81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsآسان قرآن

تعارف

تعارف

یہاں سے قرآن کریم کے آخر تک زیادہ تر مکی سورتیں ہیں۔ تقریباً ان سب سورتوں کا مرکزی موضوع اسلام کے بنیادی عقائد توحید، رسالت اور آخرت کا اثبات، جنت و دوزخ کے حالات اور اسلام کی تبلیغ کے لیے حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ہدایات اور تسلی دینا ہے۔ چونکہ یہ پچھلی سورتوں کے مقابلے میں مختصر سورتیں ہیں، اس لیے ان سب کے الگ الگ تعارف کی ضرورت نہیں ہے۔ البتہ جس سورت میں ضرورت محسوس ہوگی، انشاء اللہ وہاں تعارف عرض کردیا جائے گا۔

Ayahs 81:1–3

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ دیا جائے گا۔ (1)

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب ستارے ٹوٹ ٹوٹ کر گریں گے۔

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑوں کو چلایا جائے گا۔

1: یہاں سے آیت نمبر 14 تک قیامت اور آخرت کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں۔ سورج کو لپیٹنے کی کیا کیفیت ہوگی ؟ اس کی حقیقت تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ البتہ یہ بات ظاہر ہے کہ اس کے نتیجے میں سورج بےنور ہوجائے گا۔ چونکہ لپیٹنے کو عربی میں تکویر کہا جاتا ہے۔ اس لیے اس سورت کا نام سورة تکویر ہے
Ayah 81:4

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیوں کو بھی بیکار چھوڑ دیا جائے گا۔ (2)

اونٹنی اس وقت عرب کے لوگوں کے لئے سب سے بڑی دولت سمجھی جاتی تھی، اور اگر اونٹنی گابھن یعنی حاملہ ہو تو اس کی قیمت اور بڑھ جاتی تھی، اور دس مہینے کی گابھن ہو تو اسے سب سے زیادہ قیمتی سمجھا جاتا تھا، اس آیت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے وقت ہر شخص پر ایسی حالت طاری ہوگی کہ اسے اتنی بڑی دولت کو بھی سنبھالنے کا ہوش نہیں رہے گا، اس لئے ایسی اونٹنیاں بھی بیکار چھٹی پھریں گی۔
Ayah 81:5

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور اکٹھے کردیے جائیں گے۔ (3)

3: حُشِرَتْ : قیامت کے ہولناک منظر کو دیکھ کر سارے وحشی جانور بھی گھبراہٹ کے عالم میں اکھٹے ہوجائیں گے، جیسے کہ کسی عام مصیبت کے موقع پر تنہا رہنے کے بجائے دوسروں کے ساتھ رہنے کو پسند کیا جاتا ہے۔
Ayah 81:6

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب سمندروں کو بھڑکایا جائے گا۔ (4)

4: سمندروں کے بھڑکانے کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان میں طغیانی آجائے گی اور دریا سمندر آپس میں مل کر ایک ہوجائیں گے اور یہ مطلب بھی ممکن ہے کہ ان کا پانی خشک ہوجائے گا اور ان میں آگ لگادی جائے گی۔
Ayahs 81:7–8

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب لوگوں کے جوڑے جو ٹے بنا دئے جائیں گے۔ (5)

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جس بچی کو زندہ قبر میں گاڑ دیا گیا تھا، اس سے پوچھا جائے گا۔

5: یعنی ایک قسم کے لوگ ایک جگہ جمع کردئیے جائیں گے، کافر ایک جگہ اور مومن ایک جگہ، نیز نیک لوگ ایک جگہ اور بدکار ایک جگہ۔
Ayahs 81:9–15

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ اسے کس جرم میں قتل کیا گیا ؟ (6)

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب اعمال نامے کھول دئے جائیں گے۔

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کا چھلکا اتار دیا جائے گا۔

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ بھڑکائی جائے گی۔

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب جنت قریب کردی جائے گی۔

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تو اس وقت ہر شخص کو اپنا سارا کیا دھرا معلوم ہوجائے گا۔

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

اب میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو پیچھے کی طرف چلنے لگتے ہیں۔

6: جاہلیت کے زمانے میں ایک انتہائی وحشیانہ رسم یہ تھی کہ لوگ عورتوں کو منحوس سمجھتے تھے، اور بعض قبیلے ایسے تھے کہ اگر ان میں سے کسی کے یہاں بچی پیدا ہوجاتی تو وہ شرم کے مارے اس بچی کو زندہ زمین میں دفن کردیتا تھا۔ قیامت میں اس بچی کو لاکر پوچھا جائے گا کہ تمہیں کس جرم میں موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا ؟ اس سے ان ظالموں کو سزا دینا مقصود ہوگا جنہوں نے اس بچی کے ساتھ ایسی درندگی کا معاملہ کیا۔
Ayahs 81:16–17

