Ayahs 81:1–61۔ یعنی ان کا پانی آگ اور بھاپ میں تبدیل ہوجائے، یہ سارے واقعات و کیفیات صور قیامت کے نفخہ اول کے بیان ہورے ہیں۔ عالم کائنات جو اس وقت تک آباد ہوگا، صور کی پہلی آواز پر یوں ہلاک وبرباد ہونا شروع ہوگا۔ اور اس کی بڑی بڑی مضبوط ومستحکم موجودات یوں درہم وبرہم اور ریزہ ریزہ ہونا شروع ہوں گی۔ (آیت) ” اذا الشمس کورت “۔ یعنی کرۂ آفتاب کی لمبی لمبی شعاعیں جو سارے علم کو منور کرتی رہتی ہیں، لپیٹ کر رکھ دی جائیں یا بےنور ہوجائیں، جس سے عالم تیرہ وتار ہوجائے۔ آفتاب جو محسوسات ومرئیات میں آسمان ہی کی طرح اعظم ترفین مخلوق ہے، جب وہ فناء پر مجبور ہوجائے تو پھر دوسری اور اس سے ادنی مخلوقات کا کیا ذکر ہے ! آفتاب کی فناء پذیری کی تصریح میں ضرب آفتاب پرستی پر بھی ہے۔ (آیت) ” اذا النجوم انکدرت “۔ ستارے تو نور مجسم سمجھے جاتے ہیں، اور شب کے وقت سارے عالم کو منور کرنے والے، وہ تک صور قیامت کے وقت پیلے اور بےنور ہوجائیں گے، ان کا نور سلب ہوجائے گا، اور وہ نہ کسی کو روشن کرسکیں گے، نہ خود روشن رہ سکیں گے۔ ستاروں کی بےنوری اور بےبسی کی تصریح میں ضرب ستارہ پرستی پر بھی ہے۔ (آیت) ” واذا الجبال سیرت “۔ پہاڑ جو دنیا والوں اور زمینی مخلوق کی نظر میں ثبات و استحکام کھودیں گے (آیت) ” واذا العشار عطلت “۔ عشار ان اونٹنیوں کو کہتے ہیں جو دس مہینے کی حاملہ اور وضع حمل کے قریب ہوں، عرب میں ان کی بڑی ہی قدروقیمت تھی تو آیت کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہلچل ایسی سخت ہو کہ اتنی قیمتی اور قابل قدر جنس کا بھی کسی کو ہوش نہ رہے، اور مخلوق میں یکسرنفسی نفسی پڑجائے، (آیت) ” واذا الوحوش حشرت “۔ یعنی جب انتہائی اضطراب واضطرار میں وحشی جانور تک ایک دوسرے کی دشمنی بھول بھال باہم گڈمڈ ہوجائیں۔ ایک ہلکے پیمانہ پر اس کا نمونہ آج بھی دیکھنے میں آسکتا ہے، جب شدید طغیانی وسیلاب میں سانپ انسان کے ساتھ بہتا بہاتا اپنی زہریلی فطرت بھولا ہوا نظر آتا ہے۔ آیت کے یہ معنی لینا، کہ ” جس زمانہ میں جانوروں کے عجائب خانے کھلنے لگیں “ قرآن حکیم پر ظلم اور اپنی فہم و استعداد کے ساتھ تمسخر ہے۔
Ayah 81:72۔ مثلا مومن مومن اکٹھے کردیئے جائیں اور کافر کافر۔ واقعات فناء کے بعد اب صور کے نفخہ ثانی کے بعد، خلق کی آفرینش ثانی کا بیان ہورہا ہے۔
