Ayah 81:1(اذا الشمس کورت :”کور العمامۃ و تکویریھا“ پگڑی لپیٹنا۔ ”تکویر المتاع“ سامان جمع کر کے باندھ دینا۔ (خلاصہ قاموس)”کو رث“ یعنی اتنی وسعت والے سورج، اس کی شعاعوں اور روشنی کو لپیٹ دیا جائے گا اور وہ بالکل بےنور ہوجائے گا۔ چاند کا بھی یہی حال ہوگا، چناچہ ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(الشمس والقمر مکوران یوم القیامۃ) (بخاری، بدہ الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر : 3200)”سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ دیئے جائیں گے۔“
Ayah 81:2(واذا النجوم انکدرت :”انکدرت“ طبری نے اس کے دو معانی نقل فرمائے ہیں، پہلا ”تناثرت“ یعنی بکھر کر گرجائیں گے اور دوسرا ”تغیرت“ یعنی متغیر ہوجائیں گے۔ کدورت صفائی کی ضد ہے۔ دونوں ملحوظ رکھے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ ستارے بکھر کر گرجائیں گے، ان کی روشنی اور صفائی ختم ہو جائیگی اور وہ بےنور ہوجائیں گے۔
Ayah 81:3(واذا الجبال سیرت): اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کو زمین کے اندر گاڑ رکھا ہے اور زمین میں وہ کشش رکھی ہے جو انہیں باندھ کر رکھے ہوئے ہے۔ اللہ کے حکم سے قیامت کے دن وہ کشش ختم ہوجائے گی اور یہ جامد پہاڑ ڈھنی ہوئی اون کی طرح ذرہ ذرہ ہو کر بادلوں کی طرح چل پڑیں گے، حتیٰ کہ سراب کی طرح ہوجائیں گے، جیسا کہ فرمایا :(و سیرت الجبال فکانت سراباً) (النبا : 20)”اور پہاڑ چلائے جائیں گے تو وہ سراب بن جائیں گے۔“ مزید تفصیل کیلئے سورة نبا کی اسی آیت کی تفسیر دیکھیے۔
Ayah 81:4(واذا العشار عظلت :”العشار“ ”عشرائ“ کی جمع ہے، دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں جو عربوں کے ہاں نہایت عزیز ہوتی تھیں۔ صور پھونکے جانے کی ابتدا میں جو گھبراہٹ پیدا ہوگی اس میں اتنی نفیس اور عزیز چیزوں کو بھی کوئی نہیں سنبھالے گا، ہر ایک کو اپنی پڑی ہوگی۔
Ayah 81:5واذا الوحوش حشرت : جنگلی جانور جو ایک دوسرے سے بھاگتے ہیں، اس گھبراہٹ میں جمع ہوجائیں گے، کوئی کسی کو کچھ نہیں کہے گا۔
Ayah 81:6(واذا البحار سجرت :)”سحر التنور“ اس نے تنور جلایا۔”سبحر“ میں مبالغہ ہے، خوب بھڑکایا۔ سمندروں کے بھڑکائے جانے کی ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ زمین کے نیچے جو بےپناہ حرارت اور آگ ہے، جو آتش فشاں پہاڑوں کے بیدار ہونے کی صورت میں کبھی کبھی ظاہر ہوتی رہتی ہے، وہ اللہ کے حکم سے سمندروں کو بھڑکا کر انہیں بھاپ بنا کر اڑا دے گی۔ پھر پہاڑوں کی بلندی اور سمندروں کی گہرئای ختم ہو کر زمین ایک چٹیل میدان بن جائے گی۔ ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ پانی آکسیجن اور ہائیڈروجن دو گیسوں کا مرکب ہے، جن میں سے ایک جالنے اولی اور دوسری جلنے والی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ ہی کی عجیب قدرت ہے کہ ان دونوں کو ملا کر آگ بجھانے والا پانی بنادیا ہے۔ قیامت کے وقت اللہ کے حکم سے ان دونوں کا ملاپ ختم ہوجائے گا اور وہ اپنے اصل کی طرف لوٹ کر بھڑکانے اور بھڑکنے لگیں گی، جس سے سمندروں کا یہ بےحساب پانی چشم زدن میں اڑ جائے گا۔ بہرحال اللہ کا حکم ہوگا تو سمندر آ سے بھڑکنے لگیں گے۔
