At-Takwir 81:7

At-Takwir · from ayah 7

81:7

وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۟وَاِذَا النُّفُوۡسُ زُوِّجَتۡ

اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when the souls are paired

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah At-Takwir

All translations of 81:7

اور جب جانیں (جسموں سے) جوڑ دی جائیں گی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب جانیں (جسموں سے) ملا دی جائیں گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب لوگوں کے جوڑے جو ٹے بنا دئے جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب جانوں کے جوڑ بنیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب روحیں (بدنوں سے) ملا دی جائیں گی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب جانیں ملائی جائیں گی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جانیں جسموں سے ملا دی جائیں گی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جب کہ نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جب جوڑ دیا جائے گا جانوں کو

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب ایک ایک قسم کے لوگ یکجا کردیئے جائیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب جانوں کے جوڑ ملائے جائیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی

— محترمہ رفعت اعجاز

when the souls shall be rejoined (with their bodies),

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and when the people will be arranged in categories,

— Muhammad Taqi Usmani

and when the people will be arranged in categories,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when the souls are joined with their mates.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when the souls are paired

— Saheeh International

souls are reunited with their bodies,

— Muhammad Sarwar

And when souls are united,

— Muhammad Habib Shakir

And when the souls he paired,

— Abdul Majid Daryabadi

When the souls are sorted out, (being joined, like with like);

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 81:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

یعنی سوج بےنور ہوجائیگا، جاتا رہے گا اوندھا کر کے لپیٹ کر زمین پر پھینک دیا جائیگا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں سورج چاند اور ستاروں کو لپیٹ کر بےنور کر کے سمندروں میں ڈال دیا جائیگا اور پھر مغربی ہوائیں چلیں گی اور آگ لگ جائیگی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ اس کو تہہ کر کے جہنم میں ڈال دیا جائیگا (ابن ابی حاتم) اور ایک حدیث میں سورج کے ساتھ چاند کا ذکر بھی ہے لیکن وہ ضعیف ہے صحیح بخاری میں یہ حدیث الفاظ کی تبدیلی سے مروی ہے، اس میں ہے کہ سورج اور چاند قیامت کے دن لپیٹ لیے جائیں گے امام بخاری اسے کتاب بدء الخلق میں لائے ہیں لیکن یہاں لانا زیادہ مناسب تھا یا مطابق عادت وہاں اور یہاں دونوں جگہ لاتے جیسے کہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة التَّكْوِیْر 7 یہاں سے قیامت کے دوسرے مرحلے کا ذکر شروع ہوتا ہے۔ سورة التَّكْوِیْر 8 یعنی انسان از سرنو اسی طرح زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ دنیا میں مرنے سے پہلے جسم و روح کے ساتھ زندہ تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ، یعنی جبکہ حاضرین محشر کے جوڑے جوڑے اور جتھے بنادیئے جاویں گے یہ جتھے اور جماعتیں ایمان وعمل کے اعتبار سے ہوں گے کہ کافر ایک جگہ مومن ایک جگہ، پھر کافر و مومن میں بھی اعمال و عادات کا فرق ہوتا ہے، انکے اعتبار سے کفار میں بھی مختلف قسم کے گروہ ہوجائیں گے اور مسلمان میں بھی یہ گروہ عقیدے اور عمل میں اشتراک کی بنا پر ہوں گے جیسا کہ بیہقی نے بروایت حضرت نعمان بن بشیر حضرت عمر بن خطاب سے روایت کیا ہے کہ جو لوگ ایک جیسے اعمال کرتے ہوں گے وہ ایک جگہ کردیئے جاویں گے اعمال حسنہ ہوں یا سیہ، مثلاً اچھے مسلمانوں میں علم دین کی خدمت کرنیوالے علماء ایک جگہ، عباد وزہاد ایک جگہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ظہور قیامت کے بعد کے احوال: اوپر کی آیات میں وہ احوال بیان ہوئے جو ظہور قیامت کے وقت پیش آئیں گے۔ اب اس آیت اور بعد کی آیات میں وہ باتیں بیان ہو رہی ہیں جن کا تعلق ظہور قیامت کے بعد کے احوال سے ہے۔ فرمایا کہ جب کہ ’نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی‘ جوڑیں ملانے سے مقصود لوگوں کی ان کے اعمال و عقائد کے اعتبار سے الگ الگ گروہ بندی ہے۔ یہ اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے جس کی تفصیل سورۂ واقعہ کی آیت ۷: ’وَکُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً‘ (اور اس وقت تم تین گروہوں میں تقسیم ہو جاؤ گے۔) سے لے کر آیت ۴۴ تک بیان ہوئی ہے۔ وہاں واضح فرمایا ہے کہ اس دنیا میں تو نیک و بد دونوں ایک ہی ساتھ زندگی گزارتے ہیں لیکن یہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 7–9

