81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتدبرِ قرآن

تعارف

تعارف

بسم اللہ الرحمن الرحیم ا۔ سورة کا عمود اور سابق سے تعلق پچھلی دونوں توام سورتوں ………النزعت اور عبس ……… میں جس ہول قیامت سے ’ طآمۃ ‘ اور ’ صآخۃ ‘ کے ناموں سے ڈرایا گیا ہے اس سورة میں اسی ہول کی پوری تصویر ہے۔ آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں پھر انسان کے قریب و بعید اور اس کے ظاہر و باطن کے ہر گوشہ میں اس ہلچل کے جو اثرات مرتب ہوں گے وہ اس طرح نگاہوں کے سامنے کردیئے گئے ہیں کہ انسان اگر سوچنے سمجھنے والا ہو تو ان آیات کے آئینے میں وہ سب کچھ دیکھ سکتا ہے جو ابھی پس پردہ ہے لیکن ایک دن وہ سب اس کے سامنے آنے والا ہے۔ اس کے بعد قریش کے مکذبین کو مخاطب کر کے آگاہ کیا گیا ہے کہ قرآن اس دن سے جو تمہیں ڈرا رہا ہے تو اس کو ایک حقیقت سمجھو اور اس کے لئے تیاری کرو۔ یہ خدا کا نازل کردہ کلام ہے جو اس نے اپنے سب سے مقرب و معتمد فرشتے کے ذریعہ سے اپنے رسول پر اتارا ہے۔ اگر تم نے ان کو کاہنوں کی کہانت اور شاعروں کی شاعری سمجھ کر رد کردیا تو یاد رکھو کہ نہ خدا کا کچھ بگاڑو گے نہ رسول کا بلکہ اپنی ہی تباہی کا سامان کرو گے۔ رسول کا کام لوگوں تک اس یاد دہانی کو پہنچا دینا ہے۔ اس کے بعد ذمہ داری لوگوں کی اپنی ہے اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس پر ایمان لانے کی توفیق انہی کو حاصل ہوگی جو حق کے قدر دان اور اس کے طالب ہوں گے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنت ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی۔ ب۔ سورة کے مطالب کا تجزیہ سورة کے مطالب کی ترتیب اس طرح ہے : پہلے چھ آیتوں میں وہ احوال بیان ہوئے ہیں جو مردوں کو زندہ کئے جانے سے پہلے پیش آئیں گے۔ (١۔ ٣) اس کائنات کی بلند وبالا اور عظیم و پرشوکت چیزوں مثلاً سورج، چاند اور پہاڑوں کا اس دن جو حال ہوگا اس کی تصویر۔ (٤۔ ٦) زمین کی ہر چیز پر اس دن نفسی نفسی کی جو حالت طاری ہوگی اس کا اجمالی بیان۔ محبوب ترین چیزیں چھوٹی پھریں گی لیکن ان کا کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا۔ جنگلوں اور غاروں کے وحوش و بہائم سمندروں کی طغیانی سے فرار کے لئے اکٹھے ہوجائیں گے، شیر اور ہرن دونوں پاس پاس ہوں گے لیکن مشترک مصیبت کے سوا ان کو اور کسی چیز کا بھی کچھ ہوش نہ ہوگا۔ اس کے بعد آٹھ آیتوں میں وہ احوال بیان ہوئے ہیں جو اٹھائے جانے کے بعد مشاہدہ میں آئیں گے۔ (٧۔ ١٤) انسانوں کی ان کے عقائد و اعمال کے اعتبار سے درجہ بندی اور معصوم مظلوموں کی دادرسی ہوگی۔ لوگوں کے اعمال نامے کھلیں گے۔ آسمان سرخ ہوجائے گا، جہنم دھکائی جائے گی۔ جنت اپنے حق داروں کے قریب لائی جائے گی اور ہر ایک اس دن دیکھ لے گا کہ وہ اپنے رب کے حضور کیا نذرانہ لے کر آیا ہے۔ (١٥۔ ٢١) ستاروں کے ٹوٹنے اور شب کی تاریکی کے بعد صبح کے نمودار ہونے سے اس بات پر شہادت کہ یہ قرآن کاہنوں کی خرافات کی قسم کی کوئی چیز نہیں ہے بلکہ یہ خدا کے ایک جلیل القدر فرشتے کا لایا ہوا کلام ہے جو عرش والے کے نزدیک بڑا ہی باعزت و بااقتدار ہے۔ تمام ملائکہ اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ وہ نہایت معتمد اور امانت دار ہے۔ (٢٢۔ ٢٦) قرآن کے مکذبین کو تنبیہ کہ جو رسول تم کو یہ کلام سنا رہا ہے وہ کوئی خبطی و دیوانہ نہیں ہے بلکہ اللہ کا رسول اور نہایت فرزانہ ہے۔ وہ جس فرشتہ سے اپنی ملاقات کا دعویٰ کر رہا ہے یہ کوئی وہم نہیں بلکہ بیان حقیقت ہے۔ اس نے اس فرشتہ کو بالکل کھلے افق میں دیکھا ہے۔ وہ غیب دانی کا حریص نہیں ہے بلکہ اس پر جو وحی آتی ہے وہ بالکل غیر ارادی طور پر مبدأ فیض سے نازل ہوتی ہے۔ نادان ہیں جو اس کے کلام کو کسی شیطان رجیم کا القاء سمجھتے ہیں اور اس کے انذار کو جھٹلا رہے ہیں۔ (٢٧۔ ٢٩) مکذبین کو مزید تنبیہ کہ اگر اسی طرح اپنی ضد پر اڑے رہ گئے تو یاد رکھو کہ نہ اللہ کا کچھ بگاڑو گے نہ اس کے رسول کا بلکہ اپنی ہی تباہی کا سامان کرو گے۔ جو کلام تم کو سنایا جا رہا ہے یہ تمہارے لئے یاد دہانی ہے، اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا تمہارا اپنا کام ہے۔ نہ رسول کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کو تمہارے دلوں میں زبردستی اتار دے اور نہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ اس کو قبول کرنے پر مجبور کر دے۔ اس کے لئے انہی کے سینے کھلیں گے جو سیدھی راہ اختیار کرنے کا حوصلہ رکھنے والے ہوں گے اور یہ حوصلہ انہی کے اندر پیدا ہوگا جو سنت الٰہی کے مطابق اس کے سزاوار ہوں گے۔

Ayah 81:1

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب کہ سورج کی بساط لپیٹ دی جائے گی

’تَکْوِیْرٌ‘ کے معنی کسی شے کو لپیٹ دینے یا ایک گٹھڑ کی صورت باندھ لینے کے ہیں۔ ’کوّرَ العھامۃَ عَلٰی رَاْسِہ‘ کے معنی ہیں ’اس نے عمامہ اپنے سر پر لپیٹ لیا‘۔ قیامت کے ظہور کے وقت سورج کا حال: قیامت کے ظہور کے وقت آسمانوں بلکہ اس پوری کائنات کی سب سے زیادہ نمایاں اور شان دار چیز۔۔۔ سورج۔۔۔ کا جو حال ہو گا یہ اس کی تصویر ہے کہ اس کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ ظاہر ہے کہ جب سورج کی بساط ہی لپیٹ دی جائے گی تو وہ سارا عالم تیرہ و تار ہو جائے گا جو اس کی تابانی سے روشن ہے۔ اگرچہ سورج کے چھپنے کا مشاہدہ ہمیں آج بھی ہر روز ہوتا رہتا ہے لیکن اس کی نوعیت بالکل مختلف ہے۔ یہ صورت صرف اس وجہ سے پیش آتی ہے کہ ہم اس سے اوٹ میں ہو جاتے ہیں البتہ جب قیامت کی ہلچل برپا ہو گی تو سورج کا سارا نظام ہی بالکل درہم برہم ہو کر رہ جائے گا۔ کون اندازہ کر سکتا ہے اس تاریکی کا جب کہ سرے سے سورج ہی تاریک ہو جائے۔
Ayah 81:2