Ayah 81:7(واذا النفوس زوجت):”اور جب جانیں ملائی جائیں گی“ اس کی دو تفسیریں ہیں، پہلی یہ کہ جانیں جسموں کیساتھ ملائی جائیں گی۔ یہاں سے دوسرے نفخہ کے بعد کے حالات ہیں، تو سب دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ دوسری یہ کہ جانوں کی قسمیں بنادی جائیں گی، نیکوں کو نیکوں کے ساتھ اور گناہ گ اورں کو گناہ گ اورں کے ساتھ ملا دیا جائے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(احشروا الذین ظلموا وازواجھم و ما کانوا یعبدون) (الصافات : 22)”جمع کرو ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے ہم شکلوں کو اور ان کو جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔“ دوسری تفسیر عمر ؓ عنہمانے فرمائی ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، باب :(اذ الشمس کورت) ، بعد ج : 3938)
Ayahs 81:8–98، 9(1) واذا الموء دۃ سئلت…:”الموء د ۃ“ وہ لڑکی جسے زندہ دفن کردیا گیا ہو۔ جاہلیت میں بعض عرب عار سے بچنے کیلئے لڑکیاں زندہ دفن کردیتے تھے کہ دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائیں یا کوئی ان کا داماد نہ بنے۔ بعض فقر کی وجہ سے ایسا کرتے تھے اور بعض تو فقر کی وجہ سے لڑوں اور لڑکیوں دونوں کو قتل کر یدتے تھے۔ ہندوستان کے راجپوتوں اورب عض دوسری قوموں میں بھی یہ رواج رہا ہے، آج کل برتھ کنٹرول کے نام سے حکومتیں م نظم طریقے سے یہ کام کر رہی ہیں۔ چین میں شہروں میں ایک بچے اور دیہاتوں میں صرف دو بچوں کی اجازت ہے۔ چونکہ اکثر لوگوں کو لڑکے مرغوب ہوتے ہیں، سالئے لڑکی پیدنا ہونے کی صورت میں کئی مائیں دودھ ہی نہیں پلاتیں اور اس طرح قتل کا ارتکاب کرتی ہیں۔ مسلمان ملکوں کے بعض حکمران بھی کفار کی ترغیب سے رزق کے وسائل کی کمی (املاق) کا بہانہ بنا کر تحدید نسل بلکہ مسلمانوں کی نسل کشی کی پوری کوشش کر رہے ہیں اور اس کے لئے ایسے طریقے پھیلا رہے ہیں جن سے بچہ پیدا ہونے کا امکان ہی ختم ہوجاتا ہے۔ مثلا جرثوثمے اور بیضے کی رگ ہی کاٹ دینا اور دوسرے ناقابل بیان طریقے اور یہ کام اس رسول ﷺ کی امت کے لوگ کر رہے ہیں جس نے عزل اجتماع کرتے ہوئے انزال کے وقت بیوی سے علیحدہ ہوجانے) کو بھی نپاسند فرمایا، حالانکہ عزل کی صورت میں حمل کا امکان رہتا ہے، کیونکہ منی کے جرثومے انزال سے پہلے بھی مذی کے ذریعے سے رحم میں داخل ہوسکتے ہیں اور خود رسول اللہ ﷺ نے اس حقیقت کا اظہار فرمایا کہ عزل کردیا نہ کرو، جو بچہ پیدا ہونا ہے ہو کر رہے گا۔ اس کے باوجود ایک مرتبہ جب لوگوں نے آپ سے عزل کے متعلق سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :(ذلک الواد الخفی وھی :(واذا الموء دۃ سئلت) (التکویر : 18) (مسلم ، النکاح، باب جواز الغلیہ…: 131/1332)”یہ پوشیدہ طریقے کا زندہ دفن کرنا ہے اور یہ فعل اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وعید کے تحت آتا ہے کہ جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے سوال کیا جائے گا۔“ مقصد یہ ہے کہ عزل میں امکان حمل کے باوجود اس کے تسلسل کا نتیجہ نسل انسانی کی ہلاکت ہے۔ اس حدیث سے منع حمل کے دوسرے ظلمانہ طریقوں کی وعید خود بخود سمجھ میں آرہی ہے۔
Ayah 81:10(واذا الضحف نشرت : اعمال نامے جو بند تھے، پھیلا کر سامنے کردیئے جائیں گے، تاکہ ہر عمل کرنے والا اپنے عمل خود پڑھ لے۔ دورسا معنی یہ ہے کہ لوگوں میں ان کے اعمال نامے دائیں یا بائیں ہاتھوں میں پھیلا دیئے جائیں گے۔
Ayah 81:11(واذا السمآء کشطت :”کشط“ (ض)”الشیء“ کسی چیز سے وہ چیز اتار دینا جس نے اسے ڈھانپ رکھا ہو۔”کشط العبری“ اونٹ کی کھال اتارنا۔ عالم بالا پر آسمان کا پردہ جو کھال کی طرح چڑھا ہوا ہے اسے اتار کر تہ کردیا جائے گا۔ (طبری) جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :(یوم نطوی السمآء کطی السجل للکتب) (الانبیائ : 103)”جس دن ہم آسمان کو یوں لپیٹ دیں گے جیسے طو مار میں اوراق لپیٹ دیئے جاتے ہیں۔“ کھال اتار دیئے جانے کے بعد عالم بالا سب کے سامنے آشکار ہوجائے گا۔۔
