81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsکشف الرحمٰن

Ayah 81:1

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب آفتاب لپیٹ دیاجائے یعنی بےنور ہوجائے۔

(1) جب آفتاب لپیٹ دیا جائے - یعنی اس کو دھوپ تہ کردی جائے مطلب یہ ہے کہ آفتاب بےنور ہوجائے اور اس کی روشنی سلب کرلی جائے۔
Ayah 81:2

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب ستارے ٹوٹ کر گرپڑیں۔

(2) اور جب ستارے ٹوٹ کر گرپڑیں - یعنی ستارے بےنور اور میلے اور گدلے ہوجائیں اور لوٹ کر جھڑ پڑیں۔
Ayah 81:3

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پاڑ چلا دیئے جائیں۔

(3) اور جب پہاڑ چلادیئے جائیں - یعنی ریت بن کر ہوا میں اڑتے پھریں۔
Ayah 81:4

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب وہ اونٹنیاں جو بیانے کے قریب ہوں قابل توجہ نہ رہیں۔

(4) اور جب گیا بھن اونٹنیاں جو بیاہنے کے قابل ہوں وہ توجہ کے قابل نہ رہیں۔ یعنی دس مہینے کی گیا بھن اونٹنیاں جو اہل عرب کے نزدیک بہترین مال سمجھاجاتا ہے اور ایسی اونٹنی کی بہت حفاظت کی جاتی ہے اور بہت دیکھ بھال کی جاتی ہے لیکن وہ وقت یعنی نفخہ اولیٰ ایسی ہلچل کا وقت ہوگا کہ ایسی اونٹنیاں جو بہت توجہ کے قابل ہوتی ہیں اس وقت ناقابل توجہ ہوجائیں گی اور کوئی ایسی بیش قیمت مال کو نگاہ اٹھاکر بھی نہیں دیکھے گا۔
Ayah 81:5

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور گھبرا کر اکٹھے ہوجائیں ۔

(5) اور جب وحوش یعنی وحشی جانور گھبرا کر اکٹھے ہوجائیں - یعنی وحشی جانور جو آبادیوں سے دور رہتے ہیں اور انسانوں سے گھبراتے ہیں اس دن سب میں ردل پڑجائے اور وہ شہروں کی طرف گھبرا کر بھاگیں اور آبادیوں میں آکر پالتو جانوروں سے مل جائیں دوسری طرف انسان بھاگے۔ غرض یہ کہ شیر بکری اور چوہا بلی سب ایک جگہ جمع ہوجائیں گے جیسا کہ اب بھی سیلاب اور سردی کے موسم میں دیکھا جاتا ہے کہ جنگلی جانور وحشت ونفرت کو چھوڑ کر آبادیوں کی طرف بھاگ آتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ حشرت کے معنی وحوش صحرائی کا جمع کرنا ہو اور ہوسکتا ہے کہ جانوروں کو مار کر دوبارہ قصاص کے لئے زندہ کرنا ہو کیونکہ بعض …موذی جانوروں کا جہنم میں ہونا اور بعض اچھے جانوروں کا جنت میں ہونا بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے ہم نے جمہور کے مشہور قول اختیار کرلیا ہے۔
Ayah 81:6

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب دریا بھڑکائے جائیں۔

(6) اور جب دریا بھڑکائے جائیں - یعنی دریا کا پانی آگ بن جائے پہلے ہوا بن جائے پھر ہوا آگ کی شکل میں تبدیل ہوجائے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی پانی دریا کا دھواں اور آگ بن جائے جس کے سبب ہوا نہایت گرم ہو کر محشر کے بےایمانوں کو دکھ پہنچائے اور تنور کی طرح جھونکے سے ابلے۔ حضرت قتادہ کا قول ہے کہ سجرت کا مطلب یہ ہے کہ دریائوں کا تمام پانی خشک ہوجائے اور ایک قطرہ بھی نام کونہ رہے ۔ بہرحال ! یہ چھ باتیں تو نفخہ اولیٰ کی ہیں اور یہ جب ہوں گی جب دنیا آباد ہوگی اور نفخہ اولیٰ سے عالم تباہ و برباد ہوگا آگے کی چھ باتیں اس عالم کی ہیں جو نفخہ ثانیہ کے بعد ہوں گی۔
Ayah 81:7

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب لوگوں کو اپنے اپنے ہم مشربوں کے ساتھ چھوڑ دیا جائے

