81. Surah At-Takwir

التكويرThe Overthrowing · 29 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 81:1

اِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:1 in the Quran reader

جب سورج بےنور ہوجائے

1۔ احمد والترمذی وابن المنذر والحاکم وصححہ ابن مردوی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو یہ بات خوش لگے کہ وہ قیامت کی طف اس طرح دیکھے گویا کہ وہ اسے سامنے دیکھ رہا ہے تو اس کو چاہیے کہ یہ سورتیں پڑھ لے اذا السمس کورت۔ اور اذا السماء النفرطرت۔ اور اذا اسلماء انشقت۔ 2۔ ابن ابی شیبہ نے المصنف میں ومسلم وابن ماجہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں عمرو بن حوشب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فجر کی نماز میں آیت ولیل اذا عسعس پڑھی۔ 3 ا۔ ابن جریر وابن لمنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کہ آیت اذا لشمس کورت جب سورج کی روشنی لپیٹی جائے یعنی اندھیرا ہوجائے آیت واذا لنجوم النکدرت اور جب ستارے گرجائیں یعن متغیر ہوجائیں گے آیت واذا لموء و دۃ سئلت۔ اور جب زندہ درگو لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ یعنی وہ سوال کرے گی۔ 4۔ ابن المنذر نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا الشمس کورت یعنی جب سورج کو لپیٹ لیا جائے گا۔ قیامت کا ہولناک منظر۔ 5۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا الشمس کورت یعنی جب سورج لپیٹ دیا جائے آیت واذا لنجوم اکندرت جب ستارے بکھر جائیں گے آیت واذا الجبال سیرت اور جب پہاڑ چلائے جائیں یعنی اپنی جگہ سے چلے جائیں گے آیت واذا العشار عطلت۔ اور جب گابھن اونٹنیاں میں العشار سے مراد ہیں اونٹ آیت عطلت چھوڑدی جائیں یعنی ان کا کوئی چرانے وال انہ ہوگا آیت واذا البحار سجرت اور جب سمندر جوش دئیے جائیں گے یعنی بھڑکا دئیے جائیں گے آیت واذا النفوس زوجت اور جب جانیں جسموں سے ملائی جائیں۔ یعنی یہ مثالیں ہیں لوگوں کے لیے کہ ان کو آپس میں جمع کیا جائے گا۔ آیت واذا السماء کشطت۔ اور آسمان کا پوست اتارا جائے۔ یعنی جب آسمان کو کھینچ لیا جائے گا۔ 6۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے آیت اذا لشمس کورت کے بارے میں روایت کیا کہ فارسی زبان میں اس کا معنی ہے لپیٹنا۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت کورت یعنی لپیٹ دیا گیا۔ یعقوب (رح) نے فرمایا کہ فارسی زبان میں اس کا معنی کور یہود۔ یعنی یہود نے لپیٹا۔ 8۔ ابن ابی حاتم والدیلمی نے ابو مریم ؓ سے روایت کیا کیا کہ نبی صلی اللہ آیت اذا لشمس کورت یعنی جب سورج کو وہ جہنم میں لپیٹ دیا جائے گا آیت واذا النجوم انکدرت جب ستارے جہنم میں بکھر جائیں گے اور اللہ کے علاوہ جس کی عبادت کی گئی وہ بھی جہنم میں ہوگا۔ مگر جو عیسیٰ بن مریم اور اس کی ماں کی عبادت کرنے والا تھا اور اگر وہ دونوں راضی اس پر راضی ہوتے کہ ان کی عبادت کی جائے تو یقیناً وہ دونوں بھی اس جہنم میں داخل ہوتے۔ 9۔ ابن ابی الدنیا فی الاہوال وابن ابی حاتم والشیخ نے العظمہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اذا الشمس کورت سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سورج کو اور چاند کو اور ستاروں کو لپیٹ کر جہنم میں پھینک دیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ دبور ہوا کو بھیجیں گے جس سمندر کو بھڑکائے گی یہاں تک کہ سمندر بہت بڑی آگ بن جائیں گے۔ 10۔ بخاری نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا سورج اور چاند کو قیامت کے دن لپیٹ دیا جائے گا بزار نے اپنی مسند میں یہ زیادہ کیا کہ ان کو آگ میں لپیٹ دیا جائے گا۔ 11۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ جو نشانیاں اس سورت سے دنیا سے متعلق ہیں اور لوگ ان کی طرف دیکھیں گے۔ اور چھ نشانیاں آخرت سے متعلق ہیں آیت اذالشمس کورت سے آیت واذا البحار سجرت۔ تک یہ علامات دنیا میں ظاہر ہوں گی اور لوگ ان کی طرف دیکھیں گے۔ آیت واذا لنفوس زوجت اور واذا الجنۃ ازلفت اور یہ نشانیاں آخرت میں پائی جائیں گی۔ قیامت کے دن کی کی چھ نشانیاں 12۔ ابن ابی الدنیا فی الاہوال وابن جریر وابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ چھ نشانیاں قیامت کے دن سے پہلے لوگوں کے درمیان میں ان کے بازاروں میں ہوں گی۔ اچانک سورج کی روشنی ختم ہوجائے گی۔ اس درمیان کہ وہ لوگ اسی طرح ہوں گے۔ اچانک پہاڑ زمین پر گرپڑیں گے۔ وہ متحرک ہو کر مضطرب ہوجائے گی۔ اور ایک دوسرے سے مل جائے گی اس حال میں جنات انسانوں کی طرف انسان جنات کی طرف گھبرا کر جائیں گے۔ اور چوپائے اور پرندے اور وحشی جانور آپس میں خلط ملط ہوجائیں گے اور مضطرب ہو کر بھاگنے لگیں گے۔ آیت واذا الوحوش حشرت اور جب جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے۔ یعنی آپس میں مل جائیں گے آیت واذا لبحار سجرت اور جب سمندر جوش دئیے جائیں گے۔ یعنی انسان اور جنات کہیں گے کہ ہم تمہارے پاس خبر لائے ہیں سو تم سمندر کی طرف چلو۔ وہاں ایک آگ بھڑک رہی ہے۔ لوگ اسی حال میں ہوں گے اچانک زمین ایک زور دار دھماکہ کے ساتھ ساتویں زمین تک اور ساتویں آسمان تک پھٹ جائے گی۔ وہ اسی حال میں ہوں گے۔ اچانک ان کے پاس ایک ہوا آئے گی اور ان کو مار دے گی۔ 13۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا الشمس کورت سے مراد ہے سورج کو جھکا دیا جائے گا یعنی الٹا کردیا جائے گا۔ 14۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا لشمس کورت سے مراد ہے کہ سورج کو نیست ونابود کردیا جائے گا۔ 15۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا الشمس کورت یعنی جب سورج کی روشنی ختم ہوجائے گی۔ آیت واذالنجوم انکدرت۔ یعنی جب ستارے گرپڑیں گے۔ آیت واذا لوحوش حشرت۔ یعنی ان کا حشر ان کی موت ہوگی۔ آیت واذا البحار سجرت۔ جب سمندروں کا پانی ختم ہوجائے گا۔ یعنی ان کا پانی نیچے چلا جائے گا۔ فرمایا آیت سجرت اور فجرت دونوں معنی کے اعتبار سے برابر ہیں یعنی دونوں کا معنی ایک ہے۔ آیت واذالنفوس زوجت یعنی جب روحوں کو جسموں سے ملادیا جائے گا۔ 16۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا الشمس کورت یعنی جب سورج کی روشنی جاتی رہے گی اور اس کے لیے کوئی روشنی باقی نہ رہے گی۔ آیت واذا النجوم انکدرت جب ستارے نیچے گرجائیں گے اور بالکل بوسیدہ ہوجائیں گے۔ آیت واذا العشار عطلت یعنی جب دس ماہ کی گابھن اونٹنیوں کو ان کے مالک چھوڑدیں گے ان پر ایسی کیفیت طاری ہوگی جو انہیں ان سے غافل کردے گی کہ نہ ان تک پہنچا جائے گا اور نہ ان کو دوہا جائے گا۔ حالانکہ دنیا میں ان کے نزدیک ان سے بڑھ کر کوئی پسندیدہ مال نہ تھا۔ آیت واذا الوحوش حشرت بیشک یہ مخلوق قیامت کے دن اکٹھی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان جو چاہیں گے فیصلہ فرمائیں گے آیت واذالبحار سجرت۔ یعنی سمندروں کا پانی ختم ہوجائے گا ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا۔ آیت واذا النفوس زوجت۔ فرمایا کہ ہر انسان کو اس کے گروہ کے ساتھ ملادیا جائے گا یعنی یہودی کو یہودیوں کے ساتھ اور نصرانی کو نصرانیوں کے ساتھ آیت واذا الموء و دۃ سئلت اور ایک قراءت میں ہے آیت بای ذنب قتلت۔ یعنی زندہ درگور کی ہوی بچی کو کس گناہ کے سبب قتل کیا گیا زمانہ جاہلیت کا کوئی آدمی اپنی بچی کو قتل کردیا کرتا اور اپنے کتے کو غذا دیتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان کے عیب کے طور پر بیان فرمایا آیت واذا الصحف نشرت اور جب اعمال نامے کھل جائیں گے۔ یعنی اے ابن آدم تیرا اعمال نامہ میں جو کچھ وہ اس میں املا کرایا جاتا ہے پھر اسے لپیٹ دیا جاتا ہے۔ پھر قیامت کے دن اسے تیرے اوپر کھول دیا جائے گا۔ اور آدمی وہ سب دیکھ لے گا جو کچھ اس نے اپنے اعمال نامے میں لکھواتا رہتا ہے۔ آیت واذا الجحیم سعرت۔ یعنی جب جلایا جائے گا۔ آیت وذا الجنۃ ازلفت اور جنت کو قریب کردیا جائے گا۔ آیت علمت نفس ما احضرت اور ہر شخص جان لے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔ یعنی عمل میں سے راوی نے کہا اور عمر ؓ نے یہاں تک حدیث بیان فرمائی۔ 17۔ عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم رحمہم اللہ نے بیان کیا کہ آیت واذ العشار عطلت میں عشار سے مراد ہے اونٹ۔ آیت واذا لوحوش حشرت۔ اور جنگلی جانور اکٹھے کیے جائیں گے ان کے حشر سے مراد ان کی موت ہے۔ آیت واذا النفوس زوجت اور جب جانیں جسموں سے ملائی جائیں گی یعنی روحیں اپنے جسموں کی طرف لوٹیں گی آیت واذا الموء ودۃ سئلت۔ اور جب زندہ درگور لڑکی سے پوچھا جائے گا یعنی مشرکین کے بچے ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ المء و دۃ سے مراد ہے دفن کی ہوئی جاہلیت کے زمانہ میں جب عورت حالہ ہوتی تھی۔ اس کے بچہ ہونے کے وقت ایک گڑھا کھودا جاتا تھا۔ درد زہ میں متلا ہونے کے وقت وہ اس گھڑے کے کنارے پر بیٹھتی تھی۔ جب لڑکی پیدا ہوتی تو اس کو اس گھڑے میں پھینک دیتی اور لڑکا پیدا ہوتا تو اس کو روک لیتی۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ وہ بچے جہنم میں ہوں گے تو اس نے یقینی طور پر جھوٹ کہا بلکہ وہ بچے جنت میں ہوں گے 18۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن خیثم (رح) سے روایت کیا کہ آیت اذا الشمس کورت سے مراد ہے جب سورج کو پھینک دیا جائے گا۔
Ayahs 81:2–4

