81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 81:1–2

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب تارے بےنور ہوجائیں گے

(1۔ 2) جب سورج عمامہ کی طرح پلٹ جائے گا، یا یہ کہ بےنور ہوجائے گا، اور جب ستارے ٹوٹ پھوٹ کر روئے زمین پر گر پڑیں گے۔
Ayahs 81:3–7

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب بیاہنے والی اونٹنیاں بیکار ہوجائیں گی

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا آگ ہوجائیں گے

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب روحیں (بدنوں) سے ملا دی جائیں گی

(3۔ 7) اور جب پہاڑ زمین پر سے ہٹا دیے جائیں گے اور جب گابھن اونٹنیوں کے مالک اپنی مشغولیت کی بنا پر ان سے غافل ہوجائیں گے اور جب قصاص کے لیے تمام جانوروں کو جمع کیا جائے گا، یا یہ کہ گھبراہٹ کی وجہ سے جمع ہوجائیں گے اور جب کھارے دریا کا پانی شیریں میں ملا کر ایک کردیا جائے گا، یا یہ کہ آگ ہوجائیں گے اور جس وقت ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں گے یعنی اپنے ساتھیوں سے مل جائیں گے کہ نیک نیک کے ساتھ اور گنہگار گنہگار کے ساتھ۔
Ayahs 81:8–9

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب اس لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

پوچھا جائے گا۔ کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی ؟

(8۔ 9) اور جس وقت زمین میں زندہ دفن کردی گئی لڑکی اپنے باپ سے پوچھے گی کہ مجھے کس گناہ میں قتل کیا گیا، یا یہ کہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس گناہ میں قتل کیا۔
Ayahs 81:10–18

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب بہشت قریب لائی جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تب ہر شخص معلوم کرلے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہوجاتے ہیں

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

(10۔ 18) اور جس وقت نامہ اعمال حساب و کتاب کے لیے کھول دیے جائیں گے، یا یہ کہ ہاتھوں میں دے دیے جائیں گے، اور جس وقت آسمان لپیٹ لیا جائے گا اور جب دوزخ کفار کے لیے دہکائی جائے گی اور جب جنت پرہیزگاروں کے قریب کردی جائے گی، تو اس وقت ہر ایک نیک اور گنہگار کو اپنی نیکی و برائی معلوم ہوجائے گی جو کہ لے کے آیا ہے۔ میں قسم کھاتا ہوں ان ستاروں کی جو دن کو غائب ہوجاتے اور رات کو نکلتے ہیں، جو رات کو چلتے رہتے ہیں اور پھر اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں، یہ کیفیت پانچ ستاروں کو پیش آتی ہے یعنی زحل، مشتری، عطارد، مریخ، زہرہ۔ اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے اور صبح کی جب وہ آنے لگے اور خوب روشن ہوجائے۔
Ayahs 81:19–21

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بیشک یہ (قرآن) فرشتہ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو صاحب قوت مالک عرض کے ہاں اونچے درجے والا سردار

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

(اور) امانتدار ہے

(19۔ 21) ان تمام چیزوں کی قسم کھا کر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے جس کو جبریل مکرم و معزز نبی پر لے کر آئے ہیں اور وہ فرشتہ قوت والا ہے اور اس کا مالک عرش کے نزدیک رتبہ ہے اور آسمانوں میں فرشتے اسی کا کہنا مانتے ہیں اور امانت دار ہیں کہ انبیاء کرام کے پاس وحی کو صحیح پہنچا دیتے ہیں۔
Ayahs 81:22–25

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمد) دیوانے نہیں ہیں

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

بیشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے کنارے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

(22۔ 25) اے قریش کی جماعت رسول اکرم مجنون نہیں ہیں اور رسول اکرم نے جبریل امین کو آسمان کے بلند کنارہ پر دیکھا بھی ہے اور پیغمبر وحی کے بارے میں بخیل بھی نہیں ہیں اور یہ قرآن کریم کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے۔
Ayahs 81:26–27

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کدھر جا رہے ہو ؟

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو جہان کے لوگوں کے لئے نصحیت ہے

(26۔ 27) تو اے گروہ کفار عذاب خداوندی اور اس کے اوامرو نواہی سے کدھر کو جارہے ہو، یا یہ کہ کہاں کی تکذیب کر رہے ہو، یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کریم سے کدھر کو اعراض کیے جارہے ہو کہ اس پر ایمان نہیں لاتے۔ یہ قرآن کریم تو جنوں اور انسانوں کے لیے اللہ کی طرف سے ایک بڑا نصیحت نامہ ہے۔
Ayah 81:28

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

(یعنی) اس کیلئے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

اور بالخصوص اس کے لیے جو اوامر خداوندی پر سیدھا چلنا چاہے۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم کچھ نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العلمین چاہے

اور تم بجز رب العالمین کے چاہے بغیر کچھ استقامت علی الدین اور توحید سے متعلق نہیں چاہ سکتے۔ شان نزول : لِمَنْ شَاۗءَ مِنْكُمْ اَنْ يَّسْتَــقِيْمَ (الخ) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سلیمان بن موسیٰ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی تو ابوجہل کہنے لگا یہ چیز تو ہمارے اختیار میں ہے اگر ہم چاہیں تو سیدھے چلیں اور اگر ہماری مرضی نہ ہو تو نہ چلیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ جملہ نازل فرمایا۔ وَمَا تَشَاۗءُوْنَ اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِيْنَ۔ اور ابن ابی حاتم نے بواسطہ بقیہ، عمرو بن محمد، زید بن اسلم، ابوہریرہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ابن منذر نے سلیمان عن القاسم بن فحمیرہ کے طریق سے اسی طرح روایت کیا ہے۔