی ہے ؟ پھر بطور مثال تین چیزیں ذکر فرمائیں : 1 ﴿ فَكُّ رَقَبَةٍۙ0013﴾ (گردن کا چھڑانا) یعنی اللہ کی رضا کے لیے غلام اور باندی کا آزاد کرنا یہ آزاد کرنا کفارات واجبہ میں بھی ہوتا ہے اور مستحب بھی ہوتا ہے جس میں ایک صورت مکاتب بنانے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
انقسام عمل درخیر وشر مع بیان عظمت مہبط وحی و سرچشمہ ہدایت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” لااقسم بھذا البلد ........ الی .......... نار مؤصدۃ “۔ (ربط) سورة الفجر میں پانچ اہم اور عظیم امور کی قسم کھا کر ہر صاحب عقل اور فہم کو اس امر کی دعوت دی گئی تھی کہ وہ عقل اور فطرت کی روشنی میں خداوند عالم کی عظمت وقدرت کو پہچانے اس کی خالقیت و ربوبیت پر ایمان لائے یہی چیز انسان کو فلاح وسعادت کے مقام تک پہنچانے والی ہے، اور جو قومیں عقل و فطرت کی ان صلاحیتوں کو ضائع کرکے سرکشی اور نافرمانی پر ڈٹی رہیں جیسے قوم عاد وثمود اور فرعون تا ریخ میں ان کا عبرت ناک انجام بھی دنیا کے سامنے آچکا تو اس سورت میں سرزمین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
7:۔ ” فک رقبۃ “ یہ العبقۃ کا بیان ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ان صحیح مصرفوں میں مال خرچ کرنے کی مشقت اٹھاؤ نجات پاؤ گے اور مسکینوں کو کھانا کھلانا یہ ہے وہ گھاٹی جس پر چڑھنے سے ان کو نجات ملے گی اور یہ ہیں خرچ کرنے کے صحیح مصارف جن پر خرچ کرنے سے ان کو ثواب ملے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
گزشتہ سے پیوستہ ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو چیزوں کی قسم اٹھا کر بیان فرمایا ہے کہ انسان مشقت میں پیدا کیا گیا ہے اور انسان کے مکلف ہونے کے لئے مشقت کا ہونا ضروری ہے انسان خیال کرتا ہے کہ وہ ہمیشہ آزاد رہے گا اور اس پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مرضی سے فضول باتوں پر مال خرچ کرتا ہے اور پھر توقع یہ رکھتا ہے کہ آرام و چین نصیب ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ بات بالکط غلط ہے۔ اللہ قادر مطلق ہے۔ اس نے انسان کو مشقت کی حالت میں پیدا کیا ہے۔ دنیا میں کوئی شخص اس سے مستثنیٰ نہیں ہو سکتا۔ انبیاء (علیہم السلام) کی جماعت انسانیت کے درجہ کمال پر ہوتی ہے۔ مگر انہوں نے بھی کس قدر تکالیف…
Read the full tafseer →فَكُّ رَقَبَۃٍ 13 ۙ فكك الفَكَكُ : التّفریج، وفَكُّ الرّهن : تخلیصه، وفَكُّ الرّقبة : عتقها . وقوله : فَكُّ رَقَبَةٍ [ البلد/ 13] ، قيل : هو عتق المملوک وقیل : بل هو عتق الإنسان نفسه من عذاب اللہ بالکلم الطيّب والعمل الصّالح، وفكّ غيره بما يفيده من ذلك، والثاني يحصل للإنسان بعد حصول الأوّل، فإنّ من لم يهتد فلیس في قوّته أن يهدي كما بيّنت في ( مکارم الشّريعة) والفَكَكُ : انفراج المنکب عن مفصله ضعفا، والْفَكَّانِ : ملتقی الشّدقین . وقوله : لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتابِ وَالْمُشْرِكِينَ مُنْفَكِّينَ [ البینة/ 1] ، أي : لم يکونوا متفرّقين بل کانوا کلّهم علی الضّلال، کقوله…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