Ayahs 81:12–13(واذا الجحیم سعرت…: یہ دونوں چیزیں میدان محشر میں ہوں گی۔ تفصیل کے لئے دیکھیے سورة فجر (23) اور سورة شعراء (90، 91) کی تفسیر۔
Ayah 81:14(علمت نفس ما احضرت : شروع سورت سے یہاں تک کل بارہ چیزوں کا ذکر ہوا ہعے، جب یہ بارہ چیزیں ہوجائیں گی تو کیا ہوگا ؟ اس کا جواب ہے :(علمت نفس ما احضرت) کہ ہر جان جو کچھ لے کر آئی ہے اسے جان لے گی۔”نفس“ کی تنکیر عموم کے لئے ہے، اسلئے ترجمہ ”ہر جان“ کیا گیا ہے۔
Ayahs 81:15–16(فلا اقسم بالخش…:”الخنس“”خنس“ (ض) (پیچھے ہٹنا) سے ”خانس“ کی جمع بروزن ”رکع“ ہے۔”خناس“ بھی اسی سے ہے۔ اسی طرح ”الکنس“ ”کانس“ کی جمع ہے۔ ”کناس“ ہرن وغیرہ کی درختوں میں بنئای ہوئی جگہ، جہاں وہ چھپ جاتے ہیں۔ ”کنس“ (ض) چھپنے کی جگہ میں داخل ہوگیا ، چھپ گیا۔ ”الجوار“ ”جزی یجری“ سے ”جاریۃ“ کی جمع ہے۔ مراد سورج، چاند اور ستارے ہیں۔ انہیں ”الخنس“ (پیچھے ہٹنے والے) اس لئے کہا گیا ہے کہ یہ سب مغرب میں غروب ہونے کے بعد پھر پیچھے یعنی مشرق کی طرف آنا شروع ہوجاتے ہیں، یہاں تک کہ مشرق سے دوبارہ نمودار ہوجاتے ہیں۔”الجوار“ چلنے والے ، یعنی ان کا کام ہی چلتے رہنا ہے، مغرب سے واپس مشرق کی طرف اور وہاں سے دوبارہ مغرب کی طرف۔”الکنس“ چھپنے والے، یعنی مغرب سے مشرق کی طرف چلتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
Ayahs 81:17–18(والیل اذا عسعس…:”عسعس“ آنے اور جانے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے، یہاں دوسرا معنی زیادہ مناسب ہے۔ ”تنفس“ سانس لیتے ہوئے چھاتی پھیلتیہے، صبح کی روشنی پھیلنے کی کیفیت کی نقشہ کشی انسان کے ساتھ لینے کی کیفیت کے ساتھ کی ہے۔
Ayah 81:1919۔ (انہ لقول رسول کریم :) یہ ان قسموں کا جواب ہے، یعنی امر الٰہی کے پابند یہ سیارے، روزانہ جاتی ہوئی رات اور پھیلتی ہوئی صبح کا یہ مستحکم نظام زبردست شہادت ہے کہ یہ وحی رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک نہایت معزز اور ان عظیم صفات والا فرشتہ (جبریل علیہ السلام) ہی لے کر آیا ہے۔ دن رات، سورج چاند اور ستاروں کے نظام کی طرح یہاں بھی کسی شیطان کا دخل نہیں ہوسکتا۔
اس آیت میں ”رسول“ سے مراد جبریل ؑ ہیں، کیونکہ مشرکین مکہ کبھی کہتے :(انما یعلمہ بشر) (النحل : 103)
”اسے کوئی بشر ہی سکھاتا ہے۔“ کبھی کہتے :(افتری علی اللہ کذباً ام بہ جنۃ) (سبا : 8)”کیا اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا یا یہ دیوانہ ہے ؟“ تو اللہ تعالیٰ نے ان مشرکین کے قول کے جھٹلانے کو یہ آیات نازل فرمائیں اور فرمایا کہ نہ اللہ کے رسول مجنون اور دیوانے ہیں، نہ انہوں نے اپنی طرف سے اس قرآن کو بنایا ہے اور نہ کسی انسان نے انہیں یہ قرآن سکھایا ہے۔ یہ ایسا کلام نہیں ہے جس طرح شیاطین چوری سے آسمان کی کچھ باتیں سن کر کاہنوں سے کہہ دیتے ہیں، بلکہ پیغام کے طور پر اللہ کی طرف سے ایک صاحب قوت، معتبر اور امانت دار فرشتے نے یہ قرآن اللہ کے نبی کو پہنچایا ہے۔ (احسن التفاسیر)