7۔ 1 اس کے کئے مفہوم بیان کئے گئے ہیں۔ زیادہ قرین قیاس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر انسان کو اس کے ہم مذہب وہم مشرب کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ مومنوں کو مومنوں کے ساتھ اور بد کو بدوں کے ساتھ یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور عیسائی کو عیسائیوں کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 7–8

5: یعنی ایک قسم کے لوگ ایک جگہ جمع کردئیے جائیں گے، کافر ایک جگہ اور مومن ایک جگہ، نیز نیک لوگ ایک جگہ اور بدکار ایک جگہ۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 7–8

واذا……………. زوجت ( 7:81) ” اور جب جانیں جوڑ دی جائیں گی “۔ اس کے ایک معنی یہ ہیں کہ تمام روحیں ، اجسام کے ساتھ ملادی جائیں گی ، اور ان کو دوبارہ ملا کر از سر نو زندہ کردیا جائے گا اور یہ بھی احتمال ہے کہ معنی یہ ہو کہ لوگوں کے باہم متجانس گروپ بنا دیئے جائیں گے جیسا کہ دوسری جگہ آتا ہے۔ وکنتم……………. ثلثة (7:56) ” اور تم تین گروپ ہوگے “۔ یعنی مقربین الٰہی کا گروپ ، دائیں بازو والے اور بائیں بازو والے یا کسی اور اصول تقسیم کے مطابق لوگوں کو ملا دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

11 یعنی کافر کافر کے اور مسلم مسلم کے ساتھ پھر ہر قسم کا نیک یا بد عمل کرنے والا اپنے جیسے عمل کرنے والوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے اور عقائد، اعمال، اخلاق وغیرہ کے اعتبار سے الگ جماعتیں بنادی جائیں یا یہ مطلب ہے کہ روحوں کو جسموں کے ساتھ جوڑ دیا جائے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7{ وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۔ } ”اور جب جانوں کے جوڑ ملائے جائیں گے۔“ یعنی پوری نسل انسانی کے مختلف افراد کی گروہ بندی کردی جائے گی۔ یہ گروہ بندی لوگوں کے اعمال اور انجام کے حوالے سے ہوگی جیسے سورة النمل ‘ آیت 83 اور سورة حٰمٓ السجدۃ ‘ آیت 19 میں اہل جہنم کو مختلف گروہوں میں تقسیم کیے جانے کا ذکر آیا ہے۔ اس آیت کا مفہوم یہ بھی لیا گیا ہے کہ جب جانیں جسموں کے ساتھ جوڑ دی جائیں گی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

8 زوج کا لفظ بڑا وسیع المعنی ہے اور اس لحاظ سے اس آیت کے مطلب بھی متعدد ہوسکتے ہیں۔ مثلاً ایک یہ ہے کہ قیامت کے دن مردوں کے جسم کو ان کی قبروں سے اٹھا کر ان کے ارواح کو ان جسموں میں ملایا جائے گا اور یہی دوبارہ زندگی کا مفہوم ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جرائم کے لحاظ سے ان کے گروہ بنا دیئے جائیں گے۔ مثلاً مشرکوں کا گروہ الگ ہوگا، منافقون کا الگ، کافروں کا الگ، مومنوں کا الگ یا جیسے زانیوں کا الگ، قاتلوں کا الگ وغیرہ وغیرہ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ مثلا مومن مومن اکٹھے کردیئے جائیں اور کافر کافر۔ واقعات فناء کے بعد اب صور کے نفخہ ثانی کے بعد، خلق کی آفرینش ثانی کا بیان ہورہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 6–7

