81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتفسیرِ جلالین

Ayahs 81:1–3

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے بےنور ہوجائیں گے

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، جب سورج لپیٹ دیا جائے گا اور اس کی روشنی ختم کردی جائے گی، اور جب تارے جھڑ جائیں گے اور زمین پر گرجائیں گے، اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے، یعنی ان کو سطح زمین سے اکھاڑ دیا جائے گا تو وہ اڑتے ہوئے غبار کی مانند ہوجائیں گے اور جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی (یعنی) بغیر نگران یا بغیر دوھے چھوڑ دی جائیں گی، اس لئے کہ ان کو ایک عظیم ہولناکی نے خوف زدہ کردیا ہوگا اور عرب کے نزدیک دس ماہہ گابھن اونٹنی سے زیادہ نفیس مال کوئی نہیں تھا، اور جب بعث کے بعد جنگلی جانور سمیٹ کر جمع کردیئے جائیں گے تاکہ بعض کا بعض سے بدلہ لیا جائے اور پھر وہ مٹی ہوجائیں اور جب سمندر بھڑکا دیئے جائیں گے تخفیف و تشدید کے ساتھ تو وہ آگ (کے مانند) ہوجائیں گے اور جب جانیں اپنے جسموں سے جوڑ دی جائیں گی اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے قاتل کو لاجواب کرنے کے لئے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی ؟ اور (قتلت) کو تاء کے کسرہ کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے، اس کی حکایت کرتے ہوئے جس کے ذریعہ اس کو خطاب کیا جائے گا اور اس کا جواب یہ ہوگا کہ وہ کہے گی کہ مجھے بلا کسی قصور کے قتل کیا گیا اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے اور پھیلائے جائیں گے، تخفیف اور تشدید کے ساتھ، اور جب آسمان کا پردہ ہٹا دیا جائے گا، (یعنی) اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائے گا جس طرح بکری سے کھال اتار دی جاتی ہے اور جب جہنم کی آگ دہکائی جائے گی، (سعرت) تخفیف اور تشدد کے ساتھ اور جب جنت قربت کردی جائے گی، جنتیوں کے لئے تاکہ اس میں داخل ہوجائیں، اول سورت میں اذا اور اس پر جو معطوف ہے اس کا جواب علمت نفس الخ ہے (اس وقت) ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا، یعنی ہر شخص کو ان مذکورہو اوقات میں اور وہ قیامت کا دن ہے (معلوم ہوجائے گا) کہ وہ خیر و شر میں سے کیا لایا ہے ؟ بس میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے والے اور چھپنے والے ستاروں کی (لا زائدہ ہے) اور وہ پانچ ستارے ہیں 1 زحل 2 مشتری 3 مریخ 4 زہرہ 5 عطارد، تخنس نون کے ضمہ کے ساتھ یعنی اپنے راستہ میں پیچھے کی طرف پلٹتے ہیں جب تو ان ستاروں کو آخربرج میں دیکھے کہ اچانک پلٹ جاتے ہیں اپنے اول برج کی طرف اور تکنس نون کے کسرہ کے ساتھ، (اس کے معنی ہیں) داخل ہوجائے اپنی جھاڑی میں یعنی ایسے مقام میں گھس جائے جہاں وہ چھپ سکے، اور (قسم ہے) رات کی جب وہ اپنی تاریکی کے ساتھ آئے یا جائے، اور صبح کی جب کہ وہ دراز ہو یہاں تک کہ روشن دن ہوجائے یہ قرآن فی الواقع ایک پیغامبر کا قول ہے جو عند اللہ بزرگی والا ہے اور وہ جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) ہے، قول کی نسبت جبرئیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کی طرف اس کے ذریعہ نازل ہونے کی وجہ سے کردی گئی ہے قوت والا یعنی مضبوط قویٰ والا ہے اور عرش والے یعنی اللہ کے نزدیک بلند مرتبہ ہے، عندذی العرش، مکین سے متعلق ہے وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے یعنی آسمانوں میں فرشتے اس کی بات مانتے ہیں، وہ وحی کے بارے میں با اعتماد ہے (اور اے اہل مکہ ! ) تمہارا رفیق، محمد ﷺ جیسا کہ تم گمان کرتے ہو مجنون نہیں ہے (وما صاحبکم) کا عطف انہ لقول الخ مقسم علیہ پر ہے اس نے اس پیغامبر کو یعنی محمد ﷺ نے جبرئیل (علیہ الصلوۃ والسلام) کو اس کی اس اصلی صورت میں صاف کنارے پر دیکھا ہے، جس پر اس کو پیدا کیا گیا ہے، جبکہ وہ مشرق کی جانب اونچے کنارے پر تھا، اور وہ یعنی محمد ﷺ مغیبات کے بارے میں جو وحی اور آسمانی خبریں ہیں، مہتمم نہیں ہے اور ایک قرأت میں ضاد کے ساتھ ہے یعنی بخیل نہیں ہے کہ وحی میں سے کچھ چھپالے اور وہ یعنی قرآن چوری سے سننے والے شیطان مردود کا کلام نہیں ہے پھر تم لوگ کدھر چلے جا رہے ہو ؟ یعنی قرآن کا انکار کر کے اور اس سے اعراض کر کے تم کونسے راستہ پر جا رہے ہو ؟ یہ تو سارے جہان والوں (یعنی) جن وانس کے لئے نصیحت ہے، تم میں سے ہر اس شخ کے لئے جو (لمن شاء الخ) اعادہ جار کے ساتھ العلمین سے بدل ہے، اتباع حق کے ذریعہ سیدھے راستہ پر چلنا چاہے، تمہارے استقامت علی الحق کو چاہیے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ رب العلمین تمہارے لئے استقامت علی الحق نہ چاہے۔ تحقیق و ترکیب و تسہیل و تفسیری فوائد قولہ : اذا الشمس کورت، الشمس باب اشتغال سے ہے بصریین کے نزدیک فعل محذوف کی وجہ سے مرفوع ہے بعد والا فعل، فعل محذوف کی تفسیر کر رہا ہے اس لئے کہ حرف شرط بصریین کے نزدیک اسم پر داخل نہیں ہوتا، تقدیر عبارت یہ ہے اذا کورت الشمس کورت، البتہ ا اخفش اور کو فیین کے نزدیک الشمس کا مبتداء ہونے کی وجہ سے مرفوع ہونا درست ہے، مبتداء کا مابعد مبتداء کی خبر ہے، اذا بارہ جگہ واقع ہوا ہے وہ سب شرط ہیں اور علمت نفس ما احضرت جواب شرط ہے۔ قولہ : العشار دس ماہ کی گابھن اونٹنی، عشار عشراء کی جمع ہے جیسے کہ نفاس نفساء کی جمع ہے۔ قولہ : خانس پیچھے ہٹ جانے والے یہ خانس کی جمع ہے، بعض مفسرین کے نزدیک مطلقاً ستارے مراد ہیں اور بعض کے نزدیک چاند اور سورج، کیونکہ یہ دن میں چھپ جاتے ہیں اور بعض کے نزدیک مریخ، زحل، عطارد، زہرہ اور مشتری مراد ہیں، ان کو ” خمسہ متحیرہ ‘ بھی کہتے ہیں، یہ پانچوں ستارے آگے کی طرف چلتے چلتے یک لخت پیچھے کی طرف پلٹ جاتے ہیں۔ قولہ : کنس یہ کانس کی جمع ہے کناس ہرن کی جھاڑ کو کہتے ہیں اور جھاڑی میں چھپنے کو بھی کہت یہیں۔ (لغات القرآن ملخصاً ) قولہ : بینا تری النجم بعض نسخوں میں بینما ہے بینا میں الف اشباع کا ہے اصل میں بین ہے اور بینما میں میم بھی زائدہ ہے یہ ظروف زمانیہ میں سے ہے بینا دراصل بان یبین کا مصدر ہے بین کی اضافت ہمیشہ مفرد کی طرف ہوتی ہے اگر جملہ کی جانب اضافت کی جائے تو فتحہ کو کھینچتے ہیں جس کی وجہ سے الف ہوجاتا ہے، مفسر علام جلال الدین (علیہ الصلوۃ والسلام) کے قومل کے معنی یہ ہیں اسے مخاطب ! جب تو ستارے کو آخر برج میں دیکھے تو وہ تیزی سے برج کے اول حصہ کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ قولہ : اذکر اذ مفاجاتیہ ہے اور کر بمعنی اسرع راجعاً قولہ : اقبل بظلامہ او ادبر اس اضافہ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ عسعس اضداد میں سے ہے، اس کے معنی آگے بڑھنے اور پیچھے ہٹنے، دونوں کے ہیں۔ قولہ : والصبح اذا تنفس، اذا تنفس بالفارسیہ، آنگاہ کہ دم زند، یعنی طلوع کند، طلوع ہونا۔ قولہ : متعلق بہ عند، بہ کی ضمیر مکین کی طرف راجع ہے یعنی عند، مکین کے متعلق ہے عند خبر مقدم اور مکین مبتداء موخر ہے۔ قولہ : الی آخر المقسم علیہ، ای عند ذی العرش قولہ : من الوحی الخ، من بیانیہ ہے۔ تفسیر و تشریح اذا الشمس کورت، یہ سورج کے بےنور ہونے کے لئے یہ ایک بےنظیر استعارہ ہے تکویر کے معنی لپیٹنے کے ہیں، سر پر عمامہ باندھنے کو تکویر العمامۃ کہتے ہیں جس طرح پھیلے ہوئے عمامہ کو سر پر لپیٹ دیا جاتا ہے اسی طرح سورج کی پھیلی ہوئی روشنی کو لپیٹ دیا جائے گا، جس کی وجہ سے وہ قیامت کے دن بےنور ہوجائے گا۔
Ayahs 81:4–5

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب بیاہنے والی اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے

وذا العشار عطلت، عربوں کو کسی چیز کی سختی اور ہولناکی کا تصور دلانے کے لئے یہ بہترین طرز بیان تھا، اس زمانہ میں عرب کے نزدیک دس مہینے کی گابھن اونٹنی سے زیادہ قیمتی اور کوئی مال نہیں ہوتا تھا، ایسی اونٹنی کی بہت زیادہ حفاظت اور دیکھ بھال کی جاتی تھی، ایسی اونٹنی سے لوگوں کا غافل ہوجانا گویا یہ معنی رکھتا تھا کہ اس وقت کچھ ایسی سخت افتاد لوگوں پر پڑے گی کہ انہیں اپنے اس عزیز ترین مال کی حفاظت کا بھی ہوش نہ رہے گا۔
Ayahs 81:6–7

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا آگ ہوجائیں گے

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب روحیں (بدنوں) سے ملا دی جائیں گی

واذا البحار سجرت، سجرت، تسجیر سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے تسجیر تنور میں آگ دہکا کو کہتے ہیں، بظاہر یہ بات عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی، لیکن اگر پانی کی حقیقت معلوم ہو تو اس میں کوئی چیز قابل تعجب نہیں، اس سے سرا سر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہے کہ اس نے آکسیجن اور ہائیڈروجن، دو ایسی گیسوں کو ملا دیا جن میں سے ایک آگ بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے اور ان دونوں کی ترکیب سے پانی جیسا مفید اور کار آمد مادہ پیدا کیا جو آگ کو بجھانے والا ہے، اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ اس بات کے لئے بالکل کافی ہے کہ وہ پانی کی اس ترکیب کو بدل ڈالے اور یہ دونوں گیسیں ایک دوسرے سے الگ ہو کر بھڑکنے اور بھڑکانے لگیں، جو ان کی اصل بنیادی خاصیت ہے۔
Ayahs 81:8–29

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی ؟

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب بہشت قریب لائی جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہوجاتے ہیں

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بیشک یہ (قرآن) فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو صاحب قوت مالک عرض کے ہاں اونچے درجے والا سردار

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

(اور) امانتدار ہے

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمد) دیوانے نہیں ہیں

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

بیشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے کنارے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کدھر جا رہے ہو ؟