وَ اِذَا النُّجُوْمُ انْكَدَرَتْ۪ۙ Open ayah 81:2 in the Quran reader

اور جب ستارے گرپڑیں

وَ اِذَا الْجِبَالُ سُیِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:3 in the Quran reader

اور جب پہاڑ جلادئیے جائیں

وَ اِذَا الْعِشَارُ عُطِّلَتْ۪ۙ Open ayah 81:4 in the Quran reader

اور جب حمل والی اونٹنیاں بےکار کردی جائیں

آیت واذا النجوم انکدرت۔ جب ستارے بکھر جائیں گے۔ آیت واذا الجبال سیرت۔ یعنی پہاڑ اپنی جگہ سے اڑ جائیں گے آیت واذالعشار عطلت۔ یعنی اونٹنیوں کو نہ دوھا جائے گا۔ نہ ان کے تھن باندھے جائیں گے۔ اور ان کے مالک ان کو چھوڑدیں گے۔ آیت واذالوحوش حشرت۔ یعنی جب ان پر اللہ کا حکم آئے گا۔ آیت واذا لبحار سجرت۔ جب سمندر بہہ جائیں۔ آیت واذا النفوس زوجت۔ یعنی ہر آدمی اپنے عمل کے ساتھ ہوگا۔ آیت واذا الموء ودۃ سئلت۔ یعنی رب کے لوگ اس کام کو بہت کرنے والے تھے۔ آیت واذا الجحیم سعرت۔ یعنی جہنم کو جلادیا جائے گا آیت واذا الجنۃ ازلفت یعنی قریب کردیا جائے گا۔ یہاں تک کہ حدیث ختم ہوگئی ایک فریق جنت میں ہوگا اور ایک فریق جہنم میں ہوگا۔ 19۔ فریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ والحاکم وصححہ نے عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذا الوحوش حشرت سے مراد ہے کہ جانوروں کے حشر سے مراد ان کی موت ہے اور ہر حشر کے حشر سے مراد ان کی موت سوائے جنات اور انسانوں کے کہ ان کو قیامت کے دن کھڑا کیا جائے گا۔
Ayah 81:5

وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:5 in the Quran reader

اور جب وحشی جانور جمع کردئیے جائیں

20۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذا الوحوش حشرت سے مراد ہے کہ ہر چیز کو اٹھایا جائے گا حتی کہ مکھیوں کو بھی اکٹھا کیا جائے گا۔
Ayah 81:6

وَ اِذَا الْبِحَارُ سُجِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:6 in the Quran reader

اور جب سمندروں کو دہکا دیا جائے

21۔ طبرانی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذا البحار سجرت کے بارے میں بتائیے تو فرمایا کہ سمندروں کا پانی زمین کے پانی سے مل جائے گا۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی کو جانتے ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نے زہیر بن ابی سلمی کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ لقد نازعتہم حسبا قدیما وقد سجرت بحارہم بحاری ترجمہ : تحقیق میں نے پرانے طریقہ پر ان سے تنازع کیا حالانکہ ان کے سمندر میرے سمندر کے ساتھ مل گئے۔ 22۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا البحار سجرت سے مراد ہے کہ سمندروں کو کھول دیا جائے گا۔ اور چلا دیا جائے گا۔ 23۔ بیہقی نے البعث میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واذا البحار سجرت یعنی جب سمندر بھڑکا دئیے جائیں گے یہاں تک کہ وہ آگ بن جائیں گے۔ 24۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے حسن اور ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لبحار سجرت سے مراد ہے کہ جب سمندروں کا پانی نیچے اتر جائے گا اور ختم ہوجائے گا۔ 25۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لبحار سجرت یعنی جب سمندروں کو اس طرح بھڑکایا جائے گا جیسے تنور کو بھڑکایا جاتا ہے۔ قیامت میں نیک آدمی نیک آدمی کے ساتھ ہوگا 26۔ عبدالرزاق وابن ابی شیبہ و سعید بن منصور والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والحاکم وصححہ والبیہقی فی البعث وابو نعیم نے الحلیہ میں النعمان بن بشیر سے روایت کیا اور انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذا النفوس زوجت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ نیک آدمی کو نیک آدمی کے ساتھ ملا دیا جائے گا جن تمہیں اور برے آدمی کو برے آدمی کے ساتھ دوزخ میں ملا دیا جائے گا اور یہ ہے لوگوں کا ملانا۔
Ayah 81:7