(7) اور جب لوگوں کو اپنے اپنے ہم مشربوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا - نفوس کی باہمی ترویج کے کئی معنی کئے گئے ہیں مثلاً مسلمانوں کو مسلمانوں کے ساتھ اور کافروں کو کافروں کے ساتھ یا ہر شخص کو جوڑ اس شخص سے لگایا جائے گا جس سے وہ دنیا میں محبت کرتا تھا یا یہ کہ ہر شخص اپنیہم مذہب اور اپنی ملت کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔ یہودی یہودیوں کے ساتھ، نصرانی نصرانیوں کے ساتھ مسلم مسلمانوں کے ساتھ، کافر کافروں کے ساتھ یا شیاطین کے ساتھ۔ حضرت عمر ؓ نے ایک دفعہ ممبر پر فرمایا وہ دو شخص جو دنیا میں ایک سا عمل کیا کرتے تھے وہ عمل جنتیوں کے ہوں یا دوزخیوں کے یعنی دوزخی دوزخی کے ساتھ جنتی جنتیوں کے ساتھ بعض نے کہا روح اور بدن کے تعلق کو فرمایا ہے کہ روح اور بدن کا جوڑا لگایا جائے گا۔ حضرت عمر ؓ نے ایک دفعہ فرمایا احشر وا الذین ظلموا وازواجھم ، یعنی جمع کرو گناہگاروں کو اور ان کے جوڑوں کو، مطلب یہ ہی ہے کہ ہم مشرب اور ہم مذہب آپس میں ایک ایک دوسرے کے ساتھ جمع کردیئے جائیں گے یہ دوسرے نفخہ صور کے بعد ہوگا۔
Ayah 81:8

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے۔

(8) اور جب زندہ درگور کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے۔
Ayah 81:9

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس گناہ کے بدلے میں ماری گئی تھی۔

(9) کہ وہ کس گناہ کے بدلے میں قتل کی گئی تھی - زمانہ جاہلیت کی وحشیانہ رسم کی طرف اشارہ ہے کہ لڑکیوں کو زندہ درگور کردیا کرتے تھے قیامت کے دن اس لڑکی کے متعلق سوال ہوگا کہ یہ کس جرم اور کس گناہ کی وجہ سے قتل کی گئی کسی قدسوردناک اسلوب بیان ہے سبحان اللہ یعنی یہ دریافت کی جائیگا کہ یہ معصوم اور بےگناہ لڑکی کس جرم کی پاداش میں قتل کی گئی ظالموں کے اظہار جرم کا کیا بہترین طریقہ ہے۔
Ayah 81:10

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب نامہ اعمال کھول دیئے جائیں۔

(10) اور جب نامہ اعمال کھول دیئے جائیں - تاکہ ہر شخص اپنے اپنے اعمال دیکھ لے اور ہر ایک کو یہ معلوم ہوجائے کہ وہ نیکی یا بدی کا کیا سامان لے کر آیا ہے۔
Ayah 81:11

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کی کھال اتاری جائے یعنی کھل جائے۔

(11) اور جب آسمان کی کھال اتاری جائے - یعنی جس طرح جانور کا پوست اور کھال اتارنے سے اس کی ہر چیز ظاہر ہوجاتی ہے اسی طرح آسمان کے کھل جانے سے اور اس کی کھال کھینچ لینے سے آسمان کے اوپر کی ہر چیز ظاہر ہوجائے گی اور تمام اشیاء کی مثال صورتیں ظاہر ہوجائیں گی اور فرشتے نازل ہوں گے جیسا کہ سورة فرقان میں گزر چکا ہے کہ آسمان پھٹ جائے گا اور فرشتں کا بادلوں میں نزول ہوگا۔
Ayah 81:12

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ خوب دہکائی جائے۔

(12) اور جب دوزخ خوب دہکائی جائے - یعنی دوزخ کی آگ کو عذاب کی غرض سے کافروں کے لئے خوب تیز کردیا جائے۔
Ayah 81:13

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب جنت قریب کردی جائے۔

(13) اور جب جنت قریب کردی جائے - یعنی متقی پرہیزگار لوگوں کی جنت قریب کردی جائے۔
Ayah 81:14

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

تو اس وقت ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو وہ لے آیا ہوگا۔

(14) تو اس وقت ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو لے کر آیا ہوگا - یعنی ہر نفس اس کو جان لے گا جو اس نے حاضر کیا ہوگا۔ یوم تجد کل نفس ماعملت من خیر محضرا وما عملت من سوئ۔
Ayah 81:15