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو جہان کے لوگوں کے لئے نصحیت ہے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

(یعنی) اس کیلئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے

واذا لموئو ودۃ سئلت، اس آیت کے انداز بیان میں ایسی شدید غضب ناکی پائی جاتی ہے، جس سیز یادہ غضب ناکی کا تصور نہیں کیا جاسکتا، بیٹی کو زندہ درگور کرنے والے والدین اللہ کی نظر میں ایسے قابل نفرت ہوں گے کہ ان کو مخاطب کر کے ان سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ تم نے اس معصوم کو کیوں قتل کیا ؟ بلکہ اس سے نگاہ پھیر کر معصوم بچی سے پوچھا جائے گا کہ تو بےچاری آخر کس قصور میں مار دی گئی ؟ اور وہ اپنی داستان مظلومیت سنائے گی، اس آیت کے مضمون سے ایک اہم بات خود بخود یہ سمجھ میں آتی ہے کہ اس میں آخرت کے ضروری ہونے کی ایک صریح دلیل پیش کی گئی ہے، جس لڑکی کو زندہ دفن کردیا گیا، آخر اس کی کہیں تو داد رسی ہونی چاہیے، اور جن ظالموں نے یہ ظلم کیا، آخر کبھی تو وہ وقت آنا چاہیے جب ان سے اس بےدردانہ ظلم کی باز پرس کی جائے، دفن ہونے والی لڑکی کی فریاد دنیا میں تو کوئی سننے والا نہ تھا، بچوں کا ناز و نخرہ والدین پر ہوا کرتا ہے، والدین نے خود ہی اپنے ہاتھوں سے اس معصوم اور مظلوم بچی کو زندہ دفن کردیا، اب معاشرہ ہی تھا کہ جس سے کچھ داد رسی کی توقع کی جاسکتی تھی، مگر معاشرہ نے بھی تو اس فعل کو پہلے ہی جائز قرار دے رکھا تھا، اس فعل پر نہ ماں باپ کو کوئی ندامت اور نہ اہل خاندان کو کوئی شرم، اور نہ معاشرہ میں اس پر کوئی گرفت کرنے والا، تو اب اس مظلوم کی فریاد کون سنے ؟ تو کیا خدا کی خدائی میں یہ ظلم عظیم بالکل ہی بےداد رہ جانا چاہیے ؟ اگر ایسا ہی ہو تو یہ ” اندھیر نگری چوپٹ راجہ “ کا مصداق ہوگا، جو خدا کی خدائی میں ممکن نہیں ہے۔ لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کی وجہ عرب میں لڑکیوں کو زندہ دفن کرنے کا یہ بےرحمانہ طریقہ، قدیم زمانہ میں مختلف وجوہ سے رائج ہوگیا تھا، ایک تو معاشی بدحالی جس کی وجہ سے لوگ چاہتے تھے کہ کھانے والے افراد کم ہوں اور اولاد کو پالنے پوسنے کا بار ان پر نہ پڑے، بیٹوں کو تو اس امید پر پال لیا جاتا تھا کہ وہ حصول معاش میں معاون ہوں گے، مگر بیٹیوں سے یہ توقع نہیں ہوتی تھی، علاوہ ازیں بیٹیوں کو پال پوس کر جوان ہونے کے بعد دوسروں کے حوالہ کردینا ہوگا جس میں سراسر زیان ہی زیان ہے، اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی تھی کہ قبائلی لڑائیوں میں دفاع میں وہ کچھ کام نہ آتی تھیں بلکہ الٹی ان کی حفاظت کرنی پڑتی تھی اور اگر دشمن ان کو گرفتار کر کے لے جاتا تو ان کو باندی بنا لیتا تھا یا بازار میں فرخت کردیتا تھا جس کی وجہ سے روسائی ہوتی تھی، انہی وجوہ سے عرب میں یہ طریقہ چل پڑا تھا کہ کبھی تو زچگی کے وقت ہی عورت کے آگے ایک گڑھا کھود کر رکھا جاتا تھا، تاکہ اگر لڑکی پیدا ہو تو اسی وقت اسے گڑھے میں ڈال کر مٹی ڈال دی جائے اور اگر کبھی ماں اس پر راضی نہ ہوتی یا اور کوئی وقتی مصلحت مانع ہوتی، تو بادل ناخواستہ اسے کچھ مدت تک برداشت کرلیا جاتا اور پھر کسی وقت صحرا میں لے جا کر زندہ دفن کردیا جاتا، اس معاملہ میں جو شقاوت برتی جاتی تھی اس کا قصہ ایک شخص نے خود رسول اللہ ﷺ سے بیان کیا۔ بیٹی کے ساتھ بےرحمی کا واقعہ : سنن دارمی کے پہلے ہی باب میں یہ حدیث منقول ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ سے اپنے عہد جاہلیت کا یہ واقعہ بیان کیا کہ میری ایک یٹی تھی جو مجھ سے بہت مانوس تھی، جب میں اس کو پکارتا تھا تو وہ دوڑی دوڑی میرے پاس آتی تھی، ایک روز میں نے اس کو بلایا اور اپنے ساتھ لے کر چل پڑا، راستہ میں ایک کنواں آیا میں نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کنویں میں دھکا دے دیا، آخری آواز جو اس کی میرے کانوں میں آئی وہ یہ تھی، ہائے ابا، یہ سن کر رسول اللہ ﷺ رو دیئے اور آپ ﷺ کے آنسو بہنے لگے، حاضرین میں سے ایک شخص نے کہا اے شخص ! تو نے حضور ﷺ کو غمگین کردیا، حضور ﷺ نے فرمایا اسے مت روکو، جس چیز کا اسے سخت احساس ہے اس کے بارے میں اسے سوال کرنے دو ، پھر آپ ﷺ نے اس سے فرمایا تو اپنا قصہ پھر بیان کر، اس نے دوبارہ بیان کیا آپ ﷺ ؓ سن کر اس قدر روئے کہ آپ ﷺ کی ڈاڑھی آنسوئوں سے تر ہوگئی، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا جاہلیت میں جو کچھ ہوگیا اللہ نے اسے معاف کردیا اب نئے سرے سے اپنی زندگی کا آغاز کر یہ خیال صحیح نہیں کہ اہل عرب اس انتہائی غیر انسانی فعل کی قباحت ہی نہ رکھتے تھے، ظاہر بات ہے کہ کوئی معاشرہ خواہ کتنا ہی بگڑ چکا ہو، ایسے ظالمانہ افعال کی برائی کے احساس سے بالکل خالی نہیں ہوسکتا عرب کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو زمانہ جاہلیت میں اس رسم کی قباحت کا احساس تھا، طبرانی میں ایک روایت ہے کہ فرزدق شاعر کے دادا صعصعہ بن ناجیہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں نے جاہلیت کے زمانہ میں کچھ اچھے اعمال بھی کئے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے 360 لڑکیوں کو زندہ دفن ہونے سے بچایا اور ہر ایک کی جان کے لئے دو دو اونٹ فدیے میں دیئے ہیں تو کیا مجھے اس پر اجر ملے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں تیرے لئے اجر ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ نے تجھے اسلام کی نعمت عطا فرمائی۔ اسلام کا عورت پر احسان : دراصل یہ اسلام کی برکتوں میں سے ایک بڑی برکت ہے کہ اس نے نہ صرف یہ کہ عرب سے اس انتہائی سنگدلانہ رسم کا خاتمہ کیا، بلکہ اس تخیل کو مٹایا کہ بیٹی کی پیدائش کوئی حادثہ اور مصیبت ہے، جسے بادل ناخواستہ برداشت کیا جائے، اس کے برعکس اسلام نے یہ تعلیم دی کہ بیٹیوں کی پر وشر کرنا ان کی عمدہ تعلیم و تربیت کرنا اور انہیں اس قابل بنانا کہ وہ ایک اچھی گھر والی بن سکے بہت بڑا نیکی کا کام ہے، اس کا اندازہ ان احادیث سے ہوسکتا ہے جو آپ ﷺ سے منقول ہیں، مثال کے طور پر ذیل میں آپ ﷺ کے چند ارشادات نقل کئے جاتے ہیں۔ -1 من ابتلی من ھذہ البنات بشی فاحسن الیھن کن لہ سترا من النار (بخاری، مسلم) ترجمہ :۔ جو شخص ان لڑکوں کی پیدائش سے آزمائش میں ڈالا جائے اور پھر وہ ان سے نیک سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے بچائو کا ذریعہ بنیں گی۔ 2۔ من عال جاریتین حتی تبلغا جاء یوم القیامۃ انا وھو ھکذا وضم اصعابعہ (مسلم شریف) ترجمہ،۔ جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی یہاں تک کہ وہ بالغ ہوگئیں تو قیامت کے روز میرے ساتھ وہ اس طرح آئے گا، یہ فرما کر حضور نے اپنی انگلیوں کو ملا کر بتایا۔ 3 من کان لہ انثی فلم یئدھا ولم یھنھا ولم یوثر ولدہ علیھا ادخلہ اللہ الجنۃ (ابودائود) ترجمہ :۔ جس کے یہاں لڑکی ہو اور وہ اسے زندہ دفن نہ کرے، نہ ذلیل کر کے رکھے، نہ بیٹے کو اس پر ترجیح دے تو اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔ 4 من کان لہ ثلث بنات وصبر علیھن وکساھن من جدتہ کن لہ حجاباً من النار (بخاری، ابن ماجہ) ترجمہ :۔ جس کے یہاں تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان پر صبر کرے اور اپنی وسعت کے مطابق ان کو اچھے کپڑے پہنائے تو وہ اس کے لئے جہنم کی آگ سے بچائو کا ذریعہ ہوں گی۔ 5 مامن مسلم تدرکہ ابنتان فیحسن صحبتھما الا ادخلتاہ الجنتۃ (بخاری ادب المفرد) ترجمہ :۔ جس مسلمان کے یہاں دو بٹیاں ہوں اور وہ ان کو اچھی طرح رکھے تو ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ اسے جنت میں پہنچائیں۔ 6۔ ان النبی ﷺ قال لسراقۃ بن جعشم الا ادلک علی اعظم الصدقۃ قال بلی یا رسول اللہ ﷺ قال ابنتک المردودۃ الیک لیس لھا کا سبٌ غیرک (بخاری، ابن ماجہ) ترجمہ :۔ نبی کریم ﷺ نے سراقہ بن جعشم سے فرمایا میں تمہیں بتائوں کہ سب سے بڑا صدقہ (یا فرمایا بڑے صدقوں میں سے ایک) کیا ہے ؟ انہوں نے عرض کیا ضرور بتائیے یا رسول اللہ ﷺ ! فرمایا تیری وہ بیٹی جو (طلاق پا کر یا بیوہ ہو کر) تیری طرف پلٹ آئے اور تیرے سوا اس کے لئے کمانے والا کوئی نہ ہو۔ یہی وہ تعلیم ہے جس نے لڑکیوں کے متعلق لوگوں کا نقطہ نظر صرف عرب ہی میں نہیں بلکہ دنیا کی ان تمام قوموں میں بدل دیا جو اسلام کی نعمت سے فیض یاب ہوتی چلی گئیں۔ مسئلہ :۔ کوئی ایسی صورت اختیار کرنا جس سے حمل قرار نہ پائے، جیسے آج کل ضبط تولید کے نام سے دنیا میں ہزاروں صورتیں رائج ہوگئی ہیں، اس کو بھی رسول اللہ ﷺ نے واد خفی یعنی خفیہ طور پر بچہ کو زندہ درگور کرنا، فرمایا ہے۔ (مسلم) اور بعض دوسری روایات میں جو عزل یعنی ایسی تدبیر کرنا کہ نطفہ رحم میں نہ جائے، اس پر رسول اللہ ﷺ سے سکوت یا عدم ممانعت منقول ہے وہ ضرورت کے مواقع کے ساتھ مخصوص ہے، وہ بھی اس طرح کہ ہمیشہ کے لئے قطع نسل کی صورت نہ بنے۔ (مظھری، معارف)