81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsمظہر القرآن

Ayahs 81:1–6

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب (ف 1) آفتاب لپیٹ دیاجائے گا

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے جھڑ پریں گے

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب حاملہ اونٹنیاں چھٹی پھریں

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانوروں کو جمع کیا جائے

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب سمندر (آگ کی طرح ) سلگائے جائیں

علامات قیامت اور حال۔ (1) تفسیر ابن جریر اور ابن ابی حاتم میں ، اذالشمس کورت سے واذالبحار سجرت تک کی تفسیر میں ابی بن کعب سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ پہلے صور کی چھ نشانیاں ہیں۔ آفتاب کی روشنی جاتے رہی گی، تارے بارش کی طرح آسمان سے زمین پر گرپڑیں گے اور کوئی تارا اپنی جگہ باقی نہ رہے گا، پہاڑ غبار کی طرح ہوا میں اڑتے پھریں گے۔ حاملہ اونٹیوں کو چھوڑ دیں گے کیونکہ اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے جن کے حمل کے گذرچکے ہوں اور بیاہنے کے قریب ہودودھ اور بچے کی توقی پر بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے لیکن قیامت کے ہولناک زلازل کے وقت ایسے نفیس و عزیز مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو اتنا حوش ہوگا کہ ایسے بڑھیا مال کی خبرگیری کرے۔ جنگلی جانور گھبرا کر آدمیوں میں گھس آئیں گے یعنی جنگل کے وحشی جانور جو آدمی کے سایہ سے بھاگتے ہیں مضطرب ہوکر شہر میں گھس آئیں گے اور پالتوجانوروں میں مل جائیں گے جیسا کہ اکثر خوف کے وقت دیکھا گیا ہے۔ دریاسلگ کر آگ ہوجائیں گے یعنی سمندر کا پانی گرم ہوکر دھواں اور آگ بن جائے گا جو نہایت گرم ہو کر محشروں میں کافروں کو دکھ پہنچائے گا اور تنور کی طرح جھونکنے سے ابلے۔ تفسیر عبد بن حمید اور ابن منذر میں سلف سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ ، واذالنفوس زوجت سے واذالجنۃ ازلفت تک چھ نشانیاں دوسرے صور کے وقت کی ہیں جس کا ذکر آگے بیان ہوتا ہے۔
Ayah 81:7

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور (ف 1) جب ارواح کو جسموں سے ملایاجائے

(ف 1) یعنی کافر کافر کے اور مسلم مسلم کے ساتھ پھر ہر قسم کا نیک یابدعمل کرنے والا، اپنے جیسے عمل کرنے والوں کے ساتھ ملادیا جائے اور عقائد اعمال اخلاق وغیرہ کے اعتبار سے الگ جماعتیں بنادی جائیں، یا یہ مطلب ہے کہ روحوں کو جسموں کے ساتھ ملادیاجائے۔
Ayahs 81:8–9

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور (ف 2) جب زندہ دبائی ہوئی لڑکی سے پوچھاجائے

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ تو کس گناہ پر ماری گئی

(ف 2) عرب میں رسم تھی کہ باپ اپنی بیٹی کو نہایت سنگ دلی سے اور بےرحمی سے زندہ کو زمین میں گاڑ دیتا تھا بعض تو تنگدستی اور شادی کے بیاہ اخراجات کے خوف سے یہ کام کرتے تھے اور بعض کو عار تھی کہ ہم اپنی بیٹی کسی کو دیں گے اور وہ ہمارا داماد کہلائے گا، قرآن کریم نے آگاہ کیا کہ ان مظلوم بچیوں کی نسبت بھی سوال ہوگا کہ کس گناہ پر ان کو قتل کیا تھا یہ مت سمجھنا کہ ہماری اولاد ہے اس میں ہم جو چاہیں تصرف کریں بلکہ اولاد ہونے کی وجہ سے جرم اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔
Ayah 81:10

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور (ف 3) جب نامہ اعمال کھولے جائیں

(ف 3) جب تک آدمی دنیا میں زندہ رہتا ہے اس کے ہر طرح کے عمل لکھے جاتے ہیں، قیامت کے دن حساب وکتاب کے لیے وہی کاغذ نکالے جائیں گے اور ہر شخص کو پتہ لگ جائے گا کہ نیکی یابدی کا کیا سرمایہ لے کر حاضر ہوا ہے۔
Ayah 81:11

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور (ف 4) جب آسمان کی کھال اتاری جائے

