81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsسراج البیان

Ayahs 81:1–3

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹا جائے گا

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے ماند پڑجائیں گے

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

سورة التکویر 1: قرآن حکیم نے جن صداقتوں کو آج سے چودہ سو سال قبل بیان کیا تھا ۔ آج سائنس اور علوم جدیدہ اس کی تصدیق کررہے ہیں ۔ چناچہ تکویر شمس کا مسئلہ وہ ہے جس کو قیامت کی توضیح کے سلسلہ میں قرآن حکیم نے بوضاحت ذکر کیا اور آج بڑے بڑے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ایک وقت آئے گا جب کہ سورج کی حرارت اور روشنی کا خزانہ بالکل ختم ہوجائے گا اور یہ محض کرہ بےنور ہوکر رہ جائے گا ۔ اس وقت کے عقل مند اور نظریہ پر ہنستے تھے کہ کہیں کائنات کا چشمہ نور وضیاء بھی خشک ہوسکتا ہے ؟ مگر آج کے عقلا ان لوگوں کی عقل پر ہنستے ہیں جو اس نظام کو دائمی سمجھتے تھے ۔
Ayahs 81:4–7

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب دس مہینے کی گابھن اونٹنیاں بیکار پھریں گی

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا جھونکے جائیں گے

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب جیوں کے جوڑے باندھے جائیں گے

واذا العشارعطلت سے غرض یہ ہے کہ وہ وقت اتنا ہولناک ہوگا کہ چوپایہ کی وہ قسم جو مالک کو بہت عزیز ہوتی ہے ، وہ اس سے بھی بےپرواہ ہوجائیگا ۔ واذالوحوش حشرت یعنی وحشی جانور بھی گھبراجائیں گے اور مارے وحشت اور اضطراب کے جنگلوں میں جمع ہونے شروع ہوجائیں گے ۔
Ayahs 81:8–19

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب اس لڑکی سے جو زندہ گاڑی گئی تھی پوچھا جائے گا

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی تھی

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب اعمالنامے کھولے جائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال اتاری جائے گی

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ دہکائی جائے گی

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب بہشت نزدیک لائی جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

اس وقت ہر شخص معلوم کرلے گا جو اس نے حاضر کیا ہے

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

سو میں پیچھے ہٹنے والوں کی قسم کھاتا ہوں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

سیدھے چلنے والوں تھم رہنے والوں کی

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی قسم جبکہ وہ جانے لگے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی قسم جبکہ وہ سانس لے

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بیشک یہ قرآن بزرگ رسول کا قول ہے

حل لغات :۔ الموء دۃ ۔ زندہ گاڑی ہوئی لڑکی ۔ بعض قبائل میں عزت اور شرف کا یہ غلط خیال رواج پذیر ہوگیا تھا کہ لڑکیاں ناموس اور عزت کے لئے موجب ننگ ہیں ۔ اس لئے وہ ان کو جب پیدا ہوتیں تو زندہ زمین میں گاڑ دیتے ۔ اس برائی کی طرف اشارہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام سے قبل عربوں کی اخلاقی حالت کیا تھی ؟ اور اسلام نے ان لوگوں کی اصلاح کے سلسلہ میں کتنا بڑا کام کیا ۔
Ayahs 81:20–21

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

وہ رسول صاحب قوت ہے عزت والے کے پاس عزت دار (ف 1) ہے

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

سب کا مانا ہوا ہے وہاں امانت دار ہے

آفتاب نبوت کا طلوع 1: قرآن کے متعلق یہ شبہ تھا کہ یہ کلام جناب رسالت مآب ﷺ نے اپنی طرف سے پیش کیا ہے ۔ جبرائیل (علیہ السلام) کی وساطت سے نازل نہیں ہوا ۔ اس کا جواب مرحمت فرمایا ہے کہ ان پانچ سیاروں کو دیکھو جن کو مریخ زحل ۔ مشتری ۔ زہرہ اور عطارد کہتے ہیں کہ یہ جس وقت چلتے چلتے مشرق کی جانب گھوم جاتے ہیں اور جس وقت تاریک رات جانے لگتی ہے اور صبح صادق کا وقت ہوتا ہے اور آفتاب کی آمد آمد ہوتی ہے ۔ کیا اس وقت دن کی تابندگی اور روشنی میں کوش شک وارتباب باقی رہتا ہے اور کیا اس وقت سوائے آفتاب کے اور کوئی دلیل آفتاب کے وجود کو پیش کی جاسکتی ہے ۔ ع ” آفتاب آمد دلیل آفتاب “ ٹھیک اسی طرح جس طرح کہ یہ پانچ سیارے آخری رات کو آفتاب کی پیشوائی کے لئے مشرق کی جانب آجاتے ہیں ۔ اور اپنی آب وتاب کھوبیٹھتے ہیں ۔ اسی طرح انبیائے سابقین کا زمانہ افق حیات پر چمکنے کا ختم ہوچکا ہے ۔ کفر وظلمت کی رات جو ان کے بعد چھا چکی تھی ، اب چھٹ چکی ہے اور صبح کا اجالا نمودار ہے ۔ اور آفتاب نبوت جلوہ گر ہے ۔ اس لئے اب ان حالات میں یہ وقاع ہے کہ یہ قرآن جبرائیل علیہ لاسلام کی وساطت سے نازل ہوا ہے ۔ جو بزرگ ہے ۔ صاحب قوت ہے ۔ مالک عرش کے نزدیک ذی رتبہ ہے ۔ مطاع اور آسمانوں میں امانت داری میں مشہور ہے ۔
Ayahs 81:22–23