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور ستارے بےنور ہوجائیں گے۔

ستاروں کا حال: ’اِنْکِدَارٌ‘ کے معنی دھندلے ہو جانے اور ماند پڑ جانے کے ہیں۔ یہاں اس سے مراد ستاروں کا بے نور ہو جانا ہے۔ ظاہر ہے کہ جب سورج ہی کی بساط لپیٹ دی جائے گی تو اس کے نظام سے وابستہ جتنے بھی بلب اور قمقمے ہیں وہ سب آپ سے آپ بے نور ہو جائیں گے۔
Ayah 81:3

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

پہاڑ چلا دیئے جائیں گے

پہاڑوں کا حال: آسمان کے بعد یہ زمین کی سب سے شان دار اور عظیم چیز۔۔۔ پہاڑوں۔۔۔ کی طرف اشارہ فرمایا کہ یہ پہاڑ جو زمینوں میں گڑے ہوئے ہیں، جن کو سمجھتے ہو کہ یہ بالکل غیر فانی اور اٹل ہیں، ان کی جگہ سے ان کو ہلایا نہیں جا سکتا،؂۱ یہ اس دن چلا دیے جائیں گے۔ یہاں صرف چلا دیے جانے کا ذکر ہے لیکن دوسرے مقامات میں اس کی تفصیل بھی ہے کہ وہ اس طرح اڑتے پھریں گے جس طرح بادل اڑتے پھرتے ہیں۔ _____ ؂۱ یہ امر ملحوظ رہے کہ منکرین قیامت کو جب قیامت کی ہلچل سے ڈرایا جاتا تو وہ اس کا مذاق اڑانے کے لیے یہ سوال کرتے کہ قیامت آئے گی تو کیا وہ پہاڑوں کو بھی اکھاڑ پھینکے گی؟
Ayah 81:4

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور دس ماہہ گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی۔

محبوب چیزوں کی کس مپرسی: ’عِشَارٌ‘ جمع ہے ’عُشَرَاءٌ‘ کی۔ یہ لفظ اس اونٹنی کے لیے آتا ہے جو دس ماہ کی گابھن یعنی بچہ جننے کے قریب ہو۔ عظیم چیزوں کی بے ثباتی کے بعد یہ محبوب چیزوں کی بے وقعتی واضح فرمائی ہے کہ اس دن کی ہلچل لوگوں پر ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری کر دے گی کہ کسی کی نظروں میں اس کے محبوب سے محبوب مال کی بھی کوئی وقعت باقی نہیں رہے گی۔ یہ بات قرآن کے اولین مخاطب، اہل عرب کے خاص مذاق طبیعت کو پیش نظر رکھ کر فرمائی گئی ہے۔ ان کے مال میں سب سے زیادہ قدر کی جگہ ان کے اونٹوں کو حاصل تھی۔ خاص طور پر وہ اونٹنیاں ان کو نہایت عزیز و محبوب تھیں جن کے حمل پر دس ماہ گزر چکے ہوں اور بچہ جننے کا وقت اب قریب آ لگا ہو۔ اس طرح کی اونٹنیوں کے مالک ان کی نگہداشت کا قدرتی طور پر خاص اہتمام کرتے۔ ان کی مستقبل کی بہت سی آرزوؤں کا ان پر انحصار ہوتا۔ انہی محبوب اونٹنیوں کو بطور مثال ذکر کر کے دنیا کی محبت میں پھنسے ہوئے غافلوں کو ہول آخرت کی یاد دہانی فرمائی ہے کہ اس کا پہلا ہی مرحہ اتنا شدید ہو گا کہ اس وقت کسی کو اپنی محبوب سے محبوب چیزوں کا بھی کچھ ہوش نہیں رہے گا۔ گابھن اونٹنیاں آوارہ پھریں گی لیکن ان کے مالکوں کو خود اپنی اس طرح پڑی ہو گی کہ وہ کسی اور چیز کی طرف، خواہ وہ کتنی ہی محبوب و مطلوب کیوں نہ ہو، توجہ نہیں کر سکیں گے۔ یہی حقیقت دوسرے مقام ’تَذْہَلُ کُلُّ مُرْضِعَۃٍ عَمَّا أَرْضَعَتْ‘ (الحج ۲۲: ۲) (جس دن ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی) کے الفاظ سے سمجھائی گئی ہے۔ یس یہ فرق ہے کہ یہاں اس دن کے ہول کی حقیقت محبوب مال کی ناقدری سے سمجھائی گئی ہے اور وہاں شفقت مادری کے مردہ ہو جانے سے درآنحالیکہ یہ جذبہ اتنا قوی ہے کہ اس دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی مصیبت بھی اس کو مغلوب نہیں کر سکتی۔
Ayah 81:5

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

وحشی جانور اکٹھے ہوجائیں گے

وحشی جانوروں کا حال: یعنی انسان تو انسان اس دن کے ہول سے وحشی جانوروں پر بھی ایسی نفسی نفسی کی حالت طاری ہو گی کہ ان کو جس جگہ پناہ ملنے کی توقع ہو گی، آپس کی فطری دشمنیاں بھول کر سب اکٹھے ہو جائیں گے۔ جنگل میں آگ لگ جائے یا سیلاب کا پانی پھیل جائے تو جنگلی جانور سراسیمگی کی حالت میں ٹیلے اور ٹیکرے پر ان کو پناہ ملنے کی توقع ہو وہاں اکٹھے ہو جاتے ہیں اور مشترک مصیبت کا ہول ان پر ایسا طاری ہوتا ہے کہ بکری، شیر اور بھیڑیے پاس پاس کھڑے ہوتے ہیں لیکن کسی کو ہوش نہیں رہتا کہ اس کا حریف یا شکار اس کی بغل میں ہے۔ یہی صورت حال خوفناک ترین شکل میں ظہور قیامت کے وقت پیش آئے گی۔ آگے والی آیت: ’وَإِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ‘ (۶) (اور جب کہ سمندر ابل پڑیں گے) سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت سمندر اپنی حدوں سے آزاد ہو کر زمین پر پھیل جائیں گے۔ یہ ہمہ گیر مصیبت جنگلی جانوروں پر بھی نفسی نفسی کی حالت طاری کر دے گی۔
Ayah 81:6

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور سمندر ابل پڑیں گے۔

سمندروں کی طغیانی: لفظ ’تَسْجِیْرٌ‘ اصلاً تنور کو ایندھن سے بھر کر بھڑکا دینے کے لیے آتا ہے پھر اسی مفہوم سے وسعت پا کر یہ دریاؤں اور سمندروں کی طغیانی کے لیے بھی آنے لگا۔ دریا جب بے قابو ہو کر اپنے حدود سے باہر نکل پڑیں اور زمین پر بھیل جائیں تو اس حالت کی تعبیر کے لیے یہ معروف لفظ ہے۔ اس معنی کو ادا کرنے کے لیے لفظ ’تَفْجِیْرٌ‘ بھی آیا ہے، چنانچہ بعد والی سورہ میں جو اس کی توام سورہ ہے، یہی بات ’وَاِذَا الْبِحَارُ فُجِّرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۳) کے الفاظ سے تعبیر فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آج تو یہ سمندر اپنے اپنے حدود کے اندر بند ہیں لیکن جب قیامت کی ہلچل برپا ہو گی تو یہ ابل کر تمام سطح پر چھا جائیں گے۔
Ayah 81:7

