Ayah 81:1(1) ظہور قیامت کے وقت سورج کا حال : سو ظہور قیامت کے موقع پر اس کائنات کی سب سے بڑی اور سب سے نمایاں چیز سورج کے حال کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جب لپیٹ دیا جائے گا سورج کی بساط کو "۔ " تکویر " کے اصل معنی لپیٹنے کے آتے ہیں، چناچہ سر پر پگڑی باندھنے، لپیٹنے کو " تکویر العمامۃ " کہا جاتا ہے۔ اور " کور " کے معنی ہوتے ہیں کہ " اس نے لپیٹ لیا "، سورج کی روشنی کی جو عظیم الشان چادر آج دنیا ساری پر پھیلی ہوئی ہے اس روز اس کو لپیٹ دیا جائے گا، اور یہ دنیا اندھیرے میں ڈوب کر رہ جائے گی، کہ قدرت نے اس دنیا کی روشنی کے نظام کو بنیادی طور پر سورج ہی کے ساتھ وابستہ کر رکھا ہے۔ اور اس کی روشنی اس روز ختم کردی جائے گی، اسی لیے اس کا ترجمہ " جب سورج بےنور ہوجائے گا "۔ جیسے الفاظ سے بھی کیا جاتا ہے، بہرکیف اس سورة کریمہ میں اور اس کے بعد والی دونوں سورتوں میں قیامت کے ہولناک مناظر کی ایسی تصویر کشی کی گئی ہے کہ اس کا ہیبت ناک منظر پوری طرح آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے، چناچہ سنن ترمذی وغیرہ میں حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے وارد منقول ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا کہ جو کوئی قیامت کو اس طرح دیکھنا چاہے جس طرح کہ وہ اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ وہ سورة " اذا الشمس کورت " اور سورة " اذا السماء انفطرت " پڑھ لے، (ترمذی، کتاب التفسیر، وغیرہ) بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب سورج کی بساط کو لپیٹ دیا جائے گا، اس وقت یہ سارا عالم تیرو تار ہو کر رہ جائے گا، اگرچہ سورج کے چھپنے اور اس کی بساط کے لپیٹ دیے جانے کے اس عمل کا مشاہدہ ہم لوگ ہر روز کرتے ہیں، لیکن اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے کہ آج تو صرف یہ صورت پیش آتی ہے کہ یہ چھپ جاتا ہے اور ہم اس سے اوٹ میں ہوجاتے ہیں، لیکن جب قیامت کا وہ ہنگامہ کبری بپا ہوگا تو سورج کا یہ سارا نظام ہی درہم برہم ہوجائے گا، تو پھر اس تاریکی کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، جل وعلا۔
Ayahs 81:2–3(2) اس روز ستاروں کا حال : سو سورج کے بعد ستاروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا " اور جب بےنور ہوجائیں گے ستارے " کہ سورج جو کہ ان سب کی روشنی کا منبع و مرکز ہے جب اس کی بساط ہی کو لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی کو ختم کردیا جائے گا۔ " انکدار " کے مفہوم میں تساقط اور گرنے کے معنی بھی پائے جاتے ہیں اور ماند پڑنے اور دھندلا جانے کے بھی، اس لیے عام تراجم میں اس لفظ کے یہ دونوں ہی ترجمے پائے جاتے ہیں کسی نے بےنور ہونے کے معنی کیے اور کسی نے گر پڑنے کے۔ " ولکل وجھۃ ھو مولیھا " اور ظاہر ہے جب کہ سورج ہی کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی تو اس کے نظام سے وابستہ جتنے بھی بلب اور قمقمے ہیں وہ سب آپ سے آپ بےنور ہوجائیں گے، اور " انکدار " کے لفظ میں جیسا کہ ابھی بیان ہوا چونکہ تساقط اور انتشار کا مفہوم بھی پایا جاتا ہے، اس لیے اس روز صرف یہی نہیں ہوگا کہ ستارے بےنور ہوجائیں گے، بلکہ یہ بکھری بھی جائیں گے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا وَإِذَا الْکَوَاکِبُ انتَثَرَتْ (الانفطار 2 پ 30) سو اس روز عالم بالا کی وہ پر حکمت اور مضبوط بندش ختم ہوجائے گی، جس کی بنا پر آج یہ سب ستارے اور سیارے اپنے اپنے مدار میں گردش کر رہے ہیں، اور اپنی اپنی جگہ ٹھکے اور ٹکے ہوئے ہیں۔
Ayah 81:4(4) محبوب چیزوں کی کسمپرسی اور بےوقعتی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی " نہ کوئی ان کا پوچھنے والا ہوگا نہ خبر گیری کرنیو الا، حالانکہ یہ عربوں کا سب سے عمدہ اور سب سے زیادہ قیمتی مال سمجھا جاتا تھا، اور آج بھی ایسی اونٹنی کی ان کے یہاں بڑی قدروقیمت ہے، حالانکہ اب تو نقل و حمل کے لیے طرح طرح کے جدید ترین ذرائع و وسائل انسان کے پاس موجود ہیں، جبکہ اس زمانے میں ان کا سارا مدارو انحصار ہی اونٹوں پر تھا، سو جب اس وقت ایسے قیمتی مال کے بارے میں بھی لوگوں کا یہ حال ہوگا تو پھر عام اموال کے بارے میں لوگوں کی حالت کا کہنا ہی کیا ؟ " عشار " جمع ہے " عشرائ " کی، جس کے معنی آتے ہیں دس ماہ کی گابھن اونٹنی، یعنی جو بچہ دینے کے قریب ہوتی ہے اور جو کہ عربوں کے یہاں سب سے زیادہ عمدہ اور قیمتی مال تصور کیا جاتا تھا اور کیا جاتا ہے۔ اس کے دودھ اور بچھے کی انتظار میں وہ لوگ ہر وقت اس کی دم کے ساتھ لگے لگے پھرتے تھے، اور کسی وقت بھی اس سے غفلت نہیں برتتے تھے، مگر قیامت کے اس وقت کی ہولناکی کا یہ عالم ہوگا کہ ایسے نفیس ترین مال کا بھی کسی کو ہوش نہیں رہے گا، سو قرآن حکیم کے اولین مخاطب اہل عرب کے خاص ذوق طبیعت کو پیش نظر رکھ کر ارشاد فرمایا گیا کہ قیام قیامت کے اس وقت کہ ہولناکی کا عالم یہ ہوگا کہ کسی کو اپنی محبوب سے محبوب چیز کا بھی کوئی ہوش نہیں رہے گا۔ دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی، ان کے مالکوں کو اپنی پڑٰ ہوگی اور اس طور پر کہ وہ کسی اور چیز کی طرف کوئی توہ ہی نہیں کرسکیں گے، خواہ وہ چیز کتنی ہی قیمتی اور محبوب و مطلوب کیوں نہ ہو، اسی حقیقت کو دوسرے مقام پر اس طرح ادا فرمایا گیا ہے یَوْمَ تَرَوْنَہَا تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ وَتَضَعُ کُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَہَا وَتَرَی النَّاسَ سُکَارَی وَمَا ہُم بِسُکَارَی وَلَکِنَّ عَذَاب اللَّہِ شَدِیْدٌ (الحج 2 پ 17) یعنی " اس دن کی ہولناکی کا عالم یہ وگا کہ ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی "۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان، جل وعلا۔
Ayahs 81:5–6(5) وحشی جانوروں کی یکجائی کا ذکرو بیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا " اور جب اکٹھا کردیا جائے گا وحشی جانوروں کو " یعنی وہ خوف و دہشت کے مارے ایک ہی مقام پر اس طرح اکٹھے ہوں گے کہ نہ کوئی کسی کو ڈسے گا نہ کاٹے گا اور نہ چیر پھاڑ کرے گا "۔ سو یہ تصویر ہے اس وقت کی انتہائی ہولناکی کہ وحشی اور درندے بھی اپنی خو خصلت کو اس روز بھول جائیں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی نفسا نفسی کی ایسی کیفیت طاری ہوگی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہوگی یہ آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب وہاں اکٹھے ہوجائیں گے، جیسا کہ آج بھی جب کبھی کہیں جنگل میں آگ لگ جاتی ہے یا کہیں طوفان یا سیلاب آجاتا ہے تو جنگلی جانور جس کسی ٹیلے پر پناہ کی جگہ ملے وہاں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور مشترکہ مصیبت کا ہول ان پر ایسا طاری ہوجاتا ہے کہ ان میں سے کسی کو اس کا ہوش نہیں رہتا کہ اس کا حریف یا اس کا شکار اس کے بغل میں ہے۔ سو یہی صورتحال خوفناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے اس انتہائی ہولناک موقع پر پیش آئے گی۔ پس اس سے اس وقت کی ہولناکی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ پھر کتنے غلط کار اور کس قدر محروم اور بدبخت ہیں وہ لوگ جو اس ہولناک وقت اس کے تقاضوں سے غافل و لاپروا ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، من کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، ومن کل نوع من انواع العذاب۔
Ayahs 81:7–10(7) ظہور قیامت کے بعد کے احوال کا ذکرو بیان : سو اوپر کی آیات کریمہ میں ان احوال کو بیان فرمایا گیا جو ظہور قیامت کے وقت اور اس موقع پر پیش آئیں گے، اور اب اس آیت کریمہ میں اور اس کے بعد والی آیات کریمہ میں ان امور و احوال کا ذکرو بیان فرمایا جارہا ہے جو ظہور قیامت کے بعد پیش آئیں گے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور جب جوڑ دیا جائے گا جانوں کو اپنے اپنے اجسام کے ساتھ، اور سب لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، نیز انہیں اپنے اپنے ہم جنسوں اور ہم مشربوں کے ساتھ جوڑ کر گروہ در گروہ کردیا جائے گا، نیک نیکوں کے ساتھ ملکر جنت میں چلے جائیں گے، اور وہاں کی سدا بہار نعمتوں سے محظوظ ہوں گے، اللہ پاک ہم سب کو انہی میں سے ہونا نصیب فرمائے آمین۔ اور برے بروں کے ساتھ مل کر دوزخ کا ایندھن بنیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو یہاں سے بیان ہوانے والے چھ واقعات کا ظہور نفخہ ثانیہ کے بعد ہوگا جبکہ آیت نمبر 6 سے پہلے کے چھ واقعات کا ظہور نفخہ اولی کے وقت ہوگا ( بیان القرآن وغیرہ) بہرکیف اس روز لوگوں کی گروہ بندی نئے انداز سے اور نئی بنیادوں پر ہوگی، دنیاوی دھڑے بندوں کے برعکس اس روز لوگوں کی تقسیم اور ان کی گروہ بندی ان کے اعمال اور عقائد کی بنا پر کی جائے گی۔ جیسا کہ سورة واقعہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز تم لوگ تین گروہوں میں بٹ جاؤ گے۔ یعنی اصحاب یمین، اصحاب شمال اور سابقون و مقربون کے تین گروہوں میں۔ اور ان تینوں کے ساتھ حضرت حق جل مجدہ کا معاملہ الگ ہوگا، سو دنیا کے اس دار الامتحان میں تو نیک و بد، اچھے اور برے، مومن و کافر اور موحد و مشرک سب ایک ہی ساتھ رہتے ہیں، یعنی زمین کے اس عظیم الشان فرش کے اوپر اور آسمان کی اس عظیم الشان چھت کے نیچے سب ہی رہتے بستے، کھاتے پیتے اور چلتے پھرتے ہیں، لیکن قیامت کے اس یوم فصل و تمییز میں لوگوں کی تقسیم اور ان کی درجہ بندی ایمان و عمل اور اخلاق و کردار کی بنا پر ہوگی، سچے ایمان و اخلاق والے فائز المرام اور ابدی بادشاہی کے حق دار ٹھہریں گے، جو اس روز عدل کی میزان پر پورے اتریں گے، جعلنا اللہ منھم بمحض منہ وکرمہ و ھو ارحم الرحمین۔ جبکہ اس کے برعکس وہ بدبخت ابدی ضیاع و خسران سے دو چار ہوں گے جنہوں نے کفر و انکار اور تمردوسرکشی کی زندگی گزاری ہوگی، اور انہوں نے آخرت کے اس یوم حساب اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال کر اسی دنیا فانی اور اس کے حطام زائل کو اپنا مقصد اور نصب العین بنایا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، ومن کل نوع من انواع العذاب، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayah 81:11(9) آسمان کے حال کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اس روز آسمان کی حالت و کیفیت کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی "۔ سو جیسا کہ بھیڑ بکری کی کھال اس کے بدن سے کھینچ لی جاتی ہے، تو اس کے اندر کا سب کچھ ظاہر ہوجاتا ہے، اسی طرح آسمان کی کھال کھینچنے کے اس استعار سے سمجھا جائے کہ اس کے نتیجے میں آسمان کے اوپر کے پردے کو ہٹا دیا جائے گا جس سے اس کے احوال و حقائق سب منکشف ہو کر سامنے آجائیں گے، اور وہ سب کچھ نظر آجائے گا جو آج پردے میں ہے، اور جس طرح جانور کی کھال اتار دینے سے اس کے اندر کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے اسی طرح اس روز آسمان سرخ نظر آئے گا، پس یہ آسمان کے سرخ ہونے کی تعبیر ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا فَإِذَا انشَقَّتِ السَّمَاء فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ (الرحمن 37 پ 27) سو جس طرح ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے ایسا ہی حال اس روز آسمان کا ہوجائے گا، اور اس طرح آسمان کے پردے کے پیچھے چھپے حقائق سامنے آجائیں گے اور اس کے بعد نئے قوانین پر مبنی جہان سامنے آئے گا، جو ابدی اور سرمدی ہوگا۔
Ayah 81:12(10) تسعیر جہنم کا ذکر بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور جب بھڑ کا دیا جائے گا دوزخ کو " یعنی اس سود ہکا اور بھڑکا دیا جائے گا مجرموں کے لیے تاکہ وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ جائیں۔ والعیاذ باللہ۔ " تسعیر " کے معنی دہکانے اور بھڑکانے کے ہیں، سو جہنم تیار تو پہلے سے ہوگی لیکن جب مجرموں کو اس میں ڈالنے کا وقت آئے گا، والعیاذ باللہ، تو اس وقت ان کو جلانے کے لیے اس کو خاص طور پر دہکایا اور بھڑکایا جائے گا، پھر جب مجرموں کو اس میں ڈالا جائے گا تو وہ اپنا مطلوب ایندھن پاکر مزید قوت سے بھڑکے گی، اور وہ آگ ایسی ہوگی کہ مجرموں کو دور ہی سے دیکھ کر غیظ و غضب سے چیخ اور چلا اٹھے گی، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے میں اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ إِذَا رَأَتْہُم مِّن مَّکَانٍ بَعِیْدٍ سَمِعُوا لَہَا تَغَیُّظاً وَزَفِیْراً (الفرقان 12 پ 18) یعنی جب وہ آگ مجرموں کو دور سے دیکھے گی تو یہ لوگ اس کے غیظ و غضب اور اس کی چیخ و پکار سنیں گے۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ار حم الرحمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 81:13(11) جنت کو جنتیوں کے قریب کردینے کا ذکرو بیان : سو جنتیوں کے لیے ایک منفرد اور بےمثال اعزازو اکرام کے ذکرو بیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور جب جنت کے قریب کردیا جائے گا " یعنی متقی اور پرہیزگاروں کے لیے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْْرَ بَعِیْدٍ ( ق 31 پ 26) " یعنی جنت کو قریب کردیا جائے گا، متقی اور پرہیزگاروں کے لیے۔ اللہ ہم سب کو انہی میں کرے۔ آمین۔ اس سے معلوم ہوا کہ جنت تیار تو پہلے ہی سے ہوگی، البتہ اس کی نقاب کشائی اس روز ہوگی جب لوگوں کی درجہ بندی ہوجائے گی، اور سورة ق کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں " غیر بعید " کی تصریح سے واضح فرمادیا گیا کہ وہ کہیں دور نہیں ہوگی بلکہ قریب ہی ہوگی، اور قریب ہونے کے باوجود اس کو مزید قریب لایا جائے گا جس سے اہل جنت کی تعظیم و تکریم کا اظہار ہوگا، والحمدللہ رب العالمین۔ بہرکیف اس سے جنتیوں کے لیے ایک منفرد اور بےمثال اعزازو اکرام کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ جنت کو ان کے قریب لایا جائے گا اور اس کو ایک پیشکش کے طور ان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔
