At-Takwir 81:6

At-Takwir · from ayah 6

81:6

وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ۟وَاِذَا الۡبِحَارُ سُجِّرَتۡ

اور جب دریا آگ ہو جائیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the seas are filled with flame

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:6

اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب دریا آگ ہو جائیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب سمندروں کو بھڑکایا جائے گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب سمندر سلگائے جائیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جب سمندر اور دریا (سب) ابھار دیئے جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور سمندر بھڑکائے جائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور سمندر ابل پڑیں گے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب بھڑکا دیا جائے گا سمندروں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب سمندر دہکا دیے جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب دریا آگ ہوجائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

when the seas shall be set boiling,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and when the seas will be flared up,

— Muhammad Taqi Usmani

and when the seas will be flared up,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the seas become as blazing fire.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the seas are filled with flame

— Saheeh International

the oceans are brought to a boil,

— Muhammad Sarwar

And when the seas are set on fire,

— Muhammad Habib Shakir

And when the seas shall be filled,

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 81:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّكْوِیْر 6 اصل میں لفظ سجرت استعمال کیا گیا ہے جو تسجیر سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے۔ تسجیر عربی زبان میں تنور کے اندر آگ دہکانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے روز سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ لیکن اگر پانی کی حقیقت لوگوں کی نگاہ میں ہو تو اس میں کوئی چیز بھی قابل تعجب محسوس نہ ہوگی۔ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے کہ اس نے آکسیجن اور ھائیڈروجن، دو ایسی گیسوں کو باہم ملایا جن میں سے ایک آگ بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے۔ اور ان دونوں کی ترکیب سے پانی جیسا مادہ پیدا کیا جو آگ بجھانے والا ہے۔ اللہ کی قدرت کا ایک اشارہ اس بات کے لیے باکل کافی ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ، سجرت، تسجیر سے مشتق ہے جس کے معنے آگ لگانے اور بڑھکانے کے بھی آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے اس جگہ یہی معنے لئے ہیں اور اسکے معنے بھر دینے کے بعد آتے ہیں اور گڈ مڈ خلط ملط کردینے کے بھی بعض ائمہ تفسیر نے یہی معنے لئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ پہلے سمندر اور میٹھے دریاؤں کو ایک کردیا جائے گا درمیان کی رکاوٹیں ختم کردی جاوینگی جس سے دریائے شور اور شیریں دریاؤں کے پانی خلط ملط ہوجائیں گے اور زیادہ بھی، پھر شمس وقمر اور ستاروں کو اس میں ڈال دیا جائے گا پھر اس تمام پانی کو آگ بنادیا جائے گا جو جہنم میں شامل ہوجائیگا (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

سمندروں کی طغیانی: لفظ ’تَسْجِیْرٌ‘ اصلاً تنور کو ایندھن سے بھر کر بھڑکا دینے کے لیے آتا ہے پھر اسی مفہوم سے وسعت پا کر یہ دریاؤں اور سمندروں کی طغیانی کے لیے بھی آنے لگا۔ دریا جب بے قابو ہو کر اپنے حدود سے باہر نکل پڑیں اور زمین پر بھیل جائیں تو اس حالت کی تعبیر کے لیے یہ معروف لفظ ہے۔ اس معنی کو ادا کرنے کے لیے لفظ ’تَفْجِیْرٌ‘ بھی آیا ہے، چنانچہ بعد والی سورہ میں جو اس کی توام سورہ ہے، یہی بات ’وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۳) کے الفاظ سے تعبیر فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ سمندر اپنے اپنے حدود کے اندر بند ہیں لیکن جب قیامت کی ہلچل برپا ہو گی تو یہ ابل کر تمام سطح پر…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

4: سمندروں کے بھڑکانے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں طغیانی آجائے گی اور دریا سمندر آپس میں مل کر ایک ہوجائیں گے اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ ان کا پانی خشک ہوجائے گا اور ان میں آگ لگادی جائے گی۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا ................ سجرت (6:81) ” اور جب سمندر بھرکا دیئے جائیں گے “۔ سجرت کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں۔ سمندروں کو پانی سے بھر دیا جائے گا ۔ اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ سمندروں میں یہ پانی اس طرح آئے گا جس طرح بادلوں اور بارشوں کے طوفان زمین پر حملہ آور ہوئے ، جبکہ زمین سرد ہوئی اور اس کا چھلکا سخت ہوا۔ جس کا ذکر ہم نے سورة نازعات میں کیا یا یوں کہ زمین میں جب زلزلے پیدا ہوں گے اور آتش فشانی کا عمل ہوگا تو سمندر کے درمیان سے خشکی ختم ہوجائے گی اور سمندر ایک دوسرے کے اوپر چڑھ دوڑیں گے۔ یا اس کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ان میں آگ لگ جائے گی اور وہ پھٹ پڑیں گے جیسا کہ دوسری جگہ میں ہے۔ واذا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

