Ayah 81:1اس سورت میں قیامت کے دن کے احوال اور اھوال بیان کیے گئے ہیں کچھ نفخہ اولیٰ کے وقت اور کچھ نفخہ ثانیہ کے وقت کے ہیں، نفخہ اولیٰ کے وقت کے چھ حالات بیان فرمائے ہیں۔ اولاً ﴿اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ001﴾ (جب سورج کو لپیٹ دیا جائے) ۔ کورت لغوی ترجمہ یہ ہی ہے اس کا لپیٹ دینا بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے باہر نہیں ہے اور بعض حضرات نے اس کا یہ مطلب بتایا کہ سورج کی روشنی لپیٹ دی جائے گی یعنی بےنور کردیا جائے گا۔ یہ مطلب حضرت ابن عباس ؓ ، حضرت حسن اور قتادہ اور مجاہد سے مروی ہے۔
Ayah 81:2ثانیاً ﴿ وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ002﴾ (اور جب ستارے گرپڑیں) ۔
Ayah 81:3ثالثاً ﴿ وَ اِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ۪ۙ003﴾ (اور جبکہ پہاڑ چلا دیئے جائیں) پہاڑوں کا اپنی جگہ سے ہٹنا، سورة النمل، سورة طٰہٰ ، سورة مزمل میں بھی مذکور ہے، پہاڑ ریت کی طرح ہوجائیں گے اور اپنی اپنی جگہوں سے چل دیں گے جیسے بادل چلتے ہیں (وھی تمر مر السحاب) ۔
Ayah 81:4رابعاً ﴿ وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ004﴾ (اور جب حمل والی اونٹنیاں بیکار کردی جائیں) اس میں لفظ العشار عشراء کی جمع ہے جس اونٹنی کو دس ماہ کا حمل ہو اسے عشراء کہتے ہیں اور بیکار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نہ کوئی طالب رہے گا نہ چرانے والا، نہ سواری کرنے والا، عرب کے لوگ حمل والی اونٹنیوں کو اپنے لیے بہت بڑا سرمایہ سمجھتے تھے اور قرآن کے اولین مخاطبین وہی تھے اس لیے اونٹنیوں کے بیکار ہونے کا تذکرہ فرمایا کہ تم جن چیزوں کو اپنی مرغوب ترین چیز سمجھتے ہو ان پر ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے کہ ان کی طرف ذرا بھی کوئی توجہ نہ کرے گا۔
Ayah 81:5خامساً ﴿ وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ005﴾ اور جب وحشی جانور جمع کردیئے جائیں۔ مفسرین نے اس کے کئی معنی لکھے ہیں بعض حضرات نے اس کا یہ معنی لیا ہے کہ وحشی جانوروں کو موت آجائے گی اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اس سے قیامت کے دن کا محشور ہونا مراد ہے جیسا کہ سورة ٴ نباء کی آخری آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ضرور تم حقوق ادا کرو گے یہاں تک کہ بےسینگ والی بکری کو سینگوں والی بکری نے مارا ہوگا تو اس کو بھی بدلہ دلوایا جائے گا، اس میں بطور مثال بکری کا ذکر ہے لیکن دوسرے جانوروں کو حال بھی اسی سے معلوم ہو رہا ہے جس میں وحشی جانور بھی آجاتے ہیں، صاحب روح المعانی نے مسند احمد سے اسی حدیث میں حتی الذرۃ من الذرۃ کے الفاظ بھی نقل کیے ہیں یعنی چیونٹی کو بھی چیونٹی سے بدلہ دلایا جائے گا، اگر حشرت کا یہ معنی لیا جائے تو الفاظ قرآن سے بعید نہیں لیکن اس کا تعلق نفخہ ثانیہ سے ہے، اگر یہ بات ملحوظ نہ رکھی جائے کہ ترتیب میں اولاً نفخہ اولیٰ والی چیزیں بیان کی گئی ہیں بلکہ یوں کہا جائے کہ مجموعی حیثیت سے نفختین سے متعلق احوال بیان کردیئے گئے ہیں تو کوئی اشکال باقی نہیں رہتا۔
Ayah 81:6سادساً ﴿ وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ006﴾ (اور جب سمندروں کو دہکا دیا جائے) لفظ سُجِّرَتْ تسجیر سے ماخوذ ہے یہ لفظ آگ جلانے دہکانے بڑھکانے اور تیز کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ صاحب روح المعانی اس کا مطلب بتاتے ہوئے لکھتے ہیں : ای احمیت بان تغیض میاھھا وتظھر النار فی مکانھا یعنی سمندروں کو گرم کردیا جائے گا جس سے ان کے پانی خشک ہوجائیں گے اور ان کی جگہ آگ ظاہر ہوجائے گی۔