وَ اِذَا النُّفُوْسُ زُوِّجَتْ۪ۙ Open ayah 81:7 in the Quran reader

اور جب نفوس کے جوڑے بنادئیے جائیں

27۔ ابن مردویہ نے النعمان بن بشیر سے اور انہوں نے عمر بن خطاب ؓ سے آیت واذا النفوس زوجت کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے وہ آدمی مراد ہے جو قیامت کے دن دوزخ والوں میں اپنے جیسے آدمی کے ساتھ ملادیا جائے گا۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت احشرو الذین ظلموا وازواجہم (الصافات آیت 22) انہیں جمع کردو جنہوں نے ظلم کیا اور ان کی بیویوں کو بھی۔ 28۔ ابن مردویہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آیت واذا النفوس زوجت سے مراد وہ دو آدمی ہیں جو اکٹھے ایک عم کرتے ہیں اور وہ دونوں جنت میں یا دوزخ میں اکٹھے داخل ہوں گے۔ 29۔ ابن منیع نے عمر بن خطاب ؓ سے آیت واذا لنفوس زوجت کے بارے میں روایت کیا کہ ان کا ملانا اس طرح سے ہوگا کہ ہر قوم کو ان کے مشابہ لوگوں کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ جیسے کہ فرمایا آیت احشروا الذین ظلموا وازواجہم (الصافات) 30۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پانی کی ایک وادی عرش کے دامن سے بہتی ہے ایسے وقت میں جو دو صبحوں کے درمیان ہے اور وہ مقدار جو ان دونوں کے درمیان ہے جو چالیس سال ہے اس میں سے ہر ایک مخلوق پیدا ہوتی ہے۔ چاہے وہ انسان میں سے یا پرندوں میں سے یا جانوروں میں سے ہو۔ اور اگر ان پر کوئی گذرنے والا گذرے گا اور اس سے پہلے وہ ان کو پہچانتا تھا تو وہ انہیں سطح زمین پر پہچان لے گا۔ اور تحقیق وہ پید اکیے گئے پھر روحوں کو بھیجا جائے گا اور وہ جسموں سے مل جائیں گی۔ یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت واذا النفوس زوجت۔ 31۔ سعید بن منصور اور ابن المنذر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لنفوس زوجت سے مراد ہے کہ روح کو جسم سے ملا دیا جائے گا۔ 32۔ ابن المنذر نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا النفوس زوجت سے مراد ہے کہ روح کو جسم سے ملادیا جائے گا اور روح جسموں میں لوٹادی جائے گی۔ 33۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ مومنوں کو حورعین سے اور کافروں کو شیاطین سے ملا دیا جائے گا۔ 34۔ الفراء نے عکرمہ (رح) سے آیت واذا النفوس زوجت کے بارے میں روایت کیا کہ آدمی کو جنت میں اس کے دنیا والے نیک ساتھی سے ملا دیا جائے گا۔ اور وہ آدمی جو دنیا میں برے کام کرتا تھا۔ اس کو جہنم میں اپنے اس ساتھی کے ساتھ ملا دیا جائے گا جو اس کا دنیا میں معاون اور مددگار تھا۔ 35۔ احمد ولنسائی وابن المنذر وابن مردویہ نے مسلمہ بن زید جعفی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ زندہ درگور کرنے والا اور زندہ درگور کی ہوئی دونوں آگ میں ہوں گے مگر جس نے اسلام کا زمانہ پالیا اور اللہ تعالیٰ اسے معاف کردے۔
Ayahs 81:8–9

وَ اِذَا الْمَوْءٗدَةُ سُئِلَتْ۪ۙ Open ayah 81:8 in the Quran reader

اور جب زندہ دفن کی ہوئی لڑکی کے بارے میں سوال کیا جائے

بِاَیِّ ذَنْۢبٍ قُتِلَتْۚ Open ayah 81:9 in the Quran reader

کہ وہ کس گناہ کے سبب قتل کی گئی

36 سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو الضحی مسلم بن صبیح (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی آیت واذا الموء دۃ سئلت یعنی وہ بچی اپنے خون بہانے والے قاتل کا مطالبہ کرے گی۔ 37۔ احمد ومسلم وابو داوٗد والترمذی ولنسائی وابن اماجہ والطبرانی وابن مردویہ نے خدا مہ بنت وہب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ نے فرمایا یہ خفیہ طور پر زندہ کو درگور کردینا ہے اور یہی آیت واذا المء ودۃ بھی ہے۔ انسان جانوں کی حفاظت کرنے کی فضیلت 38۔ الطبرانی نے صعصعۃ بن ناجیہ بن ناجیہ مجاشعی ؓ سے روایت کیا کہ جو لافرزدق کے دادا تھے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں نے زمانہ جاہلیت میں کچھ نیک عمل کیے تھے کیا اس میں میرے لیے اجر ہوگا پوچھا تو نے کیا عمل کیا تھا۔ ؟ عرض کیا کہ میں نے تین سو ساٹھ زندہ درگور کی ہوئی لڑکیوں کو زندہ کیا اور میں نے ان میں سے ہر ایک کو دو دس ماہ کی گابھن اونٹنیوں، اور ایک اونٹ کے بدلے میں خریدا کیا اس میں میرے لیے اجر ہوگا نبی ﷺ نے فرمایا تیرے لیے اس میں اجر یہ ہے تب تو اللہ تعالیٰ نے تجھے اسلام کی توفیق عطا فرمائی۔ 39۔ البزار والحاکم فی الکنی و بیہقی نے اپنی سنن میں عمر بن خطاب ؓ سے آیت واذا الموء و دۃ سئلت کے بارے میں روایت کیا کہ قیس بن عاصم تمیم ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا کہ میں نے اپنی آٹھ لڑکیوں کو زندہ درگور کیا ہے نبی ﷺ نے اس سے فرمایا کہ ہر ایک بدلے میں ایک غلام آزاد کر، اس نے کہا میرے پاس اونت ہیں۔ آپ نے فرمایا ہر ایک کے بدلے میں ایک اونٹ قربان کر۔
Ayahs 81:10–14

وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْ۪ۙ Open ayah 81:10 in the Quran reader

اور جب اعمال نامے کھول دئیے جائیں

وَ اِذَا السَّمَآءُ كُشِطَتْ۪ۙ Open ayah 81:11 in the Quran reader

اور جب آسمان کھول دیا جائے

وَ اِذَا الْجَحِیْمُ سُعِّرَتْ۪ۙ Open ayah 81:12 in the Quran reader

اور جب دوزخ کو دہکا دیاجائے

وَ اِذَا الْجَنَّةُ اُزْلِفَتْ۪ۙ Open ayah 81:13 in the Quran reader

اور جب جنت کو قریب کردیا جائے

عَلِمَتْ نَفْسٌ مَّاۤ اَحْضَرَتْؕ Open ayah 81:14 in the Quran reader

ہر شخص ان اعمال کو جان لے گا جو اس نے حاضر کردئیے

40۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت واذا لصحف نشرت۔ اور جب اعمال نامے کھل جائیں گے یعنی جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا اعمال نامہ لپیٹ دیا جاتا ہے پھر قیامت کے دن کھولا جائے گا اور حساب لیا جائے گا جو کچھ اس میں ہوگا۔ 41۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہی کہ جب یہ آیت اذا الشمس کورت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا جب وہ اس علمت نفس ما احضرت تو ہر شخص جان لے گا کہ وہ کی لے کر آیا پر پہنچے تو فرمایا اسی لیے بات چلائی گئی۔
Ayah 81:15

فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِۙ Open ayah 81:15 in the Quran reader

سو میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو پیچھے کو ہٹتے ہیں

42۔ سعید بن منصور ولفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ من طرق علی ؓ عننہ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بالخنس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے کی سے وہ ستارے مراد ہیں جو رات کے وقت پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور دن کے وقت چھٹ جاتے ہیں اور دکھائی نہیں دیتے۔ 43۔ ابن ابی حاتم نے الاصبغ میں نباتہ کے طریق سے علی ؓ سے آیت فلا اقسم بالخنس کے بارے میں روایت کیا کہ خنس سے مراد پانچ ستارے ہیں۔ زحل، عطارد، مشتری، بہرام اور زہرہ۔ اور ان کے سوا ستاروں میں کوئی بھی نہیں ہے جو کہکشاں کو کاٹ سکتا ہو۔ 44۔ ابن ابی حاتم وابو الشی نے العظمہ میں عکرمہ کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت بالخنس وہ ستارے ہیں جو چلتے چلتے کہکشاں کو بھی کاٹ جاتے ہیں۔ جیسے گھوڑا کاٹتا چلا جاتا ہے۔ 45۔ ابن مردویہ والخطیب فی کتاب النجوم کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بالخنس الجوار الکنس پس میں قسم کھاتا ہوں پیچھے ہٹنے والے سیدھے چلنے والے، غائب ہوجانے والے ستاروں کی۔ سے مراد وہ سات ستارے ہیں زحل، بہرام، عطارد، مشتری، زہرہ، شمس اور قمر اور خنس سے مراد اس کو لٹنا ہے اور کنس سے مراد ہے ان کا غائب ہوجانا دن کو۔ 46۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور والفریابی وابن سعد وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم وابن المنذر والطبرانی والحاکم وصححہ من طرق ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت بالخنس الجوار الکنس سے مراد ہے وحشی بیل۔
Ayah 81:16