(ف 4) جیسے جانور کی ذبح کے وقت کھال اتارلیتے ہیں اس سے تمام اعضاء اور رک وریشے ظاہر ہوجاتے ہیں اسی طرح آسمان کے کھل جانے سے اس کے اوپر کی چیزیں نظر آئیں گی اور فرشتوں کا نزل ہوگا، جس کا ذکر انیسویں پارہ آیت، ویوم تشقق السماء بالغمام سے ہوا ہے۔
Ayahs 81:12–13

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب (ف 5) دوزخ دہکائی جائے

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

جب (اللہ کے پیاروں کے لیے ) جنت نزدیک کردیجائے

آتش دوزخ۔ (ف 5) بخاری ومسلم ، ترمذی، وغیرہ میں ابوہریرہ سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ دوزخ کی آگ کی موجود حرارت دنیا کی آگ سے انہتر درجہ زیادہ ہے اس پر قیامت کے دن اس کی آگ کو اور زیادہ زورشور کے ساتھ دہکایا جائے گا کہ اس کے منکر اس کا خوب مزہ چکھیں ۔
Ayahs 81:14–18

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

اس وقت ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو لے کر آیا ہے (ف 1)

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

پس قسم ہے ان ستاروں کی جو الٹے پھریں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

سیدھے چلیں تھم جائیں

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہو

(ف 1) یہ پانچ ستارے ہیں جنہیں متحیرہ کہتے ہیں : زحل۔ مشتری۔ مریخ۔ زہرہ۔ عطارد۔ ان ستاروں کی چال اس ڈھب سے ہے کہ کبھی ٹھٹک کر الٹے پھریں گے اور کبھی سورج کے پاس آکرکتنے دنوں تک غائب رہیں، ان ستاروں کا چلنا ٹھہرنا لوٹنا اور چھپ جانا ایک نمونہ ہے اگلے انبیاء پر بار بار وحی آنے اور ایک مدت دراز تک اس کے نشان باقی رہنے ، پھر منقطع ہو کرچھپ جانے اور غائب ہوجانے کا اور رات کا آنا نمونہ ہے اس تاریک دور کا جوخاتم المرسلین ﷺ کی ولادت باسعادت سے پہلے دنیا پر گذرا۔ کہ کسی شخص کو حق و باطل کی تمیز نہ رہی تھی اور وحی کے آثار بالکل مٹ چکے تھے اس کے بعد صبح کا روشن ہونا حضور کا اس جہان میں تشریف لانا اور قران کا اترنا ہے کہ ہر چیز کو ہدایت کے نور سے دن کی مانند روشن کر دیاگویا اگلے انبیاء کانورستاروں کی طرح تھا اور اس نور اعظم کو آفتاب درخشاں کہنا چاہیے۔
Ayahs 81:19–21

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

بیشک (ف 2) یہ قران عزت والے رسول (یعنی جبرائیل ) کا پڑھنا ہے

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو قوت والا مالک عرش کے حضور عزت والا ہے

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

آسمانوں میں اس کا کہنا ماناجاتا ہے ( اور وحی الٰہی کا) امانت دار ہے

(ف 2) یہ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان ہوئیں مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم جو اللہ کے پاس سے ہم تک پہنچا اس میں دو واسطے ہیں۔ ایک وحی لانے والافرشتہ جبرائیل علیہ السلام۔ دوسرا پیغمبر عربی کی دونوں کی صفات وہ ہیں جن کے معلوم ہونے کے بعد کسی طرح کا شک وشبہ قرآن کے صادق، اور منزل من اللہ ہونے میں نہیں رہتا، کسی روایت کی صحت تسلیم کرنے کے لیے اعلی سے اعلی راوی وہ ہوتا ہے جو اعلی درجہ کا ثقہ ، عادل ، ضابط، حافظ اور امانت دار ہو، جس سے روایت کرے اس کے پاس عزت و حرمت کے ساتھ رہتا ہو بڑے بڑے معتبر ثقات اس کی امانت وغیرہ پر اعتماد کلی رکھتے ہیں اور اسی لیے اس کی بات بےچون وچرا مانتے ہوں، یہ تمام صفات حضرت جبرائیل میں موجود ہیں، وہ کریم عزت والے ہیں جن کے لیے اعلی نہایت متقی اور پاکباز ہونالازم ہے۔ ان اکرمکم عنداللہ اتقکم، وفی الحدیث الکرم التقوی۔ بڑی قوت والے ہیں جس میں اشارہ ہے کہ حفظ وضبط اور بیان کی قوت بھی کامل ہے اللہ کے ہاں ان کا بڑا درجہ ہے سب فرشتوں سے زیادہ بارگاہ ربوبیت میں قرب اور رسائی حاصل ہے آسمانوں کے فرشتے ان کی بات مانتے اور ان کا حکم تسلیم کرتے ہیں، کیونکہ ان کے امین اور معتبر ہونے میں کسی کو شبہ نہیں ، یہ تو رسول ملکی کا حال تھا آگے رسول بشری کا حال بیان ہوگا۔ امام المفسرین حضرت عبداللہ بن عباس اور سلف نے فرمایا ہے کہ انہ لقول رسول کریم۔ سے مراد اس آیت میں حضرت جبرائیل ہیں۔
Ayah 81:22