Ayahs 81:8–93۔ سوال سے مقصود ناخدا ترس ظالموں پر مزید حجت قائم کرنا ہوگا۔ (آیت) ” موء دۃ “۔ وہ لڑکی ہے جو زندہ دفن کردی جائے۔ شرفاء عرب کے مختلف قبیلوں میں یہ رسم کثرت سے پھیلی ہوئی تھی، ہندوستان کے راجپوتوں اور دوسری قوموں میں اور دوسرے ملکوں میں بھی یہ رواج رہا ہے۔ اور اسی کی ذرا ہلکی شکل آج ” منع حمل “۔ ” کنڈراسپشن “ ، ” برتھ کنٹرول “ وغیرہ کے خوشنما ناموں سے بڑے بڑے مہذب ملکوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ بعض محققین نے کہا ہے کہ دوسرے معاصی کو چھوڑ کر اس کا ذکر آثار قیامت واہوال حشر میں کرنے سے اشارہ یہ نکلتا ہے کہ سب سے پہلے پرسش خون کی ہوگی، اور خون کے مقدمات میں اس دفعہ کے مجرم سب سے پہلے پیش ہوں گے۔ فقہاء نے تصریح کی ہے کہ مواخذہ مساوی ہے، چاہے لڑکی اس طرح زندہ دفن کی جائے چاہے لڑکا۔ صیغہ مؤنث صرف اس لیے استعمال ہوا ہے کہ عرب میں دستور لڑکی ہی کے دفن کا تھا۔ (آیت) ” سئلت “ بعض اہل ذوق نے لکھا ہے کہ یہاں بجائے قاتل کے خود مقتولہ سے خطاب کرنے میں اشارہ نکلتا ہے کہ وہ مردود قابل خطاب بھی نہیں۔ ھو توبیخ لقاتلھا بصرف الخطاب عنہ (مدارک) فقہاء مفسرین نے آیت سے یہ دو مسئلے بھی نکالے ہیں، ایک یہ کہ مشرکوں کے بچوں پر عذاب نہ ہوگا۔ دوسرے یہ کہ کسی پر عذاب بغیر صدور گناہ کے نہیں ہوتا۔ وفیہ دلیل علی ان اطفال المشرکین لایعذبون وعلی ان التعذیب لایکون بلا ذنب (مدارک)
Ayah 81:104۔ (کہ لوگ اپنے اپنے عمل اپنے نامہ اعمال میں دیکھ لیں) آیت کے یہ معنی کرنا کہ ” جب اخبارات ورسالے شائع ہونے لگیں “۔ اپنے جہل محض کا پر دوہ اپنے ہاتھ فاش کرنا ہے۔
Ayahs 81:11–145۔ (اور یہ علم ایسا یقینی اور قطعی ہوگا کہ اس کے بعد کسی مزید قیل وقال چون وچرا کی گنجائش ہی نہیں رہے گی، اور ہر شخص کو اپنا انجام سامنے نظر آئے لگے گا) (آیت) ” واذا لسمآء کشطت “۔ لفظی معنی یہ ہیں کہ جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے، مراد یہ کہ مراد یہ کہ جب آسمان کے اوپر کی چیزیں بھی بےپردہ نظر آنے لگیں۔ (آیت) ” واذا الجحیم سعرت “۔ جہنم تو آج بھی دہکی ہوئی ہے، اس وقت اور زیادہ دہکادی جائے گی، (آیت) ” واذا الجنۃ ازلفت “۔ یعنی اس وقت خود جنت اہل جنت کے بالکل قریب لے آئی جائے گی ،
Ayahs 81:15–206۔ (اور اس کے لائے ہوئے کلام میں یہ شبہ بھی نہیں ہوسکتا کہ شیطانی تصرف ہوا ہو، یا کہانت کی آمیزش کہیں سے ہوگئی ہو) ان صفات والے سے مراد فرشتہ وحی حضرت جبرئیل ہیں، جن کا ذکر سورة والنجم میں گزر چکا ہے ، (آیت) ” علمہ شدیدا القوی “۔ الخ، کے تحت میں (آیت) ” رسول “۔ یہ لفظ خود بتا رہا ہے کہ اسے کہیں کلام جبرئیل نہ خیال کرلینا، ان کی حیثیت اس کلام کے سلسلہ میں تو محض قاصد کی ہے۔ یہ اوصاف جبرائیلی جو بیان ہوئے ہیں ان سے معلوم ہوا کہ فرشتہ وحی منصب رسالت کا پوری طرح متحمل اور اسرار وانوار کا ہر طرح محافظ ہے۔ (آیت) ” عند ذی العرش مکین “۔ عنہ یہاں قرب جسمانی کے لیے نہیں کہ حق تعالیٰ ہر جسمانیت ومکانیت سے برتر ہیں، بلکہ مراد محض قرب قبول اور بلندی مرتبہ ہے، و ھذہ العندیۃ لیست عندیۃ المکان ولیست عندیۃ الجھۃ بل عندیۃ الاکرام والتشریف والتعظیم (کبیر) عند لفظ موضوع للقرب فتارۃ یستعمل فی الزلفی والمنزلۃ (راغب) اور یہ قرب خاص خود اس کا مستلزم ہے کہ پیام رسانی وحی میں امکان نہ سہو کا رہا نہ غلطی کا نہ غفلت کا۔ آیت کا حاصل یہ نکلا کہ فطرت کے فلاں فلاں زبر دست آثار ومظاہر خود اس کی دلیل ہیں کہ یہ کلام حق تعالیٰ ہی کا ہے۔ قرآنی قسموں کے لیے ملاحظہ ہو سورة الحجر، پ 14 کا ضمیمہ۔ (آیت) ” الخنس “۔ یہ وہ سیارے ہیں جو سیدھے چلتے چلتے پیچھے کی طرف چلنے لگتے ہیں۔ اصطلاح فلکیات میں انہیں خمسہ متحیرہ کہتے ہیں۔ اور ان کے نام (1) زحل ، (2) مشتری (3) عطارد (4) مریخ۔ اور (5) زہرہ ہیں۔ یہ سب دیوی دیوتا بھی متعدد مہذب جاہلی قوموں میں مانے گئے ہیں۔ (آیت) ” الجوارالکنس “۔ یہ وہ سیارے ہیں۔ جو پیچھے ہی کی طرف چلتے رہتے ہیں، اور پیچھے ہی چلتے چلتے اپنے مطلع میں جا چھپتے ہیں۔
Ayah 81:217۔ یہ قرآن کا لانے والا فرشتہ جب ان اوصاف کا مالک ہے تو نہ یہ ممکن ہے کہ خود اس کی طرف سے کوئی خیانت ہوئی ہو، اور نہ یہ ممکن ہے کہ کسی خارجی ذریعہ سے اس کلام میں کہانت کی آمیزش ہو۔ یہ سب ان منکرین کے جواب میں ارشاد ہورہا ہے جو رسول اللہ ﷺ کو (نعوذ باللہ) کاہن سمجھ رہے تھے اور قرآن کو آپ ﷺ کا کلام۔ (آیت) ” مطاع “۔ یعنی فرشتہ وحی حضرت جبرئیل تو فرش میں بھی سروری، سرداری کا مرتبہ رکھتے ہیں۔ اے فی السموت یطیعہ من فیھا اوعند اللہ یطیعہ ملائکۃ المقربون یصدرون عن امرہ ویرجعون الی رأیہ (مدارک) (آیت) ” امین “۔ اس وصف سے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہوگیا کہ ان کی پیام رسانی میں ادنی دخل بھی خیانت کو نہیں، نہ لفظا نہ معنی، نہ سہوا نہ عمدا۔
Ayah 81:228۔ یہ ان منکرین کے جواب میں ہے۔ ، جو پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کو (نعوذ باللہ) مجنون قرار دے رہے تھے۔ صاحب۔ یعنی ساتھی سے مراد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک ہے۔ لفظ خود اس حقیقت کی طرف اشارہ کررہا ہے کہ وہ ہر وقت تمہارے ساتھ کے رہنے سہنے والے ہیں، ان کی ساری زندگی تمہارے سامنے ہے۔ کہیں کوئی بھی شائبہ جنون ان کی سیرت اقدس کے کسی شبہ میں پایا جاتا ہے ؟