الْجَوَارِ الْكُنَّسِۙ Open ayah 81:16 in the Quran reader

جو چلنے والے ہیں، چھپنے والے ہیں

47۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے مراد ہے بیل جو سائے کی طرف پیچھے ہٹا ہے۔ 48۔ ابن المنذر نے خصیف کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے وہ وحشی جانور مراد ہے جو درخت کی جڑوں میں اپنے لیے پناہ گاہ بنالیتا ہے اور اس میں چھپ جاتا ہے۔ 49۔ ابن جریر نے عوفی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الکنس سے مراد ہے ہرن۔ 50۔ عبدبن حمید وابن راہویہ اور بیہقی نے البعث میں علی ؓ سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے مراد ہیں ستارے۔ 51۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فلا اقسم بالخنس الوار الکنس سے مراد ہے وہ ستارے ہیں جو رات کو ظاہر ہوتے ہیں اور دن کو چھپ جاتے ہیں۔ 52۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت بالخنس الجوار الکنس سے وہ ستارے مراد ہیں جو دن کو چھپ جاتے ہیں۔ 53۔ عبد بن حمید نے مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (رح) نے مجاہد (رح) س اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت فلا اقسم بالخنس الجوار الکنس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا میں نہیں جانتا ابراہیم (رح) نے فرمایا تم کیوں نہیں جانتے ؟ فرمایا بیشک تم علی ؓ کی طرف سے روایت کر کے کہتے ہو کہ وہ ستارے ہیں۔ اور انہوں نے فرمایا انہوں نے جھوٹ کہا مجاہد (رح) نے فرمایا کہ یہ وحشی بیل ہیں اور آیت بالخنس الجوار سے ان کی بیلیں مراد ہیں ابراہیم (رح) نے فرمایا وہ ایسے ہی ہے جیسے تو نے کہا۔ 54۔ عبد بن حمید نے بکر بن عبداللہ المزنی (رح) سے روایت کیا کہ آیت بالخنس الجوار الکنس سے مراد وہ چلنے والے ستارے ہیں جو مشرک کی طرف چلتے ہیں۔ 55۔ عبد بن حمید نے ابو میسرہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے وحشی بیل مراد ہے۔ 56۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے وہ ہرن مراد ہے جب وہ اپنی پناہ گاہ میں چھپ جائے۔ 57۔ عبد بن حمید نے جابر بن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے ہرن مراد ہیں۔ کیا تو نے ان کو نہیں دیکھا کہ جب وہ سائے میں ہوتے ہیں تو کس طرح وہ اپنی گردنوں کو چھپا کر پناہ لیتے ہیں اور اپنی نظر کو پھیلا دیتے ہیں 58۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت الجوار الکنس سے مراد ہے بیل 59۔ الحاکم وابواحمد فی الکنی عدبس (رح) سے روایت کیا کہ ہم عمر بن خطاب ؓ کے پاس تھے۔ ان کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا اے امیر المومنین۔ آیت الجوارالکنس کیا ہے ؟ عمر ؓ نے اسے نیزے کے سرے سے جو ان کے پاس تھا اس آدمی کی پگڑی میں ضرب لگائی۔ اور اس کے سر سے اسے نیچے ڈال دیا اور عمر ؓ نے فرمایا کیا تو حروری ہے ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں عمر بن خطاب ؓ کی جان ہے۔ اگر میں تجھ کو سر منڈا ہوا پاتا تو میں تیرے سر سے جوؤں کو دور کردیتا ہے یعنی میں تیرا سر اڑا دیتا۔
Ayahs 81:17–18

وَ الَّیْلِ اِذَا عَسْعَسَۙ Open ayah 81:17 in the Quran reader

قسم ہے رات کی ! جب وہ جان لے گا

وَ الصُّبْحِ اِذَا تَنَفَّسَۙ Open ayah 81:18 in the Quran reader

قسم ہے صبح کی ! جب وہ سانس لے

60۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس اور قسم ہے رات کی جب وہ جانے لگے یعنی جب وہ رخصت ہونے لگے آیت والصبح اذا تنفس اور قسم ہے صبح کی جب وہ آنے لگے۔ یعنی وہ دن نکل آئے طلوع فجر کے وقت۔ 61۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس یعنی قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیرنے لگے آیت والصبح اذا تنفس قسم ہے صبح کی جب وہ رو وشن ہوا دار آنے لگے۔ 62۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا عسعس یعنی قسم ہے رات کی جب وہ تاریک ہوجائے۔ 63۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اللیل اذا عسعس سے مراد ہے کہ قسم ہے رات کی جب وہ آنے لگے اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جب وہ جانے لگے۔ 64۔ عبدالرزاق نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے آیت واللیل اذا عسعس کے بارے میں پوچھا فرمایا اس سے مراد ہے اس تاریکی کا آنا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں ! کیا تو نابغہ کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ کانما حدما قالوا وما وعدو ال تضمنہ من عسعس 65۔ الطحاوی والطبرانی فی الاوسط والحاکم وصححہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں علی ؓ سے روایت کیا کہ آپ باہر نکلے جب فجر طلوع ہوئی۔ پھر فرمایا یہ ساعۃ الوتر کتنی اچھی۔ پھر آپ نے یہ آیت پڑھی آیت واللیل اذا عسعس والصبح اذا تنفس۔
Ayahs 81:19–20

اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِیْمٍۙ Open ayah 81:19 in the Quran reader

بلاشبہ یہ قرآن کلام ہے رسول کریم کا

ذِیْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِی الْعَرْشِ مَكِیْنٍۙ Open ayah 81:20 in the Quran reader