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

جب کہ نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی

ظہور قیامت کے بعد کے احوال: اوپر کی آیات میں وہ احوال بیان ہوئے جو ظہور قیامت کے وقت پیش آئیں گے۔ اب اس آیت اور بعد کی آیات میں وہ باتیں بیان ہو رہی ہیں جن کا تعلق ظہور قیامت کے بعد کے احوال سے ہے۔ فرمایا کہ جب کہ ’نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی‘ جوڑیں ملانے سے مقصود لوگوں کی ان کے اعمال و عقائد کے اعتبار سے الگ الگ گروہ بندی ہے۔ یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے جس کی تفصیل سورۂ واقعہ کی آیت ۷: ’وَکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً‘ (اور اس وقت تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔) سے لے کر آیت ۴۴ تک بیان ہوئی ہے۔ وہاں واضح فرمایا ہے کہ اس دنیا میں تو نیک و بد دونوں ایک ہی ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن یہی حالت ہمیشہ نہیں رہے گی بلکہ ایک ایسا دن بھی آنے والا ہے جب لوگوں کی درجہ بندی ان کے ایمان و اخلاق کی بنیاد پر ہو گی۔ اس دن وہ لوگ فائز المرام اور ابدی بادشاہی کے حق دار ٹھہریں گے جو اس روز عدل کی میزان میں پورے اتریں گے اور وہ لوگ ابدی خسران و ذلت سے دوچار ہوں گے جو اس سے بے پروا ہو کر زندگی گزاریں گے۔ اس کے بعد لوگوں کو تین بڑے گروہوں۔۔۔ اصحاب الیمین، اصحاب الشمال اور سابقون و مقربون۔۔۔ میں تقسیم کیا جانا بیان کیا ہے اور ہر گروہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا جو معاملہ ہو گا اس کی تفصیل ہے۔ اسی چیز کی طرف دو لفظوں میں یہاں اشارہ فرما دیا ہے اور مقصود لوگوں کو متنبہ فرمانا ہے کہ یہ دنیا آزمائش و امتحان کے لیے ہے۔ اس میں خیر و شر اور حق و باطل دونوں کو مہلت ملی ہوئی ہے لیکن قیامت کے بعد جو جہان نو پیدا ہو گا اس میں باطل کے پرستار جہنم میں جھونک دیے جائیں گے اور ان لوگوں کو ابدی سرفرازی حاصل ہو گی جو امتحان میں پورے اتریں گے۔
Ayahs 81:8–9

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس گناہ پر ماری گئی !

معصوم مظلوموں کی داد رسی: یہ اس روز عدل کے عدل کی طرف اشارہ ہے اور اس کے بیان کے لیے بطور مثال زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کی داد رسی کا حوالہ ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ اس دن سب سے پہلے وہ معصوم اپنی مظلومیت کی داد پائیں گے جو بالکل بے گناہ ان لوگوں کے ہاتھوں ظلم کے شکار ہوئے جن کو خدا نے ان کا محافظ بنایا۔ ’مَوْءٗ دَۃٌ‘ زندہ درگور کی ہوئی لڑکی کو کہتے ہیں۔ عرب جاہلیت کے بعض اجڈ قبائل میں سنگ دل باپ اپنی لڑکیوں کو زندہ درگور کر دیتے تھے۔ بیشتر تو اس سنگ دلی کا سبب فقر کا اندیشہ ہوتا لیکن بعض حالات میں غیرت کی بے اعتدالی بھی اس کا باعث بن جاتی۔ ان مظلوم بچیوں کو زندہ درگور کرنے والے چونکہ ان کے باپ ہی ہوتے، جن کو ان کے اوپر کلی اختیار حاصل ہوتا، اس وجہ سے ان کی داد فریاد کا کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ اخروی عدالت کا مزاج: قرآن نے یہاں ان بے زبان مظلوموں کی دادرسی کا ذکر کر کے اخروی عدالت کا مزاج واضح فرمایا ہے کہ اس میں سب سے پہلے ان کی داد رسی ہو گی جو اس دنیا میں سب سے زیادہ بے بس اور کمزور تھے اور جو اپنے اوپر گزرے ہوئے ظلم کی کسی کے آگے فریاد بھی نہ کر سکے۔ ان کو سب سے پہلے پکارا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ انھیں کس گناہ پر مارا گیا؟ ان سنگ دل باپوں کو یہ نہایت ہی سخت قسم کی تنبیہ ہے کہ اگر ان کی سنگ دلی کے خلاف یہ بے زبان و بے گناہ بچیاں فریاد نہ کر سکیں تو اس سے وہ یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ خدا کے ہاں بھی ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہو گا۔ اس دن اللہ تعالیٰ خود ان کے خون کا مدعی بنے گا۔ وہ ان مظلوموں سے پوچھے گا کہ تمہیں کس جرم میں مارا گیا؟ اس سوال کا مقصد ظاہر ہے کہ یہی ہو گا کہ ان کے قتل ناحق کا مقدمہ جو دنیا کی کسی عدالت میں نہ جا سکا اس کو رب العزت خود اپنی عدالت میں لائے اور اس کا فیصلہ فرمائے۔
Ayah 81:10

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

جب کہ اعمال نامے کھولے جائیں گے

ہر ایک کا کچا چٹھا اس کے سامنے: ’صُحُفٌ‘ سے مراد لوگوں کے اعمال نامے ہیں اور ان کے کھولے جانے سے مقصود یہ ہے کہ ہر ایک کا سارا کچا چٹھا اس کے سامنے آ جائے گا۔ آگے فرمایا ہے: ’عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا أَحْضَرَتْ‘ (یعنی ہر جان یہ جان لے گی کہ آج کے دن کے لیے اس نے کیا کیا)۔؎
Ayah 81:11

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔

آسمان سرخ ہو جائے گا: ’کَشْطٌ‘ کے اصل معنی کسی چیز کے اوپر سے اس چیز کے اتار لینے کے ہیں جو اس کو ڈھانکے ہوئے ہو۔ یہیں سے یہ ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے معنی میں استعمال ہونے لگا۔ اونٹ کی کھال کھینچ لینے کے لیے یہ عربی میں معروف لفظ ہے اور یہ امر بالکل ظاہر ہے کہ ذبیحہ کی کھال اتار لینے کے بعد اس کا گوشت سرخ سرخ نظر آنے لگتا ہے۔ گویا یہ آسمان کے سرخ ہو جانے کی تعبیر ہے۔ سورۂ رحمٰن میں ’فَکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّہَانِ‘ (۳۷) کے الفاظ آئے ہیں اور یہاں آگے کی آیت میں جہنم کے بھڑکائے جانے کا ذکر ہے جو نہایت واضح قرینہ اس بات کا ہے کہ آسمان کی یہ سرخی جہنم کے بھڑکائے جانے کے سبب سے ہو گی۔
Ayah 81:12