واذا البحار سجرت، سجرت، تسجیر سے ماضی مجہول کا صیغہ ہے تسجیر تنور میں آگ دہکا کو کہتے ہیں، بظاہر یہ بات عجیب سی معلوم ہوتی ہے کہ قیامت کے دن سمندروں میں آگ بھڑک اٹھے گی، لیکن اگر پانی کی حقیقت معلوم ہو تو اس میں کوئی چیز قابل تعجب نہیں، اس سے سرا سر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہوتا ہے کہ اس نے آکسیجن اور ہائیڈروجن، دو ایسی گیسوں کو ملا دیا جن میں سے ایک آگ بھڑکانے والی اور دوسری بھڑک اٹھنے والی ہے اور ان دونوں کی ترکیب سے پانی جیسا مفید اور کار آمد مادہ پیدا کیا جو آگ کو بجھانے والا ہے، اللہ تعالیٰ کا ایک اشارہ اس بات کے لئے بالکل کافی ہے کہ وہ پانی کی اس ترکیب کو بدل ڈالے اور یہ دونوں گیسیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا النفوس زوجت . ابن ابی حاتم نے حضرت نعمان بن بشیر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں جو باہم مشارکت عملی رکھتے تھے ‘ ہر شخص جو اپنی قوم کے ساتھ وہی کام کرتا تھا جو قوم کرتی تھی ‘ قوم سے ملا دیا جائے گا اور یہ اللہ کے حکم سے ہوگا اور حضور ﷺ (یہ آیت بھی اس موقع پر) فرماتے تھے۔ وَ کُنْتُمْ اَزْوَاجًا ثَلٰثَۃً فَاَھْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ مَآ اَصْحٰبُ الْمَیْمَنَۃِ وَاَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ مَا اَصْحٰبُ الْمَشْءَمَۃِ وَالسَّابِقُوْنَ السَّابِقُوْنَ ۔ بیہقی نے حضرت نعمان بن بشیر کے حوالہ سے حضرت عمر ؓ بن خطاب کا یہ قول نقل کیا ہے ہے کہ آیت : واذا النفوس زوجت…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 3–7

(3۔ 7) اور جب پہاڑ زمین پر سے ہٹا دیے جائیں گے اور جب گابھن اونٹنیوں کے مالک اپنی مشغولیت کی بنا پر ان سے غافل ہوجائیں گے اور جب قصاص کے لیے تمام جانوروں کو جمع کیا جائے گا، یا یہ کہ گھبراہٹ کی وجہ سے جمع ہوجائیں گے اور جب کھارے دریا کا پانی شیریں میں ملا کر ایک کردیا جائے گا، یا یہ کہ آگ ہوجائیں گے اور جس وقت ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں گے یعنی اپنے ساتھیوں سے مل جائیں گے کہ نیک نیک کے ساتھ اور گنہگار گنہگار کے ساتھ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(واذا النفوس زوجت):”اور جب جانیں ملائی جائیں گی“ اس کی دو تفسیریں ہیں، پہلی یہ کہ جانیں جسموں کیساتھ ملائی جائیں گی۔ یہاں سے دوسرے نفخہ کے بعد کے حالات ہیں، تو سب دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔ دوسری یہ کہ جانوں کی قسمیں بنادی جائیں گی، نیکوں کو نیکوں کے ساتھ اور گناہ گ اورں کو گناہ گ اورں کے ساتھ ملا دیا جائے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :(احشروا الذین ظلموا وازواجھم و ما کانوا یعبدون) (الصافات : 22)”جمع کرو ان لوگوں کو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کے ہم شکلوں کو اور ان کو جن کی وہ عبادت کیا کرتے تھے۔“ دوسری تفسیر عمر ؓ عنہمانے فرمائی ہے۔ (دیکھیے بخاری، التفسیر، باب :(اذ الشمس کورت) ، بعد ج : 3938)