معزز فرشتہ کا لایا ہوا جو عرش والے کے نزدیک قوت والا ہے، مرتبہ والا ہے

66۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت انہ لقول رسول کریم یہ قرآن ایک معزز رسول کا لا یا ہوا ہے سے مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں۔ 67۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انہ لقول رسول کریم سے مراد ہے جبریل (علیہ السلام) ہیں اور آیت ولقد راٰہ بالافق المبین اور اس نے اس کو کھلے کنارے پر بھی دیکھا ہے۔ ہم بیان کرتے تھے کہ اسی آیت سے مراد وہ افق ہے جس سے دن آتا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں کہ افق سے مراد وہ مقام ہے ہم بیان کرتے تھے کہ اسی آیت سے مراد وہ افق ہے جس سے دن آتا ہے۔ اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ افق سے مراد وہ مقام ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔ 68۔ ابن عساکر نے معاویہ بن قرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جبریل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ تیرے رب نے تیری کتنی اچھی تعریف کی ہے۔ آیت ذی قوۃ عند ذی العرش مکین مطاع ثم امین۔ جو بڑا طاقتور ہے عرش کے مالک کے نزدیک بڑے رتبے والا ہے۔ پھر پوچھا تیری قوت کیا ہے اور تیری امانت کیا ہے ؟ تو جبریل ﷺ نے فرمایا میری قوت یہ ہے کہ مجھے لوط کی بستیوں کی طرف بھیجا گیا اور ہر بستی میں چار لاکھ جنگجو تھے سوائے بچوں کے۔ میں نے ان کو نچلی زمین سے اٹھایا یہاں تک کہ آسمان والوں نے مرغوں کی آواز اور کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی پھر میں نے ان کو نیچے گرادیا اور ان کو تباہ کردیا۔ اور میری امانت یہ ہے کہ مجھ کسی چیز کے بارے میں حکم نہیں دیا گیا کہ میں نے اسے چھوڑ کر غیر کی طرف تجاوز کیا ہو یعنی میں جو بھی حکم دیا گیا میں نے اسے پورا کیا۔ وحی النے والا امانت دار فرشتہ 69۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے معراج کی رات میں جبریل (علیہ السلام) سے فرمایا کہ دوزخ سے پردہ ہٹا دو ۔ انہوں نے اس سے پردہ ہٹادیا تو آپ نے اس کی طرف دیکھا اسی کو فرمایا آیت مطاع ثم امین۔ وہاں کا سردار امانت دار ہے۔ یعنی وحی لانے والا امانت دار ہے آومت صاحبکم بمجنون اور تمہارا رفیق کوئی دیوانہ نہیں ہے یعنی محمد ﷺ ۔
Ayahs 81:21–22

مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِیْنٍؕ Open ayah 81:21 in the Quran reader

اس کی اطاعت کی جاتی ہے وہ وہاں امانت دار ہے

وَ مَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُوْنٍۚ Open ayah 81:22 in the Quran reader

اور تمہارا ساتھی دیوانہ نہیں ہے

70۔ ابن المنذر وابو الشیخ نے العظمہ میں ابو صالح (رح) سے آیت مطاع ثم امین کے بارے میں روایت کیا کہ وہ ستر پردوں پر امین ہیں اور ان میں بغیر اجازت کے داخل ہوتے ہیں آیت وما صاحبکم بمجنون سے مراد محمد ﷺ آیت ولقد راٰہ بالافق المبین اور اس نے اس کو کھلے کنارے پر دیکھا بھی ہے۔ یعنی ہم بیان کیا کرتے تھے کہ افق وہی ہے کہ جس میں سے دن ظاہر ہوتا ہے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ بیشک افق وہ ہے جہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے۔ 71۔ ابن مردویہ وابو نعیم نے الدلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد راٰہ بالافق المبین سے مراد ہے کہ آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو بستر رفرف پر دیکھا اور انہوں نے افق کو بند کر رکھا تھا۔
Ayah 81:23

وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِیْنِۚ Open ayah 81:23 in the Quran reader

اور بات واقع ہے کہ اس نے اس فرشتے کو واضح کنارے پر دیکھا ہے

72۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے آیت ولقد راٰہ بالافق المبین کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے جبریل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر تھے اور انہوں نے سارے افق کو گھیر رکھا ہے۔ 73۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد راٰہ بالافق المبین سے میری مراد جبریل (علیہ السلام) ہیں کہ محمد ﷺ نے ان کو اپنی اصلی صورت میں سدرۃ المنتہی کے پاس دیکھا۔ 74۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے آیت ولقد راٰہ بالافق المبین کے بارے روایت کیا کہ آیت میں دیکھنے والے رسول اللہ ﷺ ہیں اور انہوں نے جبریل (علیہ السلام) کو افق میں دیکھا اور افق سے صبح مراد ہے۔ 75 ابن مرددویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولقد راٰہ بالافق المبین سے ساتواں آسمان مراد ہے۔ 76۔ الدارقطنی فی الافراد والخطیب فی تاریخہ والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت وما ہو علی الغیب بظنین یعنی ظاء کے ساتھ۔
Ayahs 81:24–27

