81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 81:1

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج لپیٹ لیا جائے گا

اذا الشمس کورت . اذا شرطیہ ہے اور الشمس فعل محذوف کا فاعل ہے اور کورت اسی فعل محذوف کی تفسیر ہے۔ کورت : بیکار ہوجائے گا ‘ روشنی جاتی رہے گی ‘ تاریک ہوجائے گا۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم اور بیہقی نے بروایت ابو طلحہ بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے کوّ رت کی تشریح میں فرمایا : اَظْلَمَتْ ‘ تاریک ہوجائے گا۔ ابن ابی حاتم نے اور کتاب ” فی البحر والاحوال “ میں ابن ابی الدنیا نے اور کتاب العظمۃ میں ابو الشیخ نے ان آیات کے ذیل میں حضرت ابن عباس کا قول اس طرح نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن خدا تعالیٰ سورج ‘ چاند اور ستاروں کو بےنور کر کے سمندر میں ڈال دے گا اور ایک پچھمی ہوا بھیجے گا جو سمندر پر لگے گی اور سمندر آگ ہوجائے گا۔ بعض لوگوں کا قول ہے جب سورج کو سمندر میں پھینکا جائے گا تو سمندر گرم ہو کر آگ بن جائے گا۔ ابن ابی حاتم نے ابن ابی مریم کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب سورج کو بےنور کر کے جہنم میں پھینک دیا جائے گا اور جب ستارے پراگندہ ہو کر جہنم میں پڑجائیں گے اور سوائے عیسیٰ اور ان کی ماں کے جس معبود کی اللہ کے علاوہ پرستش کی جاتی تھی وہ جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ میں کہتا ہوں کہ سمندر میں سورج کا پھینکا جانا اور جہنم میں پھینکا جانا بظاہر متعارض ہے ‘ دونوں کی تطبیق اس طرح ہوسکتی ہے کہ سمندر خود گرم آگ بن جائے گا۔ بخاری نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن چاند اور سورج بےنور کردیئے جائیں گے۔ بزار نے اپنی مسند میں اتنا زیادہ بیان کیا ہے ‘ آگ میں ڈال دیئے جائیں گے۔
Ayah 81:2

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

جب تارے بےنور ہو جائیں گے

واذا النجوم انکدرت . اور جب ستارے ٹوٹ پڑیں گے۔ آسمان سے بکھر کر زمین پر آپڑیں گے۔ انکدر الطیرُ : پرندہ ٹوٹ کر گرپڑا۔ کلبی نے کہا : اس روز آسمان سے ستاروں کی بارش ہوگی ‘ کوئی تارہ بغیر گرے نہیں بچے گا۔
Ayah 81:3

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے

واذا الجبال سیرت . اور جب پہاڑ چلائے جائینگے یعنی زمین سے چلا کر ہوا میں پراگندہ ذرّات بنا دیئے جائینگے۔
Ayah 81:4

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب بیانے والی اونٹنیاں بےکار ہو جائیں گی

واذا العشار عطلت . العشار جمع ہے۔ العشراء اس کا واحد ہے۔ دس ماہہ گابھن اونٹنیاں۔ پورے سال میں اگر اونٹنی کے بچہ ہو تب بھی بچہ پیدا ہونے سے پہلے پہلے عرب اس کو عشراء کہتے تھے۔ عرب کے نزدیک عشراء اونٹنی نفیس ترین مال سمجھا جاتا تھا وہ لوگ ایسی اونٹنیوں کی دمیں پکڑے ہی رہتے تھے (یعنی ہمیشہ ان کی نگہداشت کرتے تھے) عُطِّلَتْ یعنی بغیر چرواہے کی نگرانی کے چھوڑ دی جائیں گی۔ قیامت کی ہیبت کی وجہ سے عشراء اونٹنیوں کے مالک ان کو یونہی چھوڑ دیں گے یا العشار سے مراد بادل ہیں یعنی بادل بارش سے خالی ہوجائیں گے۔
Ayah 81:5

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور جمع اکٹھے ہو جائیں گے

واذا الوحوش حشرت . حضرت ابی بن کعب نے فرمایا : حشرت کا معنی یہ ہے کہ ان میں ایک موجی حرکت پیدا ہوگی اور باہم ایک دوسرے میں گھس پڑے گا۔ یہ مطلب بھی کہا گیا ہے کہ چوپایوں کو زندہ کر کے اٹھایا جائے گا اور باہمی قصاص کے لیے جمع کیا جائے گا جیسا کہ آیت : یٰلَیْتَنِیْ کُنْتُ تُرَابًا کی تفسیر کے ذیل میں گزر چکا ہے۔ عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ جانوروں کا حشر ان کی موت ہے۔ یہ بھی فرمایا کہ سوائے جن و انس کے ہر چیز کا حشر اس کی موت ہے۔
Ayah 81:6

