81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف سورة التکویر سورة نمبر 81 کل رکوع 1 آیات 29 الفاظ و کلمات 104 حروف 534 مقام نزول مکہ مکرمہ اس سورة میں آخرت، قیامت اور رسالت کے متعلق ارشاد فرمایا گیا ہے۔ فرمایا جب سورج لپیٹ لیا جائے گا یعنی وہ بےنور ہوجائے گا۔ جب ستارے بکھر جائیں گے۔ جب پہاڑ اپنی جگہ سے اڑنے لگیں گے اور ریت کا ڈھیر بن جائیں گے۔ دس ماہ کی گابھن اونٹنی جو عربوں کے نزدیک بہت قیمتی ہوتی تھی وہ چھٹی پھرے گی۔ جب جنگلی اور وحشی جانور تک ایک جگہ اکٹھے ہوجائیں گے۔ سمندر بھڑک کر آتش فشاں بن جائیں گے۔ جب روحوں کو جسموں سے جوڑ دیا جائے گا۔ جب زندہ گاڑ دی گئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ تو کس جرم میں ماری گئی۔ جب ہر شخص کے اعمال کھول کر اس کے سامنے رکھ دئیے جائیں گے۔ جب جہنم کی آگ کو خوب دہکایا جائے گا اور جنت کو قریب تر کردیا جائے گا۔ آسمان کے سب پردے درمیان سے ہٹا دیے جائیں گے اس وقت ہر شخص کو معلوم ہوگا کہ وہ (دنیا سے) کیا کچھ لے کر آیا ہے۔ اللہ نے پلٹنے اور چھپ جانے والے ستاروں کی قسم کھا کر فرمایا ۔ اس رات کی قسم جب وہ جانے لگتی ہے اور اس صبح کی قسم جو وہ آنے لگتی ہے کہ یہ قرآن اللہ نے اپنے ایک جلیل القدر اور معزز فرشتے (جبرئیل امین (علیہ السلام) کے ذریعہ بھیجا ہے۔ وہ فرشتہ وہ عرش والے کے پاس بڑی طاقت قوت رکھنے والا، بلند مرتبہ ہے اس کا حکم مانا جاتا ہے اور وہ امانت دار بھی ہے۔ مکہ والوں سے فرمایا ہے کہ تمہارے ساتھ مکہ میں رہنے والے ( حضرت محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی دیوانے نہیں ہیں۔ ان کے پاس وہی فرشتہ آتا ہے جسے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے آسمان کے کنارے پر دیکھا تھا اللہ کے حکم سے اللہ کا پیغام ان تک پہنچاتا ہے۔ وہ غیب کے اس علم کو (لوگوں تک) پہنچانے میں کسی بخل سے کام نہیں لیتے۔ یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔ فرمایا کہ اس سچائی کی گواہی تمہارے دل بھی دیتے ہیں پھر تم کدھر اور کس رخ پر جار ہے ہو ؟ فرمایا کہ یہ قرآن مجید جو اللہ کا کلام ہے ہر اس شخص کے لئے نصیحت اور راہبر ہے جو سیدھے راستے پر چلنا چاہتا ہے۔ مگر اس کے لئے جب تک اللہ کی توفیق نہ ہو اس وقت تک یہ دولت حاصل نہیں ہوتی البتہ جب وہ رب العالمین چاہے گا تو پھر توفیق نصیب ہوجائے گی۔

Ayahs 81:1–29

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

( جس دن) سورج بےنور ہوجائے گا

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب ستارے ٹوٹ جائیں گے

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جو اونٹنیاں بیانے (بچہ پیدا کرنے) کے قریب ہوں گی تو وہ چھوڑ دی جائیں گی (قابل توجہ نہ رہیں گی) ۔

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور ( گھبرا کر) ایک جگہ اکٹھے ہوجائیں گے

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا بھڑکائے جائیں گے

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو جوڑ دیا جائے گا (جمع کردیا جائے گا)

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب زندہ دبائی گئی لڑکی کے متعلق پوچھا جائے گا

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس گناہ میں قتل کی گئی۔

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب نامہ اعمال کھول (کر سامنے) رکھ دئیے جائیں گے

