82. Surah Al-Infitaar

الإنفطارThe Cleaving · 19 ayahsتفسیر الکتاب

Ayahs 82:1–4

اِذَا السَّمَآءُ انْفَطَرَتْۙ Open ayah 82:1 in the Quran reader

جب آسمان پھٹ جائے گا،

وَ اِذَا الْكَوَاكِبُ انْتَثَرَتْۙ Open ayah 82:2 in the Quran reader

اور جب ستارے جھڑ جائیں گے،

وَ اِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْۙ Open ayah 82:3 in the Quran reader

اور جب سمندر پھاڑ دئیے جائیں گے،

وَ اِذَا الْقُبُوْرُ بُعْثِرَتْۙ Open ayah 82:4 in the Quran reader

اور جب قبریں زیروزبر کردی جائیں گی،

[1] یعنی جو چیز زمین کی تہہ میں تھی اوپر آجائے گی اور مردے قبروں سے نکالے جائیں گے۔
Ayah 82:5

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَ اَخَّرَتْؕ Open ayah 82:5 in the Quran reader

(اس وقت) ہر شخص جان لے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔

[2] یعنی جو اچھے یا برے اعمال اس نے زاد آخرت بنا کر بھیجے اور ان کے جو آثار و نتائج وہ دنیا میں اپنے پیچھے چھوڑ گیا۔
Ayah 82:6

یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِۙ Open ayah 82:6 in the Quran reader

اے انسان، (آخر) تجھے کس چیز نے اپنے رب کریم کے متعلق دھوکے میں ڈال رکھا ہے ؟

[3] یعنی وہ رب کریم کیا اس کا حقدار ہے کہ تو اپنے جہل و حماقت سے اس کی نافرمانیاں کرتا رہے ؟ اگر وہ تیری سرکشیوں پر فوراً گرفت نہیں کرتا اور ڈھیل پر ڈھیل دئیے جاتا ہے تو تو اس کی کریمی سے سخت دھوکے میں پڑگیا اور خیال کرنے لگا کہ اللہ کے ہاں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔
Ayahs 82:7–8

الَّذِیْ خَلَقَكَ فَسَوّٰىكَ فَعَدَلَكَۙ Open ayah 82:7 in the Quran reader

(وہ پروردگار) جس نے تجھے پیدا کیا، پھر تجھے (نِک سک سے) درست کیا اور متناسب بنایا

فِیْۤ اَیِّ صُوْرَةٍ مَّا شَآءَ رَكَّبَكَؕ Open ayah 82:8 in the Quran reader

(پھر) جس صورت میں چاہا تجھے وڑ دیا۔

[4] یعنی اس نے ہر آدمی کے لئے الگ الگ شکل وصورت تجویز کی۔ مجال نہیں کہ ہزاروں لاکھوں انسانوں کے اندر سے کوئی دو آدمی ایسے نکالے جائیں جو بالکل ایک ہی شکل و صورت کے ہوں۔
Ayah 82:9

كَلَّا بَلْ تُكَذِّبُوْنَ بِالدِّیْنِۙ Open ayah 82:9 in the Quran reader

ہرگز نہیں، بلکہ (بات دراصل یہ ہے کہ) تم لوگ (روز) جزا و سزا کے دن کو جھٹلاتے ہو،

[5] یعنی تمہارے دھوکا کھانے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہے۔ [6] یعنی بات یہ ہے کہ تم روز جزا پر یقین نہیں رکھتے ہو اور سمجھتے ہو کہ جو چاہیں کرتے رہیں، آگے کوئی بازپرس نہیں۔ مرگئے اور قصہ ختم ہوا۔ اس غلط اور بےبنیاد گمان نے تمہیں اللہ سے غافل اور اس کے انصاف سے بےخوف بنادیا ہے۔
Ayahs 82:10–11

وَ اِنَّ عَلَیْكُمْ لَحٰفِظِیْنَۙ Open ayah 82:10 in the Quran reader

حالانکہ تم پر (ہماری طرف سے) نگراں (مقرر) ہیں،

كِرَامًا كَاتِبِیْنَۙ Open ayah 82:11 in the Quran reader

(یعنی) کراماً کاتبین۔

[7] کراماً کاتبین کے معنی ہیں لکھنے والے۔ یہ فرشتے ہیں جو ہر آدمی کے اعمال نیک و بد کے لکھنے کے لئے اس پر تعینات ہیں۔ کراماً کاتبین تھی تو فرشتوں کی صفت مگر اب ان کا نام پڑگیا ہے، اس لئے ان الفاظ کا ترجمہ نہیں کیا گیا۔
Ayahs 82:12–17

یَعْلَمُوْنَ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 82:12 in the Quran reader

وہ جانتے ہیں جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔

اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍۚ Open ayah 82:13 in the Quran reader

بیشک نیکوکار (بہشت کی) نعمتوں میں ہوں گے

وَ اِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍۚۖ Open ayah 82:14 in the Quran reader

اور بدکار یقینا دوزخ میں ہوں گے۔

یَّصْلَوْنَهَا یَوْمَ الدِّیْنِ Open ayah 82:15 in the Quran reader

وہ جزا کے دن اس میں داخل ہوں گے

وَ مَا هُمْ عَنْهَا بِغَآئِبِیْنَؕ Open ayah 82:16 in the Quran reader

اور اس سے غائب نہیں ہونے پائیں گے۔

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِۙ Open ayah 82:17 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر، ) تم کیا سمجھے کہ روز جزا ہے کیا چیز ؟

[8] یہ سوال روز جزا کی عظمت و اہمیت واضح کرنے کے لئے ہے اور اس کی تکرار نے اسے مزید پر ہول بنادیا ہے۔
Ayahs 82:18–19

ثُمَّ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا یَوْمُ الدِّیْنِؕ Open ayah 82:18 in the Quran reader

ہاں، تمہیں کیا خبر کہ روز جزا ہے کیا چیز ؟

یَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَیْئًا١ؕ وَ الْاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِّلّٰهِ۠ Open ayah 82:19 in the Quran reader

جس دن کوئی شخص کسی شخص کے لئے کچھ نہ کرسکے گا اور حکم اس دن اللہ ہی کا ہوگا۔

[9] سوال کیونکہ جواب کے لئے نہیں بلکہ صرف اس دن کے ہول کا تصور پیدا کرنے کے لئے تھا اس لئے جواب کا انتظار کئے بغیر اللہ تعالیٰ نے خود ہی جواب دے دیا کہ اس دن کوئی شخص کسی شخص کے کچھ بھی کام نہ آسکے گا۔ ساری رشتہ داریاں اور دوستیاں اس دن ختم ہوجائیں گے اور اس شہنشاہ مطلق کے آگے کسی کو دم مارنے کی جرأت نہ ہوگی۔ تنہا بلاشرکت غیرے اسی کا حکم چلے گا۔