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا آگ ہو جائیں گے

واذا البحار سجرت . حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : جب سمندر بھڑکائے جائیں گے اور وہ بھڑکتی آگ بن جائیں گے۔ حضرت ابی بن کعب کا بھی یہی قول ہے۔ کلبی نے ترجمہ کیا : جب سمندر بھر دیئے جائیں گے کیونکہ مسجور کا معنی ہے بھرا ہوا۔ مجاہد و مقاتل نے کہا : بعض سمندر بعض میں گھس پڑیں گے۔ میٹھے اور شور مل کر گرم پانی کا ایک سمندر دوزخیوں کے لیے بن جائیں گا۔ حسن بصری اور قتادہ نے کہا : خشک ہوجائیں گے ‘ پانی سوکھ جائے گا۔ ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ میں کہتا ہوں ان تمام اقوال کو (ایک نقطہ) پر جمع کرنے کی یہ صورت ہے کہ تمام سمندر جمع کر کے ایک سمندر لبریز کردیا جائے گا اور سورج کو اس میں ڈال دیا جائے گا ‘ جس کی وجہ سے سمندر گرم ہو کر آگ ہوجائے گا اور دوزخیوں کے لیے آب حمیم بن جائیگا۔ کُل پانی خشک ہوجائے گا۔ ایک قطرہ بھی باقی نہیں رہے گا۔ ابن ابی حاتم اور ابن ابی الدنیا نے حضرت ابی بن کعب کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت سے پہلے چھ نشانیاں ہوں گی۔ لوگ بازاروں میں مشغول ہوں گے کہ یکدم سورج کی روشنی جاتی رہے گی۔ اسی اثناء میں پہاڑ زمین پر آ گریں گے ‘ زمین ہل جائے گی اور اس میں لرزہ پیدا ہوجائے گا۔ آدمی اور جنات ڈر جائیں گے۔ جنات آدمیوں سے کہیں گے ہم تم کو خبر لا کردیتے ہیں۔ چناچہ جنات سمندر تک پہنچیں گے اور سمندر بھڑکتی آگ نظر آئے گا۔ اسی دوران میں اچانک ایک ہوا آئے گی جس سے سب مرجائیں گے۔ بغوی نے حضرت ابی بن کعب کا یہی قول بروایت ابو العالیہ بیان کیا ہے لیکن اس میں سمندر کے آگ ہوجانے کے بعد اتنا زائد ہے کہ وہ اسی کام میں ہوں گے کہ یکدم زمین پھٹ پڑے گی یعنی ساتویں زمین سے بلند ترین آسمان تک (ایک آواز ہوگی) اور اسی دوران میں ایک ہوا آئے گی جس سے سب مرجائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : قیامت کی بارہ باتیں ہوں گی چھ دنیا میں اور چھ آخرت میں۔ آخرت والی چھ باتیں آئندہ آیات میں مذکور ہیں۔
Ayah 81:7

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی

واذا النفوس زوجت . ابن ابی حاتم نے حضرت نعمان بن بشیر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں جو باہم مشارکت عملی رکھتے تھے ‘ ہر شخص جو اپنی قوم کے ساتھ وہی کام کرتا تھا جو قوم کرتی تھی ‘ قوم سے ملا دیا جائے گا اور یہ اللہ کے حکم سے ہوگا اور حضور ﷺ (یہ آیت بھی اس موقع پر) فرماتے تھے۔ وَ کُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً فَاَھْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ وَاَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ مَا اَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ ۔ بیہقی نے حضرت نعمان بن بشیر کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ بن خطاب کا یہ قول نقل کیا ہے ہے کہ آیت : واذا النفوس زوجت میں وہ دو شخص مراد ہوں گے جو ایک ہی کام کرتے تھے ‘ جس کی وجہ سے دونوں جنت یا دوزخ میں چلے جائیں گے۔ حضرت عمر ؓ یہ بھی فرماتے تھے کہ اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَھُمْ میں ازواج سے مراد ہیں ان کے شرکاء کار۔ سعید بن منصور کے یہ الفاظ ہیں کہ اچھے آدمی کو اچھے آدمی کے ساتھ جنت میں ملا دیا جائے گا اور برے آدمی کو برے کے ساتھ دوزخ میں۔ بیہقی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ ابن عباس ؓ نے فرمایا : اُحْشُرُوا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا وَ اَزْوَاجَھُمْ ہنکا کرلے جاؤ۔ ظالموں کو اور ان کے ازواج کو یعنی ان کے متبعین کو۔ بعض علماء نے کہا جوڑے جانے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو ان کے اعمال کے ساتھ ملا دیا جائیگا۔ عطاء ؓ اور مقاتل نے کہا : نفوس مؤمنین کا جوڑا تو فراخ چشم حوروں کے ساتھ لگا دیا جائے گا اور نفوس کفار کو شیطانوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ عکرمہ کا قول مروی ہے کہ نفوس کو جوڑ دینے کا یہ مطلب ہے کہ روحوں کو اجسام میں واپس کردیا جائے گا۔
Ayah 81:8

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب لڑکی سے جو زندہ دفنا دی گئی ہو پوچھا جائے گا