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کھل جائیں گے

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ خوب بھڑکائی جائے گی

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب جنت قریب کردی جائے گی

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تو ہر شخص (اچھی طرح) جان لے گا کہ وہ (اللہ کی بارگاہ میں) کیا لے کر حاضر ہوا ہے۔

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

پھر میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو چلتے چلتے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں۔ ا

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

ور کچھ دنوں کے لئے چھپ جاتے ہیں اور نظر نہیں آتے۔

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

(اور قسم ہے) رات کی جب وہ جانے لگے

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی جب وہ طلوع ہونے لگے

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بیشک یہ ایک محترم فرشتے کا (لایا ہوا) کلام ہے

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو بڑی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک بڑے رتبے والا ہے۔

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ امانت دار ہے۔

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

کہ یہ تمہارے رفیق (حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کوئی دیوانے نہیں ہیں۔

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور بیشک انہوں نے اس (فرشتے جبرئیل) کو آسمان کے صاف کنارے پر دیکھا ہے

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ پوشیدہ باتیں بتانے میں بخیل بھی نہیں ہے۔

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ قرآن کسی مردو شیطان کا کہا ہوا کلام نہیں ہے۔

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

(تم غور کرو کہ) تم کدھر جا رہے ہو ؟

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ (قرآن) تو نصیحت ہی نصیحت ہے۔

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

ہر شخص کے لئے جو سیدھا چلنا چاہتا ہے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم (کسی بات کو) اللہ کے چاہے بغیر نہیں چاہ سکتے۔ (صرف) وہی رب العالمین ہے۔

