Ayah 81:1خلاصہ تفسیر
جب آفتاب بےنور ہوجاوے گا اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گر پڑیں گے اور جب پہاڑ چلائے جاویں گے اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں چھٹی پھریں گی، اور جب وحشی جانور (مارے گھبراہٹ کے) سب جمع ہوجاویں گے اور جب دریا بھڑکائے جاویں گے (یہ چھ واقعے تو نفخہ اولیٰ کے وقت ہوں گے جبکہ دنیا آباد ہوگی اور اس نفخہ سے یہ تغیرات و تبدلات واقع ہوں گے اور اس وقت اونٹنیاں وغیرہ بھی اپنی اپنی حالت پر ہوں گی جنمیں بعضے وضع حمل کے قریب ہوں گی جو کہ عرب کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی مال ہے جس کی ہر وقت دیکھ بھال کرتے رہتے ہیں مگر اس وقت ہل چل میں کسی کو کسی کا ہوش نہ رہے گا اور وحوش بھی مارے گھبراہٹ کے سب گڈمڈ ہوجاویگے اور دریاؤں میں اول طغیانی پیدا ہوگی اور زمین میں شقوق واقع ہوجاویں گے جس سے سب شیریں اور شور دریا ایک ہوجاویں گے جس کا ذکر آئندہ سورة میں (آیت) واذا البحار فجرت میں فرمایا ہے۔ پھر شدت حرارت سے سب کا پانی آگ ہوجاوے گا، شاید اول ہوا ہوجاوے پھر ہوا آگ بن جاوے اس کے بعد عالم فنا ہوجاوے گا) اور (اگلے چھ واقعات بعد نفخہ ثانیہ کے ہوں گے جن کا بیان یہ ہے کہ) جب ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کئے جاویں گے (کافر الگ مسلمان الگ، پھر ان میں ایک ایک طریقہ کے الگ الگ) اور جب زندہ گاڑھی ہوئی لڑکی سے پوچھا جاوے گا کہ وہ کس گناہ پر قتل کیے گئی تھی (مقصود اس پوچھنے سے زندہ درگور کرنیوالے ظالموں کا اظہار جرم ہے) اور جب نامہ اعمال کھول دیئے جاویں گے (تاکہ سب اپنے اپنے عمل دیکھ لیں کقولہ تعالیٰ (یلقہ منشورا) اور جب آسمان کھل جاوے گا (اور اس کے کھلنے سے آسمان کے اوپر کی چیزیں نظر آنے لگیں گی اور نیز اس کے کھلنے سے غمام کا نزول ہوگا جسکا ذکر پارہ 19 (آیت) وقال الذین لایرجون ، (آیت) و یوم تشقق السماء میں آیا ہے) اور جب دوزخ (اور زیادہ) دہکائی جاوے گی، اور جب جنت نزدیک کردی جاوے گی (کمافی سورة ق (آیت) وازلفت الجنتہ للمتقین، جب یہ سب واقعات نفخہ اولیٰ اور ثانیہ کے واقع ہوجاویں گے تو اس وقت) ہر شخص ان اعمال کو جان لیگا جو لے کر آیا ہے) اور جب ایسا واقعہ ہائلہ ہونیوالا ہے) تو (میں منکرین کو اس کی حقیقت بتلاتا ہوں اور مصدقین کو اسکے لئے آمادہ کرتا ہوں، اور یہ دونوں امر قرآن کی تصدیق اور اس پر عمل کرنے سے حاصل ہوتے ہیں کہ اس میں اس کا اثبات اور نجات کا طریق ہے اسلئے) میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو (سیدھے چلتے چلتے) پیچھے کو ہٹنے لگتے ہیں (اور پھر پیچھے ہی کو) چلتے رہتے (اور کبھی پیچھے چلتے چلتے اپنے مطالع میں) جا چھپتے ہیں (ایسا امر پانچ سیاروں کو پیش آتا ہے کہ کبھی سیدھے چلتے ہیں کبھی پیچھے چلتے ہیں اور ان کو خمسہ متحیرہ کہتے ہیں۔ زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ) اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے، اور قسم ہے صبح کی جب وہ آنے لگے (آگے جواب قسم ہے) کہ یہ قرآن (اللہ کا) کلام ہے ایک معزز فرشتہ (یعنی جبرئیل علیہ السلام) کا لایا ہوا جو قوت والا ہے (کمافی النجم علمہ شدید القوی اور) مالک عرش کے نزدیک ذی رتبہ ہے (اور) وہاں (یعنی آسمانوں میں) اس کا کہنا مانا جاتا ہے (یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں جیسا حدیث معراج سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ انکے کہنے سے فرشتوں نے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے اور (امانتدار ہے) کہ وحی کو صحیح پہنچا دیتا ہے پس وحی لانیوالا تو ایسا ہے) اور (آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ) یہ تمہارے ساتھ کے رہنے والے (محمد ﷺ جن کا حال بخوبی تم کو معلوم ہے) مجنوں نہیں ہیں (جیسا منکرین نبوت کہتے تھے) اور انہوں نے اس فرشتہ کو (اصلی صورت میں آسمان کے) صاف کنارہ پر دیکھا بھی ہے (صاف کنارہ سے مراد بلند کنارہ ہے کہ صاف نظر آتا ہے کمافی النجم وھو بالافق الاعلے ٰ ، اور اس کا مفصل بیان سورة نجم میں گزرا ہے) اور یہ پیغمبر مخفی (بتلائی ہوئی وحی کی) باتوں پر بخل کرنیوالے بھی نہیں (جیسا کاہنوں کی عادت تھی کہ رقم لے کر کوئی بات بتلاتے تھے اس سے کہانت کی بھی نفی ہوگئی اور اس کی بھی کہ آپ اپنے کام کا کسی سے معاوضہ لیں) اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے (اس سے نفی کہانت کی اور تاکید ہوگئی، حاصل یہ کہ نہ آپ مجنوں ہیں نہ کاہن، نہ صاحب غرض، اور وحی لانیوالے کو پہچانتے بھی ہیں اور وحی لانیوالا ایسا ایسا ہے پس لا محالہ یہ اللہ کا کلام اور آپ اللہ کے رسول ہیں، اور یہ قسمیں مطلوب مقام کے نہایت مناسب ہیں چناچہ ستاروں کا سیدھا چلنا اور لوٹنا اور چھپ جانا مشابہ ہے فرشتے کے آنے اور واپس جانے اور عالم ملکوت میں جا چھپنے کے اور رات کا گزرنا اور صبح کا آنا مشابہ ہے قرآن کے سب ظلمت کفر کے رفع ہوجانے اور نور ہدایت کے ظاہر ہوجانے کے، جب یہ بات ثابت ہے) تو تم لوگ (اس بارہ میں) کدھر کو چلے جارہے ہو (کہ نبوت کے منکر ہو رہے ہو) بس یہ تو (بالعموم) دنیا جہان والوں کے لئے ایک بڑا نصیحت نامہ ہے (اور بالخصوص) ایسے شخص کے لئے جو تم میں سے سیدھا چلنا چاہے (عام لوگوں کے لئے ہدایت اس معنے سے ہے کہ ان کو سیدھا راستہ بتلادیا اور مومنین متقین کے لئے اس معنے سے کہ ان کو منزل مقصود پر پہنچا دیا) اور (بعض کے نصیحت قبول نہ کرنے سے اسکے نصیحت نامہ ہونے میں شبہ نہ کیا جاوے کیونکہ) تم بدون خدائے رب العالمین کے چاہے کچھ نہیں چاہ سکتے ہو (یعنی فی نفسہ تو نصیحت ہے لیکن تاثیر اس کی موقوف مشیت پر ہے جو بعض لوگوں کے لئے متعلق ہوتی ہے اور بعض کے لئے کسی حکمت سے متعلق نہیں ہوتی)
معارف و مسائل
اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ ، تکویر سے مشتق ہے اسکے معنے بےنور ہو جانے کے بھی آتے ہیں۔ جس بصری ؒ کی یہی تفسیر ہے اور اسکے معنے ڈال دینے پھینک دینے کے بھی آتے ہیں۔ ربیع ابن خیثم نے اس کی یہی تفسیر کی ہے کہ مراد اس سے یہ ہے کہ آفتاب کو سمندر میں ڈالدیا جائیگا جس کی گرمی سے سارا سمندر آگ بن جائیگا، اور ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہوسکتا ہے کہ اول آفتاب کے بےنور کردیا جائے پھر اس کو سمندر میں ڈال دیا جائے۔ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ شمس و قمر قیامت کے دن دریا میں ڈال دیئے جاویں گے اور مسند بزار میں اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ جہنم میں ڈال دیئے جاویں گے ابن ابی حاتم، ابن ابی الدنیا اور ابو الشیخ نے ان آیات کے متعلق یہ نقل کیا ہے کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ شمس وقمر اور تمام ستاروں کو سمندر میں ڈال دیں گے اور پھر اس پر تیز ہوا چلے گی جس سے سارا سمندر آگ ہوجاوے گا، اس طرح یہ کہنا بھی صحیح ہوگیا کہ شمس وقمر کو دریا میں ڈالدیا جائے گا، اور یہ کہنا بھی درست رہا کہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا کیونکہ سارا سمندر اس وقت جہنم بن جائے گا۔ (مستفاد من المظہری و القرطبی)
Ayahs 81:2–3وَاِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ ، انکدار سے مشتق ہے اس کے معنے سقوط اور گرنے کے ہیں۔ سلف سے یہی تفسیر منقول ہے اور مراد یہ ہے کہ آسمان کے سب ستارے سمندر میں گر پڑیں گے جیسا کہ مذکورہ روایات میں اس کی تفصیل آچکی ہے۔
Ayahs 81:4–5وَاِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ ، یہ عرب کی عادت کے مطابق بطور مثال کے فرمایا ہے کیونکہ اسکے پہلے مخاطب عرب لوگ تھے انکے نزدیک دس مہینے کی گابھن اونٹنی ایک بڑی دولت سمجھی جاتی تھی کہ اس سے دودھ اور بچے کا انتظار ہوتا تھا اور وہ اس کی دم سے لگے پھرت تھے، کسی وقت اس کو آزاد نہ چھوڑتے تھے۔
Ayah 81:6وَاِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ ، سجرت، تسجیر سے مشتق ہے جس کے معنے آگ لگانے اور بڑھکانے کے بھی آتے ہیں۔ حضرت ابن عباس نے اس جگہ یہی معنے لئے ہیں اور اسکے معنے بھر دینے کے بعد آتے ہیں اور گڈ مڈ خلط ملط کردینے کے بھی بعض ائمہ تفسیر نے یہی معنے لئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ پہلے سمندر اور میٹھے دریاؤں کو ایک کردیا جائے گا درمیان کی رکاوٹیں ختم کردی جاوینگی جس سے دریائے شور اور شیریں دریاؤں کے پانی خلط ملط ہوجائیں گے اور زیادہ بھی، پھر شمس وقمر اور ستاروں کو اس میں ڈال دیا جائے گا پھر اس تمام پانی کو آگ بنادیا جائے گا جو جہنم میں شامل ہوجائیگا (مظہری)
Ayah 81:7وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ، یعنی جبکہ حاضرین محشر کے جوڑے جوڑے اور جتھے بنادیئے جاویں گے یہ جتھے اور جماعتیں ایمان وعمل کے اعتبار سے ہوں گے کہ کافر ایک جگہ مومن ایک جگہ، پھر کافر و مومن میں بھی اعمال و عادات کا فرق ہوتا ہے، انکے اعتبار سے کفار میں بھی مختلف قسم کے گروہ ہوجائیں گے اور مسلمان میں بھی یہ گروہ عقیدے اور عمل میں اشتراک کی بنا پر ہوں گے جیسا کہ بیہقی نے بروایت حضرت نعمان بن بشیر حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ جو لوگ ایک جیسے اعمال کرتے ہوں گے وہ ایک جگہ کردیئے جاویں گے اعمال حسنہ ہوں یا سیہ، مثلاً اچھے مسلمانوں میں علم دین کی خدمت کرنیوالے علماء ایک جگہ، عباد وزہاد ایک جگہ جہاد کرنے والے غازی ایک جگہ، صدقہ خیرات میں خصوصیت رکھنے والے ایک جگہ، اسی طرح بد اعمال لوگوں میں چور ڈاکو ایک جگہ، زنا کار فحاش ایک جگہ، دوسرے خاص خاص گناہوں میں باہم شریک رہنے والے ایک جگہ ہوجائیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ محشر میں ہر شخص اپنی قوم کے ساتھ ہوگا (مگر یہ قومیت نسبی یا وطنی نہیں بلکہ عمل و عقیدہ کے اعتبار سے ہوگی) نیک عمل کرنیوالے ایک جگہ بدعمل والے دوسری جگہ ہوں گے اور اس پر آیت قرآنی سے استشہاد فرمایا (آیت) وکنتم ازواجا ثلثة، یعنی محشر میں لوگوں کے بڑے گروہ تین ہوں گے جیسا کہ سورة واقعہ کی آیت میں اس کی تفصیل یہ آئی ہے کہ ایک گروہ سابقین اولین کا ہوگا، دوسرا اصحاب الیمین کا، یہ دونوں گروہ نجات پانیوالے ہوں گے، تیرا گروہ اصحاب الشمال کا ہوگا جو کفار فجار پر مشتمل ہوگا۔
Ayahs 81:8–10وَاِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ ، موءودة وہ لڑکی جس کو زندہ دفن کردیا گیا جیسا کہ جاہلیت عرب میں یہ رسم تھی کہ لڑکی کو اپنے لئے موجب عار سمجھتے تھے اور زندہ ہی اس کو دفن کردیتے تھے اسلام نے یہ رسم بد مٹائی، اس آیت میں قیامت ومحشر کے حالات کے بیان میں ارشاد ہوا کہ جب اس لڑکی سے سوال کیا جائے گا جس کو زندہ درگور کرکے مار دیا گیا تھا، ظاہر الفاظ سے یہ ہے کہ یہ سوال خود اس لڑکی سے ہوگا، اس سے پوچھا جائے گا کہ تجھے کس جرم میں قتل کیا گیا، اور یہ بھی ظاہر ہے کہ مقصود اس سے سوال کرنے کا یہ ہے کہ یہ اپنی بےگناہی اور مظلوم ہونے کی پوری فریاد بارگاہ رب العزت میں پیش کرے تاکہ اسکے قاتلوں سے انتقام لیا جائے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ مراد یہ ہو کہ موءودہ لڑکی کے بارے میں اسکے قاتلوں سے سوال کیا جائے گا کہ اس کو تم نے کس جرم میں قتل کیا۔
فائدہ مہمہ
یہاں بہر حال ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قیامت کا تو نام ہی یوم الحساب یوم الجزاء یوم الدین ہے اس میں تو ہر شخص سے اس کے سبھی اعمال کا محاسبہ اور سوال ہوں گے اس جگہ خصوصی احوال اور اہوال قیامت کے سلسلہ میں خاص موءودہ لڑکی کے معاملے میں اور اسکے متعلق سوال ہونے کو اتنی اہمت اور خصوصیت کے ساتھ ذکر کرنے میں کیا حکمت ہے ؟ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وجہ خصوصیت یہ ہے کہ یہ مظلوم لڑکی جس کو خود اسکے ماں باپ نے قتل کیا ہے اسکے خون کا انتقام لینے کے لئے اس کی طرف سے کوئی دعویٰ کرنے والا تو ہے نہیں خصوصاً جبکہ اس کو خفیہ دفن کردیا ہو تو کسی کو اس کی خبر بھی نہیں ہوئی کہ شہادت دے سکے محشر کے میدان میں جو عدل و انصاف کی عدالت الہیہ قائم ہوگی، وہ ایسے مظالم کو بھی سامنے لائے گی جس کے ظلم پر نہ کوئی شہادت ہے نہ کوئی اس مظلوم کا پرسان حال ہے۔ واللہ اعلم
چار ماہ کے بعد اسقاط حمل قتل کے حکم میں ہے