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

جب کہ دوزخ بھڑکا دی جائے گی

’تَسْعِیْرٌ‘ کے معنی بھڑکانے اور دہکانے کے ہیں۔ جہنم تیار تو پہلے سے ہو گی لیکن جب مجرموں کو اس میں ڈالنے کا وقت آئے گا تو وہ ان کو جلانے کے لیے خاص طور پر بھڑکا دی جائے گی پھر جب مجرم اس میں ڈالے جائیں گے تو وہ اپنا مطلوب ایندھن پا کر مزید قوت سے بھڑکے گی۔
Ayah 81:13

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جنت قریب لائی جائے گی ،

متقیوں کے لیے جنت کی پیش کش: ’اِزْلَافٌ‘ کے معنی قریب لانے کے ہیں۔ یعنی وہ ان متقیوں کے قریب لائی جائے گی جو اس کے مستحق قرار پائیں گے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ’جنت‘ بھی پہلے سے تیار ہو گی، البتہ اس کی نقاب کشائی اس وقت ہو گی جب لوگوں کی درجہ بندی ہو جائے گی۔ سورۂ قٓ میں یہ وضاحت بھی فرما دی گئی ہے کہ اس قریب لانے کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ کہیں دور سے قریب لائی جائے گی وہ دور نہیں ہو گی بلکہ پاس ہی ہو گی لیکن وہ قریب ہونے کے باوصف اور قریب لائی جائے گی تاکہ اہل جنت کی تشریف و تکریم کے لیے ایک پیش کش کے طور پر ان کے سامنے پیش کی جائے۔ فرمایا ہے: ’وَأُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْْرَ بَعِیْدٍ‘ (قٓ ۵۰: ۳۱) (اور جنت خدا ترسوں کے لیے قریب لائی جائے گی درآنحالیکہ وہ کچھ دور بھی نہ ہو گی)۔
Ayah 81:14

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ وہ کیا لے کر آئی ہے

تمام شرطوں کا جواب: اوپر جتنے ’اِذَا‘ گزرے ہیں یہ ان سب کا اکٹھے جواب ہے۔ یعنی جب یہ یہ احوال پیش آئیں گے تب ہر جان کو پتہ چلے گا کہ وہ اپنے رب کے آگے پیش کرنے کے لیے کیا لے کر آئی ہے۔ اس جاننے سے مقصود ظاہر ہے کہ اس کے انجام کو جاننا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ آج کے حالات میں اس کا مذاق اڑا رہے ہیں وہ مذاق اڑا لیں لیکن یاد رکھیں کہ یہ دن آنے والا ہے اور ایک عظیم ہلچل کے ساتھ آنے والا ہے اور اس دن ہر ایک دیکھ لے گا کہ اس کے لیے اس نے کیا تیاری کی اور کیا چیز نظر انداز کی درآنحالیکہ وہ کرنے کی تھی۔ آگے والی سورہ میں، جو اس کی توام سورہ ہے، یہی مضمون زیادہ وضاحت سے بیان ہوا ہے۔ فرمایا ہے: ’عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ وَاَخَّرَتْ‘ (الانفطار ۸۲: ۵) (تب ہر ایک جان لے گا اس نے کیا کیا اور کیا چھوڑا)۔
Ayah 81:15