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذالنفوس زوجت۔ نعمان بن بشیر نے کہا، کہ نبی کریم نے فرمایا، واذالنفوس زوجت کا معنی ہے ہر آدمی کو اس جماعت کے ساتھ ملا دیا جائے گا جو اس جیسا عمل کیا کرتے تھے۔ حضرت عمر نے فرمایا، فاجر کو فاجر کے ساتھ اور صالح کو صالح کے ساتھ ملا دیا جائے گا، حضر تابن عباس نے فرمایا : یہ اس وقت ہوگا جب لوگ تین جماعتیں ہوں گی، سابقون ایک جماعت ہوں گے، اصحاب یمین ایک جماعت ہوں گے اور اصحاب شمال ایک جماعت ہوں گے انہیں سے ایک قول یہ بھی مروی ہے مومنوں کے نفوس کو حور عین کے ساتھ ملایاجائے گا، کافروں کو شیاطین کے ساتھ ملایاجائیگا یہی صورت حال منافقون کی ہوگی، ان سے ایک قول یہ بھی منقول ہے کہ ہر ایک جنتی اور جہنمی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

27۔ ابن مردویہ نے النعمان بن بشیر سے اور انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے آیت واذا النفوس زوجت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ آدمی مراد ہے جو قیامت کے دن دوزخ والوں میں اپنے جیسے آدمی کے ساتھ ملادیا جائے گا۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت احشرو الذین ظلموا وازواجہم (الصافات آیت 22) انہیں جمع کردو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کی بیویوں کو بھی۔ 28۔ ابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آیت واذا النفوس زوجت سے مراد وہ دو آدمی ہیں جو اکٹھے ایک عم کرتے ہیں اور وہ دونوں جنت میں یا دوزخ میں اکٹھے داخل ہوں گے۔ 29۔ ابن منیع نے عمر بن خطاب ؓ سے آیت واذا لنفوس زوجت کے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

اس کے نفخہ ثانیہ سے متعلق چھ واقعات بیان کیے : 1 ﴿ وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ007﴾ (اور ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں) کافر علیحدہ اور مسلمان علیحدہ ہوں گے اور ہر فریق کی جماعتیں ہوں گی۔ سورة ٴ ابراہیم میں فرمایا ﴿ وَ تَرَى الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ مُّقَرَّنِيْنَ فِي الْاَصْفَادِۚ0049﴾ (اور تو اس دن مجرموں کو بیڑیوں میں ایک ساتھ جوڑے ہوئے زنجیروں میں دیکھے گا) ۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–29

ہولناک مناظر روز قیامت و پیشی اعمال و فیصلہ جزاء وسزا : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” اذا الشمس کورت ....... الی ...... الا ان یشآء اللہ رب العلمین “۔ (ربط) سورة عبس کا مضمون دراصل اثبات قیامت کے موضوع ہی پر مشتمل تھا اور مقصد بیان یہ تھا کہ انسان کی سعادت و فلاح اور عزت و عظمت اپنی زندگی اپنے پروردگار کے ساتھ وابستہ رکھنے اور فکر آخرت میں ہے، اس کے برعکس وہ مغرور ومتکبر جو نہ خدا پر ایمان لاتا ہے اور نہ ہی اس کو آخرت کی فکر ہے وہ خدا کی نظروں میں ذلیل و حقیر ہے، طالب حق اور سعادت کی فکر میں لگے رہنے والا انسان ہی بارگاہ رسالت میں ہر عزت واکرام کا مستحق ہے، آخر میں قیامت کے روز کی پریشانی اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 6–14

3:۔ ” واذا البحار سجرت “ اور جب دریا پانی سے بھر دئیے جائیں۔ زلزلہ قیامت کی وجہ سے سمندر میں ایسا ابال آئے گا کہ تمام دریا پانی سے بھر جائیں گے، بلکہ خشکی بھی زیر آب ہوجائے گی۔ یہاں تک وہ چھ احوال مذکور ہوئے جو نفخہ اولی کے بعد ظاہر ہوں گے آگے ان احوال کا بیان ہے جو نفخہ ثانیہ کے بعد ظہور پذیر ہوں گے۔ ” واذا النفوس زوجت “ اور جب روحیں بدنوں سے ملا دی جائیں گی اور تمام مردے زندہ ہوجائیں گے یہ نفخہ ثانیہ کے بعد کے احوال میں سے پہلا حال ہے۔ ” واذا الموء ودۃ سئلت “ اور جب زندہ درگور لڑکی کے بارے میں اس کو زندہ دفن کرنے والے سے پوچھا جائے گا کہ اس کو کس جرم میں قتل کیا گیا۔ ” واذا الصحف نشرت “ اور…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–13