واذا الموء دۃ سئلت . موءْ دۃ : زندہ دفن کی ہوئی لڑکی۔ وادٌ : بوجھ۔ عرب زندہ لڑکی پر مٹی کا بوجھ اتنا ڈالتے تھے کہ وہ مرجاتی تھی ‘ اسی لیے اس کو موء ودۃ کہا جاتا تھا (بعض) عرب (دامادی کے) عار اور افلاس کے اندیشہ سے اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیا کرتے تھے۔ آیت میں مدفونہ سے سوال کرنے کی غرض یہ ہے کہ دفن کرنے والے کی تذلیل و تعجیز کی جائے۔ جیسے آیت : یٰعیسی بن مریم ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الٰھین میں نصاریٰ کی تذلیل مقصود ہے یا یوں کہا جائے کہ موؤدہ کی طرف سوال کی نسبت مجازی ہے۔ یعنی آیت سے مراد اس سے سوال کرنا نہیں بلکہ اس کے متعلق سوال کرنا ہے جیسا کہ آیت : ان العھد کان مسؤلاً میں (عہد سے سوال کیا جانامقصود نہیں بلکہ صاحب عہد سے عہد کے متعلق باز پرس کی جانی مقصود ہے) یا موؤدۃ بمعنی وائدۃ کے ہے (یعنی دفن کرنے والی سے باز پرس کی جائے گی) اسم مفعول کو بمعنی اسم فاعل بولا جاتا ہے جیسے آیت : کَانَ وَعْدُہٗ مَاْتِیًّا میں ( ماتیًا بمعنی اتیًا ہے) یا الموؤدۃ سے مراد الموؤدۃ لھا (مدفونہ کی ماں اور دائی جن کی سازش سے بچی کو دفن کیا جاتا تھا) ہیں جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : الوائدۃُ والموؤدۃ لھا فی النار یعنی وائدہ (دفن کرنے والی دائی) اور موؤدۃ لھا (جس کی طرف سے دائی جا کر بچی کو دفن کرتی تھی ‘ مراد ماں) دونوں دوزخی ہیں۔ اس حدیث کو ابوداؤد نے اچھی سند کے ساتھ حضرت ابن مسعود کی روایت سے نقل کیا ہے اور سوائے مذکورۂ بالا تاویل کے کوئی صورت مفہوم حدیث کی صحت کے نہیں۔ فائدہ زندہ بچہ کو دفن کردینا گناہ کبیرہ ہے۔ یہ قتل ناحق ہے۔ چار ماہ سے زیادہ کا حمل ساقط کرنا بھی اسی حکم میں ہے کیونکہ جنین کی جسمانی تخلیق اس مدت میں پوری ہوجاتی ہے اور روح جسم میں پڑجاتی ہے۔ چار مہینے سے کم کا حمل ساقط کردینا بھی حرام ہے لیکن اس کا گناہ پہلے سے کم ہے۔ حرمت کی وجہ سے ہی باتفاق علماء ایک نابالغ غلام دینا واجب ہے۔ جب کسی نے کسی حاملہ کے پیٹ پر کچھ ایسی ضرب پہنچائی ہو کہ کامل یا ناقص اعضاء والا حمل ساقط ہوجائے بشرطیکہ اس میں تخلیق انسانی کا نقشہ پیدا ہوگیا ہو اور مردہ ہوجانے کی حالت میں ساقط ہو لیکن اگر گرنے کے وقت زندہ تھا پھر مرگیا تو بڑے آدمی کی برابر دیت واجب ہوگی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے کہ بنی لحیان کی ایک عورت کا بچہ (ضرب سے) ساقط ہوگیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک نابالغ غلام یا باندی دینے کا حکم دیا۔ (بخاری و مسلم) مسئلہ باندی سے عزل جائز ہے۔ آزاد عورت سے اسکی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔ مگر عزل باوجود جائز ہونے کے ہے بہرحال مکروہ۔ ایک حدیث میں حضرت حذامہ بن وہب کی روایت سے آیا ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے عزل کے متعلق دریافت کیا ‘ فرمایا : یہ پوشیدہ زندہ دفن ہے اور وہ اذا الموودۃُ سئلت (میں موجود) ہے ‘ جواز عزل کا ثبوت یہ ہے کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا : ہم عزل کرتے تھے اور قرآن نازل ہوتا تھا (یعنی نزول قرآن ختم نہیں ہوا تھا پھر بھی ہم کو عزل کی ممانعت نہیں کی گئی) ۔ (بخاری و مسلم) مسلم نے اتنا زائد نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو اس کی اطلاع پہنچی مگر حضور ﷺ نے ہم کو ممانعت نہیں فرمائی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے باندی کے معاملہ میں فرمایا : اگر چاہو تو اس سے عزل کرلو مگر جو کچھ اس کے مقدر میں ہے وہ تو اسے پہنچے گا۔ دوسری روایت میں ہے ‘ ایسا نہ کرو تو تمہارا کیا حرج ہے ‘ جو جان قیامت تک پیدا ہونے والی ہے وہ تو پیدا ہوگی ہی۔ (بخاری و مسلم) عزل کے لیے آزاد عورت کی اجازت کی ضرورت حضرت عمر ؓ کی روایت سے ثابت ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے آزاد عورت سے عزل کی اس کی اجازت کے بغیر ممانعت فرما دی تھی۔ (ابن ماجہ)
Ayah 81:9

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس گناہ پرماری گئی

بای ذنب قتلت . کس جرم میں اس کو قتل کیا گیا۔
Ayah 81:10

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب (عملوں کے) دفتر کھولے جائیں گے

واذا الصحف نشرت . اور جب اعمالنامے حساب کیلئے پھیلائے جائینگے یا جنکے اعمالنامے ہونگے انکو تقسیم کیے جائینگے۔
Ayah 81:11

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمانوں کی کھال کھینچ لی جائے گی

واذا السماء کشطت . جب آسمان اکھاڑ دیا جائے گا ‘ ہٹا دیا جائے گا۔ جیسے ذبیحہ کی کھال اتاری جاتی ہے۔ ظاہر یہ ہے کہ یہ واقعہ نفخۂ بیہوشی سے پہلے اس وقت ہوگا جب سورج کی روشنی زائل ہوگی اور ستارے ٹوٹ کر بکھر جائیں گے یا نفخۂ بےہوشی کے وقت ہوگا۔ یہ بھی احتمال ہے کہ دونوں نفخوں کے درمیان ہوا اور آسمان و زمین کو لپیٹ دیا جائے۔ اس آسمان کو دوسرے آسمان میں اور اس زمین کو دوسری زمین میں تبدیل کردیا جائے۔ قرظی نے لکھا ہے کہ صاحب افصاح نے اخبار (مختلفہ) کے درمیان توفیق پیدا کی ہے اور کہا ہے کہ آسمان و زمین کی تبدیلی دو مرتبہ واقع ہوگی ‘ ایک تو فقط حالات کی تبدیلی ہوگی۔ یہ نفخۂ بےہوشی سے پہلے ہوگی۔ ستارے بکھر جائیں گے ‘ چاند ‘ سورج کو گہن لگ جائے گا۔ آسمان تانبے کی طرح ہوجائے گا اور رؤودس سے ان کو ہٹا دیا جائے گا۔ پہاڑ رواں ہوجائیں گے ‘ سمندر آگ بن جائے گا ‘ زمین میں نشیب و فراز پیدا ہوجائیں گے ‘ زمین پھٹ جائے گی ‘ اس کی ہیبت پہلی ہیبت کے خلاف ہوجائے گی۔ پھر دونوں نفخوں کے درمیان آسمان و زمین لپیٹ دیئے جائیں گے اور اس آسمان کو دوسرے آسمان سے بدل دیا جائے گا (یہ تبدیل ذات ہوگی) ۔
Ayah 81:12

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ (کی آگ) بھڑکائی جائے گی

واذا الجحیم سعرت . اور جب اللہ کے دشمنوں کے لیے جحیم کو خوب بھڑکایا جائے گا۔
Ayah 81:13

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور بہشت جب قریب لائی جائے گی

واذا الجنۃ ازلف . اور جب جنت متقیوں کے قریب کردی جائے گی۔ اللہ (عزوجل) نے فرمایا ہے : وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ۔
Ayah 81:14

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تب ہر شخص معلوم کر لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے

علمت نفس ما احضرت . اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْ اور اس کے بعد والے جملوں میں جو اِذَا ہے یہ جملہ اس کی جزاء ہے یعنی اس وقت ہر شخص اپنی کی ہوئی اچھائی ‘ برائی کو جان لے گا۔ یہ وقت ایک وسیع وقت ہوگا۔ نفخۂ اولٰی کے پہلے سے جنت و دوزخ کے داخلہ کے وقت تک (سارا وقت ‘ قیامت کا وقت) ہوگا۔
Ayah 81:15

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

ہم کو ان ستاروں کی قسم جو پیچھے ہٹ جاتے ہیں

فلا اقسم . اس لفظ کی تفصیل سورة قیامت کے شروع میں کردی گئی ہے (لاَ زائد برائے تاکید قسم ہے یا نافیہ ہے یا لا نہیں بلکہ صرف لاقسم ہے جس میں لام تاکیدی ہے وغیرہ) فَلاَ اُقْسِمُ میں فاء تفریع کے لیے ہے۔ یعنی جب احوال قیامت کے متعلق ہم نے آیات نازل کردیں تو (آئندہ کی خبریں دینے سے ہی) تم سمجھ لو کہ یہ اللہ کا کلام ہے۔ خدا پر دروغ بافی نہیں کی گئی ہے ‘ میں قسم کھاتا ہوں۔ بالخنس . خنوس کا معنی ہے منتہٰی سے مبدء سیر کی طرف لوٹنا۔ الخنس سے اس جگہ وہ پانچ ستارے مراد ہیں۔ جن کو متحیرہ کہا جاتا ہے یعنی عطارد ‘ زہرہ ‘ مشتری ‘ مریخ ‘ زحل۔ ان کو متحیرہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کی رفتار کچھ اس طرح دکھائی دیتی ہے کہ مشرق سے مغرب کی طرف جاتے جاتے لوٹ پڑتے ہیں ‘ کبھی یہ ٹھہرے ہوئے بھی نظر آتے ہیں۔ ہیبت (قدیم) کی نظر میں اس کا سبب یہ ہے کہ کچھ افلاک جزئیہ (چھوٹے دائرے) ہیں جو کھوکھلے نہیں ہیں۔ ان میں یہ ستارے پیوستہ ہیں ‘ ان چھوٹے دائروں کو تدویرات کہا جاتا ہے ‘ یہ دائرے خود بھی متحرک ہیں اور ان کے بالائی حصوں کی حرکت ان افلاک کی رفتار کے تابع بھی ہیں ‘ جن کے اندر یہ موجود ہیں۔ ان دائروں کے بالائی حصہ کی حرکت مغرب سے مشرق کی طرف اپنے اپنے افلاک کی رفتار کے موافق ہے اور زیرین حصوں کی حرکت اس کے برعکس مشرق سے مغرب کی جانب ہے۔ پس مذکورہ ستارے جب تدویرات کے اعلیٰ حصے میں ہوتے ہیں تو تدویر کی حرکت اور اس فلک کلی کی حرکت جس میں یہ فلک جزئی یعنی تدویر ہے دونوں موافق ہوتی ہیں اور ستارہ کی رفتار تیزی کے ساتھ مغرب سے مشرق کی طرف دکھائی دیتی ہے لیکن جب ستارے تدویر کے زیریں حصے میں ہوتے ہیں تو تدویر کی حرکت ‘ فلک کلی کی حرکت کے مزاحم ہوتی ہے یا کم از کم ایک دوسرے کے موافق نہیں ہوتی (ایک کی مغرب سے مشرق کو ‘ دوسرے کی مشرق سے مغرب کو) اس لیے مذکورہ ستارے کبھی مشرق سے مغرب کی طرف جاتے نظر آتے ہیں ‘ یہی واپسی اور خنوس ہے اور کبھی ساکن بھی دکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک (ہیئت قدیم کی یہ فضائی تحقیق واجب التسلیم نہیں بلکہ ہمارے نزدیک تو سب ستارے ایک ایک دائرہ میں تیرے (یعنی ہموار چال سے رواں اور متحرک) ہیں اور نہ آسمانوں کا پھٹنا ناممکن ہے نہ جڑنا۔ پس خمسۂ متحیرہ کی حرکت کبھی مشرق کی طرف ہوتی ہے ‘ کبھی مغرب کی طرف ‘ کبھی سست کبھی تیز۔ جب اللہ چاہتا ہے اور جیسا ضابطۂ خالق ہے ویسی ہی ستاروں کی حرکات ہیں۔ ہاں ! ضابطہ فاطر یہی ہے کہ تمام ستارے ایک ہی قسم کی رفتار اور ترتیب کے ساتھ متحرک ہیں۔ قتادہ نے کہا کہ خنس یہی ستارے ہیں جو رات میں نمودار ہوتے اور دن میں چھپ جاتے ہیں۔ خنوس سے اس جگہ مراد ہے چھپ جانا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ خنوس سے مراد ہے غائب ہوجانا۔ میں کہتا ہوں اس صورت میں الخنس اور الکنس دونوں ہم معنی ہوں گے ‘ پھر تکرار کی کوئی وجہ نہیں۔
Ayah 81:16

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

(اور) جو سیر کرتے اور غائب ہو جاتے ہیں

الجوار الکنس . یعنی وہ خمسہ متحیرہ جو دائرے میں چلتے اور غروب یا محاق کے وقت چھپ جاتے ہیں ‘ کنوس کا معنی ہے خرگوش اور ہرن کا اپنے مسکن (جھاڑی وغیرہ) میں پناہ گیر ہونا ‘ یہاں کنوس سے مراد ہے غروب یا محاق کے وقت ستاروں کا چھپ جانا۔ میں کہتا ہوں احتمال ہے کہ ان ستاروں کے مکان سے مراد ہو زیرین عرش ان کی قرارگاہ۔ حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے سورج ڈوب گیا تو فرمایا : کیا تو جانتا ہے یہ کہاں جاتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بخوبی واقف ہیں۔ فرمایا : وہ عرش کے نیچے سجدہ کرنے جاتا ہے۔ (الحدیث)
Ayah 81:17