مسئلہبچوں کو زندہ دفن کردینا یا قتل کردینا سخت گناہ کبیرہ اور ظلم عظیم ہے اور چار ماہ کے بعد کسی حمل کو گرانا بھی اسی حکم میں ہے کیونکہ چوتھے مہینے میں حمل میں روح پڑجاتی ہے اور وہ زندہ انسان کے حکم میں ہوتا ہے اسی طرح جو شخص کسی حاملہ عورت کے پیٹ پر ضرب لگائے اور اس سے بچہ ساقط ہوجائے تو باجماع امت مارنے والے پر اس کی دیت میں غرہ یعنی ایک غلام یا اس کی قیمت واجب ہوتی ہے اور اگر بطن سے باہر آنے کے وقت وہ زندہ تھا پھر مر گیا تو پوری دیت بڑے آدمی کے برابر واجب ہوتی ہے اور چار ماہ سے پہلے اسقاط حمل بھی بدون اضطراری حالات کے حرام ہے مگر پہلی صورت کی نسبت کم ہے کیونکہ اس میں کسی زندہ انسان کا قتل صریح نہیں ہے (مظہری)
مسئلہکوئی ایسی صورت اختیار کرنا جس سے حمل قرار نہ پائے جیسے آج کل دنیا میں ضبط تولید کے نام سے اس کی سینکڑوں صورتیں رائج ہوگئی ہیں اس کو بھی رسول اللہ ﷺ واد خفی فرمایا ہے یعنی خفیہ طور سے بچہ کو زندہ درگور کردینا (کمار واہ مسلم عن خدا متہ بنت وہب) اور بعض دوسری روایت میں جو عزل یعنی ایسی تدبیر کرنا کہ نطفہ رحم میں نہ جائے، اس پر رسول اللہ ﷺ کی طرف سے سکوت یا عدم ممانعت منقول ہے وہ ضرورت کے مواقع کے ساتھ مخصوص ہے وہ بھی اس طرح کہ ہمیشہ کے لئے قطع نسل کی صورت نہ بنے (مظہری)
آجکل ضبط تولید کے نام سے جو دوائیں یا معالجات کئے جاتے ہیں ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ ہمیشہ کے لئے سلسلہ نسل و اولاد کا منقطع ہوجائے اس کی کسی حال اجازت شرعاً نہیں ہے واللہ اعلم
Ayahs 81:11–13وَاِذَا السَّمَاۗءُ كُشِطَتْ ، کشط کے لغوی معنے جانور کی کھال اتارنے کے ہیں، بظاہر یہ حال قیامت کا نفخہ اولیٰ کے وقت کا ہے جو اسی دنیا میں پیش آئے گا کہ آسمان کی زینت جن ستاروں اور شمس وقمر سے تھی وہ سب بےنور ہو کر دریا میں ڈال دیئے جاویں گے آسمان کی موجودہ ہیت بدل جاویگی، اس کو کشط کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اور بعض حضرات مفسرین نے کشط کے معنے لپیٹنے کے لکھے ہیں اور معنی آیت کے یہ ہوگئے کہ آسمان جو چھت کی طرح سروں پر محیط ہے پہ لپیٹ دیا جائے گا۔
Ayahs 81:14–18عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّآ اَحْضَرَتْ ، یعنی جب قیامت کے حالات مذکورہ پیش آویں گے اس وقت ہر انسان جان لیگا کہ وہ اپنے ساتھ کیا سامان لایا ہے۔ سامان سے مراد اس کا نیک یا بد عمل ہے کہ وہ سب اعمال اسکے سامنے آجاویں گے جو دنیا میں کئے تھے خواہ اس طرح کے صحائف اعمال میں لکھے ہوئے اسکے ہاتھ میں آجائیں یا اس طرح کے یہ اعمال کسی خاص شکل و صورت میں اسکے سامنے آویں جیسا کہ بعض روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم، قیامت کے احوال اور ہولناک مناظر اور وہاں محاسبہ اعمال کا ذکر فرمانے کے بعد حق تعالیٰ نے چند ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا کہ یہ قرآن حق ہے اللہ کی طرف سے بڑی حفاظت کے ساتھ بھیجا گیا ہے اور جس ذات پر نازل ہوا ہے وہ ذات ایک بڑی ہستی ہے وحی لانے والے فرشتے کو وہ پہلے سے جانتے پہچانتے تھے اسلئے اس کے حق ہونے میں کسی شک وشبہ کی راہ نہیں۔ جن ستاروں کی قسم یہاں کھائی گئی وہ پانچ ستارے ہیں جن کو علم ہیت فلکیات میں خمسہ متحیرہ کہتے ہیں اور متحیرہ کہنے کیوجہ یہ ہے کہ ان پانچوں ستاروں کی حرکت دنیا میں اس طرح دیکھی جاتی ہے کہ کبھی مشرق سے مغرب کی طرف چل رہے ہیں کبھی پھر پچھے کو مغرب سے مشرق کی طرف چلنے لگے ہیں اس کی وجہ کیا، اور دو مختلف حرکتوں کا سبب کیا ہے، اسکے بارے میں قدیم فلسفہ یونان والوں کے مختلف اقوام ہیں اور جدید فلسفہ والوں کی تحقیق ان میں سے بعض کے مطابق ہے بعض کے خلاف اور حقیقت کا علم، پیدا کرنیوالے کے سوا کسی کو نہیں، سب تخمینے اور اندازے ہی ہیں جو غلط بھی ہوسکتے ہیں صحیح بھی، قرآن حکیم نے امت کو اس فضول بحث میں نہیں الجھایا، جتنی بات ان کے فائدہ کی تھی وہ بتلادی کہ وہ رب العزت جل شانہ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا اس میں مشاہدہ کریں اور ایمان لائیں۔
Ayahs 81:19–29اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ 19 ۙذِيْ قُوَّةٍ الخ، ستاروں کی قسم کے بعد فرمایا کہ یہ قرآن قول ہے کہ ایک رسول کریم کا، آگے اس رسول کریم کی صفت ایک تو یہ بیان فرمائی کہ وہ ذی قوت ہے، دوسری یہ کہ رب العرش کے پاس وہ مطاع ہے کہ اسکے احکام عرش والے مانتے ہیں، تیسری یہ کہ وہ اللہ کے نزدیک امین ہے اس سے پیغام لانے اور پہنچانے میں کسی خیانت اور کمی نیشن کا امکان نہیں۔ اس جگہ رسول کریم سے مراد بظاہر جبریل امین ہیں کیونکہ لفظ رسول کا جیسے انبیاء پر اطلاق ہوتا ہے ایسے ہی فرشتوں کے لئے بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے اور آگے جتنی صفات رسول کی بیان کی گئی ہیں وہ سب جبریل امین پر بغیر کسی تکلف و تاویل کے منطبق ہیں، انکا ذی قوت ہونا سورة نجم میں فراحة مذکور ہے علمہ شدید القوی، اہل عرش وسموات میں ان کا مطاع ہونا اور ان کے احکام کی پیروی کرنا لیلة المعراج کی حدیث سے ثابت ہے کہ جبرئیل امین آنحضرت ﷺ کو ساتھ لے کر آسمان پر پہنچے اور آسمان کے دروازے کھلوانے کا ارادہ کیا تو دروازوں پر مقرر فرشتوں نے ان کے احکام کی پیروی کرنا لیلة المعراج کی حدیث سے ثابت ہے کہ جب جبرئیل امین آنحضرت ﷺ کو ساتھ لے کر آسمان پر پہنچے اور آسمانوں کے دروازے کھلونے کا ارادہ کیا تو دروازوں پر مقرر فرشتوں نے ان کے حکم کی اطاعت اور امین ہونا جبرئیل ؑ کا ظاہر ہے۔ اور بعض ائمہ تفسیر نے اس جگہ رسول کریم سے مراد محمد مصطفیٰ ﷺ کو قرار دیا ہے اور صفات مذکورہ کو کسی قدر تکلف سے آپ کی ذات پر منطبق کیا ہے واللہ اعلم۔ آگے آنحضرت ﷺ کی عظمت شان اور کفار کے بیہودہ الزاموں کا جواب ہے وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍ ، یہ ان کفار کے بیہودہ اعتراض کا جواب ہے جو معاذ اللہ رسول اللہ ﷺ کو مجنوں کہتے تھے ولقد راہ بالافق المبین یعنی نبی کریم ﷺ نے جبرئیل امین کو کھلے افق پر دیکھا ہے جیسا کہ سورة نجم میں فرمایا (آیت) فاستوی وھو بالافق الاعلیٰ ، اور مقصود اس کے ذکر کرنے سے یہ ہے کہ وحی لانے والے فرشتے جبرئیل سے رسول کریم ﷺ خوب واقف تھے، ان کو اصلی ہیت و صورت میں بھی دیکھ چکے تھے اس لئے اس وحی میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں، باقی مضمون آیات خلاصہ تفسیر میں واضح ہوچکا ہے۔
تمت سورة التکویر بحمد اللہ تعالیٰ یوم الاربعا 8 شعبان 1391