Ayah 81:14( 12) انسان کے اپنی کمائی کے علم کا ذکرو بیان : سو اس سے واضح فرمادیا گیا کہ " جب یہ تمام احوال و کوائف واقع ہوجائیں گے تب جان لے گا ہر شخص کہ وہ کیا لے کر آیا ہے ؟ " یعنی یہ آیت کریمہ جواب ہے ان سب شرطیہ جملوں کا جو اس سے پہلے گزرے ہیں۔ یعنی جب یہ سب کچھ ہوجائے گا تو اس وقت زندگی بھر کا کیا کرایا سب کا سب انسان کے سامنے آجائے گا اور وہ اپنے کارنامے خود دیکھ لے گا۔ اچھے ہوں گے تب بھی اور برے ہوں گے تو بھی۔ اور اس کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر حاضر ہوا ہے، پس جو لوگ آج اس یوم حساب کا انکار کرتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں وہ اپنا شوق پورا کرلیں۔ وقت آنے پر وہ سب کچھ ان کے سامنے آجائے گا اور اصل حقیقت ان کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گی، اور ان کو اچھی طرح معلوم ہوجائے گا کہ ان کو کیا کرنا چاہیے تھا اور انہوں نے کیا کیا، اور وہ مزرعہ دنیا سے اپنی آخرت اور وہاں کی حقیقی اور ابدی زندگی کے لیے کیا کما کر لائے ہیں، تب یہ رہ رہ کر افسوس کریں گے اور ایسے اور اس حد تک کہ مارے افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کر کھائیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس حقیقت کی اس طرح تشریح فرمائی گئی ہے۔ وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلَی یَدَیْْہِ یَقُولُ یَا لَیْْتَنِیْ اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُولِ سَبِیْلاً (الفرقان 27 پ 19) یعنی اس روز ایسا ظالم انسان اپنے ہاتھ کاٹ کر کھائے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے رسول کا راستہ اپنایا ہوتا، تو آج یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا، مگر بےوقت کے اس افسوس سے اس کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا، سوائے اس کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayah 81:15(13) منکرین کے زعم باطل کی تردید کا ذکرو بیان : سو منکرین و مکذبین کے زعم باطل کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا اور حرف ردع کی تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " پس نہیں " یعنی ایسا نہیں جیسا کہ تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ یہ قرآن حکیم کوئی انسانی کلام یا کسی دیوانے کی بڑ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ایسا نہیں اور ہرگز نہیں، بلکہ یہ کلام حق ترجمان اور حکمت نظام سراسر کلام خداوندی اور وحی الہی ہے، جس کی قسم کھا کر موکد کیا جارہا ہے۔ پس جو بدبخت اپنی شقاوت و بدبختی کی بنا پر اس کو کاہنوں اور نجومیوں کا کلام قرار دے رہے ہیں وہ بڑے ہی ہولناک ظلم کا ارتکاب کرتے اور اپنی شقاوت اور بدبختی کی سیاہی کو مزید پکا اور گہرا کرتے اور خود اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں، مگر اپنی شقاوت و بدبختی کی بناء پر ان کو اس کا احساس و شعور بھی نہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال اور اس کے ہر شائبے سے محفوظ رکھے اور ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق بخشے، آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال۔
Ayahs 81:16–17(14) ستاروں کی قسم ان کی بعض خاص صفات کے اعتبار سے : سو اس سے قرآن حکیم کی حقانیت و صداقت کے اثبات کے لیے خاص ستاروں کی قسم کھائی گئی، یعنی پیچھے ہٹنے والے، لگاتار چلنے والے، اور چھپ جانے والے ستاروں کی۔ پس ستاروں کا یہ سیدھا چلنا لوٹ آنا اور چھپ جانا فرشتے کے آنے واپس جانے اور عالم ملکوت میں چھپ جانے کے مشابہ ہے۔ (تفسیر عثمانی) سو اسی طرح قرآن حکیم کے ذریعے جہالت کی ظلمت و تاریکی کے چھٹ جانے اور نور ہدایت و ایمان کے پھیلنے اور عام ہونے کو اس کے مشابہ سمجھو۔ اور یہ سوچو کہ جس ذات اقدس و اعلی نے سورج چاند اور ستاروں کے ذریعے تمہارے لیے اس ظاہری اور حسی روشنی کا اس طرح انتظام فرمایا ہے، کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہارے لیے وحی کی معنوی اور روحانی بارش کا کوئی انتظام نہ فرمائے ؟ سو اسی لیے اس نے قرآن حکیم کو نازل فرمایا جو کہ سب کتابوں کی خاتم، جامع اور مھیمن کتاب ہے، اور جس کے ذریعے رسالت سماویہ کی تکمیل اور ان کا خاتمہ کردیا گیا۔ " خنس " جمع ہے " خانس " کی، جس کے معنی آگے بڑھ کر پیچھے ہٹنے والے اور ظاہر ہو کر غائب ہوجانے والے کے ہیں، یہ لفظ ستاروں کی صفت کے طور پر آتا ہے، اس لیے بسا اوقات اس کا ذکر موصوف کے ذکر کے بغیر ہوتا ہے، اور " جوار " جمع ہے " جاریہ " کی، یعنی چلنے والے اور " کنس " جمع ہے " کانس " کی جس کے معنی چھپنے والے کے آتے ہیں۔ چناچہ عربی زبان و محاورہ میں کہا جاتا ہے " کنس الظبی اذا دخل کناسھا "۔ یعنی ہرن اپنے کناس میں داخل ہوگیا اور کناس جھاڑیوں وغیرہ سے بنائی گئی اس جگہ کو کہا جاتا ہے جو ہرن کے چھپنے اور ٹھہرنے کے لیے ہوتی ہے ( تفسیر المراغی وغیرہ) سو " کست النجوم " کے معنی ہوں گے کہ " ستارے اپنے مدار میں چلے اور پھر اپنے ٹھکانوں پر پہنچ کر چھپ گئے "۔ اور حضرات اہل علم نے فرمایا ہے کہ یہ صفت ستاروں کی مشترکہ صفت ہے، سو ستاروں کی ان خاص صفات کا حوالہ دے کر اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرمادیا گیا کہ ستاروں کا یہ طلوع و غروب ان کا ایاب و ذہاب اور اس قدر پابندی کے ساتھ ان کا ظہور و خنوس کہ منٹ سیکنڈ کا بھی فرق نہ پڑے پائے، اس بات کی کھلی اور واضح دلیل ہے کہ یہ اس کائنات میں نہ خود مختار ہیں اور نہ موثر بالذات۔ بلکہ ان کی باگ ڈور ایک نہایت ہی قادر وقیوم اور حکیم وعلیم ذات اقدس و اعلی کے ہاتھ میں ہے۔ وہی ہے اللہ وحدہ لا شریک، معبود برحق، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ کلام حکمت نظام و حق ترجمان اسی کا اتارا ہوا کلام اور اسی کا ارشاد و فرمان ہے، اس کو کاہنوں اور نجومیوں سے نہ کوئی تعلق ہے، نہ ہوسکتا ہے۔ پس جو ایسا کہتے ہیں وہ نرا جھوٹ بولتے ہیں اور بڑے سخت ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم جل وعلا۔
Ayah 81:18(15) صبح کی قسم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لینے لگے، اور یہ اس لیے کہ اس سے دن کا آغاز ہوتا ہے، اور تمہارے لیے معاش کی طرح طرح کی راہیں کھلتی ہیں، تو جس خالق ومالک نے تمہاری جسمانی اور مادی ضرورتوں کی تکمیل و تحصیل کے لیے ایسا پر حکمت انتظام فرمایا ہے کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانی ضرورتوں کی تکمیل کا کوئی سامان نہ فرمائے، جبکہ اصل چیز تو روح اور اس کے تقاضے ہی ہیں، سو یہ خالص کلام خداوندی ہے جو قیامت تک دنیا کو حق و صواب کے راستے کی راہنمائی کرتا رہے گا، سورة مدثر میں اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا والصبح اذا اسفر۔ یعنی قسم ہے صبح کی جب وہ روشن ہوجائے اور یہاں فرمایا گیا " اذا تنفس " یعنی " جب وہ سانس لینے لگے "۔ سو اس تعبیر میں بلاغت کا یہ اسلوب کار فرما ہے اور اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ صبح گویا رات کے بوجھ تلے اس طرح دبی ہوئی تھی کہ اس کا دم گھٹ رہا تھا، تو اللہ تعالیٰ جب اپنی قدرت کاملہ حکمت بالغہ و رحمت شاملہ اور عنایت فائقہ سے رات کا بوجھل لحاف اس سے سرکاتا ہے تو اس کو سانس لینے اور اٹھانے کو موقع ملتا ہے۔ فللہ الحمد والشکر۔ اور اس کے نتیجے میں دنیا کو روشنی نہار کی نعمت ملتی ہے، جس سے دنیا کی ہر چیز روشنی اور دن کے اجالے میں آجاتی ہے، اور انسان کے لیے خیر و شر اور نفع و ضرر کے سب مواقع واضح ہوجاتے ہیں، سو اسی طرح قرآن حکیم کے اس نور مبین کے اجالے سے پہلے دنیا طرح طرح کے ہولناک اور گھٹا ٹوپ اندھیروں میں پڑی کراہ رہی تھی، اور ظلم و جور کی چکی میں پستی جارہی تھی، یہاں تک کہ حضرت حق جل مجدہ کی رحمت بیکراں اور عنایت بےنہایت نے دنیا کو قرآن حکیم کے اس نور مبین اور اس کی حکمت لازوال سے سرفراز فرمایا، جس سے حق و ہدایت کی راہ مستقیم پوری طرح واضح اور روشن ہوگئی۔ اور اس قدر درجہ تمام و کمال میں کہ راہ حق و ہدایت اور طریق فوز و فلاح کی تعیین و توضیح میں کسی خفا و غموض کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی۔ سو اس نور مبین کے طلوع و ظہور کے بعد جو اس سے منہ موڑیں گے اور اس کے اعراض و روگردانی برتیں گے وہ اپنی ہلاکت و بربادی کے ذمہ دار خود ہوں گے کہ ان کی مثال اس بدبخت انسان کی سی ہے جو آفتاب نصف النہار کی روشنی میں آنکھیں بند کر کے جانتے بوجھتے ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں گرے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔
Ayahs 81:19–22(16) دعوائے مقصود کا ذکر وبیان : سو اوپر کی دونوں قسموں کے مقسم علیہ یا بالفاظ دیگر اصل دعوائے مقصود کے ذکر وبیان کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور " ان " کے کلمہ تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ بلا شبہ یہ قرآن لایا ہوا کلام ہے ایک بڑے باعزت رسول کا، یعنی یہ اضافت اس کلام حکیم کے انزال و ایصال کے اعتبار سے ہے، کہ جبریل امین جو کہ یہاں پر ان صفات کا مصداق ہیں وہی قرآن حکیم کو حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے لانے والے ہیں، اس لیے اس کو ان کی طرف منسوب فرمایا گیا ہے، ورنہ یہ کلام معجز نظام ان کا نہیں حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کا کلام ہے، جو کہ اس کے بندوں کے پاس ان دو واسطوں سے آتا ہے، ایک واسطہ جبریل امین کا ہے اور دوسرا محمد رسول اللہ ﷺ کا، سو یہاں پر ان دونوں میں سے پہلے واسطے یعنی جبریل امین کا ذکر ہے اور سورة الحاقہ کی آیت نمبر 40 میں دوسرے واسطے یعنی نبی اکرم ﷺ کا۔ اور دونوں جگہ میں ان دونوں ہستیوں کے لیے لفظ رسول لا کر یہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ کلام ان کا اپنا نہیں بلکہ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے لایا ہوا کلام ہے۔ بہرکیف یہاں پر رسول سے مراد حضرت جبریل امین ہیں، کیونکہ یہاں پر جو صفات بیان فرمائی گئی ہیں ان سے یہ امر واضح اور معین ہوجاتا ہے کہ یہاں پر ان کے موصوف سے مراد جبریل امین ہی ہیں۔ علیہ الصلوۃ والسلام۔ سو یہ رب العالمین کا کلام ہے جو اس نے جبریل امین کے واسطے سے دنیا میں پہنچایا۔