ترکیب ¦ الم نجعل الاستفہام للتقریر الجعل بمعنی الفعل فعینین مفعول لہ متعلق بنجعل ولسانا وشفتین معطوفان علی العینین النجدین مفعول ثان لھدینا والضمیر المنصوب مفعول اول۔ قال اھل العربیۃ النجدا لطریق فی الارتفاع فکانہ لما وضحت الدلائل جعلت کالطریق المرتفعۃ العالیۃ بسبب انھا واضحۃ للعقول کو ضوح الطریق العالی للابصار فالمراد بھما عند عامۃ المفسرین سبیلا الخیر والشروعن ابن عباس وعکرمۃ و سعید بن المسیب والضحاک النجدان الثدیان فھدی اللہ سبحانہ فی بدء الولادۃ الطفل الثدین فلا اقتحم لا حرف التخضیض والاقتحام الدخول فی الامر الشدید یقال قحم یقحم قحوما واقتحم اقتحا و تقحم تقحما اذا رکب القحم وھی المھالک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–16
فَکُّ رَقَـبَۃٍ ۔ اَوْ اِطْعٰـمٌ فِیْ یَوْمٍ ذِیْ مَسْغَبَۃٍ ۔ یَّتِیْمًا ذَا مَقْرَبَۃٍ ۔ اَوْمِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ ۔ (البلد : 13 تا 16) (غلامی سے گردن چھڑانا۔ یا کھانا کھلانا بھوک کے دن میں۔ کسی قریبی یتیم کو۔ یا خاک نشین مسکین کو۔ ) چند مشکل الفاظ : مَسْغَبَۃٍ مصدر میمی ہے سَغَبَ سے۔ یہ لفظ عام بھوک پر بھی بولا جاتا ہے لیکن امام راغب نے اس کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے ہُوَالْجُوْعُ مِنَ التَّعَبِ بھوک اور تھکن دونوں کے مجموعے کو مَسْغَبَۃٍ کہتے ہیں۔ یعنی ایسے دنوں میں کھانا کھلانا جب ہر طرف قحط کا دور دورہ ہو۔ مِسْکِیْنًا ذَا مَتْرَبَۃٍ … مَتْرَبَۃٍ بھی مصدر میمی ہے۔ یعنی جب وہ اتنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–16
فہم القرآن ربط کلام : جس شخص کا یہ خیال ہے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے نہیں دیکھتا اسے اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ” اللہ تعالیٰ “ اسے اس وقت سے دیکھ رہا ہے کہ جب اس کے رحم مادر میں نقش ونگار بنائے جا رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ کیا انسان اس پر پر غور نہیں کر تاکہ ہم نے اسے دو آنکھیں، ایک زبان اور دوہونٹ عطا کیے ہیں اور ہم نے اسے دوراستے دکھائے ہیں مگر اس نے مشکل گھاٹی سے گزرنے کی کوشش نہیں کی۔ آپ کیا سمجھیں کہ مشکل گھاٹی کیا ہے ؟ مشکل گھاٹی یہ ہے کہ کسی کی گردن کو غلامی سے چھڑایا جائے، کسی قرابت دار فاقہ مست اور خاک نشین، یتیم یا مسکین کو بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں…
Read the full tafseer →13 : فَکُّ رَقَبَۃٍ (وہ کسی گردن کا چھڑانا ہے)
Read the full tafseer →13 ۔” فک رقبۃ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–20
11۔ 20۔ عقبہ پہاڑ کی اس گھاٹی کو کہتے ہیں جس سے گزر مشکل ہو اوراقتحام کسی کام میں جان بوجھ کر پڑنے کو کہتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ نیک کام کرنا ایسا مشکل ہے جس طرح کسی دشوار گزار گھاٹی سے گزر مشکل سے ہوتا ہے ‘ اس کے بعد نیک کاموں کے غلام کے آزاد کرنے اور بھوکے کو کھانا کھلانے کو مثال کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ صحیح 1 ؎ حدیثوں کے مطابق مطلب ہے کہ غلام کے آزاد کرنے میں غلام کے ہاتھ پائوں اسی طرح ہر ایک عضو کی آزادی کا یہ اجر ہے کہ آزاد کرنے والے شخص کے سب اعضا دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں اسی طرح بھوکے کو کھلانے کا اجر ہے۔ صحیح 2 ؎ حدیث میں کے کہ اطعموا الطعام تدخلوا الجنۃ بسلام۔ جس کا مطلب یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–13