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی قسم جب ختم ہونے لگتی ہے

والیل اذا عسعس . حسن بصری (رح) نے عسعس کا ترجمہ کیا۔ اَقْبَلَ بِظَلاَمِہٖ وَ اَدْبَرَ : قسم ہے رات کی جب وہ اپنا اندھیرا لے کر سامنے سے آتی ہے یا پشت موڑ کر جاتی ہے ‘ یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔
Ayah 81:18

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی قسم جب نمودار ہوتی ہے

والصبح اذا تنفس . اور قسم ہے صبح کی جب اس کی پو پھٹتی ہے یا اس کی روشنی پھیلتی ہے۔
Ayah 81:19

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بےشک یہ (قرآن) فرشتہٴ عالی مقام کی زبان کا پیغام ہے

انہ لقول رسول کریم یہ قرآن بلاشبہ اس مرسل (قاصد) کا قول ہے جو اللہ کے نزدیک معزز یہ جواب قسم ہے۔ رسول سے مراد ہیں حضرت جبرئیل یا رسول اللہ ﷺ یعنی۔ مطلب یہ ہے کہ رسول (اور قاصد) کی حیثیت سے اس کا قول ہے ‘ خود بنا کر خدا کی طرف منسوب نہیں کردیا ہے۔ 1 ؂ (نہ اس کی حیثیت محض ترجمان کی ہے) اگر رسول ............. 1 ؂ جو لوگ قرآنی عبارت کو جبرئیل کی خود ساختہ یا رسول اللہ ﷺ کی پرداختہ کہتے ہیں اور قرآن نام صرف معانی و مضامین کا قرار دیتے ہیں وہ اپنے استدلال میں اس آیت کو پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ آیت صاف بتارہی ہے کہ قرآن قول رسول ﷺ ہے ‘ خدا کا قول نہیں۔ حضرت مؤلف قدس سرہٗ نے مِنْ حَیْثُ اَنَّہٗ رَسُوْلٌ کے الفاظ فرما کر مذکورہ بالا شبہ کا استیصال کردیا۔ کوئی رسول اور پیامبر اگر کسی کو کسی کی طرف سے کوئی پیام پہنچاتا ہے تو اس کی صرف یہ شکل ہی ہے کہ وہ اپنارسول ہونا ظاہر کرے اور جو کچھ پیام بھیجنے والے نے کہا اس کو اسی کے الفاظ میں ادا کر دے۔ یہ طریقہ کامل رسالت اور پیام رسانی کا ہے لیکن اگر وہ قاصد اپنے الفاظ میں پیام بھیجنے والے کا مطلب ادا کرتا ہے تو اس کو پورا پورا پیام رساں نہیں کہا جاسکتا۔ اوّل تو الفاظ کی ............. 236
Ayah 81:20

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو صاحب قوت مالک عرش کے ہاں اونچے درجے والا ہے

ذی قوۃ . اور طاقت والا ہے سے مراد جبرئیل ہوں تو ان کی قوت یہ تھی کہ قوم لوط کی بستیوں کو اکھاڑ کر بحر اسود کے کنارہ سے اپنے بازو پر اٹھا کر بلندی پر لے جا کر الٹ دیا۔ قوم ثمود پر ایسی دھاڑ ماری کہ سب بیٹھے بیٹھے مردہ ہوگئے۔ آن کی آن میں آسمان سے زمین پر آتے اور پلک مارنے میں زمین سے آسمان پر چڑھ جاتے تھے۔ اگر رسول سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی ہو تو آپ کی طاقت اس سے ظاہر ہوتی ہے کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو برس اپنی قوم میں رہے اور تھوڑے لوگوں کو مؤمن بنا سکے مگر رسول اللہ ﷺ نے : تئیس برس میں (لاکھوں کو) اللہ کی طرف کھینچ لیا۔ 23 برس میں ہر طرف دین کو پھیلا دیا۔ جوق در جوق لوگ دین خدا میں داخل ہونے لگے۔ حجۃ الوداع میں ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابہ ؓ ساتھ تھے۔ ساتویں آسمان سے بھی اوپر جہاں پہنچنے کی جبرئیل کی طاقت نہ تھی ‘ پہنچ گئے۔ پھر زمین پر اتر آئے اور گھڑی بھر وقت بھی صرف نہ ہوا۔ آپ ﷺ نے دیدارِ رب کا شرف حاصل کیا ‘ کسی دوسرے کو یہ نعمت میسر نہیں (حضرت موسیٰ کی درخواست پر) جب اللہ کا جلوہ پہاڑ پر پڑا تو اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے زمین سے ہموار کردیا اور موسٰیٰ بےہوش ہو کر گرپڑے۔ عند ذی العرش مکین عرش والے (اللہ) کے ہاں وہ معزز و باوجاہت . عند ‘ مکین سے متعلق ہے
Ayah 81:21