Ayah 81:23(18) فرشتے کو دیکھنے کی حقیقت کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید در تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ انہوں نے دیکھا اس رسول کریم کو روشن افق پر "۔ جو کہ مشرقی جانب تھا، جدھر سے سورج طلوع کرتا ہے، حضرات علماء و مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ اس رویت یعنی دیکھنے سے مراد غار حرا کے واقعے کے بعد کا دیکھنا ہے، جبکہ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبریل امین کو ان کی اصل شکل میں دیکھا تھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں، آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر براجمان ہیں اور مشرق و مغرب کے فراغ کو بھر رکھا ہے، جس کا ذکر سورة نجم میں فرمایا گیا ہے ( ابن کثیر، صفوہ، مدارک، قرطبی، مراغی وغیرہ) سو منکرین کے قلب و ضمیر کو جھنجوڑتے ہوئے اور ان پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر پیغمبر یہ دعوی کرتے ہیں کہ انہوں نے اس فرشتے کو دیکھا ہے جو ان کے پاس وحی لے کر آتا ہے تو اس میں کوئی جھوٹ یا فریب نفس نہیں ہے، بلکہ یہ قطعی حقیقت ہے جس کو وہ بیان کر رہے ہیں، انہوں نے یقینا اور بلا شبہ اس فرشتے کو دیکھا اور صاف افق میں دیکھا ہے جس میں کسی قسم کے شک اور شبے کی کوئی گنجائش نہیں۔ تو پھر اس کو القائے شیطانی یا فریب نفس قرار دینا کتنا بڑا ظلم ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال و سوء وانحراف۔
Ayah 81:24(19) لفظ " ضنین " کا معنی و مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور پیغمبر اس غیب کے بتانے میں بخل سے کام لیتے "۔ جو کہ اللہ پاک کی طرف سے آپ کو عطا فرمایا گیا، نہ اس پر آپ کسی سے کوئی صلہ اور اجر مانگتے ہیں اور نہ کاہنوں اور نجومیوں کی طرح اس کو چھپاتے روکتے ہیں، بلکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے الفاظ میں آپ ﷺ نے اسے حضرت واہب مطلق جل و علا سے مفت پایا، اور اس کو آگے خلق خدا میں اسے مفت ہی تقسیم فرمایا۔ اور دنیا جہاں کو روشن ومنور کردیا۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ۔ پس اہل بدعت کا اس آیت کریمہ سے علم غیب کلی کے اپنے شرکیہ عقیدے پر استدلال کرنا درست نہیں، کیونکہ مطلق غیب کا کوئی بھی منکر نہیں کہ وہ آپ کے منصب نبوت و رسالت کا مقتضی ہے، اور یہ قرآن سارا ہی غیب سے آیا ہے جو آپ نے پورے کا پورا پہنچا اور سنا دیا۔ اور علم غیب کلی جس کا دعوی اہل بدعت کرتے ہیں اس کا یہاں کوئی ثبوت و وجود نہیں، پس جو ثابت ہے اس سے ان کا مدعا پورا نہیں ہوتا، اور جو ان کا مدعا ہے وہ یہاں سے ثابت نہیں ہوتا، واضح رہے کہ " ضنین " کے لفظ میں دو قراتیں ہیں۔ ایک ضاد کے ساتھ جس کے معنی بخل و کنجوسی کے آتے ہیں، اوپر جو مطلب بیان ہوا ہے وہ اسی قرات کے مطابق اور اسی کے اعتبار سے بیان ہوا، جبکہ دوسری قرات اس میں ظاء کی بھی ہے یعنی " ظنین " جس کے معنی متہم کے آتے ہیں، جو کہ مشتق و ماخوذ ہے " مظنہ " سے، جس کے معنی تہمت کے آتے ہیں، سو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ یہ پیغمبر غیب بتانے کے بارے میں متہم نہیں ہیں، یعنی غیب کا جو اور جس قدر علم آپ کے پاس بذریعہ وحی آیا، اس کے بارے میں آپ ﷺ نے ایسا نہیں کیا کہ اس میں سے کچھ چھپا دیاہو، بلکہ آپ ﷺ نے وہ سب کا سب بلا کسی کم وکاست کے آگے بیان فرما دیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر آپ کو اس بارے میں اپنے رب کی طرف سے اس طرح اس کا حکم و ارشاد فرمایا گیا۔ یَا أَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکَ مِن رَّبِّکَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاللّہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الْکَافِرِیْنَ ( المائدہ 67 پ 6) سو پیغمبر کو وحی کے ذریعے جتنا اور جو علم ملا تھا وہ آپ ﷺ نے پورے کا پورا آگے پہنچا دیا، کیونکہ آپ ﷺ کو آپ کے رب کی طرف سے صاف اور صریح طور پر اس کا حکم و ارشاد فرمایا گیا تھا اور اس تاکید کے ساتھ کہ اگر آپ نے ایسے نہ کیا جو آپ نے اپنے رب کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا۔ وان لم تفعل فما بلغت رسالہ۔