پھر گھاتی کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا ( وَمَآ اَدْرٰىكَ مَا الْعَقَبَةُ ۔ فَكُّ رَقَبَةٍ 13ۙ ) اور آپ کو کیا معلوم، گھاٹی کیا ہے ؟ کسی گردن کا چھڑانا۔ یعنی کسی غلام کو غلامی سے آزاد کرنا، یا مکاتبت کی رقم ادائیگی میں مکاتب کی مدد کرنا۔ اور افضل یہ ہے کہ اس مسلمان قیدی کو چھڑایا جائے جو کفار کی قید میں ہے۔
Read the full tafseer →مکاتب کو صدقات سے مال دینا قول باری ہے (فک رقبۃ ۔ کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا) مروی ہے کہ حضور ﷺ سے ایک شخص نے عرض کیا کہ مجھے کوئی ایسا عمل سکھا دیجئے جو مجھے جنت میں لے جائے۔ آپ نے فرمایا (اعتق النسمۃ وفک الرقبۃ۔ جان کو آزاد کرو اور گردن چھڑائو) ۔ اس شخص نے عرض کیا۔ اللہ کے رسول ! کیا یہ دونوں باتیں ایک نہیں ہیں ؟ “ آپ نے فرمایا (لا عتق النسمۃ ان تنفرد بعتقھا وفک الرقیۃ ان تعین فی ثمنھا۔ نہیں یہ دونوں باتیں ایک نہیں ہیں۔ جان آزاد کرنا یہ ہے کہ تم تنہا کسی کو آزاد کردو اور گردن چھڑانا یہ ہے کہ تم اس کی قیمت کی ادائیگی میں مدد کرو۔ ) ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت مکاتب کو صدقات میں سے دینے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
(12) انسان کی دون ہمتی کی شکایت کا ذکر وبیان : سو انسان کی دون ہمتی کی شکایت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے ہمت نہ کی اس دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی، جو سدا بہار بلندیوں اور حقیقی عظمتوں سے ہم کنار کرنے والی ایک عظیم الشان گھاٹی ہے اور ایسی عظیم الشان گھاٹی جو اس مشت خاک یعنی انسان ضعیف کو رشک ملائک بنا دینے والے گھاٹی ہے۔ " عقبہ " کے معنی گھاٹی کے ہیں اور " اقتحام " کے معنی چڑھائی چڑھنے یا کوئی مشکل کام کرنے کے ہیں، یہاں پر اس ارشاد سے نیکی کے ان کاموں کی طرف اشارہ ہے جو ہمدردی خلق اور بندگی رب کے اعلی کام ہیں، اور جن کی مثالیں آگے مذکور ہیں، ان کاموں کے انجام دینے میں چونکہ انسان کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
مکہ شہر اور آدم (علیہ السلام) کی قسم انسان کے بڑے فرائض ہیں تشریح : شروع میں نہیں کا لفظ اس لیے آیا کہ کفار مکہ جو آخرت سے انکار کر رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کو جھٹلا رہے ہیں تو ان کو خوب اچھی طرح علم ہونا چاہیے کہ انسان کھیل تماشے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا بلکہ اس کو بہت سی ذمہ داریاں دیکر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے یعنی یہ زندگی پوری کی پوری امتحانی دور پر مبنی ہے اور اس بات میں زور پیدا کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ حرمت والے شہر اور اشرف المخلوقات آدم (علیہ السلام) و اولاد آدم یعنی انسان جو کہ نائب اللہ بھی ہے۔ کی قسم کھا کر یہ بات بتا رہے ہیں۔ قسم ایسی ہی چیز کی کھائی جاتی ہے جو عام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