(نام و کوائف) اس سورة کا نام سورة تکویر ہے ۔ اس کی پہلی آیت میں کورت کا لفظ آیا ہے جس سے سورة کا نام تکویر ہے ۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ۔ اس کی انتیس 29 آیات ہیں ۔ یہ سورة ایک 104 سو چار الفاظ اور 5202 پانچ ہزار 2 حروف پر مشتمل ہے (موضوع اور گذشتہ سورة سے ربط) اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کا ذکر اس نسبت سے کیا ہے ۔ کہ کائنات کی ارضی اور سماوی اشیاء پر قیامت کے کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ سورة کے آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اور اسکی صداقت وحقانیت کا بیان ہے سابقہ کئی سورتوں میں قیامت کا ذکر مختلف انداز سے آرہا ہے۔ کہ قیامت کا اثر مختلف چیزوں پر کیا ہوگا۔ سورة عبس میں قیامت…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۝ 7 نفس الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه تعالیٰ إضافةُ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ۔ (التکویر : 7) (جبکہ نفوس کی جوڑیں ملائی جائیں گی۔ ) ظہورِ قیامت کے بعد کے احوال بعض اہل علم نے اس کا ترجمہ کیا ہے ” اور جب جانیں جسموں سے جوڑ دی جائیں گی۔ “ اس ترجمے کے لحاظ سے مفہوم بالکل واضح ہے کہ انسان ازسرنو اسی طرح زندہ کیے جائیں گے جس طرح وہ دنیا میں مرنے سے پہلے جسم و روح کے ساتھ زندہ تھے۔ لیکن ہم نے اوپر جو ترجمہ کیا ہے اس کے لحاظ سے اس کا مفہوم کچھ مختلف ہے۔ اور دونوں ترجموں میں یہ بات تو واضح ہے کہ یہاں سے وہ باتیں شروع ہورہی ہیں جن کا تعلق ظہورقیامت کے بعد کے احوال سے ہے جن میں نفوس کی تزویج بھی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ لوگوں کی اعمال و عقائد کے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 7–9

فہم القرآن ربط کلام : قیامت کے دوسرے مرحلے کی ابتدا۔ ہر شخص اس حقیقت کو جانتا ہے کہ جب انسان کی روح اس کے قفس عنصری سے نکل جاتی ہے تو انسان کا جسم کسی قسم کی تکلیف محسوس نہیں کرتا، جب جسم میں روح ہوتی ہے تو انسان کا نٹا چبھنے سے بھی تڑپ اٹھتا ہے۔ روح نکل جانے کے بعد انبیاء کرام (علیہ السلام) کے اجسام کے سوا ہر انسان کے جسم کو مٹی کھا جاتی ہے اِلّا یہ کہ جس کے جسم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے۔ عالم برزخ میں صرف روح کو ہی اذّیت یا راحت پہنچتی ہے۔ جونہی اسرافیل دوسری مرتبہ صور پھونکے گا تو اللہ کے حکم سے ہر انسان کا جسم اپنی حالت میں آجائے گا اور اس میں روح ڈال دی جائے گی۔ جسے یوں بیان کیا ہے کہ جب…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

7 : وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ( اور جب ایک ایک قسم کے لوگ اکٹھے کیے جائیں گے) ہر نفس کو اس کے ہم جنس سے ملا دیا جائے گا۔ نیک کو نیک کے ساتھ جنت میں اور بروں کو بروں کے ساتھ آگ میں۔ نمبر 2۔ ارواح کو اجساد سے ملا دیا جائے گا۔ نمبر 3۔ نفوس کو ان کے اعمال ناموں اور اعمال سے ملا دیا جائے گا۔ نمبر 4۔ نفوس مؤمنین کو حور العین اور کفار کو شیاطین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