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

سردار (اور) امانت دار ہے

مطاع ثم امین اور مطاع ہے (اس کا حکم مانا جاتا ہے) اور وہاں امین وحی ہے۔ ثَمَّ (وہاں) کا تعلق امین سے ہے اور مطاع بھی ہوسکتا ہے یعنی ملاء اعلیٰ (عالم ملائکہ) میں اس رسول کی اطاعت کی جاتی ہے۔ بغوی نے کہا : منجملہ دوسرے واقعات کے ایک واقعہ یہ بھی تھا کہ شب معراج میں رسول اللہ ﷺ کے لیے جبرئیل کے کہنے سے ملائکہ نے آسمانوں کے دروازے کھول دیئے تھے اور جنت کے دربانوں نے جنت کے دروازے۔ میں کہتا ہوں یہ بعینہٖ اطاعت محمد رسول اللہ ﷺ کی تھی۔ یہ بھی احتمال ہے کہ اطاعت سے مراد یہ ہو کہ اللہ کے احکام پہلے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) پر اترتے ہیں پھر ان کے ذریعہ سے دوسرے فرشتوں کو پہنچتے ہیں۔ حضرت نواس بن سمعان کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب اللہ کسی امر کی وحی کرنا چاہتا ہے تو وحی کے ساتھ کلام فرماتا ہے ‘ جس سے آسمانوں میں ایک سخت لرزہ پیدا ہوجاتا ہے۔ جب آسمانوں والے اس کو سنتے ہیں تو بےہوش ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ میں گرپڑتے ہیں ‘ پھر (ہوش میں آکر) سب سے پہلے سر اٹھانے والے جبرئیل ( علیہ السلام) ہوتے ہیں ‘ اللہ ان سے اپنی وحی کے ساتھ کلام کرتا ہے ‘ پھر جبرئیل ( علیہ السلام) ملائکہ کی طرف سے گزرتے ہیں جس آسمان کی طرف سے گزرتے ہیں اس کے فرشتے جبرئیل ( علیہ السلام) سے پوچھتے ہیں۔ جبرئیل ! ہمارے مالک نے کیا فرمایا : جبرئیل ( علیہ السلام) کہتے ہیں (جو کچھ فرمایا) حق ہی ہے وہ بزرگ و برتر ہے۔ پھر سب ملائکہ ویسے ہی کہتے ہیں جیسے جبرئیل ( علیہ السلام) وحی کے متعلق حکم خداوندی کے موافق کہتے ہیں۔ اِس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبرئیل مطاع ملائکہ ہیں۔ رہا محمد رسول اللہ ﷺ کا مطاع ملائکہ ہونا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل حق (صوفیہ) کے نزدیک حقیقت محمدیہ فیض وجود اور مرتبۂ قرب کے لیے اوّل ترین تعین (مخلوق اور ممکن) ہے اور مراتب قرب میں سے ہی وحی و کلام کا مرتبہ بھی ہے۔ حقیقت محمدیہ ﷺ کے توسل کے بغیر کسی کو وحی نہیں پہنچ سکتی۔ یہ صرف کشفی چیز ہے۔ بعض نصوص بھی اس پر دلالت کر رہی ہیں۔ اللہ نے فرمایا : وما ارسلنٰک الاّ رحمۃ للعالمین۔ خود حضور ﷺ نے فرمایا : آسمان میں میرے دو وزیر جبرئیل و میکائیل ہیں اور زمین پر میرے دو وزیر ابوبکر ؓ و عمر ؓ ہیں۔ لہٰذا جبرئیل کا مطاع ہونا بطریق اولیٰ ہے۔
Ayah 81:22

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور (مکے والو) تمہارے رفیق (یعنی محمدﷺ) دیوانے نہیں ہیں

وما صاحبکم بمجنون . اور تمہارا ساتھی مجنون نہیں ہے۔ یہ کلام بھی جواب قسم ہے۔ صاحبکم سے ............ 236......... قدرے تبدیلی بھی مضمون کو بدل دیتی ہے اور نہ بھی بدلے تب بھی اپنے الفاظ میں کسی کے مطلب کو پہنچانے سے فرض رسالت کی ادائیگی کامل طور پر نہیں ہوتی۔ جبرئیل ہوں یا رسول اللہ ﷺ ہر ایک کی حیثیت رسول کامل کی تھی ‘ ترجمان کی نہ تھی۔ یہ مضمونِ الٰہی کو اپنے الفاظ میں تعبیر کرنے والے نہ تھے۔ ترجمان اور معبر کو رسول نہیں کہا جاتا۔ رسول اللہ کی حیثیت رسالت کا تقاضا ہے کہ مرسل کے الفاظ پہنچا دیئے جائیں ‘ واللہ اعلم۔ 12 مراد ہیں رسول اللہ ﷺ ‘ اگر لفظ رسول سے گزشتہ کلام میں رسول اللہ ﷺ کی ذات مراد ہو تو اس جگہ بجائے ضمیر کے اسم ظاہر (صاحبکم) کہنے سے اس امر پر تنبیہ کرنی مقصود ہے کہ چالیس برس سے یہ تمہارے ساتھ ہیں ‘ کوئی حرکت ان سے ایسی نہیں ہوئی جو کمال عقل و ہوش کے خلاف ہو۔ لہٰذا ان کو اب مجنون کہنا ‘ یا محض ضد ہے ‘ یا بجائے خود جنون ہے۔ کافروں نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق کہا تھا : افترٰی علی اللہ کذبًا ام بہٖ جنۃ۔ مذکورۂ بالا آیت میں قول کفار کا رد ہے۔
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