سورة البلد۔ آیات 1 تا 20۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے اس شہر عظیم کی یعنی اس شہر کا تقدس جو بنائے کعبہ کے باعث تھا اور کفار ومشرکین بھی اس کی عظمت کے قائل تھے جو آپ کے یہاں تشریف فرما ہونے سے دو بالا ہوگیا اس کی ساری عظمت بھی تو اللہ کی عظمت پہ گواہ ہے مفسرین نے اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ یہ حرمت والاشہر عنقریب آپ کے لیے کفار کے ساتھ جنگ کرنے کو حلال کردیاجائے گا گویا فتح مکہ کی خوش خبری بھی ہے اور خود آدم (علیہ السلام) اور ان کی ساری اولاد ، تمام انسانوں کی پیدائش سے موت تک کی زندگی ، اس بات پر گواہ ہے کہ انسان تخلیقی طور پر محنت ومشقت کرنے پر مجبور ہے اس کی زندگی کا کوئی لمحہ مشقت سے خالی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–14
ف 3 یعنی غلام آزاد کرنا یا کسی قرضدار کی گردن قرض سے آزاد کرانا۔ احادیث میں گردن آزاد کرنے کی فضیلت مذکور ہے۔ (فتح القدر)
Read the full tafseer →(90:13) فک رقبۃ۔ ای ہی فک رقبۃ۔ فک (باب نصر سے) مصدر ہے بمعنی چھڑا دینا۔ آزاد کرنا۔ مضاف۔ رقبۃ مضاف الیہ۔ کسی گردن کا آزاد کرنا۔ غلام کو آزاد کرنا۔ یا قیمت دے کر آزاد کرانا۔ رقبۃ۔ گردن۔ غلام۔ باندی۔ اس کے اصل معنی گردن کے ہیں پھر اس کو بول کر انسان مراد لیا جانے لگا۔ پھر عرف عام میں غلام کا نام پڑگیا۔ جیسا کہ رأس اور ظھر بول کر مرکوب (جس پر سواری کی جائے) اور سواری مراد لی جاتی ہے۔ مطلب یہ کہ عقبۃ غلام آزاد کرانے کو کہتے ہیں۔ غلام آزاد کرنا۔ یتیم اور مسکین کو کھانا کھلانا۔ عقبۃ کی تفسیر ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–20
لغات القرآن۔ ھذا البلد۔ یہ شہر۔ (مکہ مکرمہ) ۔ حل۔ حلال ہے۔ کبد۔ مشقت۔ مصیبت۔ اھلکت۔ میں نے خرچ کیا ہے۔ مالا لبدا۔ ڈھیروں مال۔ عینین۔ دو آنکھیں۔ شفتین۔ دو ہونت۔ النجدین۔ دو راستے۔ اقتحم۔ وہ داخل ہوگیا۔ العقبۃ۔ گھاٹی۔ فک رقبۃ۔ گردن چھڑانا۔ (غلاموں کو آزاد کرنا) ۔ ذی مسغبۃ۔ بھوکا۔ بھوک والا۔ ذا مقربۃ۔ رشتہ دار۔ ذامتربۃ۔ جو خاک میں مل جانے والا ہے۔ نارموصدۃ۔ آگ جو اوپر سے بند کی گئی ہے۔ تشریح : سورت بلند کا مفہوم اور خلاصہ یہ ہے۔ اس سورت میں اللہ نے ” بلد “ یعنی مکہ مکرمہ کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ کو اس شہر میں قتال کرنا حلال ہونیوالا ہے۔ باپ اور اولاد یعنی حضرت آدم (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–20
غریبوں کے ساتھ سلوک کرنا۔ (ف 4) شان نزول۔ تفسیر کلبی میں لکھا ہیی کہ مشرکین مکہ میں ایک شخص ابوالاشد بڑا شہ زور تھا اور اس کی طاقت کا یہ عالم تھا کہ اونٹ کی کھال پاؤں کے نیچے بالیتا تھا دس دس آدمی اس کھال کو کھینچنے تھے کھال پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے اڑ جاتی تھی مگر جتنا اس کے پاؤں کے نیچے ہوتا ہرگز نہ نکل سکتا تھا، یہ شخص نبی ﷺ سے بڑی عداوت رکھتا تھا اور حضور کی عداوت میں لوگوں کو رشوتیں دے دے کر حضور کو آزار پہنچائیں ، اسی شخص کی شان میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اور فرمایا کہ وہ یہ سمجھتا ہے کہ کوئی ہستی ایسی نہیں جو اس پر قابو پاسکے اور اس سرکشی کی سزا دے سکے، حضور کی عداوت میں یو ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–14
[8] یعنی اس قدر انعامات کی بارش اور اسباب ہدایت کی موجودگی میں اسے توفیق نہ ہوئی کہ دین کی گھاٹی پر آ دھمکتا۔ دین کو گھاٹی اس لئے کہا کہ اس کے راستے پر چلنا نفس پر شاق گزرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–14