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

جو چلتے چلتے دبک جاتے ہیں۔ (7)

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور قسم کھاتا ہوں رات کی جب وہ رخصت ہو۔

7: بعض ستارے ایسے ہوتے ہیں کہ وہ کبھی مشرق سے مغرب کی طرف چلتے نظر آتے ہیں، اور کبھی مغرب سے مشرق کی طرف۔ گویا وہ ایک سمت میں چلتے چلتے واپس پلٹ رہے ہیں، پھر چلتے چلتے نگاہوں سے غائب ہوجاتے ہیں، گویا ہوجاتے ہیں، گویا وہ کہیں دبک کر چھپ گئے ہیں۔ ان ستاروں کی یہ گردش اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا عجیب مظہر ہے۔ اس لیے ان کی قسم کھائی گئی ہے۔
Ayah 81:18

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی جب وہ سانس لے۔ (8)

8: صبح کے وقت عموماً ہلکی ہلکی ہوا چلتی ہے جسے باد نسیم کہا جاتا ہے۔ اس ہوا کے چلنے کو بڑی بلاغت کے ساتھ صبح کے سانس لینے سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔
Ayahs 81:19–20

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ یہ (قرآن) یقینی طور پر ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا کلام ہے۔ (9)

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو قوت والا ہے، جس کا عرش والے کے پاس بڑا رتبہ ہے۔

9: اس سے مراد حضرت جبرئیل ؑ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے پاس وحی کے ذریعے قرآن کریم لایا کرتے تھے۔
Ayahs 81:21–22

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے۔ (10) وہ امانت دار ہے۔

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (اے مکہ والو) تمہارے ساتھ رہنے والے یہ صاحب (یعنی حضرت محمد ﷺ کوئی دیوانے نہیں ہیں۔

10: یعنی دوسرے فرشتے ان کی بات مانتے ہیں۔
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ انہوں نے اس فرشتے کو کھلے ہوئے افق پر دیکھا ہے۔ (11)

11: حضرت جبرئیل ؑ عام طور پر تو آنحضرت ﷺ کے پاس کسی انسان کی صورت میں آیا کرتے تھے، لیکن حضور اقدس ﷺ نے ایک مرتبہ انہیں اپنی اصلی صورت میں دیکھنے کی فرمائش کی تھی، اس موقع پر وہ افق پر اپنی اصل صورت میں بھی آپ کے سامنے ظاہر ہوئے، اس آیت میں اس کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے، اس کی کچھ تفصیل سورة نجم میں پیچھے گزرچکی ہے، اس موقع پر اس سورت کے حواشی نمبر : 2، 3، 4 ضرور دیکھ لئے جائیں۔
Ayahs 81:24–29

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ غیب کی باتوں کے بارے میں بخیل بھی نہیں ہیں۔ 012)

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور نہ یہ (قرآن) کسی مردود شیطان کی (بنائی ہوئی) کوئی بات ہے۔

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر بھی تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو دنیا جہان کے لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو سیدھا سیدھا رہنا چاہے۔

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم چاہو گے نہیں، الا یہ کہ خود اللہ چاہے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے۔

12: یعنی حضور اقدس ﷺ کو وحی کے ذریعے غیب کی جو باتیں معلوم ہوتی ہیں، وہ انہیں لوگوں سے چھپاتے نہیں ہیں، بلکہ سب کے سامنے ظاہر فرما دیتے ہیں، جاہلیت کے زمانے میں جو لوگ کاہن کہلاتے تھے، وہ بھی غیب کی باتیں بتانے کا دعوی کرتے تھے، اور شیطانوں سے دوستی کرکے ان سے کچھ جھوٹی سچی باتیں سن لیا کرتے تھے، لیکن جب لوگ ان سے پوچھتے تو وہ انہیں فیس لئے بغیر کچھ بتانے سے انکار کرتے تھے، اللہ تعالیٰ کافروں سے فرما رہے ہیں کہ تم آنخضرت ﷺ کو کاہن کہتے ہو، حالانکہ کاہن تو تمہیں جھوٹی باتیں بتانے میں بھی بڑے بخل سے کام لیتے ہیں، اور پیسے لئے بغیر کچھ نہیں بتاتے، لیکن آنحضرت ﷺ کو غیب کی جو سچی باتیں معلوم ہوتی ہیں وہ بتانے میں بھی نہ بخل سے کام لیتے ہیں، اور نہ اس پر کوئی معاوضہ مانگتے ہیں۔