بےشک انہوں نے اس (فرشتے) کو (آسمان کے کھلے یعنی) مشرقی کنارے پر دیکھا ہے

ولقد راہ بالافق المبین . باتفاق علماء راٰی کی ضمیر رسول اللہ ﷺ کی طرف راجع ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے ہی دیکھا تھا۔ ہٗ کی ضمیر یا ذی العرش کی طرف راجع ہے یا رسول کریم یعنی جبرئیل کی طرف۔ اوّل صورت میں بالافق المبین ‘ راٰی کی ضمیر فاعلی سے حال ہوگا۔ یعنی جب رسول اللہ ﷺ ساتوں آسمانوں کے آخر میں عالم کے افق پر تھے اس وقت آپ ﷺ نے اللہ کو دیکھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ہم نے قصہ معراج میں باسناد شریک بن عبداللہ حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ ربّ العزت قریب ہوا ‘ نیچے کو آیا ‘ یہاں تک کہ بقدر فاصلۂ قوسین یا اس سے بھی زیادہ قریب ہوگیا۔ ابو سلمہ کی بھی یہی روایت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے بھی یہ قول مروی ہے اور ضحاک بھی اسی کے قائل ہیں ‘ جو لوگ قائل ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کو دیکھا تھا ‘ تفصیل میں ان کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض قائل ہیں کہ اللہ نے آپ ﷺ کے دل کے اندر آنکھوں کی بینائی پیدا کردی تھی اور آپ ﷺ نے دل سے دیکھا تھا۔ اس قول کا استنباط آیت : ما کذب الفؤاد وما راٰی سے کیا گیا ہے۔ حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے۔ مسلم نے بروایت ابو العالیہ حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ آیت : ما کذب الفؤاد ما راٰی ولقد راٰہ نزلۃً اخرٰی کا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کو دل سے دو بار دیکھا۔ حضرت انس ‘ حسن بصری اور عکرمہ قائل تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے رب کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ عکرمہ کی روایت سے حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے کہ اللہ نے ابراہیم کا انتخاب خلّت کے لیے اور موسیٰ کا کلام کے لیے اور محمد ﷺ کا رویت (دیدار) کے لیے کیا۔ حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کیا آپ ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا تھا ؟ فرمایا : (وہ) نور ہے ‘ میں اس کو کیسے دیکھتا۔ (رواہ مسلم) میں کہتا ہوں ممکن ہے کہ الافق المبین اور الافق الاعلیٰ سے مراد ہو سالکوں کی سیر کا آخری درجہ۔ حقیقت عابدیت کا آخری مرتبہ۔ حقیقت محمدیہ ﷺ ہے جس کو محبوبیت خالصہ کا درجہ کہا گیا ہے۔ یہ مرتبہ لاتعین (اطلاق کے مرتبہ سے ادھر) ہے۔ لا تعین کی حد میں سیر و سلوک کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس مقام پر سیر صرف نظری سیر ہوسکتی ہے ‘ حضرت مجدد (رح) کا یہی قول ہے۔ جمہور اہل تفسیر نے ہُ ضمیر رسول کریم ﷺ کی طرف راجع کی ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل کو دیکھا جبکہ جبرئیل افق مبین میں تھے۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : یعنی بجانب مشرق بالائی افق میں تھے۔ بغوی نے اپنی سند سے حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) سے فرمایا تھا ‘ میں آپ کو اس شکل میں دیکھنا چاہتا ہوں جس شکل میں آپ آسمان میں ہوتے ہیں۔ حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : آپ ﷺ ایسا نہ کرسکیں گے۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیوں نہیں ؟ جبرئیل نے کہا : آپ کس جگہ چاہتے ہیں کہ میں وہ صورت آپ کو دکھاؤں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : ابطح میں۔ جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا : وہاں تو میں نہیں سما سکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : منیٰ میں۔ جبرئیل نے کہا : وہاں بھی میری سمائی نہ ہوگی۔ فرمایا : عرفات میں۔ جبرئیل نے کہا : اس میں بھی میری وسعت نہیں۔ فرمایا : حراء میں۔ جبرئیل نے کہا : اس کی بنیادی دیواروں میں اگر میری گنجائش ہوگی۔ غرض وقت مقرر پر رسول اللہ ﷺ تشریف لے گئے۔ اچانک عرفہ کے پہاڑوں سے ہتھیاروں کی کھٹا کھٹ اور بادلوں کی گرج جیسی آواز کے ساتھ جبرئیل ( علیہ السلام) سامنے نمودار ہوگئے۔ ان کا سر آسمان تک اور پاؤں زمین میں تھے اور مشرق سے مغرب تک خلا بھری ہوئی تھی۔ رسول اللہ ﷺ یہ سماں دیکھ کر بےہوش ہو کر گرپڑے۔ راوی کا بیان ہے اس کے بعد جبرئیل ( علیہ السلام) نے اپنی صورت بدل اور حضور ﷺ کو سینے سے چمٹا کر کہا : محمد ﷺ ! خوف نہ کرو ‘ اگر تم اسرافیل کو دیکھ لو گے تو کیا حال ہوگا کہ ان کا سر عرش کے نیچے اور پاؤں ساتویں زمین کی حدود میں ہیں۔ عرش ان کے کاندھے پر ہے اور ایسی عظمت کے باو جود اللہ کے خوف سے وہ کبھی کبھی اتنا سمٹ جاتے ہیں کہ چڑیا کی طرح ہوجاتے ہیں اور عرش رب کو (اس وقت) محض عظمت (الٰہی) اٹھائے رہتی ہے۔ اس قول (رویت جبرئیل) کے قائلین میں سے حضرت عائشہ ؓ : بھی تھیں۔ بخاری نے اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے اس شخص کو جھوٹا قرار دیا ‘ جو کہتا ہے کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا۔ آپ نے اپنے قول پر آیت : لا تدرکہ الابصار وھو یدرک الابصار سے استدلال کیا اور آیت : ما کان لبشر ان یکلمہ اللہ الاّ وحیًا او من ورآء حجاب کو بھی ثبوت میں پیش کیا۔ مسئلہ کا فیصلہ یہ ہے کہ رویت الٰہیہ کو ثابت کرنے والوں کا قول حضرت عائشہ ؓ کے قول سے اولیٰ ہے۔ آیت : لا تدرکہ الابصار سے آخرت میں رویت کی نفی تو باجماع اہل سنت ظاہر نہیں ہوتی۔ اسی طرح دنیا میں شب معراج کے اندر رویت الٰہیہ اور جنت و دوزخ کو دیکھنے کے منافی کوئی چیز آیت میں نہیں ہے۔ رہا جبرئیل کو اصل صورت میں دیکھنے کا واقعہ جو حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت عائشہ ؓ نے نقل کیا ہے وہ بجائے خود صحیح ہے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آیت : وَلَقَدْ رَاہ میں بھی یہی واقعہ مراد ہے بلکہ کلام کی رفتار تو رسول اللہ ﷺ کی فضیلت اور کمال کے اظہار کو بتارہی ہے۔ جبرئیل کو دیکھنا کوئی فضیلت نہیں۔ باجماع علماء جبرئیل سے تو رسول اللہ ﷺ افضل تھے ‘ پھر لفظ عند ذی العرش مکین کمال قرب رسول پر دلالت کر رہا ہے۔ اس سے آگے مرتبہ کی ترقی ‘ بس رویت خدواندی کا اثبات ہی ہوسکتا ہے۔ جبرئیل کو دیکھنے کا مرتبہ مکین عند اللہ ہونے کے مرتبہ سے بڑا نہیں ‘ لیکن اگر مکین عند اللہ ہونے کو حضرت جبرئیل کی صفت کہا جائے اور لَقَدْ رَاٰہُ سے رویت جبرئیل مراد لی جائے تو مضمون الٹا ہوجائے گا (کہ جبرئیل تو مکین عند اللہ ہیں اور رسول ﷺ کو بس اتنا شرف حاصل ہے کہ انہوں نے جبرئیل (علیہ السلام) کو دیکھ لیا) ۔
Ayah 81:24