6 ۔” واذا البحار سجرت “ اہل مکہ اور اہل بصرہ نے تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی حضرات نے تشدید کے ساتھ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں ان کو بھڑکایا جائے گا۔ پس وہ شعلے مارتی آگ بن جائیں گے۔ مجاہد اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں یعنی میٹھے سمندر کو کھا رہے میں ملادیاجائے گا تو تمام سمندر ایک سمندر بن جائیں گے اور کلبی (رح) فرماتے ہیں بھردیئے جائیں گے۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے قول ” والبحر المسجور “ کا معنی ہے ” المسجور “ بھرا ہوا اور کہا گیا ہے ان تمام کے پانی سے ایک سمندر بن جائے گا گرم کھولتے ہوئے پانی کا اہل نار کے لئے اور حسن (رح) فرماتے ہیں خشک کردیئے جائیں گے اور یہی قتادہ (رح) سے روایت ہے چھ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سورج اور چاند کو لپیٹ کر دوزخ میں ڈال دیا جائے گا اس حدیث کی شرح میں علماء نے لکھا ہے کہ دنیا میں بعض لوگ سورج اور چاند کو پوجا کرتے ہیں ان کے ذلیل کرنے کے لئے سورج اور چاند کو دوزخ کی آگ میں جھونکا جائے گا۔ مسند امام احمد ترمذی 2 ؎ مستدرک حاکم طبرانی وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر سے جو روایتیں ہیں ان کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کو یہ منظور ہو کہ قیامت کو دنیا میں بھی اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لے تو اس کو چاہئے کہ اذا الشمس کورت و اذا السماء انفطرت و اذالسماء انشقت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ ) اور جب روحیں ملا دی جائیں گی یعنی ہر صاحب عمل کو اسی جیسے صاحب عمل کا ساتھی بنادیا جائے گا پس ابرابر کو ابرار کے ساتھ، فجار کو فجار کے ساتھ جمع کردیا جائے گا اہل ایمان کو حوروں کے ساتھ جوڑے جوڑے بنادیا جائے گا اور کفار کو شیاطین کے ساتھ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے مانند ہے (وسیق الذین کفروا الی جھنم زمرا۔ الزمر 71) اور کفار کو گروہ درگروہ بنا کر جہنم کی طرف لے جایا جائے گا۔ (وسیق الذین اتقوا ربھم الی الجنۃ زمرا۔ الزمر 73) ۔ اور ان لوگوں کو جو اپنے رب سے ڈرتے رہے، گروہ گروہ بنا کر جنت کی طرف لے جایاجائے گا۔ (احشروالذین ظلموا وازواجھم۔ الصافات 22) ان لوگوں کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 7–10

(7) ظہور قیامت کے بعد کے احوال کا ذکرو بیان : سو اوپر کی آیات کریمہ میں ان احوال کو بیان فرمایا گیا جو ظہور قیامت کے وقت اور اس موقع پر پیش آئیں گے، اور اب اس آیت کریمہ میں اور اس کے بعد والی آیات کریمہ میں ان امور و احوال کا ذکرو بیان فرمایا جارہا ہے جو ظہور قیامت کے بعد پیش آئیں گے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور جب جوڑ دیا جائے گا جانوں کو اپنے اپنے اجسام کے ساتھ، اور سب لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے، نیز انہیں اپنے اپنے ہم جنسوں اور ہم مشربوں کے ساتھ جوڑ کر گروہ در گروہ کردیا جائے گا، نیک نیکوں کے ساتھ ملکر جنت میں چلے جائیں گے، اور وہاں کی سدا بہار نعمتوں سے محظوظ ہوں گے، اللہ پاک ہم سب کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–14

قیامت کیسی ہوگی ؟ اور بعد میں کیا ہوگا ؟ تشریح : آیت 1 سے 6 تک قیامت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔ جس میں نظام کائنات کے درہم برہم ہونے میں اجرام سماوی کا ذکر ہے۔ '' کُوّرت '' تکویر سے ہے یعنی لپیٹا جانا مطلب یہ ہے کہ سورج اپنی موت کو پہنچ کر بےنور مردہ ہوجائے گا۔ جس کی وضاحت ڈاکٹر دلدار صاحب یوں کرتے ہیں۔ '' جب ستارے کا ایندھن (ہائیڈروجن) ختم ہوجاتا ہے تو وہ ٹھنڈا ہونے لگتا ہے۔ چناچہ کشش ثقل حر کی توانائی پر غالب آجاتی ہے۔ اور ستارہ سکڑنے لگتا ہے اور بالآخر موت سے ہمکنار ہوجاتا ہے۔ ستاروں کی موت مندرجہ ذیل تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت کی طرف لے جاتی ہے۔ 1 ۔ سفید بونا White Dwosf 2 ۔ نیوٹران ستارہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–29