وَ مَا هُوَ عَلَى الْغَیْبِ بِضَنِیْنٍۚ Open ayah 81:24 in the Quran reader

اور وہ غیب کی باتوں پر بخل کرنے والا نہیں ہے

وَ مَا هُوَ بِقَوْلِ شَیْطٰنٍ رَّجِیْمٍۙ Open ayah 81:25 in the Quran reader

اور وہ شیطان مردود کی کہی ہوی بات نہیں ہے

فَاَیْنَ تَذْهَبُوْنَؕ Open ayah 81:26 in the Quran reader

سو تم لوگ کہا جارہے ہو

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 81:27 in the Quran reader

بس وہ جہان والوں کے لیے ایک بڑی نصیحت ہے

77۔ عبدالرزاق وابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ہو علی الغیب بضنین اور دوسرے لفظ میں ہے بضنین ضاد کے ساتھ۔ 78۔ عبد بن حمید نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت وما ہو علی الغیب بضنین ان سے اس بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ عائشہ ؓ نے فرمایا کہ مصاحف میں لکھنے والے لوگ خطا کرجاتے ہیں 79 سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے کئی طرق سے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت بضنین۔ 80۔ سعید بن منصورر وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے آیت بضنین اور فرماتے تھے کہ اس سے مراد ہے بخیل۔ 81۔ عبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ ان کا گمان یہ ہے کہ مصاحف میں بلکہ مصحف عثمان میں ہے آیت بضنین ہے۔ 82۔ ابو عبید وابن المنذر نے مجاہد اور ہارون رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ ابی بن کعب ؓ کی قرائت میں یہ لفظ بضنین ضاد کے ساتھ۔ 83۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ہو علی الغیب بضنین اور وہ غیب کی باتوں پر بخیل نہیں ہے یعنی وہ تم پر بخیل نہیں ہیں جو کچھ وہ جانتے ہیں۔ 84۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت وما ہو علی الغیب بضنین کے بارے میں روایت کیا کہ نبی ﷺ نے بخل نہیں کیا جو کچھ ان پر اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ 85۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت وما ہو علی الغیب بضنین کے بارے میں روایت کیا کہ یہ قرآن غیب تھا اللہ تعالیٰ نے محمد ﷺ کو عطا فرمایا آپ نے اس میں پوری کوشش کی اور اس کی تعلیم دی اور اس کی طرف دعوت دی اور اس میں بخل نہیں کیا۔ 86۔ ابن المنذر نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ آیت وما ہو علی الغیب بضنین سے مراد ہے کہ آپ نے بخل نہیں کیا جو آپ کی طرف وحی کی گئی۔ 87۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن سعد ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے یہ آیت وما ہو علی الغیب بضنین پڑھی اور فرمایا کہ محمد ﷺ قرآن کے بارے میں متہم نہیں ہیں۔ 88۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت وما ہو علی الغیب بضنین کے بارے میں روایت کیا کہ آپ متہم نہیں ہوئے جو آپ لے کر آئے اور آپ بخیل نہیں ہیں جو کچھ آپ کو عطا کیا گیا۔ 89۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ الظنین سے مراد ہے متہم اور الضنین سے مراد ہے ہے بخیل۔ 90۔ عبد بن حمید نے زر (رح) سے روایت کیا کہوالغیب سے مراد قرآن ہے اور ہماری قرا ئت میں بضنین ہے کہ اس سے مراد ہے متہم اور تمہاری قرئت میں ہے بضنین جس سے مراد ہے بخیل 91۔ عبد بن حمید نے زر (رح) سے روایت کیا کہ الغیب سے مراد قرآن کریم ہے اور ہماری قراءت میں بضنین ہے جس سے مراد ہے متہم
Ayahs 81:28–29

لِمَنْ شَآءَ مِنْكُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَؕ Open ayah 81:28 in the Quran reader

ایسے شخص کے لیے جو تم میں سے سیدھے راستہ پر چلنا چاہے

وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 81:29 in the Quran reader

اور تم نہیں چاہتے ہو مگر یہ کہ اللہ چاہے جو رب العالمین ہے

92۔ عبدبن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لمن شاء منکم ان یستقیم یعنی ہدایت اس کے لیے جو تم میں سے سیدھا چلنا چاہے یعنی جو حق کی تلاش کرنا چاہے۔ 93۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لمن شاء منکم ان یستقیم نازل ہوئی تو لوگوں نے کہا اختیار ان کے پاس ہے اگر ہم چاہیں تو سیدھی راہ اختیار کرلیں اور اگر ہم چاہیں تو سیدھی راہ اختیار نہ کریں۔ تو جبریل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور فرمایا اے محمد ﷺ لوگوں نے جھوٹ کہا آیت وماتشاء ون الا ان یشاء اللہ رب العالمین اور تم جب ہی چاہوگے کہ جب اللہ چاہے گا جو تمام جہانوں کا رب ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ اس سے خوش ہوگئے۔ 94۔ ابن سعد والبیہقی نے الاسماء والصفات میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے بانوے کتابیں پڑھیں جو سب آسمان سے نازل ہوئی۔ میں نے ہر ایک میں پایا کہ جس نے اپنی ذات کی طرف مشیت کی نسبت کی تو یقینی طور پر اس نے کفر کیا۔ 95۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے سلمان بن موسیٰ (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لمن شاء منکم ان یستقیم نازل ہوئی تو ابو جہل نے کہا کہ اختیار ہم کو دے دیا گیا اگر ہم چاہیں تو سیدھی راہ اور اگر ہم چاہیں تو نہ چلیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ رب العالمین نازل فرمائی۔ 96۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے قاسم بن مخیمرہ (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت لمن شاء منکم ان یستقیم نازل ہوئی تو ابو جہل نے کہا امر ہمارے سپرد کردیا گیا۔ یعنی ہم کو اختیار دے دیا گیا تو یہ آیت وما تشاء ون الا ان یشاء اللہ رب العلمین نازل ہوئی