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔ کنجوسی کرنے والا۔ تشریح : قیامت کے ہولناک دن جب پورے نظام کائنات کو درہم برہم کرکے میدان حشر میں تمام لوگوں کو جمع کیا جائے گا وہ دن انسان اور کائنات کے لئے بڑا بھاری اور ہیبت ناک لمحہ ہوگا۔ جس میں کسی کے ساتھ بےانصافی نہ کی جائے گی اور ہر شخص کو اس کے عمل کے مطابق یا تو عذاب اور سزا دی جائے گی یا وہ اللہ کے فضل و کرم اور انعام کا مستحق ہوگا۔ یہاں تک کہ وہ معصوم لڑکی جس کو ناحق قتل کیا گیا تھا اس کی فریاد سن کر قاتلوں کو سزا دی جائے گی۔ اس دن سورج کی پھیلی ہوئی کرنوں اور روشنی کی لپیٹ کر اس کو بےنور کردیا جائے گا، ستارے بکھر جائیں گے پہاڑ جو زمین پر میخوں کی طرف گاڑ دئیے گئے ہیں جس سے زمین اپنا تو ازن قائم رکھے ہوئے تھی وہ کود بےوزن ہو کر اڑتے پھریں گے۔ دس ماہ کی گابھن اونٹنی جو عربوں کے نزدی بےانتہا قیمتی چیز سمجھی جاتی تھی اور ہر وقت اس کی نگرانی کرتے تھے انہیں اس کی حفاظت کا ہوش تک نہ ہوگا اور وہ اونٹنی آوارہ پھرتی ہوگی۔ وحشی جانور جو انسانوں اور ان کی آبادیوں سے گھبراتے ہیں وہ سب پریشان ہو کر آبادیوں میں گھس آئیں گے اور ایک جگہ جمع ہوجائیں گے۔ جب ٹھاٹھیں مارتا سمندر اور اس کا پانی آگ بجھانے کے بجائے خود آگ بن کر بھڑک اٹھے گا۔ جب مختلف گروہ آپس میں جوڑ دئیے جائیں گے یعنی جس کا تعلق جس گروہ سے ہوگا وہ اس کے ساتھ جڑ جائے گا۔ اس دن ان ظلاموں اور قاتلوں کو سخت سزا دی جائے گی جنہوں نے معصوم بچیوں کو قتل کیا ہوگا۔ اس معصوم لڑکی کو فریادی بنا کر پوچھا جائے گا کہ آخر یترا جرم کیا تھا جس کی وجہ سے تجھے مارا گیا تھا ؟ اس طرح اس کے قاتلوں سے انتقام لیا جائے گا۔ جب آسمان کی کھال اتار لی جائے گی یعنی جس طرح جانور کی کھال اتارنے کے بعد اس کے جسم کا کوئی حصہ پوشیدہ نہیں رہتا اسی طرح آسمان کو کھول دیا جائے گا۔ اور ابھی تک انسانوں کی نظروں سے جو چیزیں پوشیدہ تھیں وہ ظاہر کردی جائیں گی۔ اس دن جہنم کی آگ میں شدت پیدا کرنے کے لئے اس کو دھونکایا جائے گا اور جنت کو اہل ایمان سے قریب تر کردیا جائے گا۔ اس وقت ہر شخص کے اپنے کئے ہوئے اعمال اس کے سامنے آجائیں گے۔ نامہ اعمال ان کے ہاتھوں میں دیدئیے جائیں گے اور ہر شخص اندازہ لگالے گا کہ آج وہ اپنے پروردگار کے سامنے کیا کچھ لے کر آیا ہے۔ فرمایا کہ جس طرح قیامت کا آنا برحق ہے اسی طرح یہ بھی سچائی ہے کہ اللہ نے جبرئیل کے ذریعہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا جو کلام نازل کیا ہے وہ انسانوں کے لئے سراسر ہدایت ہی ہدایت ہے جو بھی اس سے نصیحت حاصل کرنا چاہے اور اس کو اللہ کی طرف سے توفیق بھی مل جائے تو اس کو اس نصیحت سے بہت فائدہ حاصل ہوگا ۔ یہ وہ پاکیزہ کلام ہے جو ہر طرح محفوط ہے جس کی حفاظت اس کے فرشتے کرتے ہیں۔ شیطانوں کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ اس میں کسی طرح بھی مداخلت کرسکیں یا اللہ کے کلام جیسا کلام لے کر آسکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان ستاروں کی قسم کھائی ہے جو پلٹنے اور چھپ جانے والے ہیں۔ رات کے اندھیرے کی قسم جب وہ سمٹ جاتا ہے اور اس سے صبح کی روشنی ظاہر ہوتی ہے۔ فرمایا کہ اس قرآن کو لانے والا وہ پیغام برفرشتہ جبرئیل ہے جو بڑی قوت والا، عرش والے کے نزدیک بڑے رتبے والا، جس کی بات فرشتے بھی مانتے ہیں اور نہایت امانت دار ہے وہ اس قرآن کو لے کر اس ہستی پر نازل ہوتے ہیں جو اپنے اخلاق کے اعتبار سے نہایت بلند ہیں وہ کوئی دیوانے یا مجنون نہیں ہیں۔ انہوں نے بھی اس فرشتے کو آسمان کے صاف کنارے پر دیکھا ہے۔ جب وہ اللہ کے حکم سے حضرت محمد ﷺ تک اللہ کا پیغام پہنچا دیتے ہیں تو آپ ان کاہنوں کی طرح نہیں ہیں جو لوگوں کو پوری بات نہیں بتاتے بلکہ آپ اللہ کی طرف سے بھیجے گئے ہر حکم اور پویشدہ باتوں کو ہر شخص کے سامنے کھول کر بیان فرما دیتے ہیں اس کے پہنچانے میں آپ کسی بخل اور کنجوسی سے کام نہیں لیتے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت کے ہولناک دن حضرت جبرئیل کی قوت و طاقت، دیانت و امانت اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان رسالت اور قرآن کریم کے سراسر نصیحت ہونے کے دلائل کے بعد ان لوگوں سے سوال کیا ہے جو اتنی سچائیوں کے باوجود ان کو تسلیم نہیں کرتے کہ لوگو ! تم کدھر جا رہے ہو ؟ اللہ کی توفیق کیوں نہیں مانگتے ؟ کیونکہ جب تک اس کی تو فقی عطا نہیں کی جائے گی اس وقت تک یہ سعادت تمہارے حصے میں نہیں آسکتی۔ وجہ یہ ہے کہ اس کائنات میں وہی ہوتا ہے جسے جس طرح رب العالمین چاہتا ہے۔ اس کی مشیت یا چاہت کے بغیر کوئی سعادت نصیب نہیں ہوسکتی۔