10 یعنی سمندروں کا پانی گرم ہو کر دھواں اور آگ بن جائے جو نہایت گرم ہو کر محشر میں کافروں کو دکھ پہنچائے اور تنور کی طرح جھونکنے سے ابلے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6{ وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۔ } ”اور جب سمندر دہکا دیے جائیں گے۔“ اگلی سورت یعنی سورة الانفطار میں سمندروں کے پھاڑے جانے { وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ۔ } کا ذکر ہے۔ ان دونوں آیات پر غور کریں تو یوں لگتا ہے کہ جب زمین کو کھینچ کر پھیلایا جائے گا { وَاِذَا الْاَرْضُ مُدَّتْ۔ } الانشقاق تو اس کی اندرونی تپش اوپری سطح پر آجائے گی۔ چناچہ دہکتے ہوئے لاوے کے عین اوپر سمندراُبل رہے ہوں گے اور اس طرح سمندروں کا پانی بخارات بن کر ہوا میں تحلیل ہوجائے گا۔ واللہ اعلم !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 قیامت کو سمندروں کا انجام :۔ سُجِّرَتْ : سجر میں کسی چیز کے بھرے ہوئے ہونے اور اس میں مخالطت یا تلاطم کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ البحر المسجور سے مراد وہ سمندر ہے جو بھرا ہوا بھی ہو اور جوش تلاطم سے ابل بھی رہا ہو۔ اور سجّرالتنّور کے معنی تنور کو ایندھن سے بھر کر گرم کرنا تاکہ آگ پوری شدت سے بھڑک سکے اور سجور اس ایندھن کو کہتے ہیں جس سے تنور گرم کیا جائے۔ گویا ہر وہ چیز جو آگ میں شدت پیدا کرنے کے لیے تنور میں جھونک دی جائے وہ سجور ہے۔ اب دیکھیے کہ پانی دو گیسوں آکسیجن اور ہائیڈروجن کا مجموعہ ہے۔ ہائیڈروجن خود آتش گیر گیس ہے جو آگ دکھانے سے ہی فوراً بھڑک اٹھتی ہے اور آکسیجن آگ کو بھڑکنے میں مدد…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 1–6

1۔ یعنی ان کا پانی آگ اور بھاپ میں تبدیل ہوجائے، یہ سارے واقعات و کیفیات صور قیامت کے نفخہ اول کے بیان ہورے ہیں۔ عالم کائنات جو اس وقت تک آباد ہوگا، صور کی پہلی آواز پر یوں ہلاک وبرباد ہونا شروع ہوگا۔ اور اس کی بڑی بڑی مضبوط ومستحکم موجودات یوں درہم وبرہم اور ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوں گی۔ (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ یعنی کرۂ آفتاب کی لمبی لمبی شعاعیں جو سارے علم کو منور کرتی رہتی ہیں، لپیٹ کر رکھ دی جائیں یا بےنور ہوجائیں، جس سے عالم تیرہ وتار ہوجائے۔ آفتاب جو محسوسات ومرئیات میں آسمان ہی کی طرح اعظم ترفین مخلوق ہے، جب وہ فناء پر مجبور ہوجائے تو پھر دوسری اور اس سے ادنی مخلوقات کا کیا ذکر ہے !…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–7