سورة التکویر۔ آیات 1 تا 29۔ اسرار ومعارف۔ جب سورج بےنور ہوجائے گا اور ستارے ٹوٹ کر گرجائیں گے اور جب پہاڑ اکھیڑ کر اڑادیے جائیں گے اور لوگوں کو مال و دولت بھول جائے گا کہ عربوں کے نزدیک دس ماہ کی گابھن اونٹنی سب سے قیمتی اثاثہ سمجھی جاتی ہے ہر وقت دم کے ساتھ لگے پھرتے تھے کہ صحرا میں اس کادودھ نعمت غیر مترقہ ہوتا تھا مگر وہ بھی آوارہ پھر رہی ہوں گی یعنی لوگوں کو مال وزر کا ہوش نہ رہے گا اور نفخہ اولی سے گھبرا کر جنگلی جانور اور درندے آبادیوں میں آگھسیں گے اور دریا سمندر میں مل جائیں گے کہ زمین شق ہوجائے گی اور پھر ان میں اجرام فلکی گریں گے تو بھاپ بن کر اڑجائیں گے اور پھر فضا میں وہ بھاپ آگ…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یا یہ مطلب ہے کہ جنت میں نیکیوں کو نیکوں کے ساتھ اور دوزخ میں بدوں کو بدوں کے ساتھ جو ڑدیا جائے۔ وغیرذلک۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(81:7) واذا النفوس زوجت : عطف علی آیۃ نمبر 1 ۔ النفوس جمع ہے النفس کی اشخاص ، لوگ۔ زوجت ماضی مجہول واحد مؤنث غائب ، تزویج (تفعیل) مصدر سے۔ اس کا جوڑا ملا دیا جائے گا۔ تزویج کے معنی ہیں ایک شے کا دوسری شے کی جفت و قریں کردینا۔ اسی اعتبار سے مرد اور عورت کے عقد کرنے کے معنی بھی آتے ہیں ۔ بیہقی (رح) نے حضرت نعمان بن بشیر ؓ کے حوالہ سے حضرت عمر بن خطاب ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ :۔ آیت اذا النفوس زوجت میں وہ شخص مراد ہیں جو ایک ہی کام کیا کرتے تھے جس کی وجہ سے دونوں جنت یا دوزخ میں چلے جائیں گے۔ امام راغب (رح) نے تین قول نقل کئے ہیں :۔ (1) ہر گروہ کو اس کے گردہ کے ساتھ جنت یا دوزخ میں ملا دیا جائے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–29

لغات القرآن۔ کورت۔ لپیٹ دے گیا۔ انکدرت۔ ماند پڑگئی۔ (پڑ گئے) سیرت۔ چلا دی گئی۔ العشار۔ گابھن اونٹنیاں۔ عطلت۔ چھٹ کر پھری۔ الوحوش (وحش) ۔ جنگلی جانور۔ حشرت۔ آپس میں گڈ مڈ ہوجائیں۔ سجرت۔ جھونکے گئے۔ زوجت۔ جوڑے جوڑے بنا دئیے گئے۔ الموئو دۃ ۔ زمین میں گاڑدی گئی لڑکی۔ سئلت۔ پوچھا گیا۔ الصحف۔ اعمال نامے۔ نشرت۔ پھیلا دئیے۔ کشطت۔ پرت کے پرت اتا رلئے گئے۔ کھال کھینچ لی گئی۔ سعرت۔ بھڑکائی گئی۔ ازلف۔ قریب کردی گئی۔ احضرت۔ وہ لے کر حاضر ہوا۔ الخنس۔ پیچھے ہٹ جانے والے۔ الکنس۔ چھپ جانے والے۔ عسعس۔ پھیل گیا۔ تنفس۔ روشن ہوا۔ مکین۔ مرتبہ والا۔ مطاع۔ جس کی اطاعت کی جائے۔ کہا مانا جائے۔ الافق۔ کنارہ۔ بضنین۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) یعنی کافر کافر کے اور مسلم مسلم کے ساتھ پھر ہر قسم کا نیک یابدعمل کرنے والا، اپنے جیسے عمل کرنے والوں کے ساتھ ملادیا جائے اور عقائد اعمال اخلاق وغیرہ کے اعتبار سے الگ جماعتیں بنادی جائیں، یا یہ مطلب ہے کہ روحوں کو جسموں کے ساتھ ملادیاجائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–8