Ayah 81:239۔ (جس میں کسی دھوکے یا اشتباہ کا امکان نہیں) منکرین کے جواب میں گویا قرآن کا استدلال یہ ہوا کہ یہ قرآن جو تمہیں پہنچ رہا ہے۔ بجنسہ اور لفظ بلفظ کلام الہی ہے، اللہ سے رسول تک اس کا پہنچانے والا ایک معزز متدین، پر قوت فرشتہ ہے، اس کی پیامبری میں کسی خلط کا امکان نہیں، اور فرشتہ سے تم تک منتقل کرنے میں واسطہ رسول کا ہے۔ یہ واسطہ بجائے خود ہر قسم کے شک و اشتباہ سے ماوراء ہے، عام بندوں تک قرآن پہنچنے کے واسطے یہی دونوں ہیں، فرشتہ اور پیغمبر، اور یہ دونوں اعتماد واستناد کے انتہائی نقطہ پر ہیں۔ (آیت) ” الافق المبین “۔ سے مراد آسمان کا بلند کنارہ ہے۔ ملاحظہ ہوں سورة والنجم “ کی آیات متعلقہ کے حاشیے۔ (آیت) ” ولقد راہ “۔ محدثین کے ہاں روایت حدیث میں جو شرط لقاء کی ہے، اسے بعض نکتہ رس فاضلوں نے یہیں سے اخذ کیا ہے۔
Ayah 81:2410۔ کہ کچھ پیام پہنچائیں اور کچھ چھپاجائیں) ایک امکانی شبہ کا ملیت قرآن میں یہ بھی ہوسکتا تھا۔ اسے قرآن نے یوں رفع کردیا۔ بعض محدثین عارفین نے یہ اشارہ یہیں سے اخذ کیا ہے کہ راؤی حدیث دوسرے تک کلام رسول کا سنانا پہنچانا اپنے اوپر لازم سمجھے اور اس میں بخل نہ کرے۔
Ayahs 81:25–2611۔ (کہ ایسی سیدھی سی بات کو چھوڑ کر ادھر ادھر بھٹک رہے ہو) اوپر بیان یہ تھا کہ نزول قرآن کے جو دو واسطے ہیں، یعنی ایک فرشتہ وحی اور دوسرے پیغمبر اسلام (علیہ السلام) ، یہ دونوں حد درجہ مضبوط، مستحکم وناقبل اشتباہ ہیں، اب بیان اس کا ہے کہ اپنی اصل اور ماخذ کے لحاظ سے بھی قرآن سرتاسر حق ہی ہے۔
Ayahs 81:27–2812۔ مطلب یہ کہ اس ہمہ گیر وہر جہتی دستور العمل کے مخاطب تو سب ہی ہیں۔ البتہ فائدہ اس سے وہی اٹھا سکتے ہیں۔ جو خود فائدہ اٹھانا چاہیں بھی، حصول نفع کے لیے قصد انتفاع لازمی ہے۔ (آیت) ” ذکر للعلمین “۔ میں پھر ایک بار اس حقیقت کا اعلان ہے کہ اسلام کا پیام عالمگیر ہے یہ کسی قبیلہ کا، قوم کا، یا نسل کا مخصوص و محدود دین نہیں۔ (آیت) ” لمن ..... یستقیم “۔ پورا فقرہ بدل ہے للعلمین کا۔ وھو بدل من العلمین (کبیر)
Ayah 81:2913۔ یہاں اس حقیقت کا ایک بار پھر اعادہ کردیا کہ بندہ کا ارادہ مطلق العنان اور مستقل بالذات نہیں ہوتا، بلکہ ارادۂ ربوبیت مطلق کے تابع وماتحت ہوتا ہے۔ یہ ان باطل مذہبوں اور فرقوں کی تردید میں ہے جنہوں نے ارادۂ انسانی کو تمامتر آزاد اور غیر مقید سمجھا ہے۔