واذا البحار سجرت، سجرت، تسجیر سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے تسجیر تنور میں آگ دہکا کو کہتے ہیں، بظاہر یہ بات عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی، لیکن اگر پانی کی حقیقت معلوم ہو تو اس میں کوئی چیز قابل تعجب نہیں، اس سے سرا سر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہے کہ اس نے آکسیجن اور ہائیڈروجن، دو ایسی گیسوں کو ملا دیا جن میں سے ایک آگ بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے اور ان دونوں کی ترکیب سے پانی جیسا مفید اور کار آمد مادہ پیدا کیا جو آگ کو بجھانے والا ہے، اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ اس بات کے لئے بالکل کافی ہے کہ وہ پانی کی اس ترکیب کو بدل ڈالے اور یہ دونوں گیسیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا البحار سجرت . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب سمندر بھڑکائے جائیں گے اور وہ بھڑکتی آگ بن جائیں گے۔ حضرت ابی بن کعب کا بھی یہی قول ہے۔ کلبی نے ترجمہ کیا : جب سمندر بھر دیئے جائیں گے کیونکہ مسجور کا معنی ہے بھرا ہوا۔ مجاہد و مقاتل نے کہا : بعض سمندر بعض میں گھس پڑیں گے۔ میٹھے اور شور مل کر گرم پانی کا ایک سمندر دوزخیوں کے لیے بن جائیں گا۔ حسن بصری اور قتادہ نے کہا : خشک ہوجائیں گے ‘ پانی سوکھ جائے گا۔ ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ میں کہتا ہوں ان تمام اقوال کو (ایک نقطہ) پر جمع کرنے کی یہ صورت ہے کہ تمام سمندر جمع کر کے ایک سمندر لبریز کردیا جائے گا اور سورج کو اس میں ڈال دیا جائے گا ‘ جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–7

(3۔ 7) اور جب پہاڑ زمین پر سے ہٹا دیے جائیں گے اور جب گابھن اونٹنیوں کے مالک اپنی مشغولیت کی بنا پر ان سے غافل ہوجائیں گے اور جب قصاص کے لیے تمام جانوروں کو جمع کیا جائے گا، یا یہ کہ گھبراہٹ کی وجہ سے جمع ہوجائیں گے اور جب کھارے دریا کا پانی شیریں میں ملا کر ایک کردیا جائے گا، یا یہ کہ آگ ہوجائیں گے اور جس وقت ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں گے یعنی اپنے ساتھیوں سے مل جائیں گے کہ نیک نیک کے ساتھ اور گنہگار گنہگار کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(واذا البحار سجرت :)”سحر التنور“ اس نے تنور جلایا۔”سبحر“ میں مبالغہ ہے، خوب بھڑکایا۔ سمندروں کے بھڑکائے جانے کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زمین کے نیچے جو بےپناہ حرارت اور آگ ہے، جو آتش فشاں پہاڑوں کے بیدار ہونے کی صورت میں کبھی کبھی ظاہر ہوتی رہتی ہے، وہ اللہ کے حکم سے سمندروں کو بھڑکا کر انہیں بھاپ بنا کر اڑا دے گی۔ پھر پہاڑوں کی بلندی اور سمندروں کی گہرئای ختم ہو کر زمین ایک چٹیل میدان بن جائے گی۔ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن دو گیسوں کا مرکب ہے، جن میں سے ایک جالنے اولی اور دوسری جلنے والی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی عجیب قدرت ہے کہ ان دونوں کو ملا کر آگ بجھانے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذالبحار سجرت۔ جب سمندروں کو پانی سے بھر دیا جائے گا عرب کہتے ہیں، سجرت الحوض اسجرہ سجرا۔ جب تو اسے بھر دے لغت میں ساجر اور مسجور کا معنی بھرا ہواہونا ہے۔ ربیع بن خیثم نے روایت نقل کی ہے کہ سجرت کا معنی ہے بہنا اروبھرجانا، یہ کلبی اور مقاتل، حسن اور ضحاک کا نقطہ نظر ہے ابن ابی زمنین نے کہا، سجرت کا معنی ہے بھرجانا اس کے بعد وہ ایک دوسرے کی طرف بہہ پڑیں گے اور وہ سب ایک چیز بن جائیں گے یہی حضرت حسن بصری کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے میٹھے سمندر کو نمکین اور نمکین کو میٹھے کی طرف چھوڑاجائے گا یہاں تک کہ وہ بھرجائے گا، ضحاک اور مجاہد سے مروی ہے انہیں کھول دیا جائے گا یہاں تک کہ وہ ایک سمندر…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

21۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذا البحار سجرت کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ سمندروں کا پانی زمین کے پانی سے مل جائے گا۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے زہیر بن ابی سلمی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ لقد نازعتہم حسبا قدیما وقد سجرت بحارہم بحاری ترجمہ : تحقیق میں نے پرانے طریقہ پر ان سے تنازع کیا حالانکہ ان کے سمندر میرے سمندر کے ساتھ مل گئے۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا البحار سجرت سے مراد ہے کہ سمندروں کو کھول دیا جائے گا۔ اور چلا دیا جائے گا۔ 23۔ بیہقی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ : اور جب سمندر بھڑکائے جائیں گے ] نوٹ۔ 4: آیت۔ 6 ۔ میں سمندر کو بھڑکائے جانے کے لیے لفظ سُجِّرَتْ استعمال کیا گیا ہے جو تسجیر سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے۔ تسجیر عربی زبان میں تندور کے اندر آگ بھڑکانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ بظاہر یہ بات عجیب معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے روز سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی۔ لیکن اگر پانی کی حقیقت نگاہ میں ہو تو اس میں کوئی چیز بھی قابل تعجب نہ رہے گی۔ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کا معجزہ ہے کہ اس نے آکسیجن اور ہائیڈروجن دو ایسی گیسوں کو باہم ملایا جن میں سے ایک آگ بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے اور ان دونوں کی ترکیب سے پانی جیسا مادہ پیدا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

سادساً ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ006﴾ (اور جب سمندروں کو دہکا دیا جائے) لفظ سُجِّرَتْ تسجیر سے ماخوذ ہے یہ لفظ آگ جلانے دہکانے بڑھکانے اور تیز کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ صاحب روح المعانی اس کا مطلب بتاتے ہوئے لکھتے ہیں : ای احمیت بان تغیض میاھھا وتظھر النار فی مکانھا یعنی سمندروں کو گرم کردیا جائے گا جس سے ان کے پانی خشک ہوجائیں گے اور ان کی جگہ آگ ظاہر ہوجائے گی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–14

3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۝ 6 بحر أصل البَحْر : كل مکان واسع جامع للماء الکثير، هذا هو الأصل، ثم اعتبر تارة سعته المعاینة، فيقال : بَحَرْتُ كذا : أوسعته سعة البحر، تشبيها به، ومنه : بَحرْتُ البعیر : شققت أذنه شقا واسعا، ومنه سمیت البَحِيرَة . قال تعالی: ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ [ المائدة/ 103] ، وذلک ما کانوا يجعلونه بالناقة إذا ولدت عشرة أبطن شقوا أذنها فيسيبونها، فلا ترکب ولا يحمل عليها، وسموا کلّ متوسّع في شيء بَحْراً ، حتی قالوا : فرس بحر، باعتبار سعة جريه، وقال عليه الصلاة والسلام في فرس ركبه : «وجدته بحرا» «1» وللمتوسع في علمه بحر، وقد تَبَحَّرَ أي : توسع في كذا، والتَبَحُّرُ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ۔ (التکویر : 6) ( اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے۔ ) سمندر بھڑک اٹھیں گے تَسْجِیْر، سُجِّرَتْ سے ماضی مجہول ہے۔ تَسْجِیْر عربی زبان میں تنور کو ایندھن سے بھر کر آگ دہکانے کے لیے بولا جاتا ہے۔ سمندر اگرچہ پانی کا بہت بڑا ذخیرہ ہے جس میں آگ لگنے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا اور پانی تو ویسے بھی آگ بجھانے کے لیے ہے، آگ قبول کرنے کے لیے نہیں۔ لیکن جب ہم اس حالت کو دیکھتے ہیں جو قیامت میں پیدا ہوگی تو پھر یہ بات سمجھنا کچھ مشکل نہیں، کیونکہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن جیسی دو گیسوں سے ایک تناسب کے ساتھ مل کر بنا ہے جبکہ یہ دونوں گیسوں میں سے ایک آگ کو بھڑکانے والی اور دوسری…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–6