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (ف 1) تمہارا صاحب مجنون نہیں ہے (جیسا کہ کفار کہتے ہیں)

(ف 1) یعنی نبوت سے پہلے چالیس سال تک وہ تمہارے اور تم اس کے ساتھ رہے اتنی طویل مدت تک اس کے تمام کھلے چھپے احوال کا تجربہ کیا، کبھی ایک مرتبہ اس کا جھوٹ فریب یا مجنون پن کی بات نہ دیکھی ، ہمیشہ ان کے صدق وامانت اور عقل و دانائی کے معترف رہے ، اب بلاوجہ اسے جھوٹا یا مجنون کیونکر کہہ سکتے ہو کیا یہ وہی تمہارا رفیق نہیں ہے جس کے رتی رتی احوال کا تم پہلے سے تجربہ رکھتے ہو، اب اس کو مجنون کہنا بجز دایوانگی کے کچھ نہیں۔
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

(ف 2) اور بیشک انہوں نے اسے یعنی (جبرائیل کو ان کی اصلی صورت میں) روشن کنارہ (یعنی آفتاب کے جائے طلوع پر) دیکھا ہے

(ف 2) بعض کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) کو اصلی صورت میں صاف صاف افق مبین میں یعنی مطلع الشمس میں دیکھا تھا کہ بلندی میں کھڑے تھے۔
Ayah 81:24

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اریہ نبی (ف 3) غیب کی بتانے میں بخل کرنے والے نہیں

پیغمبر ﷺ کا علم غیب۔ (ف 3) یعنی یہ پیغمبر ہر قسم کے غیوب کی خبردیتے ہیں، ماضی سے متعلق ہوں یامستقبل سے ، یا اللہ کے اسماء وصفات سے یا احکام شرعیہ سے ، یا مذاہب کی حقیقت وبطلان سے ، یا جنت دوزخ کے احوال سے یا واقعات بعدالموت سے ، اور ان چیزوں کے بتلانے میں ذرابخل نہیں کرتے نہ اجرت مانگتے ہیں پھر کاہن کالقب ان پر کیسے چسپاں ہوسکتا ہے۔
Ayah 81:25

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور (ف 4) قرآن شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے

(ف 4) بھلاشیطان ایسی نیکی اور پرہیزگاری کی باتیں کیوں سکھلانے لگا جس میں سراسر بنی آدم کا فائدہ اور خود اس ملعون کی تقبیح ومذمت ہو۔
Ayah 81:26

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

(جب یہ سب ثابت ہے) (ف 5) پس کدھر بہکے جاتے ہو ؟

(ف 5) یعنی جب جھوٹ دیوانگی تخیل و تو اہم اور کہانت وغیرہ کے سب احتمالات مرفوع ہوئے تو بجز صدق وحق کے اور کیا باقی رہا، پھر اس روشن اور صاف راستہ کو چھوڑ کر کدھر بہکے چلے جارہے ہو۔
Ayah 81:27

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ (ف 1) قرآن سارے جہان کے لیے ایک نصیحت ہی ہے

(ف 1) قرآن شریف کی نسبت جو احتمالات تم پیدا کرتے ہو سب غلط ہیں اگر اسکے مضامین ہدیات میں غور کرو تو اس سکے سوا کچھ نہیں نکلے گا کہ یہ سارے جہان کے لیے ایک سچا نصیحت نامہ اور مکمل دستورالعمل ہے جس سے ان کے دراین کی فلاح وابستہ ہے۔
Ayah 81:28

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

ایسے (ف 2) شخص کے لیے جو تم میں سیدھاچلنا چاہے

(ف 2) یعنی بالخصوص ان کے لیے نصیحت ہے جو سیدھاچلنا چاہیں عناد اور کجروی اختیار نہ کریں ، کیونکہ ایسے ہی لوگ اس نصیحت سے منتفع ہوں گے۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور (ف 3) تم کیا چاہو مگر یہ کہ اللہ چاہے جو تمام جہان کا پروردگار ہے

(ف 3) یعنی فی نفسہ قرآن نصیحت ہے لیکن اس کی تاثیر مشیت الٰہی پر موقوف ہے جو بعض لوگوں ک لیے متعلق ہوتی ہے اور بعض کے لیے کس حکمت سے ان کے سوء استعداد کی بنا پر متعلق نہیں ہوتی۔