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ پوشیدہ باتوں (کے ظاہر کرنے) میں بخیل نہیں

وما ھو علی الغیب بضنین . اور محمد ﷺ وحی پر بخیل نہیں کہ جو چیز انکو وحی سے معلوم ہو وہ کسی کو نہ پہنچائیں ‘ نہ سکھائیں۔
Ayah 81:25

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ شیطان مردود کا کلام نہیں

وما ھو بقول شیطن رجیم . اور قرآن کسی شیطان مردود کا قول نہیں کہ چوری سے سن کر اپنے دوست کاہن کے دل میں اس نے ڈال دیا ہو۔ کافر کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کاہن ہیں۔ اس جملہ میں کافروں کے قول کا رد کردیا۔
Ayah 81:26

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

پھر تم کدھر جا رہے ہو

فاین تذھبون . پس تم کہاں جا رہے ہو ؟ فاء سببی اور استفہام انکاری ہے۔ یعنی باطل کی طرف جو تم جا رہے ہو ‘ ایسا نہ کرو۔ کافر حضور ﷺ کو قرآن گو شاعر ‘ یا مجنون ‘ یا کاہن کہتے تھے۔ لفظ اَیْنَ سے اس کا انکار کردیا۔ زجاج نے کہا : جو راستہ میں نے کھول کر بیان کردیا ‘ اس سے زیادہ واضح کس راستہ پر چلو گے۔ سائل سوال کرسکتا ہے وہ کیا راستہ ہے تو گویا اسکے جواب میں فرمایا :
Ayah 81:27

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو جہان کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے

ان ھو الا ذکر للعالمین . قرآن تو بس سارے جہان کے لیے یادداشت ہے۔ قاموس میں ہے کہ : ذکرٌ تذکارٌ کی طرح (مصدر) ہے۔ کسی چیز کو یاد رکھنا (نیز) وہ چیز جو زبان پر رواں ہو۔ شہرت ‘ زبان سے تعریف ‘ نماز ‘ شرف ‘ دعا۔ وہ کتاب جس کے اندر دین اور وضع شریعت کی تفصیل ہو۔ اس جگہ آخر الذکر معنی مراد لینا ظاہر ہے مگر دوسرے معانی پر بھی حمل کیا جاسکتا ہے کیونکہ قرآن ذکر خدا ہے۔ ایسی چیز بھی ہے جس کو یاد رکھنا ضروری ہے۔ ہر وقت یا اکثر اوقات زبان پر جاری رکھنے کی چیز بھی ہے۔ اللہ کی ثناء بھی ہے۔ عبادت خدا بھی ہے ‘ انسان کے لیے شرف بھی ہے۔ انسانی دعاء بھی ہے۔ عالمین سے عموماً تمام جنات اور انسان مراد ہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت تمام جن و انس کے لیے تھی بلکہ آپ ﷺ کیذاترحمۃ للعالمین تھی اور قرآن کا فیض ملائکہ کو بھی حاصل ہے۔ آیت : بایدی سفرۃ کرام بررۃ اس پر دلالت کر رہی ہے ‘ حاکم نے مستدرک میں حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ جب سورة انعام نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی پاکی کا زبان سے اظہار فرمایا پھر فرمایا : ملائکہ نے بھی پاکی بیان کی (اتنی تعداد نے) کہ افق کو بند کر دیا۔
Ayah 81:28

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

(یعنی) اس کے لیے جو تم میں سے سیدھی چال چلنا چاہے

لمن شاء منکم ان یستقیم . یعنی جو لوگ حق کا اتباع کرتے اور حق کی چال چلتے ہیں۔ قرآن ان کے لیے خصوصیت کے ساتھ یادداشت ہے۔ اتباع حق کرنے والوں کی یہ خصوصیت اس وجہ سے ہے کہ حقیقت میں یہی قرآن سے فائدہ اندوز ہوتے ہیں۔ لفظ استقامت تمام احکام کو جامع ہے۔ سفیان بن عبداللہ ثقفی نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھ سے اسلام کی کوئی ایسی بات فرما دیجئے کہ آپ ﷺ کے بعد مجھے اسکے متعلق کسی اور سے نہ پوچھنا پڑے۔ فرمایا : کہو اٰمَنْتُ بِ اللہ ِ ثُمَّ اسْتَقِمْ ۔ (رواہ مسلم) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سلیمان بن یسار کی روایت سے اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے اور ابن المنذر نے بحوالہ سلیمان بن قاسم بن مخیمرہ کی روایت سے بیان کیا کہ جب آیت : لمن شاء منکم ان یستقیم نازل ہوئی تو ابوجہل کہنے لگا : ہم کو اختیار دے دیا گیا ہے ‘ اگر ہم چاہیں استقامت رکھیں نہ چاہیں نہ رکھیں۔ اس پر اللہ نے نازل فرمایا :
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم کچھ بھی نہیں چاہ سکتے مگر وہی جو خدائے رب العالمین چاہے

وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ . یعنی تم حق پر استقامت کو اسی وقت چاہتے ہو جب اللہ تمہاری مشیت کو یا تمہاری اسقامت کو چاہے (گویا اللہ کی مشیت اصل ہے اور انسان کی مشیت اس کا نتیجہ) ۔ رب العالمین . وہ سارے جہان کا مالک ہے ‘ ہر چیز کو ترقی دے کر حد کمال تک پہنچانے والا ہے۔ جواہر ہوں یا اعراض ‘ سب کا خالق وہی ہے۔ انسانی افعال کا بھی وہی خالق ہے ‘ یہاں تک کہ تمہاری مشیت بھی وہی پیدا کرتا ہے جو استقامت کا خواستگار ہو اور استقامت اس کو مل جائے تو یہ اللہ کا فضل و انعام ہے۔ الحمد اللہ ! سورة کوّ رت ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ و تعالیٰ