فہم القرآن ربط سورت : سورت عبس کا اختتام اس بات پر کیا گیا کہ جو لوگ قیامت کا انکار کرتے ہیں ان کے چہروں پر ذلّت اور سیاہی چھائی ہوگی۔ التکویر میں قیامت کے ابتدائی مراحل ذکر فرما کر بتلایا ہے کہ انسان نے دنیا میں رہ کر جو کچھ کیا ہوگا وہ قیامت کے دن اس کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ اس حالت میں کہ اس کے ایک طرف جہنم دھک رہی ہوگی اور دوسری طرف جنت مہک رہی ہوگی۔ اس سورة کی ابتدا میں قیامت کے پہلے ہولناک مرحلہ کا منظر پیش کیا گیا ہے اسرافیل جونہی پہلی صور پھونکے گا تو زمین و آسمانوں میں ہلچل مچ جائے گی۔ ہر جاندار موت کے گھاٹ اتر جائے گا یہاں تک کہ سورج اپنی روشنی اور حرارت کھو بیٹھے گا۔ جس کے لیے ”…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

6 : وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ (جب دریابھڑکائے جائیں گے ) قراءت : مکی و بصری نے سُجِرَت پڑھا اور سجر التنور سے لیا جبکہ اس کو لکڑیوں سے بھردیں اب معنی یہ ہے جب دریائوں کو بھر دیا جائے گا۔ اور پھوٹ کر ایک دوسرے سے مل جائیں گے اور ایک سمندر بن جائے گا۔ ایک قول یہ ہے اہل نارکو عذاب دینے کیلئے آگ سے بھر دیا جائیگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

5 ۔” واذا الوحوش “ یعنی خشکی کے جانور۔ ” حشرت “ بعث کے بعد جمع کیے جائیں گے تاکہ ان کا آپس میں قصاص لیا جائے۔ عکرمہ (رح) نے ابن عباس ؓ سیروایت کیا ہے کہ ان کا حشران کی موت ہے اور فرمایا ہر چیز کا حشر اس کی موت سوائے جن وانس کے کیونکہ وہ قیامت کے دن ٹھہرائے جائیں گے اور ابی بن کعب ؓ فرماتے ہیں خلط ملط ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ) اور جب سمندر بھڑکا دیے جائیں گے یعنی ان کو گرم کیا جائے گا اور تنے بڑے ہونے کے باوجود وہ آگ بن بھڑکا اٹھیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 5–6

(5) وحشی جانوروں کی یکجائی کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور جب اکٹھا کردیا جائے گا وحشی جانوروں کو " یعنی وہ خوف و دہشت کے مارے ایک ہی مقام پر اس طرح اکٹھے ہوں گے کہ نہ کوئی کسی کو ڈسے گا نہ کاٹے گا اور نہ چیر پھاڑ کرے گا "۔ سو یہ تصویر ہے اس وقت کی انتہائی ہولناکی کہ وحشی اور درندے بھی اپنی خو خصلت کو اس روز بھول جائیں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی نفسا نفسی کی ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہوگی یہ آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب وہاں اکٹھے ہوجائیں گے، جیسا کہ آج بھی جب کبھی کہیں جنگل میں آگ لگ جاتی ہے یا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 جیسے تنور کو دھونکا جاتا ہے یعنی ان کا پانی گرم ہو کر دھواں اور آگ بن جائے یا مطلب یہ ہی کہ ان کا پانی مل کر ایک ہوجائے یا سوکھ جائیں۔ عربی زبان میں ” سجر “ کا لفظ ان تمام معانی کو شامل ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 5–6

(81:5) واذا الوحوش حشرت۔ عطف حسب بالا۔ الوحوش وحش کی جمع، صحرائی جانور، جنگلی جانور، حشرت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب حشر (باب نصر) مصدر سے، جب جنگلی جانور یک جا کر دئیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–6

علامات قیامت اور حال۔ (1) تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ، اذالشمس کورت سے واذالبحار سجرت تک کی تفسیر میں ابی بن کعب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کی چھ نشانیاں ہیں۔ آفتاب کی روشنی جاتے رہی گی، تارے بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گرپڑیں گے اور کوئی تارا اپنی جگہ باقی نہ رہے گا، پہاڑ غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ حاملہ اونٹیوں کو چھوڑ دیں گے کیونکہ اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے جن کے حمل کے گذرچکے ہوں اور بیاہنے کے قریب ہودودھ اور بچے کی توقی پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو اتنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 5–6

[3] یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی ایسی نفسا نفسی کی حالت طاری ہوگی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہوگی آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب وہاں اکٹھے ہوجائیں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–7