Ayah 81:7اس کے نفخہ ثانیہ سے متعلق چھ واقعات بیان کیے :
1 ﴿ وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ007﴾ (اور ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں) کافر علیحدہ اور مسلمان علیحدہ ہوں گے اور ہر فریق کی جماعتیں ہوں گی۔ سورة ٴ ابراہیم میں فرمایا ﴿ وَ تَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِۚ0049﴾ (اور تو اس دن مجرموں کو بیڑیوں میں ایک ساتھ جوڑے ہوئے زنجیروں میں دیکھے گا) ۔
Ayahs 81:8–92﴿ وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُىِٕلَتْ۪ۙ008﴾ (اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کے بارے میں پوچھا جائے) ۔ ﴿ بِاَيِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ009﴾ (کہ وہ کس گناہ میں قتل کی گئی) زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ انتظار میں رہتے تھے کہ دیکھو کیا پیدا ہوتا ہے اگر لڑکا پیدا ہوتا تو اسے زندہ رہنے دیتے تھے اور اگر لڑکی پیدا ہوتی تھی تو اپنے لیے عار سمجھتے تھے اور اسے اسی وقت زندہ ہی دفن کردیتے تھے اگر کسی کے گھر لڑکی پیدا ہوجاتی تو اسے عیب سمجھ کر چھپا چھپا پھرتا تھا جیسا کہ سورة النحل (آیت : 95) میں فرمایا ﴿ يَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ﴾ زندہ نومولود لڑکی کو دفن کردیا جاتا تھا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی خالقیت اور اس کی بخشش سے ناراض تھے بےگناہ بچی کو زندہ درگور کردیتے تھے آیت بالا میں اسی کو بیان فرمایا کہ یہ سوال کیا جائے گا کہ لڑکی کو کس گناہ میں زندہ دفن کیا گیا۔
Ayah 81:103﴿ وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ0010﴾ (اور جب صحیفے پھیلا دیئے جائیں گے) وہ صحیفے جن میں بندوں کے اعمال لکھے گئے تھے سامنے لائے جائیں گے اچھے لوگوں کے داہنے ہاتھ میں اور برے لوگوں کے بائیں ہاتھ میں ہوں گے۔ سورة ٴ بنی اسرائیل میں فرمایا ﴿وَ نُخْرِجُ لَهٗ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ كِتٰبًا يَّلْقٰىهُ مَنْشُوْرًا 0013﴾ (اور ہم اس کے لیے اعمال نامہ نکال دیں گے جسے وہ کھلا ہوا اپنے سامنے موجود پالے گا) اور سورة الکہف میں فرمایا ﴿ وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِيْنَ مُشْفِقِيْنَ مِمَّا فِيْهِ وَ يَقُوْلُوْنَ يٰوَيْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا يُغَادِرُ صَغِيْرَةً وَّ لَا كَبِيْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا 1ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا 1ؕ وَ لَا يَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا (رح) 0049﴾ (اور نامہ اعمال رکھ دیا جائے گا تو آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ اس میں جو کچھ ہوگا اس سے ڈرتے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی اس نامہ اعمال کی عجیب حالت ہے کہ کوئی چھوٹا بڑا گناہ اس نے نہیں چھوڑا جسے نہ لکھا ہو اور جو کچھ انہوں نے کیا تھا وہ سب موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا) ۔
Ayah 81:114﴿ وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ0011﴾ (اور جب آسمان کھول دیا جائے گا) ۔
Ayah 81:125﴿ وَ اِذَا الْجَحِيْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ0012﴾ (اور جب دوزخ کو دہکا دیا جائے گا یعنی دوزخ کی جو آگ ہے اسے مزید جلایا جائے گا تاکہ اور زیادہ گرم ہوجائے) ۔
Ayah 81:136 ﴿ وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ0013﴾ (اور جب جنت کو قریب کردیا جائے گا) یعنی متقیوں کے لیے قریب کردی جائے گی جیسا کہ گمراہوں کے لیے دوزخ کو ظاہر کردیا جائے۔ كما فی سورة الشعراء ﴿وَ اُزْلِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِيْنَۙ0090 وَ بُرِّزَتِ الْجَحِيْمُ لِلْغٰوِيْنَۙ0091﴾ (اور متقیوں کے لیے جنت قریب کردی جائے گی اور گمراہوں کے لیے دوزخ کو سامنے ظاہر کردیا جائے گا) ۔
Ayah 81:14﴿عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ0014﴾ (ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو اس نے حاضر کیے) یعنی جب مذکورہ بالا امور پیش آئیں گے تو ہر جان کو اپنے کیے دھرے کا پتہ چل جائے گا، اعمال نامے سامنے ہوں گے اور خیر اور شر کا جو بھی عمل کیا ہوگا وہ وہاں موجود ہوگا۔
Ayahs 81:15–16ان آیات میں اللہ جل شانہ نے چند مخصوص ستاروں اور رات کی اور صبح کی قسم کھا کر قرآن کریم کی اور قرآن مجید لانے والے فرشتے یعنی جبرائیل (علیہ السلام) کی فضیلت بیان فرمائی ہے اور جو لوگ رسول اللہ ﷺ کو دیوانگی کی طرف منسوب کرتے تھے ان کی تردید کی ہے۔
جن ستاروں کی قسم کھائی ہے ان کے بارے میں الخنس اور الکنس فرمایا ہے۔ الخنس خانس کی جمع ہے جس کا معنی پیچھے ہٹنے والا ہے اور الجوار جاریۃ کی جمع ہے جو (جری یجری) سے اسم فاعل کا صیغہ ہے اور فواعل کے وزن پر ہے، ی کو لکھنے اور پڑھنے میں حذف کردیا گیا ہے اس کا معنی ہے چلنے والے اور الکنس کانس کی جمع ہے اور کنس یکنس کا اسم فاعل ہے جس کا معنی چھپ جانے کا ہے، یقال کنس الوحش اذا دخل کناسہ الذی یتخذہ من اغصان الشجر۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے کہ ان سے پانچ ستارے مراد ہیں یعنی زحل اور عطارد اور مشتری اور مریخ اور زہرہ، ان کو خمسہ متحیرہ بھی کہتے ہیں یہ چلتے چلتے پیچھے کو ہٹنے لگتے ہیں پھر پیچھے ہی کو چلتے رہتے ہیں اور کبھی پیچھے چلتے چلتے اپنے مطالع میں جا چھپتے ہیں۔
ووصفت بما ذکر فی الآیة لانھا تجری مع الشمس والقمر وترجع حتی تخفی تحت ضوء الشمس فخنوسھا رجو عھا بحسب الرؤیة وکنوسھا اختفاء ھاتحت ضوئھا وتسمی المتحیرة لاختلاف احوالھا فی سیرھا فیما یشاھد فلھا استقامة ورجعة واقامة فبینما تراھا تجری الی جھة اذا بھا راجعة تجری الی خلاف تلک الجھة وبینما تراھا تجری اذا بھا مقیمة لا تجری وسبب ذلک علٰی ما قال المتقدمون من اھل الھیئة کونھا فی تداویر فی حوامل مختلفة الحرکات علی مابین فی موضعہ و للمحدثین منھم النافسین لما ذکر مما ھو مذکور فی کتبھم، وھی مع الشمس والقمر یقال لھا السیارات السبع لان سیرھا بالحرکة الخاصة مما لا یکاد یخفی علی احد بخلاف غیرھا من الثوابت) (روح المعانی صفحہ 66: ج 30)
Ayah 81:17﴿ وَ الَّيْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ0017﴾ (اور قسم ہے رات کی جب جانے لگے) لفظ عسعس رباعی مجرد ہے ماضی کا صیغہ ہے اس کے دونوں معنی ہیں ادبر ظلامہ واقبل (تاریکی کا آنا اور جانا) اور دونوں معنی کے لیے آتا ہے صاحب روح المعانی نے فراء نحوی سے نقل کیا ہے کہ مفسرین کا اس پر اجماع ہے کہ یہاں عسعس بمعنی ادبر ہے (جس کو ترجمہ میں اختیار کیا گیا ہے) اور بعض علماء نے فرمایا ہے کہ یہاں بمعنی اقبل ظلامہ (تاریکی لے کر آگیا) زیادہ مناسب ہے تاکہ آئندہ جملہ کے موافق ہوجائے کیونکہ صبح دن کے اول حصہ میں ہوتی ہے لہٰذا دوسری جانب رات کا پہلا حصہ مراد لینا مناسب ہوگا۔