حیات انسانی 2: سورة البلد میں تین چیزوں کبو بطور استشہاد کے پیش فرمایا ۔ ہے اور ثابت کیا ہے کہ انسانی زندگی مسلسل مصائب اور سختیوں کا نام ہے ۔ ایک مکہ کی پوری تاریخ کہ کیونکہ اللہ کے ایک بندے نہ پریشانی اور اضطراب کے عالم میں یہاں اپنی اولاد کو بسایا اور اس غیر آباد زمین میں ایک معبد کی بنیاد رکھی ۔ اور پھر وہ جگہ کس درجہ مقبول ہوئی ۔ دوسرے آپ کا اس شہر میں فاتحانہ داخلہ اور تیسرے آدم اور بنی آدم کی ساری زندگی ، ان واقعات کو دیکھئے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ حیات انسانی ، تعبیر ہے محنت وجانفشانی سے ، تگ ودو اور سعی سے ، دوڑ دھوپ اور کوشش سے ، اور وہی لوگ دنیا میں کامیابی اور کامرانی سے زندگی بسر…
Read the full tafseer →(13) وہ کسی کی گردن کو بندگی کی قید سے آزاد کردینا اور چھڑا دینا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 12–17
ف 7۔ ایمان تو سب سے مقدم ہے پھر امر بالثبات علی الایمان اوروں سے افضل ہے، پھر ترک اضرار بقیہ سے اہم ہے، پھر ان اعمال کا رتبہ ہے جو فک رقبہ سے ذا متربة تک مذکور ہیں۔
Read the full tafseer →وہ تو غلامی سے گردن چھڑاتا ہے 13 ؎ اللہ تعالیٰ اگر مال و دولت عطا کرے تو اس کے بنائے ہوئے طریقوں کے مطابق اس کو خرچ کرنا ایک عظیم کامیابی ہے لیکن اکثر و بیشتر اس کا خلاف تو ممکن ہے لیکن اس کی مطابقت بہت ہی دشوار لگتی ہے ۔ بہر حال جو کام طبیعت پر شاق گزرتا ہے اگر وہ صحیح اور درست ہے تو اس کو کرنے میں مزا ہے اگرچہ وہ دشوار نظر آئے۔ مال جب اللہ تعالیٰ دے تو اس کو نفسانی خواہشات کے مطابق صرف کرنا بہت سہل نظر آتا ہے لیکن اس طرح کا خرچ کیا ہوا مال ضائع کرنے کے مترادف ہے صحیح اور حقیقی بات تو وہ ہے کہ دین کی بتائی ہوئی راہوں میں خوشی سے مال خرچ کیا جائے لیکن اس کے ساتھ جب نفس کو لگائو نہیں ہے تو وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–16
فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ ﴿11﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ ﴿12﴾ (Yet he did not make his way through the steep course. And what may let you know what the steep course is? ...90:11-12] ' The word 'aqabah means 'hill, high place or a steep road'. It also refers to a 'low area of land between two hills or mountains, that is, a valley'. 'Aqabah helps a man in saving himself when pursued by an enemy by ascending the summit of the mountain, or in escaping by descending into the valley. Here the word 'aqabah refers to obedience and devotion. Just as it saves man from an enemy, righteous…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–15
11 The words in the original are: fa-lagtaham-al- aqabah. Iqtiham means to apply oneself to a hard and toilsome task, and 'aqabah is the steep path that passes through mountains for ascending heights. Thus, the verse means: "One of the two paths that We have shown him, leads to heights but is toilsome and steep; man has to tread it against the desires of his self and the temptations of Satan. The other path is easy which descends into chasms, but does not require any toil from man; one only needs to give free reins to oneself, then one automatically goes on rolling down the abyss. Now, the…
Read the full tafseer →