81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 81:1–3

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب آفتاب (کے نور کی چادر) کو لپیٹ دیا جائے گا۔

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب ستارے بےنور ہوجائیں گے۔

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلا دئیے جائیں گے،

[1] یعنی سورج کی شعاعوں کو جن سے دھوپ پھیلتی ہے لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا اور سورج بےنور ہو کر رہ جائے گا جس کی وجہ سے سارا عالم تیرہ و تار ہوجائے گا۔
Ayah 81:4

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں چھٹی پھریں گی،

[2] اونٹ عرب کا بہترین مال ہے اور دس مہینے کی گا بھن اونٹنی جو بچہ جننے کے قریب ہو بہت زیادہ عزیز ہوتی ہے۔ لیکن قیامت کی ہلچل ایسی سخت ہوگی کہ ایسے عزیز اور قیمتی مال کو کوئی نہ پوچھے گا، نہ مالک کو ہوش ہوگا کہ اس کی خبرگیری کرے۔
Ayahs 81:5–6

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب جنگلی جانور اکٹھے کر دئیے جائیں گے،

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب سمندر بھڑکا دئیے جائیں گے،

[3] یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی ایسی نفسا نفسی کی حالت طاری ہوگی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہوگی آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب وہاں اکٹھے ہوجائیں گے۔
Ayahs 81:7–8

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب روحوں کو (ان کے جسموں سے) ملا دیا جائے گا،

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا

[4] یعنی انسانوں کو دوبارہ اسی طرح زندہ کیا جائے گا جس طرح وہ دنیا میں مرنے سے پہلے جسم و روح کے ساتھ زندہ تھے۔
Ayahs 81:9–10

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس قصور میں ماری گئی ؟

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب (لوگوں کے) نامہ اعمال کھولے جائیں گے،

[5] عرب میں دختر کشی کی رسم رائج تھی۔ بعض لوگ تو تنگ دستی کے اندیشے سے یہ کام کرتے تھے اور بعض کو یہ عار تھی کہ ہمیں اپنی بیٹی کو کسی سے بیاہ دینا ہوگا اور وہ ہمارا داماد کہلائے گا۔ قرآن نے آگاہ کیا کہ ان مظلوم بچیوں کی نسبت بھی سوال ہوگا کہ کس گناہ پر ان کو قتل کیا گیا تھا۔ یہ مت سمجھنا کہ ہماری اولاد ہے اس میں ہم جو چاہیں تصرف کریں، بلکہ اولاد ہونے کی وجہ سے جرم اور زیادہ سنگین ہوجاتا ہے۔
Ayahs 81:11–13

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی،

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ دہکائی جائے گی،

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب جنت قریب لائی جائے گی۔

[6] یعنی جس طرح ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے اسی طرح آسمان اس دن سرخ دکھائی دے گا۔
Ayah 81:14

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

(اس وقت) ہر شخص جان لے گا کہ وہ کیا (زادِآخرت) لے کر آیا ہے۔

[7] یعنی ہر ایک کو پتہ چل جائے گا کہ وہ نیکی یا بدی کا کیا سرمایہ لے کر حاضر ہوا ہے۔
Ayahs 81:15–17

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

پس نہیں، ہم کو ان (ستاروں) کی قسم ہے جو (ایک طرف کو) پیچھے ہٹنے لگتے ہیں

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

اور چلتے چلتے چھپ جاتے ہیں

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور (ہم کو قسم ہے) رات کی جب وہ جانے لگتی ہے

[8] یعنی منکرین کا یہ گمان صحیح نہیں ہے کہ قرآن میں یہ جو کچھ بیان کیا جا رہا ہے یہ محض ہوائی باتیں ہیں یا شیطانی وسوسہ ہے۔ [9] قرآنی قسموں کی حقیقت سمجھنے کے لئے ملاحظہ ہو اقسام القرآن بر صفحہ 1062
Ayah 81:18

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور (ہم کو قسم ہے) صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے۔

[10] یہاں صبح کے نمودار ہونے کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یعنی صبح رات کے بوجھ کے نیچے اس طرح دبی ہوتی ہے کہ اس کا دم گھٹ رہا ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے اوپر سے اس بوجھل لحاف کو سرکاتا ہے اور اس کو سانس لینے اور سر اٹھانے کا موقع ملتا ہے۔
Ayahs 81:19–20

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

یقینا یہ (قرآن) ایک معزز قاصد کا (پہنچایا ہوا) کلام ہے۔

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو بڑی قوت والا اور مالک عرش (بریں) کے ہاں اس کا بڑا درجہ ہے۔

[11] مراد ہیں جبرائیل (علیہ السلام) جیسا کہ آگے کی آیات سے واضح ہے۔ [12] یہ ہے وہ بات جس کے ثابت کرنے کے لئے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ مطلب ان قسموں کا یہ ہے کہ نبی ﷺ نے تاریکی میں کوئی خواب نہیں دیکھا تھا بلکہ جب ستارے چھپ گئے تھے، رات ختم ہوگئی تھی اور صبح نمودار ہوگئی تھی اس وقت کھلے آسمان پر آپ نے اللہ کے فرشتے کو دیکھا تھا۔ اس لئے آپ جو کچھ بیان کر رہے ہیں وہ چشم دید مشاہدے اور دن کی روشنی میں پیش آنے والا تجربے پر مبنی ہے۔
Ayahs 81:21–28

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے (اور) وہ امانت دار (بھی) ہے۔

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (اے اہل مکہ، ) تمہارا (یہ) ساتھی (محمد ﷺ دیوانہ نہیں ہے۔

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور بلاشبہ اس نے اس (پیغامبر) کو روشن افق پر دیکھا ہے۔

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ (علم) غیب (کو لوگوں تک پہنچانے) کے معاملے میں بخیل نہیں ہے۔

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ (قرآن) کسی شیطان مردود کا کلام نہیں ہے۔

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم لوگ کدھر (بہکے) چلے جا رہے ہو ؟

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو ایک نصیحت ہے دنیا جہان والوں کے لئے۔

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

(یعنی) تم میں سے ہر اس شخص کے لئے جو سیدھی راہ اختیار کرنی چاہے۔

[13] یعنی وہ فرشتوں کا افسر ہے اور تمام فرشتے بےچون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم (کچھ بھی) نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ رب العالمین چاہے۔

[14] یعنی کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت ہی پر موقوف نہیں ہے بلکہ اسے نصیحت اس وقت نصیب ہوتی ہے جب کہ اللہ کی بھی مشیت یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے، دوسرے الفاظ میں بندے کا کوئی فعل بھی تنہا بندے کی اپنی مشیت سے ظہور میں نہیں آتا بلکہ ہر فعل اس وقت پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے جب اللہ کی مشیت بندے کی مشیت سے مل جاتی ہے۔