واذا العشارعطلت سے غرض یہ ہے کہ وہ وقت اتنا ہولناک ہوگا کہ چوپایہ کی وہ قسم جو مالک کو بہت عزیز ہوتی ہے ، وہ اس سے بھی بےپرواہ ہوجائیگا ۔ واذالوحوش حشرت یعنی وحشی جانور بھی گھبراجائیں گے اور مارے وحشت اور اضطراب کے جنگلوں میں جمع ہونے شروع ہوجائیں گے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(6) اور جب دریا بھڑکائے جائیں - یعنی دریا کا پانی آگ بن جائے پہلے ہوا بن جائے پھر ہوا آگ کی شکل میں تبدیل ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پانی دریا کا دھواں اور آگ بن جائے جس کے سبب ہوا نہایت گرم ہو کر محشر کے بےایمانوں کو دکھ پہنچائے اور تنور کی طرح جھونکے سے ابلے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ سجرت کا مطلب یہ ہے کہ دریائوں کا تمام پانی خشک ہوجائے اور ایک قطرہ بھی نام کونہ رہے ۔ بہرحال ! یہ چھ باتیں تو نفخہ اولیٰ کی ہیں اور یہ جب ہوں گی جب دنیا آباد ہوگی اور نفخہ اولیٰ سے عالم تباہ و برباد ہوگا آگے کی چھ باتیں اس عالم کی ہیں جو نفخہ ثانیہ کے بعد ہوں گی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–6

ف 1۔ یہ چھ واقعے تو نفخہ اولی کے وقت ہوں گے جبکہ دنیا آباد ہوگی اور اس نفخہ سے یہ تغیرات و تبذلات ہوں گے اور اس وقت اونٹنیاں وغیرہ بھی اپنی اپنی حالت پر ہوں گی جن میں بعض وضع حمل کے قریب ہوں گی جو کہ اہل عرب کے نزدیک عزیز ترین اموال ہیں مگر اس وقت ہلچل میں کسی کو کہیں کا ہوش نہ رہے گا، اور وحوش بھی مارے گھبراہٹ کے سب گڈ مڈ ہوجائیں گے، اور دریاوں میں اول طغیانی پیدا ہوگی اور زمین میں شقوق واقع ہوجائیں گے، جس سے سب شیریں اور شور دریا ایک ہوجائیں گے، پھر شدت حرارت سے سب کا پانی مستحیل بآتش ہوجائے گا۔ اس کے بعد عالم فنا ہوجائے گا اور اگلے چھ واقعات بعد نفخہ ثانیہ کے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے 6 ؎ (الحبار) بحار دریا ، سمندر یہ بھی ابحر کی طرح بحر کی جمع ہے۔ بحر دریا ۔ سمندر بحر دراصل اس وسیع مقام کو کہتے ہیں جہاں بہت کثرت سے پانی ہو اور اس اعتبار سے سمندر کو بحر کہتے ہیں ۔ سمندر میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک پانی کی کثرت اور وسعت اور دوسرا کھاری پن اور نمکینی انہی دونوں مفہوموں کے لیے بحر کا استعمال کسی چیز کی زیادتی اور وسعت کے متعلق ہوتا ہے اور کبھی ملاحت اور نمکینی کے سلسلہ میں بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ بڑے بڑے علامۃ الدہر کو متبحر علماء بھی کہا جاتا ہے۔ ( سجرت) کی اصل تو س ج ر ہے۔ اس مادہ کے صرف تین الفاظ قرآن کریم میں استعمال ہوئے ہیں ۔ ایک تو یہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَإِذَا الْبِحَارُ‌ سُجِّرَ‌تْ (and when the seas will be flared up...81:6). The word sujjirat is derived from tasfir and it signifies 'to set ablaze'. Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ assigns this interpretation to the word in this context. Another sense of the word is 'to fill' and a third sense of the word is 'to mix or admix'. Some commentators have interpreted it in this sense. None of these interpretations is contradictory to each other. First, the salt and sweet water are admixed and the rivers are made to flow forth into the sea; then the seas will meet together and become one and having more…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 The word sujjirat as used in the original in passive voice from tasjir in the past tense. Tasjir means to kindle fire in the oven. Apparently it seems strange that on the Resurrection Day fire would blaze up in the oceans. But if the truth about water is kept in view, nothing would seem strange. It is a miracle of God that He combined oxygen and hydrogen, one of which helps kindle the fire and the other gets kindled of itself and by the combination of both He created a substance like water which is used to put out fire. A simple manifestation of Allah's power is enough to change this…

Read the full tafseer →