Ayah 81:20(ذی قوۃ عند ذی العرش مکین :”ذی قوۃ“ کی تنوین تعظیم کیلئے ہے، بڑی قوت والا۔ سورة نجم میں بھی جبریل ؑ کا یہ وصف بیان ہوا ہے، فرمایا :(علمہ شدید القوی، ذومرۃ) (النجم : 605)”اسے نہایت مضبوط قوتوں والے (فرشتے) نے سکھایا۔ جو بڑی طاقت والا ہے۔“ جبریل ؑ کی قوت کا ذکر یہاں اس لئے فرمایا ہے کہ ان کی قوت کے سبب سے شیطان ان سے بھاگتا ہے، جیسا کہ بدر میں انہیں دیکھ کر بھاگا تھا۔ (دیکھیے انفال : 48) مطلب یہ ہے کہ جبریل ؑ کی قوت کی وجہ سے ان کی پیغام رساین میں نہ شیطان کا کچھ دخل ہے اور نہ ان کی امانت داری کے سبب اس پیغام رسانی میں کسی خیانت کا دخل ہے، اس لئے کسی شک و شبہ کے بغیر یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ (خلاصہ احسن التفاسیر)
Ayahs 81:21–22(مطلع ثم امین): وہاں اس کی بات مانی ہوئی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے مقرب فرشتوں میں سے ہے، خ جیسا کہ حدیث معراج میں ہے کہ جبریل ؑ کے کہنے پر آسمان کے دروازے کھلے۔
Ayah 81:23ولقد راہ بالافق المبین : روشن کنارے سے مراد آسمان کا مشرقی کنارا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں دو متربہ دیکھا ہے، ایک دفعہ زمین پر اور دوسری دفعہ آسمان پر۔ (دیکھیے نجم : 1 تا 18) یہاں پہلی مرتبہ کا ذکر ہوا ہے، آپ ﷺ نے جبریل ؑ کو ان کی اصل صورت میں دیکھا ، ان کے چھ سو پر تھے اور پورا افق ان سے بھرا ہوا تھا۔ (دیکھیے بخاری، بدء الخلق، باب اذا قال احدکم امین …: 3232 تا 3235)
Ayahs 81:24–28(وما ھو علی الغیب بضنین :”ضنین“ بخیل، یعنی اللہ تعالیٰ انہیں غیب کی جو بات بتاتے ہیں وہ اسے اپنے پاس ہی نہیں رکھ لیتے بلکہ امت تک پہنچا دیتے ہیں۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں :(من حد نک ان محمداً ﷺ کم شیئاً مما انزل علیہ، فقد کذب ، واللہ یقول :(یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) (بخاری، التفسیر، باب :(یا ایھا الرسول بلغ…): 3612)”جو شخص تمہیں بتائے کہ محمد ﷺ نے آپ پر نازل ہونے والی کوئی بات چھپائی ہے، تو اس نے یقیناً جھوٹ بولا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(یایھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک) (المائدہ : 68)”اے رسول ! پہنچا دے جو کچھ تیری طرف تیرے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے۔“
بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ مطلب نکالا ہے کہ رسول اللہ ﷺ غیب جانتے تھے، کیونکہ بخل وہی کرسکتا ہے جس کے پاس کوئی چیز موجود ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے :(قل لا یعلم من فی السموات والارض الغیب الا اللہ) (النمل : 65)”(اے نبی !) کہہ دے، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہے غیب نہیں جانتا۔“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو غیب کی جو باتیں بتائی گئی ہیں وہ لوگوں کو بتانے میں آپ بخل نہیں کرتے۔ حقیقتل یہ ہے کہ اگر کسی شخص کو غیب کی کچھ بتایں بتادی جائیں تو وہ اس سیع الم الغیب نہیں بن جاتا، کیونکہ وہ صرف اتنی بات جانتا ہے زیادہ نہیں۔ ورنہ اگر اس وجہ سے رسول اللہ ﷺ کو عالم الغیب مانا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیب کی کئی باتیں بتائی ہیں تو امت کو بھی عالم الغیب ماننا پڑے گا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو جو کچھ بتایا گیا تھا آپ نے اللہ کے حکم کے مطابق وہ سب کچھ امت کو بتادیا۔
Ayah 81:29(وما تشآء ون الا ان یشآء رب العلمین : یعنی تمہارا چاہنا بھی اللہ کے چاہنے اور توفیق دینے پر موقوف ہے۔ مزید دیکھیے سورة یونس (100) مزید دیکھیے سورة یونس (100) ، انعام (112) ، قصص (56) اور سورة دہر (30)۔