Ayah 81:25(20) یہ قرآن شیطان مردود کا کلام نہیں ہوسکتا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہوسکتا اور صاف صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا جیسا کہ مشرکین کا کہنا ہے، والعیاذ باللہ۔ بھلا ایسے عظیم الشان، پاکیزہ اور کلام معجزہ کو جو کہ سراسر ہدایت عین رحمت اور نری خیر و برکت ہے، اور جو کہ دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا ذریعہ وضامن و کفیل و وکیل ہے۔ اس کی شیطان مردود سے نسبت ہی کیا اور کیونکر ہوسکتی ہے ؟ـ جس کا کام ہی فتنہ و فساد اور اغوا واضلال ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " رجیم " کا لفظ یہاں پر " کریم " کے مقابلے میں آیا ہے، یعنی جو فرشتہ پیغمبر کے پاس وحی لے کر آیا ہے وہ ایک نہایت ہی عالی مرتبت اور معزز فرشتہ ہے، جبکہ تمہارے کاہنوں پر جو شیاطین اترتے ہیں وہ مارے کھد یڑے اور اندے دھتکارے جاتے ہیں۔ " رجیم " کے اصل اور لغوی معنی سنگسار کیے گئے کے ہوتے ہیں، اور یہ لفظ شیطان مردود کے لیے اس کے وصف لازم کے طور پر استعمال ہوتا ہے کہ وہ مردود ہر خیر سے محروم و مطرود اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کا مورد و مستحق ہے، تو پھر ایسے مردود و ملعون کے قرآن حکیم کے اس کلام حق و صدق ترجمان کی کسی نسبت کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ اس لیے یہاں پر کفار و مشرکین کے قلوب و ضمائر پر ایک دستک کے طور پر ان سے فرمایا گیا کہ تم لوگ کہاں کی بات کہاں جوڑتے اور کس کا پیوند کس میں لگاتے ہو ؟ اور تمہاری مت کہاں اور کس قدر ماری گئی کہ تم لوگ اس کلام حق صدق کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتے ہو ؟ روایات کے مطابق فترت وحی کے زمانے میں جبکہ آنحضرت ﷺ سے وحی کچھ عرصے کے لیے بند ہوگئی تھی، تو کفار نے آپ کی دل آزاری کے لیے اسی طرح کی باتیں کہیں۔ چناچہ ابولہب کی بیوی ام جمیل نے جو کہ آنحضرت ﷺ کی چچی لگتی تھی، اور جس کا گھر حضور ﷺ کے گھر کے بالکل متصل تھا اس نے آپ ﷺ سے کہا " اراک ان شیطانک قد ودعک و قلاک " یعنی " مجھے لگتا ہے کہ تمہارے شیطان نے تم کو چھوڑ دیا اور وہ تم سے ناراض ہوگیا "۔ ( التحریر والتنویر لابن عاشور وغیرہ) والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال و من کل سو وانحراف۔ سو کفار و مشرکین کی اس طرح کی صفوات و خرافات کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ یہ قرآن کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہوسکتا۔
Ayah 81:26(21) ہٹ دھرموں کے رویے پر اظہار تعجب و افسوس : چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم لوگ آخر کہاں جارہے ہو ؟ جو حق و صداقت کی واضح شاہراہ کو چھوڑ کر طرح طرح کی پگڈنڈیوں میں بھٹکتے اور بہکتے پھرتے ہو، اور طرح طرح کے اندھیروں میں پڑے دکھے کھا رہے ہو، جبکہ حق اور ہدایت کی یہ عظیم الشان نعمت تمہارے پاس آچکی، سو اس سے ہٹ دھرموں کی کو رذوقی و بدبختی اور ان کے عناد و ہٹ دھرمی پر اظہار تعجب و افسوس فرمایا گیا ہے کہ کہاں یہ قرآن حکیم اور کلام مجید ؟ اور کہاں کاہنوں اور شیاطین کی تک بندیاں اور ان کی خرافات ؟ ان دونوں میں نسبت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ آخر تم لوگ ضد اور ہٹ دھرمی کے جنون میں کہاں سے کہاں نکلے جارہے ہو، اور کتنی عظمت و بلندی سے منہ موڑ کر کس قدر ہولناک پستی میں اوندھے منہ گرتے ہو ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو جن پر عناد و ہٹ دھرمی کا بھوت سوار ہوجاتا ہے اور جنگی شقاوت و بدبختی ان پر غالب آجاتی ہے، والعیاذ باللہ، وہ ایسے ہی اوندھے اور اندھے ہوجاتے ہیں اور وہ حق و ہدایت کی شاہراہ کو چھوڑ کر اور نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک اور گہرے کھڈوں کی طرف چل پڑتے ہیں اور ایسے ہولناک خسارے میں مبتلا ہوجاتے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین ویا اکرم الاکرمین۔
Ayah 81:27(22) قرآن حکیم ایک عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ تو ایک عظیم الشان نصیحت اور یاد دہانی ہے سب جہاں کے لیے اور یہ ایسی خالص، کامل، جامع اور عظیم الشان نصیحت و یاد دہانی جس میں کسی شک و شبہ یا نقص و عیب کی کوئی گنجائش نہیں، جو دنیا وآخرت کی سعادت و سرخروئی کی کفیل اور ضامن ہے، اور جس کی کوئی نظیر و مثال نہ اس سے پہلے کبھی پائی گئی اور نہ آئندہ کبھی ممکن ہوسکتی ہے، سو ایسی عظیم الشان و بےمثل نعمت و نصیحت سے منہ موڑنے والوں سے بڑھ کر بدبخت و محروم اور کون ہوسکتا ہے ؟ والعیاذ باللہ العظیم۔ پس یہ عظیم الشان تزکیر و یاد دہانی انسان کو یاد کراتی ہے اس کے مقصد حیات کو اور اس کو آگاہ و باخبر کرتی ہے اس کے مآل وانجام سے، او اس کے آگے آنے والے اس ہولناک وقت سے جس نے بہرحال آکر رہنا ہے، اور جس سے کسی کے لیے کوئی مفر ممکن نہیں، اور یہ اس بارے میں ایسی یاددہانی کراتی ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں، سو اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ کس قدر احسان ہے اس کتاب حکیم کا دنیا جہاں پر، اور کس قدر ظالم اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس کتاب حکیم اور اس نور مبین سے منہ موڑے ہوئے ہیں، اور وہ اس سے اعراض و روگردانی برتتے ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔
Ayah 81:28(23) اصل مدار انسان کے اپنے ارادہ و نیت پر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دارومدار انسان کی طلب و صادق پر ہے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا " تم میں سے ہر اس شخص کے لیے جو سیدھا چلنا چاہیے " یعنی اس نور حق و ہدایت سے فائدہ ایسے ہی لوگ اٹھا سکتے ہیں جو اپنے قلب و باطن میں نور حق و ہدایت سے سرفرازی کے لیے تڑپ اور طلب صادق رکھتے ہیں، ورنہ یہ نصیحت سب دنیا جہان کے لیے عام ہے، مگر جو لوگ صراط مستقیم اور راہ حق و ہدایت چاہتے ہی نہ ہوں ان کو اس نور مبین اور کتاب حکیم سے کوئی ہدایت و راہنمائی کیونکر نصیب ہوسکتی ہے ؟ کیونکہ نور حق و ہدایت سے بہرہ مندی اور سرفرازی کے لیے اولین شرط اور بنیادی تقاضا طلب صادق ہے، ارشاد ہوتا ہے أَنُلْزِمُکُمُوہَا وَأَنتُمْ لَہَا کَارِہُونَ ( ہود 28 پ 12) یعنی " ایسا نہیں ہوسکتا کہ تم نور حق و ہدایت کو چاہو ہی نہ بلکہ اس کو ناپسند سمجھو اور ہم اس کو یونہی تم لوگوں پر چپکا دیں "۔ سو حق و ہدایت کی دولت جو سب سے بڑی اور بےمثال دولت ہے وہ حضرت واہب مطلق جل جلالہ کی طرف سے ملتی تو مفت اور بالکل مفت ہے، لیکن اس سے سرفرازی انہی خوش بختوں کو نصیب ہوتی ہے جو اس کی قدر کرنے والے ہوں، اور وہ اس سے سرفرازی کے لیے اپنے قلب و باطن میں طلب صادق اور سچی تڑپ رکھتے ہوں، پس جو طلب صادق کے اس گوہر مقصود سے محروم ہوتے ہیں وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز و بہرہ مند نہیں ہوسکتے۔ سو انسان کے بناؤبگاڑ اور اس کے صلاح و فساد کا اصل تعلق اور اس کا مدارو انحصار اس کے اپنے قلب و باطن اور اس کی نیت و ارادہ پر ہے، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین۔
Ayah 81:29(24) اللہ تعالیٰ کی مشیت سب پر حاوی و غالب : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کی مشیت سب پر حاوی اور غالب ہے، اور مشیت دراصل اللہ تعالیٰ ہی کی ہے جو پروردگار ہے سب جہانوں کا، کہ سب کچھ اسی خالق ومالک حقیقی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، اس کی خدائی میں اس کی مشیت و منظوری کے بغیر کچھ بھی نہیں ہوسکتا، پس ہمیشہ اسی سے توفیق و عنایت کا سوال کرو۔ بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی اس سنت مطہرہ اور دستور خداوندی کا حوالہ دیا گیا ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے بارے میں اپنے کمال علم و حکمت کی بنا پر ٹھہرا رکھی ہے کہ وہ ہدایت کی توفیق و عنایت سے انہی کو نوازتا ہے جو اس کے طالب ہوتے ہیں، اور وہ اس کے لیے اپنی فطری اور جبلی صلاحتیں برائے کار لاتے ہیں، اس طرح اے لوگ حق و ہدایت کے نور سے سرفراز ہو کر نور علی نور کا مصداق بن جاتے ہیں، والحمدللہ جل وعلا، اور اس کے برعکس جو اندھے اور بہرے بن کر زندگی گزارتے ہیں، اور وہ حق بات سننے ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے، ان کو وہ انہی کے حال پر چھوڑ دیتا ہے، تاکہ وہ اپنی اختیار کردہ اور پسند کردہ ضلالت و گمراہی میں پڑے بھٹکتے رہیں جس کے نتیجے میں آخر کار وہ ہاویہ جہنم میں گر کر رہتے ہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارہ اس طرح تصریح فرمائی گئی وَمَن یُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِن بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُ الْہُدَی وَیَتَّبِعْ غَیْْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّہِ مَا تَوَلَّی وَنُصْلِہِ جَہَنَّمَ وَسَاء تْ مَصِیْراً (النسائ، 115 پ 5) یعنی جو راہ حق و ہدایت کے واضح ہوجانے کے باوجود اس سے منہ موڑتے ہیں، ان کو ہم ادھر ہی چلتا کردیتے ہیں جدھر کا رخ انہوں نے خود کیا ہوتا ہے، اور آخر کار ان کو قعر جہنم میں جھونک دیا جاتا ہے، جو بڑا ہی برا اور انتہائی ہولناک ٹھکانا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، وبیدہ ازمۃ الھدایۃ والرشاد، اللھم فثبت اقدامنا علی الصراط المستقیم، و خذ بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک من القول والعمل بکل حال من الاحوال، و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، والیہ المرجع والمآب۔