Ayahs 81:18–22﴿وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ0018﴾ (اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لے) یعنی جب وہ آنے لگے (اس سے فجر اول مراد ہے) ان چیزوں کی قسم کھا کر فرمایا کہ بلاشبہ یہ قرآن کلام ہے رسول کریم کا جسے ایک معزز فرشتہ لایا ہے یہ فرشتہ قوت والا ہے اور مالک عرش کے نزدیک رتبہ والا ہے اور وہاں یعنی آسمان میں اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ فرشتہ امانت دار ہے جو وحی کو بالکل صحیح صحیح پہنچاتا ہے۔ اس میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی صفات بیان فرمائی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کلام یعنی قرآن کریم کو لایا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ تک پہنچاتے تھے اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ یہ جو تمہارے ساتھ رہنے والے ہیں یعنی محمد رسول اللہ ﷺ جن کا حال تم خوب جانتے ہو وہ مجنوں نہیں ہیں جیسا کہ منکرین نبوت کہتے ہیں وحی لانے کی صفات بھی تمہیں معلوم ہوگئی اور جس پر وحی آتی ہے اس کا حال بھی تمہیں معلوم ہے۔ لہٰذا قرآن کے بارے میں یہ شک کرنا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے یا نہیں یہ تمہاری غلطی ہے جس نے تمہیں کافر بنا رکھا ہے اوپر جو ستاروں کی اور رات کی اور صبح کی قسمیں کھائی ہیں ان قسموں کے بارے میں صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ مطلوب کے اعتبار سے نہایت مناسب ہے چناچہ ستاروں کا سیدھا چلنا اور رکنا اور چھپ جانا فرشتہ کے آنے اور جانے اور عالم الملکوت میں جا چھپنے کے مشابہ ہے اور رات کا گزرنا اور صبح کا آنا مشابہ ہے ظلمت کفر کے رفع ہوجانے کے اور نور ہدایت ظاہر ہوجانے کے اور ان دونوں کا سبب قرآن کریم ہے۔
Ayah 81:23﴿ وَ لَقَدْ رَاٰهُ بالْاُفُقِ الْمُبِيْنِۚ0023﴾ (اور اس فرشتہ کو رسول اللہ ﷺ نے افق مبین یعنی آسمان پہ صاف کنارے پر دیکھا ہے) حضرت جبرائیل (علیہ السلام) جب وحی لاتے تھے تو حضرت دحیہ کلبی صحابی ؓ کی صورت میں آیا کرتے تھے۔ سرور عالم ﷺ نے انہیں دو مرتبہ ان کی اصل صورت میں دیکھا، ایک مرتبہ شب معراج میں سدرۃ المنتہی کے قریب اور ایک مرتبہ محلہ جیاد میں (جو مکہ معظمہ کا ایک محلہ ہے) دیکھا آپ نے دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں اور پورے افق کو گھیر رکھا ہے۔ (رواہ الترمذی فی تفسیر سورة النجم)
Ayah 81:24پھر فرمایا ﴿ وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِيْنٍۚ0024﴾ (اور رسول اللہ ﷺ غیب کی باتیں بتانے میں بخل کرنے والے نہیں ہیں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو وحی آتی ہے اسے نہیں چھپاتے جیسا کہ لوگ غیب کی بات جاننے کے مدعی ہوتے تھے اور اسے چھپاتے تھے اور اس پر اجرت پاتے تھے۔
Ayahs 81:25–29﴿وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطٰنٍ رَّجِيْمٍۙ0025﴾ (اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے) ۔ ﴿ فَاَيْنَ تَذْهَبُوْنَؕ0026﴾ پس جبکہ وحی لانے والا فرشتہ مذکورہ بالا صفات سے متصف ہے اور جن پر وحی آتی ہے وہ دیوانے بھی نہیں ہے اور نہ کاہن ہیں اور نہ اجرت طلب کرتے ہیں اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کا کلام بھی نہیں ہے تو تم اس کو چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو۔ ﴿اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِيْنَۙ0027 لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَقِيْمَؕ0028﴾ بس یہ قرآن دنیا جہاں والوں کے لیے ایک بڑی نصیحت ہے جو تم میں سیدھی راہ پر چلنا چاہے۔ ﴿ وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآء اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ (رح) 0029﴾ (اور تم نہیں چاہو گے مگر یہ کہ اللہ رب العالمین چاہے) سب کچھ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے۔
والحمد للّٰہ اولاً وآخرًا وباطنًا وظاھرًا