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

پس ہیں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں۔

(15) پس میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو ایک سمت کو چلتے چلتے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں۔
Ayah 81:16

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

جو ایک سمت کو چلتے چلتے پیچھے ہٹنے لگتے ہیں۔ اور پیچھے ہی چلتے رہتے ہیں اور کچھ دنوں کو چھپ جاتے ہیں۔

(16) اور پیچھے ہی چلتے رہتے ہیں اور کچھ دنوں کو چھپ جاتے ہیں۔
Ayah 81:17

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے۔

(17) اور قسم ہے رات کی کہ جب وہ پھیلے۔
Ayah 81:18

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

اور صبح کی قسم کھاتا ہوں جو وہ طلوع ہو۔

(18) اور قسم ہے صبح کی جب وہ دم بھرے یعنی طلوع ہو - اگرچہ مفسرین کے ان ستاروں میں کئی قول ہیں لیکن عام طور پر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی روایت سے تفسیر کرتے ہیں یعنی ان سے وہ پانچ ستارے مراد ہیں جن کو متحیر کہتے ہیں ان کے نام یہ ہیں۔ زحل، مشتری، مریخ ، زہرہ، عطارد یہ ستارے اول مغرب سے مشرق کی طرف بروج کو ترتیب سے طے کرتے ہوئے جاتے ہیں پھر تھوڑے دنوں تک ان کی حرکت نمودار اور ظاہر نہیں ہوتی، پھر رجعت کرتے ہیں یعنی الٹے مشرق سے مغرب کی طرف جاتے ہیں علم ہیئت میں پہلی حالت کو استقامت کہتے ہیں یعنی جب مغرب سے مشرق کی طرف جاتے ہیں دوسری حالت کو وقوف کہتے ہیں یعنی جب ایک جگہ ٹھہرجاتے ہیں اور ظاہر نہیں ہوتے۔ تیسری حالت کو رجوع کہتے ہیں اور دوسرے ستاروں کی یہ حالت نہیں ہے یہ پانچوں متحیر ستارے اپنی چال سے حیرت پیدا کرتے ہیں اور فلکیات میں انقلاب کی خبر دیتے ہیں اور عالم علوی میں انقلاب کی دلیل بنتے ہیں جن سے قیامت کے وقوع کا امکان معلوم ہوتا ہے۔ خنس کے معنی انقبض کے ہیں جیسا کہ حدیث میں آتا ہے ۔ الشیطان یوسوس الی العبد فاذا ذکر اللہ خنس یعنی انقبض۔ جواری کے معنی سیر کرنے والے چلنے والے، کنس ، وحشی جانوروں کے رہنے اور ٹھکانا پکڑنے کی جگہ کو کہتے ہیں، اسی وجہ سے خنس جواری کنس سے بعض متقدمین صحابہ اور تابعین نے ہرنیاں اور وحشی گائو بھی مراد لی ہیں اگرچہ یہ تفسیر مشہور نہیں ہے۔ عسعس سے کسی رات کا آنا اور اس کا پھیلنا مراد لیا ہے اور بعض نے ادبار کے معنی کئے ہیں یعنی رات کا لوٹنا اور واپس ہونا کیا ہے۔ ہم نے ترجمے اور تیسیر میں دونوں کا فرق کو ظاہر کردیا ہے یعنی ایک جگہ اقبال کیا ہے اور ایک جگہ ادبار کیا ہے۔ صبح کے روشن ہونے کو عرب تنفس الصبح بولا کرتے ہیں بعض نے کہا اس سے مراد نسیم سحری ہے لیکن راجح اور صحیح یہی ہے کہ والصبح اذا تنفس سے مراد صبح کا روشن ہونا ہوسکتا ہے کہ عسعس سے مراد فترۃ کا زمانہ ہو اور صبح کے دم بھرنے سے اشارہ نبی کریم ﷺ کی بعثت کی جانب ہو اور بالخنس الجوار الکنس سے مراد انبیائے سابقہ کی تبلیغ اور ان کی امتوں کا پیغمبروں کی ہدایت پر چلنا کبھی رک جانا اور کبھی ہدایت کو چھوڑ کر کفر کی طرف لوٹ جانا مراد ہو بہرحال یہ قسمیں کھا کر ارشاد فرماتے ہیں۔
Ayah 81:19