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے ،

قرآن کی تکذیب کے لیے ایک اشغلہ: یہ انذار کا مذاق اڑانے والوں کے اس وہم کی تردید ہے جو انھوں نے اللہ کے رسول اور اس کی کتاب سے متعلق ایجاد کیا اور جس کو دلیل بنا کر انھوں نے اپنے عوام کو ورغلانے کی کوشش کی کہ وہ قرآن کو کوئی خدائی وحی سمجھ کر اس سے مرعوب یا متاثر نہ ہوں۔ انھوں نے جب دیکھا کہ لوگ آنحضرت ﷺ کی دعوت سے متاثر ہو رہے ہیں اور عذاب و قیامت کا ڈراوا ایک حقیقت بنتا جا رہا ہے جس کا نتیجہ بالآخر یہ نکل سکتا ہے کہ وہ اس دعوت کے حامی بن جائیں تو انھوں نے ان کو اس سے بدگمان کرنے کے لیے یہ اُشغلہ ایجاد کیا کہ نہ یہ قرآن خدائی وحی ہے اور نہ اس کے پیش کرنے والے اللہ کے رسول ہیں بلکہ یہ ہمارے کاہنوں کی طرح کے ایک کاہن ہیں جس طرح کاہنوں کا تعلق جنات سے ہوتا ہے جو ان پر غیب کی باتیں القاء کرتے ہیں اسی طرح ان کا رابطہ بھی (العیاذ باللہ) کسی شیطان سے ہے جو ان پر اپنی باتیں القاء کرتا ہے اور وہ اس کو خدائی وحی کے نام سے پیش کرتے اور دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں جن کو اس نے ہمارے پاس اس لیے بھیجا ہے کہ ہم ان کی اطاعت کریں اور اگر ہم نے ان کی بات نہ مانی تو اس دنیا میں بھی ہم پر عذاب آ جائے گا اور اس کے بعد آخرت میں بھی ہمارے لیے جہنم تیار ہے۔ قرآن نے ان کے اس پراپیگنڈے کی جگہ جگہ تردید کی ہے۔ خاص طور پر سورۂ شعراء اور سورۂ نجم میں اس کی تردید پوری وضاحت سے ہوئی ہے اور ہم نے بھی اس کے تمام پہلوؤں پر بحث کی ہے۔ یہاں بھی ان کے اسی پراپیگنڈے کی تردید ایک نئے پہلو سے ہے جس کو اچھی طرح ذہن نشین کرنے کے لیے عربوں میں مروّج کہانت کی اصل و بنیاد کو جان لینا ضروری ہے۔ کہانت کی بنیاد دو چیزوں پر تھی: اس کہانت کی بنیاد دو چیزوں پر تھی: ایک تو ان کے مزعومہ علم نجوم پر۔ وہ ستاروں کے مصرف بالذات ہونے کے معتقد اور ان میں سے بعض کے سعد اور بعض کے نحس ہونے کے مدعی تھے۔ اسی طرح ان کے طلوع و غروب، ان کے گرنے اور چڑھنے اور ان کے چلنے اور چھپنے کے متعلق مختلف قسم کے اوہام انھوں نے ایجاد کر رکھے تھے جن کی بنیاد پر وہ اپنے عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے مختلف قسم کی مبارک یا منحوس پیشین گوئیاں کرتے اور اپنی غیب دانی کی دھونس جماتے۔ مثلاً بسا اوقات یہ افواہ پھیلا دیتے کہ فلاں ستارے کی الٹی گردش سے ایک بڑا خطرہ ظہور میں آنے والا ہے اس سے بچنے کی تدابیر معلوم کرنے کے لیے لوگ ان سے رجوع کریں۔ پھر جو بدقسمت ان کے دام میں آ جاتے ان کو وہ اچھی طرح بے وقوف بناتے۔ دوسری یہ کہ وہ جنات سے رابطہ رکھنے اور ان کے ذریعہ سے غیب کی خبریں معلوم کرنے کے مدعی تھے۔ سورۂ شعراء کی تفسیر میں وضاحت ہو چکی ہے کہ جب کوئی شخص ان سے کسی معاملے میں غیبی رہنمائی کا طالب ہوتا تو وہ اس مقصد کے لیے مراقبہ کی نمائش کرتے اور پھر ایک مقفّٰی اور مسجّع کلام کی صورت میں جو اکثر بے معنی یا ذومعانی ہوتا، اپنی مزعومہ وحی پیش کر کے اس کے کچھ الٹے سیدھے معنی بیان کرتے اور دعویٰ کرتے کہ یہ وحی ان پر عالم غیب کے اسرار سے واقف ایک جن نے کی ہے۔ کہانت کے ستونوں پر قرآن کی ضرب: قرآن نے جگہ جگہ کہانت کے ان دونوں ہی ستونوں پر ضرب لگائی ہے۔ شمس و قمر اور ستاروں کے طلوع و غروب کو اس نے اس طرح پیش کیا ہے جس سے یہ حقیقت اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے کہ ان میں سے نہ کوئی مصرف بالذات ہے اور نہ کوئی سعد یا نحس بلکہ ان کا طلوع و غروب خالق کائنات کے اختیار میں ہے۔ وہی جب چاہتا ہے ان کو مطلع پر نمودار کرتا ہے اور جب چاہتا ہے ان کو نگاہوں سے اوجھل کر دیتا ہے۔ وہ خود اپنے وجود سے شہادت دیتے ہیں کہ وہ آسمان و زمین کے رب کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ اسی کے حکم سے آتے اور اسی کے حکم سے جاتے ہیں۔ع لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے سورۂ انعام آیات ۷۵-۸۴ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کا جو تدریجی ارتقاء نمایاں فرمایا گیا ہے اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ وہ اس باب میں قرآن کے طریق استدلال اور اس کے منطقی نتیجہ کو واضح کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اسی طرح کہانت کے دوسرے ستون پر ضرب لگانے کے لیے قرآن نے شہاب ثاقب کا حوالہ دیا اور واضح فرمایا ہے کہ کسی جن کے لیے ملاء اعلیٰ تک رسائی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ اگر غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے وہ ٹوہ لگاتے ہیں تو ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ نے ستاروں کے اندر یہ انتظام کر رکھا ہے کہ ان کی برجیوں سے ان کے اوپر شہاب ثاقب کے راکٹ پھینکے جاتے ہیں۔ یہ مضمون یوں تو جگہ جگہ بیان ہوا ہے لیکن زیربحث قسموں کو سمجھنے کے لیے سورۂ نجم اور سورۂ جن کی متعلق آیات پر ایک نظر ڈال لینا کافی ہو گا۔ اس تمہید کی روشنی میں اب آیت کے الفاظ اور ان کے معانی پر غور کیجیے۔ آیات قسم کے الفاظ کی تحقیق: ’فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ‘۔ یہ بحث اس کتاب میں جگہ جگہ گزر چکی ہے کہ قرآن مجید میں اس طرح کی قسمیں جو آئی ہیں وہ کسی دعوے پر شہادت کے مقصد سے آئی ہیں اور یہ بات بھی واضح کی جا چکی ہے کہ قسم سے پہلے اگر اس طرح ’لَا‘ آیا ہے جس طرح یہاں ہے تو وہ قَسم کی نفی کے لیے نہیں بلکہ مخاطب کے اس زعم کی نفی کے لیے آیا ہے جس کی تردید اس قسم سے مقصود ہے۔ ’خُنَّسٌ‘ جمع ہے ’خَانِسٌ‘ کی۔ اس کے معنی آگے بڑھ کر پیچھے پلٹ جانے والے، ظاہر ہو کر غائب ہو جانے والے اور نمایاں ہو کر روپوش ہو جانے والے کے ہیں۔ یہ لفظ ستاروں کی صفت کے طور پر آتا ہے اور ان کے لیے اس قدر معروف ہے کہ بسا اوقات موصوف کے ذکر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ مجرد صفت ہی موصوف کو ظاہر کر دینے کے لیے کافی ہو جاتی ہے۔ بعض اہل لغت نے اس کو بعض خاص ستاروں کے ساتھ مخصوص کیا ہے لیکن یہ دعویٰ بے دلیل ہے۔ یہاں ستاروں کی جو صفات مذکور ہوئی ہیں وہ تمام ستاروں پر یکساں منطبق ہوتی ہیں خواہ وہ ثوابت ہوں یا سیارے، زحل ہو یا عطارد اور ان کے قبیل کے دوسرے ستارے۔
Ayah 81:16

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

چلنے والے اور چھپ جانے والے ستاروں کی

’اَلْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘۔ یہ انہی ستاروں کی مزید صفات کا بیان ہے اور ان کا بغیر حرف عطف کے آنا عربیت کے اس معروف قاعدے سے، جس کی وضاحت اس کے محل میں گزر چکی ہے، اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے موصوف الگ الگ نہیں ہیں۔ ’جَوَارِیْ‘ کے معنی چلنے والے کے ہیں اور ’کُنَّسٌ‘ جمع ہے ’کَانِسٌ‘ کی۔ ’کنس الظبی‘ کے معنی ہوں گے ہرن اپنے مامن میں چھپ گیا۔ ’کنست النجوم‘ کے معنی ہوں گے کہ ستارے اپنے مدار میں چلے اور چل کر اپنے ٹھکانوں میں روپوش ہو گئے۔ صاحب اقرب الموارد نے وضاحت کی ہے کہ یہ صفت تمام ستاروں کی مشترک صفت ہے۔ ستاروں کی قسم کہانت کے ابطال کے پہلو سے: ستاروں کی یہ قسم یہاں کہانت کے ابطال کے لیے کھائی گئی ہے۔ اوپر ہم اشارہ کر چکے ہیں کہ کاہنوں کے مزعومہ علم غیب کی بنیاد دو چیزوں پر تھی۔ ایک ان ستاروں کے مؤثر بالذات ہونے کے تصور پر، دوسرے اس وہم باطل پر کہ آسمانوں کے اندر ایسے ٹھکانے (مقاعد للسمع) ہیں جن میں بیٹھ کر جنات غیب کی باتیں سنتے اور پھر ان کو پہنچاتے ہیں۔ ستاروں کی مذکورہ صفات کا حوالہ دے کر قرآن نے ان کے ان دونوں باطل تصورات کی نفی کر دی۔ طلوع کے بعد ان کے غروب اور آنے کے بعد ان کے جانے اور اس طلوع و غروب اور ایاب و ذہاب میں اوقات کی ایسی پابندی کہ منٹ اور سیکنڈ کا بھی فرق نہ پیدا ہونے پائے اس امر کی نہایت واضح شہادت ہے کہ وہ اس کائنات کے نظام میں مؤثر بالذات عناصر کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ ایک بالاتر حکیم و قدیر کے ہاتھوں میں مسخر ہیں۔ اس وجہ سے اصل مولیٰ و مرجع اور نافع و ضار وہ ہے نہ کہ یہ محکوم و مقہور کواکب و نجوم۔ دوسرے وہم کے ابطال کے لیے قرآن نے اس کائنات کے ایک راز کو آشکارا فرمایا ہے کہ ان ستاروں کے اندر شیاطین کے استراق سمع اور تجسس غیب کے لیے ٹھکانے نہیں بنے ہوئے ہیں، جیسا کہ نادانوں نے گمان کر رکھا ہے، بلکہ اس کے برعکس ان کے اندر ایسی برجیاں اور دیدبان بنے ہوئے ہیں جہاں سے ان شیاطین پر مار پڑتی ہے جو ملاء اعلیٰ کی باتوں کی ٹوہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ستاروں کی یہ صفتیں یہاں قسم کے اسلوب میں بیان ہوئی ہیں اس وجہ سے بتقاضائے بلاغت ان میں غایت درجہ ایجاز ہے۔ تاہم الفاظ کے اندر ایسے اشارے یہاں بھی موجود ہیں جو غور کرنے والوں کی رہنمائی کے لیے کافی ہیں، مثلاً ’خُنَّس‘ کی صفت واضح طور پر ان کے افول و غروب کی طرف توجہ دلاتی ہے۔ اس صفت کے ذکر سے مقصود اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ نادانوں نے صرف ان کے طلوع کو اہمیت دی اور ان کو معبود بنا بیٹھے حالانکہ ان کی پسپائی اور ان کے ڈوبنے کو بھی دیکھنا تھا جو ان کے محکوم و مسخر ہونے کی نہایت واضح دلیل ہے۔ اسی طرح ’اَلْجَوَارِ الْکُنَّسِ‘۔ کے اندر ایک ہلکا سا اشارہ اس نقل و حرکت کی طرف بھی ہے جو یہ ستارے شیاطین کے تعاقب میں کرتے ہیں۔ جب وہ استراق سمع کی کوشش کرنے نکلتے ہیں تو اس وقت ستاروں کا منظر دیکھیے تو معلوم ہو گا کہ ایک برق خاطف تیر کی طرح نکلی اور اپنے ہدف پر پہنچ کر دفعۃً پھر اپنے ترکش میں چھپ گئی۔
Ayah 81:17

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ جانے لگتی ہے

یہ دوسری قسم ہے جو اسی دعوے پر ایک دوسرے پہلو سے شہادت ہے۔ ’عَسْعَسَ‘ کے معنی اہل لغت نے تاریک ہو جانے کے بھی لکھے ہیں اور پیچھے ہٹ جانے اور گزر جانے کے بھی۔ اگرچہ آیت کی تاویل دونوں معنوں کی روشنی میں ہو سکتی ہے لیکن میں دوسرے معنی کو ترجیح دیتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بعینہٖ یہی قسم، بالکل اسی سیاق و سباق اور معمولی تغیر الفاظ کے ساتھ، سورۂ مدثر کی آیات ۳۳-۳۴ میں بھی آئی ہے۔ وہاں ’عَسْعَسَ‘ کی جگہ لفظ ’اَدْبَرَ‘ آیا ہے۔ فرمایا ہے: ’وَاللَّیْْلِ إِذْ أَدْبَرَ ۵ وَالصُّبْحِ إِذَا أَسْفَرَ‘ (شاہد ہے رات جب کہ وہ پیچھے ہٹ جاتی ہے اور شاہد ہے صبح جب کہ وہ بے نقاب ہو جاتی ہے) وہاں بھی اس قسم کے بعد قرآن مجید کے انذار قیامت کی حقانیت ثابت کی گئی ہے اور یہاں بھی، جیسا کہ آگے وضاحت آ رہی ہے، اسی دعوے کی تصدیق فرمائی گئی ہے۔
Ayah 81:18

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی جب وہ سانس لیتی ہے

یہ دوسری قسم ہے جو اسی دعوے پر ایک دوسرے پہلو سے شہادت ہے۔ ’وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ‘ میں لفظ ’تَنَفَّسَ‘ سے مقصود تو صبح کا نمودار ہونا ہی ہے لیکن اس طریقۂ تعبیر میں ایک خاص بلاغت ہے جو اصحاب ذوق سے مخفی نہیں ہے۔ یہ لفظ گویا یہ تاثر دیتا ہے کہ صبح رات کے بوجھ کے نیچے اس طرح دبی ہوتی ہے کہ اس کا دم گھٹ رہا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے اوپر سے اس بوجھل لحاف کو سرکاتا ہے اور اس کو سانس لینے اور سر اٹھانے کا موقع نصیب ہوتا ہے۔
Ayah 81:19

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ یہ ایک باعزت رسول کا لایا ہوا کلام ہے۔

اصل دعویٰ: یہ مذکورہ بالا دونوں قسموں کا مقسم علیہ یا بالفاظ دیگر وہ اصل دعویٰ ہے جس کو ثابت کرنے کے لیے یہ قسمیں کھائی گئی ہیں۔ فرمایا کہ بے شک یہ قرآن ایک معزز و مکرم فرستادۂ الٰہی کا لایا ہوا کلام ہے۔ ’رسول‘ سے یہاں مراد حضرت جبریل ہیں۔ آگے جو صفات بیان ہوئی ہیں اور جن کی وضاحت آ رہی ہے ان سے معین ہو جائے گا کہ ان صفات کے موصوف حضرت جبریل علیہ السلام ہی ہو سکتے ہیں۔ یہی بات آگے آیت ۲۵ میں منفی پہلو سے بھی فرما دی گئی ہے جس سے لفظ ’کریم‘ کا اصل موقع و محل واضح ہوتا ہے۔ فرمایا ہے: ’وَمَا ہُوَ بِقَوْلِ شَیْْطَانٍ رَجِیْمٍ‘ (اور یہ کسی راندۂ درگاہ شیطان کی القاء کی ہوئی بات نہیں ہے)۔ مطلب یہ ہے کہ محروم القسمت ہیں وہ لوگ جو اس قرآن کو کاہنوں کی بکواس کی قسم کی کوئی چیز قرار دیتے اور اللہ کے رسول کو کاہن کہتے ہیں۔ کاہن جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ شیطانی القاء ہوتا ہے جس میں صداقت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا۔ وہ غیب دانی کے مدعی ہوتے ہیں لیکن ان کے شیاطین کی رسائی ملاء اعلیٰ تک ہونا تو درکنار وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسے مردود و مبغوض ہیں کہ وہ آسمانوں میں گھات لگانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان پر شہابوں کے ذریعہ سے سنگ باری ہوتی ہے۔ اس کے برعکس یہ کلام جو ان کو سنایا جا رہا ہے یہ اللہ کے ایک ایسے فرستادہ کا لایا ہوا کلام ہے جو خدا کی بارگاہ میں عزت پائے ہوئے اور نہایت مقرب و مکرم ہے۔
Ayah 81:20

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

وہ بڑی ہی قوت والا اور عرش والے کے نزدیک بڑا ہی بارسوخ ہے۔

حضرت جبریل کی مزید صفات: یہ حضرت جبریل امین کی مزید صفات بیان فرمائی گئی ہیں تاکہ اچھی طرح واضح ہو جائے کہ قرآن کس محفوظ و مامون اور پاکیزہ ذریعہ سے اترا ہوا کلام ہے اور کاہن جس ذریعہ سے اپنا مزعومہ علم حاصل کرتے ہیں اس کی نوعیت کیا ہے۔ فرمایا کہ یہ باعزت رسول نہایت زور و قوت والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسی اعلیٰ اور محکم صلاحیتوں سے نوازا ہے کہ دوسری شیطانی طاقتیں اس کو مرعوب یا مغلوب یا متاثر نہیں کر سکتیں کہ اس کے فرائض مفوضہ میں وہ مزاحم ہو سکیں یا اس سے کوئی چیز اچک سکیں یا اس کو دھوکہ دے سکیں۔ وہ صاحب عرش کے احکام پورے اختیار و اقتدار کے ساتھ نافذ کرتا ہے اس لیے کہ وہ اس کی بارگاہ میں نہایت تقرب اور رسوخ رکھنے والا ہے۔ اس کو صاحب عرش تک براہ راست رسائی حاصل ہے۔ کوئی دوسرا اس کے اور صاحب عرش کے درمیان حائل نہیں ہے۔ حضرت جبریل علیہ السلام کی یہی صفت سورۂ نجم کی آیات ۵-۶ میں ’شَدِیْدُ الْقُوٰی‘ اور ’ذُوْ مِرَّۃٍ‘ کے الفاظ سے بیان ہوئی ہے جس کی وضاحت ہم کر چکے ہیں۔
Ayah 81:21

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

اس کی بات مانی جاتی اور وہ نہایت امین بھی ہے۔

’مُطَاعٍ‘ یعنی جو ارواح و ملائک اس کی ماتحتی میں ہیں وہ سب بے چون و چرا اس کی اطاعت کرتے ہیں، مجال نہیں ہے کہ سرمو اس کے احکام سے انحراف کر سکیں یا اس کی مرضی کے خلاف کوئی قدم اٹھا سکیں یا اس کے دیے ہوئے احکام میں کوئی تحریف یا ترمیم یا شیاطین کے ساتھ کوئی ساز باز کر سکیں۔ ’ثَمَّ‘ کی تحقیق: ’ثَمَّ أَمِیْنٍ‘ کلام عرب کے تتبع سے معلوم ہوتا ہے کہ ’ثَمَّ‘ اور ’ثُمَّ‘ کے مواقع استعمال میں بڑا فرق ہے۔ ’ثَمَّ‘ کسی جگہ کی طرف خاص طور پر اشارہ کے لیے بھی آتا ہے اور کسی صفت سے پہلے اس پر خاص اہتمام سے زور دینے کے لیے بھی۔ مثلاً سورۂ شعراء میں فرمایا ہے: ’وَاَزْلَفْنَا ثَمَّ الْاٰخَرِیْنَ‘ (۶۴) اس کا ترجمہ اگر ’ثَمَّ‘ کے صحیح مفہوم کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیجیے تو یہ ہو گا کہ ’وہیں ہم لائے دوسروں کو بھی‘۔ یعنی جس راہ سے ہم نے بنی اسرائیل کو نجات دی وہیں ہم فرعونیوں کو بھی لائے تاکہ ان کو غرق کر دیں۔ اسی طرح سورۂ دہر کی آیت ’وَإِذَا رَأَیْْتَ ثَمَّ رَأَیْْتَ نَعِیْمًا وَمُلْکًا کَبِیْرًا‘ (۲۰) میں بھی یہ لفظ آیا ہے۔ اس کا ٹھیک ٹھیک ترجمہ ہمارے نزدیک یہ ہو گا کہ ’جہاں دیکھو گے وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے‘۔ ع زفرق تابقدم ہر کجا کہ می نگرم کرشمہ دامن دل می کشد کہ جا ایں جا است اسی طرح صفت سے پہلے جب یہ آتا ہے تو اس کی عظمت و اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے آتا ہے۔ یہاں یہ صفت ’امین‘ سے پہلے آیا ہے تو اس سے مقصود حضرت جبریل علیہ السلام کی اس صفت کی طرف خاص طور پر توجہ دلانا ہے۔ یعنی مذکورہ صفات کے ساتھ ان کی خاص اہمیت رکھنے والی یا خاص طور پر ذکر کے لائق صفت یہ بھی ہے کہ وہ نہایت امانت دار ہیں۔ اس صفت کے خاص اہتمام کے ساتھ ذکر کی وجہ یہ ہے کہ ان کی یہی صفت اس امر کی ضمانت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے رسول کے پاس جو کچھ لاتے ہیں اس میں نہ کسی ملاوٹ کا کوئی شائبہ ہوتا نہ کسی کمی بیشی کا کوئی اندیشہ۔ اس کے برعکس کاہنوں کے علم کا حال یہ ہے کہ وہ جن شیاطین سے علم حاصل کرتے ہیں وہ اُچکے اور چور ہوتے ہیں۔ اول تو ملاء اعلیٰ تک وہ پہنچ نہیں پاتے اور اگر کوئی بات اچکنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ یکسر جھوٹ ہوتی ہے جس میں مزید جھوٹ ملا کر وہ اپنے کاہنوں پر القاء کرتے ہیں اور یہ کاہن ان سے بھی بڑھ کر جھوٹے ہوتے ہیں جو اپنی دکان داری کو فروغ دینے کی خاطر رائی کو پربت بناتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اس ناپاک جوہڑ کو اس چشمۂ صافی سے کیا نسبت جس سے اللہ کا رسول فیض یاب ہوتا ہے!
Ayah 81:22

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور تمہارا یہ ساتھی کوئی خبطی نہیں ہے۔

قریش کو تنبیہ: رسول کے ذریعۂ علم کی عظمت و طہارت واضح کرنے کے بعد یہ قریش کے لیڈروں کو مخاطب کر کے تنبیہ فرمائی کہ تمہارے یہ ساتھی (محمد ﷺ) اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے تمہیں انذار کرنے پر مامور فرمایا ہے اور جو کچھ وہ تمہیں سنا رہے ہیں وہ اس کا کلام ہے جو اس نے اپنے سب سے زیادہ مقرب فرشتے کے ذریعہ سے ان پر نازل فرمایا ہے تو ان کی ان باتوں کو خبط و جنون پر محمول نہ کرو بلکہ یہ ایک حقیقت ہے۔ یہاں لفظ ’صَاحِبُکُمْ‘ کے استعمال میں بڑی بلاغت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ تمہارے لیے کوئی اجنبی شخص نہیں ہیں۔ تمہارے ہی اندر یہ پیدا ہوئے، تمہارے ہی ساتھ یہ رہے سہے اور تمہارے ہی اندر ان کی اب تک کی زندگی کا ہر دور گزرا اور تم میں سے ہر شخص ان کی شرافت، رزانت، متانت، عفت، صداقت اور امانت کا گواہ رہا ہے۔ اب اگر ان کی موعظت تمہیں گراں گزر رہی ہے تو ان کے اب تک کے کردار کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کرو نہ کہ ان کو خبطی، دیوانہ، مجنون اور کاہن و منجم بنا ڈالو۔
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور اس نے اس کو کھلے افق میں دیکھا ہے