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور یہ کہ تمہارا رفیق کچھ دیوانہ (ف 2) نہیں ہے

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور کچھ شک نہیں کہ اس نے اس رسول کو آسمان کے کھلے کنارہ پر دیکھا ہے

ف 2: حضور ﷺ نے جب جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا اور کسب فیض کیا تو منکرین نے کہا کہ یہ محض جنون ہے ۔ اس کی تردید میں فرمایا کہ وہ شخص جو تمہارے ساتھ برسوں سے ہے اور جس کی عقل مندی اور دوستی پر تمہیں ناز رہا ہے ۔ آج یکایک مجنوں کیونکر ہوگیا ۔ کیا محض اس لئے کہ وہ الہام کا مدعی ہے یقین مانو کہ اس نے جبرائیل کو اس کی اصل شکل میں صاف آسمان کے کنارہ پر دیکھا ہے ۔ حل لغات :۔ کشطت ۔ کشط سے ہے ۔ جس کے معنی کھال اتارنے اور برہنہ کرنے کے ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ نظام آسمائی کو درہم برہم کردیا جائے گا ۔ عسعس ۔ ذوات الاضداد میں سے ہے ۔ اس کے معنی آنے اور جانے دونوں کے ہیں ۔ مگر یہاں مراد یہ ہے کہ جب رات جانے لگتی ہے ۔
Ayahs 81:24–26

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ پوشیدہ بات پر بخیل بھی نہیں ہے

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور قرآن شیطان مردود کا قول نہیں ہے

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کدھر جاتے ہو ؟

ف 1: ضنین بالضاد کے معنی بخل کے ہیں ۔ غرض یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو جو باتیں رشد و ہدایت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی جانب سے معلوم ہوتی ہیں ، وہ ان کو ازراہ بخل نہیں چھپاتے بلکہ بلاکم وکاست بندوں تک پہنچادیتے ہیں ۔ ایک قرات میں ظنین بالظاد بھی آیا ہے ۔ اس کے معنی متہم ہونے کے ہیں ۔ اس صورت میں غرض یہ ہوگی کہ جناب رسالت مآب ﷺ کذب وافتراء سے متہم نہیں ہیں ۔ بلکہ ان کی ساری زندگی صداقت شعاری سے مملورہی ہے جس کو تم بھی جانتے ہو ۔ قراتین کے توافق سے معلوم ہتا ہے کہ ضاد کو ظاء کے قریب قریب پڑھنا چاہیے ۔
Ayahs 81:27–29

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو جہان بھر کے لئے ایک نصیحت ہے

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

اس کے لئے جو تم میں سیدھی راہ پر چلنا چاہے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور جب تک اللہ جو جہان کا رب ہے نہ چاہے تم ہرگز نہیں چاہ سکتے

ف 2: اس آیت میں اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ یہ قرآن حکیم تمام کائنات کے لئے رشدوہدایت کا ذریعہ ہے ۔ آج تم لوگ ازراہ جہل وتعصب اس کے حقائق کو تسلیم نہیں کرتے ہو ۔ مگر ایک وقت آنے والا ہے کہ اس کی روشنی سارے عالم میں پھیلے گی اور اس کی تعلیم کو دنیا کے ہر حصہ میں قبولیت اور پذیرائی کی نظر سے دیکھا جائے گا ۔ حل لغات :۔ واذا البحار فجرت ۔ یعنی جب اس بساط ارضی کو الٹ دیا جائے گا ۔ اس وقت سمندر چھلک جائیں گے اور ادھر ادھر بہنے لگیں گے ۔