[4] یعنی انسانوں کو دوبارہ اسی طرح زندہ کیا جائے گا جس طرح وہ دنیا میں مرنے سے پہلے جسم و روح کے ساتھ زندہ تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–7

واذا العشارعطلت سے غرض یہ ہے کہ وہ وقت اتنا ہولناک ہوگا کہ چوپایہ کی وہ قسم جو مالک کو بہت عزیز ہوتی ہے ، وہ اس سے بھی بےپرواہ ہوجائیگا ۔ واذالوحوش حشرت یعنی وحشی جانور بھی گھبراجائیں گے اور مارے وحشت اور اضطراب کے جنگلوں میں جمع ہونے شروع ہوجائیں گے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(7) اور جب لوگوں کو اپنے اپنے ہم مشربوں کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا - نفوس کی باہمی ترویج کے کئی معنی کئے گئے ہیں مثلاً مسلمانوں کو مسلمانوں کے ساتھ اور کافروں کو کافروں کے ساتھ یا ہر شخص کو جوڑ اس شخص سے لگایا جائے گا جس سے وہ دنیا میں محبت کرتا تھا یا یہ کہ ہر شخص اپنیہم مذہب اور اپنی ملت کے ساتھ جوڑ دیا جائے گا۔ یہودی یہودیوں کے ساتھ، نصرانی نصرانیوں کے ساتھ مسلم مسلمانوں کے ساتھ، کافر کافروں کے ساتھ یا شیاطین کے ساتھ۔ حضرت عمر ؓ نے ایک دفعہ ممبر پر فرمایا وہ دو شخص جو دنیا میں ایک سا عمل کیا کرتے تھے وہ عمل جنتیوں کے ہوں یا دوزخیوں کے یعنی دوزخی دوزخی کے ساتھ جنتی جنتیوں کے ساتھ بعض نے کہا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–21

ف 2۔ یعنی فرشتے اس کا کہنا مانتے ہیں۔ 3۔ امانت دار ہے کہ وحی کو صحیح صحیح بےکم وکاست پہنچا دیتا ہے، پس وحی لانے والا تو ایسا ہے، آگے جن پر وحی نازل ہوئی ان کی نسبت ارشاد ہے کہ۔ (آگے دیکھو ترجمہ)

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اور جب تمام لوگ جمع کردیئے جائیں گے 7 ؎ ( النفوس) جمع النفس واحد اشخاص ، لوگ ( زوجت) اس کا جوڑ ملا دیا گیا ۔ تزویج سے جس کے معنی ایک شے کے ساتھ دوسری شے کے جفت و قرین کرنے کے لیے ہیں اور اس اعتبار سے مرد اور عورت میں عقد کرنے کے معنی آتے ہیں ۔ ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ آیت زیر نظر کے متعلق امام رازی اور امام راغب نے تین احتمالات کا ذکر کیا ہے : (1) ہر گروہ کو اس کے گروہ کے ساتھ جنت یا دوزخ میں ملا دیا جائے گا۔ (2) اور داح کو اجاد کے ساتھ ملا دیا جائے گا ۔ (3) نفوس کو اپنے اعمال کے ساتھ ملا دیا جائے گا ۔ مطلب یہ ہے کہ دنیاوی گروہ بندیاں توڑ کر انسانوں کے اعمال و اخلاق کے مطابق انسانوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَإِذَا النُّفُوسُ زُوِّجَتْ (and when the people will be arranged in categories...81:7). It means that the people on the Plain of Gathering will be grouped, like with like, in terms of belief and deeds. Disbelievers will be grouped together and believers will be grouped together. There are differences between the deeds and habits of believers and there are differences between the deeds and habits of disbelievers. The non-believers will be regrouped according to their essential characteristics and the Muslims too will be regrouped according to their essential characteristics as is reported in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

7 From here begins mention of the second stage of Resurrection. 8 That is, men will be resurrected precisely in the state as they lived in the world before death with body and soul together.

Read the full tafseer →