یعنی اگر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انھوں نے اس فرشتہ کو دیکھا ہے جو ان پر وحی لے کر آتا ہے تو یہ بھی کوئی جھوٹ یا فریب نفس نہیں ہے بلکہ بیان حقیقت ہے۔ انھوں نے فی الواقع اس فرشتے کو بالکل کھلے ہوئے اور صاف افق میں دیکھا ہے۔ ’افق مبین‘ سے مراد فضائے آسمانی کا وہ حصہ ہے جو نظر کے سامنے ہے۔ جس کا مشاہدہ بغیر کسی شائبہ اشتباہ کے ہوتا ہے۔ سورۂ نجم میں اسی کو ’افق اعلیٰ‘ سے تعبیر فرمایا ہے۔ ارشاد ہے: عَلَّمَہُ شَدِیْدُ الْقُوٰی ۵ ذُوْ مِرَّۃٍ فَاسْتَوٰی ۵ وَہُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلٰی ۵ ثُمَّ دَنَا فَتَدَلَٰی ۵ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ أَوْ أَدْنٰی ۵ فَأَوْحٰی إِلٰی عَبْدِہٖ مَا أَوْحٰی ۵ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ۵ أَفَتُمٰرُوْنَہٗ عَلٰی مَا یَرٰی (النجم ۵۳: ۵-۱۲) ’’اس کو ایک بڑی مضبوط قوتوں والے، طاقت ور نے تعلیم دی ہے۔ وہ سیدھا ہوا درآنحالیکہ وہ افق اعلیٰ میں تھا۔ پھر وہ قریب ہوا اور جھک پڑا۔ پس دو کمانوں یا اس سے بھی کم کا فاصلہ رہ گیا پس اللہ نے وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کی۔ یہ مشاہدہ جو اس نے کیا وہ کوئی فریب نفس نہیں ہے۔ تو کیا تم لوگ اس سے اس چیز پر جھگڑتے ہو جس کا اس کو مشاہدہ ہوتا ہے۔‘‘ ان آیات کی تفسیر تدبر قرآن میں پڑھ لیجیے۔ یہ آنحضرت ﷺ کے ان مشاہدات کی طرف اشارہ ہے جو آپ کو آغاز وحی میں ہوئے۔ جب آپ نے ان کا ذکر اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے کیا تو وہ آپ کے سر ہو گئے اور اس کی تردید میں طرح طرح کی باتیں انھوں نے بنائیں۔ کسی نے اس کو شیطانی القاء قرار دیا اور کسی نے محض واہمہ کی خلاقی۔ انہی جھٹلانے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ نہ یہ کوئی فریب نفس ہے اور نہ فریب نظر بلکہ یہ کھلے ہوئے افق کا ایک ایسا مشاہدہ ہے جس میں کسی شبہے کی گنجائش نہیں ہے۔
Ayah 81:24

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور یہ غیب کی باتوں کا کوئی حریص نہیں ہے

اللہ کا رسول غیب کا حریص نہیں ہے: یعنی ہمارا رسول تمہارے کاہنوں کی طرح غیب کا حریص نہیں ہے کہ جو واہمہ دل میں گزر جائے اس کو حقیقت سمجھ کر غیب دانی کا مدعی بن بیٹھے اور اپنی دکان سجا لے بلکہ اس کو جو مشاہدہ ہوتا ہے یا جو وحی اس پر آتی ہے وہ اضطراری طور پر آتی ہے جس کو وہ تمہارے سامنے پیش کرتا ہے۔ تمہارے کاہن غیب جاننے کے لیے نہ جانے کیا کیا پاپڑ بیلتے ہیں اور اسی پر ان کی دکان داری کا انحصار ہوتا ہے اس وجہ سے کوئی سچی چیز ہاتھ نہیں آتی تو جھوٹ ہی سے اپنی دکان چمکاتے ہیں لیکن اپنے اس ساتھی کے متعلق تمہیں اچھی طرح علم ہے کہ وہ ان چیزوں کے پیچھے کبھی نہیں پڑے۔ یہ جو کچھ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں یہ غیب دانی کی نمائش یا جلب زر کا کوئی بہانہ نہیں بلکہ ایک ایسی حقیقت کا اظہار ہے جس کے اظہار پر وہ مضطر ہیں۔ ’ضَنِیْنٌ‘ کا ترجمہ عام طور پر لوگوں نے ’بخیل‘ کیا ہے لیکن میں نے حریص کیا ہے۔ بخل و حرص دونوں لازم و ملزوم ہیں اس وجہ سے ان میں فرق محض ظاہری ہے لیکن میں نے حرص کے معنی کو اس وجہ سے ترجیح دی ہے کہ لفظ ’ضَنٌّ‘ بخل کے معنی میں جب آتا ہے تو اس کا صلہ ’ب‘ آتا ہے اور یہاں ’عَلٰی‘ آیا ہے جو اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ ’حرص‘ کے معنی پر متضمن ہے۔
Ayah 81:25

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ کسی شیطان رجیم کا القاء نہیں ہے۔

اوپر جو بات ’إِنَّہُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ کَرِیْمٍ‘ کے الفاظ میں فرمائی ہے وہی بات یہ منفی پہلو سے مؤکد کر دی ہے کہ یہ کسی شیطان رجیم کا القاء نہیں ہے جو تمہارے کاہنوں پر ہوتا ہے۔ ’رَجِیْم‘ مقابل ہے ’کَرِیْم‘ کے۔ مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ پر جو فرشتہ وحی لے کر آتا ہے وہ تو اللہ کا ایک عالی مقام فرشتہ ہے اور تمہارے کاہنوں پر جو شیاطین اترتے ہیں وہ کھدیڑے اور راندے ہوئے ہیں۔ ’رَجِیْمٌ‘ کے معنی سنگ سار کیے ہوئے کے ہیں۔ ہم اوپر واضح کر چکے ہیں کہ جو شیاطین آسمانوں میں غیب کی خبریں معلوم کرنے کے لیے چھپنے کی کوشش کرتے ہیں ان پر شہابوں کے ذریعہ سے سنگ باری ہوتی ہے اس وجہ سے ’رَجِیْم‘ ان کی مستقل صفت ہے۔
Ayah 81:26

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

تو تم کہاں کھوئے جاتے ہو !

یہ ان ہٹ دھرموں کی کور ذوقی اور ہٹ دھرمی پر اظہار تعجب ہے کہ کہاں یہ قرآن اور کہاں تمہارے کاہنوں اور شیاطین کی خرافات۔ دونوں میں کیا نسبت! آخر تم ضد کے جنون میں کہاں سے کہاں نکل جاتے ہو کہ گہر اور پشیز میں فرق نہیں کر پاتے۔
Ayahs 81:27–28

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

یہ تو بس عالم والوں کے لئے ایک یاد دہانی ہے۔

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

اس کے لئے جو تم میں سے سیدھی راہ اختیار کرنی چاہے

یہ آخر میں نہایت مؤثر تنبیہ و موعظت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا والوں کے لیے اس وقت کے ظہور سے پہلے یاددہانی ہے جو بہرحال آنے والا ہے اور جس سے کسی کے لیے مفر نہیں ہے۔ اگر تم اس کو قبول کرو گے تو اپنا ہی بھلا کرو گے، کسی دوسرے پر احسان نہیں کرو گے اور یہ بھی یاد رکھو کہ اس کو قبول کرنا یا رد کرنا تمہاری اپنی ہی ذمہ داری ہے خدا یا اس کے رسول کی یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس کو تمہارے دلوں میں اتار دیں تو جس کو اپنی راہ سیدھی کرنی ہو وہ سیدھی کر لے ورنہ اپنی کج روی کے اس انجام سے دوچار ہونے کے لیے تیار رہے جس سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم نہیں چاہو گے مگر یہ کہ اللہ، عام کا خداوند، چاہے۔

یہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس سنت کا حوالہ دیا ہے جو اس نے ہدایت و ضلالت کے باب میں ٹھہرا رکھی ہے کہ وہ ہدایت کی توفیق انہی کو بخشتا ہے جو اس کے طالب بنتے اور اس کے لیے اپنی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہیں۔ جو اندھے بہرے ہو کر زندگی گزارتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ان کی پسند کردہ ضلالت ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا کرتا ہے۔ اس سنت الٰہی کی وضاحت جگہ جگہ ہو چکی ہے۔ سورۂ مدثر کی آخری آیات کے تحت بھی اس کی وضاحت ہوئی ہے۔ تفصیل مطلوب ہو تو اس پر ایک نظر ڈال لیجیے۔