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

کہ بیشک یہ قرآن ایک معزز فرشتہ کا لایا ہوا کلام ہے۔

(19) کہ بیشک یہ قرآن ایک معزز فرشتے کا لایا ہوا ہے - یعنی یہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جس کو ایک معزز فرشتہ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے پیغمبر کے پاس پہنچایا ہے پیغمبر کی حیثیت سے ان کا قول فرمایا ہے ورنہ حقیقی اضافت مقصود نہیں ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے سنی ناقل کی طرف بات کو منسوب کردیا کرتا ہیں قرآن شریف کو مخلوق تک پہنچانے میں دو واسطے ہیں ایک حضرت جبرئیل (علیہ السلام) اور دوسرا واسطہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس۔
Ayah 81:20

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

جو بڑی قوت والا صاحب عرش کے نزدیک ذی مرتبہ ہے۔

(20) جو بڑی قوت والا صاحب عرش کے نزدیک ذی مرتبہ ہے۔
Ayah 81:21

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ امانت دار ہے ۔

(21) اس عالم میں اس کی بات مانی جاتی ہے اور وہ امانت دار ہے - ایک لانے والے میں جتنی باتیں خوبی کی ہونی چاہئیں وہ سب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) میں جمع ہیں یعنی زبردست قوۃ والا ہے۔ کوئی اس سے پیغام راستے میں چھین نہیں سکتا، ضبط اور حفظ کی قوت کا مالک ہے بڑی بات یہ کہ عرش کے مالک کے نزدیک ذی مرتبہ اور صاحب مرتبہ ہے درگاہ الوہیت میں بڑا قرب اور بڑا مرتبہ حاصل ہے۔ عالم بالا یعنی ملائکہ میں مطاع ہے یعنی آسمانوں کے فرشتے اس کی بات اور اس کا حکم مانتے ہیں اور ان کے امانت دار ہونے میں کسی کو سبہ نہیں۔ یہ تمام حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے اوصاف تھے آگے نبی کریم ﷺ کے اوصاف بیان فرماتے ہیں۔
Ayah 81:22

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور تمہارے رفیق یعنی محمد (علیہ السلام) کوئی دیوانے نہیں ہیں۔

(22) اور یہ تمہارے ساتھی اور ساتھ رہنے والے کوئی مجنوں اور دیوانے نہیں ہیں - یعنی یہ تمہارے ساتھی اور رفیق حضرت محمد ﷺ جن کو تم اچھی طرح جانتے ہو اور جنہوں نے تمام زندی تم ہی میں گزاری ہے اس کو دیوانہ کہنا خود کہنے والوں کی دیوانگی کا ثبوت ہے۔
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور بیشک انہوں نے اس فرشتے یعنی جبرائیل کو آسمان کے صاف کنارے پر دیکھا بھی ہے۔

(23) اور بیشک انہوں نے یعنی نبی کریم ﷺ نے اس فرشتے یعنی جبرئیل (علیہ السلام) کو آسمان کے صاف کنارے پر دیکھا بھی ہے - یعنی اس فرشتے کو اصل صورت میں حضور ﷺ نے دیکھا ہے جیسا کہ ہم سورة والنجم میں تفصیل عرض کرچکے ہیں صاف کنارہ یعنی بلند کنارہ جو صاف نظر آتا تھا۔ وھو بالافق الاعلے۔ اس قسم کے اوصاف سورة والنجم میں بھی گزر چکے ہیں آسمان کے کنارے سے مراد مشرقی کنارہ ہے مطلب یہ ہے کہ وہ فرشتہ ہمارے پیغمبر کا دیکھا بھالا ہے کوئی نیا فرشتہ نہیں ہے کہ بلاوجہ شبہ کیا جائے۔
Ayah 81:24

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور یہ محمد ﷺ پوشیدہ باتوں کے بتانے پر بخیل بھی نہیں ہیں یعنی وحی کی باتوں پر ۔

(24) اور یہ پیغمبر غیب یعنی پوشیدہ باتیں جو ان کو وحی کے ذریعہ معلوم ہوتی ہیں ان کے بتانے پر بخیل بھی نہیں ہیں - یعنی یہ پیغمبر وحی کی باتوں کے بتانے پر نہ اجرت مانگتا ہے نہ بخل کرتا ہے خواہ وہ ماضی کی ہوں یا مستقبل کی یا برزخ کی یا عالم آخرت کی یا گزشتہ اقوام کی غرض جو اس کو وحی آتی ہے وہ تم کو سنا دیتا اور بتادیتا ہے ۔ کاہن تو بغیر اجرت کے کچھ نہیں بتاتے پھر ایک بات سچی اور دس جھوٹی ملا کر بتاتے ہیں بہرحال معاذ اللہ یہ نہ دیوانے ہیں نہ کاہن ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیغام پہنچانے والے ہیں آگے کفار کے ایک اور شبہ کا جواب ہے۔
Ayah 81:25

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کو کہی ہوئی بات نہیں ہے۔

(25) اور یہ قرآن کسی شیطان مردود کی کہی ہوئی بات نہیں ہے - یعنی جیسا تم خیال کرتے ہو کہ محمد ﷺ کو شیطان یہ کلام سکھاتا ہے اور یہ کلام شیطان کا ہے اس کا رد فرمایا کہ یہ قرآن شیطان کی کہی ہوئی بات نہیں ہے غرض تمام دلائل سے یہ بات ثابت ہوچکی کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے نہ کسی دیوانے کی بڑ ہے نہ کسی شیطان مردود کی بکواس جنس ذرائع سے یہ کلام اس پیغمبر تک پہنچتا ہے وہ ذرائع نہایت مضبوط اور محفوظ ہیں اور اس کو آسمان سے لانے والے نہایت ثقہ، متقی امانت دار اور نہایت قوۃ والے ہیں جب یہ تمام باتیں صاف ہوگئیں تو فرماتے ہیں۔
Ayah 81:26

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

تو اب تو لوگ کس طرف کو جارہے ہو۔

(26) تو اب تم لوگ حق کو چھوڑ کر کس طرح جارہے ہو۔ قرآن آپہنچا اور اس کے حق ہونے کے دلائل تم نے سن لئے پھر اب کہاں جارے ہو اور راہ حق کو چھوڑ کر کدھر جاتے ہو۔
Ayah 81:27

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

بس یہ قرآن تو اقوام عالم کے لئے ایک سراسر نصیحت ہے۔

(27) بس یہ قرآن توجہان والوں کے یعنی اقوام عالم کے لئے سراسر ایک نصیحت کی چیز ہے - یعنی قرآن کے متعلق تم جتنے احتمالات بیان کرتے ہو ان سب کے غلط ہونے کے بعد سمجھ لو کہ یہ قرآن اقوامعالم کے لئے ایک نصیحت اور ایک بہت بڑا دستور العمل ہے جو دین ودنیا میں تمہاری اصلاح اور نجات کا موجب ہے۔
Ayah 81:28

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

خصوصاً اس کے لئے جو تم میں سے سیدھا چلنا چاہے۔

(28) خاص طور پر اس شخص کے لئے جو تم میں سے سیدھا چلنا چاہے - یعنی اس نصیحت نامے اور دستور سے خاص طور پر وہ شخص مستفید ہوتا ہے جو عناد اور کج روی کو چھوڑ کر سیدھی راہ چلنا چاہے۔
Ayah 81:29

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم بدون اللہ تعالیٰ کے چاہے جو سب عالموں کا رب ہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔

(29) اور تم بدون اللہ تعالیٰ کے چاہے جو تمام عالموں کا پروردگار ہے اور مالک ہے کچھ نہیں چاہ سکتے۔ یعنی فی نفسہ قرآن نصیحت ہے لیکن اس کی تاثیر مشیت الٰہی پر موقوف ہے ۔ اس کی مشیت جس کے متعلق ہوجاتی ہے وہ کامیاب ہوتا ہے اور جس کے ساتھ اس کے ارادے کا تعلق کسی مصلحت و حکمت کے اور سوئے استعداد کے باعث نہیں ہوتا اس کو اس نصیحت نامے سے نصیحت نصیب نہیں ہوتی اور وہ اپنی شقاوت اور خرابی استعداد کے باعث نصیحت قبول کرنے سے محروم رہتا ہے اور مشیت خداوندی کے بغیر اس کی توفیق میسر نہیں ہوتی۔ حدیث میں آتا ہے جو کوئی سورت تکویر پڑھتا ہے اور سچے دل سے اس کا اعتقاد رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسے بندے کو اس وقت کی رسوائی اور فضیحت سے بچا لیگا جس وقت اعمال ناموں کے ملنے میں عام لوگوں کو فضیحت و رسوائی ہوگی۔